صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2316 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۵۵۔۵۶۔ اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوْلُہ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ رٰکِعُوْنَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,354

سوال (Question):

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۵۵۔۵۶۔ اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوْلُہ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ رٰکِعُوْنَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اہل ایمان کادوست کون اوردشمن کون ؟

{اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوْلُہ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ رٰکِعُوْنَ }(۵۵){وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللہَ وَرَسُوْلَہ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْغٰلِبُوْنَ }(۵۶) ترجمہ کنزالایمان:تمہارے دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو اپنا دوست بنائے تو بیشک اللہ ہی کا گروہ غالب ہے ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:تمہارے دوست صرف اللہ تعالی اور اس کے رسول کریم ﷺ اور ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں جھکے ہوئے ہیں۔ اور جو اللہ تعالی اور اس کے رسول کریمﷺ اور مسلمانوں کو اپنا دوست بنائے تو بیشک اللہ تعالی ہی کا گروہ غالب ہے۔ شان نزول عَن أبی صَالح عَن ابْن عَبَّاس قَالَ:أَتَی عبد اللہ بن سَلام ورہط مَعَہ من أہل الْکتاب نَبِی اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم عِنْد الظّہْر فَقَالُوا یارسول اللہ إِن بُیُوتنَا قاصیۃ لانجد من یجالسنا ویخالطنا دون ہَذَا الْمَسْجِد وَإِن قَومنَا لما رأونا قد صدقنا اللہ وَرَسُولہ وَتَرکنَا دینہم أظہرُوا الْعَدَاوَۃ وأقسموا ان لَا یخالطونا وَلَا یؤاکلونا فشق ذَلِک علینا فبیناہم یَشکونَ ذَلِک إِلَی رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم إِذْ نزلت ہَذِہ الْآیَۃ علی رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم (إِنَّمَا وَلِیکُم اللہ وَرَسُولہ وَالَّذین آمنُوا الَّذین یُقِیمُونَ الصَّلَاۃ وَیُؤْتونَ الزَّکَاۃ وہم رَاکِعُونَ)وَنُودِیَ بِالصَّلَاۃِ صَلَاۃ الظّہْر وَخرج رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم فَقَالَ: أَعْطَاک أحد شَیْئا قَالَ:نعم قَالَ:من قَالَ:ذَاک الرجل الْقَائِم قَالَ:علی أَی حَال أعطاکہ قَالَ: وَہُوَ رَاکِع قَالَ: وَذَلِکَ عَلیّ بن أبی طَالب فَکبر رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم عِنْد ذَلِک۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اوراہل کتاب کاایک گروہ ظہرکے وقت حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ اقدس میں حاضرہوااورعرض کی :یارسول اللہ ﷺ!ہمارے گھردورہیں ، ہم اس مسجدشریف کے علاوہ کوئی ایسی جگہ نہیں پاتے جہاں ہمارے پاس کوئی بیٹھے یاہمارے ساتھ میل جول رکھے ، کیونکہ ہماری قوم نے جب یہ دیکھاہے کہ ہم اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺ پرایمان لے آئے ہیں توانہوںنے ہمارے ساتھ دشمنی ظاہرکردی ہے اورانہوںنے قسم کھائی ہے کہ وہ ہماے ساتھ کھاناپینانہیں کھائیں گے ، یہ چیز ہمارے لئے بڑی تکلیف دہ ہے ، اسی اثناء میں وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ اقدس میں شکایت کررہے تھے کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوگئی ، پھرظہرکی اذان دی گئی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺباہرتشریف لائے ، پوچھاکیاکسی نے کوئی چیزصدقہ دی ہے ؟ عرض کی گئی جی ہاں ، فرمایا: کس نے ؟ عرض کی گئی فلاں آدمی نے جوکھڑاہے فرمایاکس حال میں دی ہے ؟ عرض کی جبکہ وہ رکوع میں تھے فرمایاکہ وہ حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ ہی ہیں اس موقع پرحضورتاجدارختم نبوتﷺنے اللہ اکبرکہا۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۳:۱۰۵)

کروں تیرے نام پہ جان فدا

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ، ثنا عَوْنُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ أَبِی رَافِعٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ نَائِمٌ أَوْ یُوحَی إِلَیْہِ، وَإِذَا حَیَّۃٌ فِی جَانِبِ الْبَیْتِ، فَکَرِہْتُ أَنْ أَقْتُلَہَا فَأُوقِظَہُ، فَاضْطَجَعْتُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْحَیَّۃِ، فَإِنْ کَانَ شَیْء ٌ کَانَ بِی دُونَہُ، فَاسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَتْلُو ہَذِہِ الْآیَۃَ:(إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِینَ آمَنُوا)(المائدۃ:۵۵) الْآیَۃَ، قَالَ:الْحَمْدُ لِلَّہِ فَرَآنِی إِلَی جَانِبِہِ، فَقَالَ:مَا أَضْجَعَکَ ہَہُنَا؟ قُلْتُ:لِمَکَانِ ہَذِہِ الْحَیَّۃِ، قَالَ:قُمْ إِلَیْہَا فَاقْتُلْہَا فَقَتَلْتُہَا، فَحَمِدَ اللہَ، ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِی، فَقَالَ:یَا أَبَا رَافِعٍ سَیَکُونُ بَعْدِی قَوْمٌ یُقَاتِلُونَ عَلِیًّا،حَقًّا عَلَی اللہِ جِہَادُہُمْ فَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ جِہَادَہُمْ بِیَدِہِ فَبِلِسَانِہِ، فَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ بِلِسَانِہِ فَبِقَلْبِہِ، لَیْسَ وَرَاء َ ذَلِکَ شَیْء ٌ۔ملخصاً۔ ترجمہ :حضرت سیدناابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ اقدس میں حاضرہواجبکہ آپ ﷺآرام فرمارہے تھے اورآپﷺپروحی نازل ہورہی تھی ، گھرکے ایک جانب سانپ موجود تھا، میں نے یہ بھی ناپسندکیاکہ یہاں رات گزاروں اوریہ بھی ناپسندکیاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکو بیدارکروںکیونکہ مجھے خوف تھاکہ وحی کانزول ہورہاہے تومیںسانپ اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے درمیان میں سوگیاتاکہ سانپ اگرکوئی تکلیف پہنچائے بھی تومجھے تکلیف پہنچائے ، چندلمحات ہی گزرے تھے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺبیدارہوگئے اورآپ ﷺیہ آیت کریمہ تلاوت فرمارہے تھے اورفرمایاکہ تمام ترتعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے نعمتوں کو مکمل فرمایااورحضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے فضل کو تیارکیا۔ پھرجب حضورتاجدارختم نبوتﷺنے مجھے دیکھاتوفرمایاکہ تم یہاں کیسے لیٹے ہوئے ہو؟ تومیں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!اس جگہ میں میں نے سانپ دیکھاتولیٹ گیاکہ کہیں آپﷺکویہ تکلیف ہی نہ دے ، پھرحضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: اٹھواورپھرالحمدللہ پڑھااورپھرمیراہاتھ پکڑااورفرمایاکہ اٹھواوراس سانپ کو قتل کردوپھرمیں نے اٹھ کراس سانپ کوقتل کردیا۔۔۔ (المعجم الکبیر:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۱:۳۲۰)

بندہ مومن کسی بھی حکومت سے نہیں ڈرتا

عَنِ السُّدِّیِّ قَوْلَہُ:فَإِنَّ حِزْبَ اللَّہِ ہُمُ الْغَالِبُونَ قَالَ:ثُمَّ أَخْبَرَہُمْ، یَعْنِی الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ مَنِ الْغَالِبُ فَقَالَ: لَا تَخَافُوا الدَّوْلَۃَ وَلا الدَّائِرَۃَ فَقَالَ:وَمَنْ یَتَوَلَّ اللہ ورسولہ الْآیَۃَ۔ ترجمہ:حضرت سیدناامام السدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ غالب کون ہے فرمایاکہ کسی حکومت اورمصیبت سے خوف زدہ نہ ہونا۔اورپھرفرمایاکہ جو اللہ تعالی اوراس کے رسول کریم ﷺکو اپنامددگارجانتاہے وہ کسی سے نہیں ڈرتا۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس الرازی ابن أبی حاتم (۴:۱۱۶۳)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh