صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2189 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۱۴۔ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَآء ُ وَالضَّرَّآء ُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہ مَتٰی ن

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,129

سوال (Question):

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۱۴۔ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَآء ُ وَالضَّرَّآء ُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہ مَتٰی ن

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضورتاجدارختم نبوت ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا راہ حق میں تکالیف اٹھانا

{اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَآء ُ وَالضَّرَّآء ُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہ مَتٰی نَصْرُ اللہِ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللہِ قَرِیْبٌ }(۲۱۴) ترجمہ کنزالایمان :کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد نہ پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھے رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:کیاتم اس خیال میں ہوکہ تم ایسے ہی جنت داخل ہوجائوگے حالانکہ تم پروہ حالات نہیں گزرے جو تم سے پہلے لوگوں پرگزرے ، انہیں سختی اورمصیبت پہنچی کہ وہ لرزاٹھے یہاں تک کہ رسول کہہ اٹھے اورجو ایمان لائے تھے ، اس کے ساتھ کب آئے گی اللہ تعالی کی مدد؟ سن لو!یقینااللہ تعالی کی مددقریب ہے ۔ شان نزول کے متعلق پہلاقول قَالَ قَتَادَۃُ وَالسُّدِّیُّ وَأَکْثَرُ الْمُفَسِّرِینَ:نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ فِی غَزْوَۃِ الْخَنْدَقِ حِینَ أَصَابَ الْمُسْلِمِینَ مَا أَصَابَہُمْ مِنَ الْجَہْدِ وَالشِّدَّۃِ،وَالْحَرِّ وَالْبَرْدِ، وَسُوء ِ الْعَیْشِ،وَأَنْوَاعِ الشَّدَائِدِ،وَکَانَ کَمَا قَالَ اللَّہُ تَعَالَی:وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَناجِرَ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناقتادہ اورامام السدی رضی اللہ عنہمااوراکثرمفسرین کرام علیہم الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ غزوہ خندق کے وقت نازل ہوئی جب کہ مسلمانوں کو مشقت ، شدت ، گرمی ، سردی تلخ اورتکلیف دہ زندگی اورطرح طرح کی تکالیف اورمصائب پہنچے اوران کی کیفیت یہ ہوگئی جیساکہ رب تعالی نے فرمایا:{وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَناجِرَ }اوران کے کلیجے ان کے منہ کو آنے لگے۔ ( غرائب القرآن:نظام الدین الحسن بن محمد بن حسین القمی النیسابوری (۱ـ:۵۸۹) دوسراقول قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ،اشْتَدَّ الضَّرَرُ عَلَیْہِمْ، لِأَنَّہُمْ خَرَجُوا بِلَا مَالٍ، وَتَرَکُوا دِیَارَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ فِی أَیْدِی الْمُشْرِکِینَ،وَأَظْہَرَتِ الْیَہُودُ الْعَدَاوَۃِ لِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی تَطْیِیبًا لِقُلُوبِہِمْ أَمْ حَسِبْتُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺمدینہ منورہ تشریف لائے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بہت تنگی محسوس ہوئی اس لئے کہ وہ اپنے سارے اموال مکہ مکرمہ میں مشرکین کے ہاتھ چھوڑ آئے تھے اورجب یہاں آئے تویہودی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دشمن بن گئے تواللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے مہاجرین کے دلوں کو تسلی دینے کے لئے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۶:۱۷۸) تیسراقول وَقَالَتْ فِرْقَۃٌ:نَزَلَتِ الْآیَۃُ تَسْلِیَۃً لِلْمُہَاجِرِینَ حِینَ تَرَکُوا دِیَارَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ بِأَیْدِی الْمُشْرِکِینَ، وَآثَرُوا رِضَا اللَّہِ وَرَسُولِہِ،وَأَظْہَرَتِ الْیَہُودُ الْعَدَاوَۃَ لِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،وَأَسَرَّ قَوْمٌ مِنَ الْأَغْنِیَاء ِ النِّفَاقَ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی تَطْیِیبًا لِقُلُوبِہِمْ۔ ترجمہ :ایک جماعت کاکہناہے کہ یہ آیت کریمہ مہاجرین رضی اللہ عنہم کی تسلی کے لئے نازل ہوئی کیونکہ انہوںنے اللہ تعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺکی رضاوخوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنے گھراوراپنے اموال مشرکین کے ہاتھ چھوڑ دیئے اورانہوںنے ہرچیز پر خداتعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺکی رضاکو ترجیح دی اوریہودیوں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ساتھ دشمنی کامظاہرہ کیااوربعض مالداروں نے دل میں منافقت پالی تواللہ تعالی نے ان کے دلوں کو پاک کرنے کے لئے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۳:۳۳) چوتھاقول وَقِیلَ نَزَلَتْ فِی حَرْبِ أُحُدٍ لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِلَی مَتَی تَقْتُلُونَ أَنْفُسَکُمْ وَتَرْجُونَ الْبَاطِلَ وَلَوْ کَانَ مُحَمَّدٌ نَبِیًّا لَمَا سَلَّطَ اللَّہُ عَلَیْکُمُ الْأَسْرَ وَالْقَتْلَ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی ہَذِہِ الْآیَۃَ. ترجمہ :حضرت سیدناامام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس کے شان نزول کے متعلق ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ غزوہ احدکے بارے میں نازل ہوئی ، جب عبداللہ بن ابی منافق نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا: تم لوگ کب تک خودکومرواتے رہوگے اورباطل کوچاہتے رہوگے ، اگرمحمد(ﷺ)سچے نبی ہوتے تو اللہ تعالی تم لوگوں پرقیدوبنداورقتل وغارت کی تکلیفیں نہ ڈالتا۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۶:۳۷۸)

الرسول سے مراد کون ؟

وَالرَّسُولُ ہُنَا شَعْیَا فِی قَوْلِ مُقَاتِلٍ،وَہُوَ الْیَسَعُ وَقَالَ الْکَلْبِیُّ :ہَذَا فِی کُلِّ رَسُولٍ بُعِثَ إِلَی أُمَّتِہِ وَأُجْہِدَ فِی ذَلِکَ حَتَّی قَالَ:مَتَی نَصْرُ اللَّہِ؟وَرُوِیَ عَنِ الضَّحَّاکِ قَال:یَعْنِی،مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَعَلَیْہِ یَدُلُّ نُزُولُ الْآیَۃِ،وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامقاتل رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ الرسول سے مراد یہاں حضرت سیدناشعیا علیہ السلام ہیں اوروہی حضرت سیدناالیسع علیہ السلام ہیں ۔ اورامام الکلبی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ اللہ تعالی کے ہر ہر رسول (علیہ السلام) کے بارے میں ہے جسے اپنی امت کی طرف مبعوث کیاگیااوراس نے خوب محنت کی اورمشقت اٹھائی ، یہاں تک کہ اس دورکے رسول ( علیہ السلام) کہہ اٹھے کہ اللہ تعالی کی مددونصرت کب آئے گی ؟ حضرت سیدناضحاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حضورتاجدارختم نبوت ﷺہیں اوراسی پر آیت کانزول دلالت کرتاہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۳:۳۳)

آیت کریمہ کامقصد؟

مَقْصُودُ مِنْ ہَذِہِ الْآیَۃِ مَا ذَکَرْنَا أَنَّ أَصْحَابَ الرَّسُولِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ کَانَ یَنَالُہُمُ الْأَمْرُ الْعَظِیمُ مِنَ الْبَأْسَاء ِ وَالضَّرَّاء ِمِنَ الْمُشْرِکِینَ وَالْمُنَافِقِینَ وَالْیَہُودِ، وَلَمَّا أُذِنَ لَہُمْ فِی الْقِتَالِ نَالَہُمْ مِنَ الْجِرَاحِ وَذَہَابِ الْأَمْوَالِ وَالنُّفُوسِ مَا لَا یَخْفَی فَعَزَّاہُمُ اللَّہُ فِی ذَلِکَ وَبَیَّنَ أَنَّ حَالَ مَنْ قَبْلَہُمْ فِی طَلَبِ الدِّینِ کَانَ کَذَلِکَ، وَالْمُصِیبَۃُ إِذَا عَمَّتْ طَابَتْ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی: ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کامقصدوہی ہے جو ہم نے ذکرکیاہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مشرکوں ،منافقوں اوریہودیوں سے بہت بڑی بڑی تکالیف پہنچیں اورانہوںنے بہت بڑی بڑی پریشانیاں دیکھیں اورجب اللہ تعالی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جہاد فی سبیل اللہ کی اجازت مرحمت فرمائی تواس میں بھی انہیںجان ومال کی قربانی اورزخموں کاسامناکرناپڑاتواللہ تعالی نے انہیں تسلی دی اوربیان فرمایا کہ ان سے پہلے لوگوں پربھی دین کی خاطرایسے حالات آچکے ہیں اوریہ قاعدہ ہے کہ مصیبت جب عام ہوجائے تو آسان ہوجاتی ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۶:۳۷۹)

یہ کلام دوجماعتوں کاہے

فَلَمَّا بَلَغَتْ بِہِمُ الشِّدَّۃُ إِلَی ہَذِہِ الدَّرَجَۃِ الْعَظِیمَۃِ قِیلَ لَہُمْ:أَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّہِ قَرِیبٌ إِجَابَۃً لَہُمْ إِلَی طَلَبِہِمْ۔ ترجمہ:امام فخرالدین الرازی المتوفی: ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب مصیبت اورسختی اس حد تک پہنچ گئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہاکہ مددکب آئے گی ؟ توانبیاء کرام علیہم السلام نے جواباً فرمایاکہ گھبرائونہیں آنے والی ہے ۔ یعنی یہ کلام دوجماعتوں کاہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۶:۳۷۹) امتحان سے پہلے جنت کی تمناکرنادرست نہیں ہے (أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ)قَبْلَ أَنْ تُبتَلُوا وَتُخْتَبَرُوا وَتُمْتَحَنُوا،کَمَا فُعِلِ بِالَّذِینِ مِنْ قَبْلِکُمْ مِنَ الْأُمَمِالْأَمْرَاضُ وَالْأَسْقَامُ، وَالْآلَامُ، وَالْمَصَائِبُ وَالنَّوَائِبُ(وَزُلْزِلُوا)خَوْفًا مِنَ الْأَعْدَاء ِ زلْزالا شَدِیدًا، وَامْتُحِنُوا امْتِحَانًا عَظِیمًا۔ ترجمہ :حافظ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کامطلب یہ ہے کہ آزمائش اورامتحان سے پہلے جنت کی آرزوئیں کرناٹھیک نہیں ہے ، کیونکہ پہلی امتوں کابھی امتحان لیاگیا، انہیں بھی بیماریاں ، مصیبتیں پہنچیں ، باساء کے معنی فقیری اورضراء کے معنی سخت بیماری کے ہیں اوران پر دشمنوں کاخوف اس قدرطاری ہواکہ کانپنے لگے ۔ ان تمام سخت امتحانوں میں وہ کامیاب ہوئے اورجنت کے مالک بنے ۔ (تفسیر القرآن العظیم :أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (ا:۵۷۱) مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی کاتوضیحی کلام حضرت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ{ حسبتم }میں اہل ایمان سے خطاب ہے کیونکہ نبی کریمﷺنے نہ کبھی یہ خیال فرمایااورنہ فرماسکتے ہیں ، بعض مفسرین نے فرمایاکہ اس آیت کریمہ میںحضورتاجدارختم نبوت ﷺکوبھی خطاب ہے ، اس کامطلب یہی ہے کہ خطاب رسول کریم ﷺسے مگرمسلمانوں کوسنانامنظورہے ۔ خیال رہے کہ اس قسم کے مضامین سامعین کو شوق دلانے کے لئے ہوتے ہیں، اس کامقصد یہ نہیں ہوتاکہ سامع کے دل میں ایساخیال پیداہوچکاتھایاوہ بزدل ہوچکے ، یہ آیت کریمہ تو مدنیہ ہے جو بعد ہجرت نازل ہوئی ۔ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہجرت سے پہلے وہ جانبازیاں کیں کہ زمانہ انہیں ہمیشہ یادرکھے گا، بعد ہجرت بھی اس آیت کے نزول سے پہلے ان کی قربانیاں زندہ وجاویدرہیں گی ۔ (تفسیرنعیمی ا زمفتی احمدیارخان نعیمی ( ۲: ۳۳۷)

عوام کی دین دشمنی تب عروج پر تھی توآج۔۔۔۔

فنحن اولی بمقاساۃ أمثال ہذہ الشدائد خصوصا فی ہذا الزمان الذی لا تجد بدا من طعن الناس وإذا ہم إذ البلاء علی الأنبیاء ثم علی الأولیاء تم الأمثل فالامثل۔ ترجمہ:حضرت سیدناامام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہمارازمانہ بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ جیسے آلام ومصائب سے کم نہیں ہے جب کہ ہمیں اسلامی روایات اوراسلامی احکامات پر عمل کرنے کی وجہ سے عوام سے قسم وقسم کی طعن وتشنیع سننے کوملتی ہے ، ہمیں ان کی طعن وتشنیع پر صبرکرناچاہئے کیونکہ اللہ تعالی کاقانون ہے کہ مصائب وآلام سب سے زیادہ انبیاء کرام علیہم السلام پرہوتے ہیں ۔ان کے بعدان کی اتباع میں اولیاء اللہ کو ، پھراسی طرح جتناجو حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی بارگاہ کے قریب ہوگااس قدرمصائب وآلام پہنچیں گے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی (۱:۳۳۰) یہ تواس وقت کی بات ہے جب پروفیسرنہیں تھے ، یونیورسٹی نہیں تھی اورمیڈیاپربیٹھے ہوئے دین دشمن دین کے خلاف بکواسات نہیں کرتے تھے ، تب یہ حال تھاکہ عوام علماء کرام پردین پر عمل کرنے کی وجہ سے طعن وتشنیع کرتے تھے توآج توپھرہرہرادارہ دین دشمنوں سے بھراہواہے اورآج توہرہر شہرمیں مرزاقادیانی ملعون کاماننے والاموجود ہے اوردین متین کے خلاف بکواسات کی جارہی ہیں ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کفارکے ظلم وستم

جتنابارگاہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے قریب ہوگااتناہی مصیبت زیادہ آئے گی عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ:قُلْتُ:یَا رَسُولَ اللَّہِ، أَیُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاء ً؟ قَالَ:الأَنْبِیَاء ُ ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ، فَیُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلَی حَسَبِ دِینِہِ، فَإِنْ کَانَ دِینُہُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلَاؤُہُ، وَإِنْ کَانَ فِی دِینِہِ رِقَّۃٌ ابْتُلِیَ عَلَی حَسَبِ دِینِہِ، فَمَا یَبْرَحُ البَلَاء ُ بِالعَبْدِ حَتَّی یَتْرُکَہُ یَمْشِی عَلَی الأَرْضِ مَا عَلَیْہِ خَطِیئَۃٌ: ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ وَفِی البَاب عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، وَأُخْتِ حُذَیْفَۃَ بْنِ الیَمَانِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ أَیُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاء ً؟ قَالَ:الأَنْبِیَاء ُ، ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ۔ ترجمہ:حضرت سیدنا سعدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کی:یا رسولَ اللہ ﷺ!، لوگوں میںسب سے زیادہ سخت آزمائش کس کی ہوتی ہے ؟آپﷺنے ارشاد فرمایا:انبیاء ِکرام علیہم السلام کی، پھر درجہ بدرجہ مُقَرَّب بندوں کی،آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر دین میں مضبوط ہو تو سخت آزمائش ہوتی ہے اور اگر دین میں کمزور ہو تو اس کے دین کے حساب سے آزمائش کی جاتی ہے۔بندے کے ساتھ یہ آزمائشیں ہمیشہ رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ زمین پر ا س طرح چلتا ہے کہ ا س پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی(۴:۶۰۱)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکااللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کرنا

ووقع ذلک للرسول علیہ السلام حین وقع لہ ضجر شدید قبل فتح مکۃ فقال فی یوم الأحزاب حیث لم یبق لاصحابہ صبر حتی ضجوا وطلبوا النصرۃ فارسل اللہ ریحا وجنودا وہزم الکفار بہماومن شدائدہ علیہ السلام غزوۃ الخندق حین أصاب المسلمین ما أصابہم من الجہد وشدۃ الخوف والبرد وضیق العیش وانواع الأذی کما قال تعالی وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَناجِرَ ولو اطلعت علی ما أصابہم من عداوۃ الیہود واسرار النفاق وأذی القوم یمینا وشمالا ببذل المجہود حین ہاجروا الی المدینۃ لکفی ذلک عبرۃ فی ہذا الباب۔ ترجمہ:حضرت سیدناامام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو بھی ایک موقع ایسادرپیش ہوا فتح مکہ سے پہلے آپ ﷺکو تکالیف ومصائب پہنچے ، آپ ﷺنے یوم احزاب میں جب کہ آپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے صبرکاپیمانہ لبریزہوگیااورآپ ﷺکو بھی طرح طرح کی تکلیفیں پہنچیں تواللہ تعالی سے فتح ونصرت کی دعامانگنے لگے تواللہ تعالی نے بہترین ہوابھیجی اورکفارکے مقابلہ کے وقت اپنالشکرملائکہ کرام علیہم السلام کو بھیجاجس کی وجہ سے کفارومشرکین کوشکست ہوگئی۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی منجملہ تکالیف وشدائد میں سے ایک خندق کاموقع بھی ہے ، جب کہ مسلمانوں کو سخت سے سخت تکلیف کے علاوہ شدیدخوف اورسردی اوررزق کی تنگی اورمختلف قسم کے دکھ پہنچے چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا:{وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَناجِرَ}بہرحال انہیں جو دکھ یہودونصاری اورمنافقین سے پہنچے اورجتنی تکالیف مشرکین سے پہنچیں کہ ہر ممکن مسلمانوں کوپریشان کرنے کی کوشش کی جاتی تھی خصوصاً مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کادوربہت بڑاپرفتن تھالیکن ان حضرات نے صبرکادامن ہاتھ سے نہ جانے دیا، ان حضرات کے ان واقعات سے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہئے ان کی طرح ہمیں بھی اسلام کی راہ میں دردوآلام میں صبروتحمل سے کام لیناچاہئے۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی (۱:۳۳۰) حضرت سیدناخباب رضی اللہ عنہ کاحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی بارگاہ میں شکایت کرنا وعن خباب بن الأرت رضی اللہ تعالی عنہ قال لما شکونا الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما نلقی من المشرکین قال (ان من کان قبلکم من الأمم کانوا یعذبون بانواع البلاء فلا یصرفہم ذلک عن دینہم حتی ان الرجل کان یوضع علی رأسہ المنشار فیشق فلقتین ویمشط الرجل بأمشاط الحدید بما دون العظم من لحم وعصب ما یصرفہ ذلک عن دینہ وایم اللہ لیتمن اللہ ہذا الأمر حتی یسیر الراکب منکم من صنعاء الی حضرموت لا یخشی الا اللہ والذئب علی غنمہ ولکنکم تعجلون)قالوا کل نبی بعث الی أمتہ اجہد حتی قال متی نصر اللہ۔ ترجمہ :حضرت سیدناخباب ابن الارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی بارگاہ میں عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!ہمیں کفارومشرکین بہت زیادہ تکالیف دیتے ہیں ، آپ ﷺنے ہمیں تسلی دی اورفرمایا: تمھارے سے پہلی امتوں کو بہت بڑی سخت تکالیف دی جاتی تھیں ، تب بھی وہ اپنے دین سے نہ ہٹے ، انہیں ایسے عذاب میں مبتلاء کیاجاتاکہ ان کے مرد کے سرپرآرہ رکھاجاتاتو اس کے جسم کے دوٹکڑے کردیئے جاتے تھے اورکسی کے سرپرلوہے کاکنگھارکھاجاتاتو اس کی ہڈیاں گوشت اورپٹھے علیحدہ علیحدہ کردئیے جاتے تھے ، پھربھی وہ اپنے دین پرقائم رہتے تھے ۔ اللہ تعالی ہمارے اسلام پر احسان فرمائے گاکہ تمھاراسوارصنعاء سے حضرموت تک اکیلاچلاجائے گااس وقت اسے اللہ تعالی کے علاوہ کسی کاکوئی خوف نہیں ہوگااورایک وقت آئے گاکہ بکری کو بھیڑیئے سے کوئی خوف نہیں ہوگالیکن تم معاملہ میں عجلت کرتے ہو، گزشتہ دور میں ہر وہ نبی جو اپنی امت کے لئے مبعوث ہو ئے انہیں جب مصائب وتکالیف کاسامناکرناپڑاتوکہتے {مَتٰی نَصْرُ اللہ} اللہ تعالی کی مددکب آئے گی؟۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی (۱:۳۳۰)

معارف ومسائل

(۱)اس سے معلوم ہوا کہ تمام امتوں میں کئی حکمتوں اور مَصلحتوں کے پیش ِنظر اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ جاری رہا ہے کہ وہ ایمان والوں کو آزمائشوں میں مبتلا فرماتا ہے ،لہٰذا اس کے برخلاف ہونے کی توقّع رکھناجائز نہیں اوریاد رہے کہ اس امت سے پہلے لوگوں پر انتہائی سخت آزمائشیں اور مصیبتیں آئی ہیں ،لیکن پہلے لوگوں نے ان مصیبتوں ا ور آزمائشوں پر صبر کیا اور اپنے دین پر اِستقامت کے ساتھ قائم رہے،یونہی ہم پر بھی آزمائشیں اور مصیبتیں آئیں گی تو ہمیں بھی چاہئے کہ سابقہ لوگو ں کی طرح صبر و ہمت سے کام لیں اور اپنے دین کے احکامات پر مضبوطی سے عمل کرتے رہیں ۔ (۲)اشاعت اسلا م، کار تبلیغ ودعوت، اسلامی تعلیمات کو وسیع و رائج کرنے اور تعلیم قرآن وحدیث میں عظیم ملی وشرعی فریضہ کی ادائیگی میں جدوجہد، تگ و دو اور سعی پیہم کرنے والوں میں سب سے اعلیٰ، ارفع اور قائدانہ مقام طبقہء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہے، اسلام کا کل کائنات میں پھیلا ہوا موجودہ عالمی منظر نامہ، وسیع دائرہ اسلام اور لامحدود جغرافیہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سنہری کوششوں، مخلصانہ کاوشوں، بے پناہ جدوجہد اور مساعی جمیلہ کی رہین منت ہے واقعہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسلامی دعوت وتبلیغ کی راہ میں حائل موانع، سخت ترین دشواریوں، طبقاتی کشمکشوں اور ڈھیر سارے، بے شمار مسائل و مصائب کے باوجود، بھرپور ثبات قدمی کا مظاہرہ کیا، اسلام کی تبلیغ اور اس کے نشر واشاعت کی غرض سے تن من سب کی بازی لگادی اورایسی قربانیاں دیں کہ آج تک اقوام عالم ان کی سرفروشی، جانکاہی، بردباری، تحمل مزاجی، مال وزر کی قربانی اور ان کے جذبہء فداکاری کو فراموش نہیں کرسکی جب کسی ملک، کسی علاقے یا کسی شہر میں اسلام کے پس منظر اور مسلمانوں کے وجودکی بابت، کوئی واقعاتی پہلو قابل وضاحت ہوتا ہے یا کہیں اسلام کے حوالے سے اس کے مبلغین اور اشاعت اسلام کے نقباء کو جاننے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس مقام پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کی راہ میں لامتناہی اور بے شمار جدوجہد کی لکیریں درج اور زبردست مساعی و قربانیوں کی داستانِ عزیمت ودعوت ثبت ہوتی ہیں۔ (۳) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اس کے کلمات کسی شک کی وجہ سے نہ تھے بلکہ بحالت اضطراربمتضائے بشریت اس کی نوبت آئی۔لھذاانبیاء کرام علیہم السلام اوران کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کوئی الزام نہیں ہے ۔ (۴)نیکی کی رغبت دینے کے لئے گزشتہ لوگوں کے کارنامے سناناسنت الہیہ ہے ۔ نیکی میں دوسروں کی حرص کرنااورسب سے آگے بڑھنے کی کوشش کرناجائز ہے بلکہ باعث ثواب ہے دنیوی حرص گناہ ہے۔انسان کو چاہئے کہ وہ دینی معاملات میں ہمیشہ اپنے سے اونچے کو دیکھے تاکہ دل میں شیخی پیدانہ ہو۔ (۵) اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ دنیوی رنج وغم اورپریشانی کادل پہ اثرہوناخلاف نبوت نہیں ہے ۔ جیسے زہریلی اورنقصان دہ چیزوں کااثرانبیاء کرام علیہم السلام کے جسم پر ہوسکتاہے ایسے ہی یہاں کی پریشانیوں کادل پر اثرہوسکتاہے ۔ ہاں یہ ضرورہے کہ کوئی بھی پریشانی ان کو ان کے مقصدسے پیچھے نہیں ہٹاسکتی۔ (۶) ا س سے یہ بھی معلوم ہواکہ دنیوی تکلیفیں رب تعالی کی ناراضی کی علامت نہیں ہیں ، ایسے ہی یہاں کاسکون اورمال ودلت اللہ تعالی کی رضاکی دلیل نہیں ہے ، بہت مرتبہ اللہ تعالی کے نیک لوگوں کو غم اوردشمنوں کو راحتیں اورسکون مل جاتاہے ۔ اہل محبت کے لئے غم ورنج ترقی کازینہ ہے ۔( از مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی ) (۷) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جنت کے حصول کے لئے تکالیف اٹھاناپڑتی ہیں ، نماز کے لئے نیندقربان کرناپڑتی ہے ، جھوٹ ، غیبت سے رکنابہت مشکل کام ہے۔ حرام ا ٓسانی کے ساتھ میسرآرہاہوتواس کو چھوڑنانفس پر بڑاگراں ہے ۔ اسی طرح جہاد سے ہم گھبراتے ہیں ، ہمارے حکمران کفارکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرنے کی ہمت نہیں رکھتے کیونکہ انہیں اپنی کرسی کے چھن جانے کاخوف ہے اوربلکہ انہیں اپنی جانوں کاڈرہے ۔ (۹) اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہواکہ جنت کے حصول کے لئے مال وجان اوراولاد کی قربانی بھی دینی پڑتی ہے، مگرآج ہمارے لوگوں نے جنت کاحصول انتہائی آسان سمجھ رکھاہے ، جس طرح آج ہمارے مولوی اورپیرجنت تقسیم کررہے ہیں اس طرح توکوئی ریوڑیاں بھی نہیں بانٹتا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh