صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2348 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃ الانعام آیت ۱۲۴۔ وَ اِذَا جَآء َتْہُمْ اٰیَۃٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ رُسُلُ اللہِ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,958

سوال (Question):

تفسیر سورۃ الانعام آیت ۱۲۴۔ وَ اِذَا جَآء َتْہُمْ اٰیَۃٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ رُسُلُ اللہِ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مکہ کے فرعون ابوجہل اورقادیانیوں کے عقیدہ میں مماثلت

{وَ اِذَا جَآء َتْہُمْ اٰیَۃٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ رُسُلُ اللہِ اَللہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللہِ وَعَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا کَانُوْا یَمْکُرُوْنَ }(۱۲۴) ترجمہ کنزالایمان: اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آئے کہتے ہیں ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسا ہی نہ ملے جیسا اللہ کے رسولوں کو ملا اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے عنقریب مجرموں کو اللہ کے یہاں ذلت پہنچے گی اور سخت عذاب بدلہ ان کے مکر کا۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو کہتے ہیں کہ ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسا ہی نہ ملے جیسا اللہ تعالی کے رسولوں کو دیا گیا۔ اللہ تعالی اسے خوب جانتا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھے۔ عنقریب مجرموں کو ان کے مکراوردھوکہ کے بدلے میں اللہ تعالی کے ہاں ذلت اور سخت عذاب پہنچنے والاہے۔ آیت کریمہ کاربط وتعلق اعْلَمْ أَنَّہُ تَعَالَی حَکَی عَنْ مَکْرِ ہَؤُلَاء ِ الْکُفَّارِ وَحَسَدِہِمْ أَنَّہُمْ مَتَی ظَہَرَتْ لَہُمْ مُعْجِزَۃٌ قَاہِرَۃٌ تَدُلُّ عَلَی نُبُوَّۃِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وَسَلَّمَ قَالُوا: لَنْ نُؤْمِنَ حَتَّی یَحْصُلَ لَنَا مِثْلُ ہَذَا الْمَنْصِبِ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی نِہَایَۃِ حَسَدِہِمْ وَأَنَّہُمْ إِنَّمَا بَقُوا مُصِرِّینَ عَلَی الْکُفْرِ لَا لِطَلَبِ الْحُجَّۃِ وَالدَّلَائِلِ بَلْ لِنِہَایَۃِ الْحَسَدِ ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ان کفارکاحسدومکرنقل کیاکہ جب ان کے سامنے ایسے غالب معجزہ کااظہارہوتاہے جوحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی نبوت پردلیل ہوتاہے توکفارمکہ کہتے ہیں کہ ہم ہرگزایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ اسی طرح کامنصب اللہ تعالی کی طرف سے ہم کو بھی ملے ، ان کایہ مطالبہ کرناان کے انتہائی حاسدہونے پردلالت کررہاہے کہ وہ کفرپرہی اصرارکرنے والے ہیں ، ان کایہ مطالبہ برائے دلیل نہیں تھابلکہ ان کے انتہائی حسدکو ظاہرکررہاہے۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۳:۱۳۵) شان نزول کے متعلق پہلاقول قَالَ الْمُفَسِّرُونَ:قَالَ الْوَلِیدُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ:وَاللَّہِ لَوْ کَانَتِ النُّبُوَّۃُ حَقًّا لَکُنْتُ أَنَا أَحَقَّ بِہَا مِنْ مُحَمَّدٍ فَإِنِّی أَکْثَرُ مِنْہُ مَالًا وَوَلَدًا فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ ۔ ترجمہ :مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ولیدبن مغیرہ نے کہاکہ اللہ تعالی کی قسم ! اگرنبوت حق ہے تومیں محمد(ﷺ) سے اس کازیادہ حقدارہوں کیونکہ میرے پاس مال وولت زیادہ ہے ۔ تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ تفسیر المراغی:أحمد بن مصطفی المراغی (۸:۲۲) مصطفی البابی الحلبی وأولادہ بمصر شان نزول کے متعلق دوسراقول رُوِیَ أَنَّ أَبَا جَہْلٍ قَالَ:زَاحَمْنَا بَنِی عَبْدِ مُنَافٍ فِی الشَّرَفِ حَتَّی إِذَا صِرْنَا کَفَرَسَیْ رِہَانٍ قَالُوا:مِنَّا نَبِیٌّ یُوحَی إِلَیْہِ وَاللَّہِ لَا نَرْضَی بِہِ وَلَا نَتَّبِعُہُ أَبَدًا إِلَّا أَنْ یَأْتِیَنَا وَحْیٌ کَمَا یَأْتِیہِ فَنَزَلَتْ۔ ترجمہ :اورمروی ہے کہ ابوجہل ملعون نے کہاکہ ہم بنی عبدمناف سے بالمقابل رہے ، اب شرافت وبزرگی میں وہ اورہم برابرہوچکے ہیں ، اب ان کے قبیلے سے ایک شخص ایساہے ( یعنی حضورتاجدارختم نبوت ْﷺ) جونبوت کادعوی کرکے کہتاہے کہ میرے ہاں اللہ تعالی کی وحی آتی ہے ، لیکن ہم اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک ہمارے ہاں بھی وحی نہ آئے ۔ گویاان کایہی ارادہ تھاکہ ان کو بھی نبوت ورسالت حاصل ہوجیساکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو نصیب ہوئی ہے ۔ہم سرداربن کررہ سکتے ہیں کسی کے تابع دارہوکرنہیں رہ سکتے ۔ تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان الأندلسی (۴:۴۳۶)

قادیانیوں،مرزائیوں کی تردید

واعلم ان النبوۃ اختصاص الہی عطائی غیر کسبی کالسلطنۃ فلا ینالہا المجاہد وان اتی بجمیع الشرائط والأسباب ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ سے معلوم ہواکہ نبوت ورسالت اللہ تعالی کی عطیہ ہے ، اس کی مرضی جسے چاہے عطافرمائے ، یہ سلطنت وحکومت کی طرح نہیں ہے یعنی یہ کسبی نہیں ہے (جیساکہ مرزائیوں اورمکہ کے کفارنے سمجھاتھا)اس لئے نبوت کسی کی جدوجہد سے حاصل نہیں ہوسکتی اگرچہ اس میں نبوت کی تمام شرائط اوراسباب پائے جائیں ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۹۹) نبوت کے وہبی ہونے کے متعلق ائمہ اہل سنت کانظریہ

جونبوت کو کسبی مانے وہ کافرہے

فان قلت فھل النبوۃ مکتسبۃ او موھوبۃ فالجواب لیست النبوۃ مکتسبۃ حتی یتوصل الیھا بالنسک و الریاضات کما ظنہ جماعۃ من الحمقاء و قد افتی المالکیۃ و غیرھم بکفر من قال ان النبوۃ مکتسبۃ۔ ترجمہ:امام عبدالوہاب الشعرانی رحمہ اللہ تعالی الیواقیت والجواہر میں تحریر فرماتے ہیںکہ کیا نبوت کسبی ہے یا وہبی؟ تو اس کا جواب ہے کہ نبوت کسبی نہیں ہے کہ درویشی اختیار کرنے یا محنت و کاوش سے اس تک پہنچا جائے۔ جیسا کہ بعض احمقوں (مثلاً قادیانی فرقہ )کا خیال ہے۔ مالکیہ وغیرہ نے کسبی کہنے والوں پر کفر کا فتویٰ دیا ہے۔ (الیواقیت والجواہر لامام عبدالوہاب الشعرانی (۱:۱۶۴)

جودعوی نبوت کرے وہ کافرہے

وَکَذَلِک من ادعی نُبُوَّۃ أَحَد مَع نبینا صَلَّی اللَّہ عَلَیْہ وَسَلَّم أَو من ادّعی النُّبُوَّۃ لِنَفْسِہ أَو جوّز اکْتِسَابَہَا والبُلُوغ بِصَفَاء القَلْب إلی مَرْتَبَتِہَا کالفَلَاسِفَۃ وغُلاۃ المُتَصَوّفَۃ وَکَذَلِک مَن ادّعی مِنْہُم أنَّہ یوحی إلیْہ وإن لَم یدَّع النُّبُوَّۃ أَو أنَّہ یَصْعَد إِلَی السَّمَاء وَیَدْخُل الْجنۃ وَیَأْکُل من ثِمَارِہَا وَیُعَانِق الْحور العین فہؤلاء کُلُّہُم کُفَّار مُکَذّبُون للنبی صَلَّی اللَّہ عَلَیْہ وَسَلَّم لِأَنَّہ أخْبَر صَلَّی اللَّہ عَلَیْہ وَسَلَّم أنَّہ خَاتَم النَّبِیّین لَا نَبِیّ بَعْدَہ ۔ ترجمہ :امام بو الفضل القاضی عیاض بن موسی المتوفی : ۵۴۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہمارے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی موجودگی یا آپﷺکے بعد جو کوئی کسبی نبوت کا قائل ہو۔ یا اس نے خود اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ یا پھر دل کی صفائی کی بناء پر اپنے کسب کے ذریعہ نبوت کے حصول کے جواز کاقائل ہوا۔ یا پھر اپنے پر وحی کے اترنے کو کہا۔ اگرچہ نبوت کا دعویٰ نہ کیا۔ تو یہ سب قسم کے لوگ نبیﷺ کے دعویٰ انا خاتم النبیین کی تکذیب کرنے والے ہوئے اور کافر ٹھہرے۔ (الشفا :أبو الفضل القاضی عیاض بن موسی الیحصبی(۲:۲۸۵) ان دونوں روشن حوالوں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ نبوت کے کسبی ہونے کا عقیدئہ رکھنا اپنے اندر تکذیب خدا اور رسول کا عنصر رکھتا ہے، اور ایسے عقیدہ کا رکھنے والا مالکیہ و دیگر علماء کے نزدیک قابل گردن زدنی اور کافر ہے۔

جوشخص نبوت کے کسبی ہونے کاعقیدہ رکھے ؟

حضرت مفتی محمدامجدعلی اعظمی حنفی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں(۱)نبوت کسبی نہیں کہ آدمی عبادت و ریاضت کے ذریعے کوشش کر کے اسے حاصل کر سکے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی عطا ہے کہ جسے چاہتا ہے اسے اپنے فضل سے نبوت عطا فرماتا ہے، ہاں دیتا اسی کو ہے جسے اس عظیم منصب کے قابل بناتا ہے، جو نبوت کا منصب ملنے سے پہلے ہر طرح کے برے اور مذموم اخلاق سے پاک اور اچھے اور قابلِ تعریف تمام اخلاق سے مزین ہو کر ولایت کے جملہ مَدارج طے کر چکتا ہے، اور اپنے نسب و جسم، قول وفعل، حرکات و سکنات میں ہرایسی بات سے پاک و صاف ہوتا ہے جو باعثِ نفرت ہو، اُسے عقلِ کامل عطا کی جاتی ہے، جو اوروں کی عقل سے بدرجہا زائد ہے، کسی حکیم اور کسی فلسفی کی عقل اُس کے لاکھویں حصہ تک نہیں پہنچ سکتی۔ اور جو اِسے کسبی مانے کہ آدمی اپنے کسب و ریاضت سے منصب ِنبوت تک پہنچ سکتا ہے، کافر ہے۔ (۲)جو شخص نبی سے نبوت کا زوال ممکن مانے وہ کافر ہے۔ (۳)نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور یہ عصمت نبی اور فرشتے کا خاصہ ہے کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ اماموں کو انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی و بد دینی ہے۔ عصمتِ انبیا کے یہ معنی ہیں کہ اُن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت کا وعدہ ہو چکا، جس کے سبب اُن سے گناہ کاصادر ہونا شرعاً محال ہے، جبکہ ائمہ و اکابر اولیاء کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت کا کوئی وعدہ نہیں ، ہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ اُنھیں محفوظ رکھتا ہے کہ اُن سے گناہ ہوتا نہیں اور اگر ہو تو شرعاً محال بھی نہیں۔ (۴)انبیاء کرام علیم السلام شرک و کفر اور ہر ایسے کام سے جو لوگوں کے لیے باعثِ نفرت ہو، جیسے جھوٹ ، خیانت اور جہل وغیرہ مذموم صفات سے، نیز ایسے افعال سے جو وجاہت اور مُروّت کے خلاف ہیں ، نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد بالاجماع معصوم ہیں اور کبیرہ گناہوں سے بھی مطلقاً معصوم ہیں اور حق یہ ہے کہ جان بوجھ کر صغیرہ گناہ کرنے سے بھی نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد معصوم ہیں۔ (بہارشریعت از مولاناامجدعلی اعظمی ( ۱:۳۹)

معارف ومسائل

(۱)انسانوں کو رسالت کی ضرورت دیگر تمام علوم حتی کہ علم طب سے بھی زیادہ ہے، طب کے بغیر زندگی ممکن ہے لیکن رسالت کے بغیر زندگی ممکن نہیں، اسی طرح طب کو تجربات کی بنیاد پر حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن شریعت کا سرچشمہ صرف اور صرف وحی الہی ہے۔ (۲)اگر نبوت ملنے کے لئے اطاعت و تابعداری شرط ہے تو غلام دجال قادیانی پھر بھی نبی نہیں ہے، کیونکہ اس نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی کامل تابعداری نہیں کی جیسے: (۱)مرزے دجال نے حج نہیں کیا۔ (۲)مرزے دجال نے ہجرت نہیں کی۔(۳)مرزے دجال نے جہاد بالسیف نہیں کیا۔ بلکہ الٹا اس کو حرام کہا۔ (۴)مرزے دجال نے کبھی پیٹ پر پتھر نہیں باندھے۔ (۵)ہندوستان کے قحبہ خانوں میں زنا ہوتا رہا۔ مگر مرزا غلام دجال نے کسی زانیہ یا زانی کو سنگسار نہیں کرایا۔ (۶)ہندوستان میں چوریاں ہوا کرتی تھیں۔ مگر مرزا قادیانی نے کسی چور کے ہاتھ نہیں کٹوائے۔ (۳)اگر مرزائیوں کے بقول اطاعت سے نبوت وغیرہ درجات حاصل ہوتے ہیں۔ تو ہمارا یہ سوال ہوگا کہ یہ درجے حقیقی ہیں یا ظلی وبروزی؟ اگر نبوت کا ظلی بروزی درجہ حاصل ہوتا ہے۔ جیسا کہ مرزائیوں کا عقیدہ ہے تو صدیق، شہید اور صالح بھی ظلی وبروزی ہونے چاہئیں۔ حالانکہ ان کے بارے میں کوئی ظلی و بروزی ہونے کا قائل نہیں، اور اگر صدیق وغیرہ میں حقیقی درجہ ہے تو پھر نبوت بھی حقیقی ہی ماننا چاہئے۔ حالانکہ تشریعی اور مستقل نبوت کا ملنا خود مرزائیوں کو بھی تسلیم نہیں ہے۔ اس لئے یہ دلیل مرزائیوں کے دعویٰ کے مطابق نہ ہوگی۔ (۴)اگر اطاعت کرنے سے نبوت ملتی ہے تو نبوت کسبی چیز ہوئی۔ حالانکہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے:{اﷲاعلم حیث یجعل رسالتہ} نبوت وہبی چیز ہے ۔جو اسے کسبی مانے وہ کافر ہے۔ (۵)کیا تیرہ سو سال میں کسی نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی پیروی کی ہے یا نہ؟ اگر اطاعت اور پیروی کی ہے تو نبی کیوں نہ بنے؟ اور اگر کسی نے بھی اطاعت وپیروی نہیں کی تو آپﷺکی امت خیرامت نہ ہوئی۔ بلکہ شرامت ہوگی۔( نعوذباﷲ)جس میں کسی نے بھی اپنے نبیﷺ کی کامل پیروی نہ کی۔ حالانکہ اﷲتعالیٰ نے سورئہ توبہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق خود شہادت دے دی ہے کہ {یطیعون اﷲو رسولہ}(توبہ: ۷۱) یعنی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اﷲتعالی اور اس کے رسولﷺ کی کامل اطاعت کرتے ہیں۔ بتائو!وہ نبی کیوں نہ ہوئے؟ اس لئے کہ اگر اطاعت کاملہ کا نتیجہ نبوت ہے تو اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ منصب ضرور حاصل ہوتا۔ جنہیں {رضی اﷲعنہم ورضوا عنہ} کا خطاب ملا اور یہی رضائے الٰہی کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ (۶) اس عقیدہ ختم نبوت کے بعض مضمرات اور مقتضیات پر غور کرتے ہیں۔ختم نبوت کا عقیدہ دراصل ایک انقلاب آفریں عقیدہ ہے، ہم اس عقیدہ کی معنویت و اہمیت اور اس کے ثمرات و مقتضیات پر غور کرنے کی زحمت کریں تو اعتقادی اور عملی زندگی کی نہ جانے کتنی کوتاہیاں اور خرابیاں ہیں جن کی اصلاح خود بخود ہو جائے گی۔ عقیدۂ ختم نبوت کا مطلب ہے کہ وحی کے نزول کاسلسلہ ختم ہو گیا، اس لئے کہ نبوت کا مدار وحی ہے اور وحی عبارت ہے کلام الہی کے سماع اور وصول سے بلاواسطہ ہویا بالواسطہ، بنابریں ختم نبوت کے بعد اگر کوئی کلام الہی کے سننے کا دعوی کرتا ہے تو گویا وہ زبانی طور پر اس کا اظہار نہ کرے لیکن وہ اس بات کا مدعی ہے کہ اس پر وحی کی جا رہی ہے، اور ظاہر ہے کہ یہ بات عقیدۂ ختم نبوت کے یکسر منافی ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں، ان کی یہ معصومیت دراصل وحی الہی کے ذریعہ ان کی نگہبانی کا نتیجہ ہے، ختم نبوت کے ساتھ ہی وحی کا سلسلہ بھی اختتام کو پہنچ گیا، بنابریں وحی الہی کی نگہبانی میسر نہ آنے کی وجہ سے معصومیت بھی ختم نبوت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گئی، معصومیت خاصۂ نبوت ہے، کسی غیر نبی کو عملاً و اعتقاداً یہ مقام دینا عقیدۂ ختم نبوت کے قطعاً خلاف ہے، اس سے جہاں شیعوں کے عقیدۂ امامت کی گمراہی طشت از بام ہو جاتی ہے وہیں ان لوگوں کی فکری کج روی اور گمراہی کھل کر سامنے آ جاتی ہے ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh