حنفی حضرات کی نماز شافعی امام کی اقتدامیں ہوگی یا نہیں از مفتی محمود اختر قادری ممبئ
سوال (Question):
حنفی حضرات کی نماز شافعی امام کی اقتدامیں ہوگی یا نہیں از مفتی محمود اختر قادری ممبئ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حنفی حضرات کی نماز شافعی امام کی اقتدامیں ہوگی یا نہیں از مفتی محمود اختر قادری ممبئ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلۂ ذیل میں کہ حنفی حضرات کی نماز شافعی امام کی اقتدامیں ہوگی یا نہیں اور اگر نہیں ہوگی تو کن وجوہات کی بناء پر جبکہ وہ بھی سُنی صحیح العقیدہ ہیں ۔قرآن و حددیث کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔
المستفتی : محمد فخرالدین چشتی امجدی ،رضا نگر مہاڈا کالونی بھیونڈی ۔
جواب :۔
اگر شافعی امام سُنّی صحیح العقیدہ ہے اور طہارت و شرائط و ارکان ِ نماز میں مذہب حنفی کی رعایت کرتا ہے تو اس کے پیچھے حنفی کی نماز بلاکراہت جائز ہے اور اگر حنفی کو معلوم ہوکہ خاص اس نمازمیں شافعی امام نے مذہب حنفی کی رعایت نہیں کی ہے مثلا ً خون نکلا اور اس نے وضو نہیں کیا یا چوتھائی سر سے کم کا اس نے مسح کیا،یا عصر یا عشاء کا وقت مذہب شافعی کے مطابق ہوگیا تھا مگر ابھی مذہب حنفی کے اعتبار سے نماز کا وقت نہیں ہوا تھا اور اس نے عصر یا عشاء پڑھائی تو اس کے پیچھے حنفی کا نماز پڑھنا جائز نہیں ۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت سیدنا امام احمد رضا خاں قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں ’’ اگر شافعی طہارت ونماز میں فرائض و ارکان میں مذہب حنفی کی رعایت کرتا ہے اس کے پیچھے نماز بلا کراہت جائز ہے اگر چہ حنفی کے پیچھے افضل ہے ،اور اگر حال رعایت و عدم رعایت معلوم نہ ہو تو قدرے کراہت کے ساتھ جائز اور اگر عادت ِ عدم ِ رعایت معلوم ہو تو کراہت شدید ہے اور اگر معلوم ہوکہ خاص اس نماز میں رعایت نہ کی تو حنفی کو اس کی اقتدا جائز نہیں اس کے پیچھے نماز نہ ہوگی صورتِ اول و دوم میں شریک ہوجائے اور صورتِ سوم میں شریک نہ ہو اور چہارم میں تو نماز ہی باطل ہے ۔
( فتاویٰ رضویہ ،ج : ۳؍ ص ۲۲۸)
لہذا اگر کسی شافعی کی اقتدامیں حنفی نماز پڑھنا چاہے تو پہلے معلوم کرے کہ امام ہمارے مذہب کی رعایت کرتا ہے یا نہیں اگر رعایت نہ کرتا ہو تو اس کی اقتداء میں نماز درست نہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب