صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2223 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

سنت کی اتباع پراجروفضیلت اورترک سنت پروعیدیں

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,542

سوال (Question):

سنت کی اتباع پراجروفضیلت اورترک سنت پروعیدیں

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سنت کی اتباع پراجروفضیلت اورترک سنت پروعیدیں

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا جذبہ تسلیم و رضا ایسا تھا جس میں سراسربندگی، رضاو تسلیم، خشوع و خضوع کا جذبہ تھا، یہ جذبہ تاریخ کے ہر دور میں انسانیت کے ہر طبقہ میں رفیق رہا اور وہ کبھی اس سے آزاد نہیں ہو سکتا، اپنے ابتدائی دور میں اور ابتدائی دور سے اب تک دنیاکے بعض حصوں میں موجود ہے ، انسان پتھروں ،دریاؤں، درختوں کے سامنے اپنی پیشانی ٹیک کر اس جذبہ کی تسکین کرتا تھا ۔آگ ،سورج ،چاند، ستاروں کی عبادت کرتا تھا، فطرت کے مظاہر اور کائنات کی قوتوں ،کاہنوں ،راہبوں ،جنوں، روحوں کے سامنے سر تسلیم خم کرتا تھا،حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ان تمام لوگوں کو شر ک و بت پرستی کی آلائشوں سے نکال کر توحید کی پاکیزہ و پاک سیرت زندگی عطا کی اور وہی لوگ جو خود نہ تھے راہ پراور وں کے ہادی بن گئے ۔اور دین کے ایسے شیدائی بن گئے کہ لوگوں نے تپتی ریت پر لٹا کر کوڑے مارے ،نیزے سے بدن چھلنی کیے،تلوار کے گھاٹ اتارا،پھانسی کے گھاٹ پر چڑھایا، لیکن زبان مبارک سے احد احدکا نعرہ ہی بلند ہوا اور کائنات کی کوئی ہستی ان کو دین سے برگشتہ نہ کر سکی۔

اتباع کی تعریف

قال الإمام أحمدرحمہ اللہ تعالی:ہو أن یتّبع الرّجل ما جاء عن النّبیّ صلّی اللہ علیہ وسلّم وعن أصحابہ، ثمّ ہو من بعد فی التّابعین مخیّر. ترجمہ:اتباع یہ ہے کہ کوئی شخص حضورتاجدارختم نبوت ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اتباع کرے اوران دونوں طبقات کے بعد والوں یعنی تابعین کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اختیار ہے چاہے ان کی اتباع کرے یا نہ کرے۔ (نضرۃ النعیم :عدد من المختصین بإشراف الشیخ صالح بن عبد اللہ إمام وخطیب الحرم المکی(۲:۱۰)

سنت کی تعریف

السُنَّۃ فی اصطلاح المُحَدِّثِینَ ہی:کل ما أُثِرَ عن النبی صَلََّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ من قول،أو فعل، أو تقریر، أو صِفۃ خَلقیۃ أوخُلُقیَّۃ،أوسیرۃ سواء أکان ذلک قبل البعثۃ کتحَنُّثِہِ فی غار حراء ،أوبعدہا. ترجمہ :محدثین کی اصطلاح میں سنت ہر وہ قول، فعل اور تقریر جوحضورتاجدارختم نبوت ﷺسے منقول ہو ، چاہے وہ فطری ہو یا اخلاقی، قبل البعثت ہو یا بعد البعثت ۔ (السنۃ قبل التدوین:محمد عجاج بن محمد تمیم بن صالح بن عبد اللہ الخطیب:۱۶)

تم پرمیری اورمیرے خلفاء کرام کی سنت کی پیروی لازم ہے

عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی الْمُطَاعِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِیَۃَ یَقُولُ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:مَنْ بَقِیَ بَعْدِی مِنْکُمْ فَسَیَرَی اخْتِلَافًا شَدِیدًا، فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِی وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاء ِ الرَّاشِدِینَ عُضُّوا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ . ترجمہ :حضرت سیدنایحی بن ابی المطاع رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ میں نے حضرت سیدناالعربا ض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کوفرماتے ہوئے سنا کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے سناکہ آپ ﷺنے فرمایا: تم میں سے جوبھی میرے بعد زندہ رہاوہ سخت اختلاف دیکھے گاتوتم پر میری اور میرے خلفائے راشدین کی سنت پر عمل لازمی ہے ،اس کو تھام لو اور اس پر مضبوطی اختیار کرو۔ (السنۃ:أبو بکر بن أبی عاصم وہو أحمد بن عمرو بن الضحاک بن مخلد الشیبانی (۱:۲۹) سنت جنت لے جانے والی ہے عن عائشۃمن تمسک بالسنۃ دخل الجنۃ۔ ترجمہ :حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:جس نے سنت کو تھاما، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ (کنز العمال:علاء الدین علی بن حسام الدین ابن قاضی خان القادری الشاذلی (۱:۸۴) جس نے سنت کو ترک کیاوہ ہلاک ہوگیا عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو،قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لِکُلِّ عَمَلٍ شِرَّۃٌ،وَلِکُلِّ شِرَّۃٍ فَتْرَۃٌ، فَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ إِلَی سُنَّتِی،فَقَدْ أَفْلَحَ،وَمَنْ کَانَتْ إِلَی غَیْرِ ذَلِکَ فَقَدْ ہَلَکَ ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ سے مروی کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:جس کا اطمینان جاکر میری سنت پر ہوا، وہ کامیاب ہو گیا، اور جس کا اطمینان اس کے علاوہ پر ہوا، وہ ہلاک ہوگیا۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۱۱:۵۴۷)

جس نے سنت سے اعراض کیا

أَخْبَرَنَا حُمَیْدُ بْنُ أَبِی حُمَیْدٍ الطَّوِیلُ،أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ،یَقُولُ: فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِی فَلَیْسَ مِنِّی ملتقطاً۔ ترجمہ :حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں ہے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۷:۲) جس نے میری سنت سے محبت کی۔۔۔ عن سعید بن المسیب قال قال أنس من أحب سنتی فقد أحبنی،ومن أحبنی کان معی فی الجنۃ۔ ترجمہ:حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ، جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔ (تاریخ دمشق:أبو القاسم علی بن الحسن بن ہبۃ اللہ المعروف بابن عساکر (۹:۳۴۳)

سوشہیدوں کاثواب

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ:قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:الْمُتَمَسِّکُ بِسُنَّتِی عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِی لَہُ أَجْرُ شَہِیدٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ارشادفرمایا:جس نے میری امت کے فساد کے وقت میری سنت کو تھاما ، اس کو سوشہیدوں کا ثواب ملے گا۔ (المعجم الأوسط:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۵:۳۱۵) خیرالہدیٰ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،قَالَ:وَیَقُولُ:أَمَّا بَعْدُ،فَإِنَّ خَیْرَ الْحَدِیثِ کِتَابُ اللہِ،وَخَیْرُ الْہُدَی ہُدَی مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُہَا،وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃ۔ ترجمہ:حضرت سیدناجابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:بہترین کلام کتاب اللہ ہے، عمدہ سیرت ،حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کی سیرت ہے اور اس میں نئی چیزیں گھڑنا بدترین کام ہے اور ہر بدعت گمر اہی ہے۔ (صحیح مسلم : امام مسلم (۲:۴۳۲)

ترک سنت سے گمراہی آجائے گی

عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: قَدْ یَئِسَ الشَّیْطَانُ بِأَنْ یُعْبَدَ بِأَرْضِکُمْ وَلَکِنَّہُ رَضِیَ أَنْ یُطَاعَ فِیمَا سِوَی ذَلِکَ مِمَّا تُحَاقِرُونَ مِنْ أَعْمَالِکُمْ، فَاحْذَرُوا یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّی قَدْ تَرَکْتُ فِیکُمْ مَا إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِہِ فَلَنْ تَضِلُّوا أَبَدًا کِتَابَ اللَّہِ وَسُنَّۃَ نَبِیِّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ملتقطاً۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ ارشادفرماتے ہوئے فرمایا: یقیناً میں نے تم میں ایسی چیزیں چھوڑ دی ہیں کہ اگر تم ان کو تھام لو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے، ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے اس کے حبیب کریم ﷺکی سنت۔ (المستدرک علی الصحیحین:أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم (۱:۱۷۱)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺمیزان اکبرہیں

عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ:إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہُوَ الْمِیزَانُ الْأَکْبَرُ،فَعَلَیْہِ تُعْرَضُ الْأَشْیَاء ُ، عَلَی خُلُقِہِ وَسِیرَتِہِ وَہَدْیِہِ،فَمَا وَافَقَہَا فَہُوَ الْحَقُّ، وَمَا خَالَفَہَا فَہُوَ الْبَاطِلُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام سفیان بن عینیہ المتوفی : ۱۹۸ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺسب سے بڑی کسوٹی ہیں، لہٰذا آپ ﷺہی کے اخلاق، سیرت اور طریقہ پر تمام اشیا پیش کی جاتی ہیں۔ جو ان کے موافق ہوں، وہ حق اور جو ان کے مخالف ہوں، وہ باطل ہیں۔ (الجامع لأخلاق الراوی:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی:۱۲۷)

پہلے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکافرمان شریف

وَقَوْلُہُ فَلْیَحْذَرِ الَّذِینَ یُخالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ أَیْ عَنْ أَمْرَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ سَبِیلُہُ وَمِنْہَاجُہُ وَطَرِیقَتُہُ وَسُنَّتُہُ وَشَرِیعَتُہُ، فَتُوزَنُ الْأَقْوَالُ وَالْأَعْمَالُ بِأَقْوَالِہِ وَأَعْمَالِہِ، فَمَا وَافَقَ ذَلِکَ قُبِلَ، وَمَا خَالَفَہُ فَہُوَ مَرْدُودٌ علی قائلہ وفاعلہ کائنا من کان۔ ترجمہ : فرمان باری تعالی :{فَلْیَحْذَرِ الَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ }سے مراد حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کا امر ہے اور وہ آپ ﷺ کے راستہ، منہج، طریقہ اور آپﷺ کی شریعت کا نام ہے۔ چنانچہ آپﷺ کے اقوال و افعال کے ساتھ ہی (سب لوگوں کے)اقوال و افعال پرکھے جاتے ہیں۔ جو قول آپﷺکے اقوال و افعال کے موافق ہو، قبول کیا جائے گا اور جو ان کے خلاف ہو، اسے اس کے قائل و فاعل پر ردّ کر دیا جائے گا، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ (تفسیرابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۶:۸۲)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے فرمان شریف پر کسی اورقول کے کو ترجیح دینے والا

ہذہ کافیہ لمن عقل وحذروآمن باللہ والیوم الآخر، و ایقن ان ہذا العہد عہد ربہ تعالی الیہ و وصیتہ عزوجل الواردۃ علیہ، فلیفتش لانسان نفسہ، فان وجد فی نفسہ مما قضاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی کل خبر یصححہ مما قد بلغہ، آووجد نفسہ غیر مسلمہ لما جاء ہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و وجد نفسہ مائلۃ الی قول فلان وفلان، او الی قیاسہ واستحسانہ، او وجہ نفسہ تحکم فیما نازعت فیہ احدا دون رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم من صاحب فمن دونہ، فلیعلم ان اللہ تعالی قد اقسم، و قولہ الحق، انہ لیس مؤمنا، و صدق اللہ تعالٰی،واذا لم یکن مؤمنا فہو کافر، ولا سبیل الی قسم ثالث۔ ترجمہ :امام أبو محمد علی بن أحمد بن سعید بن حزم الأندلسی القرطبی الظاہری المتوفی : ۴۵۶ھ) لکھتے ہیں کہ یہی آیت اس شخص کے لیے کافی ہے، جو عقل مند اور ہوشیار ہو، نیز اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور یہ یقین رکھتا ہو کہ یہ وعدہ اس کے رب نے اس سے لیا ہے اور یہ وصیت اس کی طرف سے اس پر لاگو ہے۔ انسان کو اپنے نفس کی تشخیص کرنی چاہئیے۔ اگر وہ صحیح حدیث میں موجود حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کے فیصلے کے بارے میں اپنے نفس میں تنگی محسوس کرے یا اپنے نفس کو پائے کہ وہ اس چیز کو تسلیم ہی نہیں کرتا، جو حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کی طرف سے اس تک پہنچی ہے یا اپنے نفس کو فلاں اور فلاں کے قول یا اپنے ذاتی قیاس و استحسان کی طرف مائل ہونے والا پائے یا اپنے نفس کو پائے کہ اختلاف میں فیصلہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی بجائے کسی اورشخص یا بعد والے کی طرف لے کر جاتا ہے تو وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھائی ہے اور اس کا فرمان حق ہے کہ وہ مؤمن نہیں۔ اللہ نے سچ فرمایاہے، جب وہ مؤمن نہیں تو کافر ہی ہے، کسی تیسری قسم کی طرف تو کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔ (الإحکام فی أصول الأحکام:أبو محمد علی بن أحمد بن سعید بن حزم الأندلسی القرطبی الظاہری (۱:۹۹)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے فیصلے کے علاوہ کسی اور۔۔۔۔

فَالْوَاجِبُ کَمَالُ التَّسْلِیمِ لِلرَّسُولِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَالْانْقِیَادُ لِأَمْرِہِ،وَتَلَقِّی خَبَرِہِ بِالْقَبُولِ وَالتَّصْدِیقِ، دُونَ أَنْ یُعَارِضَہُ بِخَیَالٍ بَاطِلٍ یُسَمِّیہِ مَعْقُولًا، أَوْ نُحَمِّلَہُ شُبْہَۃً أَوْ شَکًّا،أَوْ یُقَدِّمَ عَلَیْہِ آرَاء َ الرِّجَالِ وَزُبَالَۃَ أَذْہَانِہِمْ، فَیُوَحِّدَہُ بِالتَّحْکِیمِ وَالتَّسْلِیمِ وَالْانْقِیَادِ وَالْإِذْعَانِ، کَمَا وَحَّدَ الْمُرْسِلَ بِالْعِبَادَۃِ وَالْخُضُوعِ وَالذُّلِّ وَالْإِنَابَۃِ وَالتَّوَکُّلِ فَہُمَا تَوْحِیدَانِ، لَا نَجَاۃَ لِلْعَبْدِ مِنْ عَذَابِ اللَّہِ إِلَّا بِہِمَا:تَوْحِیدُ الْمُرْسِلِ، وَتَوْحِیدُ مُتَابَعَۃِ الرَّسُولِ، فَلَا یُحَاکِمُ إِلَی غَیْرِہِ، وَلَا یَرْضَی بِحُکْمِ غَیْرِہِ۔ ترجمہ :امام صدر الدین محمد بن علاء الدین علیّ بن محمد ابن أبی العز الحنفی المتوفی : ۷۹۲ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ چنانچہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے لیے کمال تسلیم، آپ ﷺکے حکم کے لیے کمال فرمانبرداری اور آپﷺ کی حدیث کو قبولیت و تصدیق کے ساتھ لینا واجب ہے، بغیر اس کے کہ ہم اس کے مقابلے میں کوئی خیال باطل لائیں، جسے ہم معقول کا نام دیتے ہوں یا ہم اس میں کوئی شبہ یا شک پیدا کریں یا اس پر لوگوں کی آراء اور ان کے اذہان کے کوڑے کرکٹ کو مقدم کریں، لہٰذا ہم فیصلے، تسلیم، اطاعت اور فرمانبرداری میںحضورتاجدارختم نبوتﷺ کی توحید کے قائل ہیں، جیساکہ ہم عبادت، خشوع و خضوع، عاجزی، انابت اور توکل میں آپﷺکو بھیجنے والے اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل ہیں۔ یہ دو قسم کی توحید ہے۔ اللہ تعالی کے عذاب سے بندے کی نجات اس دو قسم کی توحید کے بغیر ممکن نہیں، یعنی بھیجنے والے اللہ کی توحید اورحضورتاجدارختم نبوتﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کی توحید، پس نہ توحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے علاوہ کسی اورکی طرف فیصلہ لے جایاجائے گااورنہ ہی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے علاوہ کسی کے فیصلے پر راضی ہوں گے۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ:صدر الدین محمد بن علاء الدین علیّ بن محمد ابن أبی العز الحنفی:۱۶۶)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکافرمان چھوڑ کربرناڈشاہ کے اقوال لینے والوں کارد

وَمِنَ الْمُحَالِ أَنْ لَا یَحْصُلَ الشِّفَاء ُ وَالْہُدَی وَالْعِلْمُ وَالْیَقِینُ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ وَکَلَامِ رَسُولِہِ، وَیَحْصُلَ مِنْ کَلَامِ ہَؤُلَاء ِ الْمُتَحَیِّرِینَ. بَلِ الْوَاجِبُ أَنْ یَجْعَلَ مَا قَالَہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ہُوَ الْأَصْلُ، وَیَتَدَبَّرَ مَعْنَاہُ وَیَعْقِلَہُ، وَیَعْرِفَ بُرْہَانَہُ وَدَلِیلَہُ إِمَّا الْعَقْلِیُّ وَإِمَّا الْخَبَرِیُّ السَّمْعِیُّ، وَیَعْرِفَ دَلَالَتَہُ عَلَی ہَذَا وَہَذَا، وَیَجْعَلَ أَقْوَالَ النَّاسِ الَّتِی تُوَافِقُہُ وَتُخَالِفُہُ مُتَشَابِہَۃً مُجْمَلَۃً، فَیُقَالُ لِأَصْحَابِہَا:ہَذِہِ الْأَلْفَاظُ تَحْتَمِلُ کَذَاوَکَذَا، فَإِنْ أَرَادُوا بِہَا مَا یُوَافِقُ خَبَرَ الرَّسُولِ قُبِلَ،وَإِنْ أَرَادُوا بِہَا مَا یُخَالِفُہُ رُدَّ۔ ترجمہ :امام صدر الدین محمد بن علاء الدین علیّ بن محمد ابن أبی العز الحنفی المتوفی : ۷۹۲ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ ناممکن بات ہے کہ شفا، ہدایت اور علم و یقین اللہ تعالی اوراس کے حبیب کریمﷺکے کلام سے حاصل نہ ہو اور حیران و پریشان لوگوں کے کلام سے حاصل ہو جائے، بلکہ ضروری ہے کہ اللہ تعالی و رسول ﷺکے فرمان کو اصل بنایا جائے، اس کے معنی میں غور و فکر کیا جائے، اسے سمجھا جائے، اس کی عقلی اور خبری و سمعی دلیل و برہان کو پہچانا جائے، اس کلام پر اس کی دلالت کو سمجھا جائے اورلوگوں کے وہ اقوال، جو اس کے موافق اور مخالف ہوں، ان کو متشابہ و مجمل قرار دے کر ان کے قائلین سے کہا جائے، یہ الفاظ اس اس بات کا احتمال رکھتے ہیں۔ اگر انہوں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کی حدیث کے موافق مراد لی ہو تو قبول کر لیا جائے اور اگر ان کی مراد اس کے خلاف ہو تو اسے ردّ کر دیا جائے۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ:صدر الدین محمد بن علاء الدین علیّ بن محمد ابن أبی العز الحنفی:۱۷۴)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکافرمان چھوڑ کرکہیں اوردیکھنے کی اجازت نہیں

وَقَالَ تَعَالَی:(إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَإِذَا کَانُوا مَعَہُ عَلَی أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ یَذْہَبُوا حَتَّی یَسْتَأْذِنُوہُ)(سورۃ النور:۶۲)فَإِذَا جُعِلَ مِنْ لَوَازِمِ الْإِیمَانِ أَنَّہُمْ لَا یَذْہَبُونَ مَذْہَبًا إذَا کَانُوا مَعَہُ إلَّا بِاسْتِئْذَانِہِ فَأَوْلَی أَنْ یَکُونَ مِنْ لَوَازِمِہِ أَنْ لَا یَذْہَبُوا إلَی قَوْلٍ وَلَا مَذْہَبٍ عِلْمِیٍّ إلَّا بَعْدَ اسْتِئْذَانِہِ، وَإِذْنُہُ یُعْرَفُ بِدَلَالَۃِ مَا جَاء َ بِہِ عَلَی أَنَّہُ أَذِنَ فِیہِ. ترجمہ:امام محمد بن أبی بکر بن أیوب بن سعد شمس الدین ابن قیم الجوزیۃ المتوفی :۷۵۱ھ) رحمہ اللہ تعالی مذکورہ آیت کریمہ کے تحت لکھتے ہیں کہ جب یہ بات ایمان کے لوازمات میں سے کر دی گئی ہے کہ وہ جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کے ساتھ ہوں تو وہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی اجازت کے بغیر کسی طرف نہیں جا سکتے۔ سب لوازم میں سے پہلا تو یہ ہے کہ وہ آپ ﷺ کی اجازت کے بغیر کسی قول اور علمی راستے کی طرف نہ جائیں۔ آپ ﷺکے لائے ہوئے دین سے معلوم ہو گا کہ آپ ﷺنے اس بارے میں اجازت دی ہے۔ (إعلام الموقعین عن رب العالمین:محمد بن أبی بکر بن أیوب بن سعد شمس الدین ابن قیم الجوزیۃ (۱:۴۱)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی حدیث شریف کے علاوہ کسی اورطرف نہ دیکھو

مَخْلَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ قَالَ:قَالَ لِی الْأَوْزَاعِیُّ:یَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِذَا بَلَغَکَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَدِیثٌ فَلَا تَظُنَّنَّ غَیْرَہُ وَلَا تَقُولَنَّ غَیْرَہُ فَإِنَّ مُحَمَّدًا إِنَّمَا کَانَ مُبَلِّغًا عَنْ رَبِّہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام الاوزاعی المتوفی : ۱۵۷ھ) رحمہ اللہ تعالی نے حضرت سیدنامخلدبن حسین رحمہ اللہ تعالی کوفرمایا:اے ابومحمد!جب تجھے حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کی طرف سے کوئی حدیث پہنچ جائے تو کسی دوسری بات کا نہ سوچ، نہ اس کے علاوہ کوئی اور بات کہہ۔ کیونکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺتو اپنے رب کی طرف سے وحی پہنچائے جاتے تھے۔ (الفقیہ و المتفقہ:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی (۱:۳۸۷)

ہم توحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی پیروی کریں گے

عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ:أَضْلَلْتَ النَّاسَ قَالَ:وَمَا ذَاکَ یَا عُرَیَّۃُ؟ قَالَ: تَأْمُرُ بِالْعُمْرَۃِ فِی ہَؤُلَاء ِ الْعَشْرِ وَلَیْسَتْ فِیہِنَّ عُمْرَۃٌ فَقَالَ:أَوَلَا تَسْأَلُ أُمَّکَ عَنْ ذَلِکَ؟ فَقَالَ عُرْوَۃُ: فَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرُ لَمْ یَفْعَلَا ذَلِکَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:ہَذَا الَّذِی أَہْلَکَکُمْ وَاللَّہِ مَا أَرَی إِلَّا سَیُعَذِّبُکُمْ إِنِّی أُحَدِّثُکُمْ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَجِیئُونِی بِأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ:عُرْوَۃُ:ہُمَا وَاللَّہِ کَانَا أَعْلَمَ بِسُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاتْبَعَ لَہَا مِنْکَ قُلْتُ:قَدْ کَانَ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ عَلَی مَا وَصَفَہُمَا بِہِ عُرْوَۃُ إِلَّا أَنَّہُ لَا یَنْبَغِی أَنْ یُقَلَّدَ أَحَدٌ فِی تَرْکِ مَا ثَبَتَتْ بِہِ سُنَّۃُ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے حضرت سیدناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا :آپ نے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، اے عروہ !کیا بات ہے ؟ کہا، آپ ان دس دنوں (عشرہ ذی الحجۃ)میں عمرہ کا حکم دیتے ہیں، حالانکہ ان میں عمرہ نہیں ہوتا، آپ نے فرمایا، کیا آپ اپنی والدہ سے اس بارے میں سوال نہیں کر لیتے ؟ عروہ نے کہا، سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے یہ کام نہیں کیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، اللہ کی قسم! اسی چیز نے تمہیں ہلاک کر دیا ہے، میرے خیال میں اللہ تم پر عذاب نازل کرے گا۔ میں تمہیں حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں اور تم ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما (کی بات)کو میرے پاس لاتے ہو ؟ عروہ نے کہا، اللہ کی قسم!وہ دونوں حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کی سنت کو زیادہ جاننے والے تھے اور اس کی پیروی آپ سے زیادہ کرنے والے تھے۔ (الفقیہ و المتفقہ:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی (۱:۳۸۷) رسول اللہ ْﷺکی سنت کریمہ کی موجودگی میں کسی کی رائے نہیں چلے گی عَنْ عَتَّابِ بْنِ مَنْصُورٍقَالَ:قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ:لَا رَأْیَ لِأَحَدٍ مَعَ سُنَّۃٍ سَنَّہَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعمربن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے بتائے ہوئے طریقے کی موجودگی میں کسی کی رائے معتبر نہیں۔ (بتاریخ ابن أبی خیثمۃ:أبو بکر أحمد بن أبی خیثمۃ (۳:۲۵۵) (الفقیہ و المتفقہ:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی (ا:۵۰۸)

امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِیسَی،قَالَ:سَمِعْتُ مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ، یَعِیبُ الْجِدَالَ فِی الدِّینِ،وَیَقُولُ:کُلَّمَا جَاء َنَا رَجُلٌ أَجْدَلُ مِنْ رَجُلٍ، أَرَادَنَا أَنْ نَرُدَّ مَا جَاء َ بِہِ جِبْرِیلُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ترجمہ :حضرت سیدنااسحاق بن عیسی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ میں نے حضرت سیدناامام مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سناکہ جب بھی ہمارے پاس کوئی جھگڑالو شخص آتا ہے، وہ ہم سے اس چیز کو ردّ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، جس کو جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کی طرف لے کر آئے تھے۔ (مفتاح الجنۃ فی الاحتجاج بالسنۃ:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی :۴۹)

امام شافعی رضی اللہ عنہ کاقول

کل شیء خالف امر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سقط،ولا یقوم معہ ر ای ولا قیاس،فان اللہ تعالیٰ قطع لعذر بقول رسول اللہ صلی علیہ و سلم، فلیس لاحد معہ امرہوبہ. ترجمہ :حضرت سیدناامام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو حضورتاجدارختم نبوتﷺ کے فرمان کی مخالفت کرتی ہے، وہ ساقط ہے، اس (حدیث رسولﷺ)کے مقابلے میں کوئی رائے اور قیاس نہیں ٹھہر سکتا، کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺکے قول کے ساتھ عذر کو ختم کر دیا ہے، لہذا آپ ْﷺکے امر و نہی کے ساتھ کسی کے لیے کوئی امر، کوئی نہی قبول نہیں۔ (قواعد التحدیث من فنون مصطلح الحدیث: محمد جمال الدین القاسمی:۵۴)

رسول اللہ ﷺکے فیصلے کے علاوہ

وکان الامام الشافعی رضی اللہ عنہ یقول:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أجل فی أعیننا من أن نحب غیر ما قضی بہ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ ہماری نگاہوں میں رسول اللہ ﷺکی اتنی عزت وعظمت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے فیصلے کے لئے کسی کافیصلہ پسند ہی نہیں کرتے۔ (قواعد التحدیث من فنون مصطلح الحدیث:محمد جمال الدین بن محمد سعید بن قاسم الحلاق القاسمی:۵۴)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh