صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2190 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۱۶ ۔ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَہُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْـًا وَّہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْـًا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ}(۲۱۶)

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,235

سوال (Question):

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۱۶ ۔ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَہُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْـًا وَّہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْـًا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ}(۲۱۶)

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جہادکے متعلق اسلامی نظریات

{کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَہُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْـًا وَّہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْـًا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ}(۲۱۶) ترجمہ کنزالایمان :تم پر فرض ہوا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرناتم پرفرض ہوااوروہ تمھیں ناگوارہے اورقریب ہے کہ کوئی بات تمھیں پسندنہ ہوحالانکہ وہ تمھارے لئے بہترہواورقریب ہے کہ کوئی بات تمھیں پسندہوحالانکہ وہ تمھارے حق میں بری ہو اوراللہ تعالی جانتاہے اورتم نہیں جانتے۔

جہاد کی فرضیت کیوں ؟

فَکَانَ الْقِتَالُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرْضَ عَیْنٍ عَلَیْہِمْ، فَلَمَّا اسْتَقَرَّ الشَّرْعُ صار علی الکفایۃ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی: ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی معیت میں جہاد کرنافرض عین تھا، پھرجب شریعت حقہ مضبوط ہوگئی اورقرارپکڑگئی تو جہاد فرض کفایہ ہوگیا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۳:۳۷) اس سے ثابت ہواکہ جہاد کی فرضیت ہی شریعت حقہ کو مضبوط کرنے کے لئے ہوئی ، یعنی جب جب شریعت کے خلاف دشمنی کی آندھیاں چلیں تب تب جہاد فرض ہوجائے گا۔ آج کے حالات کو دیکھاجائے تو ہر طرف دین پر حملے ہورہے ہیں ، ہر دوسراشخص دین متین کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے مگرہمارے حکمران ہی بے دین ہیں ان کے لئے ساراکچھ ان کی کرسی ہے ۔ جہاد کانام لیتے ہی ان کے اجسام پر لرزہ طاری ہوجاتاہے۔

دفاع ِ دین کے لئے جہاد کرنا

ہَذَا إِیجَابٌ مِنَ اللَّہِ تَعَالَی لِلْجِہَادِ عَلَی الْمُسْلِمِینَ أَنْ یَکُفُّوا شَرَّ الْأَعْدَاء ِ عَنْ حَوْزَۃِ الْإِسْلَامِ۔ ترجمہ :حافظ ابن کثیرالمتوفی : ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ دشمنان اسلام سے دین اسلام کے تحفظ کے لئے جہاد کی فرضیت کااس آیت کریمہ میں حکم دیاگیاہے ۔ (تفسیرابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۱:۴۲۸)

جہاد فرض عین یافرض کفایہ ؟

قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ:قُلْتُ لِعَطَاء ٍ:أَوَاجِبٌ الْغَزْوُ عَلَی النَّاسِ فِی ہَذِہِ الْآیَۃِ؟فَقَالَ:لَا، إِنَّمَا کُتِبَ عَلَی أُولَئِکَ وَقَالَ الْجُمْہُورُ مِنَ الْأُمَّۃِ:أَوَّلُ فَرْضِہِ إِنَّمَا کَانَ عَلَی الْکِفَایَۃِ دُونَ تَعْیِینٍ،غَیْرَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا اسْتَنْفَرَہُمْ تَعَیَّنَ عَلَیْہِمُ النَّفِیرُ لِوُجُوبِ طَاعَتِہِ۔ ترجمہ:امام ابن جریج رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدناعطاء رحمہ اللہ تعالی سے سوال کیاکہ کیااس آیت کریمہ کے مطابق لوگوں پر جہاد فرض عین ہے؟ تو انہوںنے جواب دیاکہ نہیں ، بلاشبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرفرض عین تھااوراس امت میں جمہورنے یہ کہاہے کہ جہاد کی پہلی فرضیت ہی فرض کفایہ تھی نہ کہ فرض عین ، مگریہ کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺجب انہیں جہاد کے لئے نکلنے کی دعوت دیتے تھے تو ان پر جہاد کے لئے نکلنافرض عین ہوجاتاتھاکیونکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی اطاعت وپیروی فرض عین ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۳:۳۷)

جہاد فرض عین کب ہوتاہے ؟

وَالَّذِی اسْتَمَرَّ عَلَیْہِ الْإِجْمَاعُ أَنَّ الْجِہَادَ عَلَی کُلِّ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرْضُ کِفَایَۃٍ، فَإِذَا قَامَ بِہِ مَنْ قَامَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ سَقَطَ عَنِ الْبَاقِینَ، إِلَّا أَنْ یَنْزِلَ الْعَدُوُّ بِسَاحَۃِ الْإِسْلَامِ فَہُوَ حِینَئِذٍ فَرْضُ عَیْنٍ۔ ترجمہ:امام ابن عطیہ المتوفی :۵۴۲ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جس پر مسلسل اجماع چلاآرہاہے وہ یہ ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی امت کے ا فراد پر جہاد فرض کفایہ ہے ، جب مسلمانوں میں سے کچھ افراد یہ فریضہ اداکرلیں تو باقیوں سے ساقط ہوجاتاہے ۔ ہاں اگردشمن حملہ کرکے دارالسلام میں داخل ہوجائے تو اس وقت جہاد فرض عین ہوجاتاہے ۔ (تفسیرابن عطیہ :عبد الحق بن غالب بن عبد الرحمن بن تمام بن عطیۃ الأندلسی المحاربی(۱:۲۸۹)

جہاد ہرشخص پرفرض ہے

عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،فِی قَوْلِ اللَّہِ:کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَہُوَکُرْہٌ لَکُمْ فَالْجِہَادُ مَکْتُوبٌ عَلَی کُلِّ أَحَدٍ، غَزَا أَوْ قَعَدَ فَالْقَاعِدُ، عُدَّۃٌ، إِنِ اسْتُعِینَ بِہِ أَعَانَ، وَإِنِ اسْتُغِیثَ بِہِ أَغَاثَ، وَإِنِ اسْتُنْفِرَ نَفَرَ،وَإِنِ اسْتُغْنِیَ عَنْہُ قَعَدَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابن شہاب رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جہاد ہرشخص پر فرض ہے خواہ وہ بیٹھارہے یاجہاد میں شریک ہو، پیچھے رہنے سے اگرمددطلب کی جائے تومددکرے ، اس سے استغاثہ کیاجائے تومعاونت کرے ، اگراس کی ضرورت نہ ہوتوبیٹھارہے۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد التمیمی، الحنظلی(۲:۳۸۳)

جہاد کے ناپسندہونے کامطلب

وَإِنَّمَا کَانَ الْجِہَادُ کُرْہًا لِأَنَّ فِیہِ إِخْرَاجَ الْمَالِ وَمُفَارَقَۃَ الْوَطَنِ وَالْأَہْلِ، وَالتَّعَرُّضَ بِالْجَسَدِ لِلشِّجَاجِ وَالْجِرَاحِ وَقَطْعِ الْأَطْرَافِ وَذَہَابِ النَّفْسِ، فَکَانَتْ کَرَاہِیَتُہُمْ لِذَلِکَ، لَا أَنَّہُمْ کَرِہُوا فَرْضَ اللَّہِ تَعَالَی۔ ترجمہ :یقیناجہاد کی ایک مشقت ہے کیونکہ اس میں مال خرچ کرناہوتاہے ، وطن اوراہل وعیال کو چھوڑناہوتاہے اوراپنے جسم کو زخم کھانے ، اعضائے بدن کوکٹوانے اوراپنی جان کو قربان کرنے کے لئے پیش کرناہوتاہے ۔ سوان کی ناپسندیدگی کاسبب یہی ہے نہ کہ یہ کہ انہوںنے اللہ تعالی کے حکم اورفرض کو ناپسندکیا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۳:۳۷)

پسندوناپسندکافیصلہ ہماری عقل نے نہیں کرنابلکہ۔۔۔۔

عَن ابْن عَبَّاس قَالَ:کنت رَدِیف رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم فَقَالَ یَا ابْن عَبَّاس ارْض عَن اللہ بِمَا قدر وَإِن کَانَ خلاف ہَوَاک فَإِنَّہُ مُثبت فِی کتاب اللہ قلت:یَا رَسُول اللہ فَأَیْنَ وَقد قَرَأت الْقُرْآن قَالَ (وَعَسَی أَن تکْرہُوا شَیْئا وَہُوَ خیر لکم وَعَسَی أَن تحبوا شَیْئا وَہُوَ شَرّ لکم وَاللہ یعلم وَأَنْتُم لَا تعلمُونَ)۔ ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی سواری پرآپ ﷺکے پیچھے سوارتھا، آپ ﷺنے فرمایا: اے عبداللہ !جو اللہ تعالی مقدرفرمادے اس پرراضی ہوجا، اگرچہ وہ تیری خواہش کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ یہی چیز اللہ تعالی کے قرآن کریم سے ثابت ہے ۔ میں نے عرض کی : یارسول اللہﷺ! یہ کیسے ؟ جبکہ میں نے بھی قرآن کریم پڑھاہے۔ توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی {کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَہُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْـًا وَّہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْـًا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ}۔ (التَّفْسِیرُ البَسِیْط:أبو الحسن علی بن أحمد بن محمد بن علی الواحدی، النیسابوری، الشافعی (۴:۱۳۶)

آیت کے معنی کے متعلق امام الرازی کی تقریردلپذیر

مَعْنَی الْآیَۃِ أَنَّہُ رُبَّمَا کَانَ الشَّیْء ُ شَاقًّا عَلَیْکُمْ فِی الْحَالِ، وَہُوَ سَبَبٌ لِلْمَنَافِعِ الْجَلِیلَۃِ فِی الْمُسْتَقْبَلِ وَبِالضِّدِّ، وَلِأَجْلِہِ حَسُنَ شُرْبُ الدَّوَاء ِ الْمُرِّ فِی الْحَالِ لِتَوَقُّعِ حُصُولِ الصِّحَّۃِ فِی الْمُسْتَقْبَلِ، وَحَسُنَ تَحَمُّلُ الْأَخْطَارِ فِی الْأَسْفَارِ لِتَوَقُّعِ حُصُولِ الرِّبْحِ فِی الْمُسْتَقْبَلِ،وَحَسُنَ تَحَمُّلُ الْمَشَاقِّ فِی طَلَبِ الْعِلْمِ لِلْفَوْزِ بالسعادۃ العظیمۃ فی الدنیا وفی العقبی،وہاہنا کَذَلِکَ وَذَلِکَ لِأَنَّ تَرْکَ الْجِہَادِ وَإِنْ کَانَ یُفِیدُ فِی الْحَالِ صَوْنَ النَّفْسِ عَنْ خَطَرِ الْقَتْلِ،وَصَوْنَ الْمَالِ عَنِ الْإِنْفَاقِ،وَلَکِنْ فِیہِ أَنْوَاعٌ مِنَ الْمَضَارِّ مِنْہَا: أَنَّ الْعَدُوَّ إِذَا علم میلکم إلی الدعۃ والسکون قصۃ بِلَادَکُمْ وَحَاوَلَ قَتْلَکُمْ فَإِمَّا أَنْ یَأْخُذَکُمْ وَیَسْتَبِیحَ دِمَاء َکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ، وَإِمَّا أَنْ تَحْتَاجُوا إِلَی قِتَالِہِمْ مِنْ غَیْرِ إِعْدَادِ آلَۃٍ وَسِلَاحٍ، وَہَذَا یَکُونُ کَتَرْکِ مُدَاوَاۃِ الْمَرَضِ فِی أَوَّلِ ظُہُورِہِ بِسَبَبِ نُفْرَۃِ النَّفْسِ عَنْ تَحَمُّلِ مَرَارَۃِ الدَّوَاء ِ، ثُمَّ فِی آخِرِ الْأَمْرِ یَصِیرُ الْمَرْء ُ مُضْطَرًّا إِلَی تَحَمُّلِ أَضْعَافِ تِلْکَ النُّفْرَۃِ وَالْمَشَقَّۃِ، وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْقِتَالَ سَبَبٌ لِحُصُولِ الْأَمْنِ، وَذَلِکَ خَیْرٌ مِنَ الِانْتِفَاعِ بِسَلَامَۃِ الْوَقْتِ،وَمِنْہَا وِجْدَانُ الْغَنِیمَۃِ، وَمِنْہَاالسُّرُورُ الْعَظِیمُ بِالِاسْتِیلَاء ِ عَلَی الْأَعْدَاء ِأَمَّا مَا یَتَعَلَّقُ بِالدِّینِ فَکَثِیرَۃٌ،مِنْہَا مَا یَحْصُلُ لِلْمُجَاہِدِ مِنَ الثَّوَابِ الْعَظِیمِ إِذَا فَعَلَ الْجِہَادَ تَقَرُّبًا وَعِبَادَۃً وَسَلَکَ طَرِیقَۃَ الِاسْتِقَامَۃِ فَلَمْ یُفْسِدْ مَا فَعَلَہُ،وَمِنْہَا أَنَّہُ یَخْشَی عَدُوُّکُمْ أَنْ یَسْتَغْنِمَکُمْ فَلَا تَصْبِرُونَ عَلَی الْمِحْنَۃِ فَتَرْتَدُّونَ عَنِ الدِّینِ،وَمِنْہَا أَنَّ عَدُوَّکُمْ إِذَا رَأَی جَدَّکُمْ فِی دِینِکُمْ وَبَذْلَکُمْ أَنْفُسَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ فِی طَلَبِہِ مَالَ بِسَبَبِ ذَلِکَ إِلَی دِینِکُمْ فَإِذَا أَسْلَمَ عَلَی یَدِکُمْ صِرْتُمْ بِسَبَبِ ذَلِکَ مُسْتَحِقِّینَ لِلْأَجْرِ الْعَظِیمِ عِنْدَ اللَّہِ، وَمِنْہَا أَنَّ مَنْ أَقْدَمَ عَلَی الْقِتَالِ طَلَبًا لِمَرْضَاۃِ اللَّہِ تَعَالَی کَانَ قَدْ تَحَمَّلَ أَلَمَ الْقَتْلِ بِسَبَبِ طَلَبِ رِضْوَانِ اللَّہِ، وَمَا لَمْ یَصِرِ الرَّجُلُ مُتَیَقِّنًا بِفَضْلِ اللَّہِ وَبِرَحْمَتِہِ وَأَنَّہُ لَا یُضِیعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِینَ،وَبِأَنَّ لَذَّاتِ الدُّنْیَا أُمُورٌ بَاطِلَۃٌ لَا یَرْضَی بِالْقَتْلِ وَمَتَی کَانَ کَذَلِکَ فَارَقَ الْإِنْسَانُ الدُّنْیَا عَلَی حُبِّ اللَّہِ وَبُغْضِ الدُّنْیَا، وَذَلِکَ مِنْ أَعْظَمِ سَعَادَاتِ الْإِنْسا ن فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا أَنَّ الطَّبْعَ وَلَوْ کَانَ یَکْرَہُ الْقِتَالَ مِنْ أَعْدَاء ِ اللَّہِ فَہُوَ خَیْرٌ کَثِیرٌ وَبِالضِّدِّ، وَمَعْلُومٌ أَنَّ الْأَمْرَیْنِ مَتَی تَعَارَضَا فَالْأَکْثَرُ مَنْفَعَۃً۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کامعنی یہ ہے کہ بسااوقات کوئی چیز تمھیں حال میں بھاری اورشاق معلوم ہوتی ہو، حالانکہ وہی چیز مستقبل میں بہت عالی شان فوائد کاذریعہ بن جاتی ہے ۔ مثال کے طورپر کڑوی دواپیناایک اچھاکام ہے کیونکہ مستقبل میں اس سے صحت ملنے کی توقع ہوتی ہے ۔ تجارتی سفرکے خطرات کو برداشت کرنااچھاجاناجاتاہے ، کیونکہ مستقبل میں اس سے نفع ملنے کی امیدہوتی ہے ، علم حاصل کرنے کی مشقت برداشت کرنااچھاہے کیونکہ اس سے مستقبل میں دنیاوآخرت کی عظیم سعادتیں نصیب ہوتی ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں بالکل یہ منظرہے ، وہ اس طرح جہاد کے چھوڑنے میں فی الحال یہ فائدہ نظرآتاہے کہ جان خطرے میں نہیں پڑتی اورمال خرچ ہونے سے بچ جاتاہے ۔ مگرآگے چل کر اس کے بہت سے نقصانات ہیں ۔ مثلاً دشمن کو جب پتہ چلے گاکہ تم بہت عیش وسکون کی رغبت میں پڑگئے ہوتو وہ تمھارے شہروں پر حملے کرے گااورتمھیں ختم کرنے کی کوشش کرے گا، پھریاتوتم پر غالب آکرتمھاراخون بہائے گااورتمھارے اموال چھین لے گا۔ یاتم مجبوراً بغیرتیاری اورسامان کے اس کامقابلہ کروگے ، یاایساہوگاکہ جس طرح کوئی شخص مرض کی ابتداء میں صرف کڑوی دوائی سے بچنے کے لئے اس کاعلاج نہ کرے اورپھروہ مرض اتنابڑھ جائے کہ اسے کڑوی دواپینے سے کئی گناہ زیادہ تکلیف اورمشقت اٹھاناپڑے ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ قتال فی سبیل اللہ امن پانے کاذریعہ ہے اوریہ وقتی سلامتی کے مزے لوٹنے سے بہت بہترہے ، اس کے چندایک فائدے یہ ہیں : (۱) مال غنیمت کاملنا(۲) دشمنوں پرغلبے کی عظیم الشان خوشی کاملنااوراس کے دینی فائدے توبہت زیادہ ہیں:مثلاً(۱) اگرجہاد کو عبادت جان کرخالصتاً اللہ تعالی کے لئے کیاجائے اورکوئی ایساکام نہ کیاجائے جو اس کو خراب کردے تویہ بہت بڑے اجروثواب کاذریعہ ہے ۔(۲) جہاد کی وجہ سے تمھارادشمن اس سے ڈرے گاکہ تم پر حملہ کرے ، یوں تم تکلیف اٹھانے اورمرتد ہونے سے بچ جائوگے ۔ (۳) دشمن جب تمھیں جہاد کرتادیکھے گاکہ تم اپنے دین کو کتنااونچاسمجھتے ہواورکس طرح تم اس کی خاطراپنے مال اورجان کو لٹاتے ہوتو اس کے دل میں تمھارے دین کی عظمت آئے گی اوروہ تمھارے دین کی طرف مائل ہوگااورمسلمان ہوجائے گا۔تواس پر تم اللہ تعالی کی طرف سے اجرعظیم کے مستحق قرارپائوگے ۔(۴) جب تک کسی انسان کو اللہ تعالی کے فضل ورحمت کایقین نہ ہواوراس بات کایقین نہ ہوکہ اللہ تعالی محسنین کے عمل کو ضائع نہیں کرتااوراس بات کایقین نہ ہوکہ دنیاکی لذتیں فانی اورباطل ہیں اس وقت تک وہ اپنے آپ کو میدان جہاد میں شہادت کے لئے پیش نہیں کرتا۔ پس جب کسی شخص نے خود کو اللہ تعالی کی رضاکے لئے میدان جہاد میں شہادت کے لئے پیش کردیاتویہ شخص یقین کے اس اعلی دجے پرفائز ہے اوریہی ایک انسان کے لئے سب سے بڑی سعادت ہے ۔ پس ہماری اس تقریرسے یہ بات ثابت ہوئی کہ اللہ تعالی کے دشمنوں سے قتال کرنااگرچہ طبیعت پر بھاری معلوم ہوتاہے مگراس میں بہت زیادہ خیرہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۶:۳۸۵)

مصالح انسانی کاعلم خلاق کائنات کو ہے

وَہُوَ کُرْہٌ لَکُمْ أَیْ شَدِیدٌ عَلَیْکُمْ وَمَشَقَّۃٌ وَہُوَ کَذَلِکَ،فَإِنَّہُ إِمَّا أَنْ یُقْتَلَ أَوْ یُجْرَحَ مَعَ مَشَقَّۃِ السَّفَرِ وَمُجَالَدَۃِ الْأَعْدَاء ِثُمَّ قَالَ تَعَالَی:وَعَسی أَنْ تَکْرَہُوا شَیْئاً وَہُوَ خَیْرٌ لَکُمْ أَیْ لِأَنَّ الْقِتَالَ یَعْقُبُہُ النَّصْرُ وَالظَّفَرُ عَلَی الْأَعْدَاء ِوَالِاسْتِیلَاء ُ عَلَی بِلَادِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ وَذَرَارِیِّہِمْ وَأَوْلَادِہِمْ وَعَسی أَنْ تُحِبُّوا شَیْئاً وَہُوَ شَرٌّ لَکُمْ وَہَذَا عَامٌّ فِی الْأُمُورِ کُلِّہَا قَدْ یُحِبُّ الْمَرْء ُ شَیْئًا وَلَیْسَ لَہُ فِیہِ خِیَرَۃٌ وَلَا مَصْلَحَۃٌ، وَمِنْ ذَلِکَ الْقُعُودُ عَنِ الْقِتَالِ قَدْ یَعْقُبُہُ اسْتِیلَاء ُ الْعَدُوِّ عَلَی الْبِلَادِ وَالْحُکْمِ. ثُمَّ قَالَ تَعَالَی:وَاللَّہُ یَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ أَیْ ہُوَ أَعْلَمُ بِعَوَاقِبِ الْأُمُورِ مِنْکُمْ، وَأَخْبَرُ بِمَا فِیہِ صَلَاحُکُمْ فِی دُنْیَاکُمْ وَأُخْرَاکُمْ، فَاسْتَجِیبُوا لَہُ وَانْقَادُوا لأمرہ، لعلکم ترشدون۔ ترجمہ :حافظ ابن کثیرالمتوفی : ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حکم ِ جہاد گوتم پر بھاری پڑے گااوراس میں تمھیں مشقت اورتکلیف نظرآئے گی ، ممکن ہے کہ تم شہید ہوجائو اورممکن ہے کہ تم زخمی ہوجائو، پھرسفرکی تکلیف ، دشمنوں کی شورش کامقابلہ ہو، لیکن سمجھوتوممکن ہے تم براجانواوروہ تمھارے لئے اچھاہوکیونکہ اسی سے تمھاراغلبہ اورتمھارے دشمن کی پامالی ہے ، انکے مال اوران کے ملک اوران کے بال بچے تک بھی تمھارے قدموں میں گرپڑیں گے ، اوریہ بھی ہوسکتاہے کہ تم کسی چیز کو اپنے لئے اچھاجانواوروہ تمھارے لئے بری ہو۔ عموماً ایساہوتاہے کہ انسان کسی ایک چیز کوچاہتاہے لیکن فی الواقع اس میں کوئی مصلحت ہوتی ہے اورنہ ہی خیروبرکت ، اسی طرح گوتم جہا دنہ کرنے میں اچھائی سمجھو دراصل وہ تمھارے لئے برائی ہے ۔ کیونکہ ا س سے دشمن تمھارے اوپرغالب آجائے گااوردنیامیں قدم ٹکانے کی بھی تم کو جگہ نہیں ملے گی ۔ تمام کاموں کے انجام کاعلم محض اللہ تعالی کو ہے ، وہ جانتاہے کہ کونساکام تمھارے لئے بااعتبارانجام اچھاہے اورکونساکام بااعتبار انجام براہے ۔ وہ اسی کام کاحکم دیتاہے جس میں تمھارے لئے دونوں جہانوں کی بہتری ہو، تم اس کے احکامات دل وجان سے قبول کرلیاکرواوراس کے ہر ہر حکم کو خندہ پیشانی سے مان لیاکرو۔ اسی میں تمھارے لئے بھلائی اورعمدگی ہے ۔ (تفسیرابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۱:۴۲۸)

مردپرجہاد توعورت پر پردہ فرض کیاگیا

کُتِبَ الْقَتْلُ وَالْقِتَالُ عَلَیْنَا … وَعَلَی الْغَانِیَاتِ جَرُّ الذُّیُولِ ترجمہ :ہمارے اوپرجہاد فرض کیاگیاہے اورخواتین پر فقط کپڑے کے دامن کھینچنایعنی پردہ کرنالازم کیاگیا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۳:۳۷)

ترک جہاد کے نقصانات

جب کشمیرمیں خون کی ندیاں بہہ جائیں ،کشمیرمیں محتاط اندازے کے مطابق ۳۶ہزارکی تعدادمیں مسلمان بہنوں کو ہندومشرک اٹھاکرلے جائیں ۔ عراق میں لاکھوں لاکھ لوگوں کو شہیدکردیاجائے ، برمامیں مسلمان بچیوں کو ذبح کرکے ان کے گوشت کے کباب بناکرکافرکھاجائیں ، اورپاکستان سے عافیہ صدیقی صاحبہ کو پاکستانی امریکی غلام امریکہ کے حوالے کردے اوراس کے بدلے میں امریکہ سے ڈالرلے ۔کیااب بھی مسلمان کہہ سکتاہے کہ جہاد کرنالوگوں کو مروانے والی بات ہے ۔ان حالات کو دیکھ کر یہ بات سمجھ لینا بہت آسان ہے کہ جو قوتیں اپنے مادی اسباب و علل کے بل بوتے پر اللہ رب العزت کے نام لیواؤں کو ذلت و خواری میں مبتلا کرڈالیں اور مدعیان ایمان کو ایمان سوز اذیتوں سے معتوب کریں۔ ان کی زجر و توبیخ کے لیے اپنے تمام اسباب و علل اور تدبیروں کو مجتمع کرکے خداوند قدوس نے تلوار پکڑنے کی اجازت ہی نہیں دی بلکہ حکم دیا ہے۔ یہی لڑائی میں مقتولوں کو دائمی عزت و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔ یہی لڑائی ہے جس میں لڑنے والوں کی فضیلتوں کے قرآن اور احادیث میں بے شمار اذکار موجود ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس قسم کی لڑائی زیادتی اور ناانصافی پر مبنی ہے۔ کون دعویٰ کرسکتا ہے کہ ایسی لڑائی قانون قدرت کے منافی ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس لڑائی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور فلاح اخروی کے علاوہ کچھ اور بھی ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ لڑائی مکارم اخلاق کی سربلندی کے لیے نہیں ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ لڑائی خدائے عزوجل کی مرضی کے خلاف ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ یہ لڑائی کے معنی و محاسن مغلوب و مجبور مسلمانوں کی امداد اور ظلم و عدوان کے طاغوتوں کو مسمار کرنے کے علاوہ کچھ اوربھی نکل سکتے ہیں۔ کب کب جہاد فرض ہوتاہے ؟ تَرْکُ الْجِہَادِ عِنْدَ تَعَیُّنِہِ بِأَنْ دَخَلَ الْحَرْبِیُّونَ دَارَ الْإِسْلَامِ أَوْ أَخَذُوا مُسْلِمًا وَأَمْکَنَ تَخْلِیصُہُ مِنْہُمْ،وَتَرْکُ النَّاسِ الْجِہَادَ مِنْ أَصْلِہِ،وَتَرْکُ أَہْلِ الْإِقْلِیمِ تَحْصِینَ ثُغُورِہِمْ بِحَیْثُ یُخَافُ عَلَیْہَا مِنْ اسْتِیلَاء ِ الْکُفَّارِ بِسَبَبِ تَرْکِ ذَلِکَ التَّحْصِینِ۔ ترجمہ :امام ابن حجرالہیتمی المتوفی: ۹۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی (کبیرہ )گناہوں کی فہرست بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ فرضیت کے وقت جہاد ترک کرنے سے متعلق ہیں کہ جب حربی مسلم علاقوں میں داخل ہو جائیں یا کسی مسلمان کو قید میں لے لیں اور اسے اُن سے چھڑانا ممکن ہو اورلوگ قطعی طور پر جہاد کوتر ک کر دیں۔ اور جب کسی علاقے کے لوگ اپنی سرحدوں کی حفاظت ترک کر دیں جبکہ اس ترکِ حفاظت کی وجہ سے کفار کا ان پر قبضے کا خطرہ موجود ہو۔ (الزواجر:أحمد بن محمد بن علی بن حجر الہیتمی شہاب الدین شیخ الإسلام، أبو العباس (۲:۳۷۴)

جہاد کو ترک کرناہلاکت میں پڑناہے

عَنْ أَسْلَمَ أَبِی عِمْرَانَ التُّجِیبِیِّ،قَالَ:کُنَّا بِمَدِینَۃِ الرُّومِ، فَأَخْرَجُوا إِلَیْنَا صَفًّا عَظِیمًا مِنَ الرُّومِ، فَخَرَجَ إِلَیْہِمْ مِنَ الْمُسْلِمِینَ مِثْلُہُمْ أَوْ أَکْثَرُ، وَعَلَی أَہْلِ مِصْرَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ،وَعَلَی الجَمَاعَۃِ فَضَالَۃُ بْنُ عُبَیْدٍ، فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ عَلَی صَفِّ الرُّومِ حَتَّی دَخَلَ فِیہِمْ، فَصَاحَ النَّاسُ وَقَالُوا:سُبْحَانَ اللہِ یُلْقِی بِیَدَیْہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ.فَقَامَ أَبُو أَیُّوبَ الأَنْصَارِیُّ فَقَالَ:یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّکُمْ لَتُؤَوِّلُونَ ہَذِہِ الآیَۃَ ہَذَا التَّأْوِیلَ،وَإِنَّمَا أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃَ فِینَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ لَمَّا أَعَزَّ اللَّہُ الْإِسْلاَمَ وَکَثُرَ نَاصِرُوہُ،فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ سِرًّا دُونَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ أَمْوَالَنَا قَدْ ضَاعَتْ،وَإِنَّ اللَّہَ قَدْ أَعَزَّ الإِسْلاَمَ وَکَثُرَ نَاصِرُوہُ،فَلَوْ أَقَمْنَا فِی أَمْوَالِنَا، فَأَصْلَحْنَا مَا ضَاعَ مِنْہَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی عَلَی نَبِیِّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرُدُّ عَلَیْنَا مَا قُلْنَا(وَأَنْفِقُوا فِی سَبِیلِ اللہِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ)،فَکَانَتِ التَّہْلُکَۃُ الإِقَامَۃَ عَلَی الأَمْوَالِ وَإِصْلاَحِہَا،وَتَرْکَنَا الغَزْوَ فَمَا زَالَ أَبُو أَیُّوبَ، شَاخِصًا فِی سَبِیلِ اللہِ حَتَّی دُفِنَ بِأَرْضِ الرُّومِ. ترجمہ :حضرت سیدنااسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم روم میں تھے تورومی ہمارے مقابلے میں ایک بہت بڑے لشکر کی صف نکال کر لائے ، اور مسلمانوں میں سے ایک شخص نے رومیوں کے لشکر کی اس صف پر حملہ کر دیا اور ان میں داخل ہو گیا، تو لوگ چیخ کر کہنے لگے :سبحان اللہ!یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے حالانکہ قرآن مجید میں تو آیا ہے کہ{ وَلاَ تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ}کہ اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو!(چنانچہ حضرت سیدناابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اٹھے اور فرمایا:لوگو تم اس آیت کی یہ تاویل اور تفسیر کر رہے ہو، بلکہ یہ آیت تو ہمارے انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی، جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسلام کو عزت سے نوازا اور اسلام کے مددگار بہت زیادہ ہو گئے ، تو ہم میں سے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے راز دارانہ طریقے سے کہا اور حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو اس کا علم نہ ہونے دیا، کہ ہمارے مال ضائع ہو گئے ہیں، اور اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت سے نواز دیا ہے ، اور اس کے مددگار بھی زیادہ ہو گئے ہیں، تو اگر اب ہم جاکر اپنے اموال میں رک جائیں اورجو ضائع ہوا ہے اس کی اصلاح کر لیں!تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے قول کا جواب دیتے ہوئے اپنے نبی کریم ﷺپر یہ آیت نازل فرما دی،اور تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو، اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں مت پڑو ۔چنانچہ ہمارا اپنے اموال پر ٹھہرنا اور ان کی اصلاح کرنا)یعنی گھروں میں بیٹھے رہنا(اور جہاد اور جنگ کو ترک کرنا ہلاکت تھا، اس کے بعد حضرت سیدناابو ایوب رضی اللہ عنہ جہاد میں مشغول رہے حتی کہ وہ قسطنطنیہ میں دفن ہوئے ۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ الترمذی، أبو عیسی (۵:۶۲)

جہاد نہ کرنے والوں کو حادثات میں مبتلاء کردیاجائے گا

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ لَمْ یَغْزُ وَلَمْ یُجَہِّزْ غَازِیًا،أَوْ یَخْلُفْ غَازِیًا فِی أَہْلِہِ أَصَابَہُ اللَّہُ بِقَارِعَۃٍ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ ترجمہ:حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضوتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: جس شخص نے نہ جہاد کیاہواورنہ ہی کسی غازی کے لئے سامان تیارکیاہواورنہ ہی کسی مجاہدکے جانشین کی حیثیت سے اس کے گھروالوں کی خیرکے ساتھ دیکھ بھال کی ہوتوقیامت سے پہلے اللہ تعالی اسے سخت حادثہ میں مبتلاء فرمادے گا۔ (مسند الشامیین:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۱:۱۷۰) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ جہاد میں کسی نہ کسی طرح حصہ ضرور لے۔ اگر محاذ پرجا کر لڑنے کی قوت و قدرت نہیں تو مجاہدین کو سامان فرا ہم کرنے میں حصہ لے ، اور یہ بھی نہ ہوسکے تو مجاہدین کے اہل وعیال کی خدمت خالص اللہ کے لیے دنیوی اغراض سے پاک ہوکر کرے اور جو لوگ جہاد کے کسی کام میں حصہ نہ لیں وہ خدا کے عذاب اور مصا ئب کو دعوت دیتے ہیںکچھ عجب نہیں کہ پاکستان کے مسلمانوں کو اللہ تعالٰی نے جہاد میں حصہ لینے کے اتنے مواقع عطا فرمائے ہیں،مگرآج تک انہوںنے کبھی بھی جہاد کانام تک نہیں لیا، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے ہرآئے دن آفات ومصائب طوفان اور دوسری صورتوں میں عذاب مسلط رہتے ہیں، کبھی کفارکے حملے توکبھی وبائی امراض یہ سب کے سب ترک جہاد کی وجہ سے ہے۔اورقارعۃ مہلک بلا،مصیبت ہے جوایک دم وارد ہو جاتی ہے۔

ترکِ جہاد پر دائمی ذلت مسلط کردی جائے گی

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:إِذَا تَبَایَعْتُمْ بِالْعِینَۃِ ،وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِیتُمْ بِالزَّرْعِ،وَتَرَکْتُمُ الْجِہَادَ، سَلَّطَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ ذُلًّا لَا یَنْزِعُہُ حَتَّی تَرْجِعُوا إِلَی دِینِکُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:جب تم بیع عینہ کروگے اورگائیوں کے دم پکڑوگے اورکھیتی باڑی پرراضی ہوجائوگے اورجہاد ترک کردوگے تواللہ تعالی تم پر دائمی ذلت مسلط فرمادے گاحتی کہ پھرتم دین کی طرف لوٹ آئو۔ (سنن أبی داود:أبو داود سلیمان بن الأشعث بن إسحاق (۳:۳۷۴) حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے سچ فرمایا، کیونکہ جو بھی آج مسلمانوں کے حال پرنظر دوڑاتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ وہ مسلمان(اپنے دین کے معاملے میں حد درجہ لا پرواہی کا شکار ہیں۔ چنانچہ وہ سود خوری کرنے لگے اور دنیا کی طرف مائل ہوگئے ۔اور جہاد فی سبیل اللہ ترک کر دیاتو پھر کیا نتیجہ نکلا؟اللہ تعالی نے ان کی گردنوں میں ذلت کا طوق ڈال دیا ہے، پس وہ پناہ لینے کے لئے مشرق و مغرب کی طرف جاتے ہیں اور پست اور ذلیل ہو کراُن سے اپنے دشمنوں کے خلاف مدد مانگتے ہیں، اور یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ ان پر سے ذلت اس وقت تک نہیں ہٹے گی جب تک وہ اپنے دین کی طرف واپس نہیں لوٹ آئیں گے، جیسا کہ صادق اور مصدوق سچے اور تائید کیے گئے حبیب کریم ﷺنے خبر دی ہے۔

تارک جہاد نفاق کی موت مرے گا

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَغْزُ، وَلَمْ یُحَدِّثْ بِہِ نَفْسَہُ، مَاتَ عَلَی شُعْبَۃٍ مِنْ نِفَاقٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا ، جس شخص نے نہ کبھی جہاد کیا اور نہ اپنے دل ہی میں جہاد کا ارادہ کیا وہ ایک قسم کی نفاق پر مرے گا ۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۵۱۷) جہاد سے بھاگنے والاعیبی بن کرآئے گا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ لَقِیَ اللَّہَ وَلَیْسَ لَہُ أَثَرٌ فِی سَبِیلِ اللَّہِ، لَقِیَ اللَّہَ وَفِیہِ ثُلْمَۃٌ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: جو شخص قیامت کے روز اللہ کے سامنے اس طرح حا ضر ہوگا کہ اس کے بدن پر کوئی نشان جہاد کا نہ ہو تو وہ ایک عیب کے ساتھ اللہ سے ملے گا ۔ (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی (۲:۹۲۳) ترک جہاد کی وجہ سے عذاب کانازل ہونا عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَا تَرَکَ قَوْمٌ الْجِہَادَ إِلَّا عَمَّہُمُ اللَّہُ بِالْعَذَابِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: جو قوم جہاد ترک کردیتی ہے اللہ تعالی اسے عذاب دیتاہے۔ (المعجم الأوسط:سلیمان بن أحمد بن أیوب أبو القاسم الطبرانی (۴:۱۴۸)

ترکِ جہاد کانقصان

وَتَرْکَ الْقِتَالِ وَہُوَ شَرُّ لَکُمْ فِی أَنَّکُمْ تُغْلَبُونَ وَتَذِلُّونَ وَیَذْہَبُ أَمْرُکُمْ قُلْتُ:وَہَذَا صَحِیحٌ لَا غُبَارَ عَلَیْہِ، کَمَا اتَّفَقَ فِی بِلَادِ الْأَنْدَلُسِ، تَرَکُوا الْجِہَادَ وَجَبُنُوا عَنِ الْقِتَالِ وَأَکْثَرُوا مِنَ الْفِرَارِ، فَاسْتَوْلَی الْعَدُوُّ عَلَی الْبِلَادِ، وَأَیُّ بِلَادٍ؟!وَأَسَرَ وَقَتَلَ وَسَبَی وَاسْتَرَقَّ، فَإِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ ذَلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ أَیْدِیَنَا وَکَسَبَتْہُ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالمتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اورتم جہاد کوترک کردینے کو پسندکروحالانکہ وہ تمھارے حق میں براہو، اس اعتبارسے کہ تم پرکافرغلبہ پالیں ، تمھیں رسوائی اورذلت پر مجبورکیاجائے اورتمھارے اختیارات ختم کردئیے جائیں ۔ میں یہ بھی کہتاہوں کہ یہ صحیح ہے اوراس پر کوئی غباراورشک نہیں ہے جیساکہ بلاد اندلس میں ہواہے ، ان لوگوں نے جہاد کو ترک کردیا، انہوںنے جہاد کرنے میں بزدلی کامظاہرہ کیااوراکثراوقات میدان جہاد سے راہ فراراختیارکی تونتیجتاً دشمن وہاں کے شہروں پر قابض ہوگئے ،پھروہاں کے باسیوں کے ساتھ کیاہوا؟ انہیں قیدی بنایاگیا، قتل کیاگیا، جلاوطن کیاگیا، دشمن نے انہیں اپناغلام بنالیا{ فَإِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ}یہ سب کچھ ہمارے ہاتھوں کاکیاہواتھااوران کی کمائی تھی۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۳:۳۷) تاریخ شاہدہے کہ جہاد سے طبعی ناگواری کی بناء پر بھاگنے والوں پر جب عذاب آیااوردشمن نے انہیں خاک وخون میں تڑپادیاتواب انہیں احساس ہواکہ ہم نے بڑی غلطی کی ہے جو جہاد جیسے مبارک عمل کو ترک کیا، اگر ہم جہاد پر عمل پیراہوتے توآج کادن ہم کو نہ دیکھناپڑتا۔

معارف ومسائل

(۱)لفظ جہاد کا مادہ ج ھ د ہے جو مختلف الفاظ سے مشتق ہے۔ قرآن حکیم میں یہ لفظ کم و بیش ۳۸ مقامات پر اپنے مادہ کی مختلف مشتقات کی اشکال میں نظر آتا ہے۔ سورہ بقرہ میں ایک مرتبہ سورہ آل عمران میں ایک مرتبہ، سورہ نساء میں۳مرتبہ، سورہ مائدہ میں ۳ مرتبہ، سورہ انعام میں ایک مرتبہ، سورہ توبہ میں یہ لفظ مختلف صورتوں میں ۱۲ مرتبہ، سوہ نحل میں دو مرتبہ، سورہ الحج میں ایک مرتبہ، سورہ النور میں ایک مرتبہ، سورہ فرقان میں دو مرتبہ، سورہ لقمان میں ایک مرتبہ، سورہ فاطر میں ایک مرتبہ، سورہ الحجرات میں ایک مرتبہ، سورہ محمدﷺمیں ایک مرتبہ، سورہ صف میں ایک مرتبہ اور سورہ ممتحنہ میں ایک مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ (۲)جہاد فرض ہے جب اس کی شرائط پائی جائیں اور اگر کافر مسلمانوں کے ملک پر حملہ کردیں تو جہاد فرض عین ہوجاتا ہے ورنہ فرض کفایہ۔ فرمایا گیا کہ تم پر جہاد فرض کیا گیا اگرچہ یہ تمہیں طبعی اعتبار سے ناگوار ہے اور تمہارے اوپر شاق ہے لیکن تمہیں طبعی طور پر کوئی چیز ناگوار ہونا اس بات کی علامت نہیں کہ وہ چیز ناپسندیدہ اور نقصان دہ ہے جیسے کڑوی دوائی، انجکشن اورآپریشن طبعی طور پر ناپسند ہوتے ہیں لیکن نقصان دہ نہیں بلکہ نہایت فائدہ مند ہیں۔ یونہی کسی چیز کا تمہیں پسند ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ اچھی اور مفید ہے۔ بچے کو پڑھائی کی جگہ ہر وقت کھیلتے رہنا پسند ہوتا ہے ، شوگر کے مریض کو مٹھائی پسند ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں یہ چیزیں اس کیلئے مفید بھی ہیں بلکہ نقصان دہ ہیں۔ لہٰذا اے مسلمانو!اچھا یا برا ہونے کا مدار اپنی سوچ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر رکھو۔ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا وہ بہرحال ہمارے لئے بہتر ہے اور جس سے منع فرمایا وہ بہرحال ہمارے لئے بہتر نہیں ہے۔( تفسیرصراط الجنان ( ۱: ۳۳۱) (۳)حضرت سیدناامام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ حق گوئی و بے نیازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ آپ بارہ لاکھ نوے ہزار سے زائد مسائل کے مدون تھے۔ آپ کو بنی امیہ کے آخری حاکم عراق نے تازیانے لگوائے۔ خلیفہ ابوجعفر منصور نے آپ کو سالہا سال زندان میں ڈالے رکھا۔ حتیٰ کہ وہیں انتقال فرما گئے۔ آپ دور کیوں جاتے ہیں۔ پاک و ہند کی تاریخ کے اوراق الٹ کر ملاحظہ کریں۔ جہاں حضرت سیدنا ابوالحسن علی المعروف داتاصاحب ہجویری رحمہ اللہ تعالی، حضرت شیخ الاسلام فرید الدین گنج شکر رحمہ اللہ تعالی ،حضرت سیدناقطب الدین بختیار کاکی رحمہ اللہ تعالی ، حضرت سیدناخواجہ نظام الدین اولیارحمہ اللہ تعالی ، حضرت سیدناخواجہ معین الدین چشتی رحمہ اللہ تعالی ،حضرت سیدنا بہاؤ الدین زکریارحمہ اللہ تعالی ، حضرت سیدناامام ربانی مجدد الف ثانی رحمہ اللہ تعالی ، علامہ فضل حق خیرآبادی رحمہ اللہ تعالی اورامام احمدرضاحنفی الماتریدی رحمہ اللہ تعالی جیسے عزم و ثبات کے گوہ گراں نظر آئیں گے۔ یہ لوگ علم و بصیرت ، زہد و تقویٰ اور صدق و خلوص کے فقید المثال پیکر تھے۔ کون ہے؟ جو ان جیسی برگزیدہ ہستیوں کے اسمائے گرامی صفحات تاریخ سے حذف کرسکتا ہے۔ جن کے پاس نہ توفوج تھی نہ لشکر نہ آلات حرب جو جہاد بالسیف رکھتے ۔ یہ صرف ان کے اوصاف کردار اور قرآن و سنت کی تبلیغ ہی تھی جس کی وجہ سے کروڑوں انسان اسلام کے دامن میں سما گئے۔ جنہوں نے دنیاوی دولت و ثروت، راحت و مسرت، اقتدار و اختیار حکومت و قیادت سب کو لات مارکر غربت و افلاس ، مصائب و آلام، مجبوری و محکومی کے ادوار میں استغنا و بے نیازی سے اللہ کی رضا کے لیے تلوار اور زبان سے جہا دکیے۔ قلم سے جہاد کیے اور تاریخ گواہ ہے کہ دین اسلام کی اشاعت محض ایسے پرامن طریقوں سے کی اور ایسے ایسے محرکات و اسباب پیدا کیے کہ لوگ جوق در جوق آپ حضرات کے اعلیٰ تخیلات اور صحیح مقاصد کے پیروکار بن گئے۔ انہوں نے اس قدر محبت و موّدت، شفقت و روحانیت سے رب العزت کی اطاعت و خوشنودی اور عقبیٰ کے عیش جاودانی کی طرف رغبت دلائی کہ جس کی وجہ سے گناہ و معصیت میں مبتلا کثیر التعداد مشرکین اسلام کی جانب کھنچے چلے آئے۔ بیشتر مواقع ایسے بھی آئے کہ بعض علماء و صالحین کو شہنشاہی سطوتوں نے مجبور و مہجور بھی کیا۔ قید و بند کی زنجیریں، دارورسن کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں مگر روحانیت کی طاقت نے مادیت کے ایک ایک پھندے کو کاٹ کرپھینک دیا۔حق کے سامنے باطل کا سرجھک گیا۔ اگر ان اکابرین کی حکمت اور دانائی بروقت آڑے نہ آتی تو کفر کی حریصانہ و طاغوتی ہلاکتیں اسلام کی اشاعت و تبلیغ میں سدراہ بن جاتیں۔ ایسے ہی موقعوں پر علمائے بیباک کی شعلہ بیانی تقریروں نے سوختہ خرمن مسلمانوں کے دلوں میں ایمان کی تمازت سے روح اسلام کو تروتازہ کردیا اور غالب مادی طاقتیں بوکھلا اٹھیں۔ (۴)آج کے دورمیں آپ دیکھیں توآپ کو اس میدان میں حضورامیرالمجاہدین مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی اورآپ کے متوسلین کے علاوہ دنیابھرمیں کوئی بھی جہاد کانام لینے والانظرنہیں آئے گا ۔ ایساشخص کہ جس سے دنیابھرکے کفارڈرتے ہوں اوروہ ہوںبھی خالی ہاتھ ، یہ منظربھی چشم فلک کو کبھی کبھی دیکھنے کو میسرآتاہے کہ ایک چٹائی پر بیٹھنے والاشخص ہواوراس سے دنیابھرکے بڑے بڑے کافرڈرتے ہوں ، دنیاکاسب سے بڑابدمعاش امریکہ کاصدرٹرنمپ اورہالینڈ کاگستاخ بھی جس کے نام سے کانپ اٹھے وہ مرددرویش اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکاسچاغلام امیرالمجاہدین حفظہ اللہ ہے ۔ آپ پربھی ظلم وتشددکے پہاڑتوڑے گئے ، آپ کو کئی ماہ تک جیل میں قیدرکھاگیااورآپ کے ماننے والے لاکھوں لاکھ لوگوں کو جیل میں بندکیاگیامگردنیاکی کوئی طاقت جناب امیرالمجاہدین حفظہ اللہ تعالی کو ان کے مقصد سے نہیں ہٹاسکی۔اورہم اللہ تعالی کاشکراداکرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہمیں حضورامیرالمجاہدین حفظہ اللہ تعالی کی معیت میں دین کے دفاع کے لئے کام کرنے کی توفیق عطافرمائی۔ (۵) ہر بات میں عقل کو دخل نہ دیناچاہئے ، بہت سی باتیں بظاہرماورائے عقل ہوتی ہیں مگرمفید ہوتی ہیں۔ اس آیت سے لبرل وسیکولر لوگ عبرت پکڑیں ۔ (۶) عقل ِ انسانی برائی اوربھلائی کو پہچاننے میں کافی نہیں ہے ، اس کے لئے شرعی معیار کی ضرورت ہے ، اسی لئے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھیجاگیا، دیکھوا س آیت کریمہ میں تمام عقلاء سے خطاب ہے ، ہوسکتاہے کہ تم کسی چیز کو اچھاسمجھو اوروہ ہوبری ۔ اسی لئے عقل پر ان چیزوں کامدار نہیں ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh