صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2239 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۴۵۔ وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلً

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,291

سوال (Question):

تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۴۵۔ وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلً

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

موت کے ڈرسے جہاد ترک کرنے والوں کو تنبیہ

{وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلًا وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْہَا وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَۃِ نُؤْتِہٖ مِنْہَا وَسَنَجْزِی الشّٰکِرِیْنَ}(۱۴۵) ترجمہ کنزالایمان:اور کوئی جان بے حکم خدا مرنہیں سکتی سب کا وقت لکھا رکھا ہے اورجو دنیا کا انعام چاہے ہم اس میں سے اُسے دیں اور جو آخرت کا انعام چاہے ہم اس میں سے اُسے دیںاور قریب ہے کہ ہم شکر والوں کو صلہ عطا کریں ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور کوئی جان اللہ تعالی کے حکم کے بغیر نہیں مرسکتی ،ہرایک کاوقت لکھا ہوا ہے اور جو شخص دنیا کی نعمتیں چاہتا ہے ہم اسے دنیا کی کچھ نعمتیں دیدیں گے اور جوشخص آخرت کی نعمتیں چاہتا ہے ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطافرمائیں گے اور عنقریب ہم شکر ادا کرنے والوں کو ان کااجرعطا فرمائیں گے۔

جہادکی ترغیب دلائی جارہی ہے

أَنْ یَکُونَ الْمُرَادُ تَحْرِیضَ الْمُسْلِمِینَ عَلَی الْجِہَادِ بِإِعْلَامِہِمْ أَنَّ الْحَذَرَ لَا یَدْفَعُ الْقَدَرَ،وَأَنَّ أَحَدًا لَا یَمُوتُ قَبْلَ الْأَجَلِ وَإِذَا جَاء َ الْأَجَلُ لَا یَنْدَفِعُ الْمَوْتُ بِشَیْء ٍ،فَلَا فَائِدَۃَ فِی الْجُبْنِ وَالْخَوْفِ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے اہل اسلام کو جہادکی ترغیب دلائی ہے کہ جہاد سے خوف کھانا، تقدیرنہیں بدل سکتا، وقت مقررہ سے پہلے کوئی فوت نہی ہوسکتاتوجب وقت مقررہ آجائے گاتوکوئی شئی بھی موت روک نہیں سکے گی لھذابزدلی اورخوف کاکوئی فائدہ نہیں ہے۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۹:۳۷۹)

اللہ تعالی حضورتاجدارختم نبوت ْﷺکی حفاظت فرمانے والاہے

أَنْ یَکُونَ الْمُرَادُ حِفْظَ اللَّہِ لِلرَّسُولِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَخْلِیصَہُ مِنْ تِلْکَ الْمَعْرَکَۃِ الْمُخَوِّفَۃِ، فَإِنَّ تِلْکَ الْوَاقِعَۃَ مَا بَقِیَ سَبَبٌ مِنْ أَسْبَابِ الْہَلَاکِ إِلَّا وَقَدْ حَصَلَ فِیہَا،وَلَکِنْ لَمَّا کَانَ اللَّہُ تَعَالَی حَافِظًا وَنَاصِرًا مَا ضَرَّہُ شَیْء ٌ مِنْ ذَلِکَ وَفِیہِ تَنْبِیہٌ عَلَی أَنَّ أَصْحَابَہُ قَصَّرُوا فِی الذَّبِّ عَنْہُ وَالرَّابِعُ:وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّہِ، فَلَیْسَ فِی إِرْجَافِ مَنْ أَرْجَفَ بِمَوْتِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یُحَقِّقُ ذَلِکَ فِیہِ أَوْ یُعِینُ فِی تَقْوِیَۃِ الْکُفْرِ،بَلْ یُبْقِیہِ اللَّہُ إِلَی أَنْ یَظْہَرَ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ أَنْ یَکُونَ الْإِذْنُ ہُوَ التَّخْلِیَۃُ وَالْإِطْلَاقُ وَتَرْکُ الْمَنْعِ بِالْقَہْرِ وَالْإِجْبَارِ،وَبِہِ فُسِّرَ قَوْلُہُ تَعَالَی:وَما ہُمْ بِضارِّینَ بِہِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّہِ(الْبَقَرَۃِ: ۱۰۲)أَیْ بِتَخْلِیَتِہِ فَإِنَّہُ تَعَالَی قَادِرٌ عَلَی الْمَنْعِ مِنْ ذَلِکَ بِالْقَہْرِ،فَیَکُونُ الْمَعْنَی:مَا کَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّہِ بِتَخَلِّی اللَّہِ بَیْنَ الْقَاتِلِ وَالْمَقْتُولِ،وَلَکِنَّہُ تَعَالَی یَحْفَظُ نَبِیَّہُ وَیَجْعَلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ رَصَدًا لِیُتِمَّ عَلَی یَدَیْہِ بَلَاغَ مَا أَرْسَلَہُ بِہِ، وَلَا یُخَلِّی بَیْنَ أَحَدٍ وَبَیْنَ قَتْلِہِ حَتَّی یَنْتَہِیَ إِلَی الْأَجَلِ الَّذِی کَتَبَہُ اللَّہُ لَہُ، فَلَا تَنْکَسِرُوا بَعْدَ ذَلِکَ فِی غَزَوَاتِکُمْ بِأَنْ یُرْجِفَ مُرْجِفٌ أَنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہاں مراد اللہ تعالی کا حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی حفاظت فرماناہے اوراس خوف ناک معرکہ سے چھٹکاراعطاکرناہے ، یہاں ہر ہلاکت کاسبب سامنے آچکاتھالیکن اللہ تعالی حامی وناصرہے ، کسی چیز نے آپ ﷺکوکوئی نقصان نہیں پہنچایا، اس پرتنبیہ ہے کہ آپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے آپ ﷺکے دفاع میں کوتاہی ہوئی ۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے قتل کی افواہ پھیلانے سے کفرکو تقویت اورزمین پراثبات حاصل نہیں ہوسکتابلکہ اللہ تعالی آپ ﷺکو باقی رکھے گایہاں تک کہ تمام ادیان پر آپ ﷺکادین غالب ہوجائے گا۔ یعنی وہ آزادی دیناہے کیونکہ اللہ تعالی قہرکے ذریعے روکنے پر قادرہے ، اب آیت کریمہ کامعنی یہ ہوگاکہ کسی نفس پر موت نہیں آتی مگراللہ تعالی کے اذن سے ، چونکہ اللہ تعالی اس قاتل ومقتول کو چھوڑدیتاہے ، کہاجاتاہے کہ مگراللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی حفاظت فرمائی ، آپ ﷺکے آگے پیچھے ایسی حفاظت بنادی تاکہ آپ ﷺکے ذریعے اللہ تعالی کے پیغام حق کی تکمیل ہوسکے اوراللہ تعالی نے آپ ﷺکے قاتل اورقتل کے درمیان حفاظت فرمائی کہ یہاں تک کہ وہ مقررہ وقت آگیاجو اللہ تعالی نے آپﷺکے لئے لکھاتھااوراس غزوہ کے بعد کسی بھی غزوہ میں تم آپ ﷺکوکبھی زخمی نہیں کرسکوگے کہ تم افواہ پھیلائوکہ محمد(ﷺ) قتل کردیئے گئے۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۹:۳۷۹) حافظ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں وَہَذِہِ الْآیَۃُ فِیہَا تَشْجِیعٌ لِلْجُبَنَاء ِوَتَرْغِیبٌ لَہُمْ فِی الْقِتَالِ،فَإِنَّ الْإِقْدَامَ وَالْإِحْجَامَ لَا یَنْقُصُ مِنَ الْعُمُرِوَلَا یَزِیدُ فِیہِ۔ ترجمہ :یہ آیت کریمہ میں بزدلوں کے لئے بہادری کادرس اورقتال کی ترغیب ہے ، بے شک آگے بڑھ کرلڑنے یاپیچھے ہٹ جانے سے نہ عمرمیں اضافہ ہوتاہے اورنہ ہی کوئی کمی ہوتی ہے ۔ (تفسیر ابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۲:۱۱۳) دریامیں گھوڑے ڈال دیئے عَنْ حَبِیبِ بْنِ صُہْبَانَ قَالَ:قَالَ رَجُلٌ لِلْمُسْلِمِینَ وَہُوَ حُجْرُ ابْنُ عَدِیٍّ:مَا یَمْنَعُکُمْ أَنْ تَعْبُرُوا إِلَی ہَؤُلاء ِ الْعَدُوِّ وَہَذِہِ النُّطْفَۃِ،یَعْنِی:دِجْلہَ وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلا بِإِذْنِ اللَّہِ کِتَاباً مُؤَجَّلا ثُمَّ أَقْحَمَ فَرَسَہُ فِی دِجْلَہَ، فَلَمَّا أَقْحَمَ،أَقْحَمَ، أَقْحَمَ النَّاسُ فَلَمَّا رَآہُمُ الْعَدُوَ،فَقَالُوا:دِیوَانٌ،فَہَرَبُوا. ترجمہ :حضرت سیدناحبیب بن صبہان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ جہاد کے دوران حضرت سیدناحجربن عدی رضی اللہ عنہ اس کے سپہ سالارتھے ،آپ رضی اللہ عنہ نے دریائے دجلہ کے کنارے اپنے لشکرسے فرمایا: تمھیں اس معمولی قطرے کو عبورکرکے دشمن تک پہنچنے سے کس چیز نے روک رکھاہے ؟ پھرانہوںنے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی اوراپناگھوڑادریامیں ڈال دیا، ان کے پیچھے تمام لشکرنے بھی اپنے گھوڑے دریامیں اتاردیئے ، جب دشمنوں نے انہیں اس حال میں دیکھاتوپکاراٹھے کہ دیوہیں اوروہاں سے سارے کافربھاگ کھڑے ہوئے۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس ابن أبی حاتم (۳:۷۷۹)

موت آنی ہی آنی ہے

ہَذَا حَضٌّ عَلَی الْجِہَادِ،وَإِعْلَامٌ أَنَّ الموت لأبد مِنْہُ وَأَنَّ کُلَّ إِنْسَانٍ مَقْتُولٍ أَوْ غَیْرِ مَقْتُولٍ مَیِّتٌ إِذَا بَلَغَ أَجَلَہُ الْمَکْتُوبَ لَہُ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے جہاد کی ترغیب دلائی ہے اوریہ بتایاہے کہ ہرانسان کو موت آنی ہی آنی ہے اوربے شک ہر انسان قتل ہویانہ ہواس کامرناضرورہے اورجب اس کی مدت مقررآجائے گی تو اس کو موت بھی آجائے گی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۲۲۶)

امام آلوسی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں

وَما کانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّہِ استئناف سیق للحض علی الجہاد واللوم علی ترکہ خشیۃ القتل مع قطع عذر المنہزمین خشیۃ ذلک بالکلیۃ ویجوز أن یکون تسلیۃ عما لحق الناس بموت النبی صلّی اللہ علیہ وسلم وإشارۃ إلی أنہ علیہ السلام کغیرہ لا یموت إلا بإذن اللہ تعالی فلا عذر لأحد بترک دینہ بعد موتہ. ترجمہ :امامشہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی المتوفی : ۱۲۷۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ جملہ جہاد کی ترغیب دینے کے لئے لایاگیاہے اوراس میں موت کے ڈرسے جہاد چھوڑنے پر ملامت کی گئی ہے اورموت کے ڈرسے پسپاہونے والوں کے عذرکو بالکل ناقابل قبول قراردیاگیاہے اوریہ بھی ممکن ہے کہ لوگوں پر حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے وصال شریف کاسن کرجو حالت طاری ہوگئی تھی انہیں حوصلہ دلایاجارہاہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺپربھی دوسروں کی طرح اللہ تعالی ہی کے حکم سے وفات شریف آئے گی ۔پس کسی کے لئے جائزنہیں ہے کہ وہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے وصال شریف کو عذربناکردین کو چھوڑدے۔ (روح المعانی:شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی(۲:۲۸۹)

ایک صوفی کادردناک قصہ

سمعت مَنْصُور بْن خلف المغربی یَقُول:کَانَ رجلان اصطحبا فِی الإرادۃ برہۃ من الزَّمَان ثُمَّ إِن أحدہما سافر وفارق صاحبہ وأتی عَلَیْہِ مدۃ من الزَّمَان وَلَمْ یسمع منہ خبرا فبینا ہَذَا الآخر کَانَ فِی غزاۃ یقاتل عسکر الروم إذ خرج عَلَی الْمُسْلِمِینَ رجل مقنع فِی السلاح یطلب المبارزۃ فخرج إِلَیْہِ من أبطال الْمُسْلِمِینَ واحد فقتلہ الرومی ثُمَّ خرج آخر فقتلہ ثُمَّ ثالث فقتلہ فخرج إِلَیْہِ ہَذَا الصوفی وتطاردا فحسر الرومی عَن وجہہ فَإِذَا ہُوَ صاحبہ الَّذِی صحبہ فِی الإرادۃ والعبادۃ سنین فَقَالَ ہَذَا لَہُ:أیش الْخَبَر فَقَالَ:إنہ ارتد وخالط الْقَوْم وولد لَہُ أولاد واجتمع لَہُ مال فَقَالَ لَہُ:وکنت تقرأ الْقُرْآن بقراء ات کثیرۃ فَقَالَ لا أذکر منہ حرفا فَقَالَ لَہُ ہَذَا الصوفی لا تفعل وارجع فَقَالَ لا أفعل فلی فیہم جاہ ومال فانصرف أَنْتَ إلا لأفعلن بک مَا فعلت بأولئک فَقَالَ لَہُ ہَذَا الصوفی:أعلم أنک قتلت ثلاثۃ من الْمُسْلِمِینَ ولیس علیک أنفۃ فِی الانصراف فانصرف أَنْتَ وأنا أمہلک فرجع الرجل مولیا فتبعہ ہَذَا الصوفی وطعنہ فقتلہ فبعد تلک المجاہدات ومقاسات تلک الریاضات قتل عَلَی النَّصْرَانِیَّۃ۔ ترجمہ:امام عبد الکریم بن ہوازن بن عبد الملک القشیری المتوفی :۴۶۵ھ) رحمہ اللہ علیہ دو صوفیوں کا قصہ لکھتے ہیں کہ یہ دونوں ایک عرصے تک اکٹھے احسان و سلوک کی منزلیں طے کرتے رہے پھر ان میں سے ایک غائب ہو گیا اور دوسرا رومیوں کے ساتھ جہاد میں لگ گیا ایک لڑائی کے دوران رومیوں کی طرف سے ایک شخص زرہ اور ہتھیاروں سے لیس ہو کر نکلا اور اس نے مسلمانوں کو مقابلے کی دعوت دی ۔ یکے بعد دیگرے تین مسلمان نکلے مگر اس کے ہاتھوں شہید ہوگئے ۔ تب یہ صوفی بزرگ میدان میں آئے جب مقابلہ شروع ہونے لگا تو رومی نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ اسی صوفی بزرگ کا سابقہ ساتھی نکلا۔ بزرگ نے حیرانی سے پوچھاکہ تم کافروں کی طرف سے لڑ رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں دنیا کی چکر میں پڑ کر دین اسلام کو چھوڑ چکا ہوں اب میرے پاس عورتیں اور مال بے شمار ہے بزرگ نے کہا تم تو کئی قراء توں میں قرآن مجید پڑھا کرتے تھے اس نے کہا مجھے اب ایک حرف بھی یاد نہیں ہے بزرگ نے کہا تم واپس لوٹ جاؤ اس نے کہا نہیں میری رومیوں کے درمیان بڑی عزت ہے میں واپسی کی ذلت برداشت نہیں کرسکتا صوفی بزرگ کسی طرح جنگی حیلے سے اسے واپس موڑنے میں کامیاب ہوئے اور پھر انہوں نے نیزہ مار کر اسے ہلاک کر دیا اوراس کی موت ہی نصرانیت پرواقع ہوئی۔ (الرسالۃ القشیریۃ:عبد الکریم بن ہوازن بن عبد الملک القشیری(۱:۲۵۶)

معارف ومسائل

(۱)سابقہ امتوں میں سے کسی کا قصہ ہے، انہوں نے موت سے بچنے کے لیے کسی ایسے واقعے میں راہ فرار اختیار کی جس میں موت کا اندیشہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مردہ فرماکر پھر زندہ فرما دیا، تاکہ وہ اس حقیقت کو جان سکیں کہ موت و حیات کے تمام فیصلے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، کسی حادثے اورکسی انسانی تدبیر کے ہاتھ میں نہیں۔ یہ امت کون سی تھی ، حادثہ کیاتھا ؟ اس پر قرآن کریم نے روشنی ڈالنے کی کوئی ضرورت محسو س نہیں کی، کیوں کہ اصل مقصدوعظ ونصیحت ہے، جو قوم اور واقعے کے ابہام کے باوجود حاصل ہے۔ معروف یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت تھی، جو مقام طاعون سے یا میدان جہاد سے موت کے خوف سے بھاگی تھی، اللہ تعالیٰ نے بلاسبب ان پر موت طاری کر دی ، حضرت حزقیل علیہ السلام کی دعا کی برکت سے دوبارہ انہیں زندہ فرما دیا۔ جہاد کوموت کا سبب جان کر اس سے جی چرانا حماقت ہے، اس سے اگلی آیت میں قتال فی سبیل اللہ کے لیے ابھارا ہے۔ (۲)جب مجاہد اللہ تعالی کی بندگی اور فرمانبرداری کا حق اداء نہیں کرتا اور اللہ تعالی کے احکام پر عمل نہیں کرتا یا کافروں کی طرح گناہوں میں پڑ جاتا ہے تو اس میں اور اس کے دشمن میں ایک چیز مشترک ہو جاتی ہے اور وہ ہے اللہ تعالی کی نافرمانی چنانچہ کافروں کی طرح اس کے دل میں بھی رعب ، دنیا کی محبت اور رسوائی جیسی بیماریاں داخل ہو جاتی ہیں اور وہ ذلت کی زندگی کو عزت کی موت پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ اللہ تعالی کی نافرمانی جس قدر بڑی ہوگی اس کا اثر بھی اسی قدر بڑا ہوگا اور یہ نافرمانی جس قدر چھوٹی ہو گی اس کا اثر بھی کم ہوگا ۔ کیا آپ نے کبھی حنین کے واقعے پر غور نہیں کیا ۔ اس دن کچھ ( نئے )مسلمانوں کو اپنے کثرت پر فخر اور اللہ تعالی کی نصرت پر نظر نہ کرنے کی وجہ سے ابتدائی طور پر مسلمانوں کو شکست ہوئی ۔ لیکن چونکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺ معصوم ہیں اور کئی ایمان والے بھی فخر سے محفوظ رہے تو اللہ تعالی نے انہیں فرار سے بچایا اور وہ ڈٹے رہے اور بالآخر فتح انہیں کی ہوئی اور دشمن کو شکست فاش ہوئی ۔ (۳)اگر تجھے زیادہ عرصہ رہنے کی حرص ہے تو یاد رکھ میدان جہاد سے بھاگنا تیری زندگی میں اضافہ نہیں کرسکتا اور ڈٹ کر لڑنے سے تو اپنے وقت سے پہلے نہیں مر سکتا ۔ آج اگر تو میدان سے بھاگ رہا ہے تو غور کر کہ تو نے کیا پایا ہے اور کیا کھویا ہے ؟ تیرا رب تجھ سے ناراض ہوا مسلمانوں اور کافروں سب کے سامنے ذلیل ہوا ۔ اور تیری زندگی بھی نہیں بڑھی ۔ بلکہ آج تو عزت کی موت سے بھاگ کر ذلت کی موت کے گڑھے کی طرف دوڑ رہا ہے ۔ حالانکہ بہادروں کا شیوہ تو یہ ہے کہ : (۱ )… جب مرے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔ تو پھر بزدلی کی ذلت والی موت کیوں مریں ۔ (۲ ) …بادشاہوں کی طرح زندگی گزارو ۔ یا عزت کے ساتھ مرو لیکن مرتے وقت تمھاری کھلی تلوار تمھارے ہاتھ میں ہونی چاہئے ۔ (۳ )… ہمارے گھوڑوں کا پچھلا حصہ نیزوں پر حرام ہے اور ان کی گردنوں اور سینوں سے لہو ٹپکتا ہے اور بھاگتے ہوئے کی پیٹھ پر وار کرنا ہمارے نیزوں کے لئے حرام ہے ۔ یہ تو صرف سینوں کا شکار کرتے ہیں ۔ (۴ )…تلواروں سے قتل ہونا کوئی نقص کی بات نہیں ۔ اگر یہ عزت اور فخر سے خالی نہ ہو۔ (۵)…ہم وہ لوگ ہیں جو ایسی موت کو گالی نہیں سمجھتے ۔ جو تلواروں اور عمدہ نیزوں کے درمیان آتی ہے ۔ (۶ ) …کسی کو موت ناپسند ہے تو ہوتی رہے ۔ میرے لئے تو موت شہد سے زیادہ لذیذ اور پسندیدہ ہے ۔ (۷)…گھمسان کی لڑائیوں میں آگے بڑھنے سے موت جلد نہیں آجاتی۔ اور نہ میدان سے بھاگنا موت سے بچا سکتا ہے ۔ (۸ )… بزدلی عار اور آگے بڑھنا عزت و کرامت ہے۔ اور بھاگنے والے موت سے بچ نہیں سکتے۔ (۹ )…جنگ جب آجائے تو وہ تمھاری بزدلی نہ دیکھے ۔ اس میں ڈٹ کر لڑو کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے ۔ (۱۰ ) …جب بدن موت کے لئے پیدا ہوئے ہیں ۔ تو پھر اللہ کے راستے میں تلوار سے مارا جانا ہی زیادہ اچھا ہے ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh