صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2161 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۱۸ ۔ کفارکارسول اللہ ﷺسے استہزاء کرنا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,055

سوال (Question):

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۱۸ ۔ کفارکارسول اللہ ﷺسے استہزاء کرنا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کفارکارسول اللہ ﷺسے استہزاء کرنا

{وَقَالَ الَّذِیْنَ لَایَعْلَمُوْنَ لَوْلَا یُکَلِّمُنَا اللہُ اَوْ تَاْتِیْنَآ اٰیَۃٌ کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّثْلَ قَوْلِہِمْ تَشٰبَہَتْ قُلُوْبُہُمْ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ}(۱۱۸) ترجمہ کنزالایمان :اور جاہل بولے :اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا یا ہمیں کوئی نشانی ملے ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات اِن کے اُن کے دل ایک سے ہیںبیشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لئے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اورجاہل بولے کہ اللہ تعالی ہم سے کیوں کلام نہیں کرتایاہمیں کوئی نشانی ملے ، ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسی ہی بات کی تھی، مشرکین مکہ اوریہودیوں کے دل ایک جیسے ہیں ، بے شک ہم نے یقین والوں کے لئے نشانیاں کھول کربیان کردیں۔ شان نزول عَنْ عِکْرِمَۃَ أَوْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَافِعُ بْنُ حُرَیْمِلَۃَ لِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا مُحَمَّدُ، إِنْ کُنْتَ رَسُولًا مِنَ اللَّہِ کَمَا تَقُولُ، فَقُلْ لِلَّہِ فَلیُکَلِّمْنَا حَتَّی نَسْمَعَ کَلَامَہُ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ فِی ذَلِکَ مِنْ قَوْلِہِ :(وَقَالَ الَّذِینَ لَا یَعْلَمُونَ لَوْلَا یُکَلِّمُنَا اللَّہُ أَوْ تَأْتِینَا آیَۃٌ)(البقرۃ: ۱۱۸)۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ رافع بن حریملہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں آیااورکہنے لگاکہ اگرآپ اللہ تعالی کے رسول ہیں جیساکہ آپ کادعوی ہے توآپ ﷺ اللہ تعالی کوکہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کلام کرے تاکہ ہم اس کاکلام سنیں تو اللہ تعالی نے اس کے جواب میں یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد الحنظلی، الرازی ابن أبی حاتم (ا:۲۱۵) کفارومشرکین کامطالبہ یہ تھاکہ رسول اللہ ﷺیہ دعوی کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ان سے ہم کلام ہوتاہے ، اگرایساہے تو اللہ تعالی نے انہیں کوہمارے میں سے ہم کلامی کے لئے ہی کیوںمنتخب کیا، آخرہم جو قریش کے سردار اورلیڈر ہیں اثراوراقتدارمیں محمدﷺسے کہیں اونچے ہیں (نعوذباللہ ) اللہ تعالی ہم سے ہم کلام کیوں نہیں ہوتا۔ اس مطالبہ کاجواب اللہ تعالی نے قرآن کریم میں بعض مقامات پر دیاہے ۔ مثلاً ایک جگہ فرمایاکہ کسی بھی انسان کی یہ شان نہیں ہے اللہ تعالی اس کے ساتھ براہ راست کلام کرے ۔ وہ صرف وحی کے ذریعے یاپردہ کی آڑ سے کلام فرماتاہے ۔ پھروحی ورسالت سے متعلق یہ وضاحت فرمادی ہر کس وناکس اس منصب کااہل نہیں ہوتا، یہ صرف اللہ تعالی ہی جانتاہے کہ کون اس منصب کااہل ہے ۔ دوسرامطالبہ یہ تھاکہ ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ جو ایک محسوس معجزے کی نوعیت کی ہوجس کو دیکھ کر ہر شخص پکاراٹھے کہ اس نشانی کادکھانے والااللہ تعالی کابھیجاہوارسول ہے ۔ مثلاً یہ کہ اس رسول کے ساتھ ساتھ کوئی فرشتہ ہواس کی رسالت کی منادی کرتاپھرے یااس کے حکم سے مردے زندہ ہوجائیں یااس کے اشارے سے پہاڑ چلنے لگیںوغیرہ وغیرہ ۔ ان کے جواب میں اللہ تعالی نے فرمایاجس طرح کی نشانی کے لئے یہ مطالبہ کررہے ہیں بالکل اسی طرح کی نشانی کے لئے ان قوموں نے اپنے اپنے رسولوں (علیہم السلام) سے مطالبے کئے تھے جوان سے پہلے گزرچکی ہیں ، انہوں نے بھی حق واضح ہوجانے کے بعد محض انبیاء کرام علیہم السلام کو پریشان کرنے کے لئے اس طرح کے معجزات کے مطالبات کئے اورمکے کے کافربھی حق سمجھنے کے بعد رسول اللہ ﷺکو ایذادینے کے لئے اس طرح کی باتیں کررہے ہیں ۔ ان کے دل بھی بالکل انہی لوگوں کے دلوں کی مانندہوگئے ہیں یعنی قساوت قلبی ، طغیانی اورحق دشمنی کی سیاہی ان کے دلوں پر بھی چھاچکی ہے ۔

یہودی اورمشرک سب کادل ایک جیساہے

الذین من قبلہم: بنو إسرائیل؛ قالوا لموسی صَلَّی اللَّہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، ما قال مشرکو العرب لمحمدصَلَّی اللَّہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ – ترجمہ:امام اہل سنت محمدبن محمدبن محمود ابومنصورالماتریدی المتوفی : ۳۳۳) رحم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ میں پہلے لوگوں سے مراد بنی اسرائیل ہیں کہ انہوںنے کہاتھا حضرت سیدناموسی علیہ السلام کو کہ ہم تب تک آپ پریقین نہیں کریں گے جب تک ہم اللہ تعالی کوعیاناً نہ دیکھ لیں ۔ اوریہی بات مکہ کے مشرکین نے رسول اللہ ﷺکوکی۔ (تأویلات أہل السنہ:محمد بن محمد بن محمود، أبو منصور الماتریدی (۱:۵۴۹)

مشرکین کے سوال کرنے کامنشاہی رسول اللہ ﷺکوپریشان کرناتھا

وقیل: تشابہت قلوبہم فی المقالۃ؛ یشبہ بعضُہا بعضًا فی السؤال؛ لأَنہم سأَلوا سؤال تعنت، لا سؤال مسترشد. ترجمہ:امام اہل سنت محمدبن محمدبن محمود ابومنصورالماتریدی المتوفی : ۳۳۳) رحم اللہ تعالی فرماتے ہیںاوریہ بھی کہاگیاہے کہ یہودیوں کے اورمشرکین کے دل ایک جیسے ہوگئے اس کامعنی یہ ہے کہ یہ مطالبہ کرنے میں ان کے دل ایک جیسے ہوگئے اورسوال کرنے میں ان کے دل ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے ، اس لئے کہ ان دونوں کے سوال کامقصد حصول رشدنہیں ہے بلکہ ان دونوں کے سوال کامقصد حضرت سیدناموسی علیہ السلام اورحضور تاجدار ختم نبوت ﷺکوپریشان کرنااورحق سے پھسلانے کے لئے تھااوران کی گستاخی کرنے کے لئے تھا۔ یعنی انبیاء کرام علیہم السلام کی گستاخی کرنے میں یہودی اورمشرک ایک جیسے ہوگئے ۔ (تأویلات أہل السنہ:محمد بن محمد بن محمود، أبو منصور الماتریدی (۱:۵۴۹) دل کافرہوجائیں تو انسان رب تعالی کے احکام پر اعتراض کرتاہے قالہ قتادۃ :تَشابَہَتْ قُلُوبُہُمْ، أی:فی الکفر. ترجمہ :حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ یہودونصاری اورمشرکین کے دل کافرہونے میں ایک جیسے ہوگئے ۔ یعنی جس طرح یہود ونصاری اسلام پراعتراض کرتے ہیں اسی طرح مشرکین عرب اسلام پر اعتراض کرتے ہیں ۔ (زاد المسیر فی علم التفسیر: جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی (ا:۱۰۵) مشرکین مکہ نے رسول اللہ ﷺکی گستاخی کرنے میں یہودونصاری کی پیروی کی مِثْلَ قَوْلِہِمْ قال مقاتل یعنی مشرکی العرب کذلک قالوا فی نبیّہم محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم وأصحابہ لیسوا علی شیء من الدّین. ترجمہ :امام مقاتل رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مشرکین عرب نے یہود ونصاری کی پیروی کی ، انہوںنے کہاکہ رسول اللہ ﷺاورآپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دین پر نہیں ہیں۔ (الکشف والبیان عن تفسیر القرآن:أحمد بن محمد بن إبراہیم الثعلبی، أبو إسحاق (۱:۲۶۰)

رسول اللہ ﷺکے ساتھ دشمنی کے سبب اعتراضات کرتے تھے

بَلْ یُرِیدُ کُلُّ امْرِئٍ مِنْہُمْ أَنْ یُؤْتی صُحُفاً مُنَشَّرَۃً (الْمُدَّثِّ۵۲) إِلَی غَیْرِ ذَلِکَ مِنَ الْآیَاتِ الدَّالَّۃِ عَلَی کُفْرِ مُشْرِکِی الْعَرَبِ وَعُتُوِّہِمْ وَعِنَادِہِمْ وَسُؤَالِہِمْ مَا لَا حَاجَۃَ لَہُمْ بِہِ، إِنَّمَا ہُوَ الْکُفْرُ وَالْمُعَانَدَۃُ، کَمَا قَالَ مَنْ قَبْلَہُمْ مِنَ الْأُمَمِ الْخَالِیَۃِ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابَیْنِ وغیرہم۔ ترجمہ:حافظ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیںکہ{بَلْ یُرِیدُ کُلُّ امْرِئٍ مِنْہُمْ أَنْ یُؤْتی صُحُفاً مُنَشَّرَۃً} (الْمُدَّثرِّ:۵۲) کفارمیں سے ہر شخص یہ چاہتاہے کہ اسے بھی کوئی کتاب دی جائے ۔ یہ آیات صاف بتارہی ہیں کہ مشرکین مکہ نے یہ مطالبہ کیااورمشرکین کایہ مطالبہ صرف اورصرف رسول اللہ ﷺکے ساتھ تکبراور دشمنی کی وجہ سے تھااوران کایہ مطالبہ بے معنی تھا، ان سے پہلے یہودونصاری نے بھی بے معنی سوالات کئے تھے ۔ (تفسیر ابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۱:۲۷۸)

یہودونصاری اورمشرکین مکہ کے ہم خیال لبرل حدیث شریف کے منکرکیوں؟

برصغیر میں جس طرح سے انکار حدیث کا فتنہ عروج پر ہے ہر ذی شعور اس بات کا معترف ہے۔ آخر ایک شخص جو رسول اللہ ﷺ کو ماننے والامسلمان ہو،وہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث شریف کیوں نہیں مانتا؟ یہ ایک اہم ترین سوالیہ نشان ہے، جو آج تک امت کے ارد گرد موجود ہے۔ چند صدیاں قبل انکار حدیث کی مختلف صورتیں تھیں اور آج کے اس دور میں فتنہ انکار حدیث نے کچھ اور طریقے سے اس باطل نظریئے کو اجاگر کیا ہے۔ لیکن اگر گہری نظر اور تحقیقی نگاہ ڈالی جائے تو علامات مختلف ہیں ، مگر مقاصد یکجا ہیں۔ اس فتنے کی بنیادی وجوہات دین سے دوری ، مغربی تعلیم اور اس کی مادی تحقیق سے متاثر غیر مسلم تہذیب سے مرعوبیت اور سیاسی و فکری محکومی سر فہرست دکھائی دے گی۔ آج کے نت نئے گلابی منکرین حدیث اتنے جذباتی بہاؤ کا شکار ہوتے ہیں کہ غیروں کی فکر اور سوچ اس قدر غالب ہو جاتی ہے کہ وہ شعارِ اسلام کی بغیر پرواہ کیے ہوئے عقل کی کٹ پتلیاں کو بروئے کار لا کر عقائد کا انکار کر بیٹھتے ہیں۔ بر صغیر میں اس فتنہ کی ابتداء سر سید احمد خان کی مرہون منت ہے۔ جس کی آبیاری آج کے لبرل منکر حدیث کر رہے ہیں۔ پاکستان میں انکار حدیث کو ایک مشن کا نام دے کر اسے اسلامی اورقرآنی نظام کا جامہ پہنا کر پھیلانے میں پرویز کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ جو انگریز حکومت کا ملازم اور فکری طور پر ان کی علمی برتری کا حامل تھا۔(یعنی جو کہتاتھاکہ اہل اسلام قرآن وحدیث پڑھ کر بھی علم سے لابلدہیں اورانگریزجو وحی الہی کی برکات سے محروم ہے وہ علم کی دولت سے مالامال ہے ۔) موجودہ دور میں بھی جتنے انکار حدیث کے حامل ہیں آپ ان میں بھی اسی سوچ کو پائیں گے جن عقائد کو غلام پرویز نے پھیلایا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ایسے محدثین کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے ایسے فتنوں کا صدر اسلام میں ہی قلع قمع کیا اور ان کی بھر پور کوششوں سے ان فتنوں کا استیصال ہوا۔ اگر ہم تیرہویں صدی کا مطالعہ کریں تو یہ واضح انکشاف ہوتا ہے کہ یورپ کی یلغار کے بعد فتنہ انکار حدیث نے دوبارہ اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ جنم لیاہے۔

عقل وحی کے تابع یا وحی عقل کے ؟

انکار معجزہ، انکار حدیث ان باطل عقائد کے پیچھے جو اہم وجہ چھپی ہے وہ ہے ہی یہی کہ اپنی عقل کو اس قدر مقام دے دیا گیا کہ اسے وحی الہٰی کے جانچنے کا اصل معیار قرار دے دیا گیا۔ ایمان کی برتری کا سب سے بڑا دشمن ہی یہی غلط عقیدے کا جال ہے کہ وحی الہٰی عقل کے تابع ہے اور تمام وحی کا انحصار عقل کی سمجھ بوجھ پر ہے۔ انکار حدیث کے فتنے میں عقل پرستی کا جو بھوت سوار ہے دراصل یہ بھی مغرب کی علمی مرعوبیت ہی کا شاخسانہ ہے۔ اسی لیے یہاں بھی عقل ہی کو کل سمجھ لیا گیا ہے، اور جب عقل کو کل سمجھ لیا جائے گا تو نظریات کا وہی جال ہوگا جوجال عقل پرستوں کا یعنی ڈارون کا ہواسکی قدر عنکبوت سے بھی ابتر تھی کہ چند سالوں بعد ہی ان کی عقل کے نتائج کو زمین بوس کر دیا گیا اور آج اسی سائنس کو ماننے والے اس نظریے کو غلط بھی سمجھ رہے ہیں اور لوگوں کو اس غلط نظریہ کا رد کرنے پر بھی اپیل کر رہے ہیں۔ مگر ایک مسلمان اور غیر مسلم کے زاویہ فکر اور تفکر خوض و فکر میں ایک نمایاں فرق موجود ہے وہ یہ ہے کہ اسلام عقل کے استعمال کو بڑھاوا دیتا ہے مگر عقل کی کمزوریاں اور اس کی بعض کوتاہ حدود کا معترف بھی ہے۔ اسی لیے ایک مسلمان وحی کے مقابلے میں ہر گز عقل کو بروئے کار نہیں لاتا۔ جیسے ہی اسے قرآن و صحیح حدیث سے کوئی حکم ملتا ہے وہ اپنے سر کو خم کر دیتا ہے اور اپنی ناقص عقل کو خالق کائنات کے تابع کر دیتا ہے مگر ایک غیر مسلم وحی کے ہوتے ہوئے بھی اسی بات پر اڑا رہتا ہے کہ جدید تحقیق کے تناظر میں جوبات ثابت ہوگی وہی قابل قبول ہوگی۔ تھوڑی دیر کے لیے اگر ہم مغربی محققین کی یہ روش پر غور کرتے ہیں تو یہ بات کھل کر عیاں ہوتی ہے کہ ان کی کتب میں عقل پرستی کو وحی پر غالب رکھا ہے اور ایمانی طور پر ان کی مذہبی کتابوں نے انہیں اس قدر محدودیت اور احساس کمتری کا نشانہ بنایا کہ آج وہ خود اسی شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ آیا حق کیا ہے۔۔۔ مگر اسلام نے اپنے ماننے والوں کو جو ضابطہ حیات بخشا ہے اسی تعلیم کی پاداش میں ایک مسلم اپنی سمجھ اور عقل پر وحی کو فوقیت دیتا ہے اور وہ اس فعل پر اطمینان ، یقین اور قلب سلیم جیسی نعمت سے مالا مال ہو جاتا ہے۔ عقلی تشریحات و توجیہات ، معروضی حد بندیاں اور منطقی صغرے اور کبرے مزید فائدے کے لیے تو ہو سکتے ہیں اور اسلام میں ان کی ایک حد تک اجازت بھی ہے مگر اسلام میں جو اصل کسوٹی قرار پائی ہے وہ بنیادی طور پر وحی الہٰی قرآن و صحیح حدیث ہی ہے۔ انکار حدیث کے فتنے نے سب سے بڑا گل ہی یہی کھلایا کہ اس نے ہر فرد کو اتنا تعقل پسند بنا دیا کہ ہر شخص جس آیت کو چاہتا ہے اس کی من مانی تشریح کرتا ہے اور جس حدیث کی چاہتا ہے بناوٹی تاویل دے کر اس کا رد کر دیتا ہے، اور دراصل یہی تعقل پسندی کا دوسرا نام انکار حدیث ہے۔ لہٰذا دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس کی زیر نگرانی میں انسان تدبر اور تفکر کے سمندر میں غوطے لگائے اگر اس سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا تو اسی سمندر میں وہ اپنی جان کھو بیٹھے گا۔

عقل کی وجہ سے بے عقلی کا ثبوت

جو عقل کا استعمال اس حد تک اپنے اوپر لاگو کر دے کہ عقل کو وحی کے مقابل کھڑاکر دے تو یقیناً ایسی عقل ہی بے عقلی کا ثبوت مہیّا کرتی ہے، کیونکہ محدود لا محدود میں سما سکتا ہے، لیکن لا محدود ، محدود میں کبھی بھی سما نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر عقل انسانی پر اتنا اندھا اعتماد قائم ہو جائے تو یہ عقل حدیث رسول ﷺکو چیلنج کرتی ہے اور پھر اسی عقل کی اندھی تقلید بندے کو عقل کا اندھا بنا دیتی ہے۔ موجودہ منکرین حدیث یہ بیان تراشتے ہیں کہ متعدد احادیث صحیحہ ہماری عقل سے بالاتر ہیں جس کی وجہ سے ہم ان احادیث کا انکار کر تے ہیں جو جدید تحقیقات یا عقل عام سے متصادم ہوتی ہیں۔ اسلام کو چھوڑ کر باقی ادیان کے ماننے والوں کو یہ عقل پسندی کا نعرہ گوارہ ہو سکتاہے کیونکہ ان کے ہاں الہامی ہدایات نہ صرف تحریف شدہ ہیں بلکہ ان پر عمل کرنا ہر دور میں خصوصاً آج کے دور میں محال ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ محرف الہامی تعلیمات پر ایمان کم لاتے ہیں اور اس کی جگہ پر اپنی عقل کے گھوڑے زیادہ دوڑاتے ہیں۔ جب کہ ہمارے ہاں دین اسلام نہ صرف ایک مکمل دین و ضابطہ حیات ہے بلکہ وہ تحقیق اور بہترین دین کے اعتبار سے غیر محرف اور اعلیٰ تحقیقی معیاروں پر بھی محفوظ ہے۔ اسی لیے کتاب و سنت کے ماننے والوں کو عقل کی برتری پر مبنی رجحانات ہر گز زیب نہیں دیتے۔ وہ احادیث جن کا انکار کیا گیا صرف عقل کی وجہ سے

حالت حیض میں مباشرت

وحی کے مقابلے میں عقل کا استعمال قرآن شریف میں مذکور ہے کہ: {وَ یَسْـَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآء َ فِی الْمَحِیْضِ وَلَا تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللہُ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ التَّوّٰبِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ}سورۃ البقرۃ :۲۲۲) اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم توتم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔ آیت مبارکہ میں دو حکم ہیں۔اول:حیض کی حالت میں عورتوں سے دور رہیے۔دوم:اور ان کے قریب بھی نہ جائیں۔ مگر حدیث میں اس آیت کی واضح خلاف ورزی ہے کہ: عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ:وَکَانَ یَأْمُرُنِی، فَأَتَّزِرُ، فَیُبَاشِرُنِی وَأَنَا حَائِضٌ۔ ترجمہ :حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :مجھے آپ ﷺحکم دیتے میں ازار باندھ لیتی ، پھر مجھ سے مباشرت فرماتے اور میں اس وقت حیض سے ہوتی۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۱:۶۷) مندرجہ بالا قرآن مجید کی آیت اور حدیث کو آپس میں متصادم ٹھہرا کر اس کی من مانی تشریح کر دی گئی، اور پھر اس امر کا تقاضا کر دیا کہ حدیث من گھڑت اور عقل کی کسوٹی سے کوسوں دور ہے۔ انہی اسباب کے تحت بخاری شریف کی حدیث نا قابل یقین ہوگئی۔ عقل کو کسوٹی بنا کر اور اپنی سمجھ بوجھ کو وحی الہٰی کے تابع نہ کر کے اللہ تعالی کے فرمان اور اس کے رسولﷺ کے فرمان کو الگ الگ کہہ کر ٹھکرا دیا گیا ، مگر حقیقت میں حدیث رسول ﷺ ہر گز قرآن مجید کے خلاف نہیں ہے۔ وحی کے تابع عقل اگر یہاں بھی ہم وحی کے تابع اپنی عقل کو کرتے ہیں تو یہ انکار ان شاء اللہ اقرار میں اور بے سمجھی سمجھداری میں تبدیل ہوگی۔ مندرجہ بالا حدیث پر سب سے زیادہ قابل اعتراض بات یہ ہے کہ اس میں حالت حیض میں مباشرت کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ جب کہ قرآن میں اس امر سے اجتناب کا حکم صادر فرمایا گیا ہے۔ اسی غلط فہمی کی اصل وجہ یہ ہے کہ مباشرت مطلب اردو زبان میں مجامعت سمجھا جاتا ہے ۔ اس کے برعکس عربی میں مباشرت کا اور معنی بنتا ہے اور وہ ہے جلد کا جلد سے لگنا ، چھونا وغیرہ۔ عربی میں ہر گز مباشرت کا مطلب صحبت کرنا یا مجامعت کرنا نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہواکہ قرآن کریم میں جس مباشرت سے منع کیاگیاہے اس سے مراد جماع ہے اورحدیث شریف میں جس کاذکرہے اس سے مراد جماع نہیں ہے ۔ اوریہ بات حدیث شریف کے طلبہ پر مخفی نہیں ہے ۔ امام ابن بطال المتوفی : ۴۴۹ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ علم أن الذی ندب العبد إلی المباشرۃ بہ من جسم أخیہ ۔ ترجمہ : یہ بات جان لی گئی ہے کہ انسان کے لئے یہ مستحب ہے وہ اپنے بھائی کے ساتھ گلے مل لے یعنی مباشرت اصل میں دو جسموں کے ملنے کو کہتے ہیں۔ (شرح صحیح البخاری لابن بطال: ابن بطال أبو الحسن علی بن خلف بن عبد الملک (۲:۲۶۷) امام النووی رحمہ اللہ تعالی نے بھی اسی معنی کو راجح قرار دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: مَعْنَی الْمُبَاشَرَۃِ ہُنَا اللَّمْسُ بِالْیَدِ وَہُوَ مِنَ الْتِقَاء ِ الْبَشَرَتَیْنِ ترجمہ :امام ابوزکریامحیی الدین یحیی بن شرف النونی المتوفی :۶۷۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یعنی مباشرت سے یہاں صرف ہاتھ سے چھونا اور دو جسموں کا ملنا ہے۔ (المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج: أبو زکریا محیی الدین یحیی بن شرف النووی (۷:۲۱۲) لہٰذا مباشرت کا اصلی اور حقیقی معنی یہی ہوگا کہ جسم سے جسم کا چھونا اور یہ بات ہر گز قرآنِ مجید کے خلاف نہیں ہے قرآن نے جس چیز سے روکا وہ جماع کرنا ہے اور حدیث میں واضح ہے کہ نبی کریم ﷺاپنے نفس پر قابو رکھتے اور تم میں سے کون ہے کہ اتنا اپنے نفس پر قابو رکھے؟ لہٰذا یہاں سے بھی یہ واضح ہوا کہ مباشرت بمعنی (مس)چھونے کے ہیں ۔ صحیح البخاری میں کئی ایک ایسے مقامات ہیں جن میں یہ لفظ اپنے اصلی معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ مثلاً کتاب النکاح کے باب کے عنوان کوامام بخاری نے یوں قائم فرمایا کہ : عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لاَ تُبَاشِرُ المَرْأَۃُ المَرْأَۃَ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایاکہ کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ نہ سوئے یا اس کے ساتھ نہ چمٹے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۷:۲۸) لہٰذا واضح ہوا کہ صحیح حدیث قرآن مجید سے ہر گز متصادم نہیں ہے۔

معارف ومسائل

(۱)کفارمکہ حقیقتاًرسول اللہﷺکامذاق اڑاتے تھے یاتویہ کہتے کہ جب رب تعالی بعض انبیاء کرام علیہم السلام سے بلاواسطہ کلام فرماتاہے اورجب رب تعالی فرشتوں کے ذریعے کلام فرماتاہے توہم پر فرشتے کیوں نہیں آتے،غرضیکہ وہ خود کوفرشتوں کی مثل جانتے ہیں یاانبیاء کرام علیہم السلام کی مثل ۔ علماء کرام فرماتے ہیں کہ اس کفرکی وجہ یہ تھی کہ کفاراپنے میں اورانبیاء کرام علیہم السلام میںفرق نہیں کرتے تھے ،نبی ( علیہ السلام ) کے مقام سے باخبرنہ ہوتے تھے۔ یہ بھی کہتے تھے کہ ہم اوراللہ تعالی کے انبیاء کرام علیہم السلام کھانے پینے اورسونے اورجاگنے میںیکساں ہیں۔ تومرتبوں میں ہم برابرہیں،ہم کو ان کے واسطہ وسیلہ کی کوئی ضرورت نہیںہے ، جب مسجد شریف کی اینٹ اوربیت الخلاء کی اینٹ برابرنہیں ، قرآن کریم کاکاغذ ناول کے کاغذ کے برابرنہیںاگرچہ ایک ہی کارخانے میں بنے ہیںتوانبیاء کرام علیہم السلام اورگندے لوگ کیسے ایک جیسے ہوسکتے ہیں؟ جب تم ابوجہل کے برابرنہیں توانبیاء کرام علیہم السلام تمھارے برابرکیسے ہوسکتے ہیں؟ تم نے رسول اللہ ﷺکاکھاناپینادیکھااوران کامعراج پر جانااورپتھروں کاکلمہ پڑھنانہ دیکھا۔ پھرانہوںنے یہ بھی کہاکہ ہم پر کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ یعنی قرآن کریم اوردیگرمعجزات انکے نزدیک نشانیاں ہی نہیں ، اپنی مرضی کی نشانی چاہتے تھے اورکہتے تھے کہ قریب کاراستہ اختیارکرناچاہئے ،رب تعالی نے ہماری ہدایت کے لئے اتنابعیدراستہ کیوںاختیارکیا؟کہ وہ فرشتے اورفرشتہ آپ ﷺسے اورآپ ﷺہم سے۔یامعمولی معجزات ہم کودکھائے ،آسان طریقہ یہ تھاکہ یاتوبراہ راست ہم سے کلام فرمالیتااورکوئی ایسی نشانی بھیجتاجس سے ہم مجبوراً آپﷺکومان لیتے۔ مثلاً یہ کہ مکہ مکرمہ کی بے آب ودانہ زمین میںچشمے جاری ہوجاتے یاآسمان پھٹ کرہم پرگرجاتایافرشتے صف باندھ کرہمارے سامنے آجاتے یاآپ ﷺکاگھرسونے وچاندی کابن جاتا،یاآپ ﷺہمارے سامنے جاکر ساری کتاب ایک دم لے آتے۔ان بے وقوفوں کو اب تک ایمان تو میسرنہیں ملائکہ کرام اورانبیا ء کرام علیہم السلام کی ہمسری کادعوی کررہے ہیں۔ان کا یہ مطالبہ کرناگویااپنے لئے نبوت یاملکیت کامانگناہے ۔رب تعالی فرماتاہے کہ اے حبیب کریم ﷺآپ ان کی بکواس سے پریشان نہ ہوں کیونکہ یہ آپ ﷺپر ہی پہلاسوال نہیں ہوابلکہ اسی طرح ان کے اگلے کفارنے بھی اپنے انبیاء کرام علیہم السلام سے یہی مطالبے کئے تھے محض ضد سے نہ کہ طلب حق کے لئے یہ لوگ مطالبے کررہے ہیں ۔ ایسے ہی ا ن سے پہلوں نے بھی کئے تھے جومطالبے یہودونصاری نے کئے تھے وہی مطالبے یہ کررہے ہیں (تفسیرنعیمی ازمفتی احمدیارخان نعیمی(۱:۶۷۱) (۲) اس سے معلو م ہواکہ کفارمکہ اوریہود ونصاری کے دل کافرہوگئے تھے اس لئے وہ انبیاء کرام علیہم السلام سے بے معنی سوالات کرتے تھے ۔ (۳) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جو شخص انبیاء کرم علیہم السلام کے ساتھ بغض وعناد رکھتاہے اس کادل بھی کافرہوجاتاہے ۔ (۴) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جو شخص انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ بغض رکھے تواللہ تعالی اس کو اس کے کفر پرمطلع نہیں ہونے دیتا۔ (۵) اس سے یہ معلوم ہواکہ جو شخص رسول اللہ ْﷺکے فرمان شریف پر بے جااعتراض کرتاہے وہ جاہل اعظم ہے اگرچہ ساراجہان اس کو عالم کہے ۔ (۶) جو شخص اللہ تعالی اوراس کے رسول ﷺکے احکامات پر اعتراضات کرے اس کادل یہودونصاری کے دل جیساہوگیاہے ۔ (۷) بے وقوف ظلمت مادہ توکیاکفرکے اندھیرے سے نکلے نہیں اور رب تعالی سے کلام کرنے کاحوصلہ کررہے ہیں ، کیاکوئی کہہ سکتاہے کہ مجھے طبیب کی کیاضرورت ؟ یاحاکم وبادشاہ کی کیاضرورت ؟ ہر شخص حکیم وحاکم کیوں نہیں بن جاتا، یہ نادانی اورجہالت ہے ۔ ایک ملحد کسی بزرگ سے بولاکہ مجھے خداتعالی کی زیارت کروادو۔ انہوںنے کہاکہ یہ کیامشکل ہے اوراسے دھوپ میں کھڑا کرکے اس کامنہ سورج کی طرف کردیاوہ آنکھیں بندکرنے لگاتو ان بزرگ رحمہ اللہ تعالی نے اس کو ایک تھپڑ لگاکرفرمایاکہ آنکھ کھول دو۔ بولاکیسے کھولوں کھلتی نہیں ۔ توفرمایاکہ آفتاب کو رب تعالی کے نور سے کوئی نسبت ہی نہیں وہ تونورالسموات والارض ہے ۔سورج تواس کاپرتوبھی نہیں ، جب تیری آنکھ میں اس کی تاب نہیں تو اس کی تاب کیسے لائے گا۔ رب تعالی کو دیکھنے والی آنکھ توبنوائو دیکھامیں دوں گا۔تفسیر نعیمی (۱:۶۷۲) (۸) اللہ تعالی نے فرمایا: اگرچہ ان کفارکی زبانیں اورزمانہ مختلف ہے مگردل سب کے ایک جیسے ہیں ، سب پر کفرکایکساں غلاف چڑھاہواہے ۔ (۹) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جس طرح کفارمکہ اعتراضات کرتے تھے اسی طرح کے اعتراضات آج کے لبرل وسیکولرکررہے ہیں تواللہ تعالی کے اس فرمان شریف سے واضح ہوگیاکہ جس طرح مکہ کے کفاریہودیوں سے بہت عرصہ بعد میں آئے مگران کے دل ایک جیسے ہوگئے اسی طرح اگرچہ آج کالبرل ابوجہل سے بہت عرصہ بعد میں آیامگراس کادل بھی ابوجہل جیساہے جس طرح وہ اعتراضات کرتاتھااسی طرح کے اعتراضات یہ کررہے ہیں۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh