صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2263 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

جو ایسا اعتقاد رکھے اس کا کیا حکم ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,100

سوال (Question):

جو ایسا اعتقاد رکھے اس کا کیا حکم ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جو ایسا اعتقاد رکھے اس کا کیا حکم ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید کے مندرجہ ذیل عقائد تھے (١) زید روزہ نہیں رکھتا اور کہتا تھا کہ روزہ وہ رکھے جس کے گھر کھانے پینے کو نہ ہو، ہمارے گھر تو موجود ہے لہذا ہم روزہ نہیں رکھتے۔ (۲) مرنے کے بعد کچھ حساب وکتاب نہیں ہوتا، مردے کو جہاں چاہو وہاں پھینک دو۔ (۳) قرآن کریم پڑھنے کو منع کرتا تھا اور کہتا تھا جو کتاب سمجھ میں نہیں آتی اسے پڑھنے سے کیا فائدہ اس سے بہتر تو یہ ہے کہ انگلش میڈیم میں پڑھو پڑھاؤ۔ (۴) خدا کیا ہے؟ کہاں ہے خدا؟ ارے دنیا تو ایک دوسرے کے کام میں آنے سے چلتی ہے۔ (۵) زید قربانی کو بھی منع کرتا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا تھا کہ قربانی کرنا تو جانوروں کی ہتیا کرنا ہے۔ (۶) زید نماز بھی نہیں پڑھتا تھا اور کہتا تھا کہ نماز پڑھنے سے کچھ فائدہ نہیں۔ (۷) زید کی اولاد نے جب زید کو حج کے لئے بھیجنا چاہا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہاں کیا ہے صرف پہاڑ پتھر، اس سے بہتر تو یہ ہے کہ کشمیر کی وادیاں گھوم آؤ۔ زید یہ باتیں اعلانیہ کرتا تھا اور بغیر توبہ کئے ان تمام عقائد پر قائم رہتے ہوئے مر گیا، اب دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا زید کی نماز پڑھی اور پڑھائی جائے اور اسے مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کیا جائے؟ اگر نہیں تو جن لوگوں نے یہ سب کام کئے ان کا شریعت میں کیا حکم ہے؟ بینوا بالصواب وتوجروا عند الوھاب الجواب بعون الملک الوھاب ایسا شخص کافر مرتد ہے،اس کے مذکورہ اقوال نہایت شنیع اور کفر وضلالت پر مشتمل ہیں۔صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ” کسی سے نماز پڑھنے کو کہا اس نے جواب دیا نماز پڑھتا تو ہوں مگر اس کا کچھ نتیجہ نہیں یا کہا تم نے نماز پڑھی کیا فائدہ ہوا یا کہا نماز پڑھ کے کیا کروں کس کے لیے پڑھوں ماں باپ تو مر گئے یا کہا بہت پڑھ لی اب دل گھبرا گیا یا کہا پڑھنا نہ پڑھنا دونوں برابر ہے غرض اسی قسم کی بات کرنا جس سے فرضیت کا انکارسمجھا جاتا ہو یا نماز کی تحقیر ہوتی ہو یہ سب کفر ہے۔”(بہار شریعت ح٩ص۴٦٧) نیز تحریر فرماتے ہیں:”رمضان نہیں رکھتا اور کہتا یہ ہے کہ روزہ وہ رکھے جسے کھانا نہ ملے یا کہتا ہے جب خدانے کھانے کودیا ہے تو بھوکے کی وں مریں یا اسی قسم کی اور باتیں جن سے روزہ کی ہتک وتحقیر ہو کہنا کفر ہے”(ایضا ۴٦٨) اس لیے ایسے شخص کی نہ تو نماز جنازہ پڑھی جائے گی نہ ہی مسلمانوں کے قبرستان میں اسے دفن کیا جائے گا، جن لوگوں نے اس کو مسلمان سمجھتے ہوئے اس کی نماز جنازہ پڑھی پڑھائی ان پر بھی تجدید ایمان، تجدید نکاح ضروری ہے، اور جو ایسے شخص کو کافر مرتد سمجھ کر جنازے میں شریک ہوئے وہ سخت گناہ گار ہیں ان پر توبہ استغفار لازم ہے. واللہ اعلم بالصواب کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ٤ذوالقعدہ ١٤٤٤ ھ/ ٢٥ مئی ٢٠٢٣ء التصحیح:محمد نظام الدین قادری دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh