Fatwa #2235
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۲۱ تا ۱۳۸
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,814
سوال (Question):
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۲۱ تا ۱۳۸
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
غزوہ احدشریف کابیان
{وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ تُبَوِّیُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقٰعِدَ لِلْقِتَالِ وَاللہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ}(۱۲۱) ترجمہ کنزالایمان:اور یاد کرو اے محبوب جب تم صبح کو اپنے دولت خانہ سے برآمد ہوئے مسلمانوں کو لڑائی کے مورچوں پر قائم کرتے اور اللہ سنتا جانتا ہے ۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اوریادکریں اے حبیب کریم ﷺ! جب آپ صبح کے وقت اپنے دولت خانہ سے باہرتشریف لائے اورمسلمانوں کو جہاد کے لئے مورچوں پر کھڑاکرنے لگے اوراللہ تعالی سننے والاجاننے والاہے ۔ اس آیت کریمہ میں مراد غزوہ احدشریف ہے ٍوَالْجُمْہُورُعَلَی أَنَّہَا غَزْوَۃُ أُحُدٍ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جمہورمفسرین کرام بھی یہی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد غزوہ احدہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۱۸۴)حضورتاجدارختم نبوت ﷺکااحدکی جانب پیدل روانہ ہونا
یُرْوَی أَنَّہُ عَلَیْہِ السَّلَامُ غَدَا مِنْ مَنْزِلِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَمَشَی عَلَی رِجْلَیْہِ إِلَی أُحُدٍ، وَہَذَا قَوْلُ مُجَاہِدٍ وَالْوَاقِدِیِّ،فَدَلَّ ہَذَا النَّصُّ عَلَی أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَاکَانَتْ أَہْلًا لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَالَ تعالی:الطَّیِّباتُ لِلطَّیِّبِینَ وَالطَّیِّبُونَ لِلطَّیِّباتِ (النُّورِ:۲۶) فَدَلَّ ہَذَا النَّصُّ عَلَی أَنَّہَا مُطَہَّرَۃٌ مُبَرَّأَۃٌ عَنْ کُلِّ قَبِیحٍ، أَلَا تَرَی أَنَّ وَلَدَ نُوحٍ لَمَّا کَانَ کَافِرًا قَالَ: إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَہْلِکَ (ہُودٍ: ۴۶)۔ ترجمہ:روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺصبح کے وقت حضرت سیدتناعائشہ رضی اللہ عنہاکے گھرسے نکلے اورپیدل احدکی جانب تشریف لے گئے ، یہ حضرت سیدنامجاہدرحمہ اللہ تعالی اورامام واقدی رحمہ اللہ تعالی کاقول ہے ، پس اس نص سے ثابت ہواکہ حضرت سیدتناعائشہ رضی اللہ عنہاحضورتاجدارختم نبوتﷺکی اہل تھیں اوراللہ تعالی کافرمان شریف ہے پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے ہیں اورپاک مرد پاک عورتوں کے لئے ہیں ۔پس اس آیت کریمہ سے ثابت ہواکہ حضرت سیدتناعائشہ رضی اللہ عنہاہرخرابی اوربرائی سے پاک اوربری ہیں ، کیاتم نے نہیں دیکھاکہ حضرت سیدنانوح علیہ السلام کابیٹاجب کافرتھاتو اللہ تعالی نے فرمایا:اے نوح وہ آپ کے اہل میں سے نہیں ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۸:۳۴۶)غزوہ احد کاتعارف اورپس منظر
غزوہ احد ۱۷شوال ۳ھ)میں مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان احد کے پہاڑ کے دامن میں ہوئی۔ مشرکین کے لشکر کی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی اور اس نے۳۰۰۰سے زائد افراد کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کی ٹھانی تھی جس کی باقاعدہ تیاری کی گئی تھی۔ مسلمانوں کی قیادت حضورتاجدارختم نبوتﷺنے کی۔ اس جنگ کے نتیجہ کو کسی کی فتح یا شکست نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دونوں طرف شدید نقصان ہوا اور کبھی مسلمان غالب آئے اور کبھی مشرکین لیکن آخر میں مشرکین کا لشکر لڑائی ترک کر کے مکہ واپس چلا گیا۔ غزوہ بدر میںاہل اسلام کو شاندار فتح ہوئی تھی۔ اس کے بعد علاقے کی قوتوں بشمول قریشِ مکہ اور یہودیوں کو اندازہ ہوا کہ اب مسلمان ایک معمولی قوت نہیں رہے۔ شکست کھانے کے بعد مشرکینِ مکہ نہایت غصے میں تھے اور نہ صرف اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا چاہتے تھے بلکہ ان تجارتی راستوں پر دوبارہ قبضہ کرنا چاہتے تھے جن کی ناکہ بندی مسلمانوں نے غزوہ بدر کے بعد کر دی تھی۔ جنگ کے شعلے بھڑکانے میں ابوسفیان، اس کی بیوی ہندہ اور ایک یہودی کعب ابن اشرف کے نام نمایاں ہیں۔ ہندہ نے اپنے گھر محفلیں شروع کر دیں جس میں اشعار کی صورت میں جنگ کی ترغیب دی جاتی تھی۔ ابو سفیان نے غزوہ احد سے کچھ پہلے مدینہ کے قریب ایک یہودی قبیلہ کے سردار کے پاس کچھ دن رہائش رکھی تاکہ مدینہ کے حالات سے مکمل آگاہی ہو سکے۔ ابوجہل غزوہ بدر میں مارا گیا تھا جس کے بعد قریش کی سرداری ابوسفیان کے پاس تھی جس کی قیادت میں مکہ کے دارالندوہ میں ایک اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ جنگ کی تیاری کی جائے۔ اس مقصد کے لیے مال و دولت بھی اکٹھی کی گئی۔ جنگ کی بھر پور تیاری کی گئی۔۳۰۰۰سے کچھ زائد سپاہی جن میں سے سات سو زرہ پوش تھے تیار ہو گئے۔ ان کے ساتھ ۲۰۰گھوڑے اور ۳۰۰اونٹ بھی تیار کیے گئے۔ کچھ عورتیں بھی ساتھ گئیں جو اشعار پڑھ پڑھ کر مشرکین کو جوش دلاتی تھیں۔ ابوسفیان کی بیوی ہندہ نے یہ ارادہ کیا کہ حضور تاجدارختم نبوت ﷺکے چچاحضرت سیدناامیر حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجا چبائے گی چنانچہ اس مقصد کے لیے اس نے حضرت سیدناامیرحمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کے لیے اپنے ایک غلام کو خصوصی طور پر تیار کیا۔ بالآخر یہ فوج مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے روانہ ہو گئی۔ حضور تاجدارختم نبوت ﷺکے چچاحضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے، جو مکہ ہی میں رہتے تھے، حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کومشرکین کی اس سازش سے آگاہ کر دیا تھا۔حضور تاجدارختم نبوت ﷺنے انصار و مہاجرین سے مشورہ کیا کہ شہر میں رہ کر دفاع کیا جائے یا باہر جا کر جنگ لڑی جائے۔ فیصلہ دوسری صورت میں ہوا یعنی باہر نکل کر جنگ لڑی جائے چنانچہ ۶شوال کو نمازِ جمعہ کے بعد حضور تاجدارختم نبوت ﷺنے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کو استقامت کی تلقین کی اور ۱۰۰۰کی فوج کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہو گئے۔ اشواط کے مقام پر ایک منافق عبد اللہ بن ابی ۳۰۰سواروں کے ساتھ جنگ سے علیحدہ ہو گیا اور بہانہ یہ بنایا کہ جنگ شہر کے اندر رہ کر لڑنے کا اس کا مشورہ نہیں مانا گیا۔ ہفتہ ۷شوال ۳ھ (کو دونوں فوجیں احد کے دامن میں آمنے سامنے آ گئیں۔ احد کا پہاڑ مسلمانوں کی پشت پر تھا۔ وہاں ایک درہ پرحضور تاجدارختم نبوت ﷺنے حضرت سیدناعبد اللہ بن جبیررضی اللہ عنہ کی قیادت میں پچاس تیر اندازوں کو مقرر کیا تاکہ دشمن اس راستے سے میدانِ جنگ میں نہ آ سکے۔ جنگ کا آغاز مشرکین کی طرف سے ہوا جب ابوعامر نے تیر اندازی کی۔ اس مرحلہ پر نو افراد مشرکین کی طرف سے آئے جو سب کے سب قتل ہوئے۔ دوسرے مرحلے میں مشرکینِ مکہ نے اکٹھا بھر پور حملہ کر دیا۔ اس دوران ان کی کچھ عورتیں ان کو اشعار سے اشتعال دلا رہی تھیں تاکہ وہ غزوہ بدر کی عبرتناک شکست کا داغ دھو سکیں۔ ابتدا کی زبردست جنگ میں مسلمانوں نے مشرکین کے کئی لوگوں کو قتل کیا جس پر مشرکین فرار ہونے لگے۔ مسلمان یہ سمجھے کہ وہ جنگ جیت گئے ہیں چنانچہ درہ عینین پر تعینات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور تاجدارختم نبوت ﷺ کے اس حکم شریف کی پابندی نہ کرسکے کہ درہ کسی قیمت پر نہیں چھوڑنا اور درہ چھوڑ کر میدان میں مالِ غنیمت اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ صرف دس افراد درہ پر رہ گئے۔ خالد بن ولید (جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے)نے موقع غنیمت جانتے ہوئے کوہِ احد کا چکر لگا کر درہ پر قبضہ کر لیا اور مسلمانوں پر یکدم پیچھے سے وار کر دیا۔مستشرقین کے فریب کاپردہ چاک
یہاں ایک تاریخی غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے،جو پید ااسلام دشمن مستشرقین نے کی تھی وہ یہ کہ قرآن مجید میں جہاں غزوۂ احد کی ہزیمت کے اسباب بیان ہوئے ہیں،وہاں گھاٹی سے اترنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو طالب دنیاکہا گیا ہے۔اس سے یہ حضرات اس غلط فہمی کا شکار ہوئے ،کہ ان گھاٹی سے اترنے والے حضرات نے یہ سمجھا ،کہ اگر ہم اب بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺ کے حکم اور اپنے ساتھیوں اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے حکم مطابق گھاٹی پر ہی رہے اور میدان میں جاکر مال غنیمت نہ سمیٹا،تو ہم مال غنیمت سے محروم رہ جائیں گے۔یہ کہہ کر ان مستشرقین نے گویا یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی ،کہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نظر میں (نعوذباللہ!)اللہ تعالی کے حبیب کریم ﷺاور امیر کے حکم کی وہ اہمیت نہیں تھی ،جو مال غنیمت کی تھی،اور جس سے محرومی کا انھیں ڈر تھا۔یہ بات قطعی درست نہیں ۔اسلام کے نظام جنگ کی ادنیٰ سی بھی سمجھ بوجھ رکھنے والے سے یہ بات مخفی نہیں ،کہ جنگ کے خاتمے کے بعد مال غنیمت امیر کے پاس جمع کیا جاتا ہے،جو تمام شرکائے جنگ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ایسا نہیں ہوتا،کہ جس کے ہاتھ جو چیز آئے وہ اس کی ۔بلکہ مال غنیمت میں سے ادنیٰ سے ادنیٰ چیز چھپانے پر بھی احادیث میں سخت ترین وعیدیں آئی ہیں۔اس سے صاف واضح ہوجاتا ہے ،کہ ان حضرات کا مطمح نظر مال غنیمت یا دنیا کا حصول نہیں تھا،بلکہ ان حضرات نے اپنی رائے میں یہ سمجھا کہ جنگ میں ان کے ذمے جو ایک خدمت لگائی گئی تھی،وہ فتح کی صورت میں مکمل ہوچکی،اب نئی خدمت مال غنیمت جمع کرنے کی ہے،سو ان حضرات نے نیکی میں آگے بڑھنے کے جذبے سے اس نئی خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کردیا۔یہ ان کی اجتہادی غلطی تھی۔امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مجتہد ہیں،اورمجتہد کی رائے غلط ہو،تب بھی اسے اجر ہی ملتا ہے۔رہی یہ بات،کہ جب ایسا تھا،توقرآن کریم میں اسے طلب دنیاکیوں کہا گیا؟اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تربیت کا ایک انداز ہے۔انھیں عتاب کیا جارہا ہے،کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے حکم اور امیرکی اطاعت کے خلاف تم نے اپنی طرف سے اطاعت ونیکی کا جو راستہ تجویز کیا ہے،سمجھ لو،یہ نری دنیاداری ہے،کیوں کہ اس میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺاور امیرکی منشا شامل نہیں۔ یہ ذہن میں رہے کہ پچھلے سال جب پاکستانی وزیراعظم نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق یہی بات کی کہ انہوںنے مال لوٹناشروع کردیاتھانعوذ باللہ من ذلک اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ دنیادارذلیل لوگ اسلام کے جواصل ماخذہیں ان کو ترک کرکے انگریزوں کی تحقیقات کو دیکھتے ہیں ، کیونکہ ان کاتوکام ہی یہی ہے کہ اہل اسلام کو کسی نہ کسی طرح مقدسات اسلامیہ کابے ادب بنایاجائے اوران کاجوان کے ساتھ ایک ایمانی تعلق ہے اس کو کمزورکردیاجائے ۔ لھذاوہ اپنے اس غلیظ مقصدمیں کامیاب ہوتے جارہے ہیں ۔ اوریہ بھی ذہن میں رہے کہ احد کا واقعہ بڑا نازک اور دلخراش ہے۔ میدان احد میں بڑا نقصان ہوا۔ سب سے پہلا اور بڑا نقصان حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کا زخمی ہونا۔ دوسرا حضرت سیدناامیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت اور تیسرا ۷۰صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوگئے۔ تمام محدثین اور تمام دنیا کے فاتحین نے جب غزوہ احد پر نظر ڈالی کہ یہ نقصان کیوں ہوئے تو یہ راز سامنے آیا کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے حکم سے خطاء اجتہادی کی وجہ سے یہ نقصان ہوا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جان بوجھ کر حضورتاجدارختم نبوت ﷺکا حکم نہیں توڑا۔ اس اجتہادی لغزش پر طعن و ملامت کی گنجائش نہیں بلکہ مجتہدین نے فرمایا اجتہادی خطاء پر بھی ایک درجہ ثواب ملتا ہے۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کا حکم تھا اس درے پر کھڑے رہنا جب تک میں نہ کہوں نیچے نہ اترنا۔ ابتدائی جنگ میں جب دشمن بھاگ گئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ جنگ ختم ہو جائے تو نیچے اتر جائیں کوئی خطرہ نہیں یہ سمجھ کر وہ درے سے نیچے اترے اور دشمن نے حملہ کر دیا۔غزوہ احدشریف کی حکمتیں اوراغراض محمودہ کابیان
وَقَدْ أَشَارَ اللَّہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی إِلَی أُمَّہَاتِہَا، وَأُصُولِہَا فِی سُورَۃِ (آلِ عِمْرَانَ) حَیْثُ افْتَتَحَ الْقِصَّۃَ بِقَوْلِہِ:(وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَہْلِکَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِینَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ)(آل عمران:۱۲۱) إِلَی تَمَامِ سِتِّینَ آیَۃً۔ ترجمہ محمد بن أبی بکر بن أیوب بن سعد شمس الدین ابن قیم الجوزیۃ المتوفی:۷۵۱ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ سورۃ آل عمران میں جہاں سے قصہ شروع ہوتاہے {وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ تُبَوِّیُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقٰعِدَ لِلْقِتَالِ وَاللہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ}(۱۲۱) ترجمہ کنزالایمان:اور یاد کرو اے محبوب جب تم صبح کو اپنے دولت خانہ سے برآمد ہوئے مسلمانوں کو لڑائی کے مورچوں پر قائم کرتے اور اللہ سنتا جانتا ہے ۔ یہاں سے تقریباًساٹھ آیات تک بڑی بڑی اوربنیادی حکمتوں اوراغراض کی طرف اشارہ ہے ۔ پہلی حکمت فَمِنْہَا:تَعْرِیفُہُمْ سُوء َ عَاقِبَۃِ الْمَعْصِیَۃِ وَالْفَشَلِ وَالتَّنَازُعِ، وَأَنَّ الَّذِی أَصَابَہُمْ إنَّمَا ہُوَ بِشُؤْمِ ذَلِکَ، کَمَا قَالَ تَعَالَی:(وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللَّہُ وَعْدَہُ إِذْ تَحُسُّونَہُمْ بِإِذْنِہِ حَتَّی إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِی الْأَمْرِ وَعَصَیْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاکُمْ مَا تُحِبُّونَ مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الْآخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ) (آل عمران:۱۵۲)فَلَمَّا ذَاقُوا عَاقِبَۃَ مَعْصِیَتِہِمْ لِلرَّسُولِ، وَتَنَازُعِہِمْ، وَفَشَلِہِمْ، کَانُوا بَعْدَ ذَلِکَ أَشَدَّ حَذَرًا وَیَقَظَۃً، وَتَحَرُّزًا مِنْ أَسْبَابِ الْخِذْلَانِ. ترجمہ :صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے حکم شریف کی پابندی نہ کرنے کاوبال اورانجام بیان کرنامقصود تھااوریہ بھی کہ ان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ صرف اورصرف اس وجہ سے ہے کہ انہوںنے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے فرمان شریف کی پابندی نہیں کی۔ جیساکہ اللہ تعالی کافرمان شریف ہے {وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللہُ وَعْدَہٓ اِذْ تَحُسُّوْنَہُمْ بِاِذْنِہٖ حَتّٰٓی اِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنٰزَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَعَصَیْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَآ اَرٰیکُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ وَاللہُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ}(سورۃ آل عمران : ۱۵۲) ترجمہ کنزالایمان:اور بے شک اللہ نے تمہیں سچ کر دکھایا اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا اور نافرمانی کی بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دکھاچکا تمہاری خوشی کی بات تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا اورتم میں کوئی آخرت چاہتا تھا پھر تمہارا منہ اُن سے پھیر دیا کہ تمہیں آزمائے اور بے شک اس نے تمہیں معاف کردیا اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے ۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے فرمان شریف کی پابندی نہ کرنے کے سبب نقصان اٹھاچکے تو اس کے بعد بہت زیادہ بیداراورمحتاط رہنے لگے اورہر اس عمل سے بچنے لگے جس سے اللہ تعالی کی مددچھوٹ جائے ۔ دوسری حکمت وَمِنْہَا: أَنَّ حِکْمَۃَ اللَّہِ وَسُنَّتَہُ فِی رُسُلِہِ وَأَتْبَاعِہِمْ جَرَتْ بِأَنْ یُدَالُوا مَرَّۃً وَیُدَالَ عَلَیْہِمْ أُخْرَی، لَکِنْ تَکُونُ لَہُمُ الْعَاقِبَۃُ، فَإِنَّہُمْ لَوِ انْتَصَرُوا دَائِمًا دَخَلَ مَعَہُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَغَیْرُہُمْ، وَلَمْ یَتَمَیَّزِ الصَّادِقُ مِنْ غَیْرِہِ، وَلَوِ انْتُصِرَ عَلَیْہِمْ دَائِمًا لَمْ یَحْصُلِ الْمَقْصُودُ مِنَ الْبَعْثَۃِ وَالرِّسَالَۃِ، فَاقْتَضَتْ حِکْمَۃُ اللَّہِ أَنْ جَمَعَ لَہُمْ بَیْنَ الْأَمْرَیْنِ لِیَتَمَیَّزَ مَنْ یَتَّبِعُہُمْ وَیُطِیعُہُمْ لِلْحَقَّ، وَمَا جَاء ُوا بِہِ مِمّنْ یَتَّبِعُہُمْ عَلَی الظُّہُورِ وَالْغَلَبَۃِ خَاصَّۃً. ترجمہ :اللہ تعالی کی اپنے انبیاء کرام اوررسل عظام علیہم السلام اوران کے متبعین کے بارے میں سنت اورحکمت جاری ہے کہ کبھی وہ غالب آجاتے ہیں اورکبھی مغلوب ہوجاتے ہیں لیکن انجام کارکامیابی انہیں کو ملتی ہے کیونکہ اگروہ ہمیشہ غالب رہیں توان کے ساتھ مومن اورغیرمومن دونوں شامل ہوجائیں اورصادق اورکاذب کے درمیان تمیز نہ ہواوراگروہ ہمیشہ مغلوب ہوں تواس سے بعثت اوررسالت کامقصد فوت ہوجائے گا، بس اللہ تعالی کی حکمت کاتقاضہ یہ ہواکہ اللہ تعالی نے دونوں امروں کو جمع فرمادیاتاکہ حق کی وجہ سے پیروی اختیارکرنے والوں اورصرف غلبہ اورشان وشوکت کی وجہ سے پیروی کرنے والوں کے درمیان فرق ہوجائے ۔ تیسری حکمت وَمِنْہَا: أَنّ ہَذَا مِنْ أَعْلَامِ الرُّسُلِ کَمَا قَالَ ہرقل لأبی سفیان:(ہَلْ قَاتَلْتُمُوہُ؟قَالَ:نَعَمْ،قَالَ:کَیْفَ الْحَرْبُ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُ؟ قَالَ:سِجَالٌ یُدَالُ عَلَیْنَا الْمَرَّۃَ، وَنُدَالُ عَلَیْہِ الْأُخْرَی،قَالَ:کَذَلِکَ الرُّسُلُ تُبْتَلَی،ثُمَّ تَکُونُ لَہُمُ الْعَاقِبَۃُ۔ ترجمہ :اوریہ انبیاء کرام علیہم السلام کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جیساکہ ہرقل نے ابوسفیان سے کہاتھا: کیاکبھی تم نے محمد(ﷺ) سے جنگ کی ؟ ابوسفیان نے کہاکہ ہاں۔ ہرقل نے کہا: ان کے اور تمھارے درمیان جنگ کیسی رہی؟ ابوسفیان نے کہاکہ برابربرابر۔ کبھی وہ غالب آجاتے ہیں توکبھی ہم غالب آجاتے ہیں۔ ہرقل نے کہاکہ اسی طرح اللہ تعالی انبیاء کرام علیہم السلام کو آزماتاہے ، پھرآخرمیں غلبہ انہیں کاہوتاہے ۔ چوتھی حکمت وَمِنْہَا:أَنْ یَتَمَیَّزَ الْمُؤْمِنُ الصّادِقُ مِنَ الْمُنَافِقِ الْکَاذِبِ،فَإِنَّ الْمُسْلِمِینَ لَمَّا أَظْہَرَہُمُ اللَّہُ عَلَی أَعْدَائِہِمْ یَوْمَ بَدْرٍ، وَطَارَ لَہُمُ الصِّیتُ دَخَلَ مَعَہُمْ فِی الْإِسْلَامِ ظَاہِرًا مَنْ لَیْسَ مَعَہُمْ فِیہِ بَاطِنًا،فَاقْتَضَتْ حِکْمَۃُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ سَبَّبَ لِعِبَادِہِ مِحْنَۃً مَیَّزَتْ بَیْنَ الْمُؤْمِنِ وَالْمُنَافِقِ، فَأَطْلَعَ الْمُنَافِقُونَ رُء ُوسَہُمْ فِی ہَذِہِ الْغَزْوَۃِ، وَتَکَلَّمُوا بِمَا کَانُوا یَکْتُمُونَہُ،وَظَہَرَتْ مُخَبَّآتُہُمْ، وَعَادَ تَلْوِیحُہُمْ تَصْرِیحًا،وَانْقَسَمَ النَّاسُ إِلَی کَافِرٍ وَمُؤْمِنٍ وَمُنَافِقٍ انْقِسَامًا ظَاہِرًا،وَعَرَفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنَّ لَہُمْ عَدُوًّا فِی نَفْسِ دُورِہِمْ،وَہُمْ مَعَہُمْ لَا یُفَارِقُونَہُمْ، فَاسْتَعَدُّوا لَہُمْ، وَتَحَرَّزُوا مِنْہُمْ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی:(مَا کَانَ اللَّہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی مَا أَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتَّی یَمِیزَ الْخَبِیثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَمَا کَانَ اللَّہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلَکِنَّ اللَّہَ یَجْتَبِی مِنْ رُسُلِہِ مَنْ یَشَائُ)(آل عمران: ۱۷۹)أَیْ مَا کَانَ اللَّہُ لِیَذَرَکُمْ عَلَی مَا أَنْتُمْ عَلَیْہِ مِنَ الْتِبَاسِ الْمُؤْمِنِینَ بِالْمُنَافِقِینَ حَتَّی یَمِیزَ أَہْلَ الْإِیمَانِ مِنْ أَہْلِ النِّفَاقِ کَمَا مَیَّزَہُمْ بِالْمِحْنَۃِ یَوْمَ أُحُدٍ (وَمَا کَانَ اللَّہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ)(آل عمران:۱۷۹)الَّذِی یَمِیزُ بِہِ بَیْنَ ہَؤُلَاء ِ وَہَؤُلَاء ِ،فَإِنَّہُمْ مُتَمَیِّزُونَ فِی غَیْبِہِ وَعِلْمِہِ وَہُوَ سُبْحَانَہُ یُرِیدُ أَنْ یَمِیزَہُمْ تَمْیِیزًا مَشْہُودًا فَیَقَعُ مَعْلُومُہُ الَّذِی ہُوَ غَیْبٌ شَہَادَۃًوَقَوْلُہُ:(وَلَکِنَّ اللَّہَ یَجْتَبِی مِنْ رُسُلِہِ مَنْ یَشَاء ُ)(آل عمران: ۱۷۹)اسْتِدْرَاکٌ لِمَا نَفَاہُ مِنَ اطِّلَاعِ خَلْقِہِ عَلَی الْغَیْبِ سِوَی الرُّسُلِ،فَإِنَّہُ یُطْلِعُہُمْ عَلَی مَا یَشَاء ُ مِنْ غَیْبِہِ کَمَا قَالَ: (عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلَی غَیْبِہِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَی مِنْ رَسُولٍ)(الجن:۲۶)(الْجِنِّ: ۲۷)فَحَظُّکُمْ أَنْتُمْ وَسَعَادَتُکُمْ فِی الْإِیمَانِ بِالْغَیْبِ الَّذِی یُطْلِعُ عَلَیْہِ رُسُلَہُ فَإِنْ آمَنْتُمْ بِہِ وَأَیْقَنْتُمْ فَلَکُمْ أَعْظَمُ الْأَجْرِ وَالْکَرَامَۃِ. ترجمہ :تاکہ صادق اورکاذب اورمومن اورمنافق کے درمیان امتیاز ہوجائے کیونکہ جب اللہ تعالی نے بدرمیں اہل اسلام کو کفارپرغلبہ عطافرمایااوران کی شہرت ہوگئی تویہ صورتحال دیکھ کر ان کے ساتھ بہت سے لوگ ظاہری طورپراسلام میں داخل ہوگئے ۔ حالانکہ وہ پوشیدہ طورپر مسلمان نہ تھے تواللہ تعالی کی حکمت کاتقاضہ یہ ہواکہ اپنے بندوں سے آزمائش کے ذریعے امتحان لے ، جس سے مومن اورمنافق جداجداہو جائیں ۔ چنانچہ منافقین نے اس غزوہ میں سراٹھایااورجو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے تھے اسے اگل دیااوراپنی پوشیدہ دشمنی کو ظاہرکردیااوران کاخفیہ معاملہ ظاہرہوگیااورلوگ تین گروہوں میں منقسم ہوگئے ۔ کافر، مومن اورمنافق ۔ اوراہل ایمان کو اس بات کاعلم ہوگیاکہ ان کے اپنے گھروں میں بعض ان کے دشمن ہیں اوروہ ان سے جدانہیں ہوتے ، اس لئے وہ ان سے بھی محتاط ہوگئے اوران سے گریزکرنے لگے ۔ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے {مَا کَانَ اللہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَمَا کَانَ اللہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰکِنَّ اللہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآء ُ فَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَلَکُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ }(سورۃ آل عمران : ۱۷۹) ترجمہ کنزالایمان:اللہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑنے کا نہیں جس پر تم ہو جب تک جدا نہ کردے گندے کو ستھرے سے اور اللہ کی شان یہ نہیں اے عام لوگو !تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چُن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے۔ یعنی اللہ تعالی تمھیںتمھاری اس حالت پرچھوڑنے والانہیں کہ مومن منافقین کے ساتھ ملے جلے رہیں ،یہاں تک کہ اہل ایمان کو اہل نفاق سے جداکردے جیساکہ اللہ تعالی نے احدشریف کے دن آزمائش سے انہیں جداکردیااورواضح طورپرمنافقین کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جداکردیا۔ پانچویں حکمت وَمِنْہَا:اسْتِخْرَاجُ عُبُودِیَّۃِ أَوْلِیَائِہِ وَحِزْبِہِ فِی السَّرَّاء ِ وَالضَّرَّاء ِ،وَفِیمَا یُحِبُّونَ وَمَا یَکْرَہُونَ،وَفِی حَالِ ظَفَرِہِمْ وَظَفَرِ أَعْدَائِہِمْ بِہِمْ،فَإِذَا ثَبَتُوا عَلَی الطَّاعَۃِ وَالْعُبُودِیَّۃِ فِیمَا یُحِبُّونَ وَمَا یَکْرَہُونَ فَہُمْ عَبِیدُہُ حَقًّا، وَلَیْسُوا کَمَنْ یَعْبُدُ اللَّہَ عَلَی حَرْفٍ وَاحِدٍ مِنَ السَّرَّاء ِ وَالنِّعْمَۃِ وَالْعَافِیَۃِ. ترجمہ :اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوںاوراپنی جماعت کی طرف سے خوشی اوررنج ، پسندیدہ وناپسندیدہ ، کامیابی اورناکامی ہرحال میں اپنی بندگی کااظہارکروایا، جب وہ اپنی پسنداورناپسنددونوں حالتوں میں بندگی اوراطاعت پرجمے رہے تویہی حقیقی طورپراللہ تعالی کے بندے کہلانے کے لائق ہوئے اوران کاحال ان کی مانندنہ ہواجو صرف خوشی ، نعمت اورعافیت کی حالت میں اللہ تعالی کی عبادت اوربندگی کرتے ہیں ۔ چھٹی حکمت وَمِنْہَا:أَنَّہُ سُبْحَانَہُ لَوْ نَصَرَہُمْ دَائِمًا،وَأَظْفَرَہُمْ بِعَدُوِّہِمْ فِی کُلِّ مَوْطِنٍ،وَجَعَلَ لَہُمُ التَّمْکِینَ وَالْقَہْرَ لِأَعْدَائِہِمْ أَبَدًا لَطَغَتْ نُفُوسُہُمْ،وَشَمَخَتْ وَارْتَفَعَتْ،فَلَوْ بَسَطَ لَہُمُ النَّصْرَ وَالظَّفَرَ لَکَانُوافِی الْحَالِ الَّتِی یَکُونُونَ فِیہَا لَوْ بَسَطَ لَہُمُ الرِّزْقَ، فَلَا یُصْلِحُ عِبَادَہُ إلَّا السَّرَّاء ُ وَالضَّرَّاء ُ،وَالشِّدَّۃُ وَالرَّخَاء ُ،وَالْقَبْضُ وَالْبَسْطُ،فَہُوَ الْمُدَبِّرُ لِأَمْرِ عِبَادِہِ کَمَا یَلِیقُ بِحِکْمَتِہِ، إنَّہُ بِہِمْ خَبِیرٌ بَصِیرٌ. ترجمہ :اگراللہ تعالی ہمیشہ اہل اسلام کی نصرت فرماتااوران کو ہرموقع پر دشمنوں پرفتح سے نوازتااوردشمنوں کو ان کے سامنے مغلوب اورمقہورکرتاتوان کے نفوس میں سرکشی پیداہوجاتی اورفخرآجاتااوراگراللہ تعالی ان کے لئے نصرت اورفتح میں کشادگی عطافرمادیتاتویہ اسی حال کی طرف چلے جاتے ، اگراللہ تعالی ان کے لئے رزق میں کشادگی پیدافرمادیتاتو زمین میں فساد برپاہوجاتا۔ پس اللہ تعالی کے بندوں کی مصلحت اس میںٹھہری ہوان کوخوشی اوررنج ، تنگی اورخوشحالی اورقبض وبسط دونوں طرح کے احوال میں رکھاجائے اوراللہ تعالی ہی اپنے بندوں کے امورکامدبرہے اوروہ ان سے باخبراوران کو دیکھنے والاہے ۔ ساتویں حکمت وَمِنْہَا: أَنَّہُ إذَا امْتَحَنَہُمْ بِالْغَلَبَۃِ وَالْکَسْرَۃِ وَالْہَزِیمَۃِ ذَلُّوا وَانْکَسَرُوا وَخَضَعُوا، فَاسْتَوْجَبُوا مِنْہُ الْعِزَّ وَالنَّصْرَ، فَإِنَّ خُلْعَۃَ النَّصْرِ إنَّمَا تَکُونُ مَعَ وِلَایَۃِ الذُّلِّ وَالِانْکِسَارِ،قَالَ تَعَالَی(وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللَّہُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّۃٌ)(آل عمران:۱۲۳)وَقَالَ:(وَیَوْمَ حُنَیْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا)(التوبۃ:۲۵)فَہُوَ سُبْحَانَہُ إذَا أَرَادَ أَنْ یُعِزَّ عَبْدَہُ وَیَجْبُرَہُ وَیَنْصُرَہُ کَسَرَہُ أَوَّلًا،وَیَکُونُ جَبْرُہُ لَہُ وَنَصْرُہُ عَلَی مِقْدَارِ ذُلِّہِ وَانْکِسَارِہِ۔ ترجمہ :جب اللہ تعالی نے ان کو ظاہری شکست ، مغلوبیت ، مصیبت سے آزمائش میں مبتلاء کیاتو ان میں تذلل ،عاجزی اورخضوع پیداہوگیاجس کے باعث یہ عزت ونصرت کے مستحق ہوگئے کیونکہ فتح ونصرت کی خلعت سے اسی وقت نوازاجاتاہے جب کہ تذلل اورانکساری کاحصول ہوجائے ۔ چنانچہ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے {وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ فَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ}(سورۃ آل عمران: ۱۲۳) ترجمہ کنزالایمان : اور بے شک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سرو سامان تھے تو اللہ سے ڈرو کہ کہیں تم شکر گذار ہو۔ اوراللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍ وَّیَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْـًا وَّضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ}(سورۃ التوبہ : ۲۵) ترجمہ کنزالایمان:بیشک اللہ نے بہت جگہ تمہاری مدد کی اور حُنین کے دن جب تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے تو وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اتنی وسیع ہوکر تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ دے کر پھرگئے ۔ پس اللہ تعالی جب اپنے بندے کو عزت سے نوازنے کاارادہ فرماتاہے اوراس کو نصرت اورفتح عطافرماناچاہتاہے تو اس کی عزت ونصرت اورفتح اس کے تذلل اورانکساری کے بقدرہوتی ہے ۔ آٹھویں حکمت وَمِنْہَا:أَنَّہُ سُبْحَانَہُ ہَیَّأَ لِعِبَادِہِ الْمُؤْمِنِینَ مَنَازِلَ فِی دَارِکَرَامَتِہِ لَمْ تَبْلُغْہَا أَعْمَالُہُمْ،وَلَمْ یَکُونُوا بَالِغِیہَا إلَّا بِالْبَلَاء ِوَالْمِحْنَۃِ،فَقَیَّضَ لَہُمُ الْأَسْبَابَ الَّتِی تُوصِلُہُمْ إِلَیْہَامِنَ ابْتِلَائِہِ وَامْتِحَانِہِ،کَمَا وَفَّقَہُمْ لِلْأَعْمَالِ الصَّالِحَۃِ الَّتِی ہِیَ مِنْ جُمْلَۃِ أَسْبَابِ وُصُولِہِمْ إِلَیْہَا. ترجمہ :اللہ تعالی نے اپنے اہل ایمان بندوں کے لئے اپنے عزت واکرام کے گھرجنت میں منازل تیارکررکھی ہیں ، جن تک وہ صرف اپنے اعمال کے ذریعے نہیں پہنچ سکتے اوران درجات تک وہ ابتلاء اورآزمائش اورمصائب کے ذریعے ہی پہنچ سکتے ہیں ،اس لئے اللہ تعالی نے ان کے لئے ایسے اسباب کاسامان پیدافرمادیاجن میں ابتلاء وآزمائش کے ذریعے وہ ان درجات تک پہنچ سکیں جیساکہ اعمال صالحہ جوان درجات تک پہنچانے کے اسباب میں سے ہیں، ان کی توفیق بھی اللہ تعالی نے ہی مرحمت فرمائی۔ نویں حکمت وَمِنْہَا:أَنَّ النُّفُوسَ تَکْتَسِبُ مِنَ الْعَافِیَۃِ الدَّائِمَۃِ وَالنَّصْرِ وَالْغِنَی طُغْیَانًا وَرُکُونًا إِلَی الْعَاجِلَۃِ، وَذَلِکَ مَرَضٌ یَعُوقُہَاعَنْ جِدِّہَا فِی سَیْرِہَاإِلَی اللَّہِ وَالدَّارِ الْآخِرَۃِ،فَإِذَا أَرَادَ بِہَا رَبُّہَا وَمَالِکُہَاوَرَاحِمُہَا کَرَامَتَہُ قَیَّضَ لَہَا مِنَ الِابْتِلَاء وَالِامْتِحَانِ مَا یَکُونُ دَوَاء ً لِذَلِکَ الْمَرَضِ الْعَائِقِ عَنِ السَّیْرِ الْحَثِیثِ إِلَیْہِ،فَیَکُونُ ذَلِکَ الْبَلَاء ُ وَالْمِحْنَۃُ بِمَنْزِلَۃِ الطَّبِیبِ یَسْقِی الْعَلِیلَ الدَّوَاء الْکَرِیہَ،وَیَقْطَعُ مِنْہُ الْعُرُوقَ الْمُؤْلِمَۃَ لِاسْتِخْرَاجِ الْأَدْوَاء ِ مِنْہُ، وَلَوْ تَرَکَہُ لَغَلَبَتْہُ الْأَدْوَاء ُحَتَّی یَکُونَ فِیہَا ہَلَاکُہُ. ترجمہ :دائمی عافیت ، نصرت اورمال داری سے نفوس میں سرکشی اوردنیاکی طرف میلان پیداہوجاتاہے اوریہ ایسامرض ہے جواللہ تعالی کی طرف اورآخرت کی طرف بڑھنے سے رکاوٹ بنتاہے ، چونکہ اللہ تعالی نے جوان بندوں کارب اورمالک ہے اوران پراپنے فضل کاارادہ کیاتوانہیں ابتلاء اورآزمائش میں مبتلاء کردیاتاکہ وہ اس رکاوٹ بننے والے مرض کے لئے دوابن جائے اوریہ ابتلاء اورآزمائش کی مثال ایسے ہے جیسے طبیب بیمارکو بیماری زائل کرنے کے لئے کڑوی دوادیتاہے اورتکلیف دہ رگوں کو بیماریاں ختم کرنے کے لئے کاٹ دیتاہے اوراگروہ ایسانہ کرے توان رگوں اوربیماریوں کی وجہ سے مریض کی جان جاسکتی ہے ۔ دسویں حکمت وَمِنْہَا:أَنَّ الشَّہَادَۃَ عِنْدَہُ مِنْ أَعْلَی مَرَاتِبِ أَوْلِیَائِہِ،وَالشُّہَدَاء ُہُمْ خَوَاصُّہُ وَالْمُقَرَّبُونَ مِنْ عِبَادِہِ، وَلَیْسَ بَعْدَ دَرَجَۃِ الصِّدِّیقِیَّۃِ إلَّا الشَّہَادَۃُ،وَہُوَ سُبْحَانَہُ یُحِبُّ أَنْ یَتَّخِذَ مِنْ عِبَادِہِ شُہَدَاء تُرَاقُ دِمَاؤُہُمْ فِی مَحَبَّتِہِ وَمَرْضَاتِہِ،وَیُؤْثِرُونَ رِضَاہُ وَمَحَابَّہُ عَلَی نُفُوسِہِمْ،وَلَا سَبِیلَ إِلَی نَیْلِ ہَذِہِ الدَّرَجَۃِ إلَّا بِتَقْدِیرِ الْأَسْبَابِ الْمُفْضِیَۃِ إِلَیْہَا مِنْ تَسْلِیطِ الْعَدُوِّ. ترجمہ :شہادت اللہ تعالی کے ہاں اعلی مراتب میں سے ہے اورشہداء اللہ تعالی کے خواص اوراس کے مقربین شمار ہوتے ہیں اورصدیقیت کے درجہ کے بعد شہادت ہی کادرجہ ہے اوراللہ تعالی یہ بات پسندفرماتاہے کہ اپنے بندوں میں بعض کو شہداء کادرجہ عطافرمائے ، ان کے خون اللہ تعالی کی محبت اوراس کی رضامیں بہائے جائیں اوروہ اللہ تعالی کی رضااورخوشنودگی کواپنی جانوں پر ترجیح دیں اوراس درجہ کے حصول کاطریقہ یہی ہوسکتاہے کہ ایسے اسباب پیداکردیں جس سے دشمن مسلط ہوجائے ۔ گیارہویں حکمت وَمِنْہَا:أَنَّ اللَّہَ سُبْحَانَہُ إذَا أَرَادَ أَنْ یُہْلِکَ أَعْدَاء َہُ وَیَمْحَقَہُمْ قَیَّضَ لَہُمُ الْأَسْبَابَ الَّتِی یَسْتَوْجِبُونَ بِہَا ہَلَاکَہُمْ وَمَحْقَہُمْ،وَمِنْ أَعْظَمِہَا بَعْدَ کُفْرِہِمْ بَغْیُہُمْ وَطُغْیَانُہُمْ،وَمُبَالَغَتُہُمْ فِی أَذَی أَوْلِیَائِہِ،وَمُحَارَبَتِہِمْ وَقِتَالِہِمْ وَالتَّسَلُّطِ عَلَیْہِمْ، فَیَتَمَحَّصُ بِذَلِکَ أَوْلِیَاؤُہُ مِنْ ذُنُوبِہِمْ وَعُیُوبِہِمْ،وَیَزْدَادُ بِذَلِکَ أَعْدَاؤُہُ مِنْ أَسْبَابِ مَحْقِہِمْ وَہَلَاکِہِمْ،وَقَدْ ذَکَرَ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی ذَلِکَ فِی قَوْلِہِ:(وَلَا تَہِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ إِنْ یَمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُہُ وَتِلْکَ الْأَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَدَاء َوَاللَّہُ لَا یُحِبُّ الظَّالِمِینَ وَلِیُمَحِّصَ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا وَیَمْحَقَ الْکَافِرِینَ)(آل عمران: ۱۳۹،۱۴۱) فَجَمَعَ لَہُمْ فِی ہَذَا الْخِطَابِ بَیْنَ تَشْجِیعِہِمْ وَتَقْوِیَۃِ نُفُوسِہِمْ وَإِحْیَاء ِ عَزَائِمِہِمْ وَہِمَمِہِمْ، وَبَیْنَ حُسْنِ التَّسْلِیَۃِ، وَذِکْرِ الْحِکَمِ الْبَاہِرَۃِ الَّتِی اقْتَضَتْ إدَالَۃَ الْکُفَّارِ عَلَیْہِمْ فَقَالَ:(إِنْ یَمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُہُ)(آل عمران:۱۴۰)، فَقَدِ اسْتَوَیْتُمْ فِی الْقَرْحِ وَالْأَلَمِ، وَتَبَایَنْتُمْ فِی الرَّجَاء ِ وَالثَّوَابِ، کَمَا قَالَ:(إِنْ تَکُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّہُمْ یَأْلَمُونَ کَمَا تَأْلَمُونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّہِ مَا لَا یَرْجُونَ)(النساء :۱۰۴)فَمَا بَالُکُمْ تَہِنُونَ وَتَضْعُفُونَ عِنْدَ الْقَرْحِ وَالْأَلَمِ،فَقَدْ أَصَابَہُمْ ذَلِکَ فِی سَبِیلِ الشَّیْطَانِ،وَأَنْتُمْ أُصِبْتُمْ فِی سَبِیلِی وَابْتِغَاء ِ مَرْضَاتِی ثُمَّ أَخْبَرَ أَنَّہُ یُدَاوِلُ أَیَّامَ ہَذِہِ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا بَیْنَ النَّاسِ، وَأَنَّہَا عَرَضٌ حَاضِرٌ،یُقَسِّمُہَا دُوَلًا بَیْنَ أَوْلِیَائِہِ وَأَعْدَائِہِ، بِخِلَافِ الْآخِرَۃِ،فَإِنَّ عِزَّہَا وَنَصْرَہَا وَرَجَاء َہَا خَالِصٌ لِلَّذِینَ آمَنُواثُمّ ذَکَرَ حِکْمَۃً أُخْرَی،وَہِیَ أَنْ یَتَمَیَّزَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ الْمُنَافِقِینَ فَیَعْلَمُہُمْ عِلْمَ رُؤْیَۃٍ وَمُشَاہَدَۃٍ بَعْدَ أَنْ کَانُوا مَعْلُومِینَ فِی غَیْبِہِ،وَذَلِکَ الْعِلْمُ الْغَیْبِیُّ لَا یَتَرَتَّبُ عَلَیْہِ ثَوَابٌ وَلَا عِقَابٌ، وَإِنَّمَا یَتَرَتَّبُ الثَّوَابُ وَالْعِقَابُ عَلَی الْمَعْلُومِ إذَا صَارَ مُشَاہَدًا وَاقِعًا فِی الْحِسّ ثُمّ ذَکَرَ حِکْمَۃً أُخْرَی، وَہِی اتِّخَاذُہُ سُبْحَانَہُ مِنْہُمْ شُہَدَاء َ،فَإِنَّہُ یُحِبُّ الشُّہَدَاء َمِنْ عِبَادِہِ،وَقَدْ أَعَدَّ لَہُمْ أَعْلَی الْمَنَازِلِ وَأَفْضَلَہَا، وَقَدِ اتَّخَذَہُمْ لِنَفْسِہِ، فَلَا بُدَّ أَنْ یُنِیلَہُمْ دَرَجَۃَ الشَّہَادَۃِ وَقَوْلُہُ:(وَاللَّہُ لَا یُحِبُّ الظَّالِمِینَ)(آل عمران: ۱۴۰) تَنْبِیہٌ لَطِیفُ الْمَوْقِعِ جِدًّا عَلَی کَرَاہَتِہِ وَبُغْضِہِ لِلْمُنَافِقِینَ الَّذِینَ انْخَذَلُواعَنْ نَبِیِّہِ یَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ یَشْہَدُوہُ وَلَمْ یَتَّخِذْ مِنْہُمْ شُہَدَاء َ،لِأَنَّہُ لَمْ یُحِبَّہُمْ فَأَرْکَسَہُمْ وَرَدَّہُمْ لِیَحْرِمَہُمْ مَا خَصَّ بِہِ الْمُؤْمِنِینَ فِی ذَلِکَ الْیَوْمِ، وَمَا أَعْطَاہُ مَنِ اسْتُشْہِدَ مِنْہُمْ، فَثَبَّطَ ہَؤُلَاء ِ الظَّالِمِینَ عَنِ الْأَسْبَابِ الَّتِی وَفَّقَ لَہَا أَوْلِیَاء َہُ وَحِزْبَہُ ثُمّ ذَکَرَ حِکْمَۃً أُخْرَی فِیمَا أَصَابَہُمْ ذَلِکَ الْیَوْمَ، وَہُوَ تَمْحِیصُ الَّذِینَ آمَنُوا،وَہُوَ تَنْقِیَتُہُمْ وَتَخْلِیصُہُمْ مِنَ الذُّنُوبِ، وَمِنْ آفَاتِ النُّفُوسِ، وَأَیْضًا فَإِنَّہُ خَلَّصَہُمْ،وَمَحَّصَہُمْ مِنَ الْمُنَافِقِینَ، فَتَمَیَّزُوا مِنْہُمْ، فَحَصَلَ لَہُمْ تَمْحِیصَانِ: تَمْحِیصٌ مِنْ نُفُوسِہِمْ،وَتَمْحِیصٌ مِمَّنْ کَانَ یُظْہِرُ أَنَّہُ مِنْہُمْ وَہُوَ عَدُوُّہُمْ.ثُمّ ذَکَرَ حِکْمَۃً أُخْرَی وَہِی مَحْقُ الْکَافِرِینَ بِطُغْیَانِہِمْ وَبَغْیِہِمْ وَعُدْوَانِہِمْ، ثُمَّ أَنْکَرَ عَلَیْہِمْ حُسْبَانَہُمْ وَظَنَّہُمْ أَنْ یَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِدُونِ الْجِہَادِ فِی سَبِیلِہِ وَالصَّبْرِ عَلَی أَذَی أَعْدَائِہِ، وَإِنَّ ہَذَا مُمْتَنِعٌ بِحَیْثُ یُنْکَرُ عَلَی مَنْ ظَنَّہُ وَحَسِبَہُ فَقَالَ:(أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللَّہُ الَّذِینَ جَاہَدُوا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصَّابِرِینَ)(آل عمران:۱۴۲) أَیْ وَلَمَّا یَقَعْ ذَلِکَ مِنْکُمْ فَیَعْلَمُہُ، فَإِنَّہُ لَوْ وَقَعَ لَعَلِمَہُ فَجَازَاکُمْ عَلَیْہِ بِالْجَنَّۃِ، فَیَکُونُ الْجَزَاء ُ عَلَی الْوَاقِعِ الْمَعْلُومِ، لَا عَلَی مُجَرَّدِ الْعِلْمِ، فَإِنَّ اللَّہَ لَا یَجْزِی الْعَبْدَ عَلَی مُجَرَّدِ عِلْمِہِ فِیہِ دُونَ أَنْ یَقَعَ مَعْلُومُہُ، ثُمَّ وَبَّخَہُمْ عَلَی ہَزِیمَتِہِمْ مِنْ أَمْرٍ کَانُوا یَتَمَنَّوْنَہُ وَیَوَدُّونَ لِقَاء َہُ فَقَالَ:(وَلَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْہُ فَقَدْ رَأَیْتُمُوہُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ)(آل عمران:۱۴۳)قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:وَلَمَّا أَخْبَرَہُمُ اللَّہُ تَعَالَی عَلَی لِسَانِ نَبِیِّہِ بِمَا فَعَلَ بِشُہَدَاء ِ بَدْرٍ مِنَ الْکَرَامَۃِ رَغِبُوا فِی الشَّہَادَۃِ، فَتَمَنَّوْا قِتَالًا یَسْتَشْہِدُونَ فِیہِ، فَیَلْحَقُونَ إخْوَانَہُمْ، فَأَرَاہُمُ اللَّہُ ذَلِکَ یَوْمَ أُحُدٍ وَسَبَّبَہُ لَہُمْ، فَلَمْ یَلْبَثُوا أَنِ انْہَزَمُوا إلَّا مَنْ شَاء َ اللَّہُ مِنْہُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی:(وَلَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْہُ فَقَدْ رَأَیْتُمُوہُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ)(آل عمران: ۱۴۳)۔ ترجمہ :جب اللہ تعالی نے ارادہ فرمایاکہ اس کے دشمن ہلاک ہوجائیں توان کی ہلاکت اورتباہی کے اسباب پیدافرمائے اورکفرکے بعد اس کے بڑے بڑے اسباب یہ تھے : ان کی سرکشی ، ظلم وستم ، اللہ تعالی کے اولیاء کرام کوتکالیف پہنچانے کی پوری کوشش کرنا، ان سے جنگ وقتال کرنااوران پر غلبہ پالینا، ان اسباب کی وجہ سے اللہ تعالی کے اولیاء کرام گناہوں اورعیوب سے صاف ہوگئے اوران کے دشمن ہلاکت اوربربادی کے اورزیادہ مستحق ہوگئے ۔ اللہ تعالی نے اسے ان آیات کریمہ میں ذکرفرمایاہے ۔ {وَلَا تَہِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ}{اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَدَآء َ وَاللہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ}{وَ لِیُمَحِّصَ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْکٰفِرِیْنَ}(سورۃ آل عمران :۱۳۹،۱۴۰م۱۴۱) ترجمہ کنزالایمان : اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ تم غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیںاور یہ دن ہیں جن میں ہم نے لوگوں کے لئے باریاں رکھی ہیں اور اس لئے کہ اللہ پہچان کرادے ایمان والوں کی اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ دے اور اللہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو اور اس لئے کہ اللہ مسلمانوں کا نکھار کردے اور کافروں کو مٹا دے ۔ اللہ تعالی نے اس خطاب میں اہل ایمان کو جرات ودلیری ، مضبوطی عزائم کی پختگی کی ترغیب بھی دی اورنہایت ہی بلیغ اوراحسن انداز میں تسلی بھی دی اورکفارکے غلبہ میں جواللہ تعالی کی حکمتیں پوشیدہ تھیں ان کو بھی ذکرفرمایا، چنانچہ ارشادفرمایا: {اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَدَآء َ وَاللہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ}( سورۃ آل عمران : ۱۴۰) ترجمہ کنزالایمان: اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیںاور یہ دن ہیں جن میں ہم نے لوگوں کے لئے باریاں رکھی ہیں اور اس لئے کہ اللہ پہچان کرادے ایمان والوں کی اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ دے کہ تم زخموں کے آنے اورتکالیف پہنچنے میں ان کے ساتھ برابرہواوراجروثواب کی امیدمیں ان سے جداہو۔ جیساکہ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے {وَلَا تَہِنُوْا فِی ابْتِغَآء ِ الْقَوْمِ اِنْ تَکُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّہُمْ یَاْ لَمُوْنَ کَمَا تَاْلَمُوْنَ وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللہِ مَا لَا یَرْجُوْنَ وَکَانَ اللہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا }( سورۃ النساء : ۱۰۴) ترجمہ کنزالایمان:اور کافروں کی تلاش میں سستی نہ کرو اگر تمہیں دکھ پہنچتا ہے تو انہیں بھی دکھ پہنچتا ہے جیسا تمہیں پہنچتا ہے اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ توپھرتمھیں کیاہواکہ تم رنج وتکلیف میں کمزورپڑتے ہواورہمت ہارتے ہو، حالانکہ انہیں یہ تکلیف شیطان کی راہ میں پہنچی ہے جب کہ تمھیں میرے راستے میں میری خوشنودی حاصل کرتے ہوئے پہنچی ہے ، پھراللہ تعالی نے خبردی کہ اللہ تعالی اس دن میں ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتارہتاہے کہ کبھی اپنے دوستوں کو فتح عطافرماتاہے اورکبھی اپنے دشمنو ں کو ، جبکہ آخرت کامقصد اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ اس میں عزت ونصرت اورکامیابی اورکامرانی صرف اورصرف اہل ایمان ہی کے لئے ہے ۔ پھراس کے بعد ایک اورحکمت کو ذکرفرمایاوہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے مومنین اورمنافقین کو جداجداکرناتھااورغیب میں جاننے کے بعد مشاہدہ کے طورپربھی جان لے کیونکہ علم غیبی پر ثواب وعقاب مرتب نہیں ہوتے بلکہ ثواب وعقاب اس وقت مرتب ہوتے ہیں جب وہ عمل مشاہدہوجائے اورجس سے اس کاادراک ہوسکے ۔ پھراللہ تعالی نے ایک اورحکمت ذکرفرمائی وہ یہ کہ اللہ تعالی نے اہل ایمان میں سے کچھ کو شہداء بناناتھاکیونکہ وہ اپنے بندوں میں سے شہداء کو محبوب رکھتاہے اوراللہ تعالی نے اس کے لئے اعلی درجہ کی منازل تیارکررکھی ہیں اورشہداء کو اپنی ذات کے لئے خالص بنایاہے ،اس لئے یہ ضروری تھاکہ انہیں درجہ شہادت سے نوازاجاتااوراللہ تعالی کے اس ارشاد:{ وَاللہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ}میںایک لطیف تنبیہ ہے کہ اللہ تعالی منافقین کو ناپسندفرماتاہے اوران کے ساتھ بغض رکھتاہے جواحد شریف کے دن اللہ تعالی کے حبیب کریم ﷺسے جداہوگئے اورغزوہ احدشریف میں حاضرنہیں ہوئے اوراللہ تعالی نے ان میں سے کسی کوشہادت کادرجہ نہیں عطافرمایا۔ کیونکہ اللہ تعالی ان کو پسندنہیں فرماتاتھا، اس لئے ان کو واپس لوٹادیاتاکہ اہل ایمان کو جس عنایت خاصہ سے نوازاجاناتھاان کو اس عنایت سے محروم کردے ، پس یہ لوگ ان اسباب سے نکل گئے جن کی اللہ تعالی نے اپنے مومنین بندوں کوتوفیق عطافرمائی کہ اللہ تعالی نے اس دن مومنین کومصیبت پہنچنے کے بارے میں ایک اورحکمت ذکرفرمائی اوروہ ایمان والوں کوگناہوں اورنفوس کی آفات سے پاک صاف اورخالص کرناتھااوراسی طرح اللہ تعالی نے انہیں منافقین سے بھی صاف اورخالص کردیااوریہ ان سے جداہوگئے ، پس اس کے ذریعے دوطرح سے پاک صاف اورخالص کرناحاصل ہوا،جوایک نفوس کی آفات سے اوردوسراان کے دشمنوں سے جو یہ ظاہرکرتے تھے کہ ہم تمھیں میں سے ہیں ۔ پھراللہ تعالی نے ایک اورحکمت بیان فرمائی اورکفارکوان کے ظلم وستم اورسرکشی کی وجہ سے انہیں ہلاک کرناہے ، پھرا س کے بعد اہل ایمان پراس بارے میں انکاربھی فرمایاکہ کیاانہوںنے یہ گمان کرلیاہے کہ وہ اللہ تعالی کے راستے میں جہاد اوردشمن کی ایذائوں پر صبرکئے بغیرجنت میں داخل ہوجائیں گے ، یہ ناممکن ہے کیونکہ اللہ تعالی نے ایسے گمان کرنے والے پرانکارفرمایاہے ۔ چنانچہ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے {اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللہُ الَّذِیْنَ جٰہَدُوْا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ}( سورۃ آل عمران :۱۴۲) ترجمہ کنزالایمان :کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں کی آزمائش کی ۔ یعنی یہ ابھی تک تمھاری طرف سے واقع نہیں ہوااگرواقع ہوتاتواللہ تعالی تمھاراضرورامتحان کرتاتوتم کو اس کے بدلے میں جنت عطافرمادیتاکیونکہ اللہ تعالی کی جزااورامرواقع معلوم پرہوتی ہے نہ کہ محض علم پر، پھراللہ تعالی نے اہل ایمان کی شکست پرانہیں اس کے بارے میں عتاب فرمایاجس کی تم خودتمناکرتے تھے اوراس کی ملاقات کاشوق رکھتے تھے ۔ چنانچہ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے {وَلَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْہُ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْہُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ}(سورۃ آل عمران: ۱۴۳) ترجمہ کنزالایمان:اور تم تو موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کے ملنے سے پہلے تو اب وہ تمہیں نظر آئی آنکھوں کے سامنے ۔ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے اپنے فرمان شریف کے ذریعے اپنے حبیب کریم ﷺکو شہداء بدرپراپنی کرامت اوراپنے فضل کی خبردی تولوگوں کو شہادت کی رغبت ہوئی اورانہوںنے جہاد کی تمناظاہرکی تاکہ وہ بھی اس میں شہیدہوسکیں اوراپنے بھائیوں سے جنت میں ملاقات کرسکیںتواللہ تعالی نے احدکے دن اس کے اسباب پیدافرمادیئے لیکن اس میں بہت کم لوگ ڈٹے رہے اورنہیں بھاگے اوربہت سے وہاں سے ہٹ گئے تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی : {وَلَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْہُ ف
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9