Fatwa #2313
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ المائدہ ۵۱۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآء َ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآء ُ بَعْضٍ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,612
سوال (Question):
تفسیر سورہ المائدہ ۵۱۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآء َ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآء ُ بَعْضٍ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حکومتیں بچانے کے لئے دوستیاں لگاناحرام حرام اشدحرام اورجہنم لے جانے والاکام ہے
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآء َ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآء ُ بَعْضٍ وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہ مِنْہُمْ اِنَّ اللہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ }(۵۱) ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے بیشک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے اہل ایمان !یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ، وہ توآپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے بیشک اللہ تعالی ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ شان نزول الْمُرَادُ بِہِ الْمُنَافِقُونَ، الْمَعْنَی یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا بِظَاہِرِہِمْ، وَکَانُوا یُوَالُونَ الْمُشْرِکِینَ وَیُخْبِرُونَہُمْ بِأَسْرَارِ الْمُسْلِمِینَ۔ ترجمہ :اس آیت کریمہ سے مراد منافقین ہیں ، اس کامعنی یہ ہے اے لوگو!جوظاہراًایمان لائے وہ مشرکین کے ساتھ دوستی رکھتے تھے اورانہیں اہل اسلام کے رازوں کی اطلاع دیتے تھے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۶:۲۱۶)یہودونصاری کے ساتھ دوستی لگانے والامرتدہوگیا
وَأَخْرَجَ ابْنُ مَرْدَوَیْہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أبیّ ابن سَلُولٍ، ثُمَّ قَالَ:إِنَّ بَیْنِی وَبَیْنَ قُرَیْظَۃَ وَالنَّضِیرِ حِلْفًا وَإِنِّی أَخَافُ الدَّوَائِرَ، فَارْتَدَّ کَافِرًاوَقَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ:أَتَبَرَّأُ إِلَی اللَّہِ مِنْ حِلْفِ قُرَیْظَۃَ وَالنَّضِیرِ وَأَتَوَلَّی اللَّہَ وَرَسُولَہُ، فَنَزَلَتْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی منافق نے کہامیرے اوربنوقریظہ اوربنونضیرکے یہودیوں کے درمیان معاہدہ ہے ،اورمجھے حادثات زمانہ کاخوف رہتاہے تووہ کافراورمرتدہوگیا۔ اورحضرت سیدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہامیں بنوقریظہ اوربنونضیرکی دوستی سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں برات کااظہارکرتاہوں اوراللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺاوراہل ایمان کو دوست بناتاہوں تویہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۳:۱۲۵)حالت جنگ میں کفارسے ساز باز کرنامنع ہے
قَالَ السُّدِّیُّ:لَمَّا کَانَتْ وَقْعَۃُ أُحُدٍ اشْتَدَّتْ عَلَی طَائِفَۃٍ مِنَ النَّاسِ وَتَخَوَّفُوا أَنْ یُدَالَ عَلَیْہِمُ الْکُفَّارُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ: أَنَا أَلْحَقُ بِفُلَانٍ الْیَہُودِیِّ وَآخُذُ مِنْہُ أَمَانًا إِنِّی أَخَافُ أَنْ یُدَالَ عَلَیْنَا الْیَہُودُ، وَقَالَ رَجُلٌ آخَرُ: أَمَّا أَنَا فَأَلْحَقُ بِفُلَانٍ النَّصْرَانِیِّ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ وَآخُذُ مِنْہُ أَمَانًا، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی ہَذِہِ الْآیَۃَ یَنْہَاہُمَا ۔ ترجمہ :حضرت سیدناالامام السدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب غزوہ احد شریف ہواتوبعض لوگوں کو شدیدخوف ہواکہ کفارہم پرغلبہ حاصل نہ کرلیںتومسلمانوں میں ایک آدمی کہنے لگامیںفلاں یہودی کے ساتھ مل جاتاہوں اوراس سے امان لیتاہوں کیونکہ یہ خوف ہے کہ کل کو یہودی ہم پرغلبہ حاصل کرلیں تودوسرا شخص کہنے لگا کہ میں ملک شام کے فلاں نصرانی کے ساتھ مل جاتاہوں اوران سے امان لیتاہوں تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرماکران دونوں حضرات کو ایساکرنے سے منع فرمادیا۔ (تفسیر البغوی:محیی السنۃ، أبو محمد الحسین بن مسعود البغوی (۳:۶۷)جس نے یہودی ونصرانی منشی رکھاوہ بھی انہیں میں سے ہے ؟
عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِیَاضٍ أَنَّ عُمَرَ أَمَرَ أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِیَّ أَنْ یَرْفَعَ إِلَیْہِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَی فِی أَدِیمٍ وَاحِدٍ وَکَانَ لَہُ کَاتِبٌ نَصْرَانِیٌّ فَرَفَعَ إِلَیْہِ ذَلِکَ فَعَجِبَ عُمَرُ وَقَالَ:إِنَّ ہَذَا الَحَفِیظٌ ہَلْ أَنْتَ قَارِئٌ لَنَا کِتَابًا فِی الْمَسْجِدِ جاء الشَّامِ فَقَالَ: إِنَّہُ لَا یَسْتَطِیعُ قَالَ:عُمَرُ:أَجُنُبٌ ہُوَ قَالَ:لَا، بَلْ نَصْرَانِیٌّ قَالَ: فَانْتَہَرَنِی وَضَرَبَ فَخِذِی قَالَ: أَخْرِجُوہُ، ثُمَّ قَرَأَ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی أَوْلِیَاء َ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء ُ بَعْضٍ وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے حضرت سیدناابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو حکم دیاکہ وہ ایک سال میں جولیاہے وہ بھی اورجودیاہے وہ بھی پیش کریں ، آپ کامنشی عیسائی تھا، آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گوشوارہ پیش کیاگیا، جسے دیکھ کر حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ بڑے خوش ہوئے ، فرمایایہ توبہت اچھاہے ، کیامنشی مسجد میں ہمارا وہ خط پڑھے گاجو شام سے آیاہے تواس نے کہاکہ وہ مسجد میں داخل نہیں ہوسکتا۔ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے پوچھاکیااسے جنابت لاحق ہے ؟ تواس نے کہاکہ نہیں بلکہ وہ نصرانی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے جھڑکااورمیری ران پرمارااورفرمایااسے ابھی نکالوپھریہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی ۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس الرازی ابن أبی حاتم (۴:۵۶۱۱)یہودیت ونصرانیت غیرمحسوس طریقے سے انسان میں داخل ہوجاتی ہے
وَأَخْرَجَ عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ:لِیَتَّقِ أَحَدُکُمْ أَنْ یَکُونَ یَہُودِیًّا أَوْ نَصْرَانِیًّا وَہُوَ لَا یَشْعُرُ، وَتَلَا وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناحذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کو اس چیز سے بچناچاہئے کہ وہ یہودی ونصرانی ہوجائے اوراسے احساس تک نہ ہو۔ (تفسیرابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۳:۱۲۰)ہرطرح کے کافرسے تعلقات ختم کرنے کاحکم
وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی قَطْعِ الْمُوَالَاۃِ شَرْعًا۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ مشرکین ، یہودونصاری اورہر طرح کے کفارسے تعلقات ختم کرنے پردلیل ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۶:۲۱۶)حکم قیامت تک کے لئے ہے
وَکَانَ الَّذِی تَوَلَّاہُمِ ابْنُ أُبَیٍّ ثُمَّ ہَذَا الْحُکْمُ بَاقٍ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ فِی قَطْعِ الْمُوَالَاۃِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جس نے مشرکین کے ساتھ دوستی کی تھی وہ عبداللہ بن ابی منافق تھااوردوستی کے ختم ہونے کاحکم قیامت تک کے لئے باقی ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۶:۲۱۶) امام اسماعیل حقی الحنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں فقال تعالی لا تَتَّخِذُوا الْیَہُودَ وَالنَّصاری أَوْلِیاء َ ای لا تتخذوا أحدا منہم ولیا بمعنی لا تصافوہم ولا تعاشروہم مصافاۃ الأحباب ومعاشرتہم لا بمعنی لا تجعلوہم اولیاء لکم حقیقۃ فانہ امر ممتنع فی نفسہ لا یتعلق بہ النہی بَعْضُہُمْ أَوْلِیاء ُ بَعْضٍ ای بعض کل فریق من ذینک الفریقین اولیاء بعض آخر من ذلک الفریق لا من الفریق الآخر لانہ لا موالاۃ بین فریقی الیہود والنصاری رأسا والکل متفقون علی الکفر مجمعون علی مضارتکم ومضارکم فیکیف یتصور بینکم وبینہم موالاۃ وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ ای من یتخذہم اولیاء فَإِنَّہُ مِنْہُمْ ای ہو علی دینہم ومعہم فی النار وہذا إذا تولاہم لدینہم واما الصحبۃ لمعاملۃ شراء شیء منہم او طلب عمل منہم مع المخالفۃ فی الاعتقاد والأمور الدینیۃ فلیس فیہ ہذا الوعیدقال المولی ابو السعود وفیہ زجر شدید للمؤمنین عن اظہار صورۃ الموالاۃ لہم وان لم تکن موالاۃ فی الحقیقۃ إِنَّ اللَّہَ لا یَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ تعلیل لکون من یتولاہم منہم ای لا یرشد الذین ظلموا أنفسہم بترک إخوانہم المؤمنین وبموالاۃ اعداء اللہ بل یخلیہم وشأنہم فیقعون فی الکفر والضلالۃ اللہم لا تکلنی الی نفسی طرفۃ عین ولا اقل من ذلک۔ ترجمہ :اللہ تعالی نے ارشادفرمایا: اے اہل ایمان ! یہودونصاری میں سے کسی کو بھی اپنادوست نہ بنائو، ان سے ایسی دوستی نہ کروجیسے ہم عمردوستوں کے ساتھ معاملہ کیاجاتاہے اورنہ ہی ان کواپنے معاشرے میں عمل دخل کرنے دو، اس کایہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کوان کے ساتھ ہرطرح کی دوستی سے روکاجارہاہے ، اس لئے کہ یہ توان سے ناممکن بلکہ ممتنع ہے اورقاعدہ شرعیہ ہے کہ ممتنعات سے نہی کاتعلق نہیں ہوتا۔ { بَعْضُہُمْ أَوْلِیاء ُ بَعْضٍ}یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ یعنی ان دونوں فریقوں یعنی یہودونصاری کے ایک فرقہ کے بعض دوسرے کے دوست ہیں ، اس کایہ مطلب نہیں کہ دونوں فرقوں کے سب کے سب ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ اس لئے کہ دونوں کے آپس کے تعلقات کشیدہ تھے ۔ بلکہ دونوں ایک دوسرے کو کافرکہتے تھے اوروہ دونوں اتفاق رکھتے تھے کہ تم کو ہر طرح کانقصان پہنچایاجائے اسی لئے کہ تمھارااوران کادوستی کاتصورکیسے کیاجاسکتاہے ؟ {وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ }اورجوبھی تم میں سے ان سے دوستی اورمحبت کرے گایعنی ان کودوست بنائے گا{ فَإِنَّہُ مِنْہُم}پس وہ بھی انہیں میں سے شمارہوگا۔یعنی ان کے دین سے متصورہوگااوران کے ساتھ دوزخ میں جائے گا۔ یادرہے کہ یہ اس وقت ہے کہ جب یہودونصاری کے ساتھ محبت دین کی وجہ سے ہوتوپھراس کاشمارانہیں میں ہوگااوران کے ساتھ دوزخ میں جائے گا۔ اگران کی دوستی کامعاملہ صرف کاروباراورمعاملات معاشرے تک محدودہویاان سے صرف خریدوفروخت کاسلسلہ ہویاکسی کام کی وجہ سے ان سے واسطہ پڑگیاتوان سے دوستی کادم بھرتاہے لیکن نہ ان کے عقیدہ سے اسے تعلق ہواورنہ ہی ان کے اموردینیہ سے اسے دلچسپی ہوتوپھروہ اس وعیدمیں داخل نہ ہوگا۔ حضرت مولاناابوالسعودرحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں ان مسلمانوں کو زجروتوبیخ ہے جو یہودونصاری سے ظاہری طورپردوستی کادم بھرتے ہیں اگرچہ ان کے ساتھ حقیقی محبت ودوستی نہ بھی ہو۔ {إِنَّ اللَّہَ لا یَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِین}بے شک اللہ تعالی ظالم قوم کوہدایت نہیں دیتا۔ اس میں {وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ }کے حکم کی علت بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالی ان ظالموں کو ہدایت نہیں دیتاجواہل اسلام کی دوستی کوچھوڑکراللہ تعالی کے دشمنوں یہودونصاری کے ساتھ دوستی کادم بھرتاہے ۔ بلکہ اللہ تعالی ایسے لوگوں کو ان کے حال پرچھوڑدیتاہے کہ کفرکے گڑھے میں پڑیںیاگمراہی میں مریں ۔ اللہ تعالی آنکھ جھپکنے بلکہ اس سے بھی کم وقت کے لئے بھی ہمیں اپنے نفسوں کے سپردنہ فرمائے۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۲:۴۰۲) یہودونصاری کے ساتھ دوستی لگانے والے کے ساتھ بھی دشمنی رکھناواجب ہے وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ شَرْطٌ وَجَوَابُہُ، أَیْ لِأَنَّہُ قَدْ خَالَفَ اللَّہَ تَعَالَی وَرَسُولَہُ کَمَا خَالَفُوا، وَوَجَبَتْ مُعَادَاتُہُ کَمَا وَجَبَتْ مُعَادَاتُہُمْ، وَوَجَبَتْ لَہُ النَّارُ کَمَا وَجَبَتْ لَہُمْ، فَصَارَ منہم أی من أصحابہم. ترجمہ :{وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُم}یہ شرط اورجواب شرط ہے یعنی جس نے یہود ونصاری اورمشرکین کے ساتھ دوستی لگائی اس نے اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی مخالفت کی جس طرح یہودونصاری اورمشرکین نے مخالفت کی اوراس دوستی لگانے والے کے ساتھ بھی دشمنی رکھناواجب ہے جس طرح یہودونصاری اورمشرکین کے ساتھ دشمنی رکھناواجب ہے اوراس کے لئے جہنم واجب ہے جس طرح یہودونصاری اورمشرکین کے لئے جہنم واجب ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۶:۲۱۶)معارف ومسائل
(۱) تمام گناہوں میں بدترین گناہ کفارکے ساتھ دوستی اوران کے ساتھ محبت کرناہے کیونکہ اللہ تعالی نے ان کے ساتھ دوستی لگانے کوکفرقراردیاہے ۔ جب اہل کتاب سے دوستی اورمحبت حرام یاکفرہے تومشرکین کے ساتھ محبت اوردوستی بھی یقینابدرجہ اولی حرام ہوگی کہ وہ تواہل کتاب سے بھی بدترہیں کہ اہل کتاب کاذبیحہ حلال ہے ان کایہ بھی حلال نہیں ۔ (۲) یہودونصاری بلکہ تمام کفارسے مددلینابلاضرورت حرام ہے خصوصاًجبکہ ان کی مددسے ہمارے قومی یادینی مفادپربرااثرپڑتاہو۔ اسی طرح یہودونصاری تمام کفارکی مددکرناخصوصاًمسلمانوں کے مقابلے میں ان کی مددکرناسخت حرام ہے ۔کیونکہ اس سے دین اوردنیاکوسخت نقصان پہنچتاہے جیساکہ بارہاکاتجربہ ہے ، اگرآج مسلمان اس تعلیم کوبھول گئے اپنی قوم کے غدارجتنے مسلمان ہیں اتنے کوئی بھی نہیں ۔ مسلمانوں نے جب اورجہاں کفارسے شکست کھائی وہاں اپنی ہی قوم کی غداری کی وجہ سے کھائی ۔ مسلمان بادشاہوں کاکفارکواعلی عہدے اورکلیدی اسامیاں دیناجس سے کفارکواہل اسلام کونقصان پہنچاسکیں حرام ہے کیونکہ اس سے دین اورقوم کوسخت خطرہ پہنچ سکتاہے ۔ (۳)بعض یہودی بعض یہودیوں کے دوست ہیں اوربعض عیسائی بعض عیسائیوں کے دوست ہیں وہ اہل اسلام کے دوست نہیں ہیں،صرف اپنی ہی قوم کے دوست ہیں توتم انکے دوست کیوں بنتے ہو؟ ۔ افسوس ہے کہ عیسائی قوم صلیب پرمتحدہوجائے اوریہودی حضرت سیدناعزیرعلیہ السلام کے بت پر جمع ہوجائے ، ہندوایک گائے پرجمع ہوجائے حالانکہ ان سب کاخداایک نہیں ہے مگرمسلمان قوم جس کاخدا، رسول ، قرآن کریم ، کلمہ ، کعبہ ہرچیز ایک ہے وہ متفق نہ ہوکتنی شرم کی بات ہے ،اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کی غیرت کو جھنجھوڑاہے ، دوسرایہ کہ بعض سے مراد دونوں یہودونصاری ہیں یعنی تمھارے مقابلے میں عیسائی یہودیوں اوریہودی عیسائیوں کے دوست ہیں اگرچہ ان کے آپس کے کتنے ہی اختلاف ہوں مگرتمھاری دشمنی میں سب ایک ہیں لھذاان سے ملکرنفع نہ ہوگابلکہ نقصان ہی ہوگا۔ بہت تعجب ہے کہ یہودی حضرت سیدناعیسی علیہ السلام اوران کی والدہ کوگالیاں دیتے ہیں ، یہودنے حضرت سیدناعیسی علیہ السلام کو سولی دینے کی کوشش کی ، مسلمان حضرت سیدناعیسی علیہ السلام اورحضرت سیدتنامریم رضی اللہ عنہاکی دل سے تعظیم کرتے ہیں مگرعیسائی مسلمانوں کے مقابلے میں یہودیوں کو دوست رکھتے ہیں لھذااے مسلمانو!دنیامیں تمھاراکوئی دوست نہیں ہے بس تم آپس میں متفق ہوکررہو۔( تفسیرنعیمی ( ۶:۴۸۴) (۴) مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی کی اس تقریرسے معلوم ہواکہ مسلمانوں کاکوئی دوست نہیں ہے جیساکہ مرزائی اورقادیانی حضرت سیدناعیسی علیہ السلام کے گستاخ ہیں اورمرزاملعون خود مسیح موعود ہونے کامدعی ہے مگراس کے باوجود عیسائی مرزائیوں کے خیرخواہ ہیں اوریہ دونوں ملکراہل اسلام کے دشمن ہیں۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9