Fatwa #2231
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۱۱۔ {لَنْ یَّضُرُّوْکُمْ اِلَّآ اَذًی وَ اِنْ یُّقٰتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْن}(۱۱۱)
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,390
سوال (Question):
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۱۱۔ {لَنْ یَّضُرُّوْکُمْ اِلَّآ اَذًی وَ اِنْ یُّقٰتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْن}(۱۱۱)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
یہود یوں کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخیاں کرنا
{لَنْ یَّضُرُّوْکُمْ اِلَّآ اَذًی وَ اِنْ یُّقٰتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْن}(۱۱۱) ترجمہ کنزالایمان:وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے مگر یہی ستانا اور اگر تم سے لڑیں تو تمہارے سامنے سے پیٹھ پھیر جائیں گے۔ ترجمہ ضیاء الایمان: یہودونصاری تمھاراکچھ نہیں بگاڑ سکیں گے سوائے اس کے کہ تمھیں ستائیں اوراگرتم سے لڑیں بھی تو تمھارے سامنے سے پیٹھ پھیرکربھاگ جائیں گے ۔ شان نزول قَالَ مُقَاتِلٌ:إِنَّ رُء ُوسَ الْیَہُودِ:کَعْبٌ وَعَدِیٌّ وَالنُّعْمَانُ وَأَبُو رَافِعٍ وَأَبُو یَاسِرٍوَکِنَانَۃُ وَابْنُ صُورِیَّا عَمَدُوا إِلَی مُؤْمِنِیہِمْ:عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلَامٍ وَأَصْحَابِہِ فَآذَوْہُمْ لِإِسْلَامِہِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی لَنْ یَضُرُّوکُمْ إِلَّا أَذیً” یَعْنِی بِاللِّسَانِ، وَتَمَّ الْکَلَامُ ثُمَّ قَالَ:(وَإِنْ یُقاتِلُوکُمْ یُوَلُّوکُمُ الْأَدْبارَ)یَعْنِی مُنْہَزِمِینَ، وَتَمَّ الْکَلَامُ ثُمَّ لَا یُنْصَرُونَ مُسْتَأْنَفٌ، فَلِذَلِکَ ثَبَتَتْ فِیہِ النُّونُ وَفِی ہَذِہِ الْآیَۃِ مُعْجِزَۃٌ لِلنَّبِیِّ عَلَیْہِ السَّلَامُ، لِأَنَّ مَنْ قاتلہ من الیہود ولاہ دبرہ. ترجمہ:امام مقاتل رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ یہودیوں کے سردارکعب ، عدی ،نعمان ، ابورافع ، ابویاسر،کنانہ اورابن صوریاوہ اپنے میں سے حضرت سیدناعبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اوران کے ساتھیوں کی طرف جاتے اورانہیں ان کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ستاتے تھے تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ {لَنْ یَّضُرُّوْکُمْ اِلَّآ اَذًی }یعنی سوائے زبانی اذیت کے تمھاراکچھ بھی نہیں بگاڑسکیں گے ، یہاں کلام مکمل ہوگیا، پھرفرمایا:{وَ اِنْ یُّقٰتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَ}اگروہ تمھارے ساتھ لڑیں گے تو شکست خوردہ ہوکربھاگ جائیں گے ، یہ کلام بھی مکمل ہوگیا۔ { ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْن}یہ نیاکلام ہے ۔ اس لئے کہ اس میں نون ثابت ہے اوراس آیت کریمہ میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے لئے معجزہ ہے کیونکہ یہودیوں میں سے جوبھی لڑاوہ شکست کھاکربھاگ گیا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۱۷۰)یہودی اہل اسلام کو اذیت دیاکرتے
وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمَّا أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَلَامٍ،وَثَعْلَبَۃُ بْنُ سَعْیَۃَ ،وَأُسَیْدُ بْنُ سُعَیَّۃَ،وَأُسَیْدُ بْنُ عُبَیْدٍ، وَمَنْ أَسْلَمَ مِنْ یَہُودَ، فَآمَنُوا وَصَدَّقُواوَرَغِبُوا فِی الْإِسْلَامِ وَرَسَخُوا فِیہِ،قَالَتْ أَحْبَارُ یَہُودَ وَأَہْلُ الْکُفْرِ مِنْہُمْ:مَا آمَنَ بِمُحَمَّدٍ وَلَا تَبِعَہُ إِلَّا شِرَارُنَا،وَلَوْ کَانُوا مِنْ خِیَارِنَا مَا تَرَکُوا دِینَ آبَائِہِمْ وَذَہَبُوا إِلَی غَیْرِہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ جب حضرت سیدناعبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ، حضرت سیدناثعلبہ بن سعیہ رضی اللہ عنہ ، حضرت سیدنااسیدبن سعیہ رضی اللہ عنہ ، حضرت سیدنااسیدبن عبیدرضی اللہ عنہ اسلام لائے اورجوبھی یہودیوںمیں سے اسلام لایا۔ پس وہ اسلام لائے اورانہوںنے تصدیق کی ، اسلام کی طرف راغب ہونے اوراس میں پختگی اورسوخ حاصل کیاتویہودی علماء اوران میں سے اہل کفرکہتے محمدﷺپرنہ ایمان لائے اورنہ ہی آپ ﷺکی اتباع وپیروی کی مگرہمارے لوگوں میں سے ان لوگوں نے جو شریرہیں ، اگروہ ہمارے اچھے اورنیک لوگوں میں سے ہوتے تواپنے آبائواجدادکے دین کو ترک نہ کرتے اورکسی غیرکی طرف کبھی بھی نہ جاتے ۔ (تفسیر النسفی :أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی(۱:۲۸۵)اللہ تعالی نے اپنا وعدہ پورافرمادیا
ثُمَّ قَالَ تَعَالَی مُخْبِرًا عِبَادَہُ الْمُؤْمِنِینَ وَمُبَشِّرًا لَہُمْ أَنَّ النَّصْرَ وَالظَّفَرَ لَہُمْ عَلَی أَہْلِ الْکِتَابِ الْکَفَرَۃِ الْمُلْحِدِینَ، فَقَالَ تعالی:لَنْ یَضُرُّوکُمْ إِلَّا أَذیً وَإِنْ یُقاتِلُوکُمْ یُوَلُّوکُمُ الْأَدْبارَ ثُمَّ لَا یُنْصَرُونَ وَہَکَذَا وَقَعَ، فَإِنَّہُمْ یوم خیبر أذلہم اللہ وأرغم أنوفہم، وَکَذَلِکَ مَنْ قَبْلَہُمْ مِنْ یَہُودِ الْمَدِینَۃِ بَنِی قَیْنُقَاعَ وَبَنِی النَّضِیرِ وَبَنِی قُرَیْظَۃَ کُلُّہُمْ أَذَلَّہُمُ اللَّہُ، وَکَذَلِکَ النَّصَارَی بِالشَّامِ کَسَرَہُمُ الصَّحَابَۃُ فِی غَیْرِ مَا مَوْطِنٍ، وَسَلَبُوہُمْ مُلْکَ الشَّامِ أَبَدَ الآبدین ودہر الداہرین، ولا تزال عصابۃ الْإِسْلَامِ قَائِمَۃً بِالشَّامِ حَتَّی یَنْزِلَ عِیسَی ابْنُ مریم وہم کذلک، ویحکم بملۃ الإسلام وشرع مُحَمَّدٍ عَلَیْہِ أَفْضَلُ الصَّلَاۃِ وَالسَّلَامِ، فَیَکْسِرَ الصَّلِیبَ وَیَقْتُلَ الْخِنْزِیرَ وَیَضَعَ الْجِزْیَۃَ، وَلَا یَقْبَلُ إِلَّا الْإِسْلَامَ. ترجمہ :حافظ ابن کثیرالحنبلی المتوفی : ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو فتح ونصرت کی خبرسنائی کہ فرمایاکہ اگروہ تمھارے ساتھ قتال کریں گے توپیٹھ پھیرکربھاگ جائیں گے ، پھران کی مددنہیں کی جائے گی ، پھرایساہی ہواکہ خیبرکے دن اللہ تعالی نے یہودیوں کو ذلیل ورسوافرمایااوران کی ناک مٹی میں ملادی اوراس سے پہلے مدینہ منورہ میں بنوقینقاع اوربنونضیرسب کو اللہ تعالی نے رسوافرمایااوریہی حال نصرانیوں کاملک شام میں ہوا، جہاں صحابہ کرا م رضی اللہ عنہم نے ان کوتوڑ کررکھ دیااوران سے ہمیشہ کیلئے ملک شام چھین لیا، اب ملک شام میں ہمیشہ اسلامی قوت موجود رہے گی۔ یہاں تک کہ حضرت سیدناعیسی علیہ السلام نازل ہو ں گے اور آپ علیہ السلام حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی شریعت مبارکہ کو نافذ فرمائیں گے اورصلیب کو توڑدیں گے اورخنزیروں کوماریں گے اورجزیہ ختم فرمادیں گے کہ اس وقت سوائے اسلام کے اورکچھ بھی قبول نہیں کیاجائے گا۔ (تفسیرابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۲:۸۹)معارف ومسائل
(۱) اور اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والوں کو مطمئن کردیا کہ زبانی طعن و تشنیع اور دھمکیوں کے علاوہ یہ اِن مسلمانوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچاسکیں گے اور غلبہ مسلمانوں ہی کو حاصل ہوگا اور یہودیوں کا انجام ذلت و رسوائی ہوگا۔ اور اگر یہ اہلِ کتاب مسلمانوں کے مقابلے میں آئے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے اور تمہارے مقابلہ کی تاب نہ لاسکیں گے ۔ یہ غیبی خبریں ایسی ہی واقع ہوئیں۔بعد میں صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے شام ، روم وغیرہ تمام علاقوں میں فتح حاصل کی اور یوں یہ غیبی خبر پوری ہوئی۔ (تفسیرصراط الجنان(۲: ۳۴) (۲)اس سے معلوم ہواکہ یہودی شروع دن سے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ ہیں اوریہی وجہ ہے کہ جن کا سلسلہ نسب آج بھی یہودیوں کے ساتھ ملتاہے وہ بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ ہیں۔ (۳)اس آیت کریمہ کا ظہورآج بھی اسی طرح ہے ، یہودونصاری اہل اسلام کو زبانی تکالیف پہنچارہے ہیں مگروہ مسلمانوں کے جہاد سے سخت خوف زدہ ہیں ، چنانچہ جہاد کوروکنے کے لئے اسلامی ممالک کے حکمرانوں کوجوان کے پالتوہیں کواستعمال کررہے ہیں ، آج بھی اگرامت مسلمہ مجموعی طورپرخیرامت ہونے کاثبوت دے اورساری دنیاتک اسلام کی خیرپہنچا نے اوراسلام کونافذ کرنے اوراقامت دین کی اپنی ذمہ داری محسوس کرے اورساری دنیاکوکلمہ توحیدورسالت کی دعوت دے جس کے پیچھے جہاد کی قوت ہوتواس آیت کریمہ کامنظرآج ہی کھلی آنکھوں سے نظرآجائے گا۔ ہم خیرامت کی شرط چھوڑ کردنیاکو مقصدبنارہے ہیں اورپھرقرآن کریم پراعتراض کریں کہ کافرپیٹھ پھیرکربھاگ کیوں نہیں رہے توگمراہی والی بات ہے ۔ (تفسیرفتح الجواد( ۱: ۱۴۷) (۴)اس آیت کریمہ میں رب تعالی نے چندغیبی خبریں دیں جوہوبہوپوری ہوئیں ، ایک یہ کہ مدینہ منورہ کے یہودی اہل اسلام کوتباہ نہ کرسکیں گے ، ایساہی ہواباوجود یکہ وہ یہودی طاقت اوربے پایاں دولت کے مالک تھے ، مسلمان عموماً کمزوراورغریب تھے مگرپھروہ ان کابال بیکانہ کرسکے۔ دوسرے یہ کہ جنگ کی صورت میں وہ مسلمانو ں کے مقابل نہ ٹھہرسکیں گے ایساہی ہواکہ ہرموقع پرخصوصاًغزوہ احزاب میں جب کہ سارے مدینہ کے یہودی اورمکہ ہی کے نہیں بلکہ سارے حجاز کے ہرقسم کے کافرجمع ہوکراہل اسلام پرحملہ آورہوئے مگرسب خائب وخاسرہوئے ، مسلمان ان کے شرسے محفوظ رہے ۔ پھربنوقریظہ اوربنونضیرسے مدینہ منورہ ساراخالی کروالیا۔ بنوقریظہ کے سارے جوان قتل کردیئے گئے اوربنونضیرجلاوطن کئے گئے مگران کو مقابلہ کرنے کی ہمت نہ ہوئی ، پھرعہدحضرت سیدناابوبکرالصدیق رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ میں عیسائیوں پر مسلمانوں کو جوعظیم الشان فتوحات حاصل ہوئیں وہ تاقیامت یادرہیں گی ، جنگ قادسیہ اوریرموک میں لاکھوں اہل کتاب کے مقابل چندہزاراہل اسلام تھے مگرمیدان اہل ایمان کے ہاتھوں رہے ۔ تیسرے یہ کہ ان جنگوں میں شکست کھانے کے بعد بھی ان اہل کتاب کو کبھی شوکت نصیب نہ ہوگی ، یہ قرآن کریم کازندہ وجاویدمعجزہ ہے ۔ (۵) اسلام اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکادامن کرم بلکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکااسم شریف مسلمانوں کے لئے ایک مضبوط حفاظتی قلعہ ہے ، اگرمسلمان اس قلعہ میں پناہ گزیں رہیں تودنیاکی کوئی طاقت ان کو نقصان نہیں پہنچاسکتی ۔ جیساکہ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا۔ (۶) مسلمانوں پرکفارخصوصاًیہودونصاری کے زبانی اورقلمی اعتراضات، ان کے خلاف کتب چھاپنا، تدابیرکرناہمیشہ رہے گاجیساکہ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا۔ (۷) ایمان میں قدرتی دلیری ہے اورکفرمیں بزدلی جیساکہ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا۔دیکھوفرعونی جادوگرہمیشہ اس سے ڈرتے تھے مگرایمان لاتے ہی فرعون سے بے خوف ہوگئے ۔ (۸) مسلمانوں کودلیری دیتے رہناان کی بہادری کے خطبے کہنااورکفارکی بزدلی بیان کرنااللہ تعالی کی سنت کریمہ ہے ، اس کے برعکس حرکتیں کرنایعنی اہل اسلام کو بزدل کرنے کے لئے اورکافروں میں بہادری بھرنے کے لئے بیانات کرناجیساکہ آجکل ہمارے میڈیاپربیٹھے ہوئے ذلیل لوگ کررہے ہیں ۔(تفسیرنعیمی (۴:۹۷،۹۸) ملخصاً۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9