صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2160 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

سورہ بقرہ آیت ۱۱۵ ۔ اللہ تعالی کے حکم پر اعتراض کرنے والوں کی سزاکابیان

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,949

سوال (Question):

سورہ بقرہ آیت ۱۱۵ ۔ اللہ تعالی کے حکم پر اعتراض کرنے والوں کی سزاکابیان

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اللہ تعالی کے حکم پر اعتراض کرنے والوں کی سزاکابیان

{وَ لِلہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِ اِنَّ اللہَ وٰسِعٌ عَلِیْمٌ}(۱۱۵) ترجمہ کنزالایمان:اور پورب پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ ہے) بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان : مشرق بھی اللہ تعالی کاہے اورمغرب بھی ، توجدھر بھی تم منہ کروادھرہی اللہ تعالی کی رحمت ہے بے شک اللہ تعالی وسعت والاعلم والاہے ۔

یہودیوں نے تحویل قبلہ پر اعتراض کیا

وقال عِکْرِمَۃُ:نَزَلَتْ فِی تَحْوِیلِ الْقِبْلَۃِ، قَالَ أَبُو الْعَالِیَۃِ:(لِمَا)صُرِفَتِ القبلۃ إلی الکعبۃ وعیّرت الْیَہُودُ الْمُؤْمِنِینَ وَقَالُوا:لَیْسَتْ لَہُمْ قِبْلَۃٌ (مَعْلُومَۃٌ)فَتَارَۃً یَسْتَقْبِلُونَ ہَکَذَا وَتَارَۃً ہَکَذَا، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی ہَذِہِ الْآیَۃَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ تحویل قبلہ کے سلسلے میں نازل ہوئی ۔ حضرت سیدناابوالعالیہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ قبلہ جب کعبہ مشرفہ کی طرف پھیردیاگیاتو یہودیوں نے رسول اللہ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو عاردلائی کہ ان مسلمانوں کاتوکوئی قبلہ ہی نہیں ۔ کبھی اس طرف منہ کرکے نماز اداکرتے ہیں اورکبھی اس طرف منہ کرکے نماز اداکرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (۱:۱۵۸) اس سے معلوم ہواکہ یہ آیت کریمہ یہودیوں کے ا س اعتراض کے جو اب میں نازل ہوئی جو تحویل قبلہ کے وقت کررہے تھے ۔کہ اگریہ قبلہ ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے مسلمانوں نے جو نمازیں بیت المقدس کی طرف منہ کرکے اداکی ہیں وہ سب باطل ہیں ۔ سب ضائع ہوگئیں اوراللہ تعالی کے ہاں ان کاکوئی حساب نہ ہوگا۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے یہودیوں کے اس باطل خیال کی تردیدفرمائی کہ جس طرف بھی رخ کیاجائے وہی قبلہ ہے ، ایک عبادت گزار جس طرف بھی رخ کرے گااللہ تعالی کی رحمت اسی طرف ہوگی ، یایہ کہ اللہ تعالی نے انہیں ایک معین سمت کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کاجو حکم دیاہے وہ محض امتثال امر ہے اورعبادت واطاعت ہے یہ حکم اس لئے نہیں دیاگیاکہ نعوذ باللہ کہیں اس طرف اللہ تعالی کارخ ہے ۔

بندہ مومن رب تعالی کے حکم پر چوں چرانہیں کرسکتا

فللمؤمن حقا ان یعتصم باللہ ویدور مع الأمر الإلہی حیث یدور ویتبع الرسل ولا یتبع عقلہ العاجز وفہمہ القاصر ویتعلم الأدب من معدن الرسالۃ حیث لم یسأل تحویل القبلۃ بل انتظر الی امر اللہ فاکرمہ اللہ بإعطاء مرامہ وفضلہ علی سائر الأنبیاء علیہم الصلاۃ والسلام۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام اسماعیل حقی المتوفی :۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالی کے حکم پر مضبوطی سے عمل کرے جیسے اس کاحکم ہو،سرتسلیم خم کرے ۔ رسول اللہ ﷺکی فرمانبرداری میں کوئی کسرنہ چھوڑے ، عقل عاجز کو ان کے حکم کے سامنے جھکادے اورفہم قاصر کو اس میں دخیل نہ بنائے ۔ رسول اللہ ﷺکے مدرسہ عالیہ سے آداب نبوی کی تعلیم حاصل کرے جیساکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو جب بیت اللہ شریف کو قبلہ بنانے کاحکم ہواتوانھو ںنے ادب سے سرجھکادیا۔ یہ نہیں پوچھاکہ ایساکیوں ہواہے ؟ پھرجب تک حکم ربانی نہیں ہواچون وچراکوگنجائش نہ دی بلکہ اللہ تعالی کے حکم کے منتظررہے ۔ اللہ تعالی نے بھی رسول اللہ ﷺکی تعظیم وتکریم فرمائی کہ جس طرح آپ ﷺچاہتے تھے ویساہی کیابلکہ آپ ﷺکو تمام انبیاء کرام علیہم السلام کاسرتاج بنادیا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (ا:۲۱۰)

رب تعالی کے حکم پر تم اعتراض کرنے والے کون ہو؟

أَنَّہُ تَعَالَی أَرَادَ بِہِ تَحْوِیلَ الْمُؤْمِنِینَ عَنِ اسْتِقْبَالِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ إِلَی الْکَعْبَۃِ، فَبَیَّنَ تَعَالَی أَنَّ الْمَشْرِقَ وَالْمَغْرِبَ وَجَمِیعَ الْجِہَاتِ وَالْأَطْرَافِ کُلَّہَا مَمْلُوکَۃٌ لَہُ سُبْحَانَہُ وَمَخْلُوقَۃُ لَہُ، فَأَیْنَمَا أَمَرَکُمُ اللَّہُ بِاسْتِقْبَالِہِ فَہُوَ الْقِبْلَۃُ، لِأَنَّ الْقِبْلَۃَ لَیْسَتْ قِبْلَۃً لِذَاتِہَا، بل لأن اللہ جَعَلَہَا قِبْلَۃً، فَإِنْ جَعَلَ الْکَعْبَۃَ قِبْلَۃً فَلَا تُنْکِرُوا ذَلِکَ لِأَنَّہُ تَعَالَی یُدَبِّرُ عِبَادَہُ کَیْفَ یُرِیدُ وَہُوَ وَاسِعٌ عَلِیمٌ بِمَصَالِحِہِمْ فَکَأَنَّہُ تَعَالَی ذَکَرَ ذَلِکَ بَیَانًا لِجَوَازِ نَسْخِ الْقِبْلَۃِ مِنْ جانب إلی جَانِبٍ آخَرَ، فَیَصِیرُ ذَلِکَ مُقَدِّمَۃً لِمَا کَانَ یُرِیدُ تَعَالَی مِنْ نَسْخِ الْقِبْلَۃِ. ترجمہ :امام محمدبن عمر الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ)ر حمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں اللہ تعالی نے اہل ایمان کو بیت المقدس سے کعبہ مشرفہ کی طرف رخ کرنے کاحکم دیاتوواضح کیاکہ مشرق ومغرب اورتمام جہات اطراف اللہ تعالی کی مملوک ومخلوق ہیں ۔ جس کی طرف رخ کرنے کا وہ حکم دے وہی قبلہ ہے ۔ اس لئے کہ کوئی چیز ذاتی طورپر قبلہ نہیں ۔ اللہ تعالی ہی قبلہ بناتاہے ، اگر اس نے کعبہ مشرفہ کو قبلہ بنادیاتواعتراض کیوں ؟ کیونکہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو جیسے چاہے پھیردے ،وہ ان کے تمام مصالح سے آگاہ ہے ۔ گویااللہ تعالی ایک جانب سے دوسری جانب کے جوازِ نسخ کابیان فرمارہاہے ۔ تویہ نسخ قبلہ کے ارادے کے لئے مقدمہ قرارپائے گا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۴:۱۸)

کوئی بھی شخص اللہ تعالی کے حکم پر حجت بازی نہیں کرسکتا

قَالَ ابْنُ زَیْدٍ: کَانَتِ الْیَہُودُ قَدِ اسْتَحْسَنَتْ صَلَاۃَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَقَالُوا:مَا اہْتَدَی إِلَّا بِنَا، فَلَمَّا حُوِّلَ إِلَی الْکَعْبَۃِ قَالَتِ الْیَہُودُ: مَا وَلَّاہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا، فَنَزَلَتْ:وَلِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَوَجْہُ النَّظْمِ عَلَی ہَذَا الْقَوْلِ: أَنَّ الْیَہُودَ لَمَّا أَنْکَرُوا أَمْرَ الْقِبْلَۃِ بَیَّنَ اللَّہِ تَعَالَی أَنَّ لَہُ أَنْ یَتَعَبَّدَ عِبَادُہُ بِمَا شَاء َ، فَإِنْ شَاء َ أَمَرَہُمْ بِالتَّوَجُّہِ إِلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، وَإِنْ شَاء َ أَمَرَہُمْ بِالتَّوَجُّہِ إِلَی الْکَعْبَۃِ، فِعْلٌ لَا حُجَّۃَ علیہ، ولا یسئل عما یفعل وہم یسئلون. ترجمہ :ابن زید کہتے ہیں کہ یہودی نبی کریم ﷺکے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز اداکرنے کو اچھاجانتے تھے اورکہتے تھے کہ جس نے بھی ہدایت پائی ہے اس نے ہمارے وسیلے سے ہی پائی ہے ۔ جب کعبہ مشرفہ کو قبلہ بنایاگیاتو یہودیوں نے کہا: ان کو بیت المقدس سے کس نے پھیردیاہے ۔؟ تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ اس قول پر وجہ نظم یہ ہے کہ یہودیوں نے جب قبلہ کے امر کاانکارکیاتواللہ تعالی نے بیان فرمایاکہ اللہ تعالی کی شان ہے کہ وہ اپنے بندوں کو جس قبلہ کی طرف چاہے مکلف بنادے ، اگروہ چاہے توان کو بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کاحکم دے دے ، اگرچاہے تواپنے بندوں کو کعبہ مشرفہ کی طرف منہ کرنے کاحکم دے ۔ اس سے فعل کے خلاف حجت پیش نہیں کی جاسکتی ، جو وہ کرتاہے اس کے بارے میں اس سے پوچھانہیں جاتااورلوگوں سے ان کے افعال کے متعلق پوچھاجائے گا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۲:۸۲) غلام حکم پر عمل کرتاہے نہ کہ مصلحت دریافت کرتاہے ومعنی الآیۃ إن للہ المشرق والمغرب وما بینہما خلقا وملکا، وإنما خص المشرق والمغرب اکتفاء عن جمیع الجہات لأن لہ کلہا وما بینہما خلقہ وعبیدہ، وإن علی جمیعہم طاعتہ فیما أمرہم بہ ونہاہم عنہ فما أمرہم باستقبالہ فہو القبلۃ فإن القبلۃ لیست قبلۃ لذاتہا بل لأن اللہ تعالی جعلہا قبلۃ، وأمر بالتوجہ إلیہا ۔ ترجمہ :امام علاء الدین علی الخاز ن المتوفی : ۷۴۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کامعنی یہ ہے کہ مشرق ومغرب اللہ تعالی کاہے اورجو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ بھی اللہ تعالی ہی کی مملوک ہے ، اس نے اس آیت مبارکہ میں دوجہتوں کاذکرفرمایاتوان دونوں جہتوں نے تمام جہات سے کفایت کردیا، اس لئے کہ تمام جہات اور جوکچھ ان کے درمیان ہے وہ سارے کاسارااللہ تعالی کا غلام اوراس کی مخلوق ہے اوران سب پر اللہ تعالی کی اطاعت ہر ماموراورہرمنہی عنہ میں واجب ہے ۔ پس کعبہ مشرفہ کی طرف منہ کرنے کاحکم بھی اسی خالق ومالک کاہے ، کیونکہ قبلہ بذات خود قبلہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی کے خاص کرنے سے بناہے اوراسی رب تعالی کاہی حکم ہے کہ اس قبلہ کی طرف توجہ کی جائے ۔ (لباب التأویل فی معانی التنزیل: علاء الدین علی أبو الحسن، المعروف بالخازن (۱:۷۲)

معارف ومسائل

(۱) اس سے معلوم ہواکہ اصل عبادت یہ ہے کہ اللہ تعالی کے حکم شریف کو پوراکیاجائے خواہ وہ کسی بھی نوعیت کاہو، اصل اطاعت تواس کے حکم شریف کومانناہے ۔ کوئی جہت نہیں ہے ، اگراللہ تعالی ہر چندمنٹ کے بعدپہلاحکم شریف منسوخ کرکے دوسراحکم نافذ کرے خواہ قبلہ کے متعلق ہویاعام حکم ۔ بندہ مومن نے توصرف اس کاحکم مانناہے اورساتھ ساتھ آپ کو یہ بتانابھی مقصود ہے کہ جب مرکزی چیز استقبال قبلہ میں تبدیلی آسکتی ہے تودوسرے احکام میں بطریق اولی تبدیلی ہوسکتی ہے ۔ (۲)رسول اللہ ﷺکے حکم شریف کی مخالفت کی سزادوزخ ہے ، چنانچہ جو شخص اسلام کی حقانیت معلوم کرنے کے بعداحکامات شرع کامخالف ہوجائے تووہ مرتدہے ۔ اگرکوئی شخص خود کومسلمان بھی کہے اورعبادات بھی بجالائے اوررسول اللہ ﷺکے کسی حکم کے خلاف کوئی بات کرے تو مرتدہے ۔ (۳) اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہواکہ استقبال قبلہ کی وجہ کیاہے کہ اس کامنشاء بیت اللہ یابیت المقدس کی عبادت کرنانہیں ہے اورنہ ان دونوں مکانوں کے ساتھ اللہ تعالی کی ذات پاک مخصوص ہے بلکہ اس کی ذات پاک سارے عالم پر محیط ہے اورہرجہت وسمت میں اس کی توجہ یکساں ہے ۔ پرجوکسی خاص مکان یاخاص سمت کو مخصوص کیاجاتاہے اس میں تنظیمی ، اتحاد ی ، یکجہتی فوائد ومقاصد کے علاوہ بہت ساری حکمتیں ہوتی ہیں ۔ (۴) ایک ہندونے ایک عالم دین پر اعتراض کیاکہ تم لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہوکہ ہندوبت پرست ہیں ، پتھروں کی پوجاکرتے ہیں ، دیکھوتم مسلمان بھی پتھروں سے بنائے گئے کعبۃ اللہ کی پوجاکرتے ہو؟ اس عالم دین نے جواب دیاکہ ہم کعبۃ اللہ کو معبود جان کر اس کی عباد ت نہیں کرتے ۔ ہمارامعبود برحق اللہ تعالی ہی ہے نہ کہ کعبۃ اللہ ۔ اگرکعبۃ اللہ ہمارامعبود ہوتاتو ہمارے نبی کریم ﷺاپنے غلام حضرت سیدنابلال رضی اللہ عنہ کو کبھی بھی اذان دینے کے لئے اس کی چھت پر چڑھنے کاحکم نہ فرماتے ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh