Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #208 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10K Views

بیوہ عورت عدت کہاں گزارے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری دارالعلوم علیمیہ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بیوہ عورت عدت کہاں گزارے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری دارالعلوم علیمیہ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بیوہ عورت عدت کہاں گزارے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ استاذ گرامی حضور مفتی محمد نظام الدین صاحب قبلہ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ ایک خاتون اپنی بیٹی کے ساتھ شہر میں رہتی تھیں وہ اپنی ساس کے انتقال پر اپنے سسرال آئی ہوئی تھی. اللہ کی مرضی کچھ ایسی کی اسی دوران ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا. ان کے شوہر بھی اپنی امی کے انتقال پر گھر آئے ہوئے تھے ورنہ وہ روزی روٹی کے سلسلے میں گھر سے باہر ہی رہتے ہیں اور ان کی بیوی اور بیٹی شہر میں رہتی تھیں.

ان کی بیٹی کا امتحان ہے اب اسے شہر جانا ہے اور وہاں رہ کر دو مہینے تقریباً امتحان دینا ہے، اس کے ساتھ جانے کے لیے کوئی محرم بھی نہیں ہے تو کیا وہ اپنی والدہ کے ساتھ سفر کر سکتی ہیں جو کہ ابھی عدت میں ہیں. تین گھنٹے کا سفر ہے جو کہ اپنی پرسنل گاڑی سے کرنا ہے.

اس بارے میں تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی_

محمد اظہر علیمی


الجواب:

شوہر کے انتقال کے بعد عورت کو اسی گھر میں عدت گزارنے کا حکم ہے کہ شوہر کے انتقال کے وقت جس گھر میں بطورِ سکونت رہ رہی تھی، خواہ وہ شوہر کا ذاتی گھر ہو یا کرایہ پر ہو۔اس لیے شوہو نے بیوی کی رہائش کا انتظام جس شہر میں رکھا ہو،انتقال کے بعد بیوی کو جلد از جلد اس شہر واپس جاکر اپنی سکونت والے گھر میں عدت گزارنے کا حکم ہے۔ اب اگر جہاں اس وقت عورت ہے اس جگہ اور رہائش والے شہر کے درمیان سفر شرعی کی مسافت یعنی بانوے کلو میٹر کی دوری ہے تو اس کے ہمراہ کسی محرم کا ہونا ضروری ہے ورنہ نہیں۔

اس لیے صورتِ مسئولہ میں اس عورت کی عدت گزارنے کا مقام اس کی سسرال نہیں ، بلکہ شہر کا رہائشی گھر ہے، کیوں کہ سائل کے بیان کے مطابق اس کی رہائش شہر میں تھی۔

مدقق علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں:

“(طَلُقَتْ) أَوْ مَاتَ وَهِيَ زَائِرَةٌ (فِي غَيْرِ مَسْكَنِهَا عَادَتْ إلَيْهِ فَوْرًا) لِوُجُوبِهِ عَلَيْهَا” (در مختار مع شامی ج۵ ص٢٢۵ )

علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:

“(قَوْلُهُ: فِي بَيْتٍ وَجَبَتْ فِيهِ) هُوَ مَا يُضَافُ إلَيْهِمَا بِالسُّكْنَى قَبْلَ الْفُرْقَةِ وَلَوْ غَيْرَ بَيْتِ الزَّوْجِ كَمَا مَرَّ آنِفًا، وَشَمِلَ بُيُوتَ الْأَخْبِيَةِ كَمَا فِي الشُّرُنْبُلَالِيَّةِ” (رد المحتار ج ۵ص٢٢۵)

صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:

“موت یا فرقت کے وقت جس مکان میں عورت کی سکونت تھی اُسی مکان میں عدت پوری کرے اور یہ جو کہا گیاہے کہ گھر سے باہر نہیں جاسکتی اس سے مراد یہی گھر ہے . اور اس گھر کو چھوڑکر دوسرے مکان میں بھی سکونت نہیں کرسکتی مگر بضرورت اور ضرورت کی صورتیں ہم آگے لکھیں گے ۔ آج کل معمولی باتوں کو جس کی کچھ حاجت نہ ہو محض طبیعت کی خواہش کو ضرورت بولا کرتے ہیں وہ یہاں مراد نہیں ۔ بلکہ ضرورت وہ ہے کہ اُس کے بغیر چارہ نہ ہو۔” (بہارِ شریعت ح ٨ص ٢۴٧)

نیز تحریر فرماتے ہیں:

” عورت اپنے میکے گئی تھی ، یا کسی کام کے لیے کہیں اور گئی اُس وقت شوہر نے طلاق دی یا مر گیا، تو فوراً بلا توقف وہاں سے واپس آئے”(بہارِ شریعت ح ٨ ص٢۴٧)

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔

کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔

١٨/ذو القعدہ ١۴۴٢ھ//٣٠/جون٢٠٢١ء

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">بیوہ عورت عدت کہاں گزارے؟</h2> <p style="direction: rtl;">السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ استاذ گرامی حضور مفتی محمد نظام الدین صاحب قبلہ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ ایک خاتون اپنی بیٹی کے ساتھ شہر میں رہتی تھیں وہ اپنی ساس کے انتقال پر اپنے سسرال آئی ہوئی تھی. اللہ کی مرضی کچھ ایسی کی اسی دوران ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا. ان کے شوہر بھی اپنی امی کے انتقال پر گھر آئے ہوئے تھے ورنہ وہ روزی روٹی کے سلسلے میں گھر سے باہر ہی رہتے ہیں اور ان کی بیوی اور بیٹی شہر میں رہتی تھیں.</p> <p style="direction: rtl;">ان کی بیٹی کا امتحان ہے اب اسے شہر جانا ہے اور وہاں رہ کر دو مہینے تقریباً امتحان دینا ہے، اس کے ساتھ جانے کے لیے کوئی محرم بھی نہیں ہے تو کیا وہ اپنی والدہ کے ساتھ سفر کر سکتی ہیں جو کہ ابھی عدت میں ہیں. تین گھنٹے کا سفر ہے جو کہ اپنی پرسنل گاڑی سے کرنا ہے.</p> <p style="direction: rtl;">اس بارے میں تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی_</p> <h4 style="direction: rtl;"><strong>محمد اظہر علیمی</strong></h4> <hr /> <h2 style="direction: rtl;">الجواب:</h2> <p style="direction: rtl;">شوہر کے انتقال کے بعد عورت کو اسی گھر میں عدت گزارنے کا حکم ہے کہ شوہر کے انتقال کے وقت جس گھر میں بطورِ سکونت رہ رہی تھی، خواہ وہ شوہر کا ذاتی گھر ہو یا کرایہ پر ہو۔اس لیے شوہو نے بیوی کی رہائش کا انتظام جس شہر میں رکھا ہو،انتقال کے بعد بیوی کو جلد از جلد اس شہر واپس جاکر اپنی سکونت والے گھر میں عدت گزارنے کا حکم ہے۔ اب اگر جہاں اس وقت عورت ہے اس جگہ اور رہائش والے شہر کے درمیان سفر شرعی کی مسافت یعنی بانوے کلو میٹر کی دوری ہے تو اس کے ہمراہ کسی محرم کا ہونا ضروری ہے ورنہ نہیں۔</p> <p style="direction: rtl;">اس لیے صورتِ مسئولہ میں اس عورت کی عدت گزارنے کا مقام اس کی سسرال نہیں ، بلکہ شہر کا رہائشی گھر ہے، کیوں کہ سائل کے بیان کے مطابق اس کی رہائش شہر میں تھی۔</p> <p style="direction: rtl;">مدقق علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں:</p> <p style="direction: rtl;">"(طَلُقَتْ) أَوْ مَاتَ وَهِيَ زَائِرَةٌ (فِي غَيْرِ مَسْكَنِهَا عَادَتْ إلَيْهِ فَوْرًا) لِوُجُوبِهِ عَلَيْهَا" <strong><span style="color: #0000ff;">(در مختار مع شامی ج۵ ص٢٢۵ )</span></strong></p> <p style="direction: rtl;">علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:</p> <p style="direction: rtl;">"(قَوْلُهُ: فِي بَيْتٍ وَجَبَتْ فِيهِ) هُوَ مَا يُضَافُ إلَيْهِمَا بِالسُّكْنَى قَبْلَ الْفُرْقَةِ وَلَوْ غَيْرَ بَيْتِ الزَّوْجِ كَمَا مَرَّ آنِفًا، وَشَمِلَ بُيُوتَ الْأَخْبِيَةِ كَمَا فِي الشُّرُنْبُلَالِيَّةِ" (رد المحتار ج ۵ص٢٢۵)</p> <p style="direction: rtl;">صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:</p> <p style="direction: rtl;">"موت یا فرقت کے وقت جس مکان میں عورت کی سکونت تھی اُسی مکان میں عدت پوری کرے اور یہ جو کہا گیاہے کہ گھر سے باہر نہیں جاسکتی اس سے مراد یہی گھر ہے . اور اس گھر کو چھوڑکر دوسرے مکان میں بھی سکونت نہیں کرسکتی مگر بضرورت اور ضرورت کی صورتیں ہم آگے لکھیں گے ۔ آج کل معمولی باتوں کو جس کی کچھ حاجت نہ ہو محض طبیعت کی خواہش کو ضرورت بولا کرتے ہیں وہ یہاں مراد نہیں ۔ بلکہ ضرورت وہ ہے کہ اُس کے بغیر چارہ نہ ہو۔"<strong><span style="color: #0000ff;"> (بہارِ شریعت ح ٨ص ٢۴٧)</span></strong></p> <p style="direction: rtl;">نیز تحریر فرماتے ہیں:</p> <p style="direction: rtl;">" عورت اپنے میکے گئی تھی ، یا کسی کام کے لیے کہیں اور گئی اُس وقت شوہر نے طلاق دی یا مر گیا، تو فوراً بلا توقف وہاں سے واپس آئے"<strong><span style="color: #0000ff;">(بہارِ شریعت ح ٨ ص٢۴٧)</span></strong></p> <p style="direction: rtl;">واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔</p> <h3 style="direction: rtl;"><span style="color: #0000ff;">کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</span></h3> <h3 style="direction: rtl;"><span style="color: #0000ff;">١٨/ذو القعدہ ١۴۴٢ھ//٣٠/جون٢٠٢١ء</span></h3>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...