صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2238 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۴۲ ۔ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَائِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,132

سوال (Question):

تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۴۲ ۔ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَائِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

غزوہ احدمیں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی شہادت کی خبرمشہورہونے میں حکمت

{وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَائِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقٰبِکُمْ وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللہَ شَیْـًا وَسَیَجْزِی اللہُ الشّٰکِرِیْنَ}(۱۴۴) ترجمہ کنزالایمان:اورمحمدتو ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول ہوچکے (تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم اُلٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور جو اُلٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور محمدکریم ﷺ ایک رسول ہی ہیں ، ان سے پہلے بھی کئی رسول تشریف لے جاچکے ہیںتو کیا اگر وہ وصال کر جائیں یا انہیں شہید کردیا جائے تو تم الٹے پاؤں پلٹ جائوگے ؟اور جو الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ تعالی کا کچھ نہ بگاڑے گا اور عنقریب اللہ تعالی شکر ادا کرنے والوں کو اجرعطا فرمائے گا۔ شان نزول قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاہِدٌ وَالضَّحَّاکُ:لَمَّا نَزَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأُحُدٍ أَمَرَ الرُّمَاۃَ أَنْ یَلْزَمُوا أَصْلَ الْجَبَلِ،وَأَنْ لَا یَنْتَقِلُوا عَنْ ذَلِکَ سَوَاء ٌ کَانَ الْأَمْرُ لَہُمْ أَوْ عَلَیْہِمْ،فَلَمَّا وَقَفُوا وَحَمَلُوا عَلَی الْکُفَّارِ وَہَزَمُوہُمْ وَقَتَلَ عَلِیٌّ طَلْحَۃَ بْنَ أَبِی طَلْحَۃَ صَاحِبَ لِوَائِہِمْ،وَالزُّبَیْرُ وَالْمِقْدَادُ شَدَّا عَلَی الْمُشْرِکِینَ ثُمَّ حَمَلَ الرَّسُولُ مَعَ أَصْحَابِہِ فَہَزَمُوا أَبَا سُفْیَانَ،ثُمَّ إِنَّ بَعْضَ الْقَوْمِ لَمَّا أَنْ رَأَوُا انْہِزَامَ الْکُفَّارِ بَادَرَ قَوْمٌ مِنَ الرُّمَاۃِ إِلَی الْغَنِیمَۃِ وَکَانَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ صَاحِبُ مَیْمَنَۃِ الْکُفَّارِ،فَلَمَّا رَأَی تَفَرُّقَ الرُّمَاۃِ حَمَلَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَہَزَمَہُمْ وَفَرَّقَ جمعہم وکثر القتل فی المسملین۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کاشان نزول یہ ہے کہ جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺاحدشریف میں تشریف فرماہوئے اورتیراندازوں کو حکم دیاکہ وہ اس درہ پرمضبوطی سے کھڑے رہیں اوراس جگہ سے ہرگزنہ ہٹیں ، خواہ ہمیں فتح ہویاشکست ۔ جب وہ مسلمان ٹھہرگئے تواہل اسلام نے کفارپرحملہ کیااوران کو بھگایا، حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ نے کفارکاجھنڈااٹھانے والے طلحہ بن ابی طلحہ کوقتل کردیا، حضرت سیدنازبیررضی اللہ عنہ اورحضرت سیدنامقداد رضی اللہ عنہ نے شدیدحملہ کیاتو حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ حملہ کرکے ابوسفیان کو بھگادیا، جب کفارکو بھاگتاہوادیکھاتوکچھ تیرانداز مال غنیمت کی طرف بھاگ پڑے ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس وقت کفارکے دائیں لشکرکے سردارتھے ، جب انہوںنے تیراندازوں کو منتشردیکھاتواس نے مسلمانوں پر حملہ آورہوکرشکست دی اوران کی جمیعت کو منتشرکردیااوربہت سے مسلمانوں کو شہیدکردیا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۹:۳۷۶)

کیاتم دین ہی ترک کردوگے ؟

وَرَمَی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ قَمِیئَۃَ الْحَارِثِیُّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِحَجَرٍ فَکَسَرَ رَبَاعِیَتَہُ وَشَجَّ وَجْہَہُ، وَأَقْبَلَ یُرِیدُ قَتْلَہُ، فَذَبَّ عَنْہُ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ وَہُوَ صَاحِبُ الرَّایَۃِ یَوْمَ بَدْرٍ وَیَوْمِ أُحُدٍ حَتَّی قَتَلَہُ ابْنُ قَمِیئَۃَ، فَظَنَّ أَنَّہُ قَتَلَ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ قَدْ قَتَلْتُ مُحَمَّدًا،وصرخ صارح أَلَا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ، وَکَانَ الصَّارِخُ الشَّیْطَانَ، فَفَشَا فِی النَّاسِ خَبَرُ قَتْلِہِ، فَہُنَالِکَ قَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِینَ:لَیْتَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أُبَیٍّ یَأْخُذُ لَنَا أَمَانًا مِنْ أَبِی سُفْیَانَ وَقَالَ قَوْمٌ مِنَ الْمُنَافِقِینَ:لَوْ کَانَ نَبِیًّا لَمَا قُتِلَ،ارْجِعُوا إِلَی إِخْوَانِکُمْ وَإِلَی دِینِکُمْ،فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ:یَا قَوْمُ إِنْ کَانَ قَدْ قُتِلَ مُحَمَّدٌ فَإِنَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ حَیٌّ لَا یَمُوتُ وَمَا تَصْنَعُونَ بِالْحَیَاۃِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَاتِلُوا عَلَی مَا قَاتَلَ عَلَیْہِ وَمُوتُوا عَلَی مَا مَاتَ عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ:اللَّہُمَّ إِنِّی أَعْتَذِرُ إِلَیْکَ مِمَّا یَقُولُ ہَؤُلَاء ِ،ثُمَّ سَلَّ سَیْفَہُ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی،وَمَرَّ بَعْضُ الْمُہَاجِرِینَ بِأَنْصَارِیٍّ یَتَشَحَّطُ فِی دَمِہِ،فَقَالَ:یَا فُلَانُ أَشْعَرْتَ أَنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ، فَقَالَ: إِنْ کَانَ قَدْ قُتِلَ فَقَدْ بَلَّغَ، قَاتِلُوا عَلَی دِینِکُمْ،وَلَمَّا شَجَّ ذَلِکَ الْکَافِرُ وَجْہَ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَسَرَ رَبَاعِیَتَہُ،احْتَمَلَہُ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ،وَدَافَعَ عَنْہُ أَبُو بَکْرٍ وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَنَفَرٌ آخَرُونَ مَعَہُمْ، ثُمَّ إِنَّ الرَّسُولَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَعَلَ یُنَادِی وَیَقُولُ:إِلَیَّ عِبَادَ اللَّہِ حَتَّی انْحَازَتْ إِلَیْہِ طَائِفَۃٌ مِنْ أَصْحَابِہِ فَلَامَہُمْ عَلَی ہَزِیمَتِہِمْ،فَقَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ فَدَیْنَاکَ بِآبَائِنَا وَأُمَّہَاتِنَا،أَتَانَا خَبَرُ قَتْلِکَ فَاسْتَوْلَی الرُّعْبُ عَلَی قُلُوبِنَا فَوَلَّیْنَا مُدْبِرِینَ،وَمَعْنَی الْآیَۃِ وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ فَسَیَخْلُو کَمَا خَلَوْا،وَکَمَا أَنَّ أَتْبَاعَہُمْ بَقُوا مُتَمَسِّکِینَ بِدِینِہِمْ بَعْدَ خُلُوِّہِمْ،فَعَلَیْکُمْ أَنْ تَتَمَسَّکُوا بِدِینِہِ بَعْدَ خُلُوِّہِ،لِأَنَّ الْغَرَضَ مِنْ بِعْثَۃِ الرُّسُلِ تَبْلِیغُ الرِّسَالَۃِ وَإِلْزَامُ الْحُجَّۃِ،لَا وُجُودُہُمْ بَیْنَ أَظْہُرِ قَوْمِہِمْ أَبَدًا. ترجمہ :عبداللہ بن قمئہ ملعون نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکوپتھرمارے توحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دانت مبارک اورچہرہ اقدس زخمی ہوگئے اوروہ آپ ﷺکو شہیدکرنے کے ارادہ سے آگے بڑھاتوحضرت سیدنامصعب بن عمیررضی اللہ عنہ نے آپﷺکادفاع کیاجو بدرواحدمیں جھنڈااٹھائے ہوئے تھے لیکن انہیں ابن قئمہ نے شہیدکردیااوراس نے گمان کیاکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺشہیدہوگئے ہیں تواس نے چیخ چیخ کراعلان کردیاکہ میں نے محمدﷺکو قتل کردیاہے ۔ ایک اورشخص بھی آوازیں لگارہاتھاکہ محمدﷺقتل کردئیے گئے ہیں ۔ اوریہ آواز بلندکرنے والاشیطان تھا۔ پھرلوگوں میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی شہادت کی خبرمشہورہوگئی ، اس موقع پر کچھ مسلمانوں نے کہا: کاش عبداللہ بن ابی ہمار ے لئے ابوسفیان سے اعانت حاصل کرے ، کچھ منافقین نے یہ کہناشروع کردیاکہ اگرمحمد(ﷺ) نبی تھے توقتل کیوں ہوئے ؟ تم آجائواوراپنے پرانے دین کی طرف لوٹ آئو۔ حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کے عم محترم حضرت سیدناانس بن نضررضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگرحضورتاجدارختم نبوت ﷺشہیدہوگئے ہیں تورب محمدﷺتوزندہ ہے ۔ اس پر موت نہیں آئے گی ۔ تم حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے بعد زندہ رہ کرکیاکروگے ۔ ان کفارسے اسی پر لڑوجس پر حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے قتال کیااوراسی پر مروجس پرحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے شہادت پائی ۔ پھراللہ تعالی کے حضوریوں عرض کیا: اے اللہ !میں تیری بارگاہ سے معافی مانگتاہوں ان باتوں سے جو ان لوگوں نے کیں اورپھرانہوںنے تلواراٹھائی یہاں تک کہ یہ بھی شہیدکردیئے گئے ، اللہ تعالی ان پر اپنی رحمتوں کانزول کرے ۔ پھریہ ایک مہاجرانصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزراجو خون سے لت پت تھے توکہاکہ کیاتم جانتے ہوکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو شہیدکردیاگیاہے ؟ انصاری کہنے لگے اگرحضورتاجدارختم نبوت ﷺشہیدہوگئے تو آپ ﷺمنزل تک پہنچ گئے تم بھی اپنے دین کے لئے قتال جاری رکھو۔ جب اس کافرنے آپ ﷺکے چہرہ اقدس کو زخمی کیااوردانت مبارک شہیدکئے تو آپ ﷺکو حضرت سیدناطلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے سہارادیااورحضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺکادفاع کیا، دیگرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی وہاں پر جمع ہوگئے توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے اونچی آواز میں فرمایا: اے اللہ تعالی کے بندو!میری طرف آجائو!حتی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاایک گروہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے گردجمع ہوگیاتوآپ ﷺنے ان کی کمزوری اورشکست پرناراضگی کااظہارفرمایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!آپ ْﷺ پر ہمارے آبائواجداد قربان !آپ ﷺکی شہادت کی خبرسن کر ہمارے دل پر رعب پڑگیاتھاجس کی وجہ سے ہم میدان سے بھاگے توآیت کریمہ کامعنی یہ ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺرسول ہی ہیں اوران سے پہلے بھی رسول گزرے اوریہ بھی عنقریب دنیاسے رخصت ہوجائیں گے ، جس طرح پہلے انبیاء کرام علیہم السلام رخصت ہوئے توجیسے ان انبیاء کرام علیہم السلام کے جانے کے بعد ان کے دین پر باقی رہنااوراس کی اقتداکرنالازم ہے اسی طرح تم پر بھی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے وصال شریف کے بعد آپ ﷺکے دین کی اتباع لازم ہے کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کامقصدپیغام الہی کو پہنچانااورحجت قائم کرناہے ، یہ نہیں کہ وہ اپنے امتیوں کے درمیان ہمیشہ ہمیشہ دنیامیں رہتے ہیں ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۹:۳۷۶)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی شہادت کی خبرمشہورہونے میں حکمت

اس عارضی شکست اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے زخمی ہونے میں اسی طرح وصال شریف کی خبرکے پھیل جانے اوربعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے وہاں میدان چھوڑنے اورحوصلہ چھوڑنے میں ایک اہم اورنمایاں راز یہ ہے کہ اہل اسلام اس اصولی مسئلہ میں عملاً ابھی سے پختہ ہوجائیں کہ جہاں ایک طرف حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی محبت وعظمت جزوایمان ہے اوراس میں کوتاہی کفرہے اوروہیں اس کی نگہداشت کرناضروری تھی کہ جس طرح عیسائیوں نے حضرت سیدناعیسی علیہ السلام کی محبت کوعبادت وپرستش اورالوہیت کے درجہ تک پہنچادیاکہیں ایسانہ ہوکہ مسلمان بھی اس میں مبتلاء ہوجائیں ۔ اس لئے منافقین کے زبان سے نکلے ہوئے جملوں کو سامنے رکھتے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آگاہ کردیااوربتادیاکہ دین اوراس کے تمام تراحکام اللہ تعالی کے لئے ہیں جوحی وقیوم اوروحدہ لاشریک ہے۔ اس لئے بالفرض یہ خبرشہادت صحیح بھی ہوتی تو حادثہ وفات توایک نہ ایک دن ہوناہی ہے توکیاتم پھراللہ تعالی کادین ترک کردوگے ؟ یہ چیز تمھارے شایان شان نہیں کہ جس کام کو حضورتاجدارختم نبوت ﷺہم پرچھوڑ گئے ہیں اسی میں ہم نے جانیں صرف کرنی ہیں بہرحال حضورتاجدارختم نبوت ﷺایک نہ ایک دن دنیاسے رخصت ہونے والے ہیں ، اب تم کو یہ کام سنبھالنااورمکمل کرناہے کیونکہ تم ہی ان کی محنتوں کاثمرہ ہو ، نقش حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے قائم کیااب تم نے ہی اسے دوام بخشناہے ، اس خبرشہادت میں بڑی حکمت یہ ثابت ہوئی کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے وصال شریف پرجو احوال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پیش آسکتے تھے وہ آپ ﷺکی موجودگی میں رونمااورظاہرکردیئے گئے تاکہ اس سلسلے میں صحیح نمونہ سامنے آجائے اورجہاں اصلاح کی ضرورت ہووہاں وہ لسان نبوت (ﷺ) سے ظاہرہوجائے اورجب کبھی سچ مچ یہ واقعہ پیش آجائے توعاشاقان رسول ﷺکہیں بے قابوہوکراپنی جانیں نہ گنوابیٹھیں اورکوئی غیرشرعی غلط اقدام نہ کرجائیں ۔ چنانچہ سانحہ وصال شریف کے وقت یہی ہواکہ اجلہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہوش وحواس بھی بجانہ تھے ۔ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ جیسے لوگوں کے اعصاب بھی متزلزل رہے ، پس حضرت سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ نے بڑی عزیمت اورقوت قلب سے کام لیکر سب کو سنبھالا۔ اوردوسری طرف مکہ مکرمہ کے لوگوں کو حضرت سیدناسہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے سنبھالااورتباہی سے بچالیا۔

حضورتاجدارختم نبو ت ﷺکی شہادت کی خبرسننے کے بعداجلہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاایمان مضبوط ہوگیا

حضرت سیدناانس بن نضررضی اللہ عنہ کاجذبہ جہاد ثنی الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ أَخُو بَنِی عَبْدِ النَّجَّارِ،قَالَ:انْتَہَی أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ إِلَی عُمَرَ وَطَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ فِی رِجَالٍ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ،وَقَدْ أَلْقَوْا بِأَیْدِیہِمْ،فَقَالَ:مَا یُجْلِسُکُمْ؟ قَالُوا:قَدْ قُتِلَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ،قَالَ:فَمَا تَصْنَعُونَ بِالْحَیَاۃِ بَعْدَہُ؟قُومُوا فَمُوتُوا عَلَی مَا مَاتَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ وَاسْتَقْبَلَ الْقَوْمَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ، وَبِہِ سُمِّیَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناقاسم بن عبدالرحمن جوبنی عدی بن نجارسے تعلق رکھتے تھے بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدناانس بن نضررضی اللہ عنہ ، حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناطلحہ رضی اللہ عنہ اورچندانصارومہاجرین رضی اللہ عنہم تک پہنچے جبکہ انہوں نے جنگ کرناترک کردی تھی ، پوچھاکہ تم جنگ کرکے کیوں بیٹھ گئے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہاکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺشہیدہوگئے توانہوںنے کہاکہ آ ﷺکے بعد زندگی کیاکروگے ؟ اٹھواوراسی مقصد کے لئے اپنی جان دے دوجس مقصدکے لئے حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے اپنی جان دے دی ۔ پھروہ دشمنوں کی طرف جنگ کرتے ہوئے چلے گئے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ شہیدہوگئے ۔ (تفسیر الطبری :محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۶:۱۰۲)

بازوکٹ گئے مگرجھنڈانہ چھوڑا

أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِیلَ الْعَبْدَرِیُّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ:حَمَلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ اللِّوَاء َ یَوْمَ أُحُدٍفَلَمَّا جَالَ الْمُسْلِمُونَ ثَبَتَ بِہِ مُصْعَبٌ فَأَقْبَلَ ابْنُ قَمِیئَۃَوَہُوَ فَارِسٌفَضَرَبَ یَدَہُ الْیُمْنَی فَقَطَعَہَا وَمُصْعَبٌ یَقُولُ:وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ آل عمران: الآیۃ.وأخذ اللِّوَاء َ بِیَدِہِ الْیُسْرَی وَحَنَا عَلَیْہِ فَضَرَبَ یَدَہُ الْیُسْرَی فَقَطَعَہَافَحَنَا عَلَی اللِّوَاء ِ وَضَمَّہُ بِعَضُدَیْہِ إِلَی صَدْرِہِ وَہُوَ یَقُولُ:وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ آل عمران: ۱۴۴الآیۃ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامحمدبن شرحبیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنامصعب بن عمیررضی اللہ عنہ نے غزوہ احدمیں جھنڈااٹھایاہواتھاتوان کادائیاں ہاتھ کٹ گیااورانہوں نے جھنڈابائیں ہاتھ میں اٹھالیا،جبکہ وہ یہ آیت کریمہ کی تلاوت کررہے تھے {وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَائِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقٰبِکُمْ وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللہَ شَیْـًا وَسَیَجْزِی اللہُ الشّٰکِرِیْنَ}پھرآپ رضی اللہ عنہ کابایاں ہاتھ بھی کٹ گیا، آپ رضی اللہ عنہ جھنڈے کی طرف جھکے اوربازومیں لے کرسینے سے لگالیاجبکہ وہ یہ کہہ رہے تھے {وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَائِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقٰبِکُمْ وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللہَ شَیْـًا وَسَیَجْزِی اللہُ الشّٰکِرِیْنَ}۔ (الطبقات الکبری:أبو عبد اللہ محمد بن سعد بن منیع البغدادی المعروف بابن سعد (۳:۸۹)

حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کاجلالی اعلان

وَأَخْرَجَ ابْنُ الْمُنْذِرِ عَنْ کُلَیْبٍ قَالَ:خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ،فَکَانَ یَقْرَأُ عَلَی الْمِنْبَرِ: آلَ عِمْرَانَ، وَیَقُولُ: إِنَّہَا أُحُدِیَّۃٌ،ثُمَّ قَالَ:تَفَرَّقْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أُحُدٍ،فَصَعِدْتُ الْجَبَلَ فَسَمِعَتْ یَہُودِیًّا یَقُولُ:قُتِلَ مُحَمَّدٌ،فَقُلْتُ:لَا أَسْمَعُ أَحَدًا یَقُولُ قُتِلَ مُحَمَّدٌ إِلَّا ضَرَبْتُ عُنُقَہُ،فَنَظَرْتُ فإذا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ یَتَرَاجَعُونَ إِلَیْہِ، فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ: وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناکلیب رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ ارشادفرمایا، آپ رضی اللہ عنہ منبرپر آل عمران کی تلاوت فرماتے اورکہتے کہ سورۃ آل عمران احدی ہے یعنی غزوہ احدشریف کے بارے میں نازل ہوئی ، پھرفرمایاکہ ہم غزوہ احد کے موقع پر حضورتاجدارختم نبوت سے الگ ہوئے تھے ، میں پہاڑ پرچڑھا، میں نے ایک یہودی کویہ کہتے ہوئے سناکہ محمدﷺ قتل ہوگئے ۔ میں نے کہاکہ اب جس نے بھی یہ کہا تو میں تلوارکے ساتھ اس کی گردن اڑاکررکھ دوں گا، میں نے دیکھاتوحضورتاجدارختم نبوت ﷺلوگوں کے ساتھ واپس تشریف لارہے تھے ، اس موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۱:۱۴۷)

ہم توحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دین کے لئے لڑتے رہیں گے

عَنْ عِکْرِمَۃَ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کَانَ یَقُولُ فِی حَیَاۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ:(أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ)(آل عمران:۱۴۴)واللہِ لَا نَنْقَلِبُ عَلَی أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَانَا اللہُ، وَاللہِ لَئِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ لَأُقَاتِلَنَّ عَلَی مَا قَاتَلَ عَلَیْہِ حَتَّی أَمُوتَ،وَاللہِ إِنِّی لَأَخُوہُ وَوَلِیُّہُ، وَابْنُ عَمِّہِ،وَوَارِثُہُ فَمَنْ أَحَقُّ بِہِ مِنِّی ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماروایت فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی ظاہری زندگی میں کہاکرتے تھے کہ اللہ تعالی فرماتاہے {أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ}اللہ تعالی کی قسم !ہم ایڑیوں کے نہیں پلٹ جائیں گے جبکہ ہم کو اللہ تعالی نے ہدایت عطافرمادی ہے ، اللہ تعالی کی قسم !اگرحضورتاجدارختم نبوت ﷺکاوصال شریف ہویاآپ ْﷺکوشہیدکردیاجائے تومیں بھی اسی دین کے لئے جنگ کرتارہوں گاجس دین کے لئے حضورتاجدارختم نبوت ﷺجنگ کرتے رہے ہیں۔ اوراللہ تعالی کی قسم !میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکابھائی ، آپ ﷺکاوارث ، آپ ﷺکے چچاکابیٹاہوں تومجھ سے بڑھ کرکون حقدارہے۔ (المعجم الکبیر:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (ا:۱۰۷)

حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کاعمل شریف

عَنْ إِبْرَاہِیمَ، قَالَ:قَالَ أَبُو بَکْرٍ:لَوْ مَنَعُونِی وَلَوْ عِقَالًا مِمَّا أَعْطَوْا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَجَاہَدْتُہُمْ قَالَ:ثُمَّ تَلَا(وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ)(آل عمران:۱۴۴)۔ ترجمہ :حضرت سیدناابراہیم رحمہ اللہ تعالی روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ اگروہ ایک رسی بھی روکیں گے جو وہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو بطورزکوۃ دیاکرتے تھے تومیں ان کے ساتھ جہاد کروں گا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:أبو بکر بن أبی شیبۃ، عبد اللہ بن محمدالعبسی (۲:۳۵۲) سبحان اللہ عزوجل عَن إِبْرَاہِیم بن حَنْظَلَۃ عَن أَبِیہ أَن سالما مولی أبی حُذَیْفَۃ کَانَ مَعَہ اللِّوَاء یَوْم الْیَمَامَۃ فَقطعت یَمِینہ فَأخذ اللِّوَاء بیسارہ فَقطعت یسَارہ فاعتنق اللِّوَاء وَہُوَ یَقُول(وَمَا مُحَمَّد إِلَّا رَسُول قد خلت من قبلہ الرُّسُل أَفَإِن مَاتَ أَو قتل انقلبتم علی أعقابکم)الْآیَتَیْنِ۔ ترجمہ:حضرت سیدناابراہیم بن حنظلہ رحمہ اللہ تعالی اپنے والدماجد سے وہ حضرت سیدناسالم رضی اللہ عنہ سے وہ حضرت سیدناحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام ہیںروایت کرتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں ان کے پاس جھنڈاتھا، ان کادایاں ہاتھ کٹ گیاتوانہوںنے جھنڈابائیں ہاتھ میں پکڑلیا، ان کابائیاں ہاتھ بھی کاٹ دیاگیاتوانہوںنے جھنڈے کو گلے سے لگالیاوہ تب بھی اس ا ٓیت کریمہ کی تلاوت کررہے تھے ۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۳:۳۳۶)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh