صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2211 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۷۵ تا ۲۷۹۔اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,058

سوال (Question):

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۷۵ تا ۲۷۹۔اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سودخور کے ساتھ اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکااعلان جنگ

{اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْٓا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا فَمَنْ جَآء َہ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْتَہٰی فَلَہ مَا سَلَفَ وَاَمْرُہٓ اِلَی اللہِ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ}(۲۷۵){یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ وَاللہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیْمٍ}(۲۷۶){اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ}(۲۷۷){یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ}(۲۷۸){فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُء ُوْسُ اَمْوٰلِکُمْ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ}(۲۷۹) ترجمہ کنزالایمان:وہ جو سُود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیاہویہ اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سُود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سُود تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے اور جو اب ایسی حرکت کرے گا وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتوں رہیں گے۔اللہ ہلاک کرتا ہے سُود کو اور بڑھاتاہے خیرات کو اور اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی ناشکرا بڑا گنہگار،بے شک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکٰوۃ دی اُن کا نیگ ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم ۔اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو ۔پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ نہ تمہیں نقصان ہو۔ ترجمہ ضیاء الایمان:جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر اس شخص کے کھڑے ہونے کی طرح جسے آسیب نے چھو کرپاگل بنادیا ہو۔ یہ سزا اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے کہاکہ خریدوفروخت بھی تو سود ہی کی مثل ہے حالانکہ اللہ تعالی نے خریدوفروخت کو حلال کیا اورسود کو حرام کیا، تو جس کے پاس اس کے رب تعالی کی طرف سے نصیحت پہنچی پھر وہ سود سے رک گیا تو اس کیلئے حلال ہے وہ جو پہلے گزرچکا اور اس کامعاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہے اور جودوبارہ سودی لین دین کریں تو وہ دوزخی ہیں ، وہ اس میں مدتوں رہیں گے۔اللہ تعالی سود کو ختم فرمادیتاہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالی کسی ناشکرے، بڑے گنہگار کوپسند نہیں کرتا۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب تعالی کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ان پر کوئی غم طاری ہوگا ۔اے اہل ایمان ! اگر تم ایمان والے ہو تواللہ تعالی سے ڈرو اور جو سودباقی رہ گیا ہے اسے ترک کردو۔ پھر اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ تعالی اور اللہ تعالی کے رسولﷺ کی طرف سے جنگ کا یقین کرلو اور اگر تم توبہ کرو تو تمہارے لئے اپنا اصل مال لینا جائز ہے۔ نہ تم کسی کو نقصان میں مبتلاکرو اورنہ تمہیں کوئی نقصان میں مبتلاء کرے۔

ہلاک کرنے والاگناہ

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اجْتَنِبُوا السَّبْعَ المُوبِقَاتِ،قَالُوا:یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا ہُنَّ؟ قَالَ:الشِّرْکُ بِاللَّہِ، وَالسِّحْرُ،وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِی حَرَّمَ اللَّہُ إِلَّا بِالحَقِّ،وَأَکْلُ الرِّبَا،وَأَکْلُ مَالِ الیَتِیمِ،وَالتَّوَلِّی یَوْمَ الزَّحْفِ،وَقَذْفُ المُحْصَنَاتِ المُؤْمِنَاتِ الغَافِلاَتِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: سات مہلک گناہوں سے بچو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یارسول اللہ ﷺ!وہ کون سے گناہ ہیں؟آپ ﷺنے فرمایا :اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا ،جس نفس کو اللہ تعالی نے حرام کیا ہے، اس کو ناحق قتل کرنا ،سود کھانا ،یتیم کا مال کھانا،جنگ کے دن پیٹھ دکھا کر بھاگنا ،پاک دامن اور بھولی بھالی عورتوں پر تہمت لگانا۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۴:۱۰)

چھتیس بارزناسے بھی سخت گناہ ؟

عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ غَسِیلِ الْمَلَائِکَۃِ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:دِرْہَمٌ رِبًا یَأْکُلُہُ الرَّجُلُ وَہُوَ یَعْلَمُ،أَشَدُّ مِنْ سِتَّۃٍ وَثَلَاثِینَ زَنْیَۃً۔ ترجمہ:حضرت سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور تاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:ربا کا ایک درہم جو انسان علم ہونے کے باوجود کھاتا ہے(چھتیس)زناؤں سے زیادہ سخت ہے۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۳۶:۲۹۸)

اپنی ماں کے ساتھ نکاح کرنے والاکون؟

عَنْ عَبْدِ اللَّہِ،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،قَالَ:الرِّبَا ثَلَاثَۃٌ وَسَبْعُونَ بَابًا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور تاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:سود کیتہتر دروازے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (۲:۷۶۴) سارے شعبے پر لعنت عَنْ جَابِرٍ،قَالَ:لَعَنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آکِلَ الرِّبَا،وَمُؤْکِلَہُ،وَکَاتِبَہُ،وَشَاہِدَیْہِ وَقَالَ:ہُمْ سَوَاء ٌ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے سود کھانے ،سود کھلانے ،لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا:یہ سب گنا ہ میں برابر کے شریک ہیں۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۹۱۲)

سودخور قیامت کے دن پاگل ہوگا

عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِیَّایَ وَالذُّنُوبَ الَّتِی لَا تُغْفَرُ:الْغُلُولُ فَمَنْ غَلَّ شَیْئًا أَتَی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،وَآکِلُ الرِّبَا فَمَنْ أَکَلَ الرِّبَا بُعِثَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَجْنُونًا یَتَخَبَّطُ ثُمَّ قَرَأَ:(الَّذِینَ یَأْکُلُونَ الرِّبَا لَا یَقُومُونَ إِلَّا کَمَا یَقُومُ الَّذِی یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطَانُ مِنَ الْمَسِّ)۔ ترجمہ :حضرت سیدناعوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: تم ایسے گناہوں سے بچوجن کی(قیامت کے دن)بخشش نہیں ہوگی ،(ان میں سے ایک)خیانت اور مال غنیمت میں سے چوری ہے، کیونکہ جو کوئی چیز مال غنیمت میں سے چرائے گا تو اسے وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا ، اور (دوسرا)سود خوری ہے ،کیونکہ جو سود خوری کرے گا وہ قیامت میں مجنون بنا کر اٹھایا جائے گا۔پھر آیت کریمہ :{الَّذِیْنَ یَأْکُلُونَ الرِّبَا لاَ یَقُومُونَ إِلاَّ کَمَا یَقُومُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْْطَانُ مِنَ الْمَسِّ }کی تلاوت کی۔ (المعجم الکبیر:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۱۸:۶۰) اس حدیث سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ سود خورمحشر کے دن اپنی قبر سے پاگلوں کی طرح مخبوط الحواس ہوکر اٹھایا جائے گا ، وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سود خور نے اگر اپنے اس گناہ سے توبہ نہیں کی ا ور اس سے باز نہیں آیا تو اس کی بخشش نہیں ہے۔ یہاں پر ایک اور بات قابل توجہ ہے کہ قرآن کریم نے جہاں سود خوروں کا یہ انجام بتایا ہے کہ وہ محشر کے دن اپنی قبروں سے اٹھیں گے تو پاگلوں کی طرح مخبوط الحواس ہوں گے وہیں اس کی وجہ پربھی روشنی ڈالی ہے، اور بتایاہے کہ ایسا اس لئے ہوگا کہ ایک تو یہ سود خوری کرتے تھے جو حرام ہے، دوسرے اس پر اصرار اور کٹ حجتی بھی کرتے تھے ،اور کہتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے، اور انہیں چاہئے تھا کہ اللہ کے حکم اور فیصلے کے سامنے بلا چوں و چر ا سرِ تسلیم خم کردیں ،اور جس کو اس نے حلال قرار دیاہے اس کو حلال ہے،اور جس کو اس نے حرام قرار دیا ہے اس کو حرام مانیں ،یہی ایمان اور اسلام کا تقاضا ہے ، اور یہی سچے پکے مومنوں کا شیوہ ہے، کیونکہ اللہ تعالی کے تمام احکام برحق اور مصلحتوں پر مبنی ہیں ،خواہ وہاں تک عقل انسانی کی رسائی ہو یا نا ہو۔ دوسرے یہ کہتے ہیں کہ تجارت بھی سود کی طرح ہے ،حالانکہ دونوں میں بہت فرق ہے ،کیونکہ سودی قرض دینے والے کا نفع متعین اور یقینی ہوتا ہے ، جبکہ تجارت کرنے والے کا نفع نہ یقینی ہوتا ہے اور نہ متعین۔کیونکہ اس کو اس میں نفع بھی ہوسکتا ہے اور نقصان بھی ،اور کبھی تو اس کا رأس المال بھی ڈوب سکتا ہے اور نفع ہونے کی صورت میں بھی کبھی کم نفع ہوتا ہے اور کبھی زیادہ، پھر سود اور تجارت دونوں برابر کیسے ہوئے؟علاوہ ازیں سودی کاروبار کرنے والا قرض خواہوں کو سودی قرض دے کر آرام سے بیٹھا رہتا ہے اور وقت مقررہ پر ان سے اصل رقم مع سود وصول کرلیتا ہے ،جبکہ تجارت کرنے والے کومال کی خریداری ،حمل ونقل اور بازارمیں اس کی قیمت پر نظر ،گاہکوں سے بات چیت اور سامان و قیمت کے لین دین وغیرہ امور میں شب وروز محنت کرنی پڑتی ہے، نیز تجارت میں ایک طرف رقم اور دوسری طرف کوئی سامان رہتا ہے، جبکہ سود میں دونوں طرف رقم یا ایک ہی طرح کی چیز رہتی ہے ۔بہر حال سود اور تجارت میں مختلف ناحیوں سے بہت اہم اور بنیادی فرق ہے مگر یہ لوگ اس کو نہیں مانتے ہیں۔ اورکٹ حجتی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ { إِنَّمَا الْبَیْْعُ مِثْلُ الرِّبَا }بیع بھی سود ہی کی طرح ہے ،جس کی بنا پر انہیں یہ سزا دی جائے گی ۔ ایک عبرت ناک حدیث شریف حَدَّثَنَاسَمُرَۃُ بْنُ جُنْدُبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ،قَالَ:کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِمَّا یُکْثِرُ أَنْ یَقُولَ لِأَصْحَابِہِ:ہَلْ رَأَی أَحَدٌ مِنْکُمْ مِنْ رُؤْیَا قَالَ:فَیَقُصُّ عَلَیْہِ مَنْ شَاء َ اللَّہُ أَنْ یَقُصَّ،وَإِنَّہُ قَالَ ذَاتَ غَدَاۃٍ: إِنَّہُ أَتَانِی اللَّیْلَۃَ آتِیَانِ،وَإِنَّہُمَا ابْتَعَثَانِی،وَإِنَّہُمَا قَالاَ لِی انْطَلِقْ،وَإِنِّی انْطَلَقْتُ مَعَہُمَا،وَإِنَّا أَتَیْنَا عَلَی رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ،وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَیْہِ بِصَخْرَۃٍ، وَإِذَا ہُوَ یَہْوِی بِالصَّخْرَۃِ لِرَأْسِہِ فَیَثْلَغُ رَأْسَہُ، فَیَتَدَہْدَہُ الحَجَرُ ہَا ہُنَا، فَیَتْبَعُ الحَجَرَ فَیَأْخُذُہُ، فَلاَ یَرْجِعُ إِلَیْہِ حَتَّی یَصِحَّ رَأْسُہُ کَمَا کَانَ، ثُمَّ یَعُودُ عَلَیْہِ فَیَفْعَلُ بِہِ مِثْلَ مَا فَعَلَ المَرَّۃَ الأُولَی قَالَ:قُلْتُ لَہُمَا:سُبْحَانَ اللَّہِ مَا ہَذَانِ؟ قَالَ:قَالاَ لِی:انْطَلِقِ انْطَلِقْ قَالَ:فَانْطَلَقْنَا، فَأَتَیْنَا عَلَی رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاہُ، وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَیْہِ بِکَلُّوبٍ مِنْ حَدِیدٍ، وَإِذَا ہُوَ یَأْتِی أَحَدَ شِقَّیْ وَجْہِہِ فَیُشَرْشِرُ شِدْقَہُ إِلَی قَفَاہُ، وَمَنْخِرَہُ إِلَی قَفَاہُ، وَعَیْنَہُ إِلَی قَفَاہُ،قَالَ:وَرُبَّمَا قَالَ أَبُو رَجَاء ٍ:فَیَشُقُّ قَالَ:ثُمَّ یَتَحَوَّلُ إِلَی الجَانِبِ الآخَرِ فَیَفْعَلُ بِہِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِالْجَانِبِ الأَوَّلِ، فَمَا یَفْرُغُ مِنْ ذَلِکَ الجَانِبِ حَتَّی یَصِحَّ ذَلِکَ الجَانِبُ کَمَا کَانَ، ثُمَّ یَعُودُ عَلَیْہِ فَیَفْعَلُ مِثْلَ مَا فَعَلَ المَرَّۃَ الأُولَی قَالَ:قُلْتُ:سُبْحَانَ اللَّہِ مَا ہَذَانِ؟ قَالَ:قَالاَ لِی:انْطَلِقِ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا،فَأَتَیْنَاعَلَی مِثْلِ التَّنُّورِقَالَ:فَأَحْسِبُ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فَإِذَا فِیہِ لَغَطٌ وَأَصْوَاتٌ قَالَ:فَاطَّلَعْنَا فِیہِ،فَإِذَا فِیہِ رِجَالٌ وَنِسَاء ٌ عُرَاۃٌ،وَإِذَا ہُمْ یَأْتِیہِمْ لَہَبٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْہُمْ،فَإِذَا أَتَاہُمْ ذَلِکَ اللَّہَبُ ضَوْضَوْا قَالَ:قُلْتُ لَہُمَا:مَا ہَؤُلاَء ِ؟ قَالَ:قَالاَ لِی:انْطَلِقِ انْطَلِقْ قَالَ:فَانْطَلَقْنَا،فَأَتَیْنَا عَلَی نَہَرٍ حَسِبْتُ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ أَحْمَرَ مِثْلِ الدَّمِ،وَإِذَا فِی النَّہَرِ رَجُلٌ سَابِحٌ یَسْبَحُ،وَإِذَا عَلَی شَطِّ النَّہَرِ رَجُلٌ قَدْ جَمَعَ عِنْدَہُ حِجَارَۃً کَثِیرَۃً، وَإِذَا ذَلِکَ السَّابِحُ یَسْبَحُ مَا یَسْبَحُ، ثُمَّ یَأْتِی ذَلِکَ الَّذِی قَدْ جَمَعَ عِنْدَہُ الحِجَارَۃَ،فَیَفْغَرُ لَہُ فَاہُ فَیُلْقِمُہُ حَجَرًا فَیَنْطَلِقُ یَسْبَحُ،ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَیْہِ کُلَّمَا رَجَعَ إِلَیْہِ فَغَرَ لَہُ فَاہُ فَأَلْقَمَہُ حَجَرًاقَالَ:قُلْتُ لَہُمَا:مَا ہَذَانِ؟ قَالَ:قَالاَ لِی: انْطَلِقِ انْطَلِقْ قَالَ:فَانْطَلَقْنَا،فَأَتَیْنَا عَلَی رَجُلٍ کَرِیہِ المَرْآۃِ،کَأَکْرَہِ مَا أَنْتَ رَاء ٍ رَجُلًا مَرْآۃً، وَإِذَا عِنْدَہُ نَارٌ یَحُشُّہَا وَیَسْعَی حَوْلَہَا قَالَ:قُلْتُ لَہُمَا:مَا ہَذَا؟ قَالَ:قَالاَ لِی:انْطَلِقِ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا، فَأَتَیْنَا عَلَی رَوْضَۃٍ مُعْتَمَّۃٍ، فِیہَا مِنْ کُلِّ لَوْنِ الرَّبِیعِ،وَإِذَا بَیْنَ ظَہْرَیِ الرَّوْضَۃِ رَجُلٌ طَوِیلٌ،لاَ أَکَادُ أَرَی رَأْسَہُ طُولًا فِی السَّمَاء ِ،وَإِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَکْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَیْتُہُمْ قَطُّ قَالَ:قُلْتُ لَہُمَا:مَا ہَذَا مَا ہَؤُلاَء ِ؟قَالَ:قَالاَ لِی: انْطَلِقِ انْطَلِقْ قَالَ:فَانْطَلَقْنَافَانْتَہَیْنَا إِلَی رَوْضَۃٍ عَظِیمَۃٍلَمْ أَرَ رَوْضَۃً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْہَاوَلاَ أَحْسَنَ قَالَ: قَالاَ لِی:ارْقَ فِیہَا ” قَالَ: فَارْتَقَیْنَا فِیہَا،فَانْتَہَیْنَا إِلَی مَدِینَۃٍ مَبْنِیَّۃٍ بِلَبِنِ ذَہَبٍ وَلَبِنِ فِضَّۃٍ،فَأَتَیْنَا بَابَ المَدِینَۃِ فَاسْتَفْتَحْنَا فَفُتِحَ لَنَا فَدَخَلْنَاہَا،فَتَلَقَّانَا فِیہَا رِجَالٌ شَطْرٌ مِنْ خَلْقِہِمْ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاء ٍ،وَشَطْرٌ کَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاء ٍ قَالَ: قَالاَ لَہُمْ:اذْہَبُوا فَقَعُوا فِی ذَلِکَ النَّہَرِ قَالَ:وَإِذَا نَہَرٌ مُعْتَرِضٌ یَجْرِی کَأَنَّ مَاء َہُ المَحْضُ فِی البَیَاضِ،فَذَہَبُوا فَوَقَعُوا فِیہِ،ثُمَّ رَجَعُوا إِلَیْنَا قَدْ ذَہَبَ ذَلِکَ السُّوء ُ عَنْہُمْ، فَصَارُوا فِی أَحْسَنِ صُورَۃٍ قَالَ:قَالاَ لِی:ہَذِہِ جَنَّۃُ عَدْنٍ وَہَذَاکَ مَنْزِلُکَ قَالَ:فَسَمَا بَصَرِی صُعُدًافَإِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَۃِ البَیْضَاء ِ قَالَ:قَالاَ لِی:ہَذَاکَ مَنْزِلُکَ قَالَ:قُلْتُ لَہُمَا:بَارَکَ اللَّہُ فِیکُمَا ذَرَانِی فَأَدْخُلَہُ، قَالاَ:أَمَّا الآنَ فَلاَ،وَأَنْتَ دَاخِلَہُ قَالَ:قُلْتُ لَہُمَا: فَإِنِّی قَدْ رَأَیْتُ مُنْذُ اللَّیْلَۃِ عَجَبًا، فَمَا ہَذَا الَّذِی رَأَیْتُ؟ قَالَ:قَالاَ لِی:أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُکَ، أَمَّا الرَّجُلُ الأَوَّلُ الَّذِی أَتَیْتَ عَلَیْہِ یُثْلَغُ رَأْسُہُ بِالحَجَرِ،فَإِنَّہُ الرَّجُلُ یَأْخُذُ القُرْآنَ فَیَرْفُضُہُ وَیَنَامُ عَنِ الصَّلاَۃِ المَکْتُوبَۃِ،وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِی أَتَیْتَ عَلَیْہِ،یُشَرْشَرُ شِدْقُہُ إِلَی قَفَاہُ، وَمَنْخِرُہُ إِلَی قَفَاہُ، وَعَیْنُہُ إِلَی قَفَاہُ،فَإِنَّہُ الرَّجُلُ یَغْدُو مِنْ بَیْتِہِ،فَیَکْذِبُ الکَذْبَۃَ تَبْلُغُ الآفَاقَ،وَأَمَّا الرِّجَالُ وَالنِّسَاء ُ العُرَاۃُ الَّذِینَ فِی مِثْلِ بِنَاء ِ التَّنُّورِ،فَإِنَّہُمُ الزُّنَاۃُ وَالزَّوَانِی،وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِی أَتَیْتَ عَلَیْہِ یَسْبَحُ فِی النَّہَرِ وَیُلْقَمُ الحَجَرَ،فَإِنَّہُ آکِلُ الرِّبَا،وَأَمَّا الرَّجُلُ الکَرِیہُ المَرْآۃِ،الَّذِی عِنْدَ النَّارِ یَحُشُّہَا وَیَسْعَی حَوْلَہَا،فَإِنَّہُ مَالِکٌ خَازِنُ جَہَنَّمَ،وَأَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِیلُ الَّذِی فِی الرَّوْضَۃِ فَإِنَّہُ إِبْرَاہِیمُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،وَأَمَّا الوِلْدَانُ الَّذِینَ حَوْلَہُ فَکُلُّ مَوْلُودٍ مَاتَ عَلَی الفِطْرَۃِ قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ المُسْلِمِینَ:یَا رَسُولَ اللَّہِ،وَأَوْلاَدُ المُشْرِکِینَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:وَأَوْلاَدُ المُشْرِکِینَ،وَأَمَّا القَوْمُ الَّذِینَ کَانُوا شَطْرٌ مِنْہُمْ حَسَنًاوَشَطْرٌ قَبِیحًا،فَإِنَّہُمْ قَوْمٌ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَیِّئًا،تَجَاوَزَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ ترجمہ:حضرت سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایاکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺبکثرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کرتے تھے۔ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ جس نے خواب دیکھا ہوتا وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے آپﷺ کو بیان کرتا۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ایک صبح فرمایا:آج رات میرے پاس دو آنے والے آئے،انہوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہا:(ہمارے ساتھ)چلیں۔ میں ان کے ساتھ چل دیا، چنانچہ ہم ایک آدمی کے پاس آئے جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا آدمی اس کے پاس ایک پتھر لیے کھڑا تھا۔ اچانک وہ اس کے سر پر پتھر مارتا تو اس کا سر توڑ دیتا اور پتھر لڑھک کر دور چلا جاتا۔ وہ پتھر کے پیچھے جاتا اور اسے اٹھا لاتا۔ اس کے واپس آنے سے پہلے پہلے دوسرے کا سر صحیح ہو جاتا جیسا کہ پہلے تھا۔ کھڑا ہوا شخص پھر اسی طرح مارتا اور وہی صورت پیش آتی جو پہلے آئی تھی۔ آپ ﷺنے فرمایا: میں نے ان دونوں سے کہا:سبحان اللہ!کیا ماجرا ہے؟ یہ دونوں شخص کون ہیں؟ انہوں نے کہا: آگے چلیں۔ آگے چلیں۔ ہم چل دیے تو ایک آدمی کے پاس پہنچے جو پیٹھ کے بل چت لیٹا ہوا تھا۔ اور دوسرا شخص اس کے پاس لوہے کا آنکڑا لیے کھڑا تھا۔ وہ اس کے چہرے کے ایک طرف آتا اور اس کے جبڑے کو گدی تک،اس کے نتھنے کو گدی تک چیر دیتا۔ پھر چہرے کے دوسری طرف جاتا تو ادھر بھی اسی طرح چیرتا جس طرح اس نے پہلی جانب کیا تھا۔ وہ ابھی دوسری جانب سے فارغ نہ ہوتا تھا کہ پہلی جانب اپنی صحیح حالت میں آجاتی۔ پھر دوبارہ وہ اسی طرح کرتا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا۔آپ ﷺنے فرمایا:میں نے ان سے کہا: سبحان اللہ!یہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے کہا:آگے چلیں،آگے چلیں، چنانچہ ہم آگے چلے۔ پھر ہم ایک تنور جیسی چیز پر آئے۔ اس میں شوروغل کی آواز تھی۔ ہم نے جھانک کر دیکھا تو اس میں ننگے مرد اور ننگی عورتیں تھیں۔ جب ان کے پاس نیچے سے آگ کا شعلہ آتا تو وہ چلانے لگتے۔ میں نے ان دونوں سے پوچھا:یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا:آگے چلو آگے چلو، چنانچہ ہم آگے بڑھے اور ایک نہر پر آئے۔ وہ نہر خون کی طرح سرخ تھی۔ اس میں ایک تیرنے والا آدمی تیر رہا تھا۔ نہر کے کنارے اور آدمی تھا جس کے پاس بہت سے پتھر جمع تھے۔ جب تیر نے والا آدمی اس شخص کے پاس پہنچتا جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے وہ اس کا منہ کھول دیتا اور زور سے پتھر مار کر اسے پیچھے دھکیل دیتا اور وہ پھر تیرنے لگتا۔ پھر اس کے پاس لوٹ کر آتا جیسے پہلے آیا تھا تو وہ اس کا منہ کھول دیتا اور منہ پرزور سے پتھر مارکر اسے پیچھے دھکیل دیتا۔ میں نے پوچھا:یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا:آگے چلیں،آگے چلیں، چنانچہ ہم آگے بڑھے تو ایک انتہائی بد صورت آدمی کے پاس پہنچے جتنے بد صورت تم نے دیکھے ہوں گے وہ ان سب سے زیادہ بد صورت تھا۔ اس کے پاس آگ جل رہی تھی اور وہ اسے خوب تیز کررہا تھا اور اس کے ارد گرد دوڑ رہا تھا۔ میں نے ان دونوں سے پوچھا:یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے مجھے کہا:آگے چلیں،آگے چلیں، بڑھے تو ایک ایسے باغ میں پہنچے جو سر سبز شاداب تھا اوراس میں موسم بہار کے سب پھول تھے۔ اس باغ کے درمیان ایک لمبے قد والا آدمی تھا، اتنا لمبا کہ میرے لیے اس کا سر دیکھنا مشکل ہوگیا گویا وہ آسمان سے باتیں کررہا تھا اس کے ارد گرد بہت سے بچے تھے۔ میں نے اتنے بچے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا:یہ کون ہے؟ اور بچوں کی حقیقت کیا ہے؟ انہوں نے کہا:آگے چلئے۔ ہم آگے بڑھے تو ہم ایک عظیم الشان باغ میں پہنچے۔ میں نے اتنا بڑا اور اتنا خوبصورت باغ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں نے کہا:اس پر چڑھیے۔ جب ہم اس پر چڑھے تو وہاں ایک ایسا شہر دکھائی دیا جس کی ایک اینٹ چاندی کی تھی۔ ہم اس شہر کے دروازے پر آئے اور ہم نے اسے کھلوایا تو وہ ہمارے لیے کھول دیا گیا۔ ہم اس میں داخل ہوئے تو ہمارا استقبال ایسے لوگوں نے کیا جن کے جسم کا نصف حصہ انتہائی خوبصورت اور دوسرا حصہ انتہائی بد صورت تھا۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا کہ ان دونوں ساتھیوں نے لوگوں سے کہا:اس نہر میں کود جاؤ۔ وہاں ایک نہر بہہ رہی تھی جس کا پانی انتہائی سفید اور صاف شفاف تھا۔ وہ لوگ گئے اور اس میں کود پڑے، پھرجب وہ ہمارے پاس آئے تو ان کی بد صورتی جاتی رہی اور اب وہ نہایت خوبصورت ہوگئے تھے۔ ان دونوں نے مجھے کہا:یہ جنت عدن ہے اور یہ آپ کی منزل ہے، جب میری نظر اوپر اٹھی تو سفید بادل کی طرح وہاں مجھے ایک محل نظر آیا۔ انہوں نے مجھے کہا:اس جگہ آپ کا مقام ہے۔ میں نے ان سے کہا:اللہ تعالی تمہیں برکت عطا فرمائے!مجھے چھوڑ دو تاکہ میں اس محل کے اندر داخل ہوجاؤں۔ انہوں نے کہا:اس وقت تو آپ نہیں جاسکتے لیکن آئندہ آپ اس میں ضرور جائیں گے۔ میں نے ان سے کہا:آج رات میں نے بہت عجیب وغریب چیزیں دیکھیں ہیں۔ بہر حال جو کچھ میں نے دیکھا ہے ان کی حقیقت کیا ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا:ہم ابھی آپ سے بیان کرتے ہیں، جسے کچلا جارہاتھا یہ وہ شخص ہے جو قرآن سیکھتا،پھر اسے چھوڑ دیتا اور فرض نماز پڑھے بغیر سو جاتا تھا۔ اور وہ شخص جس کے پاس آپ گئے تھے اور اس کا جبڑا گدی تک،اس کے نتھنے گدی تک اور اس کی آنکھیں گدی تک چیری جارہی تھیں وہ ایسا شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور سارا دن جھوٹ بولتا رہتا حتیٰ کہ دور دراز تک اس کا جھوٹ پہنچ جاتا۔ اور وہ ننگے مرد اور ننگی عورتیں جو تنور میں آپ نے دیکھے وہ زنا کار مرد اور زنا کار عورتیں تھیں۔ اور آپ جس آدمی کے پاس آئے اور خونی نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر مارے جار ہے تھے وہ سود خور تھا۔ اور وہ بد صورت شخص جو آگ بھڑکا رہا تھا اور اس کے ارد گرد دوڑ رہا تھا وہ جہنم کا داروغہ مالک نامی فرشتہ ہے۔ اور باغ میں لمبے قد والے آدمی حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے ارد گرد وہ بچے تھے جو پیدا ہوکر فطرت اسلام پر فوت ہوگئے۔ اس پر کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ!کیا مشرکین کے بچے بھی ان میں شامل ہیں؟ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:ہاں، مشرکین کے بچے بھی ان میں داخل ہیں اب رہے وہ لوگ جن کا نصف بدن، خوبصورت اور نصف بدصورت تھا! تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اچھے اور برے دونوں قسم کے عمل کیے تھے۔ اللہ تعالٰی نے ان سے درگزر فرمایا اور انہیں معاف کردیا۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۹:۴۴)

سودکی وجہ سے اللہ تعالی کاعذاب نازل ہوتاہے

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا،قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِذَا ظَہَرَ الزِّنَا وَالرِّبَا فِی قَرْیَۃٍ، فَقَدْ أَحَلُّوا بِأَنْفُسِہِمْ کِتَابَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:جب کسی بستی میں زنا اور سود عام ہوجائے تو اس بستی والوں نے اپنے لئے اللہ کے عذاب کو حلال کرلیا ۔ (المعجم الکبیر:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۱:۱۷۸) آئے دن ہم لوگ سنتے رہتے ہیں کہ فلاں شہر یا گاؤں زبردست زلزلے سے تباہ ہوگیا، فلاں علاقہ سمندر کی تیز وتند لہروں یا زبردست آندھی وسیلاب سے برباد ہوگیا، فلاں بستی آگ سے جل کر خاکستر ہوگئی ،کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ ان بربادیوں اور تباہیوں میں دوسری معصیتوں کے ساتھ سود کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ ہم بستیوں اور شہروں کی بات کیا کریں آپ لوگ ذرا بنظر غائر دیکھیں اور غور فرمائیں تو سودی قرضوں کی وجہ سے بہت سے ممالک تباہی و بربادی اور عذاب میں مبتلا نظر آئیں گے ۔سپر طاقتوں اور عالمی بینکوں نے غریب ممالک کو سودی قرض دے دے کرکس طرح انہیں اپنے شکنجوں میں جکڑ لیا ہے اور ان کے حکمراں اور عوام کس طرح آج غلامی ومجبوری اور ذلت و رسوائی کی زندگی گذارتے اور اس سودی قرض کی سزا اور عذاب کا مزہ چکھ رہے ہیں ،عالمی حالات واقعات پر نظر رکھنے والوں سے مخفی نہیں۔

رحمۃ اللعالمین ﷺکس پر لعنت فرماتے ہیں؟

عَنْ عَبْدِ اللَّہِ، قَالَ:إِنَّ آکِلَ الرِّبَا وَمُوکِلَہُ وَشَاہِدَیْہِ وَکَاتِبَہُ وَالْوَاشِمَۃَ وَالْمُسْتَوْشِمَۃَ لِلْحُسْنِ، وَالْمُسْتَحِلَّ، وَالْمُسْتَحَلَّ لَہُ،وَلَاوِیَ الصَّدَقَۃِ، وَالْمُرْتَدَّ أَعْرَابِیًّا بَعْدَ ہِجْرَتِہِ، مَلْعُونُونَ عَلَی لِسَانِ مُحَمَّدٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ ترجمہ :حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سود کھانے والا اور کھلانے والا اور اس کے دونوں گواہ اور کاتب ، ان کو اس کا علم رہا ہو تو سب حضورتاجدارختم نبوتﷺکی زبان مبارک سے ملعون ہیں ۔ اور بعض روایتوں میں إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ یعنی قیامت کے دن تک کا اضافہ ہے۔ (مسند أبی داود الطیالسی:أبو داود سلیمان بن داود بن الجارود الطیالسی البصری (ا:۳۱۷) غور کیجئے کہ سود کتنا عظیم جرم اور کبیرہ گناہ ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے صرف اس کے کھانے والے اور لینے والے پر لعنت کی دعائے جلال نہیں فرمائی ہے، بلکہ سود دینے والے ،اس معاملہ میں گواہ بننے والے اور اس معاملے کو قلم بند کرنے والے اور ان تمام لوگوں کے لئے جنہوں نے اس میں کسی بھی طرح کا تعاون کیا ہے لعنت بھیجی ہے، اور سب کو اس گناہ عظیم اور لعنت میں شریک اور مساوی قرار دیا ہے۔پھر بتائے کہ جس پرحضورتاجدارختم نبوتﷺ رحمۃ للعالمین ہوکر لعنت بھیجیں اور ان کے لئے اللہ تعالی کی رحمت اور خیر سے دوری کی دعائے جلال کریں ان کی دنیا میں کیا حالت ہوگی اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟

سوداورشرک

عَنْ عَبْدِ اللَّہِ،أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:الرِّبَا بِضْعٌ وَسَبْعُونَ بَابًا وَالشِّرْکُ مِثْلُ ذَلِکَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:سود کے ستر سے زیادہ درجے ہیں اور شرک کے بھی اسی طرح ۔ (مسند البزار :أبو بکر أحمد بن عمرو بن عبد الخالق المعروف بالبزار (۵:۳۱۸)

زناکے تہترباب ہیں

عَنْ عَبْدِ اللَّہِ،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:الرِّبَا ثَلَاثَۃٌ وَسَبْعُونَ بَابًا، أَیْسَرُہَا مِثْلُ أَنْ یَنْکِحَ الرَّجُلُ أُمَّہُ،وَإِنَّ أَرْبَی الرِّبَا عِرْضُ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:یعنی سود کے تہتر درجے ہیں ،ان میں سب سے کم درجہ (گناہ میں )ایسا ہے جیسے کوئی اپنی ماں سے زنا کرے ۔ (المستدرک علی الصحیحین:أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم (۲:۴۳)

سودخورخنزیربنادئیے جائیں گے

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَیَبِیتَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی عَلَی أَشَرٍ وَبَطَرٍ وَلَعِبٍ وَلَہْوٍ،فَیُصْبِحُوا قِرَدَۃً وَخَنَازِیرَ بِاسْتِحْلَالِہِمُ الْمَحَارِمَ،وَاتِّخَاذِہِمُ الْقَیْنَاتِ،وَشُرْبِہِمُ الْخَمْرَ،وَأَکْلِہِمُ الرِّبَا،وَلُبْسِہِمُ الْحَرِیرَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری امت کے کچھ لوگ گھمنڈ کرتے ،اور بکثرت ناز ونعم اور اترانے کی وجہ سے حق کا انکار کرتے اور لہو و لعب میں رات گذاریں گے اور صبح کو ان کے محرمات کو حلال سمجھنے ،گانے والیوں کو رکھنے اورشراب نوشی ، سود خوری اور ریشمی لباس پہننے کی وجہ سے بندر اور سور بنا دئیے جائیں گے ۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۳۷:۴۴۲) افسوس کہ اس حدیث میں مذکوراوصاف کے لوگوں کی آج کثرت ہوگئی ہے ، سود خوری عام ہے ،اور شراب نوشی، ناچ گانے اور فحاشی وبد کاری وغیرہ کے اڈوں سے شاید ہی کوئی شہر خالی ہو ، اب تو اس قسم کی محفلوں میں شرکت اعلی سوسائٹی کی علامت بن گئی ہے۔ اور اس طرح کے کاروبار بڑے نفع بخش کاروبار مانے جانے لگے ہیں۔ اس قسم کے کاروبار کرنے والے اور ایسی محفلوں میں شریک ہونے والے اس حدیث پر غور کریں اور اللہ تعالی سے ڈریں کہ کہیں ان کی صورتیں مسخ نہ کردی جائیں، اور انہیں اللہ تعالیٰ اس عبرت ناک عذاب میں مبتلا نہ کردے جس کا تذکرہ اس حدیث میں ہے ۔أعاذنا اللہ تعالی منہ.

سودخورکی عبادت خطرے میں ہے

عَنْ سَعِیدِ بْنِ یَسَارٍ،أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ، یَقُولُ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَۃٍ مِنْ طَیِّبٍ،وَلَا یَقْبَلُ اللہُ إِلَّا الطَّیِّبَ،إِلَّا أَخَذَہَا الرَّحْمَنُ بِیَمِینِہِ،وَإِنْ کَانَتْ تَمْرَۃً،فَتَرْبُو فِی کَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّی تَکُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ،کَمَا یُرَبِّی أَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ أَوْ فَصِیلَہُ۔ ترجمہ:حضرت سیدناسعیدبن یساررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:کوئی بھی شخص نہیں صدقہ کرتا ہے حلال اور پاک مال سے۔اور اللہ تعالیٰ نہیں قبول کرتا ہے مگر حلال اور پاک کو ہی ۔مگر رحمن اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے ،اگر وہ ایک کھجور ہو تو رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ پہاڑسے بڑا ہوجاتا ہے ، جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۲:۷۰۲) دوسری روایت عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:أَیُّہَا النَّاسُ،إِنَّ اللہَ طَیِّبٌ لَا یَقْبَلُ إِلَّا طَیِّبًا،وَإِنَّ اللہَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِینَ بِمَا أَمَرَ بِہِ الْمُرْسَلِینَ، فَقَالَ:(یَا أَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا، إِنِّی بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِیمٌ)(المؤمنون:۵۱)وَقَالَ:(یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ)(البقرۃ:۱۷۲)ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ،یَمُدُّ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَاء ِ،یَا رَبِّ، یَا رَبِّ،وَمَطْعَمُہُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُہُ حَرَامٌ،وَمَلْبَسُہُ حَرَامٌ،وَغُذِیَ بِالْحَرَامِ،فَأَنَّی یُسْتَجَابُ لِذَلِکَ؟۔ ترجمہ:حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺ نے فرمایا: اے لوگو!بے شک اللہ پاک ہے ،نہیں قبول کرتا ہے مگر پاک اور حلال کو ہی ، اور بلا ریب اللہ نے مومنوں کو اسی کا حکم دیا ہے جس کا حکم رسولوں کو دیا ہے، چنانچہ فرمایا :اے رسولوں!حلال اور پاکیزہ رزق میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، جو عمل تم کرتے ہو انہیں میں خوب اچھی طرح جانتا ہوں ،اور فرمایا: اے مومنو! تم ہماری دی گئی حلال اور پاکیزہ رزق میں سے کھاؤ ۔ پھرحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ایک آدمی کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ، پراگندہ بال اور گرد وغبار میں اٹاہوتاہے،اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتاہے اور یارب!یارب!کہہ کر دعا کرتا ہے ،حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے ، حرام غذا سے اس کی پرورش ہوئی ہے ،پھر کہاں سے اس کی دعا قبول کی جائے گی! (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۲:۷۰۲) اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ حرام کمائی کے کھانے پینے اور لباس کے استعمال کرنے سے کوئی عبادت اور دعا قبول نہیں ہوتی ہے۔اس سے سود (جو بلا شبہ حرام ہے)کی ہلاکت خیزی اور خطرناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور بلاتردد کہاجاسکتا ہے کہ سودی ذرائع سے آمدنی کرکے کھانے پینے والوں کی عبادتیں اور دعائیں خطرے میں ہیں، اور قوی امکان واحتمال ہے کہ انہیں شرف قبولیت سے محروم کردیا جائے،اور ان کی ساری عبادتیں اور دینی محنتیں ضائع اور اکارت ہوجائیں۔أعاذنا اللہ تعالی من ھذہ المصیبۃ.

سودخورکوقیامت کے دن فالج ہوجائے گا

عَن أنس قَالَ:قَالَ رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم یَأْتِی آکل الرِّبَا یَوْم الْقِیَامَۃ مختبلاً یجر شقیہ ثمَّ قَرَأَ (لَا یقومُونَ إِلَّا کَمَا یقوم الَّذِی یتخبطہ الشَّیْطَان من الْمس)۔ ترجمہ:حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: قیامت کے دن سودکھانے والے کو فالج ہوجائے گااوراپنی اطراف کوکھینچ رہاہوگا۔ (فتح القدیر:محمد بن علی بن محمد بن عبد اللہ الشوکانی الیمنی (ا:۳۴۰)

سودخورقیامت کے دن کھڑانہیں ہوسکے گا

عَنْ عَطَاء ٍ الْخُرَاسَانِیِّ، أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ سَلَامٍ قَالَ:الرِّبَا اثْنَانِ وَسَبْعُونَ حُوبًا،أَصْغَرُہَا حُوبًا کَمَنْ أَتَی أُمَّہُ فِی الْإِسْلِامِ،وَدِرْہَمٌ فِی الرِّبَا أَشَدُّ مِنْ بِضْعٍ وَثَلَاثِینَ زِینَۃً،قَالَ:وَیَأْذَنُ لَہُمْ فِی الْقِیَامِ الْبَرِّ وَالْفَاجِرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، إِلَّا لِآکِلِ الرِّبَا،فَإِنَّہُ لَا یَقُومُ إِلَّا کَمَا یَقُومُ الَّذِی یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سودبہترگناہ کے برابرہے اورسب سے چھوٹاگناہ جیسے کوئی شخص اسلام میں اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرے ، سودکاایک درہم تیس سے زائد مرتبہ بدکاری کرنے سے بھی زیادہ شدیدہے ، فرمایاکہ قیامت کے دن تمام لوگوں کو کھڑے ہونے کی اجازت ہوگی ، خواہ نیکوکارہوں یافاسق وفاجر، لیکن سودکھانے والے کویہ اجازت نہیں ہوگی ، وہ اس شخص کی مانندکھڑے ہوں گے جس کو شیطان نے چھوکرپاگل کردیاہو۔ (شعب الإیمان:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۷:۳۶۰)

زناسے زیادہ سخت کام

عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الرَّاہِبِ قَالَ:قَالَ کَعْبٌ:لَأَنْ أَزْنِی ثَلَاثَۃً وَثَلَاثِینَ زَنْیَۃٍ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ آکُلَ دِرْہَمًا رَبًّا، یَعْلَمُ اللہُ أَنِّی أَکَلَتْہُ رَبًّا ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیاکہ حضرت سیدناکعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تینتیس مرتبہ بدکاری کرنامجھے سود کاایک درہم کھانے سے زیادہ پسندہے جس کے متعلق اللہ تعالی جانتاہے کہ وہ درہم میں نے بطورسود کھایاہے ۔ (شعب الإیمان:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۷:۳۶۰)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے سود رائیگاں قراردیا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَیْلِیُّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ وَہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَسُلَیْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِیَّانِ وَرُبَّمَا زَادَ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ الْکَلِمَۃَ وَالشَّیْء َ قَالُوا حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ فَلَمَّا انْتَہَیْنَا إِلَیْہِ سَأَلَ عَنْ الْقَوْمِ حَتَّی انْتَہَی إِلَیَّ فَقُلْتُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ فَأَہْوَی بِیَدِہِ إِلَی رَأْسِی فَنَزَعَ زِرِّی الْأَعْلَی ثُمَّ نَزَعَ زِرِّی الْأَسْفَلَ ثُمَّ وَضَعَ کَفَّہُ بَیْنَ ثَدْیَیَّ وَأَنَا یَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ فَقَالَ مَرْحَبًا بِکَ وَأَہْلًا یَا ابْنَ أَخِی سَلْ عَمَّا شِئْتَ فَسَأَلْتُہُ وَہُوَ أَعْمَی وَجَاء َ وَقْتُ الصَّلَاۃِ فَقَامَ فِی نِسَاجَۃٍ مُلْتَحِفًا بِہَا یَعْنِی ثَوْبًا مُلَفَّقًا کُلَّمَا وَضَعَہَا عَلَی مَنْکِبِہِ رَجَعَ طَرَفَاہَا إِلَیْہِ مِنْ صِغَرِہَا فَصَلَّی بِنَا وَرِدَاؤُہُ إِلَی جَنْبِہِ عَلَی الْمِشْجَبِ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِی عَنْ حَجَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِیَدِہِ فَعَقَدَ تِسْعًا ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَثَ تِسْعَ سِنِینَ لَمْ یَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِی النَّاسِ فِی الْعَاشِرَۃِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ فَقَدِمَ الْمَدِینَۃَ بَشَرٌ کَثِیرٌ کُلُّہُمْ یَلْتَمِسُ أَنْ یَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَعْمَلَ بِمِثْلِ عَمَلِہِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَہُ حَتَّی أَتَیْنَا ذَا الْحُلَیْفَۃِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاء ُ بِنْتُ عُمَیْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِی بَکْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَیْفَ أَصْنَعُ فَقَالَ اغْتَسِلِی وَاسْتَذْفِرِی بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِی فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَکِبَ الْقَصْوَاء َ حَتَّی إِذَا اسْتَوَتْ بِہِ نَاقَتُہُ عَلَی الْبَیْدَاء ِ قَالَ جَابِرٌ نَظَرْتُ إِلَی مَدِّ بَصَرِی مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ مِنْ رَاکِبٍ وَمَاشٍ وَعَنْ یَمِینِہِ مِثْلُ ذَلِکَ وَعَنْ یَسَارِہِ مِثْلُ ذَلِکَ وَمِنْ خَلْفِہِ مِثْلُ ذَلِکَ وَرَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ أَظْہُرِنَا وَعَلَیْہِ یَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَہُوَ یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ فَمَا عَمِلَ بِہِ مِنْ شَیْء ٍ عَمِلْنَا بِہِ فَأَہَلَّ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالتَّوْحِیدِ لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیکَ لَکَ وَأَہَلَّ النَّاسُ بِہَذَا الَّذِی یُہِلُّونَ بِہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِمْ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئًا مِنْہُ وَلَزِمَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَلْبِیَتَہُ قَالَ جَابِرٌ لَسْنَا نَنْوِی إِلَّا الْحَجَّ لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَۃَ حَتَّی إِذَا أَتَیْنَا الْبَیْتَ مَعَہُ اسْتَلَمَ الرُّکْنَ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَی أَرْبَعًا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَی مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ فَقَرَأَ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ قَالَ فَکَانَ أَبِی یَقُولُ قَالَ ابْنُ نُفَیْلٍ وَعُثْمَانُ وَلَا أَعْلَمُہُ ذَکَرَہُ إِلَّا عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ سُلَیْمَانُ وَلَا أَعْلَمُہُ إِلَّا قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ بِقُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ وَقُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی الْبَیْتِ فَاسْتَلَمَ الرُّکْنَ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ الْبَابِ إِلَی الصَّفَا فَلَمَّا دَنَا مِنْ الصَّفَا قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّہُ بِہِ فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِیَ عَلَیْہِ حَتَّی رَأَی الْبَیْتَ فَکَبَّرَ اللَّہَ وَوَحَّدَہُ وَقَالَ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ أَنْجَزَ وَعْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہُ وَہَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ ثُمَّ دَعَا بَیْنَ ذَلِکَ وَقَالَ مِثْلَ ہَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ نَزَلَ إِلَی الْمَرْوَۃِ حَتَّی إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاہُ رَمَلَ فِی بَطْنِ الْوَادِی حَتَّی إِذَا صَعَدَ مَشَی حَتَّی أَتَی الْمَرْوَۃَ فَصَنَعَ عَلَی الْمَرْوَۃِ مِثْلَ مَا صَنَعَ عَلَی الصَّفَا حَتَّی إِذَا کَانَ آخِرُ الطَّوَافِ عَلَی الْمَرْوَۃِ قَالَ إِنِّی لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْہَدْیَ وَلَجَعَلْتُہَا عُمْرَۃً فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ لَیْسَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیُحْلِلْ وَلْیَجْعَلْہَا عُمْرَۃً فَحَلَّ النَّاسُ کُلُّہُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَقَامَ سُرَاقَۃُ بْنُ جُعْشُمٍ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَلِعَامِنَا ہَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ فَشَبَّکَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَہُ فِی الْأُخْرَی ثُمَّ قَالَ دَخَلَتْ الْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ ہَکَذَا مَرَّتَیْنِ لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ قَالَ وَقَدِمَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ الْیَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ فَاطِمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مِمَّنْ حَلَّ وَلَبِسَتْ ثِیَابًا صَبِیغًا وَاکْتَحَلَتْ فَأَنْکَرَ عَلِیٌّ ذَلِکَ عَلَیْہَا وَقَالَ مَنْ أَمَرَکِ بِہَذَا فَقَالَتْ أَبِی فَکَانَ عَلِیٌّ یَقُولُ بِالْعِرَاقِ ذَہَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَی فَاطِمَۃَ فِی الْأَمْرِ الَّذِی صَنَعَتْہُ مُسْتَفْتِیًا لِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الَّذِی ذَکَرَتْ عَنْہُ فَأَخْبَرْتُہُ أَنِّی أَنْکَرْتُ ذَلِکَ عَلَیْہَا فَقَالَتْ إِنَّ أَبِی أَمَرَنِی بِہَذَا فَقَالَ صَدَقَتْ صَدَقَتْ مَاذَا قُلْتَ حِینَ فَرَضْتَ الْحَجَّ قَالَ قُلْتُ اللَّہُمَّ إِنِّی أُہِلُّ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِنَّ مَعِیَ الْہَدْیَ فَلَا تَحْلِلْ قَالَ وَکَانَ جَمَاعَۃُ الْہَدْیِ الَّذِی قَدِمَ بِہِ عَلِیٌّ مِنْ الْیَمَنِ وَالَّذِی أَتَی بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِینَۃِ مِائَۃً فَحَلَّ النَّاسُ کُلُّہُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ قَالَ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ وَوَجَّہُوا إِلَی مِنًی أَہَلُّوا بِالْحَجِّ فَرَکِبَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی بِمِنًی الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاء َ وَالصُّبْحَ ثُمَّ مَکَثَ قَلِیلًا حَتَّی طَلَعَتْ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِقُبَّۃٍ لَہُ مِنْ شَعْرٍ فَضُرِبَتْ بِنَمِرَۃٍ فَسَارَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا تَشُکُّ قُرَیْشٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَۃِ کَمَا کَانَتْ قُرَیْشٌ تَصْنَعُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَی عَرَفَۃَ فَوَجَدَ الْقُبَّۃَ قَدْ ضُرِبَتْ لَہُ بِنَمِرَۃٍ فَنَزَل

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh