صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2337 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

غامدی اورمرزاجہلمی اورلبرل وسیکولرفکرکے حامل مذہبی اسکالرگمراہ کیوں ہوجاتے ہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,739

سوال (Question):

غامدی اورمرزاجہلمی اورلبرل وسیکولرفکرکے حامل مذہبی اسکالرگمراہ کیوں ہوجاتے ہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

غامدی اورمرزاجہلمی اورلبرل وسیکولرفکرکے حامل مذہبی اسکالرگمراہ کیوں ہوجاتے ہیں؟

اہل اسلام کی خصوصیات میں سے خصوصی شرف و امتیاز یہ ہے کہ وہ سلف صالحین کے منہج و فہم کے علمبردار ہیں۔ وہ اپنی عقل و دانش کی بنیاد پر قرآن کریم و حدیث شریف کو نہیں سمجھتے، بلکہ اسلاف یعنی صحابہ کرام اور ائمہ دین و محدثین رضی اللہ عنہم کے فہم پر اکتفا کرتے ہوئے قرآن و حدیث کے مفاہیم و معانی اور مطالب معین کر تے ہیں۔ جو شخص یا گروہ شرعی نصوص کو صحابہ و تابعین اور ائمہ دین کے فہم و اجتہاد کے مطابق نہیں سمجھتا، وہ پکا گمراہ ہے۔ سلف صالحین کی پیروی درحقیقت رشد و ہدایت اور حق و صداقت تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جو امت کو انتشار و افتراق سے بچا سکتی ہے اور معاشرے کو صحیح اسلامی عقائد پر استوار کر سکتی ہے۔ اس لیے کتاب و سنت کا مفہوم اور جو علوم کتاب و سنت سے ماخوذ اور مستفاد ہوں گے، وہ وہی ہوں گے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھے ہیں۔ ہر گمراہ اوربے دین اوردین دشمن لبرل وسیکولر اپنے فاسد عقائد کو اپنے زعم اور خیال میں کتاب و سنت ہی سے ماخوذ ہونے کا مدعی ہے، لہٰذا کتاب و سنت کے وہی معانی اور مفاہیم معتبر ہوں گے، جو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھے ہیں۔ اس کے خلاف کسی مفہوم کا اعتبار نہ ہو گا۔ جو شخص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف کتاب و سنت کا کوئی مفہوم بیان کرے، بس یہی اس کے گمراہ اور بے عقل ہونے کی دلیل ہے۔ اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہیں سمجھے تو یہ نیم عربی داں اور یہ نیم انگریزی خواں کہاں سے سمجھ گیا؟ یہ نیم کی قید اس لیے لگائی کہ پورا عربی داں تو وہی سمجھے گا، جو صحابہ و تابعین اور سلف صالحین رضی اللہ عہم نے سمجھا اور پورا انگریزی داں جو عربی سے بالکل بے خبر ہو گا، سو اگر وہ عاقل اور دانا ہو گا تو وہ کتاب و سنت کے بارے میں کچھ لب کشائی نہ کرے گا۔ اس لیے کہ عاقل اور دانا اس کتاب کے مطلب بیان کرنے پر کبھی جرات نہیں کر سکتا، جس کتاب کی وہ زبان نہ جانتا ہو۔ جس طرح ایک عربی زبان کا فاضل اور ادیب انگریزی قانون کی شرح کے بارے میں لب کشائی نہیں کر سکتا، اسی طرح ایک انگریزی داں قرآن و حدیث کی تفسیر پر لب کشائی نہیں کر سکتا اور محض ترجمہ دیکھ کر اپنے آپ کو قانون دان سمجھنا بھی نادان ہونے کی دلیل ہے۔ یہ لبرل وسیکولر دھوکا دینے کے لیے اسلام کا اور اللہ تعالی کا اور اس کے حضورتاجدارختم نبوتﷺکا نام لیتے ہیں اور آیات اور احادیث کے وہ معنی بیان کرتے ہیں جو کہ صحابہ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم اور امت کے علمائے ربانیین کے سمجھے ہوئے کے بالکل برعکس ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ دین وہ ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھا اور جو اس کے خلاف ہے، وہ کفر اور گمراہی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کے دھوکے میں نہ آئیں۔ اگر انصاف، خدا خوفی اور دیانت کے ساتھ اس بات پر غور کر لیا جائے کہ آخر یہی قرآن و حدیث حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین عظام اور ائمہ دین و برزگان صالحین کے سامنے بھی تھے۔ ان کا جو مطلب و معنی اور جو تفسیر کی مراد انہوں نے سمجھی، وہی حق اور صواب ہے، باقی سب غلط اور باطل ہے۔ پس عوام کا یہ کام ہے کہ ہر باطل پرست اور خواہش زدہ سے یہ سوال کریں کہ فلاں آیت اور فلاں حدیث کی جو مراد تم بیان کر رہے ہو، آیا یہ سلف صالحین سے ثابت ہے؟ اگر ہے تو صحیح و صریح حوالہ بتاؤ۔ چشمِ ماروشن، دلِ ماشاد۔ ورنہ یہ مراد جو تم بیان کرتے ہو، اس قابل ہے کہ اسے؛ اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں!عوام اس قاعدہ اور ضابطہ کے بغیر اور کسی طرف نہ جائیں، پھر دیکھیں کہ حق کس کے ساتھ ہے؟ اور قرآن و حدیث کی مراد کون سی صحیح ہے؟ اگر وہ ایسا نہ کریں گے اور اس میں کوتاہی کریں گے تو ضروریات دین میں غلطی کی وجہ سے کبھی عنداللہ سرخرو نہیں ہو سکیں گے اور اپنی طاقت اور وسعت صرف نہ کرنے کی وجہ سے جو گناہ قرآن و حدیث کی تحریف کرنے والوں کو ملے گا، اس میں ماننے والے بھی برابر کے شریک ہوں گے۔ لبرل وسیکولر حضرات کو ٹھنڈے دل سے غور کر لینا چاہیے کہ جو عقائد اور اعمال انہوں نے اختیار کر رکھے ہیں اور دن رات جن کی نشر و اشاعت میں وہ کوشاں ہیں، آیا یہ عقائد و اعمال حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین اور سلف صالحین کے تھے؟ اگر تھے تو نجات انہی میں ہے اور یہ عقائد و اعمال ان کے نہ تھے تو اپنی نجات کی فکر کریں، ایسا نہ ہو کہ کل پچھتانا پڑے۔ فریب خود کو دئیے اور خود ہی پچھتائے!۔

جب اسلاف کی رائے کوترک کریں گے توگمراہ ہوجائیں گے

عَنْ سَعِیدِ بْنِ وَہْبٍ، قَالَ:سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ: لَا یَزَالُ النَّاسُ صَالِحِینَ مُتَمَاسِکِینَ مَا أَتَاہُمُ الْعِلْمُ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَمِنْ أَکَابِرِہِمْ، فَإِذَا أَتَاہُمْ مِنْ أَصَاغِرِہِمْ ہَلَکُوا۔ ترجمہ :حضرت سیدناسعیدبن وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ میں نے حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سناکہ لوگ نیک رہیں گے اورحق پرقائم رہیں گے ، جب تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اوراپنے بڑوں سے ان کے پاس علم آتارہے گا، جب ان کے چھوٹوںکی جانب سے علم آنے لگے گاتووہ ہلاک ہوجائیں گے ۔ (الجامع :معمر بن أبی عمرو راشد الأزدی مولاہم، أبو عروۃ البصری، نزیل الیمن (۱۱:۲۴۶) سلف کی رائے کے خلاف کوئی رائے قبول نہیں عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ: خُذُوا مِنَ الرَّأْیِ مَا یُصَدِّقُ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، وَلَا تَأْخُذُوا مَا ہُوَ خِلَافٌ لَہُمْ، فَإِنَّہُمْ خَیْرٌ مِنْکُمْ وَأَعْلَمُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام الاوزاعی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعمربن عبدالعزیزرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی کی وہ رائے قبول کرو جوسلف کی رائے کے موافق ہو، اگران کی رائے کے خلاف کوئی رائے ہوتواسے قبول نہ کرو!کیونکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تم سے زیادہ اورتم سے بہترعلم رکھتے تھے۔ (حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفیاء :أبو نعیم أحمد بن عبد اللہ بن أحمد الأصبہانی (۵:۲۷۰)

اسلاف کی رائے کے خلاف تمام احکامات معطل کردئیے

عَنْ أَبِی عُمَرَ، وَقَالَ، کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِرَدِّ أَحْکَامٍ مِنْ أَحْکَامِ الْحَجَّاجِ مُخَالِفَۃٍ لِأَحْکَامِ النَّاسِ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوعمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعمربن عبدالعزیزرضی اللہ عنہ نے حجاج بن یوسف کے ان احکامات کو تبدیل کرنے کاحکم دیاجو اس نے علماء کرام کے احکامات کے خلاف دئیے تھے۔ (حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفیاء :أبو نعیم أحمد بن عبد اللہ بن أحمد الأصبہانی (۵:۲۷۰)

خودکو اسلاف کے تابع رکھو!

ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ، قَالَ:قَالَ الْأَوْزَاعِیُّ:اصْبِرْ نَفْسَکَ عَلَی السُّنَّۃِ وَقِفْ حَیْثُ وَقَفَ الْقَوْمُ وَقُلْ بِمَا قَالُوا، وَکُفَّ عَمَّا کَفُّوا عَنْہُ وَاسْلُکْ سَبِیلَ سَلَفِکَ الصَّالِحِ فَإِنَّہُ یَسَعُکُ مَا وَسِعَہُمْ۔ ترجمہ :امام ابواسحاق الفزاری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ امام الاوزاعی رضی اللہ عنہ فرمایاکرتے تھے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنت کریمہ پر ڈٹ جائو،جہاں ہمارے اسلاف ٹھہرے تم بھی ٹھہرجائو،تم بھی وہی کہوجوانہوں نے کہا۔ جس قول وفعل سے وہ رکے تم بھی رک جائو،اوراپنے اسلاف کی راہ پر چلتے رہواورتم کو بھی وہی کافی ہوگی جو ان کے لئے کافی تھی ۔ (حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفیاء :أبو نعیم أحمد بن عبد اللہ الأصبہانی (۶:۱۴۳) امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں قُلْتُ:وَمِنْ ہَذَا النَّمَطِ مَنْ أَعْرَضَ عَنِ الْفِقْہِ وَالسُّنَنِ وَمَا کَانَ عَلَیْہِ السَّلَفُ مِنَ السُّنَنِ فَیَقُولُ: وَقَعَ فِی خَاطِرِی کَذَا، أَوْ أَخْبَرَنِی قَلْبِی بِکَذَا، فَیَحْکُمُونَ بِمَا یَقَعُ فِی قُلُوبِہِمْ وَیَغْلِبُ عَلَیْہِمْ مِنْ خَوَاطِرِہِمْ، وَیَزْعُمُونَ أَنَّ ذَلِکَ لِصَفَائِہَا مِنَ الْأَکْدَارِ وَخُلُوِّہَا مِنَ الْأَغْیَارِ، فَتَتَجَلَّی لَہُمُ الْعُلُومُ الْإِلَہِیَّۃُ وَالْحَقَائِقُ الرَّبَّانِیَّۃُ، فَیَقِفُونَ عَلَی أَسْرَارِ الْکُلِّیَّاتِ وَیَعْلَمُونَ أَحْکَامَ الْجُزْئِیَّاتِ فَیَسْتَغْنُونَ بِہَا عَنْ أَحْکَامِ الشَّرَائِعِ الْکُلِّیَّاتِ، وَیَقُولُونَ:ہَذِہِ الْأَحْکَامُ الشَّرْعِیَّۃُ الْعَامَّۃُ، إِنَّمَا یُحْکَمُ بِہَا عَلَی الْأَغْبِیَاء ِ وَالْعَامَّۃِ، وَأَمَّا الْأَوْلِیَاء ُ وَأَہْلُ الْخُصُوصِ، فَلَا یَحْتَاجُونَ لِتِلْکَ النُّصُوصِ وَقَدْ جَاء َ فِیمَا یَنْقُلُونَ:اسْتَفْتِ قَلْبَکَ وَإِنْ أَفْتَاکَ الْمُفْتُونَ ، وَیَسْتَدِلُّونَ عَلَی ہَذَا بِالْخَضِرِ، وَأَنَّہُ اسْتَغْنَی بِمَا تَجَلَّی لَہُ مِنْ تِلْکَ الْعُلُومِ، عَمَّا کَانَ عِنْدَ مُوسَی مِنْ تِلْکَ الْفُہُومِ وَہَذَا الْقَوْلُ زَنْدَقَۃٌ وَکُفْرٌ، یُقْتَلُ قَائِلُہُ وَلَا یُسْتَتَابُ، وَلَا یَحْتَاجُ مَعَہُ إِلَی سُؤَالٍ وَلَا جَوَابٍ، فَإِنَّہُ یَلْزَمُ مِنْہُ ہَدُّ الْأَحْکَامِ وَإِثْبَاتُ أَنْبِیَاء َ بَعْدَ نَبِیِّنَا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ترجمہ :امام القرطبی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں کہتاہوں کہ اس طریقے سے جس نے فقہ ، سنت اوراس طریقے سے جس پر اسلاف عمل پیرارہے ، اعراض کرلیاتووہ کہنے لگتاہے میرے دل میں اس طرح واقع ہواہے ، یامیرے دل نے مجھے اس طرح خبردی ہے ، پس وہ اسی کے مطابق فیصلے کرنے لگ جاتاہے جو کچھ ان کے دلوں میں واقع ہوتاہے ، اوران کے احساسات میں جو ان پرغالب آجاتاہے اوروہ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ یہ ان کے دلوںکے کدورتوں سے صاف ہونے اوراغیارکے تصورسے ان کے خالی ہونے کے سبب ہے ۔ پس ان کے لئے علوم الہیہ اورحقائق ربانیہ ظاہرہورہے ہیں اوروہ کلیات کے ا سرارپرواقفیت رکھتے ہیں اورجزیات کے احکامات جانتے ہیں ، پس وہ اس کے سبب تمام شریعتوں کے احکامات سے مستغنی ہیں اوروہ کہتے ہیں کہ یہ احکامات شرعیہ عام ہیں ، ان کے ساتھ کندذہنوں اورعام لوگوں پرحکم لگایاجاتاہے اوررہے اولیاء اللہ اورخاص لوگ توان نصوص کے محتاج نہیں ہوتے ، تحقیق اس میں آیاہے کہ جووہ نقل کرتے ہیں کہ اپنے دل سے فتوی لواگرچہ تم کو علماء نے فتوی دے رکھاہواوروہ اس پرحضرت سیدناخضرعلیہ السلام کے واقعہ سے استدلال کرتے ہیں کہ وہ ان علوم کے سبب جوان پر ظاہرہوئے اس سے مستغنی ہوگئے جوان کامفہوم حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے نزدیک تھا۔ یہ قول زندقہ اورکفرہے اورایساکہنے والاکافراورزندیق ہے اوراس کے قائل کوقتل کردیاجائے گا اوراس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی اوراس کے ساتھ سوال وجواب کی ضرورت اورحاجت نہیں ہوگی ( یعنی اس کے ساتھ مناظرے کرنے کی حاجت نہیں ہوگی) کیونکہ اس سے احکامات خداوندی کو گرانااورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے بعد انبیاء کوثابت کرنالازم آتاہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۷:۳۹) امام محمدبن وضاح القرطبی المتوفی : ۲۸۶ھ) رحمہ اللہ تعالی کاقول فعَلیْکمْ باِلاتباعِ لأَئِمَّۃِ الہدَی المعْرُوْفِیْنَ، فقدْ قالَ بَعْضُ مَنْ مَضَی:کمْ مِنْ أَمْرٍ ہُوَ الیوْمَ مَعْرُوْفٌ عِنْدَ کثِیْرٍ مِنَ النّاس:کانَ مُنْکرًا عِنْدَ مَنْ مَضَی، وَمُتَحَبَّبٍ إلیْہِ بمَا یُبْغِضُہُ عَلیْہِ، وُمُتقرَّبٍ إلیْہِ بمَا یُبْعِدُہُ مِنْہ، وَکلُّ بدْعۃٍ عَلیْہَا زِینۃ ٌ وَبَہْجَۃ۔ ترجمہ :امام إبراہیم بن موسی بن محمد اللخمی الغرناطی الشہیر بالشاطبی المتوفی : ۷۹۰ھ) رحمہ اللہ تعالی امام وضاح رحمہ اللہ تعالی سے نقل کرتے ہیں کہ تم پر معروف ائمہ ہدایت کی پیروی لازم ہے۔ سلف میں سے ایک شخص نے فرمایا: بہت سے کام آج اکثر لوگوں میں رائج ہیں، لیکن سلف کے ہاں وہ منکر تھے۔ بہت سے کام آج لوگوں کو محبوب ہیں لیکن سلف کے ہاں مبغوض تھے۔ بہت سے کام آج لوگوں کے تقرب کا ذریعہ ہیں، لیکن یہی کام سلف سے دوری کا باعث تھے۔ ہر بدعت (ظاہری طور پر)خوبصورت اور پُررونق نظر آتی ہے۔ (الاعتصام:إبراہیم بن موسی بن محمد اللخمی الغرناطی الشہیر بالشاطبی (۱:۴۴۹) امام قاضی شریک بن عبداللہ المتوفی : ۱۷۷ھ)رحمہ اللہ تعالی کاقول ثنا مُوسَی بْنُ دَاوُدَ، قَالَ:قَالَ لِی عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ: قَدِمَ عَلَیْنَا شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ مُنْذُ نَحْوٍ مِنْ خَمْسِینَ سَنَۃً، قَالَ:فَقُلْتُ لَہُ:یَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ، إِنَّ عِنْدَنَا قَوْمًا مِنَ الْمُعْتَزَلَۃِ یُنْکِرُونَ ہَذِہِ الْأَحَادِیثَ قَالَ: فَحَدَّثَنِی بِنَحْوٍ مِنْ عَشْرَۃِ أَحَادِیثَ فِی ہَذَا،وَقَالَ:أَمَّا نَحْنُ فَقَدْ أَخَذْنَا دِینَنَا ہَذَا عَنِ التَّابِعِینَ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَہُمْ عَمَّنْ أَخَذُوا؟۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبادبن العوام رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت سیدناقاضی شریک بن عبداللہ رحمہ اللہ تعالی تشریف لائے تومیں نے عرض کیاکہ معتزلہ احادیث شریفہ کاانکارکرتے ہیں توآپ رحمہ اللہ تعالی نے مجھے اس بارے میں دس احادیث شریفہ بیان کی اورفرمایاہم نے تو اپنا یہ دین تابعین کرام رضی اللہ عنہم سے لیا ہے، انہوں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کس سے لیا (یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں)۔ (الأسماء والصفات للبیہقی:أحمد بن الحسین بن علی أبو بکر البیہقی (۲:۳۷۴)

جوشخص اپنی فہم پرانحصارکرتاہے وہ بے دین ہوجاتاہے

وَکَیْفَ یَتَکَلَّمُ فِی أُصُولِ الدِّینِ مَنْ لَا یَتَلَقَّاہُ مِنَ الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ، وَإِنَّمَا یَتَلَقَّاہُ مِنْ قَوْلِ فُلَانٍ؟! وَإِذَا زَعَمَ أَنَّہُ یَأْخُذُہُ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ لَا یَتَلَقَّی تَفْسِیرَ کِتَابِ اللَّہِ مِنْ أَحَادِیثِ الرَّسُولِ، وَلَا یَنْظُرُ فِیہَا، وَلَا فِیمَا قَالَہُ الصَّحَابَۃُ وَالتَّابِعُونَ لَہُمْ بِإِحْسَانٍ، الْمَنْقُولِ إِلَیْنَا عَنِ الثِّقَاتِ النَّقَلَۃِ، الَّذِینَ تَخَیَّرَہُمُ النُّقَّادُ، فَإِنَّہُمْ لَمْ یَنْقُلُوا نَظْمَ الْقُرْآنِ وَحْدَہُ، بَلْ نَقَلُوا نَظْمَہُ وَمَعْنَاہُ، وَلَا کَانُوا یَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ کَمَا یَتَعَلَّمُ الصِّبْیَانُ، بَلْ یَتَعَلَّمُونَہُ بِمَعَانِیہِ وَمَنْ لَا یَسْلُکُ سَبِیلَہُمْ فَإِنَّمَا یَتَکَلَّمُ بِرَأْیِہِ، وَمَنْ یَتَکَلَّمُ بِرَأْیِہِ وَمَا یَظُنُّہُ دِینَ اللَّہِ وَلَمْ یَتَلَقَّ ذَلِکَ مِنَ الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ فَہُوَ مَأْثُومٌ وَإِنْ أَصَابَ، وَمَنْ أَخَذَ مِنَ الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ فَہُوَ مَأْجُورٌ وَإِنْ أَخْطَأَ، لَکِنْ إِنْ أَصَابَ یُضَاعَفُ أَجْرُہُ. ترجمہ:الامام صدر الدین محمد بن علاء الدین علیّ بن محمد ابن أبی العز الحنفی، الأذرعی الصالحی الدمشقی المتوفی : ۷۹۲ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ وہ شخص اصول دین کے بارے میں کلام کیسے کر سکتا ہے جس نے یہ اصول کتاب و سنت سے اخذ نہ کیے ہوں، بلکہ کسی شخص کے قول سے لیے ہوں۔ اگر وہ قرآن کریم سے ان اصولوں کے اخذ کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو قرآن کریم کی تفسیر حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی احادیث سے نہیں لیتا۔ وہ نہ احادیث کو دیکھتا ہے، نہ صحابہ و تابعین کے ان اقوال میں غور کرتا ہے جنہیں ہم تک ان ثقہ راویوں نے پہنچایا ہے جن کو نقاد محدثین نے منتخب کیا تھا۔ صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم (کے اقوال اس لیے ضروری ہیں کہ انہوں)نے صرف قرآن کریم کے الفاظ نقل نہیں کیے، بلکہ اس کا معنیٰ بھی نقل کیا ہے۔ وہ قرآن کریم کو اس طرح نہیں سیکھتے جس طرح بچے (صرف لفظاً)سیکھتے ہیں، بلکہ وہ قرآن کریم کو اس کے معانی سمیت سیکھتے تھے۔ جو شخص ان کے راستے پر نہیں چلے گا، وہ اپنی رائے سے بات کرے گا اور جو شخص اپنی رائے سے بات کرے گا اور اسے اللہ تعالی کا دین سمجھے گا، حالانکہ اس نے یہ رائے وحی سے نہیں لی ہو گی، وہ اگر درست فیصلہ بھی کرے گا تو گناہگار ہو گا۔ اس کے مقابلے میں جو شخص کتاب و سنت سے مسئلہ اخذ کرے گا، اگرچہ وہ غلطی پر ہو، اسے اجر ملے گا۔ اگر وہ درستی پر ہوا تو اسے دو اجر ملیں گے۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ:صدر الدین محمد بن علاء الدین علیّ بن محمد ابن أبی العز الحنفی (۱:۱۶۱) اس کامطلب یہ ہے کہ صرف کتاب و سنت کا دعویٰ مبہم ہے، کیونکہ آج ہرلبرل وسیکولر بھی کتاب و سنت سے مسائل اخذ کرنے کا مدعی ہے۔ فیصلہ کن بات یہ ہے کہ کتاب و سنت کو فہم سلف کے مطابق سمجھا جائے اور وحی الہیٰ سے ایسا کوئی مسئلہ اخذ نہ کیا جائے، سلف جس کے مخالف ہوں۔

نجات صرف وہی پائے گاجو خود کواسلاف کاپیروکاررکھے گا

أَقُول الْفرْقَۃ النَّاجِیۃ ہم الآخذون فِی العقیدۃ وَالْعَمَل جَمِیعًا بِمَا ظہر من الْکتاب وَالسّنۃ، وَجری عَلَیْہِ جُمْہُور الصَّحَابَۃ وَالتَّابِعِینَ وَإِن اخْتلفُوا فِیمَابَینہم فِیمَا لم یشْتَہر فِیہِ نَص، وَلَا ظہر من الصَّحَابَۃ اتِّفَاق عَلَیْہِ اسْتِدْلَالا مِنْہُم بِبَعْض مَا ہُنَالک أَو تَفْسِیرا لمجملہ وَغیر النَّاجِیۃ کل فرقۃ انتحلت عقیدۃ خلاف عقیدۃ السّلف أَو عملا دون أَعْمَالہم. ترجمہ:حضرت سیدناشاہ ولی اللہ محدث دہلوی المتوفی : ۱۱۷۶ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ فرقہ ناجیہ (جنتی گروہ)وہ لوگ ہیں جو عقیدہ و عمل دونوں میں وہ بات لیتے ہیں جو کتاب و سنت سے ظاہر ہو اور جس پر جمہور صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم عمل کرتے ہیں۔ ہاں ! جن مسائل میں کوئی شرعی نص معروف نہ ہو، نہ اس سلسلے میں صحابہ کرام کا کوئی اتفاق سامنے آیا ہو، اس میں فرقہ ناجیہ کے لوگ بعض آثار سے استدلال کرتے ہوئے یا مجمل نصوص کی تفسیر کرتے ہوئے آپس میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس غیر ناجیہ گروہ ہر وہ فرقہ ہے جو ایسے عقیدے سے منسوب ہو جو سلف صالحین (صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم)کے خلاف ہے یا ایسا عمل اپنائے جو سلف سے ثابت نہیں۔ (حجۃ اللہ البالغۃ:أحمد بن عبد الرحیم بن الشہید وجیہ الدینـ الشاہ ولی اللہ الدہلوی (۱:۲۸۹)

خودساختہ فہم کی پیروی کے ترک پرامت مرحومہ کااجماع ہے

أَن الْأمۃ اجْتمعت علی أَن یعتمدوا علی السّلف فِی معرفَۃ الشَّرِیعَۃ فالتابعون اعتمدوا فِی ذَلِک علی الصَّحَابَۃ وَتبع التَّابِعین اعتمدوا علی التَّابِعین وَہَکَذَا فِی کل طبقَۃ اعْتمد الْعلمَاء علی من قبلہم وَالْعقل یدل علی حسن ذَلِک لِأَن الشَّرِیعَۃ لَا تعرف إِلَّا بِالنَّقْلِ والإستنباط وَالنَّقْل لَا یَسْتَقِیم إِلَّا بِأَن تَأْخُذ کل طبقَۃ عَمَّن قبلہَا بالإتصال وَلَا بُد فِی الإستنباط أَن تعرف مَذَاہِب الْمُتَقَدِّمین لِئَلَّا یخرج عَن أَقْوَالہم فیخرق الْإِجْمَاع ۔ ترجمہ:حضرت سیدناشاہ ولی اللہ محدث دہلوی المتوفی : ۱۱۷۶ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ وہ شریعت کو سمجھنے کے سلسلے میں اپنے سلف پر اعتماد کرتی ہے۔ تابعین کرام رضی اللہ عنہم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر اور تبع تابعین نے تابعین پر اعتماد کیا، اسی طرح ہر طبقے کے اہل علم نے اپنے سے پہلے لوگوں پر اعتماد کیا۔ عقل بھی اس طریقے کو اچھا سمجھنے پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ شریعت کی معرفت نقل (روایت)اور استنباط دو چیزوں سے ہوتی ہے۔ جس طرح روایت صرف اسی صورت ممکن ہے کہ ہر طبقہ اپنے سے پہلے طبقے سے اتصال کے ساتھ لے، اسی طرح استنباط میں بھی ضروری ہے کہ متقدمین کے مذاہب بخوبی معلوم ہوں تاکہ کوئی استنباط سلف کے اقوال سے خارج ہو کر اجماع امت کا مخالف نہ ہو جائے۔ (عقد الجید فی أحکام الاجتہاد والتقلید:أحمد بن عبد الرحیم الشاہ ولی اللہ الدہلوی :۱۳)

سعادت مند کون ؟

فَالسَّعِیدُ مَنْ تَمَسَّکَ بِمَا کَانَ عَلَیْہِ السَّلَفُ وَاجْتَنَبَ مَا أَحْدَثَہُ الْخَلَفُ ۔ ترجمہ:سعادت مند وہ ہے جس نے اُس چیز کو مضبوطی سے تھام لیا جس پر سلف تھے اور اُس سے اجتناب کیا جو بعد میں آنے والوں نے ایجاد کیا۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری:أحمد بن علی بن حجر أبو الفضل العسقلانی الشافعی(۱۳:۲۵۳) آج ہمیں بھی اسلاف کی راہ کو مضبوطی سے تھامنے کی اسی سوچ پر زور دینے کی اشد ضرورت ھے کیونکہ ہمارے اندر بہت سی ایسی خرافات شامل ہوچکی ہیں جو ہماری سستی کیوجہ سے عوامِ اہل سنت کی نظروں میں دین و مسلک کا جز شمار ہونے لگی ہیں۔

چند کتب پڑھ کر علماء و محدثین کے اسلاف پر طعن کرنے والوں کا حقیقی حال

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْأَبَّارُ قَالَ:رَأَیْتُ بِالْأَہْوَازِ رَجُلًا قَدْرَأَیْتُ بِالْأَہْوَازِ رَجُلًا قَدْ حَفَّ شَارِبَہُ ، وَأَظُنُّہُ قَدِ اشْتَرَی کُتُبًا وَتَعَبَّأَ لِلْفُتْیَا، فَذَکَرُوا أَصْحَابَ الْحَدِیثِ، فَقَالَ:لَیْسُوا بِشَیْء ٍ، وَلَیْسَ یَسْوُونَ شَیْئًا، فَقُلْتُ لَہُ:أَنْتَ لَا تُحْسِنُ تُصَلِّی قَالَ:أَنَا؟ قُلْتُ:نَعَمْ قُلْتُ:إِیشْ تَحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَّ إِذَا افْتَتَحْتَ الصَّلَاۃَ وَرَفَعْتَ یَدَیْکَ؟ فَسَکَتَ، فَقُلْتُ:فَإِیشْ تَحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَّ إِذَا وَضَعْتَ یَدَیْکَ عَلَی رُکْبَتَیْکَ؟ فَسَکَتَ، قُلْتُ:إِیشْ تَحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَّ إِذَا سَجَدْتَ؟ فَسَکَتَ، قُلْتُ:مَا لَکَ لَا تَتَکَلَّمُ؟ أَلَمْ أَقُلْ لَکَ:إِنَّکَ لَا تُحْسِنُ تُصَلِّی؟ أَنْتَ إِنَّمَا قِیلَ لَکَ: تُصَلَّی الْغَدَاۃُ رَکْعَتَیْنِ، وَالظُّہْرُ أَرْبَعًا، فَالْزَمْ ذَا خَیْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ تَذْکُرَ أَصْحَابَ الْحَدِیثِ، فَلَسْتَ بِشَیْء ٍ وَلَا تُحْسِنُ شَیْئًا۔ ترجمہ :امام ابو العباس احمد بن علی بن مسلم الابار الخیوطی النخشبی البغدادی(المتوفی :۲۹۰ھ)بیان کرتے ہیں میں نے ’’اہواز‘‘میں ایک شخص کو دیکھا جس نے اپنی مونچھیں پست کر رکھی تھیں اور میرا خیال ہے کہ وہ چند کتابیں خرید کر مفتی بن بیٹھا تھا، لوگوں نے اس کے سامنے اصحاب الحدیث (محدثین )کا ذکر کیا تو کہنے لگا یہ بے حیثیت و بے وقعت لوگ ہیں ۔میں نے اس سے کہا :تم تو نماز بھی صحیح طرح ادا نہیں کر سکتے!کہنے لگا میں؟؟ میں نے کہا :ہاں تم پھر میں نے اس سے پوچھا چلو بتاؤ کہ آغازِ نماز میں تم جو ہاتھ اٹھاتے ہو اس کے متعلق تمہیں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی کونسی حدیث یاد ہے؟ وہ خاموش ہو گیا ،میں نے پوچھا :اچھا یہ بتاؤ کہ رکوع میں تم جو گھنٹوں پر ہاتھ رکھتے ہو اس کے متعلق تمہیںحضورتاجدارختم نبوتﷺ کی کونسی حدیث یاد ہے؟ وہ خاموش رہا،میں نے پوچھا چلو یہ بتاؤ کہ جو نماز میں سجدہ کرتے ہو اس کے متعلق تمہیں حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی کونسی حدیث یاد ہے؟وہ لا جواب رہا،میں نے کہا اب کیا ہوا، بولتے نہیں؟ میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ تم تو نماز بھی صحیح طرح ادا نہیں کر سکتے ،تمہیں صرف اتنا بتا دیا جائے کہ فجر کی دو رکعتیں اور ظہر کی چار رکعتیں ہیں تو بس انہیں پر عمل کرتے رہو یہ تیرے لیے محدثین کے خلاف زبان درازی سے بہتر ہے وگرنہ تو خود تو کسی کام کا نہیں اور نہ ہی تیری کوئی حیثیت ہے۔ (الکفایۃ فی علم الروایۃ:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی :۵)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh