Fatwa #2257
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۲۰۰۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,305
سوال (Question):
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۲۰۰۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اسلام کے دفاع کے لئے گھوڑے تیار رکھو
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ }(۲۰۰) ترجمہ کنزالایمان : اے ایمان والو صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہواس امید پر کہ کامیاب ہو ۔ ترجمہ ضیاء الایمان : اے ایمان والوں صبرکرواورصبرمیں دشمنوں سے آگے رہواورسرحداسلامی ملک کی نگہبانی کرواوراللہ تعالی سے ڈرتے رہواس امیدپرکہ کامیاب ہوجائو۔ دین دشمنوں کے شبہات کے جوابات دینابھی اس آیت کے تحت داخل ہے أَمَّا الصَّبْرُ فَیَنْدَرِجُ تَحْتَہُ أَنْوَاعٌ:أَوَّلُہَا:أَنْ یَصْبِرَ عَلَی مَشَقَّۃِ النَّظَرِ وَالِاسْتِدْلَالِ فِی مَعْرِفَۃِ التَّوْحِیدِ وَالْعَدْلِ وَالنُّبُوَّۃِ وَالْمَعَادِ،وَعَلَی مَشَقَّۃِ اسْتِنْبَاطِ الْجَوَابِ عَنْ شُبُہَاتِ الْمُخَالِفِینَ وَثَانِیہَا:أَنْ یَصْبِرَ عَلَی مَشَقَّۃِ أَدَاء ِ الْوَاجِبَاتِ وَالْمَنْدُوبَاتِ وَثَالِثُہَا:أَنْ یَصْبِرَ عَلَی مَشَقَّۃِ الِاحْتِرَازِعَنِ الْمَنْہِیَّاتِ وَرَابِعُہَا:الصَّبْرُ عَلَی شَدَائِدِ الدُّنْیَا وَآفَاتِہَا مِنَ الْمَرَضِ وَالْفَقْرِ وَالْقَحْطِ وَالْخَوْفِ، فَقَوْلُہُ:اصْبِرُوا یَدْخُلُ تَحْتَہُ ہَذِہِ الْأَقْسَامُ، وَتَحْتَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْ ہَذِہِ الْأَقْسَامِ الثَّلَاثَۃِ أَنْوَاعٌ لَا نِہَایَۃَ لَہَا۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ صبرکے تحت یہ انواع داخل ہیں ۔ پہلی نوع : معرفت توحید ، نبوت ، عدل اورآخرت میں نظرواستدلال کی مشقت پر اورمخالفین کے شبہات کے جوابات کی تلاش میں پیش آنے والی مشقت پرصبرکرنا۔ دوسری نوع : واجبات اورمستحبات کی ادائیگی کے لئے مشقت پر صبرکرنا۔ تیسری نوع : ممنوعات سے احتراز کی مشقت پر صبرکرنا۔ چوتھی نوع : دنیاکی تکالیف اوراس کی آفات مثلاً مرض ،محتاجی ، قحط اورخوف پر صبرکرنا۔ تواللہ تعالی کے اس فرمان شریف کے تحت یہ تمام اقسام داخل ہیں ۔ اوران اقسام کے تحت غیرمتناہی انواع داخل ہیں ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۹:۴۷۴)امربالمعروف ونہی عن المنکراورجہاد بھی اس آیت کریمہ کے تحت داخل ہے
وَیَدْخُلُ فِیہِ الْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ،فَإِنَّ الْمُقْدِمَ عَلَیْہِ رُبَّمَا وَصَلَ إِلَیْہِ بِسَبَبِہِ ضَرَرٌ، وَیَدْخُلُ فِیہِ الْجِہَادُ فَإِنَّہُ تَعْرِیضُ النَّفْسِ لِلْہَلَاکِ،وَیَدْخُلُ فِیہِ الْمُصَابَرَۃُ مَعَ الْمُبْطِلِینَ،وَحَلُّ شُکُوکِہِمْ وَالْجَوَابُ عَنْ شُبَہِہِمْ،وَالِاحْتِیَالُ فِی إِزَالَۃِ تِلْکَ الْأَبَاطِیلِ عَنْ قُلُوبِہِمْ،فَثَبَتَ أَنَّ قَوْلَہُ اصْبِرُوا تَنَاوَلَ کُلَّ مَا تَعَلَّقَ بِہِ وَحْدَہُ وَصابِرُوا تَنَاوَلَ کُلَّ مَا کَانَ مُشْتَرَکًا بَیْنَہُ وَبَیْنَ غَیْرِہِ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کے تحت امربالمعروف اورنہی عن المنکربھی داخل ہے ،کیونکہ اس پراقدام بسااوقات نقصان پہنچنے کاسبب بن جاتاہے اوراس میں جہاد بھی داخل ہوگا، اس میں نفس کوہلاکت پرپیش کردیناہے اس میں دین دشمنوں کو برداشت کرنااوران کے شکوک وشبہات کو دورکرنااوران کی باطل تاویلات کاجواب دینااوران کے دلوں سے ان باطل تاویلات کو دورکرنابھی شامل ہے ، توثابت ہواکہ {اصْبِرُوا }اس چیز کو شامل ہے جس کاتعلق فقط انسان کی ذات سے ہواور{ وَصابِرُوا }ہر اس چیز کوشامل ہے جوبندے اوردیگرکے درمیان مشترک ہے۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۹:۴۷۴) جمہورامت کاقول قولہ صَابَرُوا مِثْلَ صَبْرِنَاأَیْ صَابَرُوا الْعَدُوَّ فِی الْحَرْبِ وَلَمْ یَبْدُ مِنْہُمْ جُبْنٌ وَلَا خَوَرٌوَالْمُکَافَحَۃُ:الْمُوَاجَہَۃُ وَالْمُقَابَلَۃُ فِی الْحَرْبِ،وَلِذَلِکَ اخْتَلَفُوا فِی مَعْنَی قَوْلِہِ (وَرابِطُوا)فَقَالَ جُمْہُورُ الْأُمَّۃِ:رابطوا أعدائکم بالخیل، أی ارتبطوہا کما یرتبطہا أعداء کم۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ صابرومثل صبرناہے ، وہ میدان جنگ میں دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہے اوران میں کوئی بزدلی اورکمزوری ظاہرنہیں ہوئی اور{وَالْمُکَافَحَۃُ}کامعنی ہے جنگ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونااوربالمقابل ہونا، اسی لئے {وَرابِطُوا}کے معنی میں اختلاف ہے ۔ پس جمہورالامہ نے کہاہے کہ تم اپنے دشمن کے سامنے مختلف حیلوں کے ساتھ کمربستہ رہویعنی تم جنگ کے لئے اس طرح تیاررہوجس طرح تمھارادشمن اس کی تیاری کرتاہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۳۲۳)امام ابن عطیہ رحمہ اللہ تعالی کاقول
قَالَ ابن عطیۃ:والقول الصحیح ہو أن الربط (ہُوَ)الْمُلَازَمَۃُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَصْلُہَا مِنْ رَبْطِ الْخَیْلِ، ثُمَّ سُمِّیَ کُلُّ مُلَازِمٍ لِثَغْرٍ مِنْ ثُغُورِ الْإِسْلَامِ مُرَابِطًا، فَارِسًا کَانَ أَوْ رَاجِلًا. ترجمہ :امام أبو محمد عبد الحق بن غالب بن عبد الرحمن بن تمام بن عطیۃ الأندلسی المحاربی المتوفی : ۵۴۲ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ صحیح قول یہ ہے کہ الرباط کامعنی الملازمۃ فی سبیل اللہ ہے یعنی اللہ تعالی کے راستے کو لازم پکڑناہے ، اس کی اصل ربط الخیل یعنی گھوڑاباندھنے سے ہے ، پھراسلام کی سرحدوں میں سے کسی سرحد کو لازم پکڑنے والے کانام مرابط رکھ دیاگیاچاہے وہ گھوڑسوارہویاپیدل ۔ (تفسیرابن عطیہ :أبو محمد عبد الحق بن غالب بن عبد الرحمن بن تمام بن عطیۃ الأندلسی المحاربی (۱: ۵۶۰)علامہ جاراللہ کاقول
اصبروا علی الدین وتکالیفہ وَصابِرُوا أعداء اللَّہ فی الجہاد، أی غالبوہم فی الصبر علی شدائد الحرب لا تکونوا أقل صبراً منہم وثباتاوالمصابرۃ:باب من الصبر ذکر بعد الصبر علی ما یجب الصبر علیہ، تخصیصا لشدتہ وصعوبتہ وَرابِطُوا وأقیموا فی الثغور رابطین خیلکم فیہا، مترصدین مستعدین للغزوقال اللَّہ عز وجل:(وَمِنْ رِباطِ الْخَیْلِ تُرْہِبُونَ بِہِ عَدُوَّ اللَّہِ وَعَدُوَّکُمْ ترجمہ :أبو القاسم محمود بن عمرو بن أحمد، الزمخشری جار اللہ المتوفی : ۵۳۸ھ) لکھتے ہیں کہ دین کے معاملے میں صبرکرواوردین کی وجہ سے آنے والی مشکلات پربھی صبرکرواور{وَصابِرُوا }کامعنی ہے جہاد میں اللہ تعالی کے دشمنوں کے سامنے ڈٹ کرلڑویعنی جنگ کی شدتوں میں اپنے دشمنوں سے بڑھ کراستقامت دکھائوتاکہ تم صبراورثابت قدمی میں ان سے کم نہ رہواور {رابِطُوا}کامعنی اسلامی سرحدوں پرواقع محاذوں پرگھوڑے باندھ کرموجود رہو، وہاں پہرہ دو، دشمن کی نگرانی کرواورجنگ کے لئے تیاررہو{ رِباطِ}کالفظ { رِباطِ الْخَیْل}سے ہے جس کاذکراس آیت کریمہ میں کیاگیاہے ۔ یعنی گھوڑے باندھنا۔ (الکشاف :أبو القاسم محمود بن عمرو بن أحمد، الزمخشری جار اللہ(۱:۴۵۹) بحمداللہ تعالی سورۃ آل عمران کی تفسیرکاکام آج ۱۶رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ) /۱۰ مئی ۲۰۲۰ء) بروز اتواربوقت ۴:۳۱) سہ پہر)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9