Fatwa #2273
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ نساء آیت ۵۱۔۵۲۔ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطّٰغُوْتِ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
7,160
سوال (Question):
تفسیر سورہ نساء آیت ۵۱۔۵۲۔ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطّٰغُوْتِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
انگریزکو اہل اسلام سے اچھاکہنااورزیادہ ہدایت پرکہنایہودیوں کاشیوہ ہے
{اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطّٰغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہٰٓؤُلَآء ِ اَہْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا }(۵۱){اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللہُ وَمَنْ یَّلْعَنِ اللہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہ نَصِیْرًا }(۵۲) ترجمہ کنزالایمان:کیا تم نے وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا ایک حصہ مِلا ایمان لاتے ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پر ہیں،یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جسے خدا لعنت کرے تو ہر گز اس کا کوئی یار نہ پائے گا ۔ ترجمہ ضیاء الایمان: کیاآپ ﷺنے ان لوگوں کو نہ دیکھاجنہیں کتاب کاایک حصہ ملاایمان لاتے ہیں بت اورشیطان پر اورکافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ ہدایت والے راہ پرہیں ، یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ تعالی نے لعنت کی اورجس پراللہ تعالی لعنت کرے توہرگزاس کاکوئی مددگارنہ پائے گا۔ شان نزول رُوِیَ أَنَّ حُیَیَّ بْنَ أَخْطَبَ وَکَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ الْیَہُودِیَّیْنِ خَرَجَا إِلَی مَکَّۃَ مَعَ جَمَاعَۃٍ مِنَ الْیَہُودِ یُحَالِفُونَ قُرَیْشًا عَلَی مُحَارَبَۃِ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا:أَنْتُمْ أَہْلُ کِتَابٍ، وَأَنْتُمْ أَقْرَبُ إِلَی مُحَمَّدٍ مِنْکُمْ إِلَیْنَا فَلَا نَأْمَنُ مَکْرَکُمْ، فَاسْجُدُوا لِآلِہَتِنَا حَتَّی تَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا، فَفَعَلُوا ذَلِکَ فَہَذَا إِیمَانُہُمْ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ، لِأَنَّہُمْ سَجَدُوا لِلْأَصْنَامِ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ:أَنْحَنُ أَہْدَی سَبِیلًا أَمْ محمد؟فقال کعب:ماذا یقول محمد؟ یَأْمُرُ بِعِبَادَۃِ اللَّہ وَحْدَہُ وَیَنْہَی عَنْ عِبَادَۃِ الْأَصْنَامِ وَتَرَکَ دِینَ آبَائِہِ، وَأَوْقَعَ الْفُرْقَۃَ قَالَ:وَمَا دِینُکُمْ؟ قَالُوا:نَحْنُ وُلَاۃُ الْبَیْتِ نَسْقِی الْحَاجَّ وَنَقْرِی الضَّیْفَ وَنَفُکُّ الْعَانِی وَذَکَرُوا أَفْعَالَہُمْ، فَقَالَ:أَنْتُمْ أَہْدَی سَبِیلًا.فَہَذَا ہُوَ الْمُرَادُ مِنْ قَوْلِہِمْ:لِلَّذِینَ کَفَرُوا ہؤُلاء ِ أَہْدی مِنَ الَّذِینَ آمَنُوا سَبِیلًا (النِّسَاء ِ: ۵۱)۔ ترجمہ:حیی بن اخطب اورکعب ابن اشرف دونوں یہودی مکہ سے ایک یہودی جماعت کے ساتھ نکلے اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے خلاف جنگ کے لئے قریش کے حلیف بنے توانہوںنے کہاکہ تم اہل کتاب ہواورتم ہم سے زیادہ محمدﷺکے قریب ہو، ہم تمھارے مکرسے امن نہیں پاتے تم ہمارے خدائوں کو سجدہ کرو تاکہ ہمارے دل مطمئن ہوجائیں توانہوں نے بتوں کو سجدہ کردیا، یہ ان کاجبت اورطاغوت پرایمان ہے کیونکہ انہوںنے بتوں کو سجدہ کیا، ابوسفیان نے کہاکہ ہم سیدھے راستے پرہیں یامحمد(ﷺ) ؟ توکعب بن اشرف یہودی کہنے لگاکہ محمدﷺکیاکہتے ہیں؟ تواسے بتایاگیاکہ وہ کہتے ہیں صرف اورصرف اللہ تعالی کی عبادت کی جائے اوربتوں کی عبادت کرنے سے منع کرتے ہیں اوراپنے آبائواجدادکے دین کو ترک کر چکے ہیںاورہمارے اندرتفریق ڈال دی ہے ، کعب بن اشرف یہودی نے پوچھاکہ تمھارادین کیاہے؟ تو ابوسفیان نے بتایاکہ ہم بیت اللہ کے متولی ہیں ، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں ، مہمان نواز ی کرتے ہیں اوردیگراپنے اعمال کاذکرکیاتوکعب کہنے لگاکہ تمھاراراستہ زیادہ صحیح ہے توان کے اس قول {لِلَّذِینَ کَفَرُوا ہؤُلاء ِ أَہْدی مِنَ الَّذِینَ آمَنُوا سَبِیلًا} (النِّسَاء ِ: ۵۱)سے یہی مراد ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۰:۱۰۱)یہودیوں کاحضورتاجدارختم نبوت ﷺکو شہیدکرنے کامنصوبہ بنانا
عَنِ السُّدِّیِّ قَالَ:لَمَّا کَانَ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَہُودِ بَنِی النَّضِیرِ مَا کَانَ حِینَ أَتَاہُمْ یَسْتَعِینُہُمْ فِی دِیَۃِ الْعَامِرِیَّیْنِ فَہَمُّوا بِہِ وَبِأَصْحَابِہِ فَأَطْلَعَ اللَّہُ رَسُولَہُ عَلَی مَا ہَمُّوا بِہِ مِنْ ذَلِکَ وَرَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَدِینَۃِ فَہَرَبَ کَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ حَتَّی أَتَی مَکَّۃَ فَعَاہَدَہُمْ عَلَی مُحَمَّدٍ فَقَالَ لَہُ أَبُو سُفْیَانَ: یَا أَبَا سَعْدٍ إِنَّکُمْ قَوْمٌ تَقْرَء ُونَ الْکِتَابَ وَتَعْلَمُونَ وَنَحْنُ قَوْمٌ لَا نَعْلَمُ فَأَخْبِرْنَا:دِینُنَا خَیْرٌ أَمْ دِینُ مُحَمَّدٍ؟ قَالَ کَعْبٌ:اعْرِضُوا عَلَیَّ دِینَکُمْ فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ:نَحْنُ قَوْمٌ نَنْحَرُ الْکَوْمَاء َوَنَسْقِی الْحَجِیجَ الْمَاء َ وَنُقْرِی الضَّیْفَ وَنَعْمُرُ بَیْتَ رَبِّنَا وَنَعْبُدُ آلِہَتَنَا الَّتِی کَانَ یَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَمُحَمَّدٌ یَأْمُرُنَا أَنْ نَتْرُکَ ہَذَا وَنَتَّبِعَہُ قَالَ:دِینُکُمْ خَیْرٌ مِنْ دِینِ مُحَمَّدٍ فَاثْبُتُوا عَلَیْہِ أَلَا تَرَوْنَ أَنَّ مُحَمَّدًا یَزْعُمُ أَنَّہُ بُعِثَ بِالتَّوَاضُعِ وَہُوَ یَنْکِحُ مِنَ النِّسَاء ِمَا شَائَ؟ وَمَا نَعْلَمُ مُلْکًا أَعْظَمَ مِنْ مُلْکِ النِّسَاء ِفَذَلِکَ حِینَ یَقُولُ:(أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ أُوتُوا نَصِیبًا مِنَ الْکِتَابِ یُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَیَقُولُونَ لِلَّذِینَ کَفَرُوا ہَؤُلَاء ِ أَہْدَی مِنَ الَّذِینَ آمَنُوا سَبِیلًا) ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام السدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺاوربنونضیرکے یہودیوں کامعاملہ ہوا، جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺعامریوں کی دیت اداکرنے میں ان کی مددکرنے کے لئے تشریف لائے توبنونضیرنے حضورتاجدارختم نبوت ﷺاورآپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شہیدکرنے کاارادہ کیاتواللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو ان کے ارادے سے آگاہ کردیا، حضورتاجدارختم نبوت ﷺمدینہ منورہ تشریف لے گئے ، کعب ابن اشرف یہودی وہاں سے بھاگا، یہاں تک کہ مکہ مکرمہ آگیا، اس نے قریش سے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے خلاف معاہدہ کیا، ابوسفیان نے کہا: اے کعب !تم کتاب پڑھتے ہواورعلم رکھتے ہو، جبکہ ہم علم نہیں رکھتے ، ہمیں بتائوکہ کیاہمارادین بہترہے؟ یاحضرت محمدﷺکادین بہترہے ؟ کعب بن اشرف یہودی نے کہاکہ اپنادین مجھ پربیان کرو! ابوسفیان نے کہاکہ ہم ایسی قوم ہیں جو اونچی کوہان والے اونٹ ذبح کرتے ہیں ، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں ،مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں ، اپنے رب تعالی کے گھرکی نگہداشت کرتے ہیں ، اورہم ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی ہمارے آبائواجدادکیاکرتے تھے ، جب کہ محمدﷺہمیں یہ کہتے ہیں کہ ہم ان بتوں کی عبادت کو ترک کردیں اوران کی پیروی کریں اورایک خداتعالی کی عبادت کریں ، توکعب بن اشرف یہودی نے کہاکہ تمھارادین اس کے دین سے بہترہے ۔ اسی دین پر ثابت قدم رہو، کیاتم دیکھتے نہیں کہ محمدﷺگمان کرتے ہیں کہ انہیں تواضع کے ساتھ مبعوث کیاگیاہے جبکہ وہ جس عورت سے چاہتے ہیں نکاح کرلیتے ہیں ، ہم کوئی ایسابادشاہ نہیں جانتے جوعورتوں کے بادشاہ سے بڑھ کرہوتواس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ (تفسیر الطبری :محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۷:۱۴۴)مشرکین کو اہل ایمان سے افضل کہنے والالعنتی ہے
ثُمَّ قَالَ تَعَالَی:أُولئِکَ الَّذِینَ لَعَنَہُمُ اللَّہُ وَمَنْ یَلْعَنِ اللَّہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہُ نَصِیراً فَبَیَّنَ أَنَّ عَلَیْہِمُ اللَّعْنَ من اللَّہ وَہُوَ الْخِذْلَانُ وَالْإِبْعَادُ، وَہُوَ ضِدُّ مَا لِلْمُؤْمِنِینَ مِنَ الْقُرْبَۃِ وَالزُّلْفَی،وَأَخْبَرَ بَعْدَہُ بِأَنَّ مَنْ یَلْعَنُہُ اللَّہ فَلَا نَاصِرَ لَہُ، کَمَا قَالَ:مَلْعُونِینَ أَیْنَما ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِیلًا (الْأَحْزَابِ۱:۶)فَہَذَا اللَّعْنُ حَاضِرٌ، وَمَا فِی الْآخِرَۃِ أَعْظَمُ،وَہُوَ یَوْمٌ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَیْئًا وَالْأَمْرُ یَوْمَئِذٍ للَّہ،وَفِیہِ وَعْدٌ لِلرَّسُولِ صَلَّی اللَّہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالنُّصْرَۃِ وَلِلْمُؤْمِنِینَ بِالتَّقْوِیَۃِ،بِالضِّدِّ عَلَی الضِّدِّ، کَمَا قَالَ فِی الْآیَاتِ الْمُتَقَدِّمَۃِوَکَفی بِاللَّہِ وَلِیًّا وَکَفی بِاللَّہِ نَصِیراً (النِّسَاء ِ:۵۴)وَاعْلَمْ أَنَّ الْقَوْمَ إِنَّمَا اسْتَحَقُّوا ہَذَا اللَّعْنَ الشَّدِیدَ لِأَنَّ الَّذِی ذَکَرُوہُ مِنْ تَفْضِیلِ عَبَدَۃِ الْأَوْثَانِ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَجْرِی مَجْرَی الْمُکَابَرَۃِ،فَمَنْ یَعْبُدُ غَیْرَ اللَّہ کَیْفَ یَکُونُ أَفْضَلَ حَالًا مِمَّنْ لَا یَرْضَی بِمَعْبُودٍ غَیْرِ اللَّہ! وَمَنْ کَانَ دِینُہُ الْإِقْبَالُ بِالْکُلِّیَّۃِ عَلَی خِدْمَۃِ الْخَالِقِ وَالْإِعْرَاضُ عَنِ الدُّنْیَا وَالْإِقْبَالُ عَلَی الْآخِرَۃِ، کَیْفَ یَکُونُ أَقَلَّ حَالًا مِمَّنْ کَانَ بِالضِّدِّ فِی کُلِّ ہذہ الأحوال واللَّہ أعلم. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے یہ بیان کیاکہ ان پراللہ تعالی کی طرف سے لعنت اوردوری ہے اوریہ اہل ایمان کے لئے قربت اورشفقت کی ضدہے ، اس کے بعد یہ بتایاکہ جس پر اللہ تعالی لعنت فرمادے اس کاکوئی مددگارنہیں ہوتاجیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا: {مَلْعُونِینَ أَیْنَما ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِیلًا}پھٹکارے ہوئے جہاں کہیں ملیں پکڑے جائیں اورگن گن کرقتل کردیئے جائیں ۔ یہ لعنت دنیامیں ہے اورآخرت میں اس سے بہت بڑی ہوگی،وہ ایسادن جب کوئی جان دوسرے کے لئے کسی چیز کامالک نہ ہوگااورمعاملہ اس دن اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہوگا، اس میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی مدداوراہل ایمان کی مددوتقویت بطورضدوعدہ ہے ، جیسے پچھلی آیت کریمہ میں فرمایا:{کَفی بِاللَّہِ وَلِیًّا وَکَفی بِاللَّہِ نَصِیراً }اللہ تعالی کافی ہے ولی اوراللہ تعالی کافی ہے مددگار۔ یہ لو گ اس شدیدلعنت کے مستحق اس لئے ہیں کہ یہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺپرایمان لانے والوں سے سینہ زوری کرتے ہوئے بتوں کی عبادت کرنے والوں کو افضل کہتے ، جوغیراللہ کی عبادت کرے وہ اس مومن سے افضل کیسے ہوسکتاہے ؟ جو غیراللہ کومعبود بناناپسندنہ کرے ، جس کادین خالصتاً اپنے خالق کی خدمت میں ہی ہوااوروہ دنیاسے منہ موڑ کرآخرت کی طرف متوجہ ہووہ شان میں اس سے کیسے اہم ہوسکتاہے ۔ جس میں ان احوال کی ضدپائے جائے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۰:۱۰۱)طاغوت اورجبت سے کیامراد ہے؟
فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ جُبَیْرٍ وَأَبُو الْعَالِیَۃِ:الْجِبْتُ السَّاحِرُ بِلِسَانِ الْحَبَشَۃِ،وَالطَّاغُوتُ الْکَاہِنُ وَقَالَ الْفَارُوقُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ:الْجِبْتُ السِّحْرُ وَالطَّاغُوتُ الشَّیْطَانُ ابْنُ مَسْعُودٍ:الجبت والطاغوت ہاہنا کعب ابن الْأَشْرَفِ وَحُیَیُّ بْنُ أَخْطَبَ عِکْرِمَۃُ:الْجِبْتُ حُیَیُّ بن أخطب والطاغوت کعب ابن الْأَشْرَفِ،دَلِیلُہُ قَوْلُہُ تَعَالَی:(یُرِیدُونَ أَنْ یَتَحاکَمُوا إِلَی الطَّاغُوت)قَتَادَۃُ:الْجِبْتُ الشَّیْطَانُ وَالطَّاغُوتُ الْکَاہِنُ وَرَوَی ابْنُ وَہْبٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ:الطَّاغُوتُ مَا عُبِدَ مِنْ دُونِ اللَّہِ قَالَ:وَسَمِعْتُ مَنْ یَقُولُ إِنَّ الْجِبْتَ الشَّیْطَانُ۔ ترجمہ :(۱)…حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت سیدناسعیدبن جبیررضی اللہ عنہ اورامام ابوالعالیہ رحمہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ حبشی الجبت جادوگرکوکہتے ہیں اورالطاغوت کاہن کو کہتے ہیں ۔ (۲)…حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ الجبت سے مراد جادوہے اورالطاغوت سے مراد شیطان ہے ۔ (۳)…حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ الجبت اورالطاغوت سے مراد یہاں کعب بن اشرف یہودی اورحی بن اخطب یہودی ہیں۔ (۴)…حضرت سیدناعکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ الجبت سے مراد حی ابن اخطب ہے اورالطاغوت سے مراد کعب بن اشرف یہودی ہے ۔ اس کی دلیل اللہ تعالی کایہ فرمان عالی شان ہے {یُرِیدُونَ أَنْ یَتَحاکَمُوا إِلَی الطَّاغُوتِ}۔ (۵)…حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: الجبت سے مراد شیطان ہے اورالطاغوت سے مراد کاہن ہے ۔ (۶)…حضرت سیدناابن وہب رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیاہے کہ الطاغوت ہر وہ چیز ہے جس کی اللہ تعالی کے علاوہ عباد ت کی جاتی ہے ۔ فرمایاکہ میں نے کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سناکہ الجبت سے مراد شیطان ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۵:۲۵۸) اللہ تعالی کی نافرمانی میں جس کی اطاعت کی جائے۔۔ وقیل:ہما کل مَعْبُودٍ مِنْ دُونِ اللَّہِ،أَوْ مُطَاعٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ،وَہَذَا حَسَنٌوَأَصْلُ الْجِبْتِ الْجِبْسُ وَہُوَ الَّذِی لَا خَیْرَ فِیہِ، فَأُبْدِلَتِ التَّاء ُ مِنَ السِّینِ، قَالَہُ قُطْرُبُ وَقِیلَ:الْجِبْتُ إِبْلِیسُ وَالطَّاغُوتُ أَوْلِیَاؤُہُ. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ بھی کہاگیاہے کہ یہ دونوں اللہ تعالی کے سواہرمعبود کے لئے استعمال ہوتے ہیں یاوہ جس کی اللہ تعالی کی معصیت میں اطاعت کی جاتی ہے ، یہ احسن ہے ، الجبت کااصل الجبس ہے ، وہ جس میں کوئی خیرنہ ہو، تحسین کابدل ہے ، یہ قطرب کاقول ہے اوریہ بھی بیان کیاگیاہے کہ الجبت سے مراد ابلیس ہے اورالطاغوت سے مراد اس کے اولیاء ہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۵:۲۵۸)معارف ومسائل
(۱) اس آیت کریمہ سے معلوم ہواکہ کفارکے وعدوں اورمعاہدوں بلکہ ان کی قسموں کابھی کوئی اعتبارنہیں ، مسلمانوں کو ان پراعتبارنہیں کرناچاہئے ورنہ دھوکہ کھائیں گے ، دیکھویہودیوں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ساتھ معاہدہ کرکے بے وفائی کی ، اس کاتجربہ آج تک ہورہاہے ۔اسلام کے مقابلے میں سارے کافرایک ہیں ، اگرچہ ان کاآپس میں کتناہی اختلاف ہو، {الکفرملۃ واحدہ } دیکھویہودی اہل کتاب تھے اورمشرکین مکہ بت پرست ، مسلمان ان کے بہت قریب تھے مگرپھربھی یہ یہودی مشرکین کے ساتھ جاملے ۔ (۲) اللہ تعالی کے نیک بندوں کی دشمنی انسان کو کفراوربے ایمانی کے گہرے غارمیں گرادیتی ہے دیکھومدینہ منورہ کے یہودی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی عداوت میں بت پرستی کربیٹھے ۔ ایسے ہی ان مقبولوں کی محبت انسان کو اعلی درجے تک پہنچادیتی ہے ۔ (۳) حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہدایت یافتہ نہ ماننے والاکافرولعنتی ہے دیکھوان یہودیوں نے کفارمکہ کو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ ہدایت پرماناتواللہ تعالی نے ان کو لعنتی قراردیا۔ وہ حضرات توہدایت کامعیارہیں جوان کی پیروی کرے وہ بھی ہدایت پاجاتاہے ۔ (۴) ایمان کے بغیراورحضورتاجدارختم نبوت ﷺسے منہ موڑ کرکعبہ میں رہناحاجیوں کی خدمت کرنا، زمزم پیناسب کچھ بے کارہے ، ان میں سے کوئی بھی چیز ہدایت نہیں ہے بلکہ یہ سب چیزیں کفرمیں ہی داخل ہوتی ہیں۔ دیکھویہودنے مشرکین مکہ کو ان اعمال کی بناء پر ہدایت یافتہ کہاتو اللہ تعالی نے ان کو لعنتی قراردیا۔ اصل الاصول حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی اتباع ہے ۔ کوئی شخص اگرچہ جسمانی طورپرکعبہ سے دورہومگرحضورتاجدارختم نبوت ﷺسے قریب ہوتو وہ اللہ تعالی کے قریب ہے اورجو حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے دورہوکرکعبہ میں رہے وہ مردودہے ۔ بعدہجرت مسلمانوں کوبلاعذرمکہ مکرمہ میں رہناحرام ہوگیا، اس لئے نہیں کہ وہاں عبادت کی آزادی نہ تھی یہ مجبوری ومعذوری تومسلمانوں کو حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے پہلے بھی تھی بلکہ اس لئے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے اس سے عارضی طورپرعلیحدگی اختیارکی تھی ۔ (۵) جوشخص کافروں کو ہدایت پرکہے وہ لعنتی ہے دیکھورب تعالی نے یہودیوں کواس وجہ سے لعنتی فرمایاکہ انہوںنے کفارکوہدایت پرمانااورکفرکی حمایت کی اورکفرکی حمایت بھی کفرہے ۔ چورکوپناہ دیناجرم ہے ۔ملخصاً از تفسیرنعیمی ( ۵: ۱۴۰) (۶) کعب بن اشرف یہودیوں کاعالم تھا، اللہ تعالی اورقیامت کے دن پر ایمان رکھتاتھا، مگرنفسانی خواہشات اوربغض وحسد نے اسے ایمان سے ہمیشہ کے لئے محروم کردیا، یہاں تک کہ اس نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے مقابلے میں قریش کے منحوس دین اوربت پرستی کواچھااوربرحق کہہ دیا، پھرقریش کی حمایت اوردوستی میں ان کے بتوں کو سجدہ بھی کیا، اس دوران مال ،اسلحہ اوردیگرسامان حرب قریش کو مہیاکرکے ان کوآئندہ مسلمانوں کے خلاف جنگ وقتال پرابھارکرانہیں مطمئن کردیاکہ مدینہ منورہ کے یہودی ہرمحاذ پر مسلمانوں کے خلاف تمھاری مددکریں گے ، یہودیوں کے جتنے سرداراورعلماء یارئوساء تھے وہ سب اپنابغض وحسداورنفسانی خواہشات کی وجہ سے ایمان سے محروم ہوگئے اورابدی جہنم کے ایندھن میں گئے ، اگرچہ کافی عرصہ سے مبغوض وملعون ہوچکے تھے مگراسلام کی کھلم کھلامخالفت کرکے ملعونیت اورمبغوضیت کی تجدیدکے مرتکب ہوگئے ، نفسانیت اورعناد کابیڑہ غرق ہوجب یہ دونوں چیزیں کسی کے دل میں جگہ پکڑلیتی ہیں توحق وصداقت اورحقیقت کو دیکھنے ہی نہیں دیتیں ، آنکھوں پر پٹی باندھ کربینائی سلب کرلیتی ہیں ، دل کی آنکھیں اندھی ہوجاتی ہیں ، کان سننے کے قابل نہیں رہتے ، دل مردہ ہوجاتے ہیں ، عقل ناکارہ ہوجاتی ہے ، توراۃ کے علوم سے آشناہونے کے باوجود بتوں کوسجدہ کرنااورمشرکین کے من گھڑت دین اورباطل اوربت پرستی کی تائیدکرنااوران کو ہدایت یافتہ اوراہل اسلام کو العیاذ باللہ من ذلک گمراہ قراردینااورجس مبارک ہستی کے تقدس پرساتوں آسمانوں کے نورانی فرشتے قربان ہونے کے لئے تیارہوں اس کی شان عالی میں گستاخیاں کرنااورقرآن کریم کی بے حرمتی اورتکذیب کرنایہ وہ اسباب تھے جنہوں نے یہودونصاری کے قدیم لعنتی ہونے کی تجدیدکردی ۔ (۷) کفارکے فلاحی ورفاہی کاموں کی وجہ سے ان کو اچھاکہنایہ یہودیوں کاطریقہ ہے جس طرح کفارمکہ نے کہاکہ ہم مہمان نوازی کرتے ہیں ، کعبہ مشرفہ کی دیکھ بھال کرتے ہیں، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیںوغیرہ وغیرہ ۔ اسی طرح آج کے لبرل وسیکولر بھی کافروں کو اسی لئے اچھااوراہل ایمان کو براکہتے ہیں کہ کافروں نے ہم کو ترقی دی ، موبائل بناکردیاوغیرہ وغیرہ ، اہل ایمان نے ہم کو کیادیاہے نعوذباللہ من ذلک ۔ (۸) اللہ تعالی ا وراس کے حبیب کریم ﷺکی اطاعت کوترک کرکے حکمرانوں کی اطاعت کرنااوراسلام کے خلاف فیصلے کرنابھی اسی آیت کریمہ کے تحت داخل ہے ۔ اوراسی طرح جو شخص قرآن کریم اورحدیث شریف کے خلاف فیصلے کرتاہے چاہے وہ حاکم ہویاانگریزی کوٹ کاجج وہ الجبت اورالطاغوت ہے ۔ (۹) اوراسی طرح اپنے فیصلے ان کے پاس لے جاناالجبت اورالطاغوت کے پاس لے کرجاناہے ۔ (۱۰) اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جو شخص قرآن کریم اورحدیث شریف کے خلاف فیصلے کرے وہ شیطان ہے ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9