صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2329 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃ الانعام آیت ۳۳۔۳۴۔ قَدْ نَعْلَمُ اِنَّہ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّہُمْ لَا یُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,891

سوال (Question):

تفسیر سورۃ الانعام آیت ۳۳۔۳۴۔ قَدْ نَعْلَمُ اِنَّہ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّہُمْ لَا یُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

گستاخوں کی گستاخیوں کی وجہ سے حضورتاجدارختم نبوتﷺکادل مبارک رنجیدہ ہونااوراللہ تعالی کااپنے حبیب کریم ﷺکوتسلیاں دینا

{قَدْ نَعْلَمُ اِنَّہ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّہُمْ لَا یُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللہِ یَجْحَدُوْنَ }(۳۳){وَ لَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوْا عَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰٓی اَتٰیہُمْ نَصْرُنَا وَ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللہِ وَ لَقَدْ جَآء َکَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ }(۳۴) ترجمہ کنزالایمان:ہمیں معلوم ہے کہ تمہیں رنج دیتی ہے وہ بات جو یہ کہہ رہے ہیں تو وہ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔اور تم سے پہلے رسول جھٹلائے گئے تو انہوں نے صبر کیا اس جھٹلانے اور ایذائیں پانے پر یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد آئی اور اللہ کی باتیں بدلنے والا کوئی نہیں اور تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آہی چکیں ہیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے حبیب کریمﷺ!ہمیں معلوم ہے کہ ان کی باتوں کی وجہ سے آپ ﷺکوتکلیف پہنچتی ہے ،تو بیشک یہ آپﷺکو نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ تعالی کی آیتوں کاانکار کرتے ہیں۔اورآپﷺ سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور تکلیف دئیے جانے پر صبر کیایہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی اورکوئی اللہ تعالی کی باتوں کو بدلنے والا نہیں اور بیشک آپﷺکے پاس رسولوں کی خبریں آ چکی ہیں۔ شان نزول عَنْ نَاجِیَۃَ بْنِ کَعْبٍ، عَنْ عَلِیٍّ:أَنَّ أَبَا جَہْلٍ، قَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّا لاَ نُکَذِّبُکَ، وَلَکِنْ نُکَذِّبُ بِمَا جِئْتَ بِہِ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ: (فَإِنَّہُمْ لاَ یُکَذِّبُونَکَ وَلَکِنَّ الظَّالِمِینَ بِآیَاتِ اللہِ یَجْحَدُونَ)۔ ترجمہ :حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوجہل نے حضورتاجدارختم نبوتﷺسے کہابلاشبہ ہم آپﷺکوجھوٹانہیں کہتے بلکہ ہم تواس چیز کو جھوٹاکہتے ہیں جو آپﷺقرآن کریم کی صورت میں ہمارے پاس لائے ہیںتواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۵:۱۱۱)

قرآن کریم کی گستاخی پر حضورتاجدارختم نبوت ﷺکاغمگین ہونا

عَنْ أَبِی صَالِحٍ، فِی قَوْلِہِ:(قَدْ نَعْلَمُ إِنَّہُ لَیَحْزُنُکَ الَّذِی یَقُولُونَ فَإِنَّہُمْ لَا یُکَذِّبُونَکَ)(الأنعام:۳۳) ، قَالَ: جَاء َ جِبْرِیلُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ وَہُوَ جَالِسٌ حَزِینٌ، فَقَالَ لَہُ:مَا یَحْزُنُکَ؟ فَقَالَ:کَذَّبَنِی ہَؤُلَاء ِ قَالَ: فَقَالَ لَہُ جِبْرِیلُ: إِنَّہُمْ لَا یُکَذِّبُونَکَ، ہُمْ یَعْلَمُونَ أَنَّکَ صَادِقٌ، (وَلَکِنَّ الظَّالِمِینَ بِآیَاتِ اللَّہِ یَجْحَدُونَ)(الأنعام:۳۳) ترجمہ :حضرت سیدناابوالصالح رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناجبریل امین علیہ السلام حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ اقدس میں حاضرہوئے توآپﷺغمگین بیٹھے ہوئے تھے ، حضرت سیدناجبرئیل امین علیہ السلام نے عرض کی : اے حبیب کریم ﷺ!آپ کوکس چیز نے غمناک کردیاہے ؟ توحضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: مکہ کے کفارمجھے جھوٹاکہتے ہیں توجبریل امین علیہ السلام نے عرض کی : اے حبیب کریم ﷺبلاشبہ یہ آپﷺکوجھوٹانہیں کہتے بلکہ وہ یقیناجانتے ہیں کہ آپﷺصادق وامین ہیں بلکہ یہ ظالم لوگ اللہ تعالی کی آیات کوجھوٹاکہتے ہیں۔ (التفسیر الطبری: محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۹:۲۲۱)

کفارمکہ کی تکذیب کیاہے ؟

عَنِ الضَّحَّاکِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ(فَإِنَّہُمْ لَا یَکْذِبُونَکَ)(الأنعام:۳۳)مُخَفَّفَۃً وَکَذَلِکَ کَانَ یَقْرَؤُہَا قَالَ: لَا یَقْدِرُونَ عَلَی أَنْ لَا یَکُونَ رَسُولًا، وَلَا عَلَی أَنْ لَا یَکُونَ الْقُرْآنُ قُرْآنًا، فَإِمَّا أَنْ یُکَذِّبُونَکَ بِأَلْسِنَتِہِمْ فَہُمْ یُکَذِّبُونَکَ، وَذَلِکَ إِلَّا کَذَّابٌ، وَذَاکَ التَّکْذِیبُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام الضحاک رحمہ اللہ تعالی حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ {فَإِنَّہُمْ لَا یَکْذِبُونَکَ}تخفیف کے ساتھ ہے اورفرمایاکہ وہ قدرت نہیں رکھتے کہ آپ ﷺرسول نہ ہوں اورنہ ہی یہ قدرت رکھتے ہیں کہ قرآن کریم قرآن نہ ہو، پس جو وہ اپنی زبانوں کے ساتھ آپ ﷺکے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں پس وہی آپ ﷺکی تکذیب کرتے ہیں چنانچہ وہ خود کذاب اورجھوٹے ہیں اوریہ ان کی تکذیب ہے۔ (المعجم الکبیر:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۱۲:۱۲۳) گستاخوں کی گستاخی پراللہ تعالی کااپنے حبیب کریم ﷺکوتسلی دینا عَنْ قَتَادَۃَ، قَوْلَہُ: وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوا عَلَی مَا کُذِّبُوا وَأُوذُوا یُعَزِّی نَبِیَّہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَا تسمعون، وتخبرہ أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ کُذِّبَتْ قَبْلَہُ، فَصَبَرُوا عَلَی مَا کُذِّبُوا وَأُوذُوا.حَتَّی جَاء َ حُکْمُ اللَّہِ، وَہُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِینَ. ترجمہ :حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے اس فرمان شریف {وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوا عَلَی مَا کُذِّبُوا وَأُوذُوا }کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی حضورتاجدارختم نبوتﷺکوتسلی اورحوصلہ دلارہاہے جیساکہ تم سن رہے ہواورآپﷺکو اس پرمطلع فرمارہاہے کہ اے حبیب کریم ﷺآپﷺسے پہلے بھی انبیاء کرام علیہم السلام کوجھوٹاکہاگیااورانہوںنے ان گستاخیوں پر صبرفرمایایہاں تک کہ اللہ تعالی نے فیصلہ فرمادیااوروہی سب سے بہترفیصلہ فرمانے والاہے ۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس بن المنذر التمیمی(۴:۱۲۸۳)

اے حبیب کریمﷺتیرے گستاخوں سے میں بدلہ لوں گا

فَإِنَّہُمْ لا یُکَذِّبُونَکَ ای لا تعتد بما یقولون وکلہ الی اللہ تعالی فانہم فی تکذیبہم آیات اللہ لا یکذبونک فی الحقیقۃ وَلکِنَّ الظَّالِمِینَ بِآیاتِ اللَّہِ یَجْحَدُونَ ای ولکنہم یکذبون بآیات اللہ وینکرونہا فما یفعلون فی حقک فہو راجع الیّ فی الحقیقۃ لانک فان عما سوی اللہ باق باللہ وانا انتقم منہم لا محالۃ أشد انتقام۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ اے حبیب کریم ﷺ!آپ ان کی باتوں کی طرف دھیان نہ دیں بلکہ ان کی گستاخیوں کے معاملے کواللہ تعالی کے سپردکردیں ، اسلئے کہ یہ اللہ تعالی کی آیات کوجھوٹاکہ رہے ہیں ، اس بناء پروہ حقیقت میں آپﷺ کونہیں بلکہ مجھ خداتعالی کو جھوٹاکہہ رہے ہیں اورمیری آیات کی صریح گستاخیاں کررہے ہیں یعنی وہ آپﷺکوکچھ نہیں کہتے اگربظاہرکچھ کہتے ہیں تو درحقیقت مجھے کہتے ہیں ، اسلئے کہ آپﷺتوفنافی اللہ کے درجہ پرفائز ہیں ، اب میں ہی ان سے سخت ترین بدلہ لوں گا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی ,المولی أبو الفداء (۳:۳۵)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh