Fatwa #2205
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۶۱۔۲۶۲۔۲۶۳۔مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوٰلَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,369
سوال (Question):
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۶۱۔۲۶۲۔۲۶۳۔مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوٰلَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مجاہدفی سبیل اللہ پر مال خرچ کرنے کی فضیلت اورمجاہدفی سبیل اللہ کون؟
{مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوٰلَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآء ُ وَاللہُ وٰسِعٌ عَلِیْمٌ}(۲۶۱){اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوٰلَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَآ اَذًی لَّہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ}(۲۶۲){قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَۃٍ یَّتْبَعُہَآ اَذًی وَاللہُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ}(۲۶۳) ترجمہ کنزالایمان : ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُس دانہ کی طرح جس نے اوگائیں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر د یے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ،ان کا نیگ ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم ۔اچھی بات کہنا اور درگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد ستاناہو اور اللہ بے پرواہ حلم والا ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان :ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرتے ہیں اس دانے کی طرح ہے جس نے سات بالیاں اگائیں ،ہر بالی میں سو دانے ہیں اور اللہ تعالی اس سے بھی زیادہ بڑھادیتاہے جس کے لئے چاہے اور اللہ تعالی وسعت والا، علم والا ہے۔وہ لوگ جو اپنے مال کو اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب تعالی کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اچھی بات کرنا اور معافی دے دینااس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد تکلیف دی جائے اور اللہ تعالی بے پرواہ، حلم والا ہے۔اس آیت کریمہ کاتعلق جہاد سے ہے
لَمَّا قَصَّ اللَّہُ سُبْحَانَہُ مَا فِیہِ مِنَ الْبَرَاہِینِ،حَثَّ عَلَی الْجِہَادِ،وَأَعْلَمَ أَنَّ مَنْ جَاہَدَ بَعْدَ ہَذَا الْبُرْہَانِ الَّذِی لَا یَأْتِی بِہِ إِلَّا نَبِیٌّ فَلَہُ فِی جِہَادِہِ الثَّوَابُ العظیم۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے ( ماقبل میں) وہ قصے بیان کردئیے جن میں دلائل ہیں تو اس نے جہاد پر برانگیختہ کیااورتو جان لے کہ جس نے اس برہان اوردلیل کے بعد جہاد کیاجس کواللہ تعالی کے نبی علیہ السلام کے بغیرکوئی نہیں لاسکتاتو اس کے لئے اس جہا دمیں ثواب عظیم ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی ((۳:۳۰۲) شان نزول رُوِیَ أَنَّ ہَذِہِ الْآیَۃَ نَزَلَتْ فِی شَأْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا،وَذَلِکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَثَّ النَّاسَ عَلَی الصَّدَقَۃِ حِینَ أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَی غَزْوَۃِ تَبُوکَ جَاء َہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِأَرْبَعَۃِ آلَافٍ فَقَالَ:یَا رَسُولَ اللَّہِ،کَانَتْ لِی ثَمَانِیَۃُ آلَافٍ فَأَمْسَکْتُ لِنَفْسِی وَلِعِیَالِی أَرْبَعَۃَ آلَافٍ، وَأَرْبَعَۃَ آلَافٍ أَقْرَضْتُہَا لِرَبِّی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:(بَارَکَ اللَّہُ لَکَ فِیمَا أَمْسَکْتَ وَفِیمَا أَعْطَیْتَ)وَقَالَ عُثْمَانُ:یَا رَسُولَ اللَّہِ عَلَیَّ جَہَازُ مَنْ لَا جَہَازَ لَہُ، فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ فِیہِمَا۔ ترجمہ:روایت کیاگیاہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناعبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی ۔ وہ اس طرح کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے جب لوگوں کو صدقہ دینے پر ابھارا، جس وقت آپﷺنے غزوہ تبوک کی طرف روانہ ہونے کاارادہ فرمایاتوحضرت سیدناعبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ چارہزاردینارلے کرحاضرہوئے اورعرض کی:یارسول اللہ ﷺ! میرے پاس آٹھ ہزاردینارتھے تومیںنے اس میںسے اپنے لئے اوراپنے گھروالوںکیلئے چارہزاردیناررکھے اورچارہزاردینارمیں نے اپنے رب تعالی کو بطورقرض پیش کردیئے ۔ توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: بارک اللہ لک فیماامسکت وفیمااعطیت ۔ اللہ تعالی تجھے اس میں بھی برکت دے جو تم نے اللہ تعالی کی راہ میں دیئے اوراس میں بھی برکت دے جو تم نے اپنے گھروالوں کے لئے رکھے ۔اورحضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے : یارسو ل اللہ ﷺ! ہر اس شخص کی جہاد کی تیاری کاسامان میرے ذمہ ہے جس کے پاس جہاد کے لئے جانے کاسامان نہیں ہے ۔ (بحر العلوم:أبو اللیث نصر بن محمد بن أحمد بن إبراہیم السمرقندی (ا:۱۷۴)خرچ کرنے کاسب سے بڑامصرف کیاہے؟
وَسُبُلُ اللَّہِ کَثِیرَۃٌ وَأَعْظَمُہَا الْجِہَادُ لِتَکُونَ کَلِمَۃُ اللَّہِ ہِیَ الْعُلْیَا. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے راستے بہت زیادہ ہیں اوران میں سب سے بڑاراستہ جہاد ہے تاکہ اللہ تعالی کاکلمہ بلندہو۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی ((۳:۳۰۲)جہاد میں ہی کمزوروں کی مددہے
بالإنفاق فی جمیع سبل الخیر، وأعظمہا الجہاد والإعانۃ فیہ للضعفاء ۔ ترجمہ :امام ابراہیم بن عمربن حسن البقاعی المتوفی : ۸۸۵ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے تمام خیرکے راستوں میں خرچ کرنے کاحکم دیااوران تمام راستوں میں سب سے بڑاراستہ جہاد کاہے اوراس میں کمزوروں کی مددبھی ہے ۔ (نظم الدرر فی تناسب الآیات والسور:إبراہیم بن عمر بن حسن الرباط البقاعی (۶:۴۹) وذکر ہنافضیلۃ الإنفاق فی سبیل اللہ،وسبل اللہ کثیرۃ،مثل نشر العلم وأعظمہا الجہاد لتکون کلمۃ اللہ (أی دین الإسلام)ہی العلیا۔ ترجمہ :الشیخ وہبۃ بن مصطفی الزحیلی لکھتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے اوراللہ تعالی کے راستے بہت زیادہ ہیں جیسے علم کو عام کرنا( علم پڑھنے اورپڑھانے پر خرچ کرنا) اوران تمام راستوں میں سب سے بڑاراستہ اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرناہے کیونکہ اس میں اللہ تعالی کے کلمہ کو بلندکرناہے ، اللہ تعالی کے کلمہ سے مراد اللہ تعالی کادین ہے یعنی اللہ تعالی کے دین کے دفاع کے لئے جہاد کرناسب سے بڑاراستہ ہے ۔ (التفسیر المنیر فی العقیدۃ والشریعۃ والمنہج :د وہبۃ بن مصطفی الزحیلی(۳:۴۳)جہادی گھوڑاتیارکرنے میں مال صرف کرنا
وَقَالَ مَکْحُولٌ:یَعْنِی بِہِ:الْإِنْفَاقُ فِی الْجِہَادِ، مِنْ رِبَاطِ الْخَیْلِ وَإِعْدَادِ السِّلَاحِ وَغَیْرِ ذَلِکَ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامکحول رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں وہ مال مراد ہے جو اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے میں خرچ کیاجائے، گھوڑے اوراسلحہ وغیرہ تیارکرنے کے لئے ۔ (تفسیر القرآن العظیم:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (ا:۶۹۱)سات سوگناتک بڑھنے والامال؟
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:الْجِہَادُ وَالْحَجُّ، یُضْعِفُ الدِّرْہَمَ فِیہِمَا إِلَی سَبْعِمِائَۃِ ضِعْف۔ ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے جو اس آیت کریمہ میں فرمایاکہ نیکی کاثواب سات سوگناتک بڑھادیاجاتا ہے اس سے مراد وہ مال ہے جو بندہ مومن جہاد اورحج میں خرچ کرتاہے ۔ (توفیق الرحمن فی دروس القرآن:فیصل بن عبد العزیز بن فیصل ابن حمد المبارک الحریملی النجدی (۱:۳۴۱)مجاہدفی سبیل اللہ کے اجرکادرجہ؟
وعن معاذ بن جبل:أن غزاۃ المنفقین قد خبأ اللہ تعالی لہم من خزائن رحمتہ ما ینقطع عنہ علم العباد۔ ترجمہ :حضرت سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ان مجاہدین کے لئے جو جہاد میں اپنامال خرچ کرتے ہیں اپنی رحمت کے ایسے خزانے چھپارکھے ہیں جن کااحاطہ بندوں کاعلم کرہی نہیں سکتا۔ (روح المعانی:شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی (۲:۳۳)جومال بھی خرچ کرے اورمجاہدبھی ہو۔۔
قَالَ عبد الرَّحْمَن:فَقلت لِمعَاذ:إِنَّمَا النَّفَقَۃ بسبعمائۃ ضعف فَقَالَ معَاذ:قل فہمک إِنَّمَا ذَاک إِذا أنفقوہا وہم مقیمون فِی أہلہم غیر غزَاۃ فَإِذا غزوا وأنفقوا خبأ اللہ لَہُم من خَزَائِن رَحمتہ مَا یَنْقَطِع عَنہُ علم الْعباد وصفتہم فَأُولَئِک حزب اللہ وحزب اللہ ہم الغالبون۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ میں نے حضرت سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سوال کیاکہ نفقہ سوگناہوتاہے ۔ حضرت سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیری سمجھ کم ہے ، یہ توان کے متعلق ہے جو مجاہدین پر مال خرچ کرتے ہیںاورخود جہاد میں شریک نہیں ہوتے اورجب خود جہاد میں بھی شریک ہوںاورجہاد میں مال بھی خرچ کریں تواللہ تعالی نے ان کے لئے رحمت کے ایسے خزائن چھپارکھے ہیں جن تک علم انسانی کی رسائی نہیں ہے ۔ اوریہی اللہ تعالی کاگروہ ہے اوراللہ تعالی کاگروہ ہی غالب ہے۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۲:۳۸) شان نزول {اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوٰلَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَآ اَذًی لَّہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ}إنہا نزلت فی عثمان ابن عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَۃَ:جَاء َ عُثْمَانُ بِأَلْفِ دِینَارٍ فِی جَیْشِ الْعُسْرَۃِ فَصَبَّہَا فِی حِجْرِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَأَیْتُہُ یُدْخِلُ یَدَہُ فِیہَا وَیُقَلِّبُہَاوَیَقُول:مَا ضَرَّ ابْنَ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْیَوْمِ اللَّہُمَّ لَا تَنْسَ ہَذَا الْیَوْمَ لِعُثْمَانَ وَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ:رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَافِعًا یَدَیْہِ یَدْعُو لِعُثْمَانَ یَقُولُ :یَا رَبَّ عُثْمَانَ إِنِّی رَضِیتُ عَنْ عُثْمَانَ فَارْضَ عَنْہُ فَمَا زَالَ یَدْعُو حَتَّی طَلَعَ الْفَجْرُ فَنَزَلَت:الَّذِینَ یُنْفِقُونَ أَمْوالَہُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنًّا وَلا أَذیً الْآیَۃَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جیش العسرہ ( غزوہ تبوک )کی تیاری کے لئے حضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ ایک ہزاردینارلے کرحضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ اقدس میں حاضرہوئے اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی گودمیں ڈال دیئے تومیں نے آپ ﷺکودیکھا، آپ ﷺاپناہاتھ اس میں ڈالتے اورنہیں الٹ پلٹ کررہے ہیں اورفرمارہے ہیں کہ آج کے بعد میرے عثمان نے جو بھی عمل کیااس کے لئے نقصان دہ نہیں ہے ۔ اے اللہ !توآج کے دن عثمان کونہ بھولنا۔ اورحضرت سیدناابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیاہے کہ میں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکو حضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کے لئے ہاتھ اٹھاکردعاکرتے ہوئے دیکھاکہ آپ ﷺکہہ رہے تھے اے اللہ ! میں عثمان سے راضی ہوں اورتوبھی ان سے راضی ہوجا۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺ حضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لئے دعاکرتے رہے یہاں تک کہ فجرطلوع ہوگئی ۔ تویہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ (الکشف والبیان عن تفسیر القرآن:أبو إسحاق أحمد بن إبراہیم الثعلبی (۷:۲۷) آیت کریمہ کامصداق کون؟ والمعنی الذین یعینون المجاہدین فی سبیل اللہ بالإنفاق علیہم فی حوائجہم ومؤنتہم ۔ ترجمہ:امام علاء الدین الخازن المتوفی : ۷۴۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کی فضیلت بیان کی ہے جو اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے والوں پرمال خرچ کرتے ہیں اوران کی حاجات اورضرورتوں کو پوراکرتے ہیں۔ (تفسیرالخازن:علاء الدین علی أبو الحسن، المعروف بالخازن (۱:۱۹۸) احسان جتلانے کامطلب ؟ قال عبد الرحمن بن یزید کان أبی یقول إذا أعطیت رجلا شیئا ورأیت أن سلامک یثقل علیہ فلا تسلم علیہ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبدالرحمن بن یزیدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے اباجان فرماتے تھے کہ جب توکسی کو کوئی چیز دے اورپھرتودیکھے کہ تیرااس کو سلام کرنابھی اس کے لئے بھاری ہے تو اس کو سلام بھی نہ کرتاکہ تمھاراسلام کرنااس کے لئے ایذاکاسبب نہ بن جائے۔ (فتحُ البیان :أبو الطیب محمد صدیق خان البخاری القِنَّوجی (۲:۱۱۸)سخی کااحسان ہے یافقیرکا؟
قال الشعبی من لم یر نفسہ الی ثواب الصدقۃ أحوج من الفقیر الی صدقتہ فقد أبطل صدقتہ. ترجمہ:امام الشعبی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جتناتمھارے صدقہ کافقیرمحتاج ہے اس سے زیادہ ثواب کے تم محتاج ہواورتمھارافقیرپر دے کراحسان ہواتوفقیرکابھی تم پر احسان ہے کہ اس نے تمھیں ایک فرض سے ہلکاکردیا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی(۱:۴۲۱)احسان جتلانے والا
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، وَہَذَا حَدِیثُ أَبِی بَکْرٍ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:ثَلَاثٌ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلَا یَنْظُرُ إِلَیْہِمْ،وَلَا یُزَکِّیہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ:رَجُلٌ عَلَی فَضْلِ مَاء ٍ بِالْفَلَاۃِ یَمْنَعُہُ مِنَ ابْنِ السَّبِیلِ، وَرَجُلٌ بَایَعَ رَجُلًا بِسِلْعَۃٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَہُ بِاللہِ لَأَخَذَہَا بِکَذَا وَکَذَا فَصَدَّقَہُ وَہُوَ عَلَی غَیْرِ ذَلِکَ، وَرَجُلٌ بَایَعَ إِمَامًا لَا یُبَایِعُہُ إِلَّا لِدُنْیَا فَإِنْ أَعْطَاہُ مِنْہَا وَفَی،وَإِنْ لَمْ یُعْطِہِ مِنْہَا لَمْ یَف۔ِ ترجمہ :حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: تین لوگ ایسے ہیں،جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کرے گا،نہ ان پر نظرکرم فرمائے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ ایک، احسان جتانے والا کہ جب بھی کسی کو کچھ دے، احسان جتائے۔ دوسرا، عصر کے وقت جب بازار ختم ہو رہا ہو،جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچنے والا۔ اور تیسرا اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والاجس سے اس کا مقصد سوائے تکبر و نخوت کے کچھ نہ ہو۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (ا:۱۰۲) اس سے معلوم ہواکہ جو لوگ احسان کرتے ہیں انہیں کسی طرح اپنے احسان کا اظہار نہیں کرنا چاہئے ، اور اگر کسی سے احسان جتلادیا ہے تو اپنے گناہ سے توبہ کرے اور اس بندے سے معافی طلب کرے ورنہ اللہ تعالی کے یہاں نیکی کرنے کے باوجود ذلیل و رسوا ہوگا ۔معارف ومسائل
(۱)درج بالا آیت میں اُن صدقات کو عنداللہ ماجور قرار دیا گیا ہے جن کی ادائیگی کا مقصد خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول ہو اور جنہیں ادا کرنے کے بعد صاحبِ ثروت شخص احسان نہ جتائے اور دوسروں کو خود سے حقیر نہ سمجھے۔ جس صدقے کا مقصد نام و نمود اور شہرت کا حصول ہو خدا کے حضور اس کا کوئی اجر نہیں ہوتا۔ اسی طرح کسی کی مالی مدد کے بعد احسان جتا کر یا طعنہ دے کر اس کو تکلیف دینا اور اس کی عزتِ نفس مجروح کرنا صدقات و خیرات کا اجر ضائع کر دیتا ہے۔ (۲)اس سے معلوم ہواکہ گویا عبادات کی قبولیت کا معیار تقوی ہے۔ جو عمل اللہ تعالیٰ کی رضا اور اجر کی نیت سے کیا جائے اس کی قبولیت کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ بعض علماء نے عبادت کے بعد پھر عبادت کی ترغیب، عبادات کا آسان ہونا، عبادت کرنے کو دل مچلنا، عبادات پر ثابت قدمی اور دوام کو عبادات کی قبولیت کی علامت قرار دیا ہے، مگر یاد رہے کہ علماء کی بتلائی ہوئی قبولیتِ عبادت کی یہ علامات حسنِ ظن کی بنیاد پر مبنی ہیں۔ اعمال کی قبولیت کا فیصلہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے جو انسانوں پر قیامت کے دن ہی ظاہر ہوگا، دنیا میں کسی عمل کی قبولیت کا یقینی دعویٰ خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ (۳)اللہ تعالی کواس صدقے کی کوئی ضرورت نہیں اس کے ہاں تو صرف اخلاص ہی اہمیت رکھتاہے، جو ایک اچھی بات اور بخشش کرنے سے بھی ممکن ہے، احسان جتانے والے کی اس لئے بھی اللہ تعالی کے ہاں کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ احسان کرنا ریاء کاری کے زمرے میں آتا ہے اور ریاء کار انسان کبھی اللہ کیلئے کوئی کام نہیں کرتا بلکہ دکھلاوے کیلئے کرتا ہے، جس کی قرآن اور احادیث میں بہت زیادہ قباحت ذکر کی گئی ہے، بلکہ شرکِ اصغر میں شمار کیا گیا۔ (۴)اہل ثروت جو کچھ غریب و مسکین اور مجبور و مفلس کو عنایت کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کا شکریہ ادا کر رہا ہے کہ اس ذات نے اس کو یہ دولت دی، اس میں ان غرباء و مساکین کا حق متعین فرمایا ہے اور وہ اس ذمے داری کو ادا کر رہا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ذات باری تعالی اسے اس کا اجر آخرت میں عطا فرمائے گا ۔ کچھ لوگ دینے کو تو دیتے ہیں لیکن اس کا بدلہ ان غریبوں پر احسان جتا کر وصول کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ فعل نہایت ہی مذموم اور یہ عمل نہایت ہی مطرود ہے، جس پر اللہ تعالی کے یہاں ان سے ضرور پوچھ ہوگی۔ (۵)بحیثیت مسلمان یہ ہماری ذمے داری ہے کہ اگر اللہ تعالی نے ہمیں مال و دولت دیا ہے تو ہم اسے اللہ تعالی کی راہ میں، اللہ کی ہدایت کے مطابق خرچ کریں۔ آج ہم نے قرآن کریم کے فرمان کو فراموش کردیا اور احادیث شریفہ سے حاصل ہونے والے اسباق کو سمجھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ورنہ قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں ایک مومنانہ زندگی بسر کرنے کے حوالے سے تمام پہلوئوں پر بھرپور مواد موجود ہے۔ (۶) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اس آیت کریمہ کامصداق مجاہدفی سبیل اللہ ہے ۔ اورآج بھی جو علماء حق بے دین اوردین دشمن طبقہ کے خلاف برسرپیکارہیں ان پر خرچ کرناصدقہ کے سب سے بڑامصرف ہے ۔ اس خرچ کرنے کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں کہ ان کو کتب لے کردی جائیں یاجوانہوں نے کتب دین اسلام کے دفاع میں تحریرکی ہیں ان کو اپنے پاس سے رقم خرچ کرکے طبع کروایاجائے ، اسی طرح کوئی طالب علم جو صحیح دینی تعلیم حاصل کررہاہے اوراس کاارادہ بھی فراغت کے بعد خدمت دین کاہی ہے تو اس پر مال خرچ کیاجائے ۔ موجودہ دورمیں یہ سب کے سب جہاد فی سبیل اللہ پر خرچ کرناہے ۔اوراسی طرح جو لوگ ناموس رسالت کے دفاع کی وجہ سے جیلوں میں ہیں ان پر اوران کے گھر والوں پرخرچ کرنابھی جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرناہے ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9