Fatwa #2170
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۵۰۔۱۵۱۔۱۵۲۔ حکم شرع پر عمل کرنے میں کسی کاخوف نہیں رکھناسوائے اللہ تعالی کے
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,115
سوال (Question):
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۵۰۔۱۵۱۔۱۵۲۔ حکم شرع پر عمل کرنے میں کسی کاخوف نہیں رکھناسوائے اللہ تعالی کے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حکم شرع پر عمل کرنے میں کسی کاخوف نہیں رکھناسوائے اللہ تعالی کے
وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ فَلَا تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِیْ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ}(۱۵۰){کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ}(۱۵۱){فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِیْ وَلَا تَکْفُرُوْنِ}(۱۵۲) ترجمہ کنزالایمان:اور اے محبوب تم جہاں سے آؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو !تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے مگر جو ان میں ناانصافی کریں توان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ۔جیسے کہ ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا۔تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو ۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اے حبیب کریم ﷺ! آپ جہاں سے بھی آئواپناچہرہ مبارکہ مسجد حرام شریف کی طرف کرواوراے مسلمانو!تم بھی جہاں کہیں ہواپنامنہ مسجدحرام شریف کی طرف کروتاکہ لوگوں کے پاس کوئی حجت نہ رہے ، مگر جو اُن میں سے ناانصافی کریں تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو تاکہ میں اپنی نعمت تم پر مکمل کردوں تاکہ تم ہدایت پاؤ۔جیساکہ ہم نے تمہارے درمیان تم میں سے ایک رسول بھیجاجو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا اور تمہیں کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جو تمہیں معلوم نہیں تھا۔تو تم مجھے یاد کرو ،میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکرادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔ اس آیت میں مجموعی طور پر لوگوں سے فرما دیا گیا کہ تم حالت ِ سفر میں ہو یا حالت ِ اقامت میں ، جنگل و بیابان میں ہو یا شہر میں ، ہر جگہ ہر حالت میں اور ہر وقت تم سب نے نماز میں خانہ کعبہ ہی کی طرف منہ کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو اس اعتراض کا حق نہ رہے کہ ان کی کتابوں میں تو قبلہ کی تبدیلی کالکھا ہوا تھا لیکن اِس نبی نے تو ایسا کیا ہی نہیں ،یا وہ یہ اعتراض نہ کرسکیں کہ یہ نبی ہمارے دین کی تو مخالفت کرتے ہیں لیکن قبلہ ہمارے والا ہی مانتے ہیں اور مشرکین کو یہ اعتراض کرنے کا موقع نہ ملے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے قریش کی مخالفت میں حضرت ابراہیم اور حضرت ا سمٰعیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قبلہ بھی چھوڑ دیا حالانکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺان کی اولاد میں سے ہیں اور ان کی عظمت و بزرگی مانتے بھی ہیں۔حکم شرع پر عمل کرنے میں کسی کے طعنہ کی پرواہ نہ کرو
فَلا تَخْشَوْہُمْ فلا تخافوہم فی توجہکم الی الکعبۃ ومظاہرہم علیکم لسببہ فان مطاعنہم لا تضرکم شیأ وَاخْشَوْنِی بامتثال امری فلا تخالفوا امری وما رأیتہ مصلحۃ لکم فانی ناصرکم۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ کامعنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پس ان سے نہ ڈرواپنی توجہ کو کعبہ مشرفہ کی طرف سے ہٹانے میں تم پر غالب نہیں ہوسکتے ، اس لئے ان کی طعن وتشنیع تمھیں کسی قسم کانقصان نہیں دے سکتی ۔ اورتم مجھ سے ہی ڈرومیرے احکامات کی فرمانبرداری کرکے اورمیرے حکم کی خلاف ورزی نہ کرو، جس میں تمھاری بہتری ہوگی میں اسی کاتمھیں حکم دے کرتمھاری مددکروں گا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (ا:۲۵۵) واخشونی کامعنی وَمَعْنَی الْآیَۃِ التَّحْقِیرُ لِکُلِّ مَنْ سِوَی اللَّہِ تَعَالَی، وَالْأَمْرُ بِاطِّرَاحِ أَمْرِہِمْ وَمُرَاعَاۃِ أَمْرِ اللَّہِ تَعَالَی. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی: ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی اس آیت مبارکہ کامعنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کامعنی یہ ہے کہ اللہ تعالی کے سواکی تحقیرکرنا، اللہ تعالی کے سواہر ایک کے حکم کو ترک کردیناہے اوراللہ تعالی کے حکم کی رعایت کرناہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۱۷۴)توجہ الی القبلہ کومکررلانے کافائدہ
کرر ہذا الحکم وہو التحویل وتولیۃ الوجہ شطر المسجد لما ان القبلۃ لہا شأن خطیر والنسخ من مظان الشبہۃ والفتنۃ وتسویل الشیطان فبالحری ان یؤکد أمرہا مرۃ غب اخری مع انہ قد ذکر فی کل مرۃ حکمۃ مستقلۃ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ چونکہ قبلہ کے مسئلہ کو اہمیت حاصل ہے اوراس کے منسوب ہونے سے شبہات ،فتنوں اورشیطانی عملوں کاخطرہ تھااسی لئے حکمت ایزدی کاتقاضاہواکہ اسے باربارذکرکیاجائے تاکہ مذکورہ خرابیوں کاوہم دفع ہوجائے اورویسے بھی دونوں موقعوں میں عجیب وغریب فوائد بھی حاصل ہوئے جو ہرایک اپنے اپنے مقام پر مستقل حکمت کولئے ہوئے ہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (ا:۲۵۵)حکم خداوندی پر اعتراض کرنے والے گستاخ
إِلَّا الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْہُمْ استثناء من الناس ای لئلا یکون حجۃ لاخد من الیہود الا للمعاندین منہم القائلین ما ترک قبلتنا الی الکعبۃ الا میلا الی دین قومہ وحبا لبلدہ ولو کان علی الحق للزم قبلۃ الأنبیاء ولا لأحد من العرب من اہل مکۃ الا للمعاندین منہم الذین قالوا بدا لہ فرجع الی قبلۃ آبائہ ویوشک ان یرجع الی دینہم۔ ترجمہ :مگران میں وہ لوگ جو ظالم ہیں ، جملہ’’ الناس‘‘سے مستثنی ہے ، اب معنی یہ ہواکہ یہ حجت ان یہودیوں کے حق میں ہے کہ جو ان میں ضدی ہیں اورکہتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے بیت المقدس کو چھوڑکرکعبہ مشرفہ کو صرف اس لئے قبلہ بنایاکہ انہیں اپنی قوم کے (یعنی مشرکین) کے دین کی طرف جھکائوہوگیااوراپنے شہرکی محبت نے انہیں مجبورکیا، اگران میں حق پرستی کاخیال ہوتاتویہ انبیاء کرام علیہم السلام کے قبلہ کو کبھی بھی نہ چھوڑتے ۔ اسی طرح بعض اہل مکہ جو رسول اللہ ﷺکے دشمن اورگستاخ تھے نے بھی حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کومطعون ٹھہرایااورکہاکہ ان پر اب حق ظاہرہواہے کہ اپنے اباء کے قبلہ کی طرف واپس لوٹے ہیں ، اب امیدہے کہ عنقریب اپنے اباء کے دین کی طرف بھی لوٹ آئیں گے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (ا:۲۵۵)امام فخرالدین الرازی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
{کَمَا أَرْسَلْنَا فِیکُمْ رَسُولًا مِنْکُمْ یَتْلُو عَلَیْکُمْ آیَاتِنَا وَیُزَکِّیکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَا لَمْ تَکُونُوا تَعْلَمُونَ }أَمَّا قَوْلُہُ: کَما أَرْسَلْنا فَفِیہِ مَسَائِلُ:الْمَسْأَلَۃُ الْأُولَی: ہَذَا الْکَافُ إِمَّا أَنْ یَتَعَلَّقَ بِمَا قَبْلَہُ أَوْ بِمَا بَعْدَہُ، فَإِنْ قُلْنَا: إِنَّہُ مُتَعَلِّقٌ بِمَا قَبْلَہُ فَفِیہِ وُجُوہٌ.الْأَوَّلُ: أَنَّہُ راجع إلی قولہ:وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِی عَلَیْکُمْ (البقرۃ:۱۵۰) أی ولأتم نعمتی علیکم فی الدنیا بحصول الشرف، وفی الآخرۃ بالفوز بالثواب، کما أتممتہا عَلَیْکُمْ فِی الدُّنْیَا بِإِرْسَالِ الرَّسُولِ. الثَّانِی: أَنَّ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَالَ:رَبَّنا وَابْعَثْ فِیہِمْ رَسُولًا مِنْہُمْ یَتْلُوا عَلَیْہِمْ آیاتِکَ … وَیُزَکِّیہِمْ (الْبَقَرَۃِ: ۱۲۹) وَقَالَ أَیْضًا: وَمِنْ ذُرِّیَّتِنا أُمَّۃً مُسْلِمَۃً لَکَ وَأَرِنا مَناسِکَنا (الْبَقَرَۃِ: ۱۲۸) فَکَأَنَّہُ تَعَالَی قَالَ: وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِی عَلَیْکُمْ بِبَیَانِ الشَّرَائِعِ، وَأَہْدِیکُمْ إِلَی الدِّینِ إِجَابَۃً لِدَعْوَۃِ إِبْرَاہِیمَ، کَمَا أَرْسَلْنَا فیکم رسولًا إجابۃ لدعوۃ عَنِ ابْنِ جَرِیرٍ. الثَّالِثُ: قَوْلُ أَبِی مُسْلِمٍ الْأَصْفَہَانِیِّ، وَہُوَ أَنَّ التَّقْدِیرَ: وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطًا کَمَا أَرْسَلْنَا فِیکُمْ رَسُولًا، أَیْ کَمَا أَرْسَلْنَا فِیکُمْ رَسُولًا مِنْ شَأْنِہِ وَصِفَتِہِ کَذَا وَکَذَا، فَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطًا، وَأَمَّا إِنْ قُلْنَا: إِنَّہُ مُتَعَلِّقٌ بِمَا بَعْدَہُ، فَالتَّقْدِیرُ: کَمَا أَرْسَلْنَا فِیکُمْ رَسُولًا مِنْکُمْ یُعَلِّمُکُمُ الدِّینَ وَالشَّرْعَ، فَاذْکُرُونِی أَذْکُرْکُمْ وَہُوَ اخْتِیَارُ الْأَصَمِّ وَتَقْرِیرُہُ إِنَّکُمْ کُنْتُمْ عَلَی صُورَۃٍ لَا تَتْلُونَ کِتَابًا، وَلَا تَعْلَمُونَ رَسُولًا، وَمُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْکُمْ لَیْسَ بِصَاحِبِ کِتَابٍ، ثُمَّ أَتَاکُمْ بِأَعْجَبِ الْآیَاتِ یَتْلُوہُ عَلَیْکُمْ بِلِسَانِکُمْ وَفِیہِ مَا فِی کُتُبِ الْأَنْبِیَاء ِ، وَفِیہِ الْخَبَرُ عَنْ أَحْوَالِہِمْ، وَفِیہِ التَّنْبِیہُ عَلَی دَلَائِلِ التَّوْحِیدِ وَالْمَعَادِ وَفِیہِ التَّنْبِیہُ عَلَی الْأَخْلَاقِ الشَّرِیفَۃِ، وَالنَّہْیُ عَنْ أَخْلَاقِ السُّفَہَاء ِ، وَفِی ذَلِکَ أَعْظَمُ الْبُرْہَانِ عَلَی صِدْقِہِ فَقَالَ: کَمَا أَوْلَیْتُکُمْ ہَذِہِ النِّعْمَۃَ وَجَعَلْتُہَا لَکُمْ دَلِیلًا، فَاذْکُرُونِی بِالشُّکْرِ عَلَیْہَا، أَذْکُرْکُمْ بِرَحْمَتِی وَثَوَابِی، والذی یُؤَکِّدُہُ قَوْلُہُ تَعَالَی: لَقَدْ مَنَّ اللَّہُ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ إِذْ بَعَثَ فِیہِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِہِمْ (آلِ عِمْرَانَ:۱۶۴) فَلَمَّا ذَکَّرَہُمْ ہَذِہِ النِّعْمَۃَ وَالْمِنَّۃَ، أَمَرَہُمْ فِی مُقَابَلَتِہَا بِالذِّکْرِ وَالشُّکْرِ۔ ترجمہ:اس کاف کاتعلق اپنے ماقبل سے ہے یامابعد سے ، اگرکہیں یہ ماقبل سے متعلق ہے تواس میں چندوجوہات ہیں ۔ وجہ اول: اس کااس ارشادسے تعلق ہے {وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِی عَلَیْکُمْ }تاکہ تم پر اپنی نعمت کو مکمل کردوں ۔ یعنی میں تمام کروں اپنی نعمتیں تم پر ، یہ دنیامیں حصول شرف اورآخرت میں ثواب سے کامیابی ہے ۔ جیساکہ میں نے تم پر دنیامیں تاجدارختم نبوت ﷺکو بھیج کرکیاہے ۔ وجہ ثانی : حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کی دعاہے ۔ {رَبَّنا وَابْعَثْ فِیہِمْ رَسُولًا مِنْہُمْ یَتْلُوا عَلَیْہِمْ آیاتِکَ … وَیُزَکِّیہِم} اے ہمارے رب ! بھیج ان میں ان کی طرف ایک رسول (ﷺ) جو تیری آیتیں ان پر تلاوت کرے اوران کو پاک کرے ۔ اورہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردارہواورہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتا، گویاکہ اللہ تعالی نے فرمایاتاکہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قبولیت دعاکی بناء پر تم پر بیان ِ شرائع سے تمام ِ نعمت کروںاورتمھیں دین کی طرف ہدایت دوں جیسے کہ ان کی دعاکو قبول فرماتے ہوئے تم میں تاجدارختم نبوت ﷺکو مبعوث کروں ۔ یہ امام ابن جریررحمہ اللہ تعالی کاقول ہے ۔ وجہ ثالث : امام ابومسلم الاصفہانی رحمہ اللہ تعالی کاقول ہے اوراس کی عبارت یوں ہے اسی طرح ہم نے بنایاتمھیں امت وسط جیسے ہم نے رسول (ﷺ) بھیجاجس کی شان یہ ہے ،تواس طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا۔ یاپھراس کاتعلق اس کے مابعد سے ہے توعبارت یوں ہوگی جیسے ہم نے تم میں رسول (ﷺ) بھیجاجو تمھیں دین وشریعت کی تعلیم دیتاہے توتم میراذکرکرومیں تمھاراذکرکروں گایہ شیخ اصم کامختارہے ۔ اوراس کی تفصیل کچھ یوں ہے تم اس حال میں تھے کہ نہ تم کتاب کی تلاوت کرتے تھے اورنہ تم حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو جانتے تھے اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺتم میں سے ہیں ، اورتمھارے پاس سب سے متعجب کن آیات لے کرآئے اوریہ تمھاری زبان میں اس کو تلاوت کرتے ہیں ، اس میں وہ تمام چیزیں ہیں جوپہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی کتابوں میں تھیں ۔ اس میں ان کے حالات کابیان ہے ، اس میں دلائل تودنیاوآخرت پر تنبیہ ہیں ، اس طرح اس میں پاکیزہ اخلاق کاحکم اوراخلاق بدسے ممانعت ہے ۔ اوریہ آپ ﷺکے صدق پر اعظم البرہان ہے ۔ اللہ تعالی نے فرمایاجیسے میں نے تمھیں اس نعمت کامالک بنایااورتمھارے لئے دلیل بنایا، اس پر شکرکرکے میراذکرکرواورمیں اپنی رحمت وثواب سے تمھاراذکرکروں گا۔ اس کی تاکیداللہ تعالی کایہ فرمان شریف ہے :{لَقَدْ مَنَّ اللَّہُ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ إِذْ بَعَثَ فِیہِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِہِمْ}تحقیق اللہ تعالی نے اہل ایمان پر انہیں میں سے ایک رسول (ﷺ) بھیج کراحسان فرمایا۔جب اللہ تعالی نے اپنی نعت ومنت کاذکرکیاتو معاملہ ذکروشکرکاحکم دیا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۴:۱۲۲){فَاذْکُرُونِی أَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوا لِی وَلا تَکْفُرُونِ}
رسول اللہ ﷺکی آمدپر رب تعالی کاذکرکرناواجب ہے وَقَالَ مُجَاہِدٌ وَعَطَاء ٌ وَالْکَلْبِیُّ:ہِیَ مُتَعَلِّقَۃٌ بِمَا بَعْدَہَا وَہُوَ قَوْلُہُ:فَاذْکُرُونِی أَذْکُرْکُمْ، معناہ:کَمَا أَرْسَلْنَا فِیکُمْ رَسُولًا مِنْکُمْ فَاذْکُرُونِی، وَہَذِہِ الْآیَۃُ خِطَابٌ لِأَہْلِ مَکَّۃَ وَالْعَرَبِ، یَعْنِی:کَمَا أَرْسَلْنَا فِیکُمْ یَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ رَسُولًا مِنْکُمْ، یَعْنِی:مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّہُ علیہ وسلّم، یَتْلُوا عَلَیْکُمْ آیاتِنا، یَعْنِی:الْقُرْآنَ، وَیُزَکِّیکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتابَ وَالْحِکْمَۃَ، قِیلَ: الْحِکْمَۃُ السُّنَّۃُ، وَقِیلَ:مَوَاعِظُ الْقُرْآنِ، وَیُعَلِّمُکُمْ ما لَمْ تَکُونُوا تَعْلَمُونَ، من الْأَحْکَامَ وَشَرَائِعَ الْإِسْلَامِ. ترجمہ:حضرت سیدنامجاہد، حضرت سیدناعطاء اورحضرت سیدناالکلبی رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ {کَما أَرْسَلْنا فِیکُمْ رَسُولاً مِنْکُمْ یَتْلُوا عَلَیْکُمْ آیاتِنا وَیُزَکِّیکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتابَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَا لَمْ تَکُونُوا تَعْلَمُونَ }کاتعلق اس کے بعد والی آیت کریمہ کے ساتھ ہے اوروہ اللہ تعالی کافرمان شریف ہے کہ {فَاذْکُرُونِی أَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوا لِی وَلا تَکْفُرُونِ} اس کامعنی یہ ہے کہ میں نے تمھاری طرف رسول ﷺبھیجاپس تم میراذکرکرواوریہ آیۃ کریمہ خطاب ہے اہل مکہ اورپورے عرب کو یعنی اے گروہ عرب ہم نے تمھارے اندررسول ﷺکو بھیجااوران پر قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ بعض نے یہ بھی کہاہے کہ الحکمہ سے مراد سنت ہے اوربعض نے کہاہے کہ اس سے مرادقرآن کریم کی نصیحتیں ہیں اور{وَیُعَلِّمُکُمْ مَا لَمْ تَکُونُوا تَعْلَمُونَ }سے مراد احکام اوراسلام کے متعلق امورشرعیہ ہیں۔ (تفسیر البغوی:محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (۱:۱۸۲)مفتی احمدیارخان علیہ الرحمہ کاذکراللہ پرعجیب کلام
حضرت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ اس آیت کریمہ کے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ تم میری تعظیم کرومیں تمھیں عزت دوں گا۔ ظاہریہ ہے کہ رب تعالی کی براہ راست تعظیم نہیں ہوسکتی ، اس کی تعظیم کی صرف ایک صورت ہے کہ اس کی محبوب چیزوں کی تعظیم کی جائے۔لھذاانبیاء کرام علیہم السلام اوراولیاء کرام علیہم الرحمہ ، قرآن کریم اورماہ رمضان المبارک ، کعبۃ اللہ اورعلماء کرام کی تعظیم ذکراللہ کہلائے گی ۔ یہ تعظیم ساری عبادات سے افضل ہے کہ ساری عبادتیں تو جسم کاتقوی ہیں مگریہ تعظیم دل کاتقوی ہے ۔ رب تعالی ارشادفرماتاہے کہ {ذٰلِکَ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعٰٓئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ }بات یہ ہے اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔یہ تعظیم اصل ایمان ہے اورتوہین اصل کفر، دیکھوحضرت سیدناموسی علیہ السلام کے مقابل جادوگروں نے حضرت سیدناکلیم اللہ علیہ السلام کاادب کیاتورب تعالی نے انہیں ایمان ،تقوی، صحابیت ،صبر،شہادت تمام نعمتوں سے نواز دیا۔ حضرت سیدناابوبکرشبلی رحمہ اللہ تعالی قرآن کریم کے کاغذ کے ادب کی وجہ سے ولی اللہ بن گئے ۔ حضرت سیدناجنید بغدادی رحمہ اللہ تعالی شاہی پہلوان تھے ایک سیدصاحب کے مقابل اکھاڑے میں گرنے کی وجہ سے سرتاج اولیاء بن گئے ۔ ابلیس صرف حضرت سیدناآدم علیہ السلام کی وجہ سے کافربلکہ دل پر مہروالاکافرہوگیا۔ اس نے کہاکہ میں ناری ہوں اس مٹی کے ڈھیرکے آگے کیسے جھکوں؟ خیال رہے کہ شیطان نہ توسجدہ نہ کرنے سے ایسامردودہوااورنہ آج بے نمازی ہزارہاسجدہ نہیں کرتے وہ کافرنہیں ہوتے اورنہ سجدہ کے انکارکی وجہ سے ایساسخت لعنتی ہوااورنہ ہزارہاکفارتمام ارکان اسلام کے انکاری ہوتے ہیں مگران پر مہرنہیں لگتی ، بلکہ بہت سے مسلمان ہوجاتے ہیں ۔ لھذایہی درست ہے کہ وہ حضرت سیدناآدم علیہ السلام کی بے ادبی جان بوجھ کرکرنے کی وجہ سے سخت مردودہوا۔ (تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارکان نعیمی (۲: ۷۲)علماء کرام کی مجالس میں بیٹھنابھی اللہ تعالی کو یادکرناہے
قال لقمان لابنہ یا بنی إذا رأیت قوما یذکرون اللہ تعالی فاجلس معہم فانک ان تک عالما ینفعک علمک وان تک جاہلا علموک ولعل اللہ یطلع علیہم برحمتہ فیصیبک معہم وإذا رأیت قوما لا یذکرون فلا تجلس معہم فانک ان تک عالما لا ینفعک علمک وان تک جاہلا یزیدوک جہلا أو غیا ولعل اللہ یطلع علیہم بسخطہ فیصیبک معہم اللہم اجعلنا من الذاکرین۔ ترجمہ :حضرت سیدناحکیم لقمان علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا: جب تم اللہ تعالی کاذکرکرنے والوں کو دیکھوتوان کے ساتھ بیٹھ جائو، اس لئے کہ اگرتم عالم دین ہوتوتجھے تیراعلم نفع دے گا، اگرتوجاہل ہے تو وہ تجھے نفع دیں گے ، اگران پر اللہ تعالی کی رحمت برسے گی توتجھے بھی اس میں سے حصہ نصیب ہوگا، اگرتمھاراگزرایسی قوم کے پاس سے ہوجو اللہ تعالی کی یادسے محروم ہیں توان کے پاس نہ بیٹھنا، اگرتم عالم دین ہوتوتیراعلم انہیں نفع نہ دے گا، اگرتم جاہل ہوتوالٹاان کی صحبت سے تمھارے جہل اورگمراہی میں اضافہ ہوگا۔ بلکہ جب ایسے لوگوں پر اللہ تعالی کاغضب ہوگاتوتم بھی ان کے ساتھ بیٹھنے کی وجہ سے مارے جائوگے ۔اے اللہ ! ہم کو اپناذکرکرنے والوں میں رکھ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی المولی أبو الفداء (ا:۲۵۷)رسول اللہ ﷺکی امت میں شامل ہونے پر شکرکرنا
عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِیَّۃَ، قَالَ:مَرَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَہُوَ یَقُولُ:الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی ہَدَانِی إلی الإِسْلَامِ، وَجَعَلَنِی مِنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: شَکَرْتَ عَظِیمًا ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامنصور بن صفیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺایک شخص کے پاس سے گزرے جو اللہ تعالی کی بارگاہ میں ان الفاظ میں شکرکررہاتھاکہ{الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی ہَدَانِی إلی الإِسْلَامِ، وَجَعَلَنِی مِنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ}تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جس نے مجھے اسلام کی طرف ہدایت عطافرمائی اورمجھے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی امت میں سے بنایا۔حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے جب یہ سناتوفرمایاکہ اے شخص ! تونے عظیم شکراداکیاہے ۔ (شعب الإیمان:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (ا۳:۸۶) حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دیدارکابھی حساب ہوگا عَن الْحَرْث بن قیس أَنہ قَالَ لِابْنِ مَسْعُود: عِنْد اللہ یحْتَسب مَا سبقتمونا بِہِ یَا أَصْحَاب مُحَمَّد من رُؤْیَۃ رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم فَقَالَ ابْن مَسْعُود:عِنْد اللہ یحْتَسب إیمَانکُمْ بِمُحَمد صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم وَلم تروہ إِن أَمر مُحَمَّد کَانَ بَیْننَا لمن رَآہُ وَالَّذِی لَا إِلَہ غَیرہ مَا آمن أحد أفضل من إِیمَان بِغَیْب۔ ترجمہ:حضرت سیدناالحرث بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوںنے حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ تعالی کی بارگا ہ میں اس کاحساب ہوگاجوتم حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی زیارت کی وجہ سے ہم پر سبقت لے گئے ۔ اے اصحاب محمدﷺ! حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالی کی بارگاہ میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺپر تمھارے ایمان لانے کاحساب ہوگاحالانکہ تم نے انہیں دیکھابھی نہیں ہے ۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی رسالت کاامر بالکل واضح تھا، ہر اس شخص کے لئے جس نے بھی آپ ﷺکو دیکھا۔ اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، کوئی شخص ایمان بالغیب لانے والا افضل ایمان والانہیں ۔ (التفسیر من سنن سعید بن منصور :أبو عثمان سعید بن منصور بن شعبۃ الخراسانی الجوزجانی (۲:۵۴۵)لوگوں کے طعنوں کی وجہ سے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی سنت کو ترک نہیں کیاجاسکتا
حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی تشریف آوری سے قبل عرب پستی کے دہانے پر کھڑے تھے، ضلالت و گمراہی کی آخری حدود تک پہنچ چکے تھے اور اچھائی، بھلائی اور نیکی ان میں آخری سانسیں لے رہی تھی، مگر چند دنوں اور ہفتوں میں ان کی کایا پلٹ گئی، ان کی زندگیاں بدل گئیں، انہوں نے قیصر وکسریٰ کی قبائیں نوچیں، بڑے بڑے صاحب جبروت بادشاہوں کے تاج پاؤں میں روندے، ملائکہ ان کی مدد کو اترے، جنت کی ان کو بشارتیں آئیں ، فرشتوں نے ان کو سلام بھیجے، سمندروں اور دریاؤں نے ان کو راستے دیے، جس ملک وعلاقہ میں پہنچے وہاں کے باشندے ان کے گرویدہ ہوگئے، ظفر و فتح نے ان کے قدم چومے اور آسمان سے ان پر سکینہ نازل ہوئی۔ یہ مدد و نصرت کیوں اتری؟ اس لیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے اپنے آپ کو مکمل طورپر سنت کے سانچہ میں ڈھال دیا تھالباس وپوشاک ،کلام و گفتگو، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، عبادات و معاملات،اخلاق و اقدار، تہذیب و تمدن غرض یہ کہ ہر چیز میں دیکھتے کہ ہمارے حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کا اس میں کیا طریقہ کار تھا؟ وہ سنت پر مر مٹتے تھے، سنت کے مقابلہ میں کوئی رائے قبول نہ کرتے اور خلافِ سنت کاموں پرجلال میں آجاتے، کبھی یہ نہ سوچتے تھے کہ اس میں کوئی علت ہے یا نہیں ، کوئی فائدہ ہے یا نہیں۔ آج پھر ایک طبقہ انکار حدیث اور انکار سنت نبوی ﷺکے بہانے تراش رہا ہے یہ کہتے ہیں کہ دنیاوی افسروں اور حکام کی طرح حضور تاجدارختم نبوت ﷺکی بھی دو حیثیتیں تھیں۔ایک حیثیت پر آپﷺ پیغمبرانہ جلیلہ پرفائز تھے۔اس لحاظ سے آپ ﷺکے احکام کی پیروی اللہ کی پیروی ہے۔اوردوسری آپ ﷺکی شخصی حیثیت تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ آپﷺنے اپنے ملک اور معاشرہ کے ر سم ورواج کے مطابق کچھ کام سر انجام دیئے۔ ان کی حیثیت بس ملکی رواج سے زیادہ نہ ہوگی۔(نعوذ باللہ من ذالک)ایسے امور کوسنت کہہ کر رد کرنا جہالت اور دیوانہ پن ہے۔ایسی سنت کی پیروی کوئی موجب ثواب نہیں۔اور ایسی سنتوں کا ترک کرنا موجب گناہ نہیں۔ دراصل ان لوگوں کے ذہن میں انکار حدیث کا بھوت سوار ہے۔اس لئے وقتا فوقتا نئے نئے شگوفے کھلاتے رہتے ہیں۔ورنہ ایک پختہ ذہن اور راسخ العقیدہ مومن ایسی باتیں کبھی زہن میں لا ہی نہیں سکتا۔ان لوگوں سے کوئی پوچھے کہ اگر حضور تاجدارختم نبوت ﷺکی واقعی دو حیثیتیں تھیں تو پھر آقائے نامدار حضور تاجدارختم نبوت ﷺنے اس کی وضاحت کیوں نہ فرمائی۔اگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین آپﷺکی دو حیثیتوں کے قائل ہوتے تو آپ ﷺکی حرکات و سکنات تک کی پیروی میں عشق کی بازی کیوں لگاتے؟پھرہمارے پاس کون سا معیار ہوگا۔جس کی رو سے ہم یہ فیصلہ کرسکیںگے کہ یہ حکم آپ ﷺنے پیغمبرانہ حیثیت سے فرمایا اوریہ حکم ملکی رسم و رواج کے مطابق ہے۔یہ حکم رسول اللہﷺنے رسول خدا ہونے کی حیثیت سے فرمایا۔اور یہ حکم حضرت محمد بن عبد اللہ کی حیثیت سے دیا۔یا یہ کام رواجی ہے۔اور یہ کام شرعی حیثیت کا حامل ہے۔اصل بات یہ ہے کہ سنت نبوی ﷺکے دشمن اسے ختم کرنے کے درپے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ سنت نبوی کی شمع فروزاں کیلئے محافظ ہرزمانہ میں بھیجتا رہاہے۔اور قیامت تک یہ شمع یوں ہی فروزاںرہے گی۔ اسلام میں سنت نبوی کا مقام نہایت ا رفع و اعلیٰ ہے حقیقت یہ ہے کہ ہم سنت نبوی ﷺکی شمع فروزاں سے بے اعتنائی کر کے کبھی جادہ مستقیم پرگامزن نہیں ہوسکتے۔کیونکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے جو کچھ فرمایا وہ قرآن پاک کی ہدایت کے خدوخال کی نشان دہی کی اگر ہم سنت نبویﷺکو یہ کہہ کر ٹال دیں کہ ہمیں کتاب مقدس کی ہدایت کے ہوتے ہوئے کسی اور ہدایت یا رہنمائی کی ضرورت نہیں تو سخت غلطی ہے۔جوسراسرگمراہی کا موجب ہے۔کیونکہ آپﷺفدا ہ امی و ابی کی تعلیمات او ر قرآن کریم کی تعلیمات دونوں متضاد نہیں جن کا اجتماع نا ممکن ہو۔بلکہ دونوں کی تعلیمات اور ہدایت حقیقتاً ایک ہی ہے۔کیونکہ سنت نبوی ﷺکو قرآن سے الگ نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے جو کچھ کیا اورجوکچھ فرمایا۔وہ کتاب اللہ کی روشنی میں فرمایا اس امر کی خود قرآن کریم شہادت دیتا ہے۔ اندریں حالات سنت نبویﷺ کی پیروی کتاب الہٰی کی پیروی اور سنت نبویﷺ کا انکار کتاب اللہ کے انکار کے مترادف ہے دونوں کی پیروی کے مجموعہ کا نام اسلام ہے۔اگر دونوں میں سے کسی ایک کو ٹھکرا دیں تو ہم اسلام کے جادہ مستقیم سے کوسوں دور ہوجائیں گے۔اور ضلالت کے گڑھے میں جاگریں گے بعض لوگوں نے انگریزی سکالر کی تقلید کے جال میں پھنس کرسنت نبویﷺ کو ٹھکرادیا۔اور کہا کہ ہمارے امام صاحب اس حدیث کو بہتر جانتے تھے جب انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا تو ہم کیسے کریں۔درحقیقت یہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے فرمان کا انکار اور سنت نبوی ﷺسے روگردانی ہے۔ان کی قیامت کے روز آنکھیں کھلیں گی۔جب یہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے نافرمانوں کے زمرے میں شامل کیے جائیں گے۔اور آ پﷺان کے خلاف گواہی دیں گے۔الہٰی یہ میرے امتی کہلانے والے تیری مقدس کتاب اور میری سنت کو پس پشت پھینک کر اپنے علماء کی پیروی میں مگن رہے۔اس طرح بعض لوگوں نے یہ کہہ کر سنت نبوی ﷺسے منہ موڑ لیا کہ آج چودہ سو سال کا ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد ہمیں کیسے معلوم ہو کہ یہ حدیث تاجدار مدینہ ﷺکی زبان مبارک سے نکلی ہوئی ہے۔یہ کام سرور کائنات ﷺنے خود اپنے دست مبارک سے کیا اور کرنے کو فرمایا اس کے برعکس قرآن کریم محفوظ ہے۔اور قطعی الثبوت ہے۔اس میں شکوک و شبہات کی گنجائش نہیں اس میں تغیر و تبدل کی جرات نہ کسی سے ہوئی اورنہ کسی سے ہوگی۔بریں وجہ ہم قرآن پاک پر عمل کرتے ہیں۔اور حدیث کی پیروی واجب نہیں سمجھتے حدیث ظنی ہے یہ شکوک و شبہات سے بالاتر نہیں۔ در اصل یہ لوگ منکرین حدیث ہیں جو مختلف قسم کے بھیس بدل کر عوام کے سامنے آتے رہتے ہیں۔آئمہ حدیث نے اپنے اپنے وقت میں ان کو مدلل اور مثبت جواب دے کر خاموش کرادیا۔اور بتایا کہ قرآن کریم کی پیروی سنت نبوی ﷺکی پیروی کے بغیر ممکن نہیں۔ اور سنت نبوی ﷺکی پیروی حقیقتاً قرآن کریم کی پیروی ہے۔بلکہ قرآن پاک اس امر کی شہاد ت دیتا ہے۔کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی پیروی اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی سنت ان کی وجہ سے نہیں چھوڑسکتا
عَنْ الْحَسَنِ قَالَ: کَانَ مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ یَتَغَدَّی، فَسَقَطَتْ لُقْمَتُہُ، فَأَخَذَہَا فَأَمَاطَ مَا بِہَا مِنْ أَذًی، ثُمَّ أَکَلَہَا. قال فَجَعَلَ أُولَئِکَ الدَّہَاقِینُ یَتَغَامَزُونَ بِہِ، فَقَالُوا لَہُ: مَا تَرَی مَا یَقُولُ ہَؤُلَاء ِ الْأَعَاجِمُ، یَقُولُونَ انْظُرُوا إِلَی مَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الطَّعَامِ وَإِلَی مَا یَصْنَعُ بِہَذِہِ اللُّقْمَۃِ؟ فَقَالَ: إِنِّی لَمْ أَکُنْ لِأَدَعَ مَا سَمِعْتُ منْ رسولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِ ہَؤُلَاء ِ الْأَعَاجِمِ، إِنَّا کُنَّا نُؤْمَرُ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَۃُ أَحَدِنَا أَنْ یُمِیطَ مَا بِہَا مِنَ الْأَذَی، وَأَنْ یَأْکُلَہَا ۔ ترجمہ:حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنامعقل بن یسار رضی اللہ عنہ کھاناکھارہے تھے ، ان کاایک لقمہ گرگیاتوانہوں نے اسے اٹھایااوراس پرلگی مٹی کو صاف کیااورپھراسے کھالیا، وہاں کچھ خوش حال لوگ موجود تھے ، جنہوں نے ایک دوسرے کو اشارے کرناشروع کردیئے ، اتنے میں لوگوں نے حضرت سیدنامعقل بن یساررضی اللہ عنہ سے عرض کی : حضور! لوگ آپ کے متعلق بڑی عجیب باتیں کررہے ہیں اوریہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی طرف دیکھیں کہ ان کے سامنے اتناساراکھاناپڑاہواہے ، پھربھی یہ ایک لقمہ جو نیچے گرگیاہے اسے اٹھاکرکھارہے ہیں ۔ حضرت سیدنامعقل بن یساررضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ میں نے جو بات حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے سنی ہے اسے ان عجمیوں کی وجہ سے ترک نہیں کرسکتا، ہمیں یہ حکم دیاگیاہے کہ جب کسی کالقمہ گرجائے تواسے اچھی طرح صاف کرکے اسے کھالیناچاہئے۔ (سنن الدارمی:أبو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمن بن الفضل الدارمی(۲:۱۲۹۱)ان پاگلوں کی وجہ سے سنت ترک کردوں؟
حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ معروف کمانڈروں میں سے تھے، ایک جنگ کے موقع پر دشمن فوج کے کمانڈروں کے ساتھ کسی معاملے میں مذاکرات کر رہے تھے کہ کھانے کے دوران ان کے ہاتھ سے لقمہ پھسل کر دستر خوان پر گر گیا انہوں نے بلاتکلف اسے اٹھا کر منہ میں ڈال لیا۔ یہ وہاں کی ثقافتی روایات کے مطابق عیب کی بات تھی کہ ہاتھ سے گرا ہوا لقمہ اٹھا کر کھا لیا جائے۔ ساتھ بیٹھے ہوئے ایک شخص نے کہنی مار کر اس طرف توجہ دلائی تو بڑی بے پروائی سے جواب دیا کہ کیا میں ان احمقوں کے طعنے کے خوف سے حضور تاجدارختم نبوت ﷺکی سنت چھوڑ دوں؟میں سنت کو کبھی بھی نہیں چھوڑسکتا
أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ابوبکررضی اللہ عنہ:لَسْتُ تَارِکًا شَیْئًا کَانَ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْمَلُ بِہِ إِلَّا عَمِلْتُ بِہِ، إِنِّی أَخْشَی إِنْ تَرَکْتُ شَیْئًا مِنْ أَمْرِہِ أَنْ أَزِیغَ۔ ترجمہ :حضرت سیدتناام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ امیر المومنین ، خلیفہ اول، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں ہر گز ایسا کام نہیں چھوڑ سکتا، جس کوحضورتاجدارختم نبوت ْﷺنے کیا ہو، میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں کوئی سنت چھوڑ دوں گا تو بھٹک جاؤں گا۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (ا:۲۰۴)ہم نے جو حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو کرتے دیکھاہے ۔۔
عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ أَسِیدٍ قَال:قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَجِدُ صَلَاۃَ الْخَوْفِ فِی الْقُرْآنِ وَصَلَاۃَ الْحَضَرِ، وَلَا نَجِدُ صَلَاۃَ السَّفَرِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَیْئًا، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ کَمَا رَأَیْنَا مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْعَلُ۔ ترجمہ :آل خالد بن اسید میں سے ایک شخص نے حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے سوال کیاکہ بے شک نماز خوف کاذکرتوقرآن کریم میں ہے اوراسی طرح مقیم کی نماز کاذکربھی قرآن کریم میں ہے لیکن مسافرکی نماز کاذکرقرآن کریم میں نہیں ہے؟ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمااس کے جواب میںفرماتے ہیں:ہم کچھ نہیں جانتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو معبوث کیا ، پس ہم وہی کرتے ہیں جس طرح ان کو کرتے دیکھا ہے۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل: أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (ا:۲۰۴)حضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کاعمل مبارک ملاحظہ فرمائیں
صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کفار مکہ سے مذاکرات کے لیے بھیجا گیا اور وہ مکہ مکرمہ میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ گھوم رہے تھے کہ ان کے خاندان کے ایک فرد نے کہا کہ حضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ آپ نے اپنی چادر اور تہہ بند کو ٹخنوں سے اوپر نصف پنڈلی تک اٹھا رکھا ہے جو یہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ اس وقت کی جاہلی ثقافت میں تہہ بند کا زمین کے ساتھ گھسیٹنا بڑائی کی علامت سمجھا جاتا تھا اور چادر کا ٹخنوں سے اوپر اٹھائے رکھنا مزدوروں اور نوکروں کی علامت تصور ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ان کے دوستوں نے یہ اعتراض کیا مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کمال بے نیازی کے ساتھ اس اعتراض کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ مجھے لوگوں کے طعنوں کی کچھ پروا نہیں اس لیے کہ میرے حضورتاجدارختم نبوت ﷺتہہ بند اسی طرح باندھتے ہیں۔ عَنْ إِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: کَانَ إِزَارُہُ إِلَی نِصْفِ سَاقَیْہِ، فَقِیلَ لَہُ فِی ذَلِکَ، فَقَالَ: ہَذِہِ إِزَرَۃُ حَبِیبِی یَعْنِی النَّبِیَّ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔۔ ترجمہ:حضرت سیدناایاس بن سلمہ اپنے والد ماجد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کاازاران کی نصف پنڈلی تک تھا، راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے اس بارے میں ان کو طعنہ دیاتوآپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے حبیب کریم حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے لباس پہننے کاطریقہ بھی یہی ہے ۔ (الکتاب المصنف أبو بکر بن أبی شیبۃ، عبد اللہ بن محمد بن إبراہیم بن عثمان بن خواستی العبسی (۶:۱۶۷) حضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کالوگوں کے طعنے کی وجہ سے سنت ترک نہ کرنا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِی إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ:فَدَعَا عُثْمَا ن فَأَرْسَلَہُ إِلَیْہِمْ فَخَرَجَ عُثْمَانُ عَلَی رَاحِلَتِہِ حَتَّی جَاء َ عَسْکَرَ الْمُشْرِکِینَ فَعَتَبُوا بِہِ وَأَسَاء ُوا لَہُ الْقَوْلَ , ثُمَّ أَجَارَہُ أَبَانُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ ابْنُ عَمِّہِ وَحَمَلَہُ عَلَی السَّرْجِ وَرَدِفَہُ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: یَا ابْنَ عَمِّ مَا لِی أَرَاکَ مُتَخَشِّعًا؟ أَسْبِلْ قَالَ: وَکَانَ إِزَارُہُ إِلَی نِصْفِ سَاقَیْہِ فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ: ہَکَذَا إِزْرَۃُ صَاحِبِنَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناایاس بن سلمہ اپنے والد ماجد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور تاجدارختم نبوت ﷺنے حضرت سیدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ روانہ فرمایا، جب آپ رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر سوارہوکرنکلے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ مشرکین کے لشکرکے پاس پہنچے توانہوںنے آپ رضی اللہ عنہ سے فضول باتیں اورانتہائی گستاخانہ لہجہ اختیارکیا، لیکن پھرحضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کو ابان بن سعد بن العاص جو حضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کاچچازاد بھائی تھانے پناہ دی اورانہیں اپنی زین پر سوارکیااورخود آپ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوارہوگیا، پھرجب یہ کچھ آگے بڑھے تو اس نے کہا: اے چچازاد !کیاوجہ ہے کہ میں تمھیں پرانے کپڑے پہنے ہوئے دیکھ رہاہوں، شلوارنیچے کرو اوراپنے ٹخنے ڈھانپ لو۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کی ازارنصف پنڈلی تک تھی ۔ حضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ نے اس کو جواباً ارشادفرمایا: ہمارے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی ازاربھی اسی طرح ہوتی ہے ۔ (الکتاب المصنف فی الأحادیث والآثار: أبو بکر بن أبی شیبۃ، العبسی (۷:۳۸۶)یہ بھی میرے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی سنت ہے
عَنْ عَطَاء ِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مَیْسَرَۃَ، قَالَ:رَأَیْتُ عَلِیًّا، یَشْرَبُ قَائِمًا قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ تَشْرَبُ قَائِمًا؟ فَقَالَ: إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا، فَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَشْرَبُ قَائِمًا، وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا، فَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَشْرَبُ قَاعِدًا۔ ترجمہ:حضرت سیدنامیسرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ ایک مرتبہ حضرت سیدنامولا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر پانی پی رہے تھے، میسرہ بن یعقوب نے پوچھا: آپ کھڑے ہو کر پانی پی رہے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اگر میں کھڑے ہو کر پانی پیتا ہوں تو میں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکو اسی طرح دیکھا اور اگر میں بیٹھ کر پانی پیتا ہوں، تو میں نے تب بھی آپﷺکو اسی طرح دیکھا۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل: أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۲:۲۴۲)’’جیسادیس ویسابھیس نہیں ‘‘بلکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی سنت کریمہ
وفی کلام بعضہم: فأجلس عمرو بن العاص علی سریرہ وقبل ہدیتہما، فقالا: إن نفرا من بنی عمنا نزلوا أرضک فرغبوا عنا وعن آلہتنا: أی ولم یدخلوا فی دینکم، بل جاؤوا بدین مبتدع لا نعرفہ نحن ولا أنتم، وقد بعثنا إلی الملک فیہم أشراف قریش لتردوہم إلیہم قال: وأین ہم؟ قالوا بأرضک، فأرسل فی طلبہم: أی وقال لہ عظماء الحبشۃ: ادفعہم إلیہما فہما أعرف بحالہم، فقال: لا واللہ حتی أعلم علی أی شیء ہم؟ فقال عمرو:ہم لا یسجدون للملک: أی وفی لفظ لا یخرون لک ولا یحیونک بما یحییک الناس إذا دخلوا علیک رغبۃ عن سنتکم ودینکم، فلما جاؤوا قال لہم جعفر رضی اللہ تعالی عنہ:أنا خطیبکم الیوم:أی فإنہ لما جاء ہم رسول النجاشی یطلبہم اجتمعوا، ثم قال بعضہم لبعض: ما تقولون للرجل إذا جئتموہ. قال جعفر ما ذکر، وقال: إنما نقول ما علمنا وما أمرنا بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ودع یکون ما یکون، وقد کان النجاشی دعا أساقفتہ وأمرہم بنشر مصاحفہم حولہ، فلما جاء جعفر وأصحابہ صاح جعفر، وقال: جعفر بالباب یستأذن ومعہ حزب اللہ، فقال النجاشی: نعم یدخل بأمان اللہ وذمتہ، فدخل علیہ ودخلوا خلفہ فسلم، فقال لہ الملک: ما لک لا تسجد؟.وفی لفظ: إن عمرا قال لعمارۃ: ألا تری کیف یکتنون بحزب اللہ وما أجابہم بہ، وإن عمرا قال للنجاشی: ألا تری أیہا الملک أنہم مستکبرون لم یحیوک بتحیتک، فقال النجاشی: ما منعکم أن لا تسجدوا وتحیونی بتحیتی التی أحیی بہا، فقال جعفر: إنا لا نسجد إلا للہ عز وجل، قال: ولم ذلک؟ قال: لأن اللہ تعالی أرسل فینا رسولا، وأمرنا أن لا نسجد إلا للہ عز وجل، وأخبرنا أن تحیۃ أہل الجنۃ السلام فحییناک بالذی یحیی بہ بعضنا بعضا۔ملخصاً۔ ترجمہ :شاہ حبشہ نجاشی کے دربار میں عمروبن العاص نے کھڑے ہوکر کہا: اے بادشاہ! ہمارے قریبی رشتہ داروں میں سے چندلوگ آپ کے ملک میں آکررہائش پذیرہوگئے ہیں ، انہوںنے ہم سے قطع تعلق کرلیاہے ، ہمارے خدائوں کی عبادت ترک کردی ہے ، اورآپ کادین بھی قبول نہیں کیا، بلکہ ایک نیامذہب بنالیاہے ، جس کے بارے میں نہ ہمیں کوئی علم ہے اورنہ ہی آپ کو اس کی کوئی خبر، ہمیں قریش کے سرداروں نے آپ کی خدمت میں روانہ کیاہے تاکہ آپ انہیں اپنے ملک سے نکل جانے کاحکم دیں اوران کو فرمائیں کہ وہ اپنے وطن میں اپنے اہل عیال کے پاس چلے جائیں ، بادشاہ نے بڑے غورکے ساتھ ان کی باتیں سنیں ، پھرپوچھاکہ وہ لوگ کہاں ہیں؟ انہوں نے بتایاکہ وہ آپ کے ملک میں رہتے ہیں ، بادشاہ نے قاصدروانہ کیااوران کو اپنے پاس بلایا، بادشاہ کے درباریو ں نے مداخلت کرتے ہوئے کہا: کہ ان کو یہاں بلانے کی کیاضرورت ہے ،یہ لوگ ان کے ہم وطن بھی ہیں اوران کے رشتہ دار بھی، ان کے حالات سے بھی پوری طرح باخبرہیں انہوںنے ان کے بارے میں جو بتایاوہی کافی ہے ، آپ ان لوگوں کے نام حکم جاری کردیں کہ وہ یہاں سے نکل جائیں اوراپنے وطن واپس چلے جائیں ،بادشاہ نے اپنے درباریوں کے اس مشورے کو مستردکردیا، کہاکہ جب تک میں ان سے نہ پوچھ لوں میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا، عمروبن العاص نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا: اے بادشاہ سلامت ! وہ بڑے متکبرلوگ ہیںوہ شاہی دربارکے آداب بھی پورے نہیں کریں گے اورآپ کو سجدہ بھی نہیں کریں گے ، جب وہ دربارشاہی میں حاضرہوں گے توان کامتکبرانہ طرز عمل ہمارے قول کی خود تصدیق کردے گا۔ حضرت سیدناجعفررضی اللہ عنہ اپنے رفقاء کے ساتھ نجاشی شاہ حبشہ کے دروازے پر پہنچے تومہاجرین کے آگے آگے حضرت سیدناجعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے ، توانہوںنے آواز لگائی کہ جعفراندرداخل ہونے کی اجازت چاہتاہے اوراس کے ساتھ حزب اللہ یعنی اللہ تعالی کالشکربھی ساتھ ہے ۔ حضرت سیدناجعفرالطیار رضی اللہ عنہ کو جب اجازت ملی توآپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نجاشی کے دربار میں تشریف لے گئے تو انہوںنے شاہی د ربار کے آداب کے مطابق بادشاہ کو سجدہ نہیں کیا، بلکہ سراٹھائے ہوئے اس کو السلام علیکم کہا۔ بادشاہ نے ناراضگی کااظہارکرتے ہوئے کہا: تم نے شاہی دربار کے آداب کے مطابق مجھے سجدہ کیوں نہیں کیا؟ توحضرت سیدناجعفررضی اللہ عنہ نے جواب دیاکہ ہم اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو سجدہ نہیں کرتے ، ہمارے حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ہمیں بتایاہے کہ اہل جنت جب ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں تو وہ اسی طرح ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں ۔ہم بھی آپس میں ایک دوسرے کو انہیں الفاظ میں سلام کرتے ہیں ۔ (السیرۃ الحلبیۃ :علی بن إبراہیم بن أحمد الحلبی، أبو الفرج، نور الدین ابن برہان الدین (۱:۴۷۸)وہی کہیں گے جو ہمیں حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے بیان کیاہے
قَالَتْ: ثُمَّ أَرْسَلَ إلَی أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَعَاہُمْ، فَلَمَّا جَاء َہُمْ رَسُولُہُ اجْتَمَعُوا، ثُمَّ قَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضِ:مَا تَقُولُونَ لِلرَّجُلِ إذَا جِئْتُمُوہُ؟قَالُوا:نَقُولُ: وَاَللَّہِ مَا عَلِمْنَا، وَمَا أَمَرَنَا بِہِ نَبِیُّنَا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَائِنًا فِی ذَلِکَ مَا ہُوَ کَائِنٌ.فَلَمَّا جَاء ُوا۔ ترجمہ:حضرت سیدتناام سلمہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ دوسری طلبی پر ہمیں بڑافکرلاحق ہوا،پھرسارے مسلمان جمع ہوکر ایک دوسرے سے مشورہ کرنے لگے کہ اگراس نے ہم سے عیسی علیہ السلام کے بارے میں کوئی سوال کیاتوہمیں کیاجواب دیناچاہئیے؟ قوت ایمانی نے ان کے حوصلوں کو بلندکیاتوانہوںنے متفقہ طورپر یہی فیصلہ کیاکہ اللہ تعالی کی قسم ! اس سوال کاوہی جواب دیں گے جو اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے اورجو ہمیں حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے بیان کیاہے خواہ کچھ بھی ہوجائے۔ یہ طے کرنے کے بعد اللہ تعالی کا نام لیکرسارے دربارشاہی کی طرف روانہ ہوگئے۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: عبد الملک بن ہشام (۱:۳۳۵)میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی محبت دیکھوںیا۔۔۔
جون( ۱۹۹۹ء )کے دوران برطانیہ کے شہر مانچسٹر کے کسی سکول میں مشہور مذہبی شخصیت کے عنوان پر طلبہ و طالبات میں تقریری مقابلہ ہو رہا تھا۔ کسی مسلمان لڑکی نے اپنی تقریر میں بار بارحضورتاجدارختم نبوتﷺ کا نام لیا مگر بے خیالی میں ﷺنہ کہہ سکی۔ دو چار بار ایسا ہوا تو ہال میں ایک لڑکی کھڑی ہوگئی اور بلند آواز سےﷺکا ورد کرنا شروع کر دیا۔ یہ سکول کے قواعد کی سخت خلاف ورزی تھی، اس لڑکی کو ہال سے باہر لے جایا گیا اور سکول کے اساتذہ کے ایک بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا تو اس لڑکی نے ہچکیوں اور سسکیوں میں یہ جواب دیا کہ جو کوئی شخص ہمارے پیارے نبیﷺ کا نام لیتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ﷺ کہے، میں اس پر کوئی کمپرومائز نہیں کر سکتی۔ آپﷺ کا نام سن کرﷺکہنا میرا ایمانی فریضہ ہے، اس فریضے کی ادائیگی سے مجھے ڈسپلن کے نام پر نہیں روکا جا سکتا۔معارف ومسائل
(۱) اس سے یہ معلوم ہواکہ جو لوگ ظالم ، متعصب اورہٹ دھرم ہیں ، وہ ہر صورت میں الزام تراشی اورحجت بازی پر ڈٹے رہیں گے کیونکہ ان کاجہل جہل مرکب ہے ، جولاعلاج مرض ہے ، مشہورمقولہ ہے کہ نہرکے پانی پربندباندھنااوراس کو روکناآسان ہے مگرمتعصب اوردین دشمن لوگوں کامنہ بندکرنابہت مشکل ہے ۔ اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا: آپ لوگ ان کی مخالفت اورالزام تراشیوں سے نہ گھبرائیں اورکسی قسم کاخوف نہ کریں ، تمھارامحافظ اورمددگارخود رب تعالی ہے ۔ (۲) اس سے معلوم ہواکہ دین اسلام ہر ہرجہت سے کامل ہے ، اس میں کسی بھی جہت کے ناقص ہونے کاتصورہی نہیں ہے ۔اب بھی کوئی دین اسلام کے کسی بھی حکم پر اعتراض کرے یاحجت بازی کرے وہ قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کی روسے بہت بڑاظالم ہے ۔ (۳) حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ساتھ مسلمانوں کی محبت و احترام کا معاملہ ایسا ہے کہ اس کی اور کوئی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9