پینٹ یا پاجامہ کو موڑ کر نماز پڑھنا کیسا ہے از مفتی محمود اختر القادری ممبئ
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
پینٹ یا پاجامہ کو موڑ کر نماز پڑھنا کیسا ہے از مفتی محمود اختر القادری ممبئ
سوال :۔
زید کہتا ہے کہ نماز میں پینٹ یا پاجامہ کے پائینچے اگر لمبے ہوں تو اس کو اُلٹا موڑ کر ٹخنے سے اوپر کرکے نماز پڑھنا درست ہے کیوںکہ ٹخنے کے اوپر کپڑا پہنناسنت ہے جواب طلب امر یہ ہے کہ کیا سنت پر عمل کرنے کے لئے پائینچہ الٹا کرکے نماز پڑھنا سنت ہے ؟ بینو ا توجروا۔
المستفتی :۔ محمد صادق رضوی ،بہرام نگر ،باندرہ ( مشرق)
جواب :۔
کپڑا موڑ کر نمازپڑھنامکروہ تحریمی ہے حدیث شریف میں ہے : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ امرت ان لا اکف شعرا ولا ثوبا ‘‘ مجھے حکم ہوا کہ بال اور کپڑے نہ سمیٹوں ( بخاری ومسلم ) غنیہ شرح منیہ میں ہے یکرہ ان یکف ثوبہ وھو فی الصلوۃ بعمل قلیل بان یرفعہ من بین یدیہ او من خلفہ عند السجود او یدخل فیھا و ھو مکفوف کما اذا دخل وھو مشمرا لکُمِّ او الذَیْلِ ‘‘ … زید کا کہنا صحیح نہیں ،ٹخنے سے اوپر پائینچہ کارکھنا ضرور سنّت ہے مگر نماز میں کپڑا چڑھانا مکروہ تحریمی اور نماز کو کراہت سے بچانا آکد واہم ۔ لہذا ایسا کپڑا ہی نہ پہنا جائے جو ٹخنے سے نیچے لٹکے کہ ایسا کرنا از راہِ تکبر ہو تو حرام اور نماز مکروہ ِتحریمی اور از راہ تکبر نہ ہو تو نماز مکروہِ تنزیہی ،لیکن کفِّ ثوب ( کپڑا سمیٹنا ) خصوصا پائینچے کا موڑنا بہر حال مکروہ تحریمی ہے لہذا پائینچہ چڑھا کر ہرگز نماز نہ پڑھیں ۔
واللہ تعالیٰ اعلم