Fatwa #2350
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃ الانعام آیت ۱۲۹ ۔ وَکَذٰلِکَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًا بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
6,170
سوال (Question):
تفسیر سورۃ الانعام آیت ۱۲۹ ۔ وَکَذٰلِکَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًا بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ظالم پرظالم کو مسلط کرنااللہ تعالی کی سنت جاریہ ہے
{وَکَذٰلِکَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًا بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ }(۱۲۹) ترجمہ کنزالایمان:اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں بدلہ ان کے کیے کا۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اوراسی طرح ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر ان کے کئے ہوئے اعمال کے سبب مسلط کردیتے ہیں۔ آ یت کریمہ کامطلب قَالَ ابْنُ زَیْدٍ:نُسَلِّطُ ظَلَمَۃَ الْجِنِّ عَلَی ظَلَمَۃِ الْإِنْسِ وَعَنْہُ أَیْضًا:نُسَلِّطُ بَعْضَ الظَّلَمَۃِ عَلَی بَعْضٍ فَیُہْلِکُہُ وَیُذِلُّہُ وَہَذَا تَہْدِیدٌ لِلظَّالِمِ إِنْ لَمْ یَمْتَنِعْ مِنْ ظُلْمِہِ سَلَّطَ اللَّہُ عَلَیْہِ ظَالِمًا آخَرَوَیَدْخُلُ فِی الْآیَۃِ جَمِیعُ مَنْ یَظْلِمُ نَفْسَہُ أَوْ یَظْلِمُ الرَّعِیَّۃَ، أَوِ التَّاجِرُ یَظْلِمُ النَّاسَ فِی تِجَارَتِہِ أَوِ السَّارِقُ وَغَیْرُہُمْ۔ ترجمہ :امام ابن زید رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کامطلب یہ ہے کہ ہم ظالم جنوںکوظالم انسانوں پرمسلط کردیتے ہیں ۔ اوران سے یہ بھی منقول ہے کہ ہم بعض ظالموں کو بعض ظالموں پر مسلط کردیتے ہیں اوروہ انہیں ہلاک کردیتے ہیں اورذلیل ورسواکرتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں ظالموں کو تنبیہ اوردھمکی ہے کہ اگروہ اپنے ظلم سے باز نہ آئے تواللہ تعالی ان پر دوسرے ظالم مسلط کردے گااوراس آیت کریمہ میں وہ سب داخل ہیں جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں اوروہ حکمران بھی داخل ہیں جو اپنی رعایاپرظلم کرتے ہیں یاایساتاجرجواپنی تجارت میں لوگوں پرظلم کرتاہے یاچوروغیرہ جس طرح کابھی کوئی ظلم کرتاہے اللہ تعالی ان سب پران سے بھی بڑاظالم مسلط کردیتاہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۷:۸۵)دنیامیں جس کو لیڈرماناتھاقیامت کے دن اسی کے سپردکردیاجائے گا
وَقِیلَ:الْمَعْنَی نَکِلُ بَعْضَہُمْ إِلَی بَعْضٍ فِیمَا یَخْتَارُونَہُ مِنَ الْکُفْرِ، کَمَا نَکِلُہُمْ غَدًا إِلَی رُؤَسَائِہِمُ الَّذِینَ لَا یَقْدِرُونَ عَلَی تَخْلِیصِہِمْ مِنَ الْعَذَابِ أَیْ کَمَا نَفْعَلُ بِہِمْ ذَلِکَ فِی الْآخِرَۃِ کَذَلِکَ نَفْعَلُ بِہِمْ فِی الدُّنْیَاوَقَدْ قِیلَ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی:نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّی نَکِلْہُ إِلَی مَا وَکَلَ إِلَیْہِ نَفْسَہُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:تَفْسِیرُہَا ہُوَ أَنَّ اللَّہَ إِذَا أَرَادَ بِقَوْمٍ شَرًّا وَلَّی أَمْرَہُمْ شِرَارَہُمْ یَدُلُّ علیہ قول تَعَالَی:وَما أَصابَکُمْ مِنْ مُصِیبَۃٍ فَبِما کَسَبَتْ أَیْدِیکُمْ ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کایہ بھی معنی بیان کیاگیاہے کہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ ہم ان میں سے بعض کوبعض کے سپردکردیتے ہیں ، ان اعمال میں جنہیں وہ کفرمیں سے ناپسندکرتے ہیںجیساکہ ہم انہیں کل رئوساء کے حوالے کردیں گے جوانہیں عذاب سے نجات دلانے پرقادرنہیں ہوں گے یعنی ہم ان کے ساتھ آخرت میں ایساکریں گے جس طرح ہم ان کے ساتھ دنیامیں کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی کے اس ارشاد{نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّہ}کے تحت کہاگیاہے کہ ہم اسے اس کے حوالے کردیں گے جس کے حوالے اس نے اپنے آپ کوکیاتھا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۷:۸۵) آج پاکستانی قوم ان نام نہاد سیاسی لیڈروں کو جو کہ ہیں ہی بے دین اوردین دشمن اپناقائدمانتی ہے اوروہ فرنگی کواپناقائد مانتے ہیں ، جس طرح انہوںنے آج اپنے سارے معاملات ان کے سپردکردیئے ہیں اسی طرح قیامت کے دن اللہ تعالی ان کوان کے لیڈروں کے حوالے کردے گا۔ جس طرح یہ لوگ آج دنیامیں ان کی حفاظت نہیں کرسکتے اسی طرح وہ آخرت میں بھی ان کی حفاظت نہیں کرسکیں گے ۔جس طرح وہ دوزخ میں جائیں گے اسی طرح یہ بھی دوزخ میں جائیں گے ۔ اس میں یہ بات بڑی عبرت انگیزہے کہ یہ لوگ جس کفرکو ناپسندکرتے ہیں اس میں بھی اپنے آپ کوان لیڈروں کے حوالے کردیتے ہیںچاہے وہ کفرکریں یاان کو کفرکی طرف لے جائیں ، یہ ان کے پیچھے ہی رہتے ہیں ، ان سے ہٹتے نہیں ہیں اورنہ ہی ان سے برات کااظہارکرتے ہیں ۔ جیسے پاکستانی ایک وزیرنے کہاکہ قادیانی ہمارے بہن بھائی ہیں توقوم ساری اس کے ساتھ کھڑی رہی اگرچہ بعض لوگ اس کی اس بات سے راضی نہ تھے مگراس کو چھوڑابھی نہیں ۔ اسی طرح ایک لیڈرنے بتوں پردودھ چڑھاکرشرک کیامگرقوم اس کے ساتھ کھڑی رہی ، اس سے برات کااظہارنہ کیا۔ اورآجکل کی موجودہ حکومت دین دشمنی میں حدسے گزرگئی ہے اورروزبروزکفرکو غلبہ دینے کے لئے کوشاں رہتی ہے مگرقوم ان کے ساتھ کھڑی ہے ۔ جس طرح قوم نے خودکوان کے حوالے کررکھاہے اسی طرح قیامت کے دن اللہ تعالی اس قوم کو ان کے لیڈروں کے حوالے کردے گا۔ جب ایک ظالم دوسرے سے انتقام لے توتوبھی دیکھ وَقَالَ فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ: إِذَا رَأَیْتَ ظَالِمًا یَنْتَقِمُ مِنْ ظَالِمٍ فَقِفْ، وَانْظُرْ فِیہِ مُتَعَجِّبًا. ترجمہ :حضرت سیدنافضیل بن عیاض رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب توکسی ظالم کو دیکھے کہ وہ کسی اورظالم سے بدلہ لے رہاہے توتووہاں ٹھہرکردیکھ اورتعجب کرتے ہوئے غوروفکرکر۔ (بحر العلوم:أبو اللیث نصر بن محمد بن أحمد بن إبراہیم السمرقندی (۱:۴۸۲)جب عوام ظالم ہوتوحکمران ظالم ہی ہوتاہے
الْآیَۃُ تَدُلُّ عَلَی أَنَّ الرَّعِیَّۃَ مَتَی کَانُوا ظَالِمِینَ فَاللَّہُ تَعَالَی یُسَلِّطُ عَلَیْہِمْ ظَالِمًا مِثْلَہُمْ فَإِنْ أَرَادُوا أَنْ یَتَخَلَّصُوا مِنْ ذَلِکَ الْأَمِیرِ الظَّالِمِ فَلْیَتْرُکُوا الظُّلْمَ وَأَیْضًا الْآیَۃُ تَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ لَا بُدَّ فِی الْخَلْقِ مِنْ أَمِیرٍ وَحَاکِمٍ لِأَنَّہُ تَعَالَی إِذَا کَانَ لَا یُخَلِّی أَہْلَ الظُّلْمِ مِنْ أَمِیرٍ ظَالِمٍ فَبِأَنْ لَا یُخَلِّی أَہْلَ الصَّلَاحِ مِنْ أَمِیرٍ یَحْمِلُہُمْ عَلَی زِیَادَۃِ الصَّلَاحِ کَانَ أَوْلَی. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اس پردلالت کررہی ہے کہ جب عوام ظالم ہوتواللہ تعالی ان کے مثل ظالم کو ہی ان پر مسلط کردیتاہے ، اگروہ اس ظالم حاکم سے چھٹکاراچاہتے ہیں توخود ظلم کو چھوڑیں ، یہ آیت کریمہ اس پربھی دلالت کررہی ہے کہ مخلوق کے لئے امیروحاکم کاہوناضروری ہے کیونکہ جب اللہ تعالی اہل ظلم کوظالم کے بغیرنہیں چھوڑتاتواہل خیرکو بطریق اولی ایسے امیروحاکم سے خالی نہیں رکھے گاجوان کی اصلاح میں اضافہ کرے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۳:۱۴۹)اللہ تعالی منافق پرمنافق کو مسلط کردیتاہے
ثنا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْعَطَّارُ قَالَ:سَمِعْتُ مَالِکَ بْنَ دِینَارٍ یَقُولُ:قَرَأْتُ فِی الزَّبُورِ:إِنِّی أَنْتَقِمُ مِنَ الْمُنَافِقِ بِالْمُنَافِقِ ثُمَّ أَنْتَقِمُ مِنَ الْمُنَافِقِینَ جَمِیعًا وَذَلِکَ فِی کِتَابِ اللَّہِ قَوْلُ اللَّہِ:(وَکَذَلِکَ نُوَلِّی بَعْضَ الظَّالِمِینَ بَعْضًا بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ)(الأنعام:۱۲۹) ترجمہ :حضرت سیدنامالک بن دیناررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے زبورشریف میں پڑھاہے کہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ میں منافق پرمنافق کو مسلط کرکے بدلہ لیتاہوں اورپھران تمام منافقین سے قیامت کے دن بدلہ لوں گا، اسی کے مطابق قرآن کریم کایہ قول ہے ۔ {وَکَذَلِکَ نُوَلِّی بَعْضَ الظَّالِمِینَ بَعْضًا بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ} (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس الرازی ابن أبی حاتم (۴:۱۳۸۹)جب قوم کے دل بگڑجائیں توظالم حاکم آتے ہیں
عَنِ السُّمَیْطِ، قَالَ:قَالَ کَعْبُ الْأَحْبَارِ:إِنَّ لِکُلِّ زَمَانٍ مَلِکًا یَبْعَثُہُ اللہُ عَلَی نَحْوِ قُلُوبِ أَہْلِہِ، فَإِذَا أَرَادَ صَلَاحَہُمْ بَعَثَ عَلَیْہِمْ مُصْلِحًا، وَإِذَا أَرَادَ ہَلَکَتَہُمْ بَعَثَ فِیہِمْ مُتْرَفِیہِمْ ۔ ترجمہ:حضرت سیدناکعب الاحبا ررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک ہرزمانے کے لئے ایک بادشاہ ہوتاہے اوراللہ تعالی اسے وہاں کے لوگوں کے دلوں کی کیفیت کے مطابق بھیجتاہے، جب اللہ تعالی انکی اصلاح کاارادہ فرمائے توان کے لئے مصلح اورنیک حاکم مقررفرماتاہے اورجب اللہ تعالی ان کی ہلاکت اوربربادی کاارادہ فرمائے تو ان کے لئے آرام طلب حکمران بھیج دیتاہے۔ (شعب الإیمان:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۹:۴۹۱)مسلمان ظالم حاکم بھی دین کادشمن نہیں ہوتاتویہ دین کے دشمن کیسے ہوگئے؟
قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ:لَا یَصْلُحُ لِلنَّاسِ إِلَّا أَمِیرٌ عَادِلٌ أَوْ جَائِرٌ فَأَنْکَرُوا قَوْلَہُ:أَوْ جَائِرٌ فَقَالَ: نَعَمْ یُؤَمِّنُ السَّبِیلَ وَیُمَکِّنُ مِنْ إِقَامَۃِ الصَّلَوَاتِ وَحَجِّ الْبَیْتِ. ترجمہ :حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ لوگوں کی اصلاح عادل یاظالم حکمران سے ہوتی ہے ۔لوگوں نے عرض کی : حضور!یہ توسمجھ میں آتاہے کہ عادل حکمران سے لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے مگریہ بات سمجھ سے بالاترہے کہ ظالم حکمران سے لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ظالم حاکم بھی کم از کم راستے تومحفوظ کرے گااورنمازوں کاقیام اوربیت اللہ کاحج شریف قائم کرے گا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۳:۱۴۹) اس سے معلوم ہواکہ مسلمان حاکم جتنامرضی ظالم ہووہ دین حق پر حملہ نہیں کرے گا۔ (۱)…مگرہمارے حکمرانوں نے توکرکٹ میچ کے لئے مساجد کو بندکردیا۔ (۲)…اورکروناکے دنوں میں مساجد میں نماز پڑھانے والے علماء کرام پردہشت گردی کے پرچے کاٹ دیئے اوران کو کئی کئی دن تک رمضان المبارک میں جیلوں میں قیدرکھا۔ (۳)…پاکستان کے ضلع بہاولنگرکی تمام مساجد شریفہ سے اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تمام لوگوں کو اٹھادیا۔ (۴)…ختم نبوت کے نعرے لگانے پردہشت گردی کے پرچے کاٹے ۔ (۵)… ناموس رسالت پرپہرہ دینے والے غازی اسلام ملک ممتاز حسین قادری شہیدرحمہ اللہ تعالی کو تختہ دار پرلٹکادیا۔ (۶)گستاخ ملعونہ کو رہاکرکے شیطان اعظم نے ڈولنڈٹرنپ سے شاباش وصول کی ۔ (۷)…ناموس رسالت پرپہرہ دینے والے ممتاز عالم دین حضرت امیرالمجاہدین مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ کی مسجد شریف میں گھس کرپولیس نے تیسری منزل سے قرآن کریم نیچے پھینک کرقرآن کریم کی گستاخی کی ۔ (۸)…حضورامیرالمجاہدین حفظہ اللہ تعالی کی گرفتاری کے لئے آنے والے تمام رینجرزاورپولیس والے جوتے سمیت مسجد شریف میں داخل ہوگئے ۔ (۹)…بہت دنوں تک جامع مسجد شریف رحمۃ للعالمین میں اذان ونماز نہ ہوسکی اورمسجد میں بیٹھ کر پولیس والے سیگریٹ پیتے رہے اورمسجد شریف میں بیٹھ کر پولیس والے تاش کھیلتے رہے ۔ اب آپ بتائیں ایک طرف حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ کا فرمان شریف ہے کہ مسلمان ظالم حاکم بھی ہوتوبھی دینی معاملات میں رکاوٹ نہیں بنے گاجبکہ ہمارے حکمران دین متین پرپے درپے حملے کررہے ہیں ان کو کون مومن مانے گا؟۔جب رعایامیں اکثرفاسق وفاجربن جائیں توظالم حکمران مسلط کردیئے جاتے ہیں
عَنْ أَبِی الدَّرْدَاء ِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ: أَنَا اللہُ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنَا مَالِکُ الْمُلْکِ وَمَالِکُ الْمُلُوکِ قُلُوبُ الْمُلُوکِ بِیَدِی وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا أَطَاعُونِی حَوَّلْتُ قُلُوبَ مُلُوکِہِمْ عَلَیْہِمْ بِالرَّأْفَۃِ وَالرَّحْمَۃِ وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا عَصَوْنِی حَوَّلْتُ قُلُوبَ مُلُوکِہِمْ عَلَیْہِمْ بِالسَّخَطِ وَالنِّقْمَۃِ فَسَامُوہُمْ سُوء َ الْعَذَابِ، إِذًا فَلَا تَشْغِلُوا أَنْفُسَکُمْ بِالدُّعَاء ِ عَلَی الْمُلُوکِ وَلَکِنِ اشْغَلُوا أَنْفُسَکُمْ بِالذِّکْرِ وَالتَّفَرُّغِ إِلَی أَکْفِکُمْ مُلُوکَکَمْ ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:اللہ تعالیٰ (حدیث قدسی )میں ارشاد فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں، بادشاہوں کے دل میرے ہاتھ (یعنی میرے قبضہ قدرت )میں ہیں؛ لہٰذا جب میرے (اکثر )بندے میری اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں تو میں ان کے حق میں (ظالم )بادشاہوں کے دلوں کو رحمت وشفقت کی طرف پھیر دیتا ہوں اور جب میرے بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے حق میں (عادل ونرم خو)بادشاہوں کے دلوں کو غضب ناکی اور سخت گیری کی طرف پھیر دیتا ہوں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ (بادشاہ )ان کو سخت عقوبتوں میں مبتلا کرتے ہیں، اس لیے (ایسی صورت میں )تم اپنے آپ کو ان بادشاہوں کے لیے بدعا کرنے میں مشغول نہ کرو، بلکہ (میری بارگاہ میں تضرع وزاری کر کے اپنے آپ کو (میرے )ذکر میں مشغول کرو، تاکہ میں ان بادشاہوں کے شر سے تمہیں بچاؤں ۔ (حلیۃ الأولیاء :أبو نعیم أحمد بن عبد اللہ بن أحمد بن إسحاق بن موسی بن مہران الأصبہانی (۲:۳۸۸)جب رب تعالی ناراض ہوتوظالم حکمران مسلط ہوتے ہیں
عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ: إِذَا أَرَادَ اللَّہُ بِقَوْمٍ خَیْرًا وَلَّی أَمَرَہُمْ حُلَمَاء َہُمْ، وَجَعَلْ فَیْئَہُمْ عِنْدَ سُمَحَائِہِمْ، وَإِذَا أَرَادَ اللَّہُ بِقَوْمٍ شَرًّا وَلَّی أَمْرَہُمْ شِرَارَہُمْ، وَجَعَلَ فَیْئَہُمْ عِنْدَ بُخَلَائِہِمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:جب اللہ تعالی کسی قوم کے ساتھ بھلائی کاارادہ فرماتاہے تو ان کے حکمران حلم وحوصلے والے مقررفرمادیتاہے اوران کامال ان کے سخی لوگوں کو عطافرماتاہے اورجب اللہ تعالی کسی قوم کے ساتھ شرکاارادہ فرماتاہے توان کے حکمران ان کے بدترین لوگوں کو مقررفرماتاہے اوران کامال ان کے بخیلوں کو دے دیتاہے ۔ (الآثار:أبو یوسف یعقوب بن إبراہیم بن حبیب بن سعد بن حبتۃ الأنصاری (۱:۲۱۴)معارف ومسائل
(۱)یہ بات ذہن میں رہے کہ رعایا کے ساتھ حکمرانوں کے رویہ کا تعلق باطنی طور پر لوگوں کے اعمال وکردار سے ہوتا ہے اگر رعایا کے لوگ اللہ تعالی کی اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں اور ان کے اعمال ومعاملات بالعموم راست بازی ونیک کرداری کے پابند ہوتے ہیں تو ان کے ظالم حکمران بھی ان کے حق میں عادل نرم خو اور شفیق بن جاتے ہیں اور اگر رعایا کے لوگ اللہ تعالی کی سرکشی وطغیانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ان کے اعمال ومعاملات عام طور پر بد کر داری کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں تو پھر ان کا عادل ونرم خو حکمران بھی ان کے حق میں غضب ناک اور سخت گیر ہو جاتا ہے؛ لہٰذا حکمران کے ظلم وستم اور اس کی سخت گیری وانصافی پر اس کو برا بھلا کہنے اور اس کے لیے بدعا کرنے کی بجائے اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنا چاہیے ، ایسے حالات میں اپنی بداعمالیوں پر ندامت کے ساتھ توبہ استغفار کیا جائے ، اللہ تعالیٰ کے دربار میں عاجزی وزاری کے ساتھ التجاء و فریاد کی جائے اور اپنے اعمال و معاملات کو مکمل طور پر اللہ تعالی اور اس کے حبیب کریم ﷺکے حکم کے تابع کر دیا جائے تاکہ رحمتِ الٰہی متوجہ ہو اور ظالم حکمران کے دل کو عدل وانصاف اور نرمی وشفقت کی طرف پھیر دے ۔ (۲) اللہ تعالی کی یہ سنت کریمہ بڑی واضح طورپرجاری نظرآتی ہے کہ پاکستان میں جتنے بھی حکمران آئے ہیں وہ سب کے سب ظالم اوراللہ تعالی نے ان سب پر ان سے بھی بڑاظالم مسلط کیا، ایک جب آتاہے توپہلے والے کو یاتولٹکادیتاہے یاپھراس کو مقدمات میں پھنسادیتاہے ، اورپھراس پردوسراآتاہے وہ اس سے بدلے لیتاہے ۔ الحمدللہ علی ذلک ۔ اللہ تعالی کے فضل وکرم اوراس کے احسان سے یہ تمام کے تمام اوران کے ساتھ عوام بھی جو ان کے دائمی غلام ہیں وہ سب ذلیل ہورہے ہیں اوریونہی ہوتے رہیں گے جب تک یہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دین متین کی طرف نہیں آتے۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9