صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2333 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃ الانعام آیت ۷۰۔ وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَعِبًا وَّ لَہْوًا وَّ غَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,315

سوال (Question):

تفسیر سورۃ الانعام آیت ۷۰۔ وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَعِبًا وَّ لَہْوًا وَّ غَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جنہوں نے دین کوکھیل بنالیااورجنہوں نے کھیل کو دین بنالیاسب کے لئے وعیداورعذاب جہنم کاوعدہ صادقہ کابیان

{وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَعِبًا وَّ لَہْوًا وَّ غَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَ ذَکِّرْ بِہٖٓ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا کَسَبَتْ لَیْسَ لَہَا مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلِیٌّ وَّلَا شَفِیْعٌ وَ اِنْ تَعْدِلْ کُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْہَا اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا کَسَبُوْا لَہُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌ بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ }(۷۰) ترجمہ کنزالایمان:اور چھوڑ دے ان کو جنہوں نے اپنا دین ہنسی کھیل بنا لیا اور انہیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا اور قرآن سے نصیحت دو کہ کہیں کوئی جان اپنے کئے پر پکڑی نہ جائے اللہ کے سوا نہ اس کا کوئی حمایتی ہو نہ سفارشی اور اگر اپنے عوض سارے بدلے دے تو اس سے نہ لیے جائیں یہ ہیں وہ جو اپنے کیے پر پکڑے گئے انہیں پینے کو کھولتا پانی اور درد ناک عذاب بدلہ ان کے کفر کا۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جنہوں نے اپنا دین ہنسی مذاق اور کھیل بنا لیا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا اور قرآن کے ذریعے نصیحت کرو تاکہ کوئی جان اپنے اعمال کی وجہ سے ہلاکت کے سپرد نہ کردی جائے، اللہ تعالی کے سوا نہ اس کا کوئی مددگار ہو گا اورنہ ہی سفارشی اور اگر وہ اپنے بدلے میں سارے معاوضے دیدے تو اس سے نہ لیے جائیں گے ۔یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے اعمال کی وجہ سے ہلاکت کے سپرد کردیا گیا۔ ان کے لئے ان کے کفر کے سبب کھولتے ہوئے پانی کا مشروب اور دردناک عذاب ہے۔ آج نعوذ باللہ کھیل کو اتنااہم کردیاگیاہے کہ اس کے لئے مساجد تک بندکردی جاتی ہیں ، اورمساجد نماز واذان اورجمعہ تک سے محروم ہوجاتی ہیں ، اس کے علاقہ کے مکینوں کو نماز کے لئے مسجد نہیں جانے دیاجاتا۔ اوراسی طرح کھلاڑی اوران کے تماشبین لاکھوں کی تعداد مردوزن جمع ہوکرخداتعالی کی شریعت کامذاق اڑاتے اوردھجیاں اڑاتے ہیں ۔ اورکھلاڑی چوکاچھکالگانے پربغیروضواور جوتے پہنے ہوئے سجدے کرتے ہیں ۔ اوران کے اس عمل حرام میں دیسی لبرل جن کاتعلق اہل مذہب سے ہے یعنی وہ ملاحضرات جو انگریزی تہذیب کے دلدادہ ہیںوہ بھی ان کووظائف بتانے میں مشغول ہوتے ہیں۔ اب یہاں پرصرف اتنالکھیں گے کہ کرکٹ میچ کے لئے دعاکرناکیساہے؟ اوراس کاشرعی حکم کیاہے ؟ مزید اس پرگفتگوآگے چل کرکریں گئے ان شاء اللہ تعالی ۔

معارف ومسائل

(۱)مذکورہ آیات کریمہ سے معلوم ہواکہ مسلمانوں کو ایسی مجالس اورمحافل میںجانااورشریک ہوناہرطرح ممنوع ہے جہاں اللہ تعالی یاحضورتاجدارختم نبوتﷺیاکتاب اللہ کی یادیگراسلامی شعارواقداراوراحکامات دینیہ کی تکذیب ہویامذاق اڑایاجائے ایسی جگہوں پر جاناحرام وممنوع ہے ، جن ملکوں میں مسلمان رہتے ہیں ان میں ایسے ممالک بھی ہیں جہاں مسلمان کم تعدادمیں ہیں اوران کی اتنی قوت اوراہمیت نہیں ہے وہ دوسروں کے تابع ہوکررہتے ہیں ایسے معاشرے میں دین دشمن اپنی اسلام دشمنی میں دین اسلام کامذاق اڑانے سے باز نہیں آتے اوروہاں بے دھڑک حضورتاجدارختم نبوتﷺاورقرآن کریم کامذا ق تک اڑایاجاتاہے ۔اوراس کے لئے باقاعدہ مجالس منعقدکی جاتی ہیں ، ڈرامے تیارکرتے ہیں ، قرآن کریم کی توہین کرتے ہیں ، اسلامی تعلیمات کو ایسے فرسودہ اوربھیانک اورناقابل عمل شکل وصورت میں پیش کرتے ہیں ، حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی زندگی پرنہایت غلیظ اورناقابل برداشت فلم بنائی اورچلائی جاتی ہیں ، اس پربڑے بڑے ایوارڈ اورانعام دیئے جاتے ہیں اورگستاخوں کو باقاعدہ نوبل انعامات کے لئے نامزدکیاجاتاہے ۔ ستم ظریقی یہ ہے کہ ایسے پروگرام کے مطابق احکامات شرع کامذاق اڑانے اورقرآن کریم کو جلانے کے لئے اوراپنے گماشتے نام نہاد مسلمانوں (لبرل وسیکولر)کو بڑی بڑی رقمیں دے کرمسلمان ملکوں میں نالیوں اورگندی جگہوں پر قرآن کریم کے اوراق پھینک دیتے ہیں اورسبزی اورپھلوں کی پیٹیوں میں قرآن کریم کے مطبوعہ رنگداراوراق ڈال کران کی توہین کرتے ہیں ، سب کچھ مسلمان ملکوں میں اورمسلمانوں کے ہاتھوں ہورہاہے مگروہاں کی حکومتیں اورذمہ داران ٹس سے مس نہیں ہوتے ، عوام الناس بیچارے جلسے جلوس نکال کرخاموش ہوجاتے ہیں۔ اور بعض اپنے طورپراوراپنے ذاتی خرچ پرمختلف مقامات سے مقدس اوراق اٹھاتے ہیں ۔ اللہ تعالی ان کوجزائے خیرعطافرمائے۔ (۲) یورپی ممالک میں جہاں اسلام کے خلاف مجالس منعقدکرتے ہیں اوراسلام کے خلاف بہت زیادہ زہرافشانی کرتے ہیں تووہاں بسنے والے بدکرداراورغلامی کاذہن رکھنے والے مسلمانوں کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے ، مسلمان اپنی جہالت اورحماقت سے بھرپورشرکت کرتے ہیںاوراس کو وہ حسن خلق کانام دیتے ہیں اوریوں وہ خداتعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺاورشعائراسلامیہ کی توہین کھلے دل کے ساتھ سنتے ہیں۔ (۳) اسی طرح بعض اسلام دشمن ایسے مضامین ، رسائل ، مقالات اورکتابیں شائع کرتے رہتے ہیں جن میں اسلام اورحضورتاجدارختم نبوتﷺاورقرآن کریم ، خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اوراسلامی حکمرانوں کے خلاف من گھڑت اوربے بنیاد اورناشائستہ باتیں لکھتے رہتے ہیں ۔ کوئی ادنی سی غیرت رکھنے والاشخص بھی اس طرح کی بکواسات کو گوارانہیں کرسکتا۔ مگرسکول وکالج اوریونیورسٹی کے طلبہ اوران کے پروفیسربھی مسلمان ہیں اورسرپرست بھی مسلمانی کادعوی رکھتے ہیں ، حکومت مسلمانوں کی ، ملک مسلمانوں کامگران کے اداروں میں جو مضامین پڑھائے جاتے ہیں وہ خالصتاًاسلام دشمنی پر مبنی ہیں اورایسی ایسی گستاخیاں جنہیں سن کر اورپڑھ کرجگرپھٹ جائے مگریہ لوگ انہیں گستاخیوں کو کھلے دل کے ساتھ سنتے ہیں ، بولتے اورپڑھاتے ہیں۔ (۴) اوریہ ایساجاہلوں کاطبقہ ہے کہ اللہ تعالی کے نام کے ساتھﷺ پڑھ رہے ہوتے ہیں، سورۃ اخلاص تک نہیں آتی ، جن کو دعائے قنوت نہیں آتی کہنے کو سب تعلیم یافتہ ، بڑی بڑی ڈگریاں ہاتھوں میں تھامے مگرخالص جاہل ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ اللہ تعالی کو قیامت کے دن کیاجواب دیں گے ، اسلام نے ہمیں غیرت سکھائی ، خودداری سکھائی یہ کتنی بدبختی کی بات ہے کہ تعلیمی اداروں میں دشمنان دین اسلام کے خلاف مضامین اورمخرب اخلاق باتیں اپنے مقدس دین کامذاق اپنے کانوں سے سننااوراپنی آنکھوں سے ایسے رسائل پڑھنانہایت پرلے درجے کی بے غیرتی کامظاہرہ کرناہے کوئی یہودی ، نصرانی ، ہندواوربدھ مت بھی اپنے گندے مذہب کے خلاف کوئی بات نہیں سنتااگرکوئی ایک آدھ جملہ اس کے مذہب کے خلاف استعمال ہوجائے توآسمان کو سرپراٹھالیتے ہیں اورسراپااحتجاج بن جاتے ہیں مگرافسوس مسلمان پراپنے برحق دین کی خاطرنہ پریشان ہوتاہے نہ احتجاج کرتاہے بلکہ اپنے دشمنوں کے سارے اعتراضات کو پی جاتے ہیں اورہضم کرجاتے ہیں۔ (۵)بے دینوں سے دنیاوی تعلقات ، رشتہ داریاں ، بیاہ شادی وغیرہ توڑلینے ضروری ہیں کیونکہ اس آیت کریمہ میں ان کو چھوڑدینے سے مراد ان سے تعلقات ختم کرناہے ۔ (۶) اسلام کی یہ خصوصیت ہے کہ اس نے مسلمانوں کو کھیل تماشے سے دوررکھاہے ، مسلمانوں کو رنج وخوشی میں اللہ تعالی کی عبادت کرنی چاہئے ، اسلامی تہواروں میں بھی عبادات رکھی گئیں جیسے عید الضحی، عیدالفطروغیرہ جبکہ دوسرے دینوںمیں کھیل تماشے کو عبادت بنادیاگیاہے کیونکہ کفارمکہ کی نماز بیت اللہ میں کھڑے ہوکرتالیاں بجانااورسیٹیاں بجاناتھی۔ (۷) آج افسوس ہے کہ بعض بے دین اوردشمن لبرل وسیکولرطبقہ نے کھیل کود اورناچ گانے کو دین سمجھ لیاہے، قوالی طبلہ اورسارنگی کو خداتعالی تک پہنچنے کا واحدذریعہ سمجھ لیاہے اورنماز اورروزے سے یکسرغافل ہوگئے ہیں اور بعض بے دین فقیروں نے خود کو اوراپنے مریدوں کونماز سے روکتے ہیں بھنگ اورچرس اورحقہ نوشی میں مبتلاء کردیتے ہیں یہ لوگ مجسم شیطان ہیں ، یہ بات یادرہے کہ اللہ تعالی کی بارگاہ اقدس تک پہنچنے کاواحدذریعہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی اطاعت ہی ہے ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh