Fatwa #2311
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ مائدہ آیت ۳۵۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَجٰہِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,400
سوال (Question):
تفسیر سورہ مائدہ آیت ۳۵۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَجٰہِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جہاد کے وسیلہ سے رب تعالی کاقرب حاصل کرو
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَجٰہِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ }(۳۵) ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والواللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے اہل ایمان !اللہ تعالی سے ڈرو !اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرواور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔جہاد سے ہی دین کی مضبوطی ہے
وَلَمَّا کَانَتِ الْآیَۃُ نَزَلَتْ فِی الْعُرَنِیِّینَ وَالْکَلْبِیِّینَ، أَوْ فِی أَہْلِ الْکِتَابِ الْیَہُودِ، أَوْ فِی الْمُشْرِکِینَ عَلَی الْخِلَافِ فِی سَبَبِ النُّزُولِ، وَکُلُّ ہَؤُلَاء ِ سَعَی فِی الْأَرْضِ فَسَادًا، نَصَّ عَلَی الْجِہَادِ، وَإِنْ کَانَ مُنْدَرِجًا تَحْتَ ابْتِغَاء ِ الْوَسِیلَۃِ لِأَنَّ بِہِ صَلَاحَ الْأَرْضِ، وَبِہِ قِوَامَ الدِّینِ، وَحِفْظَ الشَّرِیعَۃِ، فَہُوَ مُغَایِرٌ لِأَمْرِ الْمُحَارَبَۃِ، إِذِ الْجِہَادُ مُحَارَبَۃٌ مَأْذُونٌ فِیہَا، وَبِالْجِہَادِ یُدْفَعُ الْمُحَارِبُونَ۔ ترجمہ :امام أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان المتوفی : ۷۴۵ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس سے پہلی آیت کریمہ میں قبیلہ عرینہ یاکلبی ، یااہل کتاب یہودونصاری یامشرکین کاتذکرہ تھاجو زمین میں فساد پھیلانے کی کوششیںکرتے تھے ان کے خلاف جہادکرنے پر یہ آیت کریمہ نص ہے اوریہ وہ جنگ ہے جس کی اللہ تعالی کی طرف سے اجازت ہے اوراس جنگ سے زمین پرامن قائم ہوتاہے ، دین کو مضبوطی اورشریعت کو حفاظت ملتی ہے گویاکہ حرام اورناجائز جنگ کے بعد افضل جنگ کو بیان فرمایاگیا۔ کیونکہ جہاد محاربہ کی اجازت دی گئی ہے اورجہادسے ہی دشمنوں کاقلع قمع کیاجاسکتاہے ۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان (۴:۲۴۲)رب تعالی اگرقوت دے تو دفاع دین میں خرچ کرو!
وَأَیْضًا فَفِیہِ تَنْبِیہٌ عَلَی أَنَّہُ یَجِبُ أَنْ تَکُونَ الْقُوَّۃُ وَالْبَأْسُ الَّذِی لِلْمُحَارِبِ مَقْصُورًا عَلَی الْجِہَادِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ تَعَالَی، وَأَنْ لَا یَضَعَ تِلْکَ النَّجْدَۃَ الَّتِی وَہَبَہَا اللَّہُ لَہُ لِلْمُحَارَبَۃِ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ تَعَالَی۔ ترجمہ :امام أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان المتوفی : ۷۴۵ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اس بات کی تنبیہ بھی ہے کہ جنگجوآدمی کے پاس جو قوت وصلاحیت ہوتی ہے اس پرلازم ہے وہ اسے جہاد فی سبیل اللہ تک ہی محدودرکھے اوراللہ تعالی کی عطاکردہ بہادری کی اس صفت کو اللہ تعالی کی نافرمانی والی لڑائیوں میں ضائع نہ کرے ۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان (۴:۲۴۲) حضورامیرالمجاہدین حضرت اقدس مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی نے ایک دن اس فقیرکو نصیحت فرماتے ہوئے فرمایاکہ اگراللہ تعالی نے تم کو لکھنے کی توفیق دی ہے توتم نے زندگی ساری اس قوت وطاقت کو صرف اورصرف اسلام کے دفاع میں اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت وناموس کے دفاع میں صرف کرناہے ۔ جب امام أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان رحمہ اللہ تعالی کے اس قول پرپہنچاتومجھے حضرت امیرالمجاہدین حفظہ اللہ تعالی کی بات یادآگئی اس لئے نقل کردی اوریہ بھی معلوم ہواکہ بڑوں کی باتیں بھی بڑی ہوتی ہیں۔جہاد تمام عبادات میں جامع ترین عبادت ہے
وَجاہِدُوا فِی سَبِیلِہِ مع اعداء اللہ سبحانہ عن النفس والشیاطین والکفار لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ وتفوزون الی ما ہو مقصودکم من الخلوص لعبودیۃ اللہ تعالی وکمال التقوی وابتغاء الوسیلۃ. ترجمہ :امام قاضی ثناء اللہ حنفی پانی پتی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ تم اللہ تعالی کے دشمن خواہ وہ نفس ہویاشیطان یاکافر، اللہ تعالی کوراضی کرنے کے لئے ان کے خلاف جہا دکرو!تاکہ تم کامیاب ہوجائویعنی اللہ تعالی کی خالص عبدیت ، کمال تقوی اورطلب وسیلہ تم کو مل جائے اورتم اپنامقصدحاصل کرلو۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۳:۹۲)معارف ومسائل
تقوی اوروسیلہ کے حکم کے فوراًبعدفرمایا:{وَجٰہِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہ}اورجہاد کرواللہ تعالی کے راستے میں ۔ معلوم ہواکہ جہاد میں تقوی بھی ہے اوروسیلہ بھی ، بلکہ جہادتقوی کاسب سے اونچامقام اوروسیلہ کی سب سے بہترین صورت ہے ۔ جب کسی مومن کوجہاد فی سبیل اللہ نصیب ہوجاتاہے تویہ اس کی کامیابی کی علامت ہوتی ہے چنانچہ اللہ تعالی نے آخرمیں فرمایا{لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ }تاکہ تم کامیاب ہوجائو۔ پس جہاد فی سبیل اللہ ایسی عبادت ہے جس میں تقوی یعنی رب تعالی کی منع کردہ اشیاء کوچھوڑدینابھی ہے اوروسیلہ یعنی رب تعالی کے احکامات پرعمل کرنابھی ہے ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9