صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2307 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۲۰۔۲۱۔ وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْکُمْ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,976

سوال (Question):

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۲۰۔۲۱۔ وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْکُمْ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

یہودیوں کی گستاخیوں پراللہ تعالی کاحضورتاجدارختم نبوتﷺکو تسلیاں دینا

{وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآء َ وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا وَّ اٰتٰیکُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ }(۲۰){یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللہُ لَکُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ }(۲۱) ترجمہ کنزالایمان: اور جب موسیٰ نے کہا اپنی قوم سے اے میری قوم اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو کہ تم میں سے پیغمبر کیے اور تمہیں بادشاہ کیا اور تمہیں وہ دیا جو آج سارے جہان میں کسی کو نہ دیا۔اے قوم اس پاک زمین میں داخل ہو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھی ہے اور پیچھے نہ پلٹو کہ نقصان پر پلٹو گے۔ ترجمہ ضیاء الایمان :اور یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنی قوم سے فرمایا:اے میری قوم!اللہ تعالی کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب اس نے تم میں انبیاء کرام علیہم السلام پیدا فرمائے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ عطا فرمایا جو سارے جہان والوں میں کسی کو نہ دیا۔(حضرت سیدناموسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:اے میری قوم !اس پاک سرزمین میں داخل ہو جائوجو اللہ تعالی نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اورتم واپس نہ پھرو کہ تم نقصان اٹھاتے ہوئے پلٹوگے۔

یہودی ہردورمیں گستاخ رہے ہیں

(وَإِذْ قالَ مُوسی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ اذْکُرُوا نِعْمَتَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ)تَبْیِینٌ مِنَ اللَّہِ تَعَالَی أَنَّ أَسْلَافَہُمْ تَمَرَّدُوا عَلَی مُوسَی وَعَصَوْہُ، فَکَذَلِکَ ہَؤُلَاء ِ عَلَی مُحَمَّدٍ عَلَیْہِ السَّلَامُ، وَہُوَ تَسْلِیَۃٌ لَہُ، أَیْ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اذْکُرُوا نِعْمَۃَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ، وَاذْکُرُوا قِصَّۃَ مُوسیَ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی کی طرف سے بیان ہے کہ ان یہودیوں کے بڑے بزرگوں نے (بنی اسرائیل ) نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام پرسرکشی کی اوراورآپ علیہ السلام کی نافرمانی کی ۔ اسی طرح انہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے اوپرسرکشی کی ۔ اس آیت کریمہ میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکے لئے تسلی ہے ۔ یعنی اللہ تعالی نے فرمایا: اے اہل ایمان اللہ تعالی کی نعمت کو یادکروجو تم پر ہے اورحضرت سیدناموسی علیہ السلام کاواقعہ یادکرو۔ (تفسیر القرطبی : ابو عبد اللہ محمدبن احمد بن ابی بکر شمس الد ین القرطبی(۶:۱۲۳)

انبیاء کرام علیہم السلام کے گستاخوں کاقتل ہونابھی انعام ہے

وَآتاکُمْ ما لَمْ یُؤْتِ أَحَداً مِنَ الْعالَمِینَ فی زمانہم لشرف صحبۃ الأنبیاء من مراتب القرب عند اللہ مع الرفعۃ فی الدنیا والکرامات مثل فلق البحر وإنزال انواع الرجز علی أعدائہم دونہم۔ ترجمہ :امام قاضی ثناء اللہ حنفی پانی پتی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انبیاء کرام علیہم السلام کی برکت سے اپناقرب ، دنیامیں عزت وبزرگی اورمختلف معجزات مثلاً سمندرکو پھاڑکرراستہ بنالینااورانبیاء کرام علیہم السلام کے گستاخوں پرطرح طرح کے عذاب کانزول ،یہ سب وہ انعامات ہیں جو اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو عطافرمائے اورکسی کو اس زمانے میں نہیں عطافرمائے۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۳:۷۳) اس سے معلوم ہواکہ انبیاء کرام علیہم السلام کے گستاخوں اورانبیاء کرام علیہم السلام کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخوں کاقتل ہونااللہ تعالی کے انعامات میں سے ہے ۔

بنی اسرائیل نے جہاد سے انکارکردیا

أَخَذَ عَلَیْہِمُ الْمِیثَاقَ وَذَکَّرَہُمْ مُوسَی نِعَمَ اللَّہ تَعَالَی وَأَمَرَہُمْ بِمُحَارَبَۃِ الْجَبَّارِینَ فَخَالَفُوا فِی الْقَوْلِ فِی الْمِیثَاقِ، وَخَالَفُوہُ فِی مُحَارَبَۃِ الْجَبَّارِینَ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے بنی اسرائیل سے عہدلیااورحضرت سیدناموسی علیہ السلام نے انہیں اللہ تعالی کی نعمتیں یاددلائیں اورانہیں جبارین سے جہاد کرنے کاحکم دیاتوانہوںنے میثاق وعہدکی مخالفت کی اورحضرت سیدناموسی علیہ السلام کے حکم پرجبارین کے خلاف جہادکرنے سے انکارکردیا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۱:۳۳۳)

خدمت شاہی سلسلہ انہیں سے شروع ہوا

وَقَالَ الضَّحَّاکُ: کَانَتْ مَنَازِلُہُمْ وَاسِعَۃً وَفِیہَا مِیَاہٌ جَارِیَۃٌ، وَکَانَتْ لَہُمْ أَمْوَالٌ کَثِیرَۃٌ وَخَدَمٌ یَقُومُونَ بِأَمْرِہِمْ، وَمَنْ کَانَ کَذَلِکَ کَانَ مَلِکًا۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام ضحاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے گھروسیع ، ان میں پانی جاری تھا، ان کے پاس کنیزیں ، اموال اوران کے پاس ان کے احکامات کو پوراکرنے کے لئے نوکرتھے ، توجوشخص اس حال پرہووہ بادشاہ ہی ہوتاہے۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۱:۳۳۳)

مال ودولت کی فراوانی جہاد سے روگردانی کاسبب ہے

مِنَ النِّعَمِ الَّتِی ذَکَرَہَا اللَّہ تَعَالَی فِی ہَذِہِ الْآیَۃِ قَوْلُہُ آتاکُمْ مَا لَمْ یُؤْتِ أَحَداً مِنَ الْعالَمِینَ وَذَلِکَ لِأَنَّہُ تَعَالَی خَصَّہُمْ بِأَنْوَاعٍ عَظِیمَۃٍ مِنَ الْإِکْرَامِ: أَحَدُہَا: أَنَّہُ تَعَالَی فَلَقَ الْبَحْرَ لَہُمْ، وَثَانِیہَا:أَنَّہُ أَہْلَکَ عَدُوَّہُمْ وَأَوْرَثَہُمْ أَمْوَالَہُمْ، وَثَالِثُہَا: أَنَّہُ أَنْزَلَ عَلَیْہِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَی، وَرَابِعُہَا:أَنَّہُ أَخْرَجَ لَہُمُ الْمِیَاہَ الْعَذْبَۃَ مِنَ الْحَجَرِ، وَخَامِسُہَا: أَنَّہُ تَعَالَی أَظَلَّ فَوْقَہُمُ الْغَمَامَ، وَسَادِسُہَا: أَنَّہُ لَمْ یَجْتَمِعْ لِقَوْمٍ الْمُلْکُ وَالنُّبُوَّۃُ کَمَا جُمِعَ لَہُمْ، وَسَابِعُہَا: أَنَّہُمْ فِی تِلْکَ الْأَیَّامِ کَانُوا ہُمُ الْعُلَمَاء ُ باللَّہ وَہُمْ أَحْبَابُ اللَّہ وَأَنْصَارُ دِینِہِ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں بیان کردہ نعمتوں میں تیسری نوع نعمت کابیان یوں ہے کہ { آتاکُمْ مَا لَمْ یُؤْتِ أَحَداً مِنَ الْعالَمِین}اورتمھیں وہ دیاجو آج سارے جہان میں کسی کو نہ دیا۔ اسی لئے کہ اللہ تعالی نے انہیں اکرام کی ان عظیم انواع سے مخصوص کیا۔ ٭…ان کے لئے سمندرکوپھاڑا۔ ٭…ان کے دشمنوں کوہلاک کرکے ان کے اموال کاان کو وارث بنایا۔٭…ان پرمن وسلوی اتارا۔٭…ان کے لئے تیہ سے میٹھاپانی جاری فرمایا٭…ان پربادلوں نے سایہ کیا٭…ان کے اندرنبوت اورحکومت کو جمع فرمایاجوکہ کسی قوم کے اندرجمع نہ تھی ٭…ان دنوں یہی اللہ تعالی کی معرفت رکھنے والے اوریہی اللہ تعالی کے محبوب اوراس کے دین کے معاون تھے ۔ حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے ان پران نعمتوں کے ذکراورتفصیل کے بعد ان کو جہادکاحکم دیا( جس کاانہوںنے انکارکردیا) (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۱:۳۳۳)

معارف ومسائل

(۱) انبیاء کرام علیہم السلام کی اولاد ہونااوران کاہم قوم ہونابھی اللہ تعالی کی بڑی نعمت ہے ،لھذاآج حضرات سادات کرام بہت شرافت وعظمت والے ہیں کہ یہ حضورتاجدارختم نبوت ْﷺکی اولاد پاک سے ہیں بشرطیکہ مومن ہوں ، کافرکے لئے نبی کابیٹاہونابھی بیکارہے دیکھوآج اسرائیلیوں کی کوئی عزت نہیں ، حالانکہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کی اولاد ہیں کیونکہ وہ کافرہوچکے ۔ کنعان ذلیل ہوااگرچہ وہ حضرت سیدنانوح علیہ السلام کابیٹاتھاکیونکہ وہ کافرتھا۔ (۲) حکومت وسلطنت بھی اللہ تعالی کی بڑی نعمت ہے ، ہرآزادقو م کو اس کی قدراوراس کی حفاظت کرنی چاہئے ۔ یہ دیکھ لوکہ ہجرت سے پہلے تیرہ سالہ تبلیغ سے صرف چندلوگ مسلمان ہوئے اوربعدہجرت جب اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکو سلطنت اورحکومت عطافرمائی تودس سالہ تبلیغ سے ہزاروں بلکہ لاکھ سے زائد لوگ اسلام لے آئے۔ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کی فتوحات اوراسلامی تبلیغ قیامت تک مشہوررہے گی ۔ اللہ تعالی ہمارے پاکستان کو دائم وقائم رکھے۔ تمام اسلامی ممالک کو ترقیاں دے ۔ (۳) جس سرزمین میں اللہ تعالی کے مقبول بندے رہیں وہ مقدس ہوجاتی ہے ، سرزمین فلسطین اس لئے مقدس ہے کہ وہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کاجائے قیام ہے ۔ (۴) اگرکسی متبرک مقام پرمشرکین اورکفارقبضہ کرلیں تواس سے ان مقامات کے تقدس میں کوئی فرق نہیں پڑتادیکھواس وقت زمین بیت المقدس پرقوم جبارین کاقبضہ تھامگراسے ارض مقدس فرمایاگیا، جب کعبۃ اللہ شریف میں بت تھے تب بھی وہ بیت اللہ تھا، اگرمسجد شریف میں کتے گھس جائیں تومسجد کی عظمت میں فرق نہیں پڑتا۔ (۵) جہاد بڑی پرانی عبادت ہے ، حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے زمانے میں بھی تھی کیونکہ داخلہ سے مراد بیت المقدس میں فاتحانہ ، غازیانہ اورمجاہدانہ داخلہ ہے ۔ (تفسیرنعیمی ( ۶: ۳۳۷) (۶)حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو جہاد پرابھارنے کے لئے فرمایاکہ تم انبیاء کرام علیہم السلام کی اولاد بھی ہواوربادشاہوں کی بھی لھذاتمھاری غیرت ایمانی جو ش میں آنی چاہئے ، اپنے باپ داداکاملک جہادکرکے چھین لو ، چونکہ ان پران کے و عدہ توڑنے کے سبب اللہ تعالی کی طرف سے لعنت نازل ہوچکی تھی تواس لعنت کے نتیجے میں وہ قوم حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے کلام سے ذرہ بھربھی متاثرنہ ہوئی ۔ (۷) جب بھی ایک قوم ایک عرصہ تک غلامی کی حالت میں رہتی ہے تواس میں بلندمقاصدکے لئے جدوجہدکی استعداد باقی نہیں رہتی ، وہ غلامی کو پسندکرنے لگتی ہے اگرچہ ذلت ونامرادی کے ساتھ ہو، اورمقاصدکی جدوجہدسے جی چرانے لگتی ہے ، اگرچہ اس کانتیجہ کامرانی اورفتح ہی کیوں نہ ہو۔ اوریہی حال بنی اسرائیل کاتھا، مقاصدامورکے لئے ان میں عزت وہمت نہ تھی ، بزدلی اوربے طاقتی نے قدم پکڑلئے تھے ، جب حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے ان کو حکم دیاکہ سرزمین کنعان میں داخل ہوجائوتمھاری موعودہ سرزمین ہے توکہنے لگے کہ وہاں بڑے طاقتورلوگ رہتے ہیں ان کے مقابلے کی ہم میں کوئی طاقت نہیں ہے ، جب تک کہ وہ وہاں سے نکل نہیں جاتے ، ہم یہاں سے کوئی اقدام نہیں کریں گے ۔ توراۃ شریف میں ہے کہ بنی اسرائیل جہاد کی دہشت سے اس قدربے طاقت ہوگئے کہ روروکرکہتے کہ یااللہ !تونے ہمیں مصرسے کیوں نکالا؟ کیااسی لئے کہ ہم کنعانیوں کی تلوارں سے قتل ہوجائیں ؟ انہوںنے ارادہ کرلیاتھاکہ مصر واپس چلے جائیں اورحضرت سیدناموسی علیہ السلام کووہیں تنہاچھوڑدیں ، اس پراللہ تعالی کاحکم شریف ہواکہ چالیس سال تک یہ لوگ جزیرہ نماسینا کے میدانوں میں ہی پڑے رہیں گے ، اس میں مصلحت یہ تھی کہ چالیس سال کے اندرپچھلی نسل ختم ہوجائے گی ،جسے مصرکی غلامانہ زندگی نے نکمااورکاہل کردیاتھا، اورایک نئی نسل پیداہوجائے گی جس نے بیابان کی آزادانہ آب وہوامیں نشوونماپائی ہوگی اورغلامانہ زندگی کے زہرسے محفوظ ہوگی ۔ چنانچہ جب چالیس سال گزرگئے اورایک نئی نسل ظہورمیں آگئی تووہ بڑھی تواس سرزمین پر قابض ہوگئی ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh