صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2309 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۳۲۔ مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرٰٓء ِیْلَ اَنَّہ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِنَفْسٍ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,188

سوال (Question):

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۳۲۔ مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرٰٓء ِیْلَ اَنَّہ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِنَفْسٍ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

’’جس نے ایک انسان کو قتل کیااس نے ساری انسانیت کوقتل کیا‘‘کامطلب؟

{مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرٰٓء ِیْلَ اَنَّہ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِنَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا وَلَقَدْ جَآء َ تْہُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ }(۳۲) ترجمہ کنزالایمان: اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلالیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے پھر بیشک ان میں بہت اس کے بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک جان کو قتل سے بچا کرزندہ رکھا اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول کریم ﷺ روشن دلیلوں کے ساتھ آئے پھر بیشک ان میں سے بہت سے لوگ اس کے بعد بھی زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں۔ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی رِوَایَۃِ عِکْرِمَۃَ:مَنْ قتل نبیا أو إمام عدل فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا، وَمَنْ شَدَّ عَضُدَ نَبِیٍّ أَوْ إِمَامٍ عَدْلٍ فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کامعنی یہ ہے کہ جس نے اللہ تعالی کے کسی نبی کو قتل کیایاانصاف کرنے والے حاکم کو قتل کردیاگویااس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا، اورجس نے اس کو زندہ کیااوران کی مددونصرت کی تواس نے گویاتمام لوگوں کو زندہ کیا۔ (تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (۲:۴۲) ایک معنی یہ بھی ہے وَقِیلَ:الْمَعْنَی أَنَّ مَنِ اسْتَحَلَّ وَاحِدًا فَقَدِ اسْتَحَلَّ الْجَمِیعَ، لِأَنَّہُ أَنْکَرَ الشَّرْعَ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اوربعض علماء کرام نے اس آیت کریمہ کایہ معنی بھی بیان کیاہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس نے کسی شخص کے قتل کوحلال جاناتوتحقیق اس نے تمام لوگوں کے قتل کوحلال جاناکیونکہ اس نے شرع مبارکہ کاانکارکردیاہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۶:۱۴۶) اورجس نے کسی نبی کی مددکی تواس نے تمام انسانوں کو زندہ کردیا وَقَالَ عِکْرِمَۃُ وَالْعَوْفِیُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:مَنْ قَتَلَ نَبِیًّا أَوْ إِمَامَ عَدْلٍ، فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا، وَمَنْ شَدَّ عَلَی عَضُدِ نَبِیٍّ أَوْ إِمَامِ عَدْلٍ فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعکرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ جس نے اللہ تعالی کے کسی نبی کو قتل کردیایاکسی خلیفہ کو قتل کردیاتواس نے گویاسب لوگوں کو قتل کردیااورجس نے کسی نبی یاکسی انصاف کرنے والے حاکم کی مددکی تواس نے گویاسب لوگوں کو زندہ کردیا۔ (تفسیر القرآن العظیم :أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۳:۸۴)

جس نے بندہ مومن کو قتل کیااس نے سب لوگوں کو قتل کیا

عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ:فَکَأَنَّما قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعاً مَنْ قَتَلَ النَّفْسَ الْمُؤْمِنَۃَ مُتَعَمِّدًا، جَعَلَ اللَّہُ جَزَاء َہُ جَہَنَّمَ، وغضب عَلَیْہِ وَلَعَنَہُ، وَأَعَدَّ لَہُ عَذَابًا عَظِیمًا،یَقُولُ: لَوْ قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا لَمْ یَزِدْ عَلَی مِثْلِ ذَلِکَ الْعَذَابِ۔وَمَنْ أَحْیاہا فَکَأَنَّما أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعاً قَالَ:مَنْ لَمْ یَقْتُلْ أَحَدًا فَقَدْ حَیِیَ النَّاسُ مِنْہُ. ترجمہ :حضرت سیدناامام مجاہدرضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں کہ جس نے بالقصدبندہ مومن کو قتل کردیاوہ شخص جہنمی ، اللہ تعالی کادشمن ، ملعون اورمستحق سزاہوجاتاہے ، پھراگروہ سب لوگوں کو ہی مارڈالتاتواس سے زیادہ اسے عذاب ہوتااورجو شخص قتل سے رک جائے گویاکہ اس کی طرف سے سب کی زندگی محفوظ ہے ۔ (تفسیر القرآن العظیم :أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۳:۸۴)

ایک بندہ مومن کاقتل

عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:قَتْلُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْیَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد ماجد حضرت سیدنابریدہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: اللہ تعالی کے نزدیک ایک بندہ مومن کاقتل ساری دنیاکے زوال سے بھی بڑاہے ۔ (السنن للنسائی: أبو عبد الرحمن أحمد بن شعیب بن علی الخراسانی، النسائی (۷:۲۷)

ایک بندہ مومن کاقتل اورساری دنیاکازوال

عَنِ الْبَرَاء ِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَزَوَالُ الدُّنْیَا أَہْوَنُ عَلَی اللَّہِ مِنْ قَتْلِ مُؤْمِنٍ بِغَیْرِ حَقٍّ۔ ترجمہ :حضرت سیدنابراء ابن عاز ب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: ساری دنیاکی تباہی اللہ تعالی کے نزدیک ایک بندہ مومن کے قتل کے مقابلے میں حقیرہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید(۲:۸۷۴) بندہ کی حرمت کعبہ مشرفہ کی حرمت سے بڑھ کرہے حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ:رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَطُوفُ بِالْکَعْبَۃِ، وَیَقُولُ: مَا أَطْیَبَکِ وَأَطْیَبَ رِیحَکِ، مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، لَحُرْمَۃُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّہِ حُرْمَۃً مِنْکِ، مَالِہِ، وَدَمِہِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِہِ إِلَّا خَیْرًا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ میں نے دیکھاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکعبہ مشرفہ کاطواف کررہے تھے اورفرمارہے تھے کہ توکیساپاکیزہ ہے ، تیری خوشبوکیسی اچھی ہے ، تیری عظمت کس قدربڑی ہے ، تیری عزت کتنی عظیم ہے لیکن قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، مومن کے مال وخون کی عزت اورحرمت تیری حرمت سے بھی بڑھ کرہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید(۲:۱۲۹۷)

مذہب انسانیت کے پیروکاروں کااصل ہدف دین کونشانہ بناناہے

پاکستان میںموجودلبرل وسیکولرطبقہ کے دانشوروں کا مقبول ترین جملہ یہ ہے کہ انسانیت ہونی چاہئے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان انسانوں کی قدر نہیں کر رہا؟ انسانیت کا درس دینے والے ہر انسان سے یہ سوال پوچھا جائے کہ انسانیت کا درس مذہب کو مٹانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے یا انسانوں کا خیال رکھنے کی دعوت دی جا رہی ہے؟ اس پر چند نکات بیان کرتے ہیں: انسانیت کے لئے بڑے بڑے جلسے کروانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وزیر اعظم،قومی اسمبلی کے ممبران ،اسٹیبلشمنٹ، سرکاری اداروں میں کام کرنے والے افسران سے لے کر ایک عام نائب قاصد کو انسانیت کا درس دیا جائے کیونکہ یہ ادارے اپنا کام نہیں کر رہے بلکہ خالی کاغذی کاروائی کی جا رہی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو یہ بتا دیں کہ ادارے میں آنے والے ہر انسان سے کیساسلوک کیا جاتا ہے اور کیا ادارے انسانیت کے لئے کام کر رہے ہیں؟ انسانیت کا رونا رونے والوں سے یہ بھی سُنا ہے کہ عُمرہ کرنے کی کیا ضرورت ہے، قربانی کرنے کی کیا ضرورت ہے، یہی پیسہ غریبوں میں بانٹ دینا چاہئے حالانکہ ہر کوئی اپنے اپنے رسم و رواج پر عمل کرتا ہے تو مذہب پر چلنے والوں کو کیوں یہ تلقین کی جاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسانیت کا درس دینے کی آڑ میں مذہب کو بدنام کیا جا رہا ہے اور پھر اُمید بھی مذہبی لوگوں سے لگائی جاتی ہے۔ ہمارے مُلک کی تجزیاتی رپورٹ کہتی ہے کہ ہماری نسلیں(۲۰۲۵ء)کے بعد پانی کو ترسیں گی۔ ڈیم بنانے میں کون کون رکاوٹ ہیں، کیا وہ انسانیت کے خلاف نہیں ہیں؟ اب کیوں نہیں بول رہے کیونکہ ہم کوئی کام مستقل مزاجی سے نہ کرتے ہیں اور نہ سوچتے ہیں اسلئے ہم ایک قوم نہیں بلکہ ہجوم ہیں۔ ہمارا معاشرتی نظام ہی درست نہیں ہے کیونکہ سادگی سے ہم کوئی کام نہیں کرتے بلکہ بچہ پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک سارے کام رسماً اور قرضہ پکڑ کرکئے جاتے ہیں جن پر ثواب نہیں ملتا اور کسی میں ہمت نہیں ہوتی کہ رسم و رواج کے خلاف لڑ سکے کیونکہ ہمت کس انسان نے کرنی ہے؟ ہمارے مُلک میں ایک کروڑ نشہ کرنے والے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہر۲۴واں انسان نشئی ہے ، آپ قبرستان میں موجود نشے کے اڈے نہیں بند کرا سکتے کیونکہ وہ بھی کسی کی سرپرستی میں چلتے ہیں، انسانیت کا درس دینے والوں کو یہ بھی انسانوں پر ظلم نظر نہیں آتا۔ انسانیت کا درس وزیر اعظم، قانون بنانے والے اداروں، جاگیر داروں، وڈیروں، یا کس کو دینا چاہئے کیونکہ جو نماز نہیں پڑھتا اُس کوبے نمازی کہا جائے۔اسلئے جو انسان انسانیت کا حق ادا نہیں کرتا کیا وہ انسان ہو سکتا ہے؟

مذہب انسانیت کے پیروکاروں سے چنددردمندانہ سوالات

جب بھی دنیا میں کہیں، نسلی و مذہبی تعصب کی بنیاد پہ کوئی ظلم و زیادتی ہوتی ہے تو ایک گروہ، جو دراصل لبرل،سیکولر اور مذہب بیزار افراد پر مشتمل ہوتا ہے، لوہا گرم دیکھ کر، اسلام کی نفی کرتے ہوئے، انسانیت، سب سے بڑا مذہب کا چورن بیچنا شروع کر دیتا ہے۔ حقیقت یہ کہ ایسے افراد، زندگی میں پٹڑیاں بدلتے رہے ہوں گے۔ اگر کوئی ماضی میں مشہور ملحد، اشتراکی یا دہریہ رہا ہوگا تو (ہزاروں انسانوں کو گمراہ کرنے کے بعد)، بڑھاپے میں بناوٹی صوفی بن گیا ہوگا۔ اب آتے ہیں اس سوال کی طرف، کہ کیا واقعی انسانیت ایک مذہب ہے یا وہ وصف ہے جو انسان کو بنانے والے نے اس کے اندر رکھ دیا ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے ضروری ہے کہ ہم، کچھ مزید نکات کو ذہن نشیں کر لیں۔ اوّل یہ کہ آج کی دنیا میں پائے جانے والے مذاہب کو ہم دو اقسام میں تقسیم کر سکتے ہیں: پہلی قِسم:آسمانی مذاہب کی ہے (جو اللہ کی طرف سے آئے)جیسے، یہودیت، عیسائیت اور اسلام (حالانکہ آسمانی مذہب صرف اسلام ہی ہے، باقی مذاہب، اس کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں)۔ {ان الدین عنداللہِ الاسلام}۔ اور دوسری قسم:شخصی مذاہب کی ہے (جو کسی نہ کسی انسان نے بنائے ہیں یا انسانوں سے منسوب ہیں)، جیسے بُدھ مَت، جین مت، سکھ مذہب، کنفیوشزم، مجوسیت وغیرہ۔ تو پہلا سوال یہ ہے کہ اگر انسانیت ایک مذہب ہے تو اس کی تاریخ کیا ہے، یہ کب بنا، اس کا بنانے والا کون ہے، اللہ تعالی کانازل کردہ ہے یا کوئی انسان اس کاموجدہے؟ ہر مذہب کے اندر، پھر چاہے وہ سماوی ہو یا انسانی، عبادت، پوجا پاٹ یا پرستش کے کچھ طریقے مخصوص ہوتے ہیں۔ ان کے کچھ مقدس مقامات ہوتے ہیں، جہاں ان کے ماننے والے جا کر عبادت کرتے ہیں۔ جیسے، مسجد، مندِر، کلیسا، گوردوارہ وغیرہ۔ تو دوسرا سوال یہ کہ اگر انسانیت ایک مذہب ہے تو اس مذہب کے مقدس مقامات کا کیا نام ہے؟ ہر مذہب کے اندر، انسانوں کی معاشرتی زندگی کے حوالہ سے کچھ نہ کچھ احکام، ہدایات یا کم از کم رسوم و رواج ہوتے ہیں۔ مثلاً، ہر مذہب کے اندر مرد اور عورت کے درمیان نکاح کا کوئی نہ کوئی طریقہ ہوتا ہے۔ ہر مذہب کے اندر، مرنے والے کی لاش کو ٹھکانے لگانے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ہوتا ہے۔ تو تیسرا سوال یہ ہے کہ مذہبِ انسانیت، اپنے ماننے والوں کو نکاح اور میَّتوں کو ٹھکانے لگانے کے حوالہ سے کیا رہنمائی کرتا ہے؟ ہر مذہب، اپنے ماننے والوں کو، موت کے بعد کی زندگی کا کوئی نہ کوئی تصور دیتا ہے پھر چاہے وہ تصور، درست ہو، مجہول و مبہم ہو یا کلیتاً غلط۔ ہمارا چوتھا سوال یہ ہے کہ مذہبِ انسانیت، دنیا سے رخصت ہونے کے بعد کی زندگی کے بارے میں کیا نظریہ رکھتا ہے؟ ہر مذہب کے پاس تصورِ خدا ہے، پھر چاہے اس کی جو بھی صورت ہو۔ تو ہمارا پانچواں سوال یہ ہے کہ مذہبِ انسانیت کے نزدیک، خدا تعالی کا کیا تصور ہے؟ اگر انسانیت سب سے بڑا مذہب کا نعرہ بلند کرنے والوں کے پاس مندرجہ بالا پانچ سوالات کے جوابات ہیں تو برائے مہربانی، ہمیں عنایت فرما دیں، اگر نہیں ہیں، تو پھر مان لیں کہ انسانیت مذہب نہیں بلکہ انسان کا شرف اور وصف ہے۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh