صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2341 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

گستاخ کو گالی دیناکیسا؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,163

سوال (Question):

گستاخ کو گالی دیناکیسا؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

گستاخ کو گالی دیناکیسا؟

سب شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم المجیب عبد الرحمن بن ناصر البراک عضو ہیئۃ التدریس بجامعۃ الإمام محمد بن سعود الإسلامیۃ التصنیف الفہرسۃ؍الجدیدالتاریخ(۲۵ذی الحج ۱۴۲۴ھ) السؤال لا أحد منا یجہل ما یقولہ النصاری من سب النبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ولا نجہل غیرۃ شباب الأمۃ الإسلامیۃ علی دینہم ورسولہم صلی اللہ علیہ وسلم، فہل یجوز الرد علی من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم بسب المتحدث؟ الجواب الحمد للہ:سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم نوع من أنواع الکفر، فإن صدر من مسلم کان ذلک ردۃ منہ، ووجب علی ولی الأمر الانتصار للہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وسلم بقتل الساب، فإن أظہر الساب التوبۃ وکان صادقاً نفعہ ذلک عند اللہ، ولم تسقط توبتہ عقوبۃ السب، وعقوبۃ الساب ہی القتل، وإن کان الساب معاہداً کالنصرانی کان ذلک نقضاً لعہدہ ووجب قتلہ، ولکن إنما یتولی ذلک ولی الأمر، فإذا سمع المسلمُ النصرانیَّ أو غیرہ یسب النبی صلی اللہ علیہ وسلم وجب علیہ الإنکار والإغلاظ، ویجوز سبہ؛ لأنہ ہو البادی، فکیف لا ینتصر للنبی صلی اللہ علیہ وسلم کما یجب الرفع عنہ إلی ولی الأمر الذی یقیم علیہ عقوبۃ الساب۔ ترجمہ :الشیخ عبدالرحمن بن ناصرالبراک رکن جامعہ محمدبن سعود الاسلامیہ سعودیہ العربیہ سے سوال ہواکہ ہم میں سے کوئی اس بات سے لاعلم نہیں ہے کہ نصرانی حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخیاں کرتے ہیں اورہم مسلمان نوجوانوں کی غیرت دینی سے واقف ہیں کہ وہ اپنے دین کے ساتھ اوراپنے حبیب کریم ﷺکے ساتھ کیسے محبت کرتے ہیں توکیاہمارے لئے جائزہے کہ ہم اس گستاخ کو جس نے ہمارے حبیب کریم ﷺکی گستاخی کی ہے جواب میں گالی دیں ؟ الجواب تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں ۔حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کرناکفرکی انواع میں سے ہے ، اگریہ گستاخی کسی مسلمان سے صادرہوتوحکمرانوں پرواجب ہے کہ وہ اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی مددکرتے ہوئے اس گستاخ کو شرعی سزادیں کیونکہ وہ مسلمان گستاخی کے سبب مرتدہوگیاہے اوراس کو قتل کریں ۔ اگریہ مسلمان توبہ کرلے تو اس کی توبہ عنداللہ اس کو نفع دے گی لیکن اس کی توبہ کی وجہ سے اس کی سزاساقط نہیں ہوگی اورگستاخ کی سزاصرف اورصرف قتل ہی ہے ۔ اوراگریہ گستاخی کوئی نصرانی کرے اوروہ معاہدہوتواس کاعہد ٹوٹ جائے گااوراس کوقتل کرناواجب ہوگا۔ رہی یہ بات کہ جب کسی مسلمان نے کسی نصرانی کو حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کرتے ہوئے سناتواس پرواجب ہے کہ وہ اس پر انکارکرے اوراس گستاخ پر سختی کرے اوراس مسلمان کے لئے جائز ہے کہ اس گستاخ کو گالیاںدے کیونکہ گستاخی کی ابتدااس لعنتی گستاخ کی طرف سے ہوئی ہے ۔ ایساکیوں نہ ہوکہ مسلمان اپنے حبیب کریم ﷺکی مددنہ کرے حالانکہ اس پرتویہ بھی واجب ہے کہ حکمرانوں تک یہ معاملہ پہنچائے اوراس کو قرارواقعی سزادلوائے ۔ (فتاوی واستشارات موقع الإسلام الیوم:علماء وطلبۃ علم(۱۵:۳۹۵)

حضرت عمررضی اللہ عنہ کے گستاخ کوگالی دینا

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ:إِنَّا لَوَاقِفُونَ مَعَ عُمَرَ عَلَی الْجَبَلِ بِعَرَفَۃَ، إِذْ سَمِعْتُ رَجُلًا یَقُولُ:یَا خَلِیفَۃُ، فَقَالَ رَجُلٌ أَعْرَابِیٌّ خَلْفِی مِنْ لِہْبٍ:مَا لِہَذَا الصَّوْتِ؟ قَطَعَ اللَّہُ لَہْجَتَہُ، وَاللَّہِ لَا یَقِفُ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ ہَاہُنَا بَعْدَ ہَذَا الْعَامِ أَبَدًا، قَالَ:فَشَتَمْتُہُ وَآذَیْتُہُ، قَالَ:فَلَمَّا رَمَیْنَا الْجَمْرَۃَ مَعَ عُمَرَ، أَقْبَلَتْ حَصَاۃٌ فَأَصَابَتْ رَأْسَہُ، فَفَتَحَتْ عِرْقًا مِنْ رَأْسِہِ، فَقَالَ رَجُلٌ:أَشْعَرَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ، لَا وَاللَّہِ لَا یَقِفُ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ بَعْدَ ہَذَا الْعَامِ ہَاہُنَا أَبَدًا، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا ہُوَ ذَلِکَ اللِّہْبِیُّ ، قَالَ:فَوَاللَّہِ مَا حَجَّ عُمَرُ بَعْدَہَا۔ ترجمہ:حضرت سیدنامحمدبن جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد ماجد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیںکہ ہم حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کے ساتھ عرفہ کے دن پہاڑ پرکھڑے تھے ، اچانک میں نے ایک آدمی کو دیکھاجوکہہ رہاتھاکہ اے خلیفہ !ایک دیہاتی آدمی نے جو میرے پیچھے کھڑاتھا، جس کاتعلق قبیلہ لہب سے تھا، یہ آوا ز کیسی ہے ، اللہ تعالی اس کی آواز کو ختم کردے !اللہ تعالی کی قسم ! اس سال کے بعد کبھی بھی امیرالمومنین یہاں کھڑے نہیں ہوں گے ۔ دیہاتی نے کہاکہ میں نے اس کو گالی دی اوراس کوسخت تکلیف پہنچائی ، فرمایاکہ جب ہم نے حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کے ساتھ جمرات کی رمی کی توایک کنکری آئی اورا سکے سرپرلگی اوراس کے سرسے خون بہنے لگا، ایک آدمی نے کہاکہ اس کی علامت کوسمجھیں ، اے امیرالمومنین !اللہ تعالی کی قسم !یہاں بھی امیرالمومنین اس سال کے بعد کبھی بھی کھڑے نہیں ہوں گے ، میں متوجہ ہواتووہ وہی لہبی تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کی قسم ! اس کے بعدحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے کوئی حج نہیں کیا۔ (مسند الشامیین:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۴:۲۴۹)

مولاعلی رضی اللہ عنہ کے گستاخ کو گالی دینے کاحکم

قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ:حَدَّثَنِی الْأَشْجَعِیُّ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ، عَنْ کَثِیرِ بْنِ نَمِرٍ، قَالَ: جَاء َ رَجُلٌ بِرَجُلٍ مِنَ الْخَوَارِجِ إِلَی عَلِیٍّ فَقَالَ:یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَنِّی وَجَدْتُ ہَذَا یَسُبُّکَ، قَالَ:فَسُبَّہُ کَمَا سَبَّنِی قَالَ: وَیَتَوَاعَدُکَ، قَالَ:لَا أَقْتُلُ مَنْ لَمْ یَقْتُلْنِی قَالَ:ثُمَّ قَالَ عَلِیٌّ:لَہُمْ عَلَیْنَا حَسِبْتُہُ قَالَ:ثَلَاثٌ لَا نَمْنَعُہُمُ الْمَسَاجِدَ أَنْ یَذْکُرُوا اللَّہَ فِیہَا، وَلَا نَمْنَعُہُمُ الْفَیْء َ مَا دَامَتْ أَیْدِیہِمْ مَعَ أَیْدِینَا، وَلَا نُقَاتِلُہُمْ حَتَّی یُقَاتِلُونَا ۔ ترجمہ :کثیربن نمرکہتے ہیں کہ ایک شخص ایک خارجی کو پکڑکرلایااوراس نے کہاکہ اے امیرالمومنین ! میں نے اسے دیکھاکہ یہ آپ رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہاتھا، حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص مجھے گالیاں دے تم بھی اسکو گالیاں دو!اس نے عرض کی : حضور!یہ آپ رضی اللہ عنہ کو دھمکیاں بھی دے رہاتھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس کے ساتھ تب تک قتال نہیں کروں گاجب تب وہ مجھ سے قتال نہ کرے ۔ملخصاً۔ (الأموال لابن زنجویہ:أبو أحمد حمید بن مخلد بن قتیبۃ المعروف بابن زنجویہ (۲:۵۱۷)

دین کے گستاخوں کو کمینہ قراردیا

عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَأْخُذَ اللَّہُ شَرِیطَتَہُ مِنْ أَہْلِ الْأَرْضِ، فَیَبْقَی فِیہَا عَجَاجَۃٌ، لَا یَعْرِفُونَ مَعْرُوفا، وَلَا یُنْکِرُونَ مُنْکَرًا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک اللہ تعالی اہل زمین سے اپناحصہ وصول نہ کرلے ، اس کے بعد زمین میں کمینے لوگ رہ جائیں گے جونیکی کو نیکی اورگناہ کوگناہ نہیں سمجھیں گے ۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (ا۱:۵۵۱)

حضورتاجدارختم نبوتﷺسے اجازت مانگ کرتکلیف دینے والاکون؟

عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ عَرَابَۃَ الْجُہَنِیِّ، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْکَدِیدِ أَوْ قَالَ: بِقُدَیْدٍ جَعَلَ رِجَالٌ مِنَّا یَسْتَأْذِنُونَ إِلَی أَہْلِیہِمْ فَیَأْذَنُ لَہُمْ فَحَمِدَ اللَّہَ وَقَالَ خَیْرًا ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ شِقِّ الشَّجَرَۃِ الَّتِی تَلِی رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَبْغَضَ إِلَیْکُمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَلَمْ تَرَ عِنْدَ ذَلِکَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاکِیًا فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللَّہِ، إِنَّ الَّذِیَ یَسْتَأْذِنُکَ بَعْدَ ہَذَا لَسَفِیہٌ قَالَ: فَحَمِدَ اللَّہَ وَقَالَ خَیْرًا وَقَالَ: أَشْہَدُ عِنْدَ اللَّہِ لَا یَمُوتُ عَبْدٌ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِہِ ثُمَّ یُسَدِّدُ إِلَّا سَلَکَ فِی الْجَنَّۃِ وَقَالَ: وَعَدَنِی رَبِّی أَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی سَبْعِینَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ وَلَا عَذَابَ وَإِنِّی لَأَرْجُو أَنْ لَا یَدْخُلُوہَا حَتَّی تَبَوَّء ُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلُحَ مِنْ أَزْوَاجِکُمْ وَذَرَارِیِّکُمْ مَسَاکِنَ فِی الْجَنَّۃِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنارفاعہ الجہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ مکہ مکرمہ سے واپس آرہے تھے کہ مقام کدیدپرپہنچ کر کچھ لوگ حضورتاجدارختم نبوتﷺسے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جانے کی اجازت مانگنے لگے ، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ان کواجازت دے دی،پھرحضورتاجدارختم نبوتﷺنے کھڑے ہوکراللہ تعالی کی حمدوثنابیان کی اورفرمایاکہ لوگوں کو کیاہوگیاہے کہ درخت کاوہ حصہ جو حضورتاجدارختم نبوتﷺکے قریب ہے انہیں دوسرے حصہ سے زیادہ اس سے نفرت ہے ۔ اس وقت ہم نے سب لوگوں کو روتے ہوئے دیکھا، پھرایک آدمی کہنے لگاکہ اب کے بعد جوبھی شخص آپﷺسے جانے کی اجازت مانگے گاوہ پاگل ہوگا، اس پرحضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایاکہ اب میں گواہی دیتاہوں کہ جو شخص لاالہ الااللہ کی اورمیرے رسول ہونے کی گواہی دیتاہواصدق قلب اوردرست نیت کے ساتھ مرجائے تووہ جنت میں داخل ہوگااورمیرے رب تعالی نے مجھ سے وعدہ فرمایاہے کہ جنت میں میری امت کے سترہزارایسے آدمیوں کو داخل کرے گاجن کاکوئی حساب وکتاب ہوگااورنہ ہی ان کو کوئی عذاب ہوگا۔ اورمجھے امیدہے کہ وہ اس وقت جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک تم اورتمھار ے آبائواجداداوربیوی بچوں میں سے جواس کے قابل ہوں وہ جنت میں داخل نہ ہوجائیں۔ (المعجم الکبیر:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۵:۴۹)

مقتولین بدرجوحضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخ تھے کو مردارقراردیا

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ:قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأُسَارَی بَدْرٍ:لَوْ کَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِیٍّ حَیًّا، فَکَلَّمَنِی فِی ہَؤُلَاء ِ النَّتْنَی لَتَرَکْتُہُمْ لَہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناجبریربن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے بدرکے قیدیوں کے لئے فرمایاکہ اگرمطعم بن زیدزندہ ہوتے اورمجھ سے ان مرداروں یعنی بدرکے قیدیوں کے متعلق بات کرتے تومیں ان سب کو آزادکردیتا۔ (السنن الکبری:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۹:۱۱۴)

امت پرظلم کرنے والاحرامی ہے

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، قَالَ:سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعُتُلِّ الزَّنِیمِ، فَقَالَ: ہُوَ الشَّدِیدُ الْخَلْقِ الْمُصَحَّحُ، الْأَکُولُ الشَّرُوبُ، الْوَاجِدُ لِلطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، الظَّلُومُ لِلنَّاسِ، رَحِیبُ الْجَوْفِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺسے کسی نے عتل زنیم کامعنی پوچھاتوآپ ﷺنے فرمایا: اس سے مراد وہ مضبوط جسم والا، صحت منداورخوب کھانے پینے والا، جس کے پاس کھانے پینے کاسامان خوب ہواورلوگوںپربہت زیادہ ظلم کرنے والااورخوب بڑے پیٹ والاہو۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی ۲۹:۶۱۶)

حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دین سے غداری کرنے والادوزخی کتاہے

حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ جُمْہَانَ قَالَ:أَتَیْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَبِی أَوْفَی وَہُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، قَالَ لِی: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ:أَنَا سَعِیدُ بْنُ جُمْہَانَ، قَالَ:فَمَا فَعَلَ وَالِدُکَ؟ قَالَ:قُلْتُ:قَتَلَتْہُ الْأَزَارِقَۃُ، قَالَ:لَعَنَ اللَّہُ الْأَزَارِقَۃَ، لَعَنَ اللَّہُ الْأَزَارِقَۃَ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُمْ کِلَابُ النَّارِ ،قَالَ:قُلْتُ: الْأَزَارِقَۃُ وَحْدَہُمْ أَمِ الْخَوَارِجُ کُلُّہَا؟ قَالَ: بَلِ الْخَوَارِجُ کُلُّہَاقَالَ:قُلْتُ: فَإِنَّ السُّلْطَانَ یَظْلِمُ النَّاسَ،وَیَفْعَلُ بِہِمْ، قَالَ: فَتَنَاوَلَ یَدِی فَغَمَزَہَا بِیَدِہِ غَمْزَۃً شَدِیدَۃً، ثُمَّ قَالَ:وَیْحَکَ یَا ابْنَ جُمْہَانَ عَلَیْکَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ، عَلَیْکَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ إِنْ کَانَ السُّلْطَانُ یَسْمَعُ مِنْکَ، فَأْتِہِ فِی بَیْتِہِ، فَأَخْبِرْہُ بِمَا تَعْلَمُ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْکَ، وَإِلَّا فَدَعْہُ، فَإِنَّکَ لَسْتَ بِأَعْلَمَ مِنْہُ۔ ترجمہ:حضرت سیدناسعد بن جمہان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ حضرت سیدناعبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضرہوا، اس وقت تک ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی ، انہوںنے مجھ سے پوچھاکہ تم کون ہو؟ میں نے بتایاکہ میں سعید بن جمہان ہوں ۔ انہوںنے پوچھاکہ تمھارے والدماجد کیسے ہیں ؟ میں نے عرض کی کہ ان کو ازارقہ نے قتل کردیاہے ۔ توانہوںنے دومرتبہ فرمایاکہ ازارقہ پراللہ تعالی کی لعنت ہو، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ہمیں فرمایاکہ وہ دوزخ کے کتے ہیں ، میں نے ان سے پوچھاکہ اس سے صرف ازارقہ فرقہ کے لوگ مرادہیں یاتمام خوارج ؟ انہوںنے فرمایاکہ تمام خارجی لوگ مراد ہیں ۔ پھرمیںنے عرض کی : بعض اوقات حاکم وقت بھی عوام کے ساتھ ظلم اورناانصافی کرتاہے ؟انہوںنے میراہاتھ پکڑ کرزورسے دبایااوربہت تیز چٹکی کاٹی اورفرمایاکہ اے بن جمہان !تم پرافسوس ہے !سواد اعظم کی پیروی کرو، سواد اعظم کی پیروی کرو!اگربادشاہ تمھاری بات سنتاہے تواس کے گھرمیں اس کے پاس جائواوراس کے سامنے وہ باتیں ذکرکروجوتم جانتے ہو، اگروہ قبول کرلے توبہت اچھا، وگرنہ تم اس سے بڑے عالم نہیں ہو۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۲۲:۱۵۷)

سنت کی مخالفت کرنے والے کو سخت سست کہنا

عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَا تَمْنَعُوا إِمَاء َ اللَّہِ أَنْ یُصَلِّینَ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ:وَاللَّہِ إِنَّا لَنَمْنَعُہُنَّ، قَالَ:فَسَبَّہُ سَبًّا شَدِیدًا وَقَالَ:أَنُحَدِّثُکَ بِالْحَدِیثِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ إِنَّا لَنَمْنَعُہُنَّ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسالم رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: جب تم سے خواتین مسجد شریف میں جاکرنماز اداکرنے کی اجازت مانگیں توتم ان کو منع نہ کرنا۔ حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماکے بیٹے کہنے لگے کہ ہم توان کو منع کریں گے اورمسجدشریف نہیں جانے دیں گے توحضرت سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو ایسی سخت گالی دی جو آج تک کسی کونہیںدی تھی اورفرمایاکہ میں تم کو حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی حدیث شریف سنارہاہوں اورتوکہتاہے کہ ہم منع کریں گے۔ (مستخرج أبی عوانۃ:أبو عوانۃ یعقوب بن إسحاق بن إبراہیم النیسابوری الإسفرایینی (۱:۳۹۵

حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخوں کو بندراورخنزیرکہا

عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: دَخَلَ یَہُودِیٌّ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّأمُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: وَعَلَیْکَ ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ فَہَمَمْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ فَعَلِمْتُ کَرَاہِیَۃَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِذَلِکَ فَسَکَتُّ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ، فَقَالَ:السَّأمُ عَلَیْکَ، فَقَالَ:عَلَیْکَ ، فَہَمَمْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ فَعَلِمْتُ کَرَاہِیَۃَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِذَلِکَ، ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثُ، فَقَالَ:السَّأمُ عَلَیْکَ، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّی قُلْتُ: وَعَلَیْکَ السَّأمُ وَغَضَبُ اللَّہِ وَلَعْنَتُہُ إِخْوَانَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیرِ، أَتُحَیُّونَ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا لَمْ یُحَیِّہِ اللَّہُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّہَ لَا یُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ قَالُوا قَوْلًا فَرَدَدْنَا عَلَیْہِمْ، إِنَّ الْیَہُودَ قَوْمٌ حُسَّدٌ، وَہُمْ لَا یَحْسُدُونَا عَلَی شَیْء ٍ کَمَا یَحْسُدُونَا عَلَی السَّلَامِ، وَعَلَی آمِینَ۔ ترجمہ :حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی خدمت اقدس میں حاضرہوااوربولا: السام علیک یامحمد!اے محمد(نعوذ باللہ ) آپ کوموت آئے ۔ توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: تم کو بھی آئے ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں کہ میں نے اس کوجواب دینے کاارادہ کیالیکن مجھے اندازہ ہوگیاکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو یہ بات پسندنہیں آئے گی ، اس لئے میں خاموش رہی ، پھرایک اوریہودی آیااوراس نے بھی یہی کہا: السام علیک یامحمد!اے محمد(نعوذ باللہ ) آپﷺ کوموت آئے ۔ توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: تم کو بھی آئے ۔پھرمیںنے بات کرنے کاارادہ کیاتومیں نے پھراندازہ لگالیاکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکویہ بات پسندنہیں آئے گی ۔ تیسرایہودی آیااوراس نے بھی یہی کہاکہ السام علیک یامحمد!اے محمد(نعوذ باللہ ) آپ ﷺکوموت آئے ۔ توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: تم کو بھی آئے ۔حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ اب مجھ سے صبرنہیں ہواتومیںنے بھی کہاکہ تم کو بھی موت آئے اورتم پراللہ تعالی کاغضب اورلعنت نازل ہواوراے بندروں اورخنزیروں کے بھائیو!کیاتم اللہ تعالی کے حبیب کریم ﷺکو ایسے الفاظ کے ساتھ سلام کررہے ہو؟ جن الفاظ کے ذریعے اللہ تعالی نے ان کو سلام نہیں کیا۔حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: اللہ تعالی سخت گوئی کو پسندنہیں فرماتا، انہوں نے ایک بات کہی ہم نے ان کی وہ بات ان پرلوٹادی ۔ یہودی حسدکرنے والی قوم ہے وہ کسی بھی چیز میں اتناحسدنہیں کرتے جتناسلام کرنے اورآمین کہنے کے حوالے سے ہم سے حسدکرتے ہیں۔ (صحیح ابن خزیمۃ:أبو بکر محمد بن إسحاق بن خزیمۃ النیسابوری (۱:۲۸۸) غزوہ خندق کے موقع پردشمنان رسول کوسخت سست کہنا أَخْبَرَنِی جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ:جَاء َ عُمَرُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ فَجَعَلَ یَسُبُّ کُفَّارَ قُرَیْشٍ، فَقَالَ:وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا صَلَّیْتُ الْعَصْرَ حَتَّی کَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغِیبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:وَأَنَا وَاللَّہِ مَا صَلَّیْتُہَا، فَنَزَلَ إِلَی بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ بَعْدَمَا غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ بَعْدَہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناجابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیںکہ غزوہ خندق کے دن حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ آئے اوروہ کفارقریش کو گالیاں دے رہے تھے ، انہوںنے عرض کی اللہ تعالی کی قسم !یارسول اللہ ﷺ!میں عصرکی نماز ادانہیں کرسکایہاں تک کہ سورج غرو ب ہوگیا، توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایاکہ اللہ تعالی کی قسم !میں بھی اسے ادانہیں کرسکا۔ پھرآپﷺبطحان کی طرف تشریف لے گئے اوروہاں آپ ﷺنے وضوکیاپھرآپ ﷺنے سورج غروب ہوجانے کے بعد عصرکی نماز اداکی اوراس کے بعد مغرب کی نماز اداکی ۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۲:۱۵)

حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دشمنوں کوکمینہ قراردیا

حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَۃَ بْنَ الْأَکْوَعِ، قَالَ: خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ یُؤَذَّنَ بِالْأَذَانِ، وَکَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَرْعَی بِذِی قَرَدٍ، فَلَقِیَنِی غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ: أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: مَنْ أَخَذَہَا؟، قَالَ: غَطَفَانُ، قَالَ: فَصَرَخْتُ، فَقُلْتُ: یَا صَبَاحَاہُ، فَأَسْمَعْتُ مَا بَیْنَ لَابَتَیِ الْمَدِینَۃِ، ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَی وَجْہِی حَتَّی أَدْرَکْتُ الْقَوْمَ، وَقَدْ أَخَذُوا یَسْتَقُونَ مِنَ الْمَاء ِ، فَجَعَلْتُ أَرْمِیہِمْ بِالنَّبْلِ، وَکُنْتُ رَامِیًا، وَجَعَلْتُ أَقُولُ: أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ … وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعِ حَتَّی اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْہُمْ، وَاسْتَلَبْتُ مِنْہُمْ ثَلَاثِینَ بُرْدَۃً، قَالَ: وَجَاء َ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ، فَقُلْتُ:بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی، قَدْ حَمَیْتُ الْقَوْمَ الْمَاء َ وَہُمْ عِطَاشٌ، فَابْعَثْ إِلَیْہِمُ السَّاعَۃَ، فَقَالَ: یَا ابْنَ الْأَکْوَعِ، مَلَکْتَ فَأَسْجِحْ، إِنَّہُمُ الْآنَ بِغَطَفَانَ یُقْرَوْنَ، قَالَ:ثُمَّ خَرَجْنَا وَأَرْدَفَنِی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی نَاقَتِہِ حَتَّی دَخَلْنَا الْمَدِینَۃََ ترجمہ :حضرت سیدناسلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اذان ہونے سے پہلے اپنے گھرسے نکلا، حضورتاجدارختم نبوتﷺکی اونٹنیاںذی قردکے مقام پرچررہی تھیں ، میری ملاقات حضرت سیدناعبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام سے ہوئی ، اس نے بتایاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی اونٹنیاں پکڑکرلے گئے ہیں ۔ میں نے دریافت کیاکہ ان کو کس نے پکڑاہے ؟ اس نے جواب دیاکہ غطفان قبیلے کے لوگوں نے پکڑاہے ، حضرت سیدناسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے بلندآواز میں چیخ ماری اورپورے مدینہ منورہ تک میری آواز گئی ، پھرمیںسامنے کی طرف دوڑپڑایہاں تک کہ میں ان کے پاس پہنچ گیا، وہ اس وقت پانی پلارہے تھے ، میں نے ان کو تیرمارنے شروع کردیئے ، میں بڑااچھاتیراندازتھا، میں ساتھ یہ بھی کہتاجارہاتھاکہ ’’میں اکوع کابیٹاہوں ، آج کمینے لوگوں کی بربادی کادن ہے ‘‘۔ حضرت سیدناسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی اونٹنیاں چھین لیں ، میں نے ان سے تیس چادریںبھی چھین لیں ، اوراسی دوران حضورتاجدارختم نبوتﷺاورلوگ تشریف لے آئے ۔ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!میرے ماں باپ آپ ﷺپرقربان ہوں ۔ میں نے انکو پانی پرہی پکڑلیاتھا، وہ لوگ پیاسے ہیں ، آپ ﷺاسی وقت کسی کو ان کے پیچھے روانہ کردیں تووہ پکڑے جائیں گے ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: اے اکوع کے بیٹے !تم کامیاب ہوگئے ۔ توبس ٹھیک ہے وہ اس وقت غطفان قبیلے تک پہنچ چکے ہوںگے ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھرہم روانہ ہوئے اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے مجھے اپنی اونٹنی پراپنے پیچھے بٹھالیا،یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے ۔ (صحیح ابن حبان:محمد بن حبان بن أحمد بن حبان أبو حاتم، الدارمی، البُستی (۱۰:۳۸۸) حدیث شریف کی توہین کرنے والے کو سخت کلام کہنا وَقَالَ عِیسَی بْنُ یُونُسَ: أَرْسَلَ عِیسَی بْنُ یُونُسَ الْہَاشِمِیُّ أَمِیرُ الْکُوفَۃِ إِلَی الأَعْمَشِ بِأَلْفِ دِرْہَمٍ وَصَحِیفَۃٍ لِیَکْتُبَ لَہُ فِیہَا حَدِیثًا، فَکَتَبَ فِیہَا:بِسْمِ اللہ الرحمن الرحیم، واللہ الصَّمَدُ إِلَی آخِرِہَا، ثُمَّ وَجَّہَ بِہَا إِلَیْہِ، فبعث إلیہ:یا ابن الْفَاعِلَۃِ، أَظَنَنْتَ أَنِّی لا أُحْسِنُ کِتَابَ اللَّہِ! فَبَعَثَ إِلَیْہِ:وَظَنَنْتَ أَنِّی أَبِیعُ الْحَدِیثَ۔ ترجمہ :کوفہ کے گورنرعیسی بن یونس نے امام اعمش رضی اللہ عنہ کوایک ہزاردرہم اورایک کاغذ بھیجاتاکہ وہ اس کے لئے حدیث شریف لکھ دیں ۔ امام اعمش رضی اللہ عنہ نے اس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی اوراللہ الصمدالی آخرہ لکھ کر پھراس کی طرف متوجہ ہوئے اوراسے لکھاکہ اے گندی عورت کے بچے !کیاتویہ گمان کرتاہے کہ میں اللہ تعالی کی کتاب کے ساتھ نیکی نہیں کرتااورتونے مجھے پیسے بھیجے ہیں توکیاسمجھتاہے کہ میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی حدیث شریف کو فروخت کرتاہوں۔ (تاریخ الإسلام :شمس الدین أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن عثمان بن قَایْماز الذہبی (۳:۸۸۳)

ابوجہل کی گستاخی پراس کو جواب

قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ:حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ،کَانَ وَاعِیَۃً:أَنَّ أَبَا جَہْلٍ مَرَّ بِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الصَّفَا، فَآذَاہُ وَشَتَمَہُ، وَنَالَ مِنْہُ بَعْضَ مَا یَکْرَہُ مِنْ العَیْب لِدِینِہِ، وَالتَّضْعِیفِ لِأَمْرِہِ؛ فَلَمْ یُکَلِّمْہُ رسولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ومولاۃٌ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ جُدْعان بْنِ عَمْرِو بْنِ کَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَیْم بْنِ مُرَّۃَ فِی مَسْکَنٍ لَہَا تَسْمَعُ ذَلِکَ، ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْہُ فَعَمَدَ إلَی نادٍ مِنْ قُرَیْشٍ عِنْدَ الْکَعْبَۃِ، فَجَلَسَ مَعَہُمْ فَلَمْ یَلْبَثْ حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ أَقْبَلَ متوشحًا قوسَہ، راجعًا من قَنَص یَرْمِیہِ وَیَخْرُجُ لَہُ، وَکَانَ إذَا رَجَعَ مِنْ قَنَصہ لَمْ یَصِلْ إلَی أَہْلِہِ حَتَّی یطوفَ بِالْکَعْبَۃِ، وَکَانَ إذَا فَعَلَ ذَلِکَ لَمْ یَمُرَّ عَلَی نادٍ مِنْ قُرَیْشٍ إلَّا وَقَفَ وَسَلَّمَ وَتَحَدَّثَ مَعَہُمْ، وَکَانَ أعزَّ فَتًی فِی قُرَیْشٍ، وأشدَّ شَکِیمَۃً فَلَمَّا مَرَّ بالمَوْلاۃِ، وَقَدْ رَجَعَ رَسُولُ اللَّہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی بَیْتِہِ قَالَتْ لَہُ:یَا أَبَا عُمارۃ، ولو رَأَیْتَ مَا لَقِیَ ابْنُ أَخِیکَ مُحَمَّدٌ آنِفًا من أبی الحکم بن ہشام: وجدہ ہہنا جَالِسًا فَآذَاہُ وَسَبَّہُ وَبَلَغَ مِنْہُ مَا یَکْرَہُ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْہُ وَلَمْ یُکَلِّمْہُ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہ علیہ وسلم فَاحْتَمَلَ حَمْزَۃَ الْغَضَبُ لَمَّا أَرَادَ اللَّہُ بِہِ مِنْ کَرَامَتِہِ، فَخَرَجَ یَسْعَی وَلَمْ یَقِفْ عَلَی أَحَدٍ، مُعِدًّا لِأَبِی جَہْلٍ إذَا لَقِیَہُ أَنْ یوقع بہ؛ فلما دخل المسجد نظہر إلَیْہِ جَالِسًا فِی الْقَوْمِ، فَأَقْبَلَ نَحْوَہُ، حَتَّی إذَا قَامَ عَلَی رَأْسِہِ رَفَعَ الْقَوْسَ فَضَرَبَہُ بِہَا فَشَجَّہُ شَجَّۃً منکَرۃ، ثُمَّ قَالَ:أَتَشْتِمُہُ وَأَنَا عَلَی دِینِہِ وقال لہ یامصفر استہ تشتم ابن اخی واناعلی دینہ ؟ ثم ضربہ بالقوس فشجہ شجۃ منکرۃ ۔ ترجمہ :ایک دن ابوجہل کوہ ِصفاپررسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزراتورسول اللہ ﷺ کوسخت تکلیف پہنچائی رسول اللہ ﷺ خاموش رہے اورکچھ بھی نہیںکہا اسکے بعد اس نے رسول اللہ ﷺ کے سرمبارک میںپتھرمار دیاجس سے ایسی چوٹ آئی کہ سرسے خون بہنے لگاپھر وہ کعبہ مشرفہ میں اپنی مجلس میںجابیٹھاعبداللہ بن جدعان کی ایک لونڈی جواپنے مکان سے یہ سارامنظردیکھ رہی تھی اتنے میں حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ شکارسے واپس آئے اوراپنی تلوار حمائل کئے ہوئے تھے اس خاتون نے ساراواقعہ سنادیا حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ جلال میں آگئے یہ قریش کے سب سے طاقتور اورمضبوط جوان تھے ایک لمحہ بھی رکے بغیر حرم شریف گئے اوریہ ارادہ کئے ہوئے تھے جیسے ابوجہل نظرآیااس کی مرمت کریں گے سیدھے اس کے سرپر جاکھڑے ہوئے اوربولے :اوئے سرین کوخشبولگانے والے بزدل! تومیرے بھتیجے کوگالیاں دیتاہے حالانکہ میں بھی اسی کے دین پرہوںاس کے بعدا س کے سرپرکمان ماری تواسکاسرکھول دیا۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: عبد الملک بن ہشام بن أیوب الحمیری المعافری، أبو محمد، جمال الدین (۲:۱۲۳) اس سے ثابت ہوکہ اگرکوئی غیر مسلم بھی رسول اللہ ﷺ کی ناموس کی حفاظت کے لئے قربانی دے تواللہ تعالی اس کوبھی ایمان کی دولت سے نوازدیتاہے ۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ کا کعب بن اشرف یہودی کو جواب کعب بن اشرف یہودی جوکہ رسول اللہ ﷺ کابہت بڑاگستاخ تھایہ جگہ جگہ لوگوں کوجمع کرکے رسول اللہ ﷺ کے خلاف شعر کہتااور توہین کرتا حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے دینی حمیت کی وجہ سے اس کوجواب دیناضروری جانااورفرمایا: فابکی فابکیت عبداراضعا شبہ الکلب الی الکیبۃ یتبع تونے کمینے غلاموں کوبہت کچھ رلایااورتوبھی روجس طرح کم عمرکا کتاچھوٹی عمر کی کتیاسے جماع کرنے کے بعد آواز نکالتاہے ۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام:عبد الملک بن ہشام بن أیوب الحمیری المعافری، أبو محمد، جمال الدین (۲:۱۲۳)

تولات بت کی شرم گاہ چوس

جب عروہ بن مسعود ثقفی حدیبیہ میں جاسوسی کرنے آئے تورسول اللہ ﷺ سے کہنے لگے : فَإِنِّی وَاللَّہِ لَأَرَی وُجُوہًا، وَإِنِّی لَأَرَی أَوْشَابًا مِنَ النَّاسِ خَلِیقًا أَنْ یَفِرُّوا وَیَدَعُوکَ، فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ: امْصُصْ بِبَظْرِ اللَّاتِ، أَنَحْنُ نَفِرُّ عَنْہُ وَنَدَعُہُ؟ ملخصاً۔ ترجمہ:خداکی قسم میںایسے چہرے دیکھ رہاہوں جواسی لائق ہیںکہ وہ آپﷺ کوچھوڑ کربھاگ جائیںگے اس پر حضرت سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ جلا ل میں آگئے اورفرمایاتوجالات بت کی شرم گاہ چوس کیاہم رسول اللہ ﷺ کوچھوڑ کر بھاگ جائیںگے ؟ (صحیح البخاری: محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۳:۱۹۳) اب ذراغورکریں جولوگ بات بات پرکہتے ہیں جی بات تہذیب کے ساتھ ہونی چاہیئے کیا گستاخ سے بھی بات تہذیب سے ہونی چاہیئے گستاخ سے اسی طرح کرناہی تہذیب ہے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بتادیاکہ گستاخ سے بات کیسے ہوگی اوروہ بھی رسول اللہ ﷺ کے سامنے خداکے بعد جس سے بڑی بارگاہ ہی کوئی نہیں۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکوشہیدکرنے کے ارادہ سے آنے والے کوجواب قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ:وَحَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ:جَلَسَ عُمَیْرُ بْنُ وَہْبٍ الْجُمَحِیُّ مَعَ صَفْوَانَ بْنِ أمیَّۃ فِی الْحِجْرِ، بَعْدَ مُصَابِ أَہِلِ بدر بیسیر،وکان عمر بْنُ وَہْبٍ شَیْطَانًا مِنْ شَیَاطِینِ قُرَیْشٍ وَمِمَّنْ کَانَ یُؤْذِی رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَہُ وَیَلْقَوْنَ مِنْہُ عَنَاء ً وَہُوَ بِمَکَّۃَ، وَکَانَ ابْنُہُ وَہْبُ بْنُ عُمَیْرٍ فِی أُسَارَی بَدْرٍقَالَ ابْنُ ہِشَامٍ:وَالَّذِی أَسَرَہُ رِفَاعَۃُ بْنُ رَافِعٍ أَحَدُ بَنِی زُرَیْقٍ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ:فَحَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عُرْوَۃَ: فَذَکَرَ أَصْحَابَ الْقَلِیبِ وَمُصَابَہُمْ فَقَالَ صَفْوَانُ:وَاللَّہِ ما إِنْ فِی الْعَیْشِ (بَعْدَہُمْ خَیْرٌ، قَالَ لَہُ عمیر صدقت، أَمَا وَاللَّہِ لَوْلَا دَیْنٌ عَلَیَّ لَیْسَ عِنْدِی قَضَاؤُہُ، وَعِیَالٌ أَخْشَی عَلَیْہِمُ الضَّیْعَۃَ بَعْدِی، لَرَکِبْتُ إِلَی مُحَمَّدٍ حَتَّی أَقْتُلَہُ، فَإِنَّ لِی فِیہِمْ عِلَّۃً:ابْنِی أَسِیرٌ فِی أَیْدِیہِمْ.قَالَ: فَاغْتَنَمَہَا صَفْوَانُ بْنُ أمیَّۃ فَقَالَ: عَلَیَّ دَیْنُکَ أَنَا أَقْضِیہِ عَنْکَ وَعِیَالُکَ مَعَ عِیَالِی أُوَاسِیہِمْ مَا بقوا، لا یسعنی شء وَیَعْجِزُ عَنْہُمْ فَقَالَ لَہُ عُمَیْرٌ:فَاکْتُمْ عَلَیَّ شَأْنِی وَشَأْنَکَ، قَالَ:سَأَفْعَلُ.قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ عُمَیْرٌ بِسَیْفِہِ، فَشُحِذَ لَہُ وَسُمَّ ثمَّ انْطَلَقَ حَتَّی قَدِمَ الْمَدِینَۃَ، فَبَیْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِی نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یَتَحَدَّثُونَ عَنْ یَوْمِ بَدْرٍ، وَیَذْکُرُونَ مَا أَکْرَمَہُمُ اللَّہُ بِہِ وَمَا أراہم فی عَدُوّ عُمَیْرُ؟ قَالَ جِئْتُ لِہَذَا الْأَسِیرِ الَّذِی فِی أَیْدِیکُمْ فَأَحْسِنُوا فِیہِ، قَالَ: فَمَا بَالُ السَّیْفِ فِی عُنُقِکَ قَالَ:قَبَّحَہَا اللَّہُ مِنْ سُیُوفٍ وَہَلْ أَغْنَتْ شَیْئًا؟ قَال:اصِْہِمْ، إِذْ نَظَرَ عُمَرُ إِلَی عُمَیْرِ بْنِ وَہْبٍ وَقَدْ أَنَاخَ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ مُتَوَشِّحًا السَّیْف فَقَالَ:ہَذَا الْکَلْبُ عَدُوُّ اللَّہِ عُمَیْرُ بْنُ وَہْبٍ مَا جَاء َإِلَّا لِشَرٍّ وَہُوَ الَّذِی حَرَّشَ بَیْنَنَا وَحَزَرَنَا لِلْقَوْمِ یَوْمَ بَدْرٍ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:یَا نَبِیَّ اللَّہِ ہَذَا عَدُوُّ اللَّہِ عُمَیْرُ بْنُ وَہْبٍ قَدْ جَاء َ مُتَوَشِّحًا سَیْفَہُ.قَالَ: فَأَدْخِلْہُ عَلَیَّ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عُمَرُ حَتَّی أَخَذَ بِحِمَالَۃِ سَیْفِہِ فِی عُنُقِہِ فَلَبَّبَہُ بِہَا، وَقَالَ لِمَنْ کَانَ مَعَہُ مِنَ الْأَنْصَارِ: ادْخُلُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاجْلِسُوا عِنْدَہُ، وَاحْذَرُوا عَلَیْہِ مِنْ ہَذَا الْخَبِیثِ فَإِنَّہُ غَیْرُ مَأْمُون۔ ترجمہ:حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدرکے بعد عمیر بن وھب اورصفوان بن امیہ ایک جگہ بیٹھے اورعمیر بن وہب یہ قریش کے شیطانوں میں سے ایک بہت بڑاشیطان تھااوررسول اللہ ﷺ اورصحابہ کرام کوبہت ایذادیتاتھااس کابیٹابھی بدرمیں قید ہوگیاتھایہ دونوں بدرکے قیدی اوران کے مقتولوں کے بارے میں باتیں کررہے تھے کہ صفوان نے کہاکہ اب توزندگی میں کوئی خیر نہیں رہی عمیر نے کہاخداکی قسم یہی حالت ہے میری بھی ۔عمیر نے کہااگرمیرے اوپر قرض نہ ہوتااورمیرے بچے چھوٹے چھوٹے نہ ہوتے تومیں نعوذ باللہ محمد ﷺ کوقتل کردیتاصفوان نے کہا تیراقرض میرے ذمہ ہے اورتیرے بچے میرے بچے ہیںدونوں کی ذمہ داری میں لیتاہوں میں سنبھال لوں گا۔ پھر عمیر تیار ہوااوراپنی تلوار کوزہر میں بجھایااوراس کوکہاکہ یہ معاملہ میرے اورتیرے درمیان رہے اس نے وعدہ کیاکہ کسی کومعلوم نہیں ہوگامکہ سے روانہ ہوکر جب مسجد نبوی شریف کے دروازے پر آیا توحضرت عمر رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھ کر بدر میں جواللہ تعالی کاانعام ہوااس پر گفتگوکررہے تھے عمیر نے اونٹنی بٹھائی اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیااورتلوار بھی دیکھی توفورابولے یہ کتااللہ کادشمن کسی اچھے ارادے سے نہیں آیاحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کواس کی تلوار کے حمالہ سے اسکی گردن کو پکڑلیااوراس سے کھینچااورانصار کوکہاکہ تم بھی رسول اللہ ﷺ کے پاس چلوجاکر عرض کیایارسول اللہ ﷺ عمیر بن وہب آیاہے تورسول اللہ ﷺ نے اس کواندرلانے کی اجازت دی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایاسارے صحابہ رسول اللہ ﷺکے پاس چلواس کاخیال رکھنااس کاارادہ درست نہیں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسکواسی کی تلوار کے حمالہ سے گھسیٹتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں لے گئے ۔ (البدایۃ والنہایۃ: أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۳:۳۱۴)

گستاخوں کے خلاف حضرت سیدہ کائنات رضی اللہ عنہاکے الفاظ

عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ قَالَ:سَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ: بَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ، وَالْمَلَأُ مِنْ قُرَیْشٍ جُلُوسٌ، وَسَلَی جَزُورٍ مَطْرُوحَۃٌ فَقَالُوا:أَیُّکُمْ یَذْہَبُ بِہَذَا؟ قَالَ: فَہَابُوا ذَلِکَ، فَأَخَذَہُ عُقْبَۃُ فَطَرَحَہُ عَلَی ظَہْرِہِ، وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ لَمْ یَرْفَعْ رَأْسَہُ، حَتَّی جَاء َتْ فَاطِمَۃُ فَأَخَذَتْہُ عَنْ ظَہْرِہِ، وَسَبَّتِ الَّذِی فَعَلَہُ، فَرَأَیْتُہُ یَوْمَئِذٍ دَعَا عَلَیْہِمْ فَقَالَ: اللہُمَّ عَلَیْکَ بِأَبِی جَہْلِ بْنِ ہِشَامٍ، وَعُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ، وَأُبَیًّا، أَوْ أُمَیَّۃَ، وَعُقْبَۃَ بْنَ أَبِی مُعَیْطٍ فَرَأَیْتُہُمْ یَوْمَ بَدْرٍ قُتِلُوا، فَأُلْقُوا إِلَّا أُمَیَّۃَ، فَإِنَّہُ کَانَ رَجُلًا ضَخْمًا، فَلَمَّا جُرَّ تَقَطَّعَ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺایک دفعہ بحالت سجدہ تھے اورقریب ہی قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک عقبہ بن ابی معیط ایک ذبح شدہ اونٹنی کی وہ جھلی جس میں بچہ لپٹا ہوتا ہے گندگی سمیت اٹھا لایا اور حضورتاجدارختم نبوتﷺکی پشت مبارک پر اسے ڈال دیا۔ آپﷺ سجدے سے اپنا سرمبارک نہ اٹھا سکے حتیٰ کہ سید ہ کائنات فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لائیں اور اس کو آپﷺ کی پشت سے ہٹایا اور جس نے یہ حرکت کی تھی اسے برا بھلاکہا۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺ نے ان الفاظ میں ان کے خلاف دعائے جلال کی:اے اللہ!قریش کی جماعت کو پکڑ لے۔ اے اللہ!ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابی معیط، امیہ بن خلف یاابی بن خلف کو برباد کر۔ حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ بدر کی جنگ میں قتل ہوگئے اور ان کی لاشوں کو ایک اوندھے کنویں میں پھینک دیا گیا، البتہ امیہ یاابی بن خلف موٹا آدمی تھا جب اسے(کنویں میں پھینکنے کیلئے)کھینچا گیا تو کنویں میں پھینکنے سے پہلے اس کے سارے جوڑالگ الگ ہوگئے۔ (السنن الکبری:أبو عبد الرحمن أحمد بن شعیب بن علی الخراسانی، النسائی (۸:۴۹)

حکم شریف کی مخالفت کرنے والوں کو سب وشتم کرنا

وَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إنّکُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إنْ شَاء َ اللہُ عَیْنَ تَبُوکَ، وَإِنّکُمْ لَنْ تَنَالُوہَا حَتّی یُضْحِیَ النّہَارُ، فَمَنْ جَاء َہَا فَلَا یَمَسّ مِنْ مَائِہَا شَیْئًا حَتّی آتی قال معاد بْنُ جَبَلٍ: فَجِئْنَاہَا وَقَدْ سَبَقَ إلَیْہَا رَجُلَانِ، وَالْعَیْنُ مِثْلَ الزّلَالِ تَبُض بِشَیْء ٍ مِنْ مَاء ٍ، فَسَأَلَہُمَا:ہَلْ مَسِسْتُمَا مِنْ مَائِہَا شَیْئًا؟ قَالَا:نَعَمْ فَسَبّہُمَا النّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لَہُمَا مَا شَاء َ اللہُ أَنْ یَقُولَ. ترجمہ :امام محمد بن عمر بن واقد السہمی الأسلمی بالولاء ، المدنی، أبو عبد اللہ، الواقدی المتوفی : ۲۰۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک جاتے ہوئے ایک دن راستے میں حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: کل ان شاء اللہ تعالی تم تبوک کے چشمے پرپہنچ جائوگے اورتم دن چڑھے اس سے پانی نہیں لو گے ، پھرجوبھی آئے تواس کے پانی کونہ چھوئے یہاں تک کہ میں پانی کے پاس پہنچ جائوں ۔ حضرت سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اس تک پہنچے تودوآدمی ہم سے بھی پہلے پہنچ چکے تھے اورچشمے کاپانی بالکل صا ف شفاف تھامگرتھوڑاتھوڑانکل رہاتھا۔ آپﷺنے فرمایا: کیاتم نے اس پانی کوچھواہے؟ توانہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ان کو سب وشتم فرمایااورجوکچھ اللہ تعالی نے چاہاوہ وہ کہا۔۔۔۔ملخصاً۔ (المغازی:محمد بن عمر بن واقد السہمی الأسلمی بالولاء ، المدنی، أبو عبد اللہ، الواقدی(۳:۱۰۱۲)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh