صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2304 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۳۔ حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُہِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بِہٖ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,446

سوال (Question):

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۳۔ حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُہِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بِہٖ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

خنزیرکے حرام ہونے کاحکم اوراس کے طبی نقصانات

{حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُہِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بِہٖ وَالْمُنْخَنِقَۃُ وَالْمَوْقُوْذَۃُ وَالْمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیْحَۃُ وَمَآ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلٰمِ ذٰلِکُمْ فِسْقٌ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلٰمَ دِیْنًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ فَاِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ }(۳) ترجمہ کنزالایمان:تم پر حرام ہے مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیرِ خدا کا نام پکارا گیا اور وہ جو گلا گھونٹنے سے مرے اور بے دھار کی چیز سے مارا ہوا اور جو گر کر مرا اور جسے کسی جانور نے سینگ مارا اور جسے کوئی درندہ کھاگیا مگر جنہیں تم ذبح کرلو اور جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا اور پانسے ڈال کر بانٹا کرنا یہ گناہ کا کا م ہے، آج تمہارے دین کی طرف سے کافروں کی آس ٹوٹ گئی تو اُن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا تو جو بھوک پیاس کی شدت میں ناچار ہو یوں کہ گناہ کی طرف نہ جھکے تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:تم پر حرام کیا گیا ہے مردار اور خون اورخنزیر کا گوشت اور وہ جانور جس کے ذبح کے وقت غیرُاللہ کا نام لیا گیا ہو اور وہ جو گلا گھونٹنے سے مرے اور وہ جوبغیر دھاری دار چیزسے مارا جائے اور جو اونچائی سے گر کر مرا ہو اور جو کسی جانور کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور وہ جسے کسی درندے نے کھا لیا ہو مگر درندوں کا شکار کیا ہواوہ جانور جنہیں تم نے زندہ پاکرذبح کرلیا ہو اور جو کسی بت کے آستانے پر ذبح کیا گیا ہو اور حرام ہے کہ پانسے ڈال کر قسمت معلوم کرو یہ گناہ کا کا م ہے۔ آج تمہارے دین کی طرف سے کافر ناامید ہوگئے تو اُن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بطوردین پسند کیا تو جو بھوک پیاس کی شدت میں مجبور ہواس حال میں کہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو وہ کھا سکتا ہے۔تو بیشک اللہ تعالی بخشنے والا، مہربان ہے۔ خنزیرکے اوصاف میں سے اس کابے غیرت ہونابھی ہے ان کثیرا من الکفار الفوا لحم الخنزیر فخص بہذا الحکم وذلک ان سائر الحیوانات المحرم أکلہا إذا ذبحت کان لحمہا طاہرا لا یفسد الماء إذا وقع فیہ وان لم یحل أکلہ بخلاف لحم الخنزیر. قال فی التنویر ولیس الکلب بنجس العین قال العلماء الغذاء یصیر جزأ من جوہر المغتذی ولا بد وان یحصل للمغتذی اخلاق وصفات من جنس ما کان حاصلا فی الغذاء والخنزیر مطبوع علی حرص عظیم ورغبۃ شدیدۃ فی المشتہیات فحرم أکلہ علی الإنسان لئلا یتکیف بتلک الکیفیۃ ومن جملۃ خبائث الخنزیر انہ عدیم الغیرۃ فانہ یری الذکر من الخنازیر ینزو علی أنثی لہ ولا یتعرض لہ لعدم غیرتہ فاکل لحمہ یورث عدم الغیرۃ ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بہت سے کافرخنزیرکے گوشت کے بڑے خوگرتھے ، انہی کی وجہ سے اسے خصوصی طورپربیان کیاگیاہے ۔ دوسرے حرام جانوروں کوجب ذبح کیاجائے توان کاگوشت پاک ہوجاتاہے اگرچہ ان کاکھاناحرام ہی ہوتاہے لیکن پاک ضرورہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اگرایساگوشت پانی میں گرجائے توپانی پلید نہ ہوگابخلاف خنزیرکے گوشت کے کہ وہ نجس العین ہے ۔ تنویرالابصارمیں ہے کہ خنزیر نجس العین ہے ۔ اطباء فرماتے ہیں کہ ہرغذاکھانے والے کیلئے جوہرجز بن جاتاہے ، پھراس غذاء کے مطابق کھانے والے کے اندرانہی خصائل وصفات کاپیداہوجانالازمی امرہے ۔ خنزیر کی عادات میں سے ہے کہ وہ حریص ہے اورشہوانی اشیاء کی بہت رغبت رکھتاہے انہی وجوہات کے پیش نظرانسان پرلازم ہے کہ اس کے کھانے سے پرہیزکرے تاکہ اس کی عادات و خصائل پیدانہ ہوجائیں ۔ اورخنزیرمیں سب سے بری عادت بے غیرتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ جب خنزیراپنی مادہ پرکسی دوسرے خنزیر کوچڑھاہوادیکھتاہے توبے غیرتی سے اسے کچھ نہیں کہتا۔ یہی وجہ ہے اس کے کھانے سے بے غیرتی پیداہوتی ہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۳۴۰)

خنزیراوربکری کے گوشت میں فرق

لَحْمُ الْخِنْزِیرِ، قَالَ أَہْلُ الْعِلْمِ: الْغِذَاء ُ یَصِیرُ جُزْء ًا مِنْ جَوْہَرِ الْمُغْتَذِی، فَلَا بُدَّ أَنْ یَحْصُلَ لِلْمُغْتَذِی أَخْلَاقٌ وَصِفَاتٌ مِنْ جِنْسِ مَا کَانَ حَاصِلًا فِی الْغِذَاء ِ، وَالْخِنْزِیرُ مَطْبُوعٌ عَلَی حِرْصٍ عَظِیمٍ وَرَغْبَۃٍ شَدِیدَۃٍ فِی الْمُشْتَہَیَاتِ، فَحَرُمَ أَکْلُہُ عَلَی الْإِنْسَانِ لِئَلَّا یَتَکَیَّفَ بِتِلْکَ الْکَیْفِیَّۃِ، وَأَمَّا الشَّاۃُ فَإِنَّہَا حَیَوَانٌ فِی غَایَۃِ السَّلَامَۃِ، فَکَأَنَّہَا ذَاتٌ عَارِیَۃٌ عَنْ جَمِیعِ الْأَخْلَاقِ، فَلِذَلِکَ لَا یَحْصُلُ لِلْإِنْسَانِ بِسَبَبِ أَکْلِ لَحْمِہَا کَیْفِیَّۃٌ أَجْنَبِیَّۃٌ عَنْ أَحْوَالِ الْإِنْسَانِ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اہل علم لکھتے ہیں کہ غذاکھانے والے کے جوہرکاحصہ بنتی ہے ، توکھانے والے کے لئے غذاکی جنس سے اخلاق وصفات پیداہوتے ہیں ، خنزیرکی طبیعت میں بڑالالچ اورخواہشات کو پوراکرنے میں شدیدرغبت ہے تواللہ تعالی نے اس کاکھانامسلمانوں پرحرام قراردیاہے ۔ تاکہ انسان کو خنزیرکی صفات لاحق نہ ہوجائیں ۔ بکری نہایت ہی سلامتی والاحیوان ہے گویاوہ ان تمام اخلاق رزیلہ سے عاری ہے اس لئے اس کاگوشت کھانے سے انسان کواحوال انسان کے علاوہ اجنبی کیفیات عارض نہیں ہوتیں۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۱:۲۸۳) ان عبارات سے معلوم ہواکہ خنزیرکے گوشت کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ یہ بہت گندہ اورنجس جانورہے اوریہ بالعموم گندگی میں رہتاہے ، اس کے جسم اوربالوں میں کیڑے ہوتے ہیں ، اس کاگوشت بہت ثقیل اوربدیرہضم ہوتاہے ۔ اوراس میں چربی بہت زیادہ ہوتی ہے اوراس کی وجہ سے خون میں کولیسٹرول بہت زیادہ ہوتی ہے ، جس جانورکاگوشت کھایاجائے اس کے اوصاف کاانسان کی طبیعت پراثرپڑتاہے ، جانوروں میں خنزیرایک انتہائی بے غیرت جانورہے ، اس کی مادہ سے ایک خنزیرجفتی کرتاہے توباقی کئی خنزیراس کے قریب کھڑے اپنی باری کے منتظررہتے ہیں جب کہ دوسرے جانوراپنی مادہ کے قریب دوسرے نرکونہیں آنے دیتے یہی وجہ ہے کہ جو لوگ خنزیرکاگوشت کھاتے ہیں جیسے انگریز وہ بھی بے غیرت ہی ہوتے ہیں ، ان میں بہت زیادہ فحاشی اوربدچلنی ہوتی ہے بہرحال مسلمانوں کے لئے یہی وجہ کافی ہے کہ اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺنے سختی کے ساتھ خنزیرکو حرام فرمایاہے ۔ خواہ اس کے حرام ہونے کی یہ وجوہات ہوں یانہ ہوں ، ہم نے یہ وجوہ اس لئے بیان کی ہیں کہ اسلام دین فطرت ہے او رجن چیزوں سے منع فرمایاہے اس کی وجوہ نہایت ہی معقول ہیں۔

کیاخنزیرپہلے کبھی حلال رہاہے ؟

محدثین نے لکھا ہے کہ کسی نبی ( علیہ السلام )کے زمانہ میں خنزیر حلال نہیں تھا، حضرت سیدنا عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کی شریعت کی طرف جو اس کی حلت منسوب کی جاتی ہے بالکل غلط ہے، ان کی شریعت میں بھی خنزیر حرام تھا، حدیث میں آتا ہے کہ آخری زمانہ میں جب حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو خنزیر کو قتل کریں گے، اس کے تحت علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس پر دلیل ہے کہ ان کی شریعت میں خنزیر حرام تھا اور اس میں ان عیسائیوں کی بھی تکذیب ہے جو خنزیر کی حلت کو اپنی شریعت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

جب حضرت سیدناعیسی علیہ السلام ہی خنزیرکو قتل کردیں گے

عنِ ابنِ المُسَیَّبِ أنَّہُ سَمِعَ أبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِی اللہ تَعَالَی عَنہُ یَقُولُ قَالَ رسولُ اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم والَّذِی نَفْسِی بیَدِہِ لَیُوشِکَنَّ أنْ یَنْزِلَ فِیکُمُ ابنُ مَرْیَمَ حَکما مُقْسِطا فیَکْسِرَ الصَّلِیبَ ویَقْتُلَ الخِنْزِیرَ ویَضَعَ الجِزْیَۃ۔ ترجمہ ـ:حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تم میں حضرت سیدناعیسی علیہ السلام ضرورنازل ہوں گے اوروہ عدل والے فیصلے فرمائیں گے ، وہ صلیب کو توڑیں گے اورخنزیرکو قتل کردیں گے اورجزیہ ختم کردیں گے ۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۳:۸۲)

خنزیرکسی بھی شریعت میں حلال نہیں تھا

وَمِمَّا یُسْتَفَاد من الحَدِیث مَا فِیہِ: قَالَہ ابْن بطال دَلِیل علی أَن الْخِنْزِیرحرَام فِی شَرِیعَۃ عِیسَی،عَلَیْہِ الصَّلَاۃ وَالسَّلَام، وَقَتلہ لَہُ تَکْذِیب لِلنَّصَارَی أَنہ حَلَال فِی شریعتہم. ترجمہ :امام أبو محمد محمود بن أحمد بن موسی الحنفی بدر الدین العینی المتوفی : ۸۵۵ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حدیث اس پر دلیل ہے کہ ان کی شریعت میں خنزیر حرام تھا اور اس میں ان عیسائیوں کی بھی تکذیب ہے جو خنزیر کی حلت کو اپنی شریعت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری:أبو محمد محمود بن أحمد بن موسی الحنفی بدر الدین العینی (۱۲:۳۵)

خنزیرخوروں کے گھرکی گواہی

تو کسی گھنونی چیز کو مت کھانا ۔۔۔اور سور تمہارے لیے اِس سبب سے ناپاک ہے کہ اُسکے پاؤں تو چِرے ہوئے ہیں پر و ہ جگالی نہیں کرتا ۔ تُم نہ تو اُنکا گوشت کھانا اور نہ اُنکی لاش کو ہاتھ لگانا ۔ (۱)(باب :استثناء (۱۴:۸،۳)(۲)( باب احبار(۱۱:۸،۱) خنزیر کے نجس العین ہونے کو قرآنِ مجید میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا گیا ہے: {قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٓ اِلَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّہ رِجْسٌ}(سورۃ الانعام: ۱۴۵) ترجمہ کنزالایمان :تم فرماؤ میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی ہوئی کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام مگر یہ کہ مرُدار ہو یا رگوں کا بہتا خون یا بد جانور کا گوشت وہ نجاست ہے ۔ اس آیت میں ’’ہ‘‘ضمیر خنزیر کی طرف لوٹ رہی ہے، عربی قواعد کے اعتبار سے یہی راجح ہے، یعنی وہ (خنزیر)نجس ہے، خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ، اس کا گوشت ہو یا جسم کے دیگر حصے، سب کا مجموعہ خنزیر ہے، اور یہ مجموعہ ’’ہ‘‘کا مرجع ہے۔ باقی اس آیت میں خنزیر کے گوشت کے حرام ہونے کا ذکر اس لیے ہے کہ سیاق و سباق میں مشرکینِ عرب کی طرف سے خود ساختہ حرام اور حلال کیے ہوئے جانوروں اور ان کے گوشت کے استعمال کا ذکر چل رہاہے، اس ضمن میں بتادیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے چوپایوں میں سے تو مذکورہ چیزوں کے کھانے کو حرام کیا ہے، اس کے علاوہ تو اللہ تعالیٰ نے آٹھ چوپایوں میں سے کسی کے گوشت کو حرام نہیں کیا، چوں کہ جانور میں گوشت ہی کھایا جاتاہے، اور اسی کی حلت و حرمت کی بات چل رہی ہے تو خنزیر کے بھی گوشت کا ذکر کردیا گیا۔ اور اگر ظاہرِ آیت سے کوئی یہ سمجھے (جیساکہ غامدی کہتاہے )کہ یہاں خنزیر کے گوشت کو نجس کہا گیا ہے، تو بھی اہلِ علم فرماتے ہیں کہ سیاقِ آیت کی روشنی میں جانور کی اصل منفعت گوشت ہے تو اس کی نجاست کے ساتھ ساتھ جسم کے باقی حصے کی نجاست بدرجہ اولیٰ ثابت ہوگئی۔ خنزیر کے نجس العین ہونے کی اصل وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے حبیب کریم ﷺنے اسے نجس اور حرام قرار دے دیا ہے۔ اس لیے ہم ان کے حکم کے پابند ہیں، یعنی نصِ قطعی سے اس کا حرام ہونا اور نجس ہونا ثابت ہے، اس لیے یہ نجس العین ہے۔ باقی اطباء اور ڈاکٹروں نے بھی خنزیر کے سینکڑوں نقصانات بیان کیے ہیں، اور اخلاقی نقصان یہ ہے کہ اس سے قوتِ بہیمیہ میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا مشاہدہ آپ دن رات مغربی ممالک میں کر سکتے ہیں۔

خنزیرکاگوشت کیوں حرام ہے کہنے والوں کو جواب

خنزیرکاگوشت کھاناحرام ہے اوراس کے بہت سے طبی نقصانات علماء واطباء نے بیان کئے ہیں لیکن اگر ہمیں خنزیر کا گوشت کھانے کا کوئی ایک منفی پہلو یا نقصان بھی معلوم نہ ہو تو تب بھی ہمارا خنزیر کے بارے میں ایمان یہی ہو گا کہ وہ حرام ہے، خنزیر کا گوشت نہ کھانے سے ہمارا ایمان بالکل کمزور نہیں ہو گا۔ تمام اہل اسلام یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ حضرت سیدناآدم علیہ السلام کو جنت سے صرف اسی لیے بھیجاگیا تھا کہ انہوں نے اللہ تعالی کی طرف سے منع کردہ درخت کا پھل کھا لیا تھا ، ہمیں اس درخت کی حرمت کے متعلق کوئی وجہ معلوم نہیں ، اور نہ ہی حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کو اس درخت سے ممانعت کی وجہ معلوم کرنے کی کوئی ضرورت تھی ، بلکہ اللہ تعالی کا منع کر دینا ہی ان کیلئے کافی تھا، بالکل اسی طرح ہمارے لیے اور دیگر تمام مومنوں کیلیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ تو ہم اہل اسلام کو لمحہ بھر بھی اس میں شک نہیں ہے کہ خنزیر خبیث اور ناگوار جانور ہے، اس کا گوشت کھانا انسان کیلئے نقصان دہ ہے، مزید بر آں خنزیر گندگی اور غلاظت کھاتا ہے، جس کی وجہ سے سلیم الفطرت انسان اسے کھانے کیلئے تیار نہیں ہوتا اسے کھانا اس کی طبیعت پر بارِ گراں ہے؛ کیونکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے دی ہوئی فطرت سے متصادم بات ہے۔ خنزیر کا گوشت کھانے سے انسانی جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، ان منفی اثرات میں سے متعدد کو جدید طبی علوم نے بھی تسلیم کیا ہے، جن میں سے کچھ یہ ہیں: ٭…خنزیر کے گوشت کا شمار ایسے حیوانی گوشت میں ہوتا ہے جس میں کولیسٹرول کی مقدار بہت زیادہ پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے انسانی خون میں بھی کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو کہ شریانوں کے بند ہونے کا موجب بنتی ہے۔ اسی طرح خنزیر کے گوشت میں موجود فیٹی ایسڈ کے اجزائے ترکیبی بھی دیگر غذاؤں میں موجود فیٹی ایسڈز کے اجزائے ترکیبی سے مختلف ہے، جس کی وجہ سے دیگر فیٹی ایسڈز کی بہ نسبت خنزیر کے گوشت میں پایا جانے والا کولیسٹرول خون میں جلد جذب ہو جاتا ہے اور خون میں اس کی مقدار بڑھا دیتا ہے ۔ ٭…خنزیر کا گوشت اور چربی دونوں ہی بڑی آنت، مقعد، پروسٹیٹ، چھاتی اور خون کے کینسر کا باعث بنتے ہیں۔ ٭…خنزیر کا گوشت اور چربی دونوں ہی موٹاپے اور دیگر پیچیدہ امراض کا باعث بنتے ہیں۔ ٭…خنزیر کا گوشت خارش، الرجی اور معدے کے السر کا باعث بنتا ہے۔ ٭…خنزیر کا گوشت کھانے سے پھیپھڑوں میں ایسے انفیکشنز پیدا ہوتے ہیں جن کی وجہ ٹیپ ورم (کیڑوں کی ایک قسم)اور پھیپھڑوں میں پائے جانے والے کیڑے ہیں، اسی طرح پھیپھڑوں کے جرثومی امراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ٭…سور اپنے پیشاب اور پاخانے کو کھا جاتا ہے اس کے علاوہ یہ غذا کے طور پر ہر ملنے والی چیز کو کھا جاتا ہے چاہے وہ گندگی میں پلنے والے کیڑے ہوں یا اس کے ساتھیوں کا گند اور ان کے زخموں سے رسنے والا خون اور پیپ ہو یہ سب چیزیں وہ غذا کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ ٭…سور کے گوشت میں زہریلے مادے جذب کرنے کی استعداد ذیادہ ہوتی ہے ،کسی بھی اور جانور کے مقابلے میں سور کے گوشت میں زہریلے مادوں کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ غذا میں سے زیادہ سے زیادہ مقدار میں زہریلے مادے جذب کرتا ہے ٭…خنزیر کا گوشت کھانے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ خنزیر کا گوشت ٹیپ ورم کیڑوں کی ایک خاص قسم پر مشتمل ہوتا ہے جسے (TeeniaSolium)کہتے ہیں، اس کی لمبائی ۲سے ۳میٹر تک ہوتی ہے، خنزیر کا گوشت انسانی جسم میں اس کیڑے کے انڈوں کی نشو و نما کرتا ہے ۔اگر یہ انڈے دماغ میں پرورش پائیں تو انسان کو ہسٹیریا اور پاگل پن کا مریض بنا دیتا ہے ، اور اگر دل کے کسی حصے میں نشو و نما پائیں تو پھر یہ بلند فشار خون (بلڈ پریشر )، اور دل کے دورے کا باعث بنتا ہے، اسی طرح خنزیر کے گوشت میں دیگر کیڑے بھی پائے جاتے ہیں جن میں خنزیری کیڑا (Trichinosis worm)بھی ہے جو کہ گوشت کے اچھی طرح پکنے سے بھی نہیں مرتا، یہ کیڑا اگر جسم میں نشو و نما پائے تو فالج اور (Skin rashes)کا باعث بنتا ہے۔ طبی ماہرین بڑی تاکید کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ٹیپ ورم ان خطرناک امراض میں سے ایک ہے جو کہ خنزیر کا گوشت کھانے سے پیدا ہوتی ہیں ،یہ کیڑاانسان کی چھوٹی آنت میں پرورش پاتا ہے، یہ چند مہینوں میں بالغ کیڑا بن جاتا ہے اس کا جسم تقریباً ایک ہزار حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس کی لمبائی ۴سے ۱۰میٹر تک لمبی ہو سکتی ہے، یہ متاثرہ شخص کی آنتوں میں رہتا ہے اور اس کے انڈے فضلے کے ساتھ خارج ہوتے رہتے ہیں، جس وقت خنزیر اس کے انڈوں کو نگل کر ہضم کر جاتا ہے تو یہ خنزیر کی بافتوں اور پٹھوں میں لاروے کی شکل اختیار کر کے داخل ہو جاتا ہے، اس لاروے میں سیال مادہ اور ٹیپ ورم کا سر ہوتا ہے۔ اور جب انسان اس لاروے سے متاثر خنزیر کا گوشت کھاتا ہے تو وہ انسانی آنتوں میں پہنچ کر مکمل کیڑا بن جاتا ہے، یہ کیڑے انسانی جسم کی کمزوری کا باعث بھی بنتے ہیں، جس کی وجہ سے وٹامن (۱۲بی)کی کمی سامنے آتی ہے، جو کہ خون میں خاص نوعیت کی کمی کا باعث بنتا ہے، بسا اوقات اس کی وجہ سے اعصابی نظام میں بھی مسائل جنم لیتے ہیں ، یہ بھی ممکن ہے کہ بعض حالات میں یہ لاروے انسانی دماغ تک پہنچ کر تشنج کا باعث بنیں، یا ان سے دماغ میں بلڈ پریشر کی سطح بھی بلند ہو سکتی ہے، اس کے بعد کے اثرات میں شدید نوعیت کا سر درد، اعضا کا سکڑنا اور فالج بھی شامل ہے۔ اگر خنزیر کا گوشت اچھی طرح پکا ہوا نہ ہو تو اس کی وجہ سے خنزیری کیڑے (Trichinosis worm)بھی پیدا ہو جاتے ہیں، اور جب یہ طفیلی کیڑے چھوٹی آنت میں پہنچتے ہیں تو ۴سے ۵دن میں ان سے بہت سارے لاروے خارج ہوتے ہیں جو کہ آنتوں کی دیواروں میں داخل ہو کر خون میں شامل ہوجاتے ہیں اور وہاں سے جسم کی اکثر بافتوں کا رخ کرتے ہیں، یہ لاروے پٹھوں میں سے گزرتے ہوئے وہاں پر اپنی مخصوص تھیلیاں بناتے جاتے ہیں، ایسا مریض پٹھوں میں خوب درد محسوس کرتا ہے، بسا اوقات یہ مرض بڑھ کر گردن توڑ بخار یا دماغی سوزش کا باعث بھی بن جاتا ہے، اسی طرح یہ دل، پھیپھڑوں، گردوں کے پٹھوں اور اسی طرح اعصابی نظام کی سوزش کا باعث بھی بنتا ہے، یہ بیماری کبھی کبھار موت کا باعث بھی بن جاتی ہے۔

خنزیر نما خوراک

عراق پر امریکی حملے کے دوران بغداد کی ایک قدیم عمارت بمباری سے ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد شہر کی صفائی شروع ہوئی تو اس عمارت کا ملبہ ہٹاتے ہوئے گہرائی سے ایک قدیم عمارت کے آثار دریافت ہوئے۔ یہ کسی درس گاہ کے آثار تھے۔ وہاں سے ایک قدیم قلمی نسخہ مکمل حالت میں دستیاب ہوا جس کا نام تحفۃ الاغانی تھا۔ مصنف کا نام حضرت عبداللہ بن طاہر البغدادی رحمہ اللہ تعالی تھا۔ کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف عالم دین اور صوفی تھے۔ یہ کتاب ان کے کشف پر مبنی پیشینگوئیوں پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک باب خاص طور پر ہند یعنی ہندوستان کے بارے میں ہے۔ اس میں حضرت لکھتے ہیں کہ ہند کے کچھ علاقوں پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگی لیکن ایک طویل عرصہ تک یہ ملک افراتفری اور بے چینی کا شکار رہے گا۔ اس کی جو وجہ اس کتاب میں بیان کی گئی وہ بہت ہولناک ہے۔ حضرت لکھتے ہیں کہ اس علاقے کے مسلمان خنزیر نما خوراک کھانے کے عادی ہوں گے اور یہی سبب ہوگا کہ وہ بتدریج دین سے دور ہوتے جائیں گے۔ یہ بہت عجیب بات تھی کیونکہ پاکستان میں لوگ بظاہر ایسی کوئی چیز نہیں کھاتے۔( ۲۰۱۱ء)میں یونیورسٹی آف مشیگن کے پروفیسر سٹورٹ جونز جو ڈپارٹمنٹ آف بائیو ٹیکنالوجی کا سربراہ ہے، اس نے اپنی ریسرچ میں ثابت کیا کہ برائلر چکن اور خنزیر کے گوشت میں بنیادی طور پر کوئی فرق نہیں۔ برائلر جس ٹکنالوجی سے پیدا کیا گیا اس میں خنزیر کے ماڈل کو ہی فالو کیا گیا تھا۔ اس تحقیق کے سامنے آتے ہی اس پر پابندی لگا دی گئی اور ڈاکٹر جونز کو نفسیاتی مریض قرار دے کر ذہنی امراض کے اسپتال میں ڈال دیا گیا۔ نومبر ۲۰۱۵ء) میں ڈاکٹر سٹورٹ جونز کا اسی ہسپتال میں پراسرار حالات میں انتقال ہوگیا۔ اگر یہ تحقیق منظر عام پر آجاتی تو مغرب کی ملٹی بلین ڈالر برائلر چکن انڈسٹری تباہ ہوجاتی۔ اس انڈسٹری کے بَل پر انہوں نے مسلم ممالک میں اپنے ایجنٹس کو جیسے ارب پتی کیا، وہ سلسلہ بھی ختم ہوجاتا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمان حرام گوشت کھا کے جن روحانی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اس سے نجات مل جاتی۔ انہی دنوں تل ابیب یونیورسٹی میں کدّو کے خواص پر ایک ریسرچ پیش کی گئی۔ ڈاکٹر موشے ڈیوڈ جو پولینڈ سے ہجرت کرکے اسرائیل میں آیا تھا، وہ پچھلے بائیس برس سے کدّو کے خواص پر تحقیق کررہا تھا۔ (۲۰۱۴ء)کے موسم گرما میں یہ تحقیق مکمل کرکے یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں پیش کی گئی۔ اس ریسرچ پیپر میں یہ انکشاف کیا گیا کہ کدّو ایک ایسی مکمل غذا ہے جس کی مثال کسی اور غذا میں نہیں ملتی۔ اگر ایک انسان روزانہ دو وقت کدّو کھائے تو اس کی غذائی ضروریات بالکل پوری ہوجاتی ہیں۔ کدّو میں ایسے اجزاء شامل ہیں جو انسان کو ہر قسم کی بیماری سے بچا لیتے ہیں۔ کینسر اور ایڈز کے مریضوں کو تجرباتی طور پر ایک مہینہ کدّو کھلائے گئے تو وہ بالکل بھلے چنگے ہوگئے۔ کدّو کے جوہر سے ہر قسم کی بیماری کے علاج کی ویکسین تیار کرنے کا تجربہ بھی کیا گیا اور نتائج حیران کن تھے۔ کسی بھی بیماری کے آخری اسٹیج کے مریض کو بھی کدّو ویکسین لگائی گئی تو وہ ایک دن کے اندر پوری طرح صحت مند ہوگیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ڈاکٹر موشے ڈیوڈ کو بھی اس کے بعد منظر عام سے غائب کردیا گیا۔ تل ابیب ٹائمز میں ڈاکٹر ڈیوڈ کی بیوی مارشا ڈیوڈ کا انٹرویو بھی چھپا جس میں اس نے اپنے خاوند کی پراسرار گمشدگی پر سوالات اٹھائے اور اس کا تعلق ان کی ریسرچ سے جوڑتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اصل حقائق کو سامنے لایا جائے۔ یہ معاملہ بھی بعد میں وقت کی گرد میں گم ہوگیا۔ اس ریسرچ کو اگر آفیشلی طور پر سامنے لایا جاتا تو اسلام کی حقّانیت کھل کر پوری دنیا کے سامنے واضح ہوجاتی اور یہود و ہنود کا کفر روزِ روشن کی طرح واضح ہوجاتا۔

فاسٹ فوڈ کی پروڈکٹ پرلکھے ہوئے ’’حلال‘‘ کی حقیقت

فاسٹ فوڈ کی کمپنیوں میں جانوروں کا ذبح کرنے کا طریقہ بھی اسلام سے مختلف ہے۔ چنانچہ ہر زاویے سے حرام کے آمیزش کا اندیشہ ہے۔ کاروبار کو آگے بڑھانے اور مسلمانوں کو اپناگاہک بنانے کی غرض سے وہ تھوڑی بہت کوشش کرتے بھی ہیں تواس کا کوئی اعتبار نہیں تاوقتیکہ پورا کنٹرول معتبر ہاتھوں میں نہ آجائے ۔ سودی معیشت میں حلال و حرام کی تمیز نہیں رہ جاتی ۔چین بہت سے ملکوں کو کھانے پینے کی اشیاء بھی ایکسپورٹ کرتا ہے۔ چین سے درآمد کئے ہوئے گوشت کے ایک ڈبے پر لکھا ہوا تھا(ا للحم الخنزیر ذبحت علی طریقۃ الاسلام )جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ سور کا گوشت ہے اور اس جانور کو اسلامی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہے۔ یہ ہے غیر مسلموں کے یہاں حلال و حرام کا تصور۔

کیوں کریں حلال اور حرام کی تحقیق؟

عالمگیریت کی مقبولیت اورپھیلائو کے دوران ان دنوں خوردونوش میںحلال و حرام کی تحقیق خوب فروغ پارہی ہے۔متعدد مقامات پر فاسٹ فوڈ سینٹرقائم ہورہے ہیں جن میںمیکڈونلڈ، کے ایف سی، پیزا ہاٹ سب وے برگرکنگ جیسے خوشنما نام شامل ہیںجو لوگوں کو غیر طیب کھانے پر آمادہ کرتے ہیں جن میںاستعمال ہونے والے گوشت کے تعلق سے عقائد تو درکنار طبی تقاضوں کو بھی خاطر میں نہیں لایا جارہا ہے جبکہ صحت منداورغیر صحتمندحلال و حرام کھانوں اورغذائوںکا امتیاز دن بدن مٹتاجارہا ہے۔

غلبہ دین ہی اہل اسلام کے لئے اصل خوشی کا باعث ہے کافرکیسے مایوس ہوگئے؟

قَوْلُہُ تَعَالَی: (الْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ دِینِکُمْ)یَعْنِی أَنْ تَرْجِعُوا إِلَی دِینِہِمْ کُفَّارًاقَالَ الضَّحَّاکُ: نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ حِینَ فَتْحِ مَکَّۃَ، وَذَلِکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَتَحَ مَکَّۃَ لِثَمَانٍ بَقِینَ مِنْ رَمَضَانَ سَنَۃَ تِسْعٍ، وَیُقَالُ:سَنَۃَ ثَمَانٍ، وَدَخَلَہَا وَنَادَی مُنَادِی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَلَا مَنْ قَالَ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ فَہُوَ آمِنٌ، وَمَنْ وَضَعَ السِّلَاحَ فَہُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَہُ فَہُوَ آمن۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ {الْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ دِینِکُمْ}کے تحت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا: تمھاراان کے دین کی طرف لوٹناکافرہوکر، اس کے کافرمایوس ہوچکے ہیں ۔ حضرت سیدناامام ضحا ک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ تب نازل ہوئی جب مکہ مکرمہ فتح ہوا، اس کاواقعہ اس طرح ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے نوہجری ۲۲رمضان المبارک کو مکہ مکرمہ فتح فرمایا۔ بعض نے یہ بھی کہاہے کہ ۸ ہجری کو فتح ہوا۔ آپﷺمکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور حضورتاجدارختم نبوتﷺکے منادی نے ندادی کہ خبردار!جس نے لاالہ الااللہ کہاوہ امن میں ہوگااورجس نے ہتھیارڈال دیاوہ بھی امن میں ہے اورجس نے دروازہ بندکردیاوہ بھی امن میں ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر القرطبی (۶:۶۰) حضرت سیدناسعید بن جبیررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وَقَالَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ وقتادۃ:(الیوم)أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ فَلَمْ یَحُجَّ مَعَکُمْ مُشْرِکٌ، وَقِیلَ:أَظْہَرْتُ دِینَکُمْ وأمّنتکم من العدو۔ ترجمہ :حضرت سیدناسعید بن جبیررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کی تشریح اس طرح ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ میں نے تمھارادین کامل کردیا، اب کسی مشرک نے تمھارے ساتھ حج نہیں کیا، اس کایہ مطلب بیان کیاگیاہے کہ تمام مذاہب پرمیں نے تمھارے دین کوغالب کردیااوردشمنوں سے تم کو بے خوف کردیا۔ (تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (۲:۱۳)

تکمیل دین سے مراد ؟

الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ بالتنصیص علی قواعد العقائد والتوقیف علی اصول الشرائع من الفرائض والواجبات والسنن والآداب والحلال والحرام والمکروہ وموجبات الفساد لما لہ وجود شرعی کالصلوۃ والصوم والبیع ونحوہا وقوانین الاجتہاد فیما لا نص فیہ وجاز ان یکون المراد بإکمال الدّین بلوغہ صلی اللہ علیہ وسلم فی معارج القرب الی مرتبۃ یغبطہ الأولون والآخرون حتی غفر لکمال محبوبیتہ جمیع ذنوب أمتہ حتی الدماء والمظالم ترجمہ :امام قاضی ثناء اللہ حنفی پانی پتی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ یعنی اصول عقائدکی صراحت فرمادی ، فرائض وواجبات ، سنن ، مستحبات ، حلال وحرام ، مکروہات ، مفسدات ، مشروعات جیسے مفسدصوم وصلوۃ اوربیع وغیرہ اورغیرمنصوص میں اجتہادکے قوانین ہرچیزسے واقف کردیا، یہ بھی ہوسکتاہے کہ تکمیل دین سے مراد حضورتاجدارختم نبوتﷺکو قرب کے اس مرتبہ پر پہنچادیناہوجوتمام اگلے پچھلے باکمال انسانوں کے لئے قابل رشک ہے ۔ یہاں تک کہ آپ ْﷺکے مرتبہ محبوبیت پرفائزہونے کی وجہ سے ہی اللہ تعالی نے آپﷺکی امت کے تمام گناہ معاف فرمادیئے خواہ اللہ تعالی کے حقوق سے متعلق ہوں یابندوں کے حقوق سے ، حدیہ کہ آپس کی خونریزیاں اورمظالم بھی معاف فرمادیئے۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۳:۲۵)

دینی معاملات میں کفارکے ساتھ نرمی اختیارکرنے کی اجاز ت نہیں

فَلا تَخْشَوْہُمْ أَیْ فَلَا تَخَافُوا الْمُشْرِکِینَ فِی خِلَافِکُمْ إِیَّاہُمْ فِی الشَّرَائِعِ وَالْأَدْیَانِ، فَإِنِّی أَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ بِالدَّوْلَۃِ الْقَاہِرَۃِ وَالْقُوَّۃِ الْعَظِیمَۃِ وَصَارُوا مَقْہُورِینَ لَکُمْ ذَلِیلِینَ عِنْدَکُمْ، وَحَصَلَ لَہُمُ الْیَأْسُ مِنْ أَنْ یَصِیرُوا قَاہِرِینَ لَکُمْ مُسْتَوْلِینَ عَلَیْکُمْ، فَإِذَا صَارَ الْأَمْرُ کَذَلِکَ فَیَجِبُ عَلَیْکُمْ أَنْ لَا تَلْتَفِتُوا إِلَیْہِمْ، وَأَنْ تُقْبِلُوا عَلَی طَاعَۃِ اللَّہ تَعَالَی وَالْعَمَلِ بِشَرَائِعِہِ لَا حَاجَۃَ بِکُمُ الْآنَ إِلَی مُدَاہَنَۃِ ہَؤُلَاء ِ الْکُفَّارِ لِأَنَّکُمُ الْآنَ صِرْتُمْ بِحَیْثُ لَا یَطْمَعُ أَحَدٌ مِنْ أَعْدَائِکُمْ فِی تَوْہِینِ أَمْرِکُمْ۔ملتقطاً۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اہل ایمان سے فرمایاکہ مشرکین سے اس وجہ سے نہ ڈروکہ وہ شرائع وادیان میں تمھاری مخالفت کریں گے کیونکہ میں تم پرحکومت غالبہ اورقوت عظیمہ سے انعام کروںگا، یہ تمھارے ہاں مغلوب اورذلیل ہوجائیں گے اوراس سے مایوس ہوجائیں گے کہ وہ غالب آئیں اوروہ تم پرحکومت کریں۔ جب معاملہ اس طرح ہے توتم پر لازم ہے کہ ان کو خاطرمیں ہی نہ لائواورتم اللہ تعالی کی اطاعت بجالائواوراس کی دی ہوئی تعلیمات پرعمل کرو۔ اس آیت کریمہ کامعنی یہ ہے کہ اب تم کو کفارسے دینی معاملات میں نرمی اختیارکرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب تم اس مقام پرہوکہ تمھارے دشمنوں میں سے کوئی تمھیں ذلیل کرنے کاسوچ بھی نہیں سکتا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۱:۲۸۷)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh