Fatwa #2246
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۷۲۔ اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْ بَعْدِ مَآ اَصَابَہُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْہُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,086
سوال (Question):
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۷۲۔ اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْ بَعْدِ مَآ اَصَابَہُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْہُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
غزوہ حمراء الاسد
{اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْ بَعْدِ مَآ اَصَابَہُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْہُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌ }(۱۷۲) ترجمہ کنزالایمان:وہ جو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ اُنہیں زخم پہنچ چکا تھا ان کے نیکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے بڑا ثواب ہے ۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اوروہ لوگ جو اللہ تعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺکے بلانے پرحاضرہوئے بعد اس کے کہ ان کو زخم پہنچ چکے تھے ، ان کے نیکوکاروں اورمتقی لوگوں کے لئے اللہ تعالی کے ہاں بہت بڑااجرہے ۔اس آیت کریمہ سے مراد غزوہ حمراء الاسدہے
اِعْلَمْ أَنَّ اللَّہَ تَعَالَی مَدَحَ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی غَزْوَتَیْنِ، تُعْرَفُ إِحْدَاہُمَا بِغَزْوَۃِ حَمْرَاء ِ الْأَسَدِ،وَالثَّانِیَۃُ بِغَزْوَۃِ بَدْرٍ الصُّغْرَی، وَکِلَاہُمَا مُتَّصِلَۃٌ بِغَزْوَۃِ أُحُدٍ، أَمَّا غَزْوَۃُ حَمْرَاء ِ الْأَسَدِ فَہِیَ الْمُرَادُ مِنْ ہَذِہِ الْآیَۃِ ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اہل ایمان کی دوغزوات میں تعریف فرمائی ، ان میں سے ایک غزوہ ’’غزوہ حمراء الاسد‘‘ہے جبکہ دوسراغزوہ ’’غزوہ بدرالصغری‘‘ہے اوریہ دونوں غزوات غزوہ احدکے ساتھ متصل ہیں ، اس آیت کریمہ سے مراد ’’غزوہ حمراء الاسد‘‘ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۹:۴۳۱)دوسرے دن پھرجہاد کرنے کے لئے روانہ ہوگئے
وَذَلِکَ أَنَّہُ لَمَّا کَانَ فِی یَوْمِ الْأَحَدِ، وَہُوَ الثَّانِی مِنْ یَوْمِ أُحُدٍ،نَادَی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی النَّاسِ بِاتِّبَاعِ الْمُشْرِکِینَ،وَقَالَ:(لَا یَخْرُجُ مَعَنَا إِلَّا مَنْ شَہِدَہَا بِالْأَمْسِ)فَنَہَضَ مَعَہُ مِائَتَا رَجُلٍ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ فِی الْبُخَارِیِّ فَقَالَ:(مَنْ یَذْہَبُ فِی إِثْرِہِمْ) فَانْتَدَبَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ رَجُلًاقَالَ:کَانَ فِیہِمْ أَبُو بَکْرٍ وَالزُّبَیْرُ عَلَی مَا تَقَدَّمَ، حَتَّی بَلَغَ حَمْرَاء َ الْأَسَدِ، مُرْہِبًا لِلْعَدُوِّ، فَرُبَّمَا کَانَ فِیہِمُ الْمُثْقَلُ بِالْجِرَاحِ لَا یَسْتَطِیعُ الْمَشْیَ وَلَا یَجِدُ مَرْکُوبًا،فَرُبَّمَا یُحْمَلُ عَلَی الْأَعْنَاقِ،وَکُلُّ ذَلِکَ امْتِثَالٌ لِأَمْرِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَغْبَۃٌ فِی الْجِہَادِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہوایوں کہ جب اتوارکادن تھااوریہ غزوہ احد کادوسرادن تھا۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے لوگوں میں مشرکین کاپیچھاکرنے کااعلان کیا، اب فرمایا: ہمارے ساتھ صرف وہی نکلے گاجو غزوہ احدمیں شریک تھا، توآپ ﷺکے ساتھ مومنین میں سے دوسوآدمی اٹھے ۔ بخاری شریف میں ہے کہ آپﷺنے فرمایا: کون ان کے پیچھے جائے گا؟ توان میں سے سترآدمی تیارہوئے ، فرمایاکہ ان میں حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اورحضر ت سیدنازبیررضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ، جیساکہ پہلے گزرچکاہے ، یہاں تک کہ آپ ﷺحمراء الاسد پہنچے دشمن کو ڈرانے اورخوف زدہ کرنے کے لئے ،ان میں ایسابھی تھاکہ جوزخم لگنے کے سبب شدیدتکلیف میں تھا، وہ چلنے کی بھی استطاعت نہیں رکھتاتھااوروہ کوئی سواری بھی نہیں پاتاتھااورکبھی گھوڑے پرسوارہوتاتھااوریہ تمام کے تمام حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے حکم شریف کی پیروی اورجہاد کی رغبت میں تھے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۲۷۷)جذبہ جانثاری کے صدقے
إِنَّ الْآیَۃَ نَزَلَتْ فِی رَجُلَیْنِ مِنْ بَنِی عَبْدِ الْأَشْہَلِ کَانَا مُثْخَنَیْنِ بِالْجِرَاحِ، یَتَوَکَّأُ أَحَدُہُمَا عَلَی صَاحِبِہِ، وَخَرَجَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ترجمہ :اوریہ بھی بیان کیاگیاہے کہ یہ آیت کریمہ عبدالاشہل کے دوآدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ، جن کو احدمیں شدیدزخم آئے تھے اوران کے جسموں سے خون بہہ رہاتھاجس کی وجہ سے وہ انتہائی نحیف تھے اوران میں سے ہر ایک اپنے دوسرے ساتھی پرٹیک اورسہارالیئے ہوئے چل رہاتھااوریہ دونوں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ساتھ جہاد کے لئے روانہ ہوئے۔ ( تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۲۷۷)غزوہ حمراء الاسدکامختصرتعارف
حضور تاجدارختم نبوتﷺ اور مجاہدین اسلام کو جنگ احد کے بعد ہتھیار اتارے ابھی ایک دن بھی نہ گزرا تھا کہ غزوہ حمراء الاسد پیش آگیا۔ جب کفار مکہ میدان احد سے باہر نکلے تھے تو حضور تاجدارختم نبوتﷺنے حضرت سیدنامولا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو ان کا تعاقب کرنے کا حکم دیا تاکہ یہ یقین کر لیا جائے کہ وہ واقعی مکہ معظمہ واپس جا رہے ہیں یا دوبارہ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں حضرت سیدنامولا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے کافی دور تک ان کا تعاقب کیا اور واپس آکر خبر دی کہ کفار نے مکہ کا ہی رخ کیا ہوا۔ لہذا اب خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔ لیکن شیطان نے ان کو ورغلایا کہ مسلمانوں کی اہم ہستیاں ابھی زندہ ہیں اور یہ لوگ دوبارہ مسلمانوں کو منظم کرکے مزید طاقتور لشکر لے کر دوبارہ مکہ پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس وقت مسلمان زخموں سے نڈھال ہیں ابھی ان میں لڑنے کی سکت نہیں ہے لہذا دو بارہ ان پر حملہ کر دینا چاہیے اس قسم کے بیہودہ خیالات نے انہیں دوبارہ حملہ کرنے پر آمادہ کیا لہذا دوسرے روز وہ مکہ کی جانب جانے کی بجائے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے۔حضور تاجدارختم نبوتﷺکو اطلاع ملی تو آپ ﷺنے مسلمانوں کو فوری تیاری کا حکم دیا اور اعلان فرمایا کہ اس لشکرمیں صرف وہی مجاہدین شامل ہوں گے جو کل غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے ۔جنگ احد کے اگلے دن مجاہدین نے دوبارہ اسلحہ اٹھایا اور جنگ کے لیے تیار ہو گئے ان میں اکثر مجاہدین زخمی تھے، کسی کے جسم پر ستر زخم تھے تو کسی کے جسم پر اسی زخم تھے لیکن حضور تاجدارختم نبوتﷺکے اشارے پرزخموں سے چور یہ لشکر دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہو گیا۔ حضرت سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ہتھیار لگائے بارگاہ رسالت ﷺمیں پیش ہوئے اور عرض کرنے لگے :یا رسول اللہﷺ!میں جنگ احد میں اس لیے شریک نہ ہو سکا کہ میرے والد صاحب نے مجھے کہا تھا کہ تم ابھی کم عمر ہو اور گھر میں تیری سات بہنیں ہیں تم ان کے پاس گھرمیں رہو جہاد کے لیے میں جاتا ہوں چنانچہ میرے والد جنگ احد میں شہید ہو گئے اور اب آپﷺ مجھے اس غزوہ میں شرکت کی اجازت عنایت فرمائیں حضور تاجدارختم نبوتﷺنے حضرت سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی۔حضرت سیدنا جابررضی اللہ عنہ کے سوا اس لشکر میں شریک تمام مجاہدین وہی تھے جو جنگ احد میں شریک ہوئے تھے۔ حمراء الاسد مدینہ منورہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر ایک بستی ہے جب لشکر اسلام یہاں پہنچا تو حضور تاجدارختم نبوتﷺنے یہاں خیمہ زن ہو نے کا حکم صادر فرمایا۔ اسی مقام پر قبیلہ بنو خزاعہ کا ایک رئیس شخص معبد نامی بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوا۔ معبد مسلمان ہونے کے بعد مکہ کی طرف جاتے ہوئے الروحاء کے مقام پر ابو سفیان سے ملا۔ ابوسفیان کو بتایا کہ مسلمان ایک لشکر جرار لے کر نہایت جوش و جذبہ اور غصہ کی حالت میں تمہارے پیچھے دوڑے آ رہے ہیں۔ جو مسلمان غزوہ احد میں شریک نہ ہو سکے تھے وہ سب اس لشکر میں شامل تھے۔ اس لیے تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ تم واپس مکہ چلے جاؤ ورنہ سخت نقصان اٹھاؤ گے۔ ابوسفیان نے اپنے لشکر کو حالات سے باخبر کیا اور وہ سب مکہ کی طرف روانہ ہو گئے آپﷺ کئی روز حمراء الاسد میں ٹھہرے رہے اور کفار کے لشکر کا انتظار کرتے رہے۔ چند روز وہاں قیام کرنے کے بعد آپﷺ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے اور فتح وکامرانی کا پرچم لہراتے ہوئے واپس مدینہ طیبہ تشریف لے آئے
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9