صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2180 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۷۷ ۔ دین کی چندچیزوں کو پکڑلیناباقی کوترک کرنایہودونصاری کاکام ہے

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,175

سوال (Question):

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۷۷ ۔ دین کی چندچیزوں کو پکڑلیناباقی کوترک کرنایہودونصاری کاکام ہے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

دین کی چندچیزوں کو پکڑلیناباقی کوترک کرنایہودونصاری کاکام ہے

{لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ وَ الْکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَالسَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰہَدُوْا وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآء ِ وَالضَّرَّآء ِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوْن}(۱۷۷) ترجمہ کنزالایمان:کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں ۔ ترجمہ ضیاء الایمان :اصل نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلو،بلکہ اصلی نیکی وہ ہے جو اللہ تعالی اور قیامت اور ملائکہ کرام اور کتابوں اور انبیاء کرام علیہم السلام پرایمان لائے اور اللہ تعالی کی محبت میں اپناپسندیدہ مال رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اورمسافروں اور سائلوں کو اور غلام لونڈیوں کی گردنیں آزاد کرانے میں خرچ کرے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اوروہ لوگ جو وعدہ کرکے اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہیں اور مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت صبرکرنے والے ہیں یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔ شان نزول وَقَالَ الربیع وقتادۃ أیضا: الخطاب للیہودوَالنَّصَارَی لِأَنَّہُمُ اخْتَلَفُوا فِی التَّوَجُّہِ وَالتَّوَلِّی، فَالْیَہُودُ إِلَی الْمَغْرِبِ قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، وَالنَّصَارَی إِلَی الْمَشْرِقِ مَطْلِعَ الشَّمْسِ، وَتَکَلَّمُوا فِی تَحْوِیلِ الْقِبْلَۃِ وَفَضَّلَتْ کُلُّ فِرْقَۃٍ تَوْلِیَتَہَا، فَقِیلَ لَہُمْ: لَیْسَ الْبِرَّ مَا أَنْتُمْ فِیہِ، وَلکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّہِ. ترجمہ :حضرت سیدناالربیع اورقتادہ رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں یہودونصاری سے خطاب ہے کیونکہ وہ قبلہ کی طرف منہ پھیرنے میں اختلاف کرتے تھے ۔ یہودکہتے تھے کہ قبلہ مغرب کی طرف بیت المقدس ہے اورنصاری کہتے تھے کہ مشرق کی طرف سورج طلوع ہونے کی جگہ ہے اورانہوںنے قبلہ کی تبدیلی میں بھی کلام کیا، ہرفرقہ نے اپنے قبلہ کی فضیلت بیان کی ، اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں انہیں فرمایاکہ یہ نیکی نہیں ہے جس میں تم اختلاف کئے بیٹھے ہوبلکہ نیکی تویہ ہے کہ اللہ تعالی پر ایمان لانا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۳۳۵) حضورصدرالافاضل سید نعیم الدین مرادآبادی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں نیکی کے چھ طریقے ارشاد فرمائے (۱) ایمان لانا (۲)مال دینا (۳) نماز قائم کرنا (۴) زکوۃ دینا (۵)عہد پورا کرنا (۶)صبر کرنا۔ ایمان کی تفصیل یہ ہے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے کہ وہ حی و قیوم علیم حکیم سمیع بصیر غنی قدیر ازلی ابدی واحد لاشریک لہ ہے دوسرے قیامت پر ایمان لائے کہ وہ حق ہے اس میں بندوں کا حساب ہوگا اعمال کی جزا دی جائے گی مقبولان حق شفاعت کریں گے سید عالم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سعادت مندوں کو حوض کوثر پر سیراب فرمائیں گے پل صراط پر گزر ہوگا اور اس روز کے تمام احوال جو قرآن میں آئے یا سید انبیاء ﷺنے بیان فرمائے سب حق ہیں تیسرے فرشتوں پر ایمان لائے کہ وہ اللہ کی مخلوق اور فرمانبردار بندے ہیں نہ مردہیں نہ عورت ان کی تعداد اللہ جانتا ہے چار ان میں سے بہت مقرب ہیں(۱)جبرئیل (۲)میکائیکل(۳)اسرافیل(۴)عزرائیل علیہم السلام۔ چوتھے کتب الہیہ پر ایمان لانا کہ جو کتاب اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی حق ہے ان میں چار بڑی کتابیں ہیں۔(۱)توریت جو حضرت موسٰی علیہ السلام پر (۲)انجیل جو حضرت عیسی علیہ السلام پر (۳)زبور حضرت داؤد علیہ السلام پر (۴)قرآن حضرت محمد مصطفیﷺ پر نازل ہوئیں اور پچاس صحیفے حضرت شیث پر تیس حضرت ادریس پر دس حضرت آدم پر دس حضرت ابراہیم پر نازل ہوئے علیہم الصلوۃ والسلام پانچویں تمام انبیاء پر ایمان لانا کہ وہ سب اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں اور معصوم یعنی گناہوں سے پاک ہیں ان کی صحیح تعدادا للہ جانتا ہے ،ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں’’نَبِیّٖنَ ‘‘بصیغہ جمع مذکر سالم ذکر فرمایا اشارہ کرتا ہے کہ انبیاء مرد ہوتے ہیں کوئی عورت کبھی نبی نہیں ہوئی جیسا کہ {وَمَآاَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالاً }الآیہ سے ثابت ہے ایمان مجمل یہ ہے { اٰمَنْتُ بِاللہ ِ وَبِجَمِیْعِ مَاجَآء َ بِہِ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم}یعنی میں اللہ پر ایمان لایا اور ان تمام امور پر جو سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم اللہ کے پاس سے لائے ۔ (تفسیرخزائن العرفان از سیدنعیم الدین مرادآبادی : سورۃ البقرہ رقم الآیۃ :۱۷۷)

اللہ تعالی نے دین پراعتراض کرنے والوں کو جواب دیا

رُوِیَ أَنَّہُ لَمَّا حُوِّلَتِ الْقِبْلَۃُ کَثُرَ الْخَوْضُ فِی نَسْخِہَا وَصَارَ کَأَنَّہُ لَا یُرَاعَی بِطَاعَۃِ اللَّہِ إِلَّا الِاسْتِقْبَالُ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی ہَذِہِ الْآیَۃَ کَأَنَّہُ تَعَالَی قَالَ مَا ہَذَا الْخَوْضُ الشَّدِیدُ فِی أَمْرِ الْقِبْلَۃِ مَعَ الْإِعْرَاضِ عَنْ کُلِّ أَرْکَانِ الدِّینِ. ترجمہ :اوریہ بھی روایت کیاگیاہے کہ جب قبلہ تبدیل ہواتواس کے نسخ پریہود ونصاری اورمشرکین نے بہت زیادہ اعتراضات کئے گویااللہ تعالی کی عبادت محض استقبال قبلہ ہی ہے تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی گویااللہ تعالی فرماتاہے کہ قبلہ کے معاملے میں تم اس قدرشورڈال رہے ہومگرباقی ارکان سے تم اعراض کرتے ہو۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۵:۲۱۱)

استقبال قبلہ نیکی نہیں ہے

أَنَّ اسْتِقْبَالَ الْقِبْلَۃِ لَا یَکُونُ بِرًّا إِذَا لَمْ یُقَارِنْہُ مَعْرِفَۃُ اللَّہِ، وَإِنَّمَا یَکُونُ بِرًّا إِذَا أُتِیَ بِہِ مَعَ الْإِیمَانِ، وَسَائِرِ الشَّرَائِطِ کَمَا أَنَّ السَّجْدَۃَ لَا تَکُونُ مِنْ أَفْعَالِ الْبِرِّ، إِلَّا إِذَا أُتِیَ بِہَا مَعَ الْإِیمَانِ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ، فَأَمَّا إِذَا أُتِیَ بِہَا بِدُونِ ہَذَا الشَّرْطِ، فَإِنَّہَا لَا تَکُونُ مِنْ أَفْعَالِ الْبِرِّ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام فخرالدین الرازی المتوفی :۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ استقبال قبلہ نیکی نہیں ہے جب تک اللہ تعالی کی معرفت حاصل نہ ہو، یہ نیکی تب نیکی بنے گی ، جب ایمان اوردیگرشرائط کے ساتھ ہوجیسے سجدہ نیکی نہیں بن سکتاجب تک اللہ تعالی پرایمان اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺپر ایمان نہ ہو، جب اسے اس شرط کے بغیربجالایاجائے گاتونیکی کاعمل نہیں ہوگا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۵:۲۱۱) حافظ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی نقل کرتے ہیں وَحِینَ الْبَأْسِ)أَیْ:فِی حَالِ الْقِتَالِ وَالْتِقَاء ِ الْأَعْدَاء ِ، قَالَہُ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو الْعَالِیَۃِ، ومُرّۃ الْہَمْدَانِیُّ، وَمُجَاہِدٌ، وَسَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَۃُ، وَالرَّبِیعُ بْنُ أَنَسٍ، وَالسُّدِّیُّ، وَمُقَاتِلُ بْنُ حَیَّانَ، وَأَبُو مَالِکٍ، وَالضَّحَّاکُ، وَغَیْرُہُمْ. ترجمہ :حافظ ابن کثیرالمتوفی : ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس کامطلب یہ ہے کہ جہاد کے وقت ثابت قدم رہنے والے ہوں ، حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، ابوالعالیہ ، مرہ الہمدانی ، مقاتل بن حیان،ابومالک ،الضحاک اوران کے علاوہ باقی حضرات کایہی قول ہے (تفسیر القرآن العظیم:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۱:۴۸۵)

الباس کامعنی

’’وَحِینَ الْبَأْسِ‘‘أی وقت الحزب۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ’’وَحِینَ الْبَأْسِ‘‘سے مراد جنگ کاوقت ہے ۔یعنی جہاد میں شدت کے وقت ثابت قدم رہنے والے ہوں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۲۴۳)

الباس کے معنی میں وسعت

وَحِینَ الْبَأْسِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یُرِیدُ الْقِتَالَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَالْجِہَادَ، وَمَعْنَی الْبَأْسِ فِی اللُّغَۃِ الشِّدَّۃُ یُقَالُ:لَا بَأْسَ عَلَیْکَ فِی ہَذَا، أَیْ لَا شِدَّۃَ بِعَذابٍ بَئِیسٍ (الْأَعْرَافِ: ۱۶۵) شَدِیدٍ ثُمَّ تُسَمَّی الْحَرْبُ بَأْسًا لِمَا فِیہَا مِنَ الشِّدَّۃِ وَالْعَذَابُ یُسَمَّی بَأْسًا لِشِدَّتِہِ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیںکہ ’’وَحِینَ الْبَأْسِ‘‘سے مراد اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرناہے ، اورلغت میں ’’الباس ‘‘کامعنی شدت ہے ۔ محاورہ ہے کہ{لَا بَأْسَ عَلَیْکَ فِی ہَذَا}یعنی اس معاملے میں تم پرکوئی شدت نہیں ہے۔ پھرجنگ کو باس کہتے ہیں کیونکہ اس میں شدت ہوتی ہے ، عذاب کو بھی باس کہنے کی وجہ یہی ہے ۔ (التفسیر الکبیر: أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۵:۲۱۱)

آیت کی ترتیب میں عجیب لطیفہ

وَحِینَ الْبَأْسِ أی وقت القتال وجہاد العدو وہذا من باب الترقی فی الصبر من الشدید إلی الأشد لأن الصبر علی المرض فوق الصبر علی الفقر والصبر علی القتال فوق الصبر علی المرض۔ ترجمہ :امام شہاب الدین محمود بن عبداللہ الحسینی الآلوسی المتوفی: ۱۲۷۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ دشمن سے جہاد کے وقت ثابت قدم رہنے والے ہوں یعنی اس ادنی سے اعلی کی طرف ترقی ہے ، پہلے فقرپرصبرکاذکرہے ، پھرمرض پراورپھرقتال پر کیونکہ مرض پرصبرکرنافقرپرصبرکرنے سے زیادہ مشکل ہے اورجہاد میں صبرکرنایعنی جہاد میں ڈٹ کرکھڑے ہونامرض پر صبرکرنے سے زیادہ مشکل ہے ۔ (روح المعانی :شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی (۱:۴۴۵)

السائلین سے مرادکون ؟

حضرت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی ایک سوال قائم کرکے اس کاجواب دیتے ہیں وہ سوال یہ ہے کہ اس آیت کریمہ سے معلوم ہواکہ سائلین یعنی بھکاریوں کو خیرات دینی چاہئے مگراحادیث شریفہ سے معلوم ہواہے کہ بھیک مانگناحرام ہے حتی کہ حضورانورﷺنے بھیک سے بچنے پرلوگوں سے بیعت لی ہے اوریہ کہ بھکاریوں کو دینابھی جرم ہے لھذاقرآن کریم اورحدیث شریف میں تعارض ہے ۔ جواب : اس کے دوجواب ہیں ۔ایک یہ کہ یہاں سائلین سے مراد دینی طلباء ہیں یعنی اپنے استادوں علم دین پوچھنے والے کہ ان پر خیرات خرچ کرنافرض ہے تاکہ علماء پیداہوں اورعلماء کی بقاء سے اسلام کی باقی رہے کہ علم دین مکمل سیکھنافرض کفایہ ہے اورفرض کے موقوف علیہ بھی فرض ہوتے ہیں ، جیسے راج مستری ،طبیب پر شہرمیں ہونالازمی ہے ایسے ہی ہر شہرمیں ایک عالم دین کاہوناضروری ہے ۔ دوسرے یہ کہ سائل سے مراد بھکاری ہے ، مگربھکاری بھی دوقسم کے ہوتے ہیں ۔ پیشہ وربھکاریوں کو دینے کی ممانعت فرمائی اورقرآن شریف میں بوقت ضرورت بھکاری کو دینے کاحکم دیالھذاقرآن کریم اورحدیث شریف میں کوئی تعارض نہیں ، اگرمسلمان سوچ سمجھ کر بھیک دیتے توآج مسلمانوں میں بھانڈ ، قوال ، گویے ،زنخے اورکھسرے نہ ہوتے جو مسلمان قوم کے دامن پربدنماداغ ہیں ۔یہ قومیں مسلمانوں کے سواکسی بھی فرقے میں نہیں ۔تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی ( ۲:۱۷۳) {وَفِی الرِّقَابِ}کامطلب قَالَ مَالِکٌ رَحِمَہُ اللَّہُ: یَجِبُ عَلَی النَّاسِ فِدَاء ُ أَسْرَاہُمْ وَإِنِ اسْتَغْرَقَ ذَلِکَ أَمْوَالَہُمْ وَہَذَا إِجْمَاعٌ أَیْضًا۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں پراپنے قیدیوں کو فدیہ دے کرچھڑاناواجب ہے اگرچہ اس میں ان کے تمام کے تمام اموال صرف ہوجائیں اوراس پراجما ع ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۲۴۲) اب چونکہ ہمارے زمانے میں غلام نہیں رہے اس لئے اس آیت کریمہ پرعمل کرنے کی بہترین صورت حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ان غلاموں کو آزادکروایاجائے جو ناموس رسالت ﷺکے مسئلہ پرحق بیان کرنے کی وجہ سے جیلوں میں ہیں یاگستاخوں کو واصل بالنارکرنے کی وجہ سے قید میں ہیں ۔اوراسی طرح ابواب البرپرعمل کرنے کایہ طریقہ بھی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے جن غلاموں کی رہائی نہیںہورہی ان کے لئے جیلوں میں ہی سامان اورنقدی وغیرہ بھیجی جائے یاپھران کے گھروالوں کے ساتھ خیرخواہی کی جائے ۔

معارف ومسائل

(۱)ہرباطل فرقہ چندایک رسومات لیکراسے ہی مکمل دین سمجھ بیٹھاہے اورپھراعمال ، اخلاق اورعقائدکی اصلاح اورراہ خدامیں جہاد کرنے سے غافل ہوکر بیٹھ گیاہے ، جیسے مشائخ اپنے اپنے آستانوں پر گدیوں پربراجمان ہیں ، انہوںنے اپنی زندگی کامقصد صرف اورصرف لوگوں کو تعویذتقسیم کرناسمجھ لیاہے ، پھرچاہے دین کے خلاف اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی عزت وناموس کے خلاف سیاہ آندھیاں ہی کیوں نہ چلتی رہیں انہوںنے اس طرف توجہ نہیں کرنی ۔ اوردوسری طرف کاروباری علماء ہیں جنہوںنے چندایک سطحی موضوعات منتخب کرلیے ہیں بس رات دن پھرانہیں موضوعات پر کلام کرتے رہتے ہیں ، ان کوبھی کوئی فکرنہیں ہے کہ آخردین متین کے خلاف اتنے فتنے سراٹھاچکے ہیں ان کاسدباب بھی کرناہے یانہیں ۔ (۲) آج ہمارے ملک میں فروعی مسائل کو اجاگرکرنے کے لئے بڑی بڑی جماعتیں اورتنظیمیں قائم ہیں اوران کے لئے باقاعدہ کروڑوں روپے چندہ جمع کیاجاتاہے مگرنہیں توحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی عزت وناموس پر پہرہ دینے والوں کے لئے کچھ نہیں چاہے وہ جیلوں میں بندہوں یاکہیں بھی ہوں اورکسی بھی صورتحال سے دوچارہوں۔ (۳) صرف سطحی موضوعات کو پکڑلینااوراصولی مسائل کو ترک کردینایہ یہودیوں کاشیوہ ہے اوراللہ تعالی نے انہیں اسی بات پر زجروتوبیخ فرمائی ۔ (۴) صرف چندایک باتوں کو مان لیناایمان نہیں بلکہ خود کو مکمل طور پراللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی اطاعت میں دے دیناایمان ہے ۔ (۵) اس آیت کریمہ میں جہاد کی بھی ترغیب دلائی گئی ہے اوراس میں ڈٹ کرلڑنے کی بھی مگراس سلسلے میں بھی ہماراحال وہی ہے جویہودونصاری کاتھاکہ انہوںنے چندایک باتیں پکڑلی تھیں باقی دین ترک کردیا۔ (۶) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جب تک ایمان نہ ہوکوئی بھی نیکی نیکی نہیں ہے ۔ نیکی نیکی تب بنے گی جب اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺپر ایمان نصیب ہوگا۔ (۷) دین کی کسی ایک بات پراعتراض کرنااورباقی دین کو ترک کرنااورایمان بھی نہ لانایہ یہودونصاری کاپراناشیوہ ہے اوران کی سنت کو زندہ رکھنے کے لئے آج لبرل بھی اسی طرح کررہے ہیں ۔ احکامات شرع پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں ۔جیسے رمضان المبارک کامہینہ آتے ہی بے دین وزیرکہناشرو ع کردیتے ہیں کہ عید اوررمضان کاچاندنہیں دیکھیں گے بلکہ کلینڈرکے ذریعے یہ اموردینیہ انجام دیں گے ، اب سوچنے کی بات ہے کہ ان کادین کے ساتھ اوررمضان المبارک کے ساتھ کچھ لینادینانہیں ہے مگررمضان المبارک آتے ہی ان کے اندرسے یہودیت اچھل کرباہرآجاتی ہے ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh