Fatwa #2330
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃ الانعام آیت ۴۲ تا ۴۵ ۔ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَخَذْنٰہُمْ بِالْبَاْسَآء ِ وَ الضَّرَّآء ِ لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,997
سوال (Question):
تفسیر سورۃ الانعام آیت ۴۲ تا ۴۵ ۔ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَخَذْنٰہُمْ بِالْبَاْسَآء ِ وَ الضَّرَّآء ِ لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
گستاخوں اوردین دشمنوں کے قتل پرخوش ہونا
{وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَخَذْنٰہُمْ بِالْبَاْسَآء ِ وَ الضَّرَّآء ِ لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ }(۴۲){فَلَوْلَآ اِذْ جَآء َہُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰکِنْ قَسَتْ قُلُوْبُہُمْ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ }(۴۳){فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ اَبْوٰبَ کُلِّ شَیْء ٍ حَتّٰٓی اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً فَاِذَا ہُمْ مُّبْلِسُوْنَ }(۴۴){فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ }(۴۵) ترجمہ کنزالایمان:اور بیشک ہم نے تم سے پہلی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے تو انہیں سختی اور تکلیف سے پکڑا کہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں۔تو کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑائے ہوتے لیکن ان کے تو دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے کام ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے۔ پھر جب انہوں نے بھلا دیا جو نصیحتیں ان کو کی گئی تھیں ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جو انہیں ملا تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا اب وہ آس ٹوٹے رہ گئے ۔تو جڑ کاٹ دی گئی ظالموں کی اور سب خوبیوں سراہا اللہ رب سارے جہان کا۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور بیشک ہم نے آپ ﷺسے پہلی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے تو انہیں سختی اور تکلیف میں گرفتارکیا تاکہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں۔تو ایساکیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا توعاجزی اختیارکرتے لیکن ان کے تودل سخت ہوگئے تھے اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لئے مزین کردئیے تھے۔پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیا جو انہیں کی گئی تھیں توہم نے ان پر ہر چیز(دنیوی نعمتوں) کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس پرخوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا پس اب وہ مایوس ہیں۔ پس ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اورتمام تعریفیںاللہ تعالی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔اللہ تعال نے اپنے حبیب کریم ﷺکوتسلی دی
قَوْلُہُ تَعَالَی:(وَلَقَدْ أَرْسَلْنا إِلی أُمَمٍ مِنْ قَبْلِکَ)الْآیَۃُ تَسْلِیَۃٌ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَفِیہِ إِضْمَارٌ، أَیْ أَرْسَلْنَا إِلَی أُمَمٍ مِنْ قَبْلِکَ رُسُلًا وَفِیہِ إِضْمَارٌ آخَرُ یَدُلُّ عَلَیْہِ الظَّاہِرُ تَقْدِیرُہُ: فَکَذَّبُوا فَأَخَذْنَاہُمْ. وَہَذِہِ الْآیَۃُ مُتَّصِلَۃٌ بِمَا قَبْلَ اتِّصَالِ الْحَالِ بِحَالٍ قَرِیبَۃٍ مِنْہَا، وَذَلِکَ أَنَّ ہَؤُلَاء ِ سَلَکُوا فِی مُخَالَفَۃِ نَبِیِّہِمْ مَسْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَہُمْ فِی مُخَالَفَۃِ أَنْبِیَائِہِمْ، فَکَانُوا بِعَرَضٍ أَنْ یَنْزِلَ بِہِمْ مِنَ الْبَلَاء ِ مَا نَزَلَ بمن کان قبلہم. ومعنی (بِالْبَأْساء ِ)بِالْمَصَائِبِ فِی الْأَمْوَالِ (وَالضَّرَّاء ِ)فِی الْأَبَدَانِ، ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کایہ ارشادشریف {وَلَقَدْ أَرْسَلْنا إِلی أُمَمٍ مِنْ قَبْلِکَ}حضورتاجدارختم نبوتﷺکے لئے بطورتسلی ہے ، اس میں اضمارہے یعنی {أَرْسَلْنَا إِلَی أُمَمٍ مِنْ قَبْلِکَ رُسُلًا }اوراس میں دوسرااضمار بھی ہے جس پر ظاہردلالت کرتاہے ، اس کی تقدیریہ ہے کہ {فَکَذَّبُوا فَأَخَذْنَاہُمْ}یہ آیت کریمہ ماقبل سے متصل ہے ، جس طرح ایک حالت اپنی قریب حالت سے متصل ہوتی ہے ، یہ اس طرح ہے کہ یہ لوگ بھی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے مخالف نکلے ہیں جس طرح پہلے والے کافراپنے اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کے مخالف اوردشمن تھے اوریہ بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخیاں کرنے میں اسی طریقہ پرچلے ہیں جس طرح ان سے پہلے والے کافرچلے تھے ، پس یہ لوگ اس مصیبت وبلامیں گرفتاری کے مقام پر ہیں جوان سے پہلے لوگوں پرنازل ہوئی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۶:۴۲۴)کیامال کازیادہ ملنااللہ تعالی کے راضی ہونے کی دلیل ہے؟
حدثنی عقبۃ بن مسلم عن عقبۃ بن عامر الجہنی قالٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:(إِذَا رَأَیْتُمُ اللَّہَ تَعَالَی یُعْطِی الْعِبَادَ مَا یَشَاء ُونَ عَلَی مَعَاصِیہِمْ فَإِنَّمَا ذَلِکَ اسْتِدْرَاجٌ مِنْہُ لَہُمْ)ثُمَّ تَلَافَلَمَّا نَسُوا مَا ذُکِّرُوا بِہِ الْآیَۃَ کُلَّہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعقبہ بن عامررضی اللہ عنہ نے روایت کیاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:جب تم دیکھوکہ اللہ تعالی بندوں کوگناہوں کے باوجودانہیں دنیاکی نعمتیں فراوانی کے ساتھ عطافرمارہاہے جووہ چاہتے ہیں تواس کی طرف سے ان کے لئے استدراج ہے ،پھرآپﷺنے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی ۔ (تاریخ دمشق:أبو القاسم علی بن الحسن بن ہبۃ اللہ المعروف بابن عساکر (۲۲:۷۷)مال کی کثرت گناہوں کی سزابھی ہوسکتی ہے
أَنَّ اللہَ تَعَالَی أَوْحَی إِلَیْہِ أَنْ یَا مُوسَی إِذَا رَأَیْتَ الْفَقْرَ مُقْبِلًا فَقُلْ مَرْحَبًا بِشِعَارِ الصَّالِحِینَ، وَإِذَا رَأَیْتَ الْغِنَی قَدْ أَقْبَلَ فَقُلْ ذَنْبٌ عُجِّلَتْ عُقُوبَتُہُ۔ ترجمہ:اللہ تعا لی نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ اگرتم اپنی طرف فقیرکوآتادیکھوتونیک لوگوں کے شعارکومرحباکہواورجب تم غنی اورمال کو اپنی جانب آتادیکھوتوکہو: یہ کوئی گناہ ہے جس کی وجہ سے یہ سزامل رہی ہے۔ (حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفیاء :أبو نعیم أحمد بن عبد اللہ الأصبہانی (۲:۱۳۷) ایک سوال اوراس کاجواب قَالَ أَہْلُ الْمَعَانِی: وَإِنَّمَا أُخِذُوا فِی حَالِ الرَّخَاء ِ وَالرَّاحَۃِ لِیَکُونَ أَشَدَّ لِتَحَسُّرِہِمْ عَلَی مَا فَاتَہُمْ مِنْ حَالِ السَّلَامَۃِ وَالْعَافِیَۃِ ترجمہ:سوال یہاں یہ پیداہوتاہے کہ جب اللہ تعالی نے ان کفارجوانبیاء کرام علیہم السلام کے گستاخ تھے ان کو تباہ ہی کرناتھاتوان کو پہلے دنیوی نعمتیں کیوں عطافرمائیں ؟ تواس کے جواب میں فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اہل معانی بیان کرتے ہیں کہ ان گستاخوں کو انتہائی راحت وسکون کی حالت میں اس لئے اللہ تعالی نے عذاب میں مبتلاء کیاتاکہ جو کچھ ان سے سلامتی اورسکون چھیناجائے توان کو اس کے چھن جانے پرحسرت زیادہ ہو۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۲:۵۳۳) کیونکہ جب کوئی غریب ہوتاہے وہ بسااوقات پہلے دعاکررہاہوتاہے کہ اللہ تعالی اسے موت دے دے اورجب کوئی ایسامریض یاغریب مرجائے جو نان ونفقہ کامحتاج ہوتولوگ بھی کہتے ہیں کہ چلواچھاہوامرگیالیکن جب کوئی ایساشخص جو غریب ہواچانک سے اس کے پاس پیسہ آجائے اوروہ اپنے لئے بڑے بڑے محلات بنائے اوراس میں خدمت کے لئے نوکررکھے لیکن جیسے ہی اس میں رہائش اختیارکرنے کے لئے اس میں داخل ہوتواسے موت آجائے ایسے بندے کو بہت زیادہ افسوس ہوگااوراس کے پیچھے رہنے والوں کو بھی بہت زیادہ افسوس ہوگاتواسی لئے اللہ تعالی نے ان گستاخوں کو بیس سال تک مہلت دی اورخوب مال ودولت سے نوازاجب دنیاکی ہرطرح کی آسائشیں دیکھ کر اترانے لگے اوراسے اپنا ذاتی حق جاننے لگے تواللہ تعالی نے ان کو عذاب میں مبتلاء کردیا۔کافروں اورگستاخوں کی تباہی اوربربادی پر شکرکرناکیسا؟
وَالْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعالَمِینَ علی إہلاکہم فان ہلاک الکفار والعصاۃ من حیث انہ تخلیص لاہل العرض من شؤم عقائدہم الفاسدۃ وأعمالہم الخبیثۃ نعمۃ جلیلۃ یحق ان یحمد علیہا لا سیما مع ما فیہ من إعلاء کلمۃ الحق التی نطقت بہا رسلہم علیہم السلام ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کفاراورگناہ گاروں کی تباہی اوربربادی سے اہل دنیاکو چھٹکارانصیب ہوتاہے کہ وہ ان کے عقائد کی نحوست اوراعمال کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں ، ان کی تباہی اوربربادہونے پرانہیں نجات ملتی توانکے لئے ان کاتباہ ہونابھی ایک طرح سے نعمت ہے اورہرنعمت پرشکراداکرناواجب ہوتاہے اوربالخصوص وہ نعمت کہ جس سے دین کاجھنڈابلندہواوراس کی تمام رسل کرام علیہم السلام نے تعریف کی ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی ,المولی أبو الفداء (۳:۳۱)دشمنوں کے قتل میں ہی مومنین کے دلوں کاسکون ہے
{قٰتِلُوْہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللہُ بِاَیْدِیْکُمْ وَیُخْزِہِمْ وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْہِمْ وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ وَیُذْہِبْ غَیْظَ قُلُوْبِہِمْ وَیَتُوْبُ اللہُ عَلٰی مَنْ یَّشَآء ُ وَاللہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ } ترجمہ کنزالایمان :تو ان سے لڑو اللہ انہیں عذاب دے گا تمہارے ہاتھوں اور انہیں رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر مدد دے گا اور ایمان والوں کا جی ٹھنڈا کرے گا اور ان کے دلوں کی گھٹن دور فرمائے گا اور اللہ جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے ۔(سورۃ توبہ رقم الآیۃ ۱۴) اس آیت مبارکہ میں ان لوگوں کے لئے بھی بہت بڑادرس ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے گستاخوں سے اللہ تعالی خود بدلہ لے لے گا،حالانکہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ رب تعالی ان کو عذاب دے گاتوتمھارے ہاتھوں سے دے گااورتمھارے دشمنوں کو ذلیل فرمائے گااورکفارکو عذاب دے کر اوران کو ذلیل کرکے تمھارے دلوں کو ٹھنڈک پہنچائے گا۔اوراس آیت مبارکہ میں یہ بات بڑی واضح ہے کہ اللہ تعالی کے دشمنوں کی ذلت ورسوائی سے اہل ایمان کے دل خوش ہوتے ہیں اوروہ اس پر اللہ تعالی کاشکر بجالاتے ہیں ۔اب ان لوگوں کو غورکرناچاہئے جولوگ گستاخوں کے حامی ہیں اوران کے لئے دل کشادہ رکھتے ہیں اوردوسرے اہل اسلام کو بھی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کی تبلیغ کرتے ہیں ۔امام اہل سنت الشاہ احمدرضاخان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جوشخص رسول اللہ ﷺکے دشمنوں کے ساتھ بائیکا ٹ کرنے کوظلم کہے وہ بھی انہیں کے ساتھ کاہے ۔مگرآج ہمارے دور کے لبرل لوگوں کو گستاخوں کادکھ بہت ہوتاہے ،ان کے لئے احتجاج بھی کریں گے اورموم بتیاں بھی جلائیں گے اورآواز بھی بلندکریں گے مگرجیسے ہی بات اہل اسلام کی آئے توان کو سانپ سونگھ جاتاہے ۔ امام ابومنصور ماتریدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں جمع اللَّہ عَزَّ وَجَلَّ فی ہذہ الآیۃ جمیع أنواع الخیر الذی یکون فی القتال مع العدو، من وعد النصر للمؤمنین علیہم، وإدخال السرور فی صدورہم، ونفی الحزن عنہم، وتعذیب أُولَئِکَ بأیدیہم۔ ترجمہ:اللہ تعالی نے اس آیت مبارکہ( جس میں دشمن کے ساتھ لڑنے کاحکم دیا )میں ہر طرح کی خیر کو جمع فرمادیاہے ،وہ اس طرح کہ اللہ تعالی اہل اسلام کی مددفرمائے گا، اوراہل ایمان کے دلوں میں خوشی داخل فرمائے گا اوران سے غم کو دورکرے گا اورکفارکو عذاب بھی اہل ایمان کے ہاتھوں سے دے گا۔ (تفسیر الماتریدی :محمد بن محمد بن محمود، أبو منصور الماتریدی (۵:۲۵۴) امام ابومنصور ماتریدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیک تو اللہ تعالی اوراس کے رسول ﷺ کے دشمنوں کوقتل کرنااوران کو ذلیل کرناخیرکاکام ہے کیونکہ آپ خود فرماتے ہیں کہ جس آیت میں اللہ تعالی نے کفارکو قتل کرنے اوران کوذلیل کرنے کاحکم دیااس میں اللہ تعالی نے اہل اسلام کے لئے ہر طرح کی خیر کو جمع فرمادیاہے ۔ کفارکے ساتھ قتال کرنے میں اہل اسلام کے لئے خیر ہے ۔ کفارکے ذلیل ہونے میں اہل اسلام کے لئے خیر ہے ۔ کفارکو اہل اسلام کے ہاتھوں عذاب پہنچے اس میں اہل اسلام کے لئے خیر ہے ۔ اورکفار کی ذلت اوررسوائی میں اہل اسلام کے دلوں کی ٹھنڈک ہے ۔ اہل ایمان کے دکھ کی دواگستاخ کاقتل ہے یحتمل أن تکون قلوبہم توجعت وتألمت بکفرہم باللَّہ وتکذیبہم الرسول، فوعدہم شفاء صدورہم، وذلک یحتمل وجہین: أحدہما:أنہم یسلمون، فیصیرون إخوانًا، فیدخل فیہم السرور والفرح بإزاء ما حزنوا وتألموا، وذلک شفاء صدورہم۔والثانی:یشف صدورہم بالقتل والہزیمۃ، یقتلون ویہزمون، ففی ذلک شفاء صدورہم، لما تألمت وتوجعت بالتکذیب والکفر باللَّہ وآیاتہ۔ ترجمہ:امام ابومنصور ماتریدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ اہل ایمان کے دل انتہائی دکھی اوررنجیدہ تھے کہ کافروںنے اللہ تعالی کاانکار کیااورسول اللہ ﷺکی تکذیب کیاکرتے تھے تواللہ تعالی نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایاکہ میں اہل اسلام کے دلوں کو ضرورٹھنڈاکروں گا۔ اس میں دووجہوں کااحتمال ہے ۔ پہلی وجہ : کہ وہ کفار اسلام قبول کرکے مسلمانوں کے بھائی بن جائیں گے ،اس طرح اللہ تعالی اہل ایمان کے دلوں سے غم ودکھ کو دور کرکے خوشی داخل فرمائے گا۔ دوسری وجہ : یہ ہے کہ اللہ تعالی ان کو اہل اسلام کے ہاتھوں قتل اورذلت پہنچائے گااوراس طرح جب وہ قتل ہوں گے اورذلیل ہوں گے تواللہ تعالی اہل ایمان کے دلوں کو خوش کردے گا۔ (تفسیر الماتریدی :محمد بن محمد بن محمود، أبو منصور الماتریدی (۵:۲۵۴)دین کے تحفظ کی بات کرناصرف غیرت مندشخص کاکام ہے
ہَذِہِ الْآیَۃُ تَدُلُّ عَلَی کَوْنِ الصَّحَابَۃِ مُؤْمِنِینَ فِی عِلْمِ اللَّہ تَعَالَی إِیمَانًا حَقِیقِیًّا لِأَنَّہَا تَدُلُّ عَلَی أَنَّ قُلُوبَہُمْ کَانَتْ مَمْلُوء َۃً مِنَ الْغَضَبِ، وَمِنَ الْحَمِیَّۃِ لِأَجْلِ الدِّینِ، وَمِنَ الرَّغْبَۃِ الشَّدِیدَۃِ فِی عُلُوِّ دِینِ الْإِسْلَامِ، وَہَذِہِ الْأَحْوَالُ لَا تَحْصُلُ إِلَّا فِی قُلُوبِ المؤمنین۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ،اللہ تعالی کے علم میں ایمان حقیقی کے ساتھ اہل ایمان ہیں کیونکہ یہ آیت مبارکہ اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ ان کے دل دین کی وجہ سے غیرت اورغضب سے پرُتھے اوران کے دلوں میں دین ِ اسلام کی بلندی کی شدیدرغبت تھی اوریہ احوال اہل ایمان کے دلوں میں ہی پیداہوتے ہیں ۔ (التفسیر الکبیر: أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۶:۵)دین کے معاملے میں سخت غصہ رکھناایمان کی نشانی ہے
وَیَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ(وَیُذْہِبْ غَیْظَ قُلُوبِہِمْ)دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ غَیْظَہُمْ کَانَ قَدِ اشْتَدَّ۔ ترجمہ :امام قرطبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے فرمایاکہ اللہ تعالی اہل ایمان کے دلوں کو ٹھنڈ پہنچائے گااوران کے غصہ کودورکرے گا ) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دین کے معاملے میں اورخداتعالی اوراس کے رسول ﷺکے معاملے میں بہت سخت تھے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۸:۸۶) دین کے معاملے میں سخت ہونااگر عیب ہوتاتو اللہ تعالی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ضرور بالضرور منع فرماتالیکن اللہ تعالی نے اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مدح فرمائی ۔ امام ابوحیان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں وَہَذِہِ وُعُودٌ ثَبَّتَتْ قُلُوبَہُمْ وَصَحَّحَتْ نِیَّاتِہِمْ، وَخِزْیُہُمْ ہُوَ إِہَانَتُہُمْ وَذُلُّہُمْ، وَیَنْصُرْکُمْ یُظْفِرُکُمْ بِہِمْ، وَشِفَاء ُ الصُّدُورِ بِإِعْلَاء ِ دِینِ اللَّہِ وَتَعْذِیبِ الْکُفَّارِ وَخِزْیِہِمْ۔ ترجمہ :امام ابوحیان رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے اہل اسلام کے ساتھ بہت سے وعدے فرمائے ۔کہ اللہ تعالی ان کے دلوں کومضبوط کرے گا،ان کی نیتیں درست ہوجائیں گی ، اوران کے ہاتھوں کفارذلیل ورسواہوں گے اوراللہ تعالی ان کی مددفرمائے گا،اوراللہ تعالی اپنے دین کو بلندکرکے اورکفارکوعذاب دے کر اوران کو ذلیل کرکے اہل ایمان کے دلوں کو ٹھنڈاکرے گا۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی (۵:۳۸۳)اس آیت میں بڑے بڑے گستاخوں کے قتل کی خبرہے
قَاتِلُوہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللہُ بِأَیْدِیکُمْ وَیُخْزِہِمْ وَیَنْصُرُکُمْ عَلَیْہِمْ وَیَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ (وَیُذْہِبْ غَیْظَ قُلُوبِہِمْ)وَلِہَذَا کَانَ قَتلُ صَنَادِیدِ قُرَیْشٍ بِأَیْدِی أَعْدَائِہِمُ الَّذِینَ یَنْظُرُونَ إِلَیْہِمْ بِأَعْیُنِ ازْدِرَائِہِمْ، أَنَکَی لَہُمْ وَأَشْفَی لِصُدُورِ حِزْبِ الْإِیمَانِ فَقَتْلُ أَبِی جَہْلٍ فِی مَعْرَکَۃِ الْقِتَالِ وَحَوْمَۃِ الْوَغَی، أَشَدُّ إِہَانَۃً لَہُ مِنْ أَن یَمُوتُ عَلَی فِرَاشِہِ بِقَارِعَۃٍ أَوْ صَاعِقَۃٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِکَ، کَمَا مَاتَ أَبُو لَہَبٍ لَعَنَہُ اللَّہُ بالعَدَسۃبِحَیْثُ لَمْ یَقْرَبْہُ أَحَدٌ مِنْ أَقَارِبِہِ، وَإِنَّمَا غَسَّلُوہُ بِالْمَاء ِ قَذْفًا مِنْ بَعِیدٍ، وَرَجَمُوہُ حَتَّی دَفَنُوہُ۔ ترجمہ :حافظ ابن کثیررحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں : اللہ تعالی نے فرمایا: اے اہل ایمان ! ان کے ساتھ جہاد کرو،اللہ تعالی ان کو تمھارے ہاتھوں سزادے گا،انہیں ذلیل کرے گااور ان کے خلاف تمھاری مددفرماکرتمھارے سینے ٹھنڈے کردے گا۔ اس آیت میں میدان بدرمیں قریش کے متکبرسرداروں کاان مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوناجن پر ہمیشہ ان کافروں کی نظریں ذلت وحقارت کے ساتھ پڑتی رہیں ،کچھ کم نہ تھاکہ ابوجہل اگراپنے گھرمیں اللہ تعالی کے کسی عذاب میں ہلاک ہوجاتاتواس میں وہ شان نہ تھی جومعرکہ قتال میں مسلمانوں کے ہاتھوں ٹکڑے ہونے میں ہے ، جیسے ابولہب کی موت اسی طرح کی واقع ہوئی تھی کہ اللہ تعالی کے عذاب میں ایسامبتلاء ہواکہ موت کے بعد نہ توکسی نے اس کو نہلایااورنہ ہی کسی نے اس کودفنایابلکہ دور سے پانی ڈال کرلوگوں نے پتھرپھینکنے شروع کیے اورانہیں میں وہ دب گیا۔ (تفسیر القرآن العظیم:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۴:۲۱) اس عبارت سے معلوم ہواکہ گستاخوں کے قتل میں اہل ایمان کے دلوں کاچین ہے ۔ مومن توہوتاہی غیرت والاہے (قَاتِلُوہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللَّہُ بِأَیْدِیکُمْ وَیُخْزِہِمْ وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْہِمْ وَیَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ)وَہَذَا عَامٌّ فِی الْمُؤْمِنِینَ کُلِّہِمْ۔ ترجمہ :حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیںکہ اس آیت مبارکہ میں جو حکم بیان کیاگیاہے وہ قیامت تک کے مومنین کے لئے عام ہے کہ وہ کفارکے ساتھ جہاد کریں تواللہ تعالی ان کی مددفرمائے گااوران کے ہاتھوں کفارکو ذلیل فرمائے گا۔ (تفسیر القرآن العظیم: أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۴:۱۱۸) اس عبارت سے معلوم ہواکہ ہر بندہ مومن اللہ تعالی اوراس کے رسول کریم ْﷺ کے دشمنوں کے ساتھ اسی طرح کی نفرت رکھے اوران گستاخوں کے قتل پر خوش ہو ۔ امام ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ونفس المومن لاتشتفی من ھذا الساب اللعین الطاعن فی سید الاولین والآخرین الابقتلہ وصلبہ بعد تعذیبہ وضربہ فان ذلک ھوالائق بہ ۔ ترجمہ :سید الاولین والآخرین ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے گستاخ لعنتی کے متعلق صاحب ایمان کادل ٹھنڈانہیں ہوتاجب تک کہ تکلیف دینے اورمارنے کے بعد اسے قتل نہ کرے یاسولی نہ چڑھائے کیونکہ یہ گستاخ اسی لائق ہے ۔ (رسائل ابن عابدین لامام شامی ( ۲:۱۹۰) مطبوعہ پشاورپاکستان ) حافظ ابن کثیر اورامام ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہماکے نزدیک گستاخوں کے قتل پر ہی مومنین کے دل خوش ہوتے ہیں اورحافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تو اس آیت کی تفسیر میں ابوجہل اورابولہب کے قتل پر اہل ایمان کے قلوب کے ٹھنڈے ہونے کاذکر کردیاہے ۔معارف ومسائل
(۱)اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفر اور گناہوں کے باوجود دنیاوی راحتیں ملنا در اصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل اور اس کا غضب و عذاب ہے کہ اس سے انسان اور زیادہ غافل ہو کر گناہ پر دلیر ہو جاتا ہے بلکہ کبھی خیال کرتا ہے کہ گناہ اچھی چیز ہے ورنہ مجھے یہ نعمتیں نہ ملتیں اور یہ کفر ہے ۔ (۲)یاد رہے کہ اللہ تعالی کی نعمت پر خوش ہونا اگر فخر، تکبر اور شیخی کے طور پر ہو تو برا ہے اور کفار کا طریقہ ہے اور اگر شکر کے طور پر ہو تو بہتر ہے اور صالحین کا طریقہ ہے ۔ (۳)ان آیات کریمہ میں مجموعی طور پر یہ فرمایا گیا کہ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو وہ گڑگڑاتے تاکہ ہم انہیں توبہ کا موقع دیتے لیکن ان کے تودل سخت ہوگئے تھے اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لئے آراستہ کردئیے تھے پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیا جو انہیں کی گئی تھیں اور وہ کسی طرح نصیحت قبول کرنے کی طرف نہ آئے ، نہ تو پیش آنے والی مصیبتوں سے اور نہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نصیحتوں سے، توہم نے ان پر ہر چیز یعنی صحت و سلامت اور وسعتِ رزق و عیش و غیرہ کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس عیش و عشرت پرخوش ہوگئے اور اپنے آپ کو اس کا مستحق سمجھنے لگے اور قارون کی طرح تکبر کرنے لگے تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا اور انہیں مبتلائے عذاب کردیا اور اب وہ ہر بھلائی سے مایوس ہیں۔ (۴)ارشاد فرمایا کہ ہم نے تم سے پہلی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے لیکن لوگ ان پر ایمان نہیں لائے تو ہم نے انہیں سختی اور تکلیف میں گرفتار کردیا اور فقرو اِفلاس اور بیماری وغیرہ میں مبتلا کیا تاکہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف رجوع کریں اور اپنے گناہوں سے باز آئیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں تکالیف اور مصیبتیں بعض اوقات رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت بن جاتی ہیں کہ بندوں کو رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ کرتی ہیں اور صالحین کے درجات بلند کرتی ہیں۔(تفسیرصراط الجنان( ۳: ۱۰۴)ملخصاً۔)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9