Fatwa #2232
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۱۶۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوٰلُہُمْ وَلَآ اَوْلٰدُہُمْ مِّنَ اللہِ شَیْـًا
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,496
سوال (Question):
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۱۶۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوٰلُہُمْ وَلَآ اَوْلٰدُہُمْ مِّنَ اللہِ شَیْـًا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کافروں کامال ودولت کی کثرت کی وجہ سے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی گستاخیاں کرنا
{اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوٰلُہُمْ وَلَآ اَوْلٰدُہُمْ مِّنَ اللہِ شَیْـًا وَاُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ}(۱۱۶) ترجمہ کنزالایمان:وہ جو کافر ہوئے اُن کے مال اور اولاد ان کو اللہ سے کچھ نہ بچالیں گے اور وہ جہنمی ہیں اُن کو ہمیشہ اس میں رہنا۔ ترجمہ ضیاء الایمان: وہ لوگ جوکافرہوئے ان کے مال اوران کی اولاد ان کو اللہ تعالی سے نہ بچاسکیں گے اوروہ دوزخی ہیں ان کو ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں ہی رہناہے۔ شان نزول رد للکفار کافۃ حیث فاخروا بالأموال والأولاد قائلین نحن اکثر أموالا وأولادا وما نحن بمعذبین وکانوا یعیرون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واتباعہ بالفقر ویقولون لو کان محمد علی الحق لما ترکہ ربہ فی الفقر والشدۃ۔ ترجمہ :اس آیت کریمہ کاشان نزول یہ ہے کہ اس میں کافروں کاردکیاگیاہے جب کہ وہ اپنے مال اوراولاد پرفخرکیاکرتے تھے اورکہتے تھے کہ ہمارے پاس مال اوراولاد کی کثرت ہے اس لئے ہمیں کسی قسم کاعذاب نہیں آئے گابلکہ وہ اس غلط خیالی کے پیش نظرحضورتاجدارختم نبوت ﷺاورآپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فقروفاقہ کاطعنہ دیتے تھے اورکہتے تھے کہ حضورتاجدارختم نبوت ْﷺحق پرہوتے توان کواللہ تعالی فقروفاقہ اورتنگ دستی میں کبھی بھی نہ چھوڑتا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی(۲:۸۲)کفارمکہ کاحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی دشمنی میں اپنامال خرچ کرنا
الْأَوَّلُ: الْمُرَادُ مِنْہُ بَعْضُ الْکُفَّارِ ثُمَّ القائلون بہذا القول ذکروا وجوہاًأحدہا:قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: یُرِیدُ قُرَیْظَۃَ وَالنَّضِیرَ،وَذَلِکَ لِأَنَّ مَقْصُودَ رُؤَسَاء ِالْیَہُودِ فِی مُعَانَدَۃِ الرَّسُولِ مَا کَانَ إِلَّا الْمَالَ وَالدَّلِیلُ عَلَیْہِ قَوْلُہُ تَعَالَی فِی سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ وَلا تَشْتَرُوا بِآیاتِی ثَمَناً قَلِیلًا (الْبَقَرَۃِ:۴۱)وَثَانِیہَا:أَنَّہَا نَزَلَتْ فِی مُشْرِکِی قُرَیْشٍ، فَإِنَّ أَبَا جَہْلٍ کَانَ کَثِیرَ الِافْتِخَارِ بِمَالِہِ وَلِہَذَا السَّبَبِ نَزَلَ فِیہِ قَوْلُہُ وَکَمْ أَہْلَکْنا قَبْلَہُمْ مِنْ قَرْنٍ ہُمْ أَحْسَنُ أَثاثاً وَرِء ْیاً (مَرْیَمَ:۷۴)وَقَوْلُہُ فَلْیَدْعُ نادِیَہُ سَنَدْعُ الزَّبانِیَۃَ (الْعَلَق۱۷، ۱۸)وَثَالِثُہَا:أَنَّہَا نَزَلَتْ فِی أَبِی سُفْیَانَ، فَإِنَّہُ أَنْفَقَ مَالًا کَثِیرًا عَلَی الْمُشْرِکِینَ یَوْمَ بَدْرٍ وَأُحُدٍ فِی عَدَاوَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْقَوْلُ الثَّانِی:أَنَّ الْآیَۃَ عَامَّۃٌ فِی حَقِّ جَمِیعِ الْکُفَّارِ،وَذَلِکَ لِأَنَّہُمْ کُلَّہُمْ کَانُوا یَتَعَزَّزُونَ بِکَثْرَۃِ الْأَمْوَالِ،وَکَانُوا یُعَیِّرُونَ الرَّسُولَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَتْبَاعَہُ بِالْفَقْرِ،وَکَانَ مِنْ جُمْلَۃِ شُبَہِہِمْ أَنْ قَالُوا:لَوْ کَانَ مُحَمَّدٌ عَلَی الْحَقِّ لَمَا تَرَکَہُ رَبُّہُ فِی ہَذَا الْفَقْرِ وَالشِّدَّۃِ وَلِأَنَّ اللَّفْظَ عَامٌّ،وَلَا دَلِیلَ یُوجِبُ التَّخْصِیصَ فَوَجَبَ إِجْرَاؤُہُ عَلَی عُمُومِہِ، وَلِلْأَوَّلِینَ أَنْ یَقُولُوا:إِنَّہُ تَعَالَی قَالَ بَعْدَ ہَذِہِ الآیۃثَلُ ما یُنْفِقُونَ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیرمیں کئی اقوال منقول ہیں :پہلاقول : یہاں مرادبعض کفارہیں ۔ اس بارے میں متعدداقوال ہیں ۔ قول اول: حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ یہاں بنوقریظہ اوربنونضیرکے یہودی مراد ہیں ، اسلئے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی دشمنی سے یہودیوں کے سرداروں کامقصدصرف اورصرف مال ہی تھا۔ جس کی دلیل اللہ تعالی کایہ فرمان شریف ہے {وَلا تَشْتَرُوا بِآیاتِی ثَمَناً قَلِیلًا }(الْبَقَرَۃِ: ۴۱)ترجمہ :اللہ تعالی نے فرمایا: اورمیری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو۔ دوسراقول: یہ آیت کریمہ قریش کے مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔ کیونکہ ابوجہل اپنے مال پرکثرت کے ساتھ فخرکرتاتھااس وجہ سے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی { وَکَمْ أَہْلَکْنا قَبْلَہُمْ مِنْ قَرْنٍ ہُمْ أَحْسَنُ أَثاثاً وَرِء ْیاً} (مَرْیَمَ: ۷۴)ترجمہ ـ اورہم نے ان سے پہلے قومیں ہلاک کردیں کہ وہ ان سے بھی سامان اورنمود میں بہترتھے ۔ اوریہ آیت کریمہ بھی نازل ہوئی { فَلْیَدْعُ نادِیَہُ سَنَدْعُ الزَّبانِیَۃ} (الْعَلَق۱۷، ۱۸) ترجمہ : اب پکارے اپنی مجلس کو ابھی ہم سپاہیوں کو بلاتے ہیں ۔ تیسراقول: یہ ابوسفیان کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ انہوں نے بدراوراحدکے موقع پر حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی عداوت میں مشرکین پربہت زیادہ مال خرچ کیاتھا۔ ( یہ ذہن میں رہے کہ حضرت سیدناابوسفیان رضی اللہ عنہ نے تب اسلام قبول نہیں کیاتھااس لئے انہوںنے اپنی قوم پرمال خرچ کیاتھا) دوسراقول اس آیت کی تفسیرمیں دوسراقول یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ تمام کفارکو شامل ہے کیونکہ وہ مال کے زیادہ ہونے کی وجہ سے غرورکرتے ، حضورتاجدارختم نبوت ْﷺاورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرفقرکاطعنہ دیتے تھے اوران کے شبہات میں سے ایک شبہ یہ بھی تھاکہ اگرمحمدﷺحق پرہیں تواللہ تعالی نے انہیں فقروتکلیف میں کیوں چھوڑ رکھاہے ؟ اورپھریہ بھی ہے کہ الفاظ عام ہیں کوئی موجب تخصیص دلیل نہیں ، لھذااس کوعموم پر رکھناہی لازم ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۸:۳۳۶)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9