صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2169 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۴۵۔۱۴۶۔۱۴۷ ۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی صرف پہچان ایمان نہیں بلکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو ماننا ایمان ہے

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,009

سوال (Question):

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۴۵۔۱۴۶۔۱۴۷ ۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی صرف پہچان ایمان نہیں بلکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو ماننا ایمان ہے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی صرف پہچان ایمان نہیں بلکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو ماننا ایمان ہے

{وَلَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَکَ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَہُمْ وَمَا بَعْضُہُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَہْوَآء َہُمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآء َکَ مِنَ الْعِلْمِ اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ}(۱۴۵){اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآء َہُمْ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْہُمْ لَیَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ}(۱۴۶){اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ}(۱۴۷) ترجمہ کنزالایمان :اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے کر آؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں اور (اے سننے والے کسے باشد)اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گار ہوگا۔جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں (اے سننے والے) یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے (یا حق وہی ہے جو تیرے رب کی طرف سے ہو) تو خبردار توشک نہ کرنا ۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اوراگر آپ (ﷺ) اہل کتاب کے پاس ان کی مطلوبہ ہر ہرنشانی لے آئیں تب بھی وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے اورنہ ہی آپ ان کی پیروی کریں اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے پیروکارنہیں ہیںاوراے سننے والے ! اگرتوان کی خواہشوں پر چلااس کے بعد کہ تجھے علم بھی مل چکاتو اس وقت توضرورظلم کرنے والاہوگا۔جن کو ہم نے کتاب عطافرمائی وہ اس نبی کریم ﷺکو ایساپہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتاہے اوربے شک ایک گروہ جان بوجھ کر حق کو چھپاتے ہیں ، اے سننے والے یہ حق تیرے رب تعالی کی طرف سے ہے ( یاحق وہی ہے جوتیرے رب تعالی کی طرف سے ہو) توخبردارشک نہ کرنا۔

اس آیت میں خطاب کس کوہے؟

قَوْلُہُ تَعَالَی:وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَہْواء َہُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جاء َکَ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّکَ إِذاً لَمِنَ الظَّالِمِینَ الْخِطَابُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَالْمُرَادُ أُمَّتُہُ مِمَّنْ یَجُوزُ أَنْ یَتَّبِعَ ہَوَاہُ فَیَصِیرَ بِاتِّبَاعِہِ ظَالِمًا، وَلَیْسَ یَجُوزُ أَنْ یَفْعَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَکُونُ بِہِ ظَالِمًا، فَہُوَ مَحْمُولٌ عَلَی إِرَادَۃِ أُمَّتِہِ لِعِصْمَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَطَعْنَا أَنَّ ذَلِکَ لَا یَکُونُ مِنْہُ، وَخُوطِبَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَعْظِیمًا لِلْأَمْرِ وَلِأَنَّہُ الْمُنَزَّلُ عَلَیْہِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی: ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ میں خطاب رسول اللہ ﷺکو ہے اورمراد حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے وسیلے سے وہ لوگ ہیں جن کاخواہش کی پیروی کرناجائز ہے اورخواہش کی پیروی کرنے سے ظالم بن جاتے ہیں ، حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے لئے ایساعمل کرناجائز نہیں ہے جس کی وجہ سے نعوذ باللہ آپ ﷺحدسے بڑھنے والوں میں سے ہوجائیں ، حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی عصمت اورآپ ﷺسے ایسے اعمال کے سرزد نہ ہونے کی قطعیت کی وجہ سے امت کے ارادہ پر محمول ہے ، معاملہ کی بڑائی کی وجہ سے حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کو خطاب کیاگیا، اسی لئے آپ ﷺپریہ حکم شریف نازل ہوا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۱۶۱) جملہ شرطیہ کی وضاحت وہذہ الجملۃ الشرطیۃ الفرضیۃ واردۃ علی منہاج التہییج والالہاب للثبات علی الحق وفیہ لطف للسامعین وتحذیر لہم عن متابعۃ الہوی فان من لیس من شانہ ذلک إذا نہی عنہ ورتب علی فرض وقوعہ ما رتب من الانتظام فی سلک الراسخین فی الظلم فما ظن من لیس کذلک۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ جملہ شرطیہ فرضیہ ہے ، اس میں قبلہ کعبہ کے لئے برانگیختہ کرنااورحق پر ثابت قدم رکھنامقصود ہے اورسامعین پر لطف وکرم کااظہاربھی ہے ۔اورانہیں خواہشات نفسانی سے دوررہنے کی تلقین بھی ۔ اس لئے جب یہ بات ایسی ذات یعنی حضور تاجدارختم نبوت ﷺسے کی جارہی ہے کہ ان سے ایسے امورکاصدورممتنع ہے اورنہ ہی ان کی یہ شان ہے کہ وہ منہی عنہ کاارتکاب کریںبلکہ ان سے بفرض المحال ایسامعاملہ کیاجارہاہے توپھراس کاکیاحال ہوگاجو برائیوں کاارتکاب کرتاہے ؟ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (ا:۲۵۱)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی معرفت

وَأخرج الثَّعْلَبِیّ من طَرِیق السّدیّ الصَّغِیر عَن الْکَلْبِیّ عَن ابْن عَبَّاس قَالَ: لما قدم رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم الْمَدِینَۃ قَالَ عمر بن الْخطاب لعبد اللہ بن سَلام: قد أنزل اللہ علی نبیہ (الَّذین آتَیْنَاہُم الْکتاب یعرفونہ کَمَا یعْرفُونَ أَبْنَاء َہُم) فَکیف یَا عبد اللہ ہَذِہ الْمعرفَۃ فَقَالَ عبد اللہ بن سَلام: یاعمر لقد عَرفتہ حِین رَأَیْتہ کَمَا أعرف ابْنی إِذا رَأَیْتہ مَعَ الصّبیان وَأَنا أَشد معرفَۃ بِمُحَمد منی بإبنی فَقَالَ عمر: کَیفَ ذَلِک قَالَ: إِنَّہ رَسُول اللہ حق من اللہ وَقد نَعتہ اللہ فِی کتَابنَا وَلَا أَدْرِی مَا تصنع النِّسَاء فَقَالَ لَہُ عمر:وفقک اللہ یَا ابْن سَلام۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیںکہ جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺمدینہ منورہ تشریف لائے توحضرت سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدناعبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ تعالی نے حضو رتاجدارختم نبوت ﷺپریہ آیت کریمہ نازل فرمائی {اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآء َہُمْ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْہُمْ لَیَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ}پس تم اے عبداللہ ! یہ معرفت کیسے رکھتے ہو؟ توحضرت سیدناعبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے عمررضی اللہ عنہ ! میں نے جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو دیکھاتومیں اس طرح پہچان گیاجس طرح میں اپنے بیٹے کو پہچانتاہوں۔جب میں اسے دوسرے بچوں کے ساتھ دیکھتاہوں اورمجھے اپنے بیٹے کی بانسبت حضور تاجدارختم نبوت ْﷺکی معرفت زیادہ ہے ۔حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ کیسے ؟ توحضرت سیدناعبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کیاکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺاللہ تعالی کی طرف سے حق ہیں اوراللہ تعالی نے ہماری کتاب مین ان کی صفات بیان فرمائیں اورمجھے معلوم نہیں کہ عورتیں کیاکرتی ہیں ۔ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ اے عبداللہ بن سلام !اللہ تعالی نے تجھے توفیق بخشی ۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۱:۱۴۶)

حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کاابن سلام رضی اللہ عنہ کاسرچومنا

عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ سَلَامٍ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی بِابْنِی، قَالَ:وَلِمَ؟ قَالَ: لِأَنِّی لَسْتُ أَشُکُّ فِی مُحَمَّدٍ أَنَّہُ نَبِیٌّ وَأَمَّا وَلَدِی فَلَعَلَّ وَالِدَتَہُ خَانَتْ. فَقَبَّلَ عُمَرُ رَأَسَہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدناعبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے متعلق سوال کیاتوحضرت سیدناعبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کیاکہ میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو اپنے بیٹے سے بھی زیادہ جانتاہوں کیونکہ مجھے اپنے بیٹے کے متعلق توشک ہوسکتاہے مگرحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے متعلق قطعاً شک نہیں ہوسکتاکیونکہ ہوسکتاہے کہ میرے بیٹے کی والدہ نے اس بارے میں کوئی خیانت کی ہو، حضرت سیدناعبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی اس بات پر حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ بڑی گر م جوشی سے کھڑے ہوئے اوران کے سرکوچوم لیا۔ (التفسیر الکبیر: أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۴:۱۱۰) اس قصہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیرِ محلِ شہوت میں دینی محبت سے پیشانی چومنا جائز ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی صرف پہچان ایمان نہیں بلکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو ماننا ایمان ہے۔جیسے یہودی پہچانتے توتھے لیکن مانتے نہ تھے اس لئے کافر ہی رہے۔

تمام اہل کتاب حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو پہچانتے تھے

عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مُوسَی عَنْ أَبِیہِ قَالَ خَرَجَ أَبُو طَالِبٍ إِلَی الشَّامِ وَخَرَجَ مَعَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی أَشْیَاخٍ مِنْ قُرَیْشٍ فَلَمَّا أَشْرَفُوا عَلَی الرَّاہِبِ ہَبَطُوا فَحَلُّوا رِحَالَہُمْ فَخَرَجَ إِلَیْہِمْ الرَّاہِبُ وَکَانُوا قَبْلَ ذَلِکَ یَمُرُّونَ بِہِ فَلَا یَخْرُجُ إِلَیْہِمْ وَلَا یَلْتَفِتُ قَالَ فَہُمْ یَحُلُّونَ رِحَالَہُمْ فَجَعَلَ یَتَخَلَّلُہُمْ الرَّاہِبُ حَتَّی جَاء َ فَأَخَذَ بِیَدِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ ہَذَا سَیِّدُ الْعَالَمِینَ ہَذَا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِینَ یَبْعَثُہُ اللَّہُ رَحْمَۃً لِلْعَالَمِینَ فَقَالَ لَہُ أَشْیَاخٌ مِنْ قُرَیْشٍ مَا عِلْمُکَ فَقَالَ إِنَّکُمْ حِینَ أَشْرَفْتُمْ مِنْ الْعَقَبَۃِ لَمْ یَبْقَ شَجَرٌ وَلَا حَجَرٌ إِلَّا خَرَّ سَاجِدًا وَلَا یَسْجُدَانِ إِلَّا لِنَبِیٍّ وَإِنِّی أَعْرِفُہُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّۃِ أَسْفَلَ مِنْ غُضْرُوفِ کَتِفِہِ مِثْلَ التُّفَّاحَۃِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَنَعَ لَہُمْ طَعَامًا فَلَمَّا أَتَاہُمْ بِہِ وَکَانَ ہُوَ فِی رِعْیَۃِ الْإِبِلِ قَالَ أَرْسِلُوا إِلَیْہِ فَأَقْبَلَ وَعَلَیْہِ غَمَامَۃٌ تُظِلُّہُ فَلَمَّا دَنَا مِنْ الْقَوْمِ وَجَدَہُمْ قَدْ سَبَقُوہُ إِلَی فَیْء ِ الشَّجَرَۃِ فَلَمَّا جَلَسَ مَالَ فَیْء ُ الشَّجَرَۃِ عَلَیْہِ فَقَالَ انْظُرُوا إِلَی فَیْء ِ الشَّجَرَۃِ مَالَ عَلَیْہِ قَالَ فَبَیْنَمَا ہُوَ قَائِمٌ عَلَیْہِمْ وَہُوَ یُنَاشِدُہُمْ أَنْ لَا یَذْہَبُوا بِہِ إِلَی الرُّومِ فَإِنَّ الرُّومَ إِذَا رَأَوْہُ عَرَفُوہُ بِالصِّفَۃِ فَیَقْتُلُونَہُ فَالْتَفَتَ فَإِذَا بِسَبْعَۃٍ قَدْ أَقْبَلُوا مِنْ الرُّومِ فَاسْتَقْبَلَہُمْ فَقَالَ مَا جَاء َ بِکُمْ قَالُوا جِئْنَا إِنَّ ہَذَا النَّبِیَّ خَارِجٌ فِی ہَذَا الشَّہْرِ فَلَمْ یَبْقَ طَرِیقٌ إِلَّا بُعِثَ إِلَیْہِ بِأُنَاسٍ وَإِنَّا قَدْ أُخْبِرْنَا خَبَرَہُ بُعِثْنَا إِلَی طَرِیقِکَ ہَذَا فَقَالَ ہَلْ خَلْفَکُمْ أَحَدٌ ہُوَ خَیْرٌ مِنْکُمْ قَالُوا إِنَّمَا أُخْبِرْنَا خَبَرَہُ بِطَرِیقِکَ ہَذَا قَالَ أَفَرَأَیْتُمْ أَمْرًا أَرَادَ اللَّہُ أَنْ یَقْضِیَہُ ہَلْ یَسْتَطِیعُ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ رَدَّہُ قَالُوا لَا قَالَ فَبَایَعُوہُ وَأَقَامُوا مَعَہُ قَالَ أَنْشُدُکُمْ بِاللَّہِ أَیُّکُمْ وَلِیُّہُ قَالُوا أَبُو طَالِبٍ فَلَمْ یَزَلْ یُنَاشِدُہُ حَتَّی رَدَّہُ أَبُو طَالِبٍ وَبَعَثَ مَعَہُ أَبُو بَکْرٍ بِلَالًا وَزَوَّدَہُ الرَّاہِبُ مِنْ الْکَعْکِ وَالزَّیْتِ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوطالب شام کی طرف (تجارت کی غرض سے)نکلے ،حضورتاجدارختم نبوت ﷺبھی قریش کے بوڑھوں میں ان کے ساتھ نکلے،جب یہ لوگ بحیرہ راہب کے پاس پہنچے تو وہیں پڑاو ڈال دیا اور اپنی سواریوں کے کجاوے کھول دیئے ،تو راہب اپنے گرجا گھر سے نکل کر ان کے پاس آیا حلانکہ اس سے پہلے یہ لوگ اس کے پاس سے گزرتے تھے، لیکن وہ کبھی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتاتھا، اور نہ ان کے پاس آتاتھا، کہتے ہیں کہ یہ لوگ اپنی سواریاں ابھی کھول ہی رہے تھے کہ راہب نے ان کے بیچ سے گھستے ہوئے آکرحضورتاجدارختم نبوت ﷺکا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا :یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے رب کے رسول ﷺہیں، اللہ انہیں سارے جہان کے لیے رحمت بناکر بھیجے گا، تواس سے قریش کے بوڑھوں نے پوچھا:تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ تو اس نے کہا:جب تم لوگ اس ٹیلے سے اترے تو کوئی درخت اور پتھر ایسا نہیں رہا جوسجدہ میں نہ گر پڑا ہو، اور یہ دونوں صرف نبی ہی کو سجدہ کیا کرتے ہیں، اور میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتاہوں جو شانہ کی ہڈی کے سرے کے نیچے سیب کے مانند ہے، پھر وہ واپس گیا اور ان کے لیے کھانا تیار کیا ،جب وہ کھانا لے کر ان کے پاس آیا تو آپﷺاونٹ چرانے گئے تھے تو اس نے کہا:کسی کو بھیج دوکہ ان کو بلا کر لائے، چنانچہ آپ ﷺآئے اور ایک بدلی آپ ﷺپر سایہ کئے ہوئے تھی، جب آپ لوگوں کے قریب ہوئے تو انہیں درخت کے سایہ میں پہلے ہی سے بیٹھے پایا، پھر جب آپﷺ بیٹھ گئے تو درخت کا سایہ آپﷺ پر جھک گیا اس پر راہب بول اٹھا:دیکھو!درخت کا سایہ آپﷺ پرجھک گیا ہے، پھر راہب ان کے سامنے کھڑا رہا اور ان سے قسم دے کر کہہ رہاتھا کہ انہیں روم نہ لے جائو اس لیے کہ روم کے لوگ دیکھتے ہی انہیں ان کے اوصاف سے پہچان لیں گے اور انہیں قتل کرڈالیں گے، پھر وہ مڑا تو دیکھا کہ سات آدمی ہیں جو روم سے آئے ہوئے ہیں تو اس نے بڑھ کر ان سب کا استقبال کیا اور پوچھا آپ لوگ کیوں آئے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا: ہم اس نبیﷺ کے لیے آئے ہیں جو اس مہینہ میں آنے والا ہے، اور کوئی راستہ ایسا باقی نہیں بچاہے جس کی طرف کچھ نہ کچھ لوگ نہ بھیجے گئے ہوں، اور جب ہمیں تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم تمہاری طرف اس راہ پر بھیجے گئے ،تو اس نے پوچھا:کیا تمہارے پیچھے کوئی اورہے جو تم سے بہتر ہو؟ ان لوگوں نے کہا:ہمیں تو تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم اس پر ہولیے اس نے کہا:اچھا یہ بتائو کہ اللہ جس امر کا فیصلہ فرمالے کیا لوگوں میں سے اسے کوئی ٹال سکتاہے؟ ان لوگوں نے کہا:نہیں ، اس نے کہا:پھر تم اس سے بیعت کرو، اور اس کے ساتھ رہو، پھر وہ عربوں کی طرف متوجہ ہوکر بولا:میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تم میں سے اس کا ولی کون ہے؟ لوگوں نے کہا:ابوطالب ، تو وہ انہیں برابر قسم دلاتا رہا یہاں تک کہ ابوطالب نے انہیں واپس مکہ لوٹادیا اورحضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺکے ساتھ بلال کو بھی بھیج دیا اور راہب نے آپ ﷺکوکعک اور زیتون کا توشہ دیا۔ (سنن الترمذیف:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۵:۵۹۰)

آیت کریمہ کے متعلق چندسوالات کے جوابات

الَّذِینَ آتَیْناہُمُ الْکِتابَ إیتاء فہم ودراسۃ وہم الأحبار یَعْرِفُونَہُ ای الرسول صلّی اللہ علیہ وسلم کَما یَعْرِفُونَ أَبْناء َہُمْ ای یعرفونہ صلّی اللہ علیہ وسلم باوصافہ الشریفۃ المکتوبۃ فی کتابہم لا یشتبہ علیہم کما لا یشتبہ أبناؤہم وتخصیصہم بالذکر دون ما یعم البنات لکون الذکور أشہر واعرف عندہم منہن وہم بصحبۃ الآباء ألزم وبقلوبہم ألصق فان قیل لم لم یقل کما یعرفون أنفسہم مع ان معرفۃ الشخص نفسہ اقرب الیہ من معرفۃ سائر الأشیاء فالجواب ما قال الراغب لان الإنسان لا یعرف نفسہ الا بعد انقضاء برہۃ من دہرہ ویعرف ولدہ من حین وجودہ وَإِنَّ فَرِیقاً مِنْہُمْ ہم الذین کابروا وعاندوا الحق لَیَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَہُمْ یَعْلَمُونَ ان محمدا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم وان الکعبۃ قبلۃ اللہ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ سے وہ علماء مراد ہیں جن کو اللہ تعالی نے فہم وزکاعطافرمایاہے وہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکوایسے پہچا نتے تھے جیسے وہ اپنے بچوں کو پہچانتے تھے ، اس لئے وہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکوان اوصاف کریمہ کے ذیعہ جوان کی کتابوں میں لکھے ہوئے تھے پہچانتے تھے، اسی لئے انہیں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی رسالت پر کسی قسم کاکوئی اشتباہ نہیں تھاجیسے انہیں اپنے بچوں کے متعلق کسی قسم کاشک وشبہ نہیں تھا۔یہاں یہ سوال قابل غورہے کہ یہاں بچوں کاذکرکیاگیاجب کہ اولاد میں بچیاں بھی توہوتی ہیں ؟ تواس کاجواب یہ ہے کہ بچے بانسبت بچیوں کے زیادہ معروف ہوتے ہیں ، اس کے علاوہ بچے اپنے اباء کے ساتھ اکثرساتھ رہنے کی وجہ سے ان کے قلوب کے زیادہ قریب ہوتے ہیں ۔ اوریہاں یہ سوال بھی ہے کہ کمایعرفون کی بجائے کمایعرفون انفسہم کیوں نہ فرمایا؟ تواس کاجواب یہ ہے کہ انسان کواپنے نفس کی معرفت بہت زیادہ ہوتی ہے بانسبت دیگراشیاء کے ؟ امام الراغب اصفہانی رحمہ اللہ تعالی اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ انسان اپنے آپ کو بڑی مدت کے بعد پہچانتاہے بخلاف اپنی اولاد کے کہ انہیں پیداہوتے ہی پہچان لیتاہے ۔ اوربے شک ایک گروہ اس سے ان کے اکابرمراد ہیں ، حق سے ان کو دشمنی تھی اوراسی وجہ سے وہ حق چھپاتے ہیں ، حالانکہ انہیں علم تھاکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺاللہ تعالی کے رسول اورکعبہ مشرفہ اللہ تعالی کاقبلہ ہے۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (ا:۲۵۱)

حکم الہی پر اعتراض نے انہیں کفرکے گڑھے میں ڈال دیا

قال القشیری حملہم مستکنات الحسد وسوء الاختیار علی مکابرۃ ما علموا بالاضطرار وکذلک المغمور فی ظلمات نفسہ یلقی جلباب الحیاء فلا ینجع فیہ ملام ولا یردہ عن انہماکہ کلام قال حضرۃ الشیخ الشہیر بافتادہ افندی عندنا ثلاث مراتب. إحداہا مرتبۃ التقلیدوہی لعامۃ الناس. والثانیۃ مرتبۃ التحقیق والإیقان وہی للمجتہدین کالائمۃ الاربعۃ ومن یحذو حذوہم. والثالثۃ مرتبۃ المشاہدۃ والعیان فہی للکمل من اہل السلوک قال وإذا لم تتطہر النفس من الأخلاق الردیئۃ لا تحصل المعارف الإلہیۃ وان کان کاملا فی العقل والعلوم ألا یری ان الشیطان مع عقلہ وعلمہ کیف استکبر وعصی امر اللہ تعالی لما فی نفسہ من الکبر والحسد وکذلک حال اہل الکتاب فی امر القبلۃ وشأن النبی صلّی اللہ علیہ وسلم حیث لم ینفع العلم والمعرفۃ لخبث باطنہم فلا بد من تزکیۃ النفوس وتصفیۃ القلوب والاستقامۃ فی باب الحق الی ان یأتی الیقین۔ ترجمہ :امام ابوالقاسم القشیری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ پوشیدہ حسداورسوء اختیارنے انہیں حضور تاجدارختم نبوت ﷺکے خلاف مکابرہ پر ابھارا، جب کہ انہیں معلوم ہواکہ ہماری شان وشوکت چھینی جائے گی ، اسی طرح ہر وہ شخص جو نفس کے ظلمات میں غوطہ زن ہوجبکہ وہ چہرے سے حیاء کی چادرہٹادیتاہے تواس پر کسی قسم کی علامت اثرنہیں کرتی اورنہ اسے انہی خرابیوں سے کوئی بات دورکرسکتی ہے ۔ حضرت سیدناشیخ الشہیر بافتادہ افندی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک انسان کے تین مراتب ہیں : مرتبہ تقلید : یہ عوام کامرتبہ ہے ۔ مرتبہ التحقیق والایقان : یہ مجتہدین کو حاصل ہوتاہے جیسے ائمہ اربعہ اوروہ حضرات جو ان کے ہم پلہ ہوں ۔ مرتبۃ المشاہدۃ والعیان : یہ کاملین کامرتبہ ہے جواہل السلوک ہیں ، انہوں نے فرمایاجس کانفس گندی عادات سے پاک نہیں ہوسکتااسے اللہ تعالی کی معرفت نصیب نہیں ہوسکتی ، اگرچہ وہ علم وعقل کے مراتب میں کتناباکمال کیوں نہ ہو۔ دیکھیئے کہ شیطان نے باوجود عقیل اورصاحب علم ہونے کے تکبرکیااوراللہ تعالی کی نافرمانی کی اوراس کے دل میں یہی تکبروحسدہی توتھا جس کی وجہ سے وہ ماراگیا، یہی حال تھاکہ اہل کتاب قبلہ اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے بارے میں حسد وتکبرکی وجہ سے مارے گئے اوران کے باطنی خبث کی وجہ سے ان کے علم ومعرفت نے ان کو کوئی نفع نہیں دیااوران کی اندرونی خباثت نے ان کو ذلیل وخوارکردیا۔ اس لئے ضروری ہے کہ انسان تزکیہ نفس اورقلب کی صفائی اوراستقامت فی باب الحق میں کوشش کرتارہے یہاں تک کہ اسے یقین نصیب ہوجائے۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (ا:۲۵۱) مولاناروم رحمہ اللہ تعالی کامعترضین کو جواب عاشقی دید از دل پرتاب حضرت حق تعالی اندر خواب دامنش را کرفت آن غمخور .. کہ ندارم من از تو دست دکر چون بر آمد ز خواب خوش درویش دید محکم کرفتہ دامن خویش فطوبی لمن دار مع الأمر الإلہی وسلم من الاعتراض وتخلص من الانقباض وفنی عن اضافۃ ترجمہ :مبارک ہے اسے جواللہ تعالی کے حکم شریف کاپابندہے اوراسے اس کے کسی حکم شریف پر کسی قسم کاکوئی اعتراض نہیں ، اس سے اسے انقباض سے ایساچھٹکاراملے گاکہ اپنی ہستی کو بھی بھلادے گااورباقی باللہ ہوکرکمالات سے فائزالمرام ہوگا۔ اے اللہ !ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے بناتاکہ ہمیں بھی یہی مرتبہ اوردرجہ عالیہ نصیب ہواورہمیں ان راہوں پر چلاجودنیاوآخرت کے خیالات دل سے بھلادینے والے ہوں ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (ا:۲۵۱)

تم حکم کے غلام بن کررہو

یعنی بادروا بامتثال کلما أمرکم اللہ وان کان قدم أمرکم فی بعض الأحیان بالاستقبال الی بیت المقدس وفی بعضہا الی الکعبۃ فانہ تعالی یحکم ما یشاء ۔ ترجمہ:حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ تم اللہ تعالی کاحکم پوراکرنے کے لئے پیش قدمی کروجس وقت اللہ تعالی بیت المقدس کے استقبال کاحکم فرمائے اس طرف توجہ کرواورجس وقت کعبہ مشرفہ کی طرف منہ کرنے کاحکم دے تو کعبہ کی طرف جھک جائوکیونکہ اللہ تعالی جوچاہے حکم کرے ، تمہیں اللہ تعالی کے احکامات میں جھگڑاکرناکسی طرح مناسب نہیں ہے۔ (التفسیر المظہری: المظہری، محمد ثناء اللہ(۱:۱۴۶)

قبول حکم میں جلدی کرو

(فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ)أَیْ إِلَی الْخَیِّرَاتِ، یُرِیدُ: بَادَرُوا بِالطَّاعَاتِ، وَالْمُرَادُ الْمُبَادَرَۃُ إِلَی الْقَبُولِ ۔ ترجمہ :امام محی السنۃ ابومحمدالحسین بن مسعود البغوی المتوفی : ۵۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے اس فرمان شریف کامطلب ہے کہ میرا حکم ماننے کی طرف جلدی کرو ، اس جلدی کرنے سے مراد قبول احکام کی طرف جلدی کرو۔ (تفسیر البغوی: محیی السنۃ، أبو محمد الحسین بن مسعود البغوی (ا:۱۶۴) یہاں آیت ِ مبارکہ میں ایک بڑی ہی پیاری بات سمجھائی گئی ہے کہ مال و دولت، عہدہ و منصب ، شہرت و مقبولیت اور دنیاداری ایسی چیز نہیں کہ اس میں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا جائے بلکہ یہ سب تو آزمائش اور محض دنیاوی زندگی کی زینت، دھوکے کا سامان اور فنا ہونے والی کمائی ہے، جبکہ باقی رہنے والی اور مقابلے کے قابل چیز تو اللہ تعالیٰ کی عبادت،اس کی اطاعت، جنت اور اس کی رضاہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے بار بار بلایا ہے۔صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی سیرت میں نیکیوں میں مقابلے اور سبقت لے جانے کے بکثرت نظارے دیکھے جا سکتے ہیں جیسے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ غزوہ تَبوک میں گھر کا آدھا مال خیرات کرنے کیلئے لائے تو حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ گھر کا سارا سامان لے آئے۔ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں باپ بیٹے میں جہاد میں شرکت کیلئے بحث ہوتی، ہر کوئی کہتا کہ میں شرکت کروں گا تم گھر پر رہو، حتی کہ معذور صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم بھی راہِ خدا میں شہادت کیلئے بے قرار رہتے۔

قبلہ کامسئلہ تعبدی ہے نہ کہ معقولی

ان اللہ تعالی یولی الأمم الی قبلتہم جعل لموسی علیہ السلام قبلۃ ولمحمد صلی اللہ علیہ وسلم قبلۃ ولکل نبی قبلۃ فامر القبلۃ امر تعبدی لا یدرک بالرأی ولا یجوز فیہ النزاع ولیس ذلک لاقتضاء مکان کونہ قبلۃ حتی یبحث عن ترجیح۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حاصل یہ ہے کہ عادت اللہ تعالی کی ہمیشہ سے اسی طرح ہے کہ ہر ایک امت کاایک قبلہ مقررفرماتاہے ، چنانچہ حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے لئے علیحدہ قبلہ بنایااورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکاعلیحدہ ، اسی طرح ہرہرنبی (علیہ السلام) کاقبلہ جداجدامقررفرمایا۔ غرضیکہ قبلہ کامسئلہ تعبدی یعنی عبادات سے ہے کہ جس میں رائے کو دخل نہیں ہے اورنہ کسی خصوصیت مکانی پر اس کامدارہے ، اسی لئے اس میں بحث وتمحیص جائز نہیں ہے ۔ (التفسیر المظہری: المظہری، محمد ثناء اللہ(۱:۱۴۶)

معارف ومسائل

(۱) اس سے معلوم ہواکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺسب کے نبی ہیں اورتمام جہات آپ ﷺکی نبوت شریفہ سے مشرف ہیں ، آپ ﷺامام القبلتین بھی ہیں ، اسی لئے کچھ عرصہ کے لئے آپ ﷺکو بیت المقدس کی طرف متوجہ ہونے کاحکم دیاگیا، اسی اثناء میں آپ ﷺہر وقت کعبہ کے قبلہ بننے کے لئے بے تاب اورخواہشمندرہے ، باربارحضور تاجدارختم نبوتﷺنزول وحی کی خاطرآسمان کی طرف اپناچہرہ مبارکہ کرتے اورنظرمبارک آسمان کی طرف کرتے تھے حالانکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی عام عادت آسمان کی طرف دیکھنے کی نہیں تھی ۔ آپ ﷺکی نگاہ مبارک ہمیشہ زمین کی طرف ہوتی تھی ، پس اللہ تعالی نے آپﷺ کی اس خواہش کو قبولیت سے نوازااورآپ ﷺکوحسب خواہش قیامت تک کے لئے استقبال کعبہ کاحکم دیا۔ (۲) تاریخ گواہ ہے کہ سینکڑوں سال بیت المقدس اہل اسلام کی تحویل میں رہی اورنمازوں میں کعبۃ اللہ کااستقبال ہوتارہا، پھرفرمایاکہ اہل کتاب کو یہ سب کچھ معلوم ہے اوریہ بات ان کی کتابوں میں درج ہے کہ اقوام عالم کاقبلہ کعبۃ اللہ ہے اورحضرت سیدناابراہیم علیہ السلام اوران کی ملت اسلام کے اصلی وارث حضورتاجدارختم نبوت ﷺکاقبلہ بھی کعبۃ اللہ ہی ہے ۔ مگران ہٹ دھرم یہودونصاری نے اپنے قلبی بغض وعناد کی وجہ سے جس طرح ہزاروں احکام شرع میں تحریف کی اورانہیں چھپالیااوروہاں انہوںنے قبلہ کے متعلق بھی احکامات چھپاکرتبدیل کرلئے ۔ اللہ تعالی ان کے اس عناد اوردشمنی جو ان کو حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے ہے کی قیامت کے دن پوری پوری جزااورسزادے گا۔اوراس کے علم محیط سے کوئی بھی ذرہ پوشیدہ نہیں رہے گا۔ (۳)اس آیت میں بیت المقدس کے بعد خانہ کعبہ کو قبلہ بنائے جانے پر اعتراض کرنے والوں کو بیوقوف کہا گیا،اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دینی مسائل کی حکمتیں نہ سمجھ سکے اور ان پر بے جا اعتراض کرے وہ احمق اور بیوقوف ہے اگرچہ دنیوی کاموں میں وہ کتنا ہی چالاک ہو۔ آج کل بھی ایسے بیوقوفوں کی کمی نہیں ہے چنانچہ موجود دور میں بھی مسلمان کہلا کر شراب، سود، پردے، حیا ، اسلامی نظامِ وراثت اور حدود ِ اسلام پر اعتراضات کرنے والے لوگ موجود ہیں اور ایسے افراد قرآن مجید کے حکم کے مطابق بیوقوف ہیں۔ (۴)یاد رہے کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لے کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک کعبہ ہی قبلہ رہا، پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لے کر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک بیت المقدس قبلہ رہا اور مسلمان بھی مدینہ منورہ میں آنے کے بعد تقریبا سولہ ، سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور اس کے بعد نماز ظہر کی ادائیگی کے دوران مسجد ِقِبْلَتَین میں قبلہ کی تبدیلی کا واقعہ ہوا۔ نیزیہ بھی یاد رہے کہ حج ہمیشہ کعبہ ہی کا ہوا ہے، بیت المقدس کا حج کبھی نہیں ہوا ۔ (۵)قبلہ پر اعتراض کرنے والے تمام لوگوں کو ایک ہی جواب دیا کہ انہیں کہہ دو :مشرق و مغرب سب اللہ تعالیٰ کاہے، اسے اختیار ہے جسے چاہے قبلہ بنائے،کسی کو اعتراض کا کیا حق ہے؟ بندے کا کام فرمانبرداری کرناہے ۔ گویا فرمایا کہ اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ فرما دو :ہم مشرق و مغرب کے پجاری نہیں کہ سمتوں پر اڑے رہیں بلکہ ہم تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرنے والے ہیں ، وہ جدھر منہ کرنے کا ہمیں حکم فرمائے ہم ادھر ہی منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور پڑھتے رہیں گے۔ (۶)اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم معلوم ہونے کے بعد قبول کرنے سے دل میں تنگی محسوس کرنا منافقت کی علامت ہے۔ہمارے معاشرے میں بھی لوگوں کی ایک تعداد ایسی ہے جن میں یہ مرض بڑی شدت اختیار کئے ہوئے ہے اور اسی مرض کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنا ان کے لئے بہت دشوار ہو چکا ہے حالانکہ کامل مسلمان کی شان تو یہ ہے کہ جب اسے اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم معلوم ہو جائے تو وہ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے اوراپنے نفس سے اٹھنے والی وہ آواز وہیں دبا دے جو اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کے معاملے میں اسے روک رہی ہو یا ا س کے دل میں تنگی پیدا کر رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے ۔ (۷)ایک عالم دین کے پاس ایک لبرل ذہن کاشخص آیااورکہنے لگاکہ میں آپ سے کچھ سوالات کرنے آیاہوں ، اس عالم دین نے فرمایاکہ پوچھوکیاپوچھناہے ؟ تو اس نے کہاکہ میں یہ پوچھناچاہتاہوں کہ اسلام عورت کو پردے میں کیوں قید کرتا ہے؟ یا اسلام عورت کو مرد جتنا وراثت کا حقدار کیوں نہیں مانتا؟ اس عالم دین نے دلچسپی سے کہا کہ ضرور لیکن پہلے آپ میرے ایک سوال کا جواب دیجیئے۔ اس شخص نے پوچھا کیا؟اس عالم دین نے کہا کہ گائے، گھوڑا اور بکری ایک ساتھ چارہ یعنی گھاس کھاتے ہیں، لیکن گائے گوبر کرتی ہے، گھوڑا لید کرتا ہے اور بکری مینگنی کرتی ہے، اسکی وجہ کیا ہے؟ وہ شخص اس سوال سے چکرا گیا اور کھسیا کر بولا کہ مجھے اسکا پتہ نہیں۔ اس پروہ عالم دین بولے کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ، آپ خدا کے بنائے ہوئے قوانین ،پردہ ،وراثت اور حلال و حرام پر بات کے اہل ہیں۔جبکہ خبر آپ کو جانوروں کی غلاظت کی بھی نہیں ؟لوگ بنا علم کے علم اور علمی شخصیات پربحث کرتے نظرآتے ہیں۔ (۸)قبلہ کی تبدیلی سے پہلے مسلمانوں نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے جتنی نمازیں پڑھی تھیں انہیں صحیح قرار دیا گیا، کیونکہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے جو نمازیں پڑھی گئیں وہ بھی اتباعِ حضورتاجدارختم نبوت ْﷺمیں ہی تھیں اور اب جوخانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے پڑھتے ہیں یہ بھی اطاعت ِ رسولﷺ میں پڑھتے ہیں لہٰذا ان سب کی نمازیں درست ہیں۔ حضورتاجدارختم نبوت ْﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں اور کوئی اس وقت خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے وہ بھی مردود ہے اور حضورتاجدارختم نبوت ْﷺخانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں اور کوئی اس وقت بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھے وہ بھی مردود ہے کہ اصلُ الاصول چیز تو حضورتاجدارختم نبوت ْﷺکی اتباع ہے۔ (۹)ارشاد فرمایا کہ اے حبیب!ﷺ،جن اہل کتاب کے دلوں میں عناد اور سرکشی ہے ،آپﷺ ان کے پاس قبلہ کی تبدیلی کے معاملے میں اپنی سچائی پر دلالت کرنے والی ہر نشانی لے آئیں تو بھی وہ آپ ﷺکے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے کیونکہ ان کا آپﷺ کی پیروی نہ کرنا کسی شبہے کی وجہ سے نہیں جسے دلیل بیان کر کے زائل کیا جا سکے بلکہ وہ آپﷺ سے عناد رکھنے اور حسد کرنے کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں حالانکہ وہ اپنی کتابوں میں موجود آپ ﷺکی یہ شان جانتے ہیں کہ (قبلہ کی تبدیلی کے معاملے میں )آپﷺحق پر ہیں۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh