صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2248 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۷۹۔ مَا کَانَ اللہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,351

سوال (Question):

تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۷۹۔ مَا کَانَ اللہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اللہ تعالی ناموس رسالت کے پہرے داروں اورگستاخوں کو ایک جگہ نہیں رہنے دے گا

{مَا کَانَ اللہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَمَا کَانَ اللہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰکِنَّ اللہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآء ُ فَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَلَکُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ ۱۷۹} ترجمہ کنزالایمان:اللہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑنے کا نہیں جس پر تم ہو جب تک جدا نہ کردے گندے کو ستھرے سے اور اللہ کی شان یہ نہیں اے عام لوگو تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چُن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اللہ تعالی کی یہ شان نہیں کہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑے جس پرتم ہو، جب تک وہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کردے اور (اے عام لوگو!اللہ تعالی تمہیں غیب پر مطلع نہیں کرتا البتہ اللہ تعالی اپنے رسولوں کو مُنتخب فرمالیتا ہے جنہیں پسند فرماتا ہے تو تم اللہ تعالی اور اس کے رسولوں پرایمان لاؤ اور اگر تم ایمان لاؤ اور متقی بن جائو تو تمہارے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ شان نزول قَالَ الْکَلْبِیُّ:إِنَّ قُرَیْشًا مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ قَالُوا لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:الرَّجُلُ مِنَّا تَزْعُمُ أَنَّہُ فِی النَّارِ، وَأَنَّہُ إِذَا تَرَکَ دِینَنَا وَاتَّبَعَ دِینَکَ قُلْتَ ہُوَ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ! فَأَخْبِرْنَا عَنْ ہَذَا مِنْ أَیْنَ ہُوَ؟ وَأَخْبِرْنَا مَنْ یَأْتِیکَ مِنَّا؟ وَمَنْ لَمْ یَأْتِکَ؟فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ مَا کانَ اللَّہُ لِیَذَرَالْمُؤْمِنِینَ عَلی مَا أَنْتُمْ عَلَیْہِ مِنَ الْکُفْرِ وَالنِّفَاقِ حَتَّی یَمِیزَ الْخَبِیثَ مِنَ الطَّیِّبِ۔ ترجمہ:امام الکلبی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اہل مکہ میں سے قریش نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے کہا: ہم میں سے ایک آدمی کے بارے میں آپ ْﷺیہ گمان کرتے ہیں کہ وہ جہنم کی آگ میں ہے اوریہ کہ جب اس نے ہمارادین ترک کردیااورتمھارے دین کی اتباع اورپیروی کرلی توتم نے کہاکہ یہ اہل جنت میں سے ہے ، پس اس کے بارے میں ہمیں بتلایئے کہ یہ کیسے ہوگیا؟ اوراس کی بھی خبردیں کہ ہم میں سے کون تمھارے پاس آئے گا؟ اورکون تمھارے پاس نہیں آئے گا؟ تب اللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ{مَا کانَ اللَّہُ لِیَذَرَالْمُؤْمِنِینَ عَلی مَا أَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتَّی یَمِیزَ الْخَبِیثَ مِنَ الطَّیِّبِ} نازل فرمائی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۲۸۸) اللہ تعالی گستاخوں اورناموس رسالت کے پہرے داروں کو ایک جگہ نہیں رہنے دے گا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالضَّحَّاکُ وَمُقَاتِلٌ وَالْکَلْبِیُّ وَأَکْثَرُ الْمُفَسِّرِینَ:الْخِطَابُ لِلْکُفَّارِ وَالْمُنَافِقِینَ أَیْ مَا کَانَ اللَّہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی مَا أَنْتُمْ عَلَیْہِ مِنَ الْکُفْرِ وَالنِّفَاقِ وَعَدَاوَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمااورحضرت سیدناالضحاک رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدنامقاتل ، اورکلبی اوراکثرمفسرین رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں خطاب کفاراورمنافقین کو ہے یعنی اللہ تعالی کی شان نہیں ہے کہ وہ مومنین کو اس حال پرچھوڑے رکھے جس حال پرکفرونفاق اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی دشمنی میں سے تم اب ہو۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۲۸۸)

مومن حکم کاپابندہوتاہے اورمنافق حکم آتے ہی ایمان ترک کردیتاہے

وَقِیلَ:الْخِطَابُ لِلْمُؤْمِنِینَ أَیْ وَمَا کَانَ اللَّہُ لِیَذَرَکُمْ یَا مَعْشَرَ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی مَا أَنْتُمْ عَلَیْہِ مِنَ اخْتِلَاطِ الْمُؤْمِنِ بِالْمُنَافِقِ،حَتَّی یُمَیِّزَ بَیْنَکُمْ بِالْمِحْنَۃِ وَالتَّکْلِیفِ،فَتَعْرِفُوا الْمُنَافِقَ الْخَبِیثَ،وَالْمُؤْمِنَ الطَّیِّبَ وَقَدْ مَیَّزَ یَوْمُ أُحُدٍ بَیْنَ الْفَرِیقَیْنِ وَہَذَا قَوْلُ أَکْثَرِ أَہْلِ الْمَعَانِی. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ خطاب مومنین کو ہے یعنی اللہ تعالی کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ تمھیں چھوڑ دے اے گروہ مومنین ! اس حال پرجس پرتم اب ہو،کہ مومن اورمنافق باہم ملے جلے ہیں یہاںتک کہ وہ تمھارے درمیان آزمائش اوراحکام کاپابندبناکرتفریق ڈال دے کہ تم پلیدمنافق اورپاک مومن کو پہنچان لواوراللہ تعالی نے ان دونوں فریقوں کو احد شریف کے دن الگ الگ کردیا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۲۸۸)

مومن اورمنافق کافرق جہاد سے ہی ہوتاہے

اعْلَمْ أَنَّ ہَذِہِ الْآیَۃَ مِنْ بَقِیَّۃِ الْکَلَامِ فِی قِصَّۃِ أُحُدٍ،فَأَخْبَرَ تَعَالَی أَنَّ الْأَحْوَالَ الَّتِی وَقَعَتْ فِی تِلْکَ الْحَادِثَۃِ مِنَ الْقَتْلِ وَالْہَزِیمَۃِ،ثُمَّ دُعَاء ِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِیَّاہُمْ مَعَ مَا کَانَ بِہِمْ مِنَ الْجِرَاحَاتِ إِلَی الْخُرُوجِ لِطَلَبِ الْعَدُوِّ،ثُمَّ دُعَائِہِ إِیَّاہُمْ مَرَّۃً أُخْرَی إِلَی بَدْرٍ الصُّغْرَی لِمَوْعِدِ أَبِی سُفْیَانَ،فَأَخْبَرَ تَعَالَی أَنَّ کُلَّ ہَذِہِ الْأَحْوَالِ صَارَ دَلِیلًا عَلَی امْتِیَازِ الْمُؤْمِنِ مِنَ الْمُنَافِقِ، ِأَنَّ الْمُنَافِقِینَ خَافُوا وَرَجَعُوا وَشَمَتُوا بِکَثْرَۃِ الْقَتْلَی مِنْکُمْ،ثُمَّ ثَبَّطُوا وَزَہَّدُوا الْمُؤْمِنِینَ عَنِ الْعَوْدِ إِلَی الْجِہَادِ،فَأَخْبَرَ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی أَنَّہُ لَا یَجُوزُ فِی حِکْمَتِہِ أَنْ یَذَرَکُمْ عَلَی مَا أَنْتُمْ عَلَیْہِ مِنَ اخْتِلَاطِ الْمُنَافِقِینَ بِکُمْ وَإِظْہَارِہِمْ أَنَّہُمْ مِنْکُمْ وَمِنْ أَہْلِ الْإِیمَانِ بَلْ کَانَ یَجِبُ فِی حِکْمَتِہِ إِلْقَاء ُ ہَذِہِ الْحَوَادِثِ وَالْوَقَائِعِ حَتَّی یَحْصُلَ ہَذَا الِامْتِیَازُ، فَہَذَا وَجْہُ النَّظْمِ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ واقعہ احد کے بارے میں بقیہ گفتگوہے کہ اللہ تعالی نے اطلاع دی کہ اس حادثہ میں قتل وشکست جیسے احوال وقوع پذیرہوئے توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دشمن کی طلب میں زخموں کی حالت میں نکلنے کاحکم دیا، پھرانہیں ابوسفیان سے مقررہ جگہ کے لئے دوسری دفعہ بدرصغری میں جانے کی دعوت دی تواللہ تعالی اس آیت کریمہ میں بتارہاہے کہ ان تمام احوال میں مومنین کے منافقین سے امتیازپردلیل ہے کیونکہ منافقین ڈرکی وجہ سے لوٹ گئے اورتم میں سے کثرت شہداء کو منحوس جاننے لگے ،پھراہل ایمان کو جہاد کی طرف جانے سے منع کرنے لگے تواللہ تعالی نے واضح فرمایاکہ اس کی حکمت میں یہ جائز نہیں کہ وہ تمھیں منافقین کے ساتھ ملاجلاچھوڑ دے اوران کے اس اظہارکوچھوڑدے کہ وہ تم میں سے اوراہل ایمان سے ہیںبلکہ اس کی حکمت میں یہ لازم ہے کہ وہ ایسے حوادثات اورواقع میں ڈالے تاکہ واضح طورپرامتیازحاصل ہوجائے۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۹:۴۴۱)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh