صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2357 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃالاعراف آیت ۷۳ تا ۷۹۔وَ اِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,912

سوال (Question):

تفسیر سورۃالاعراف آیت ۷۳ تا ۷۹۔وَ اِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضرت سیدناصالح علیہ السلام کے گستاخوں کاانجام

{وَ اِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہ قَدْ جَآء َتْکُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ ہٰذِہٖ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ اٰیَۃً فَذَرُوْہَا تَاْکُلْ فِیْٓ اَرْضِ اللہِ وَلَاتَمَسُّوْہَا بِسُوْٓء ٍ فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ }(۷۳){وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآء َ مِنْ بَعْدِ عَادٍ وَّبَوَّاَکُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُہُوْلِہَا قُصُوْرًا وَّتَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا فَاذْکُرُوْٓا اٰلَآء َ اللہِ وَلَاتَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ }(۷۴){قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْہُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّہٖ قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ }(۷۵){قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا اِنَّا بِالَّذِیْٓ اٰمَنْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ}(۷۶){ فَعَقَرُوا النَّاقَۃَ وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّہِمْ وَقَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ }(۷۷)فَاَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِہِمْ جٰثِمِیْنَ }(۷۸){فَتَوَلّٰی عَنْہُمْ وَقَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلٰکِنْ لَّاتُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ }(۷۹) ترجمہ کنزالایمان:اور ثمود کی طرف ان کی برادری سے صالح کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لیے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں درد ناک عذاب آلے گا۔اور یاد کرو جب تم کو عاد کا جانشین کیا اور ملک میں جگہ دی کہ نرم زمین میں محل بناتے ہو اور پہاڑوں میں مکان تراشتے ہو تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔اس کی قوم کے تکبر والے کمزور مسلمانوں سے بولے کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کے رسول ہیں بولے وہ جو کچھ لے کر بھیجے گئے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں۔متکبر بولے جس پر تم ایمان لائے ہمیں اس سے انکار ہے۔پس ناقہ کی کُوچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح ہم پر لے آؤ جس کا تم وعدہ دے رہے ہو اگر تم رسول ہو۔تو انہیں زلزلہ نے ا ٓلیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے رہ گئے ۔تو صالح نے ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچا دی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرضی ہی نہیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور قومِ ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح (علیہ السلام )کو بھیجا۔ صالح (علیہ السلام )نے فرمایا :اے میری قوم!تم اللہ تعالی کی عبادت کرو !اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ بیشک تمہارے پاس تمہارے رب تعالی کی طرف سے روشن نشانی آگئی۔ تمہارے لئے نشانی کے طور پر اللہ تعالی کی یہ اونٹنی ہے۔ توتم اسے چھوڑے رکھو تاکہ اللہ تعالی کی زمین میں کھائے اور اسے گستاخی کے ساتھ ہاتھ نہ لگاؤ ورنہ تمہیں درد ناک عذاب آلے گا۔اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قومِ عاد کے بعدزمین پر جانشین بنایا اور اس نے تمہیں زمین میں ٹھکانا دیا ، تم نرم زمین میں محلات بناتے تھے اور پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے تھے تو اللہ تعالی کی نعمتیں یاد کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلائو۔ ان کی قوم کے متکبر سردارکمزور مسلمانوں سے کہنے لگے:کیا تم جانتے ہو کہ صالح علیہ السلام اپنے رب تعالی کا رسول ہے؟ انہوں نے کہا: بیشک ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جس کے ساتھ انہیں بھیجا گیا ہے۔متکبر بولے :بیشک ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں جس پر تم ایمان لائے ہو۔پس (کافروں نے)اونٹنی کی ٹانگوں کی رگوں کو کاٹ دیا اور اپنے رب تعالی کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے:اے صالح! اگر تم رسول ہو تو ہم پر وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے رہتے ہو۔ تو انہیں زلزلے نے پکڑ لیا تو وہ صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو صالح ( علیہ السلام )نے ان سے منہ پھیرلیا اور فرمایا:اے میری قوم!بیشک میں نے تمہیں اپنے رب تعالی کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔

گستاخوں کے عبرت ناک انجام کے متعلق تفصیلی حدیث شریف

عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَۃَ، قَالَ:قُلْنَا لَہُ:حَدِّثْنَا حَدِیثَ ثَمُودَ. فَقَالَ: أُحَدِّثُکُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، عَنْ ثَمُودَ، وَکَانَتْ ثَمُودُ قَوْمَ صَالِحٍ أَعْمَرَہُمُ اللَّہُ فِی الدُّنْیَا، فَطَالَ أَعْمَارَہُمْ حَتَّی جَعَلَ أَحَدُہُمْ یَبْنِی الْمَسْکَنَ مِنَ الْمَدَرِ فَیَنْہَدِمُ وَالرَّجُلُ مِنْہُمْ حَیٌّ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِکَ اتَّخَذُوا مِنَ الْجِبَالِ بُیُوتًا فَرِہِینَ فَنَحَتُوہَا وَجَابُوہَا وَجَوَّفُوہَا، وَکَانُوا فِی سَعَۃٍ مِنْ مَعَائِشِہِمْ، فَقَالُوا: یَا صَالِحُ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ لِیَخْرُجَ لَنَا آیَۃً نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ، فَدَعَا صَالِحٌ رَبَّہُ فَأَخْرَجَ لَہُمُ النَّاقَۃَ، وَکَانَ شِرْبُہَا یَوْمًا وَشِرْبُہُمْ یَوْمًا مَعْلُومًا، فَإِذَا کَانَ یَوْمُ شِرْبِہَا خَلُّوا عَنْہَا، وَعَنِ الْمَاء ِ وَحَلَبُوا عَنْہَا الْمَاء َ، فَمَلَئُوا کُلَّ إِنَاء ٍ وَوِعَاء ٍ وَسِقَاء ٍ فَأَوْحَی اللَّہُ إِلَی صَالِحٍ أَنَّ قَوْمَکَ سَیَعْقِرُونَ نَاقَتَکَ، فَقَالَ لَہُمْ فَقَالُوا: مَا کُنَّا لَنَفْعَلَ. قَالَ: إِنْ لَمْ تَعْقِرُوہَا أَنْتُمْ یُوشِکُ أَنْ یُولَدَ فِیکُمْ مَوْلُودٌ یَعْقِرُہَا قَالَ: مَا عَلَامَۃُ ذَلِکَ الْمَوْلُودِ فَوَاللَّہِ لَا نَجِدُہُ إِلَّا قَتَلْنَاہُ، قَالَ: فَإِنَّہُ غُلَامٌ أَشْقَرُ أَزْرَقُ أَصْہَبَ ، قَالَ: وَکَانَ فِی الْمَدِینَۃِ شَیْخَانِ عَزِیزَانِ مَنِیعَانِ لِأَحَدِہِمَا ابْنٌ یَرْغَبُ عَنِ الْمَنَاکِحِ وَلِلْآخَرِ ابْنَۃٌ لَا یَجِدُ لَہَا کُفُوًا فَجَمَعَ بَیْنَہُمَا مَجْلِسٌ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہِ: مَا مَنَعَکَ أَنْ تُزَوِّجَ ابْنَکَ؟ قَالَ: لَا أَجِدُ لَہُ کُفُوًا، قَالَ: فَإِنَّ ابْنَتِی کُفْء ٌ لَہُ وَأَنَا أُزَوِّجُ ابْنَکَ فَزَوَّجَہُ فَوُلِدَ بَیْنَہُمَا ذَلِکَ الْمَوْلُودُ وَکَانَ فِی الْمَدِینَۃِ ثَمَانِیَۃُ رَہْطٍ یُفْسِدُونَ فِی الْأَرْضِ وَلَا یُصْلِحُونَ، قَالَ لَہُمْ صَالِحٌ: ” إِنَّمَا یَعْقِرُہَا مَوْلُودٌ فِیکُمْ فَاخْتَارُوا ثَمَانِیَۃَ نِسْوَۃٍ قَوَابِلَ مِنَ الْقَرْیَۃِ وَجَعَلُوا مَعَہُمْ شَرْطًا فَکَانُوا یَطُوفُونَ فِی الْقَرْیَۃِ، فَإِذَا وَجَدُوا امْرَأَۃً تُمْخَضُ نَظَرُوا مَا وَلَدُہَا، فَإِنْ کَانَ غُلَامًا فَلَبِثُوا یَنْظُرُونَ مَا ہُوَ، وَإِنْ کَانَتْ جَارِیَۃً اعْرَضُوا عَنْہَا، فَلَمَّا وَجَدُوا ذَلِکَ الْمَوْلُودَ صَرَخْنَ النِّسْوَۃُ، قُلْنَ ہَذَا الَّذِی یُرِیدُ رَسُولُ اللَّہِ صَالِحٌ، فَأَرَادَ الشُّرَطُ أَنْ یَأْخُذُوہُ فَحَالَ جَدَّاہُ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَہُ، وَقَالُوا:إِنْ کَانَ صَالِحٌ أَرَادَ ہَذَا قَتَلْنَاہُ وَکَانَ شَرَّ مَوْلُودٍ وَکَانَ یَشُبُّ فِی الْیَوْمِ شَبَابَ غَیْرِہِ فِی الْجُمُعَۃِ، وَیَشِبُّ فِی الْجُمُعَۃِ شَبَابَ غَیْرِہِ فِی الشَّہْرِ، وَیَشِبُّ فِی الشَّہْرِ شَبَابَ غَیْرِہِ فِی السَّنَۃِ فَاجْتَمَعَ الثَّمَانِیَۃُ الَّذِینَ یُفْسِدُونَ فِی الْأَرْضِ وَلَا یُصْلِحُونَ وَالشَّیْخَانِ، فَقَالُوا: نَسْتَعْمِلُ عَلَیْنَا ہَذَا الْغُلَامَ لِمَنْزِلَتِہِ وَشَرَفِ جَدَّیْہِ فَکَانُوا تِسْعَۃً وَکَانَ صَالِحٌ لَا یَنَامُ مَعَہُمْ فِی الْقَرْیَۃِ بَلْ کَانَ فِی الْبَرِیَّۃِ فِی مَسْجِدٍ، یُقَالَ لَہُ:مَسْجِدُ صَالِحٍ فِیہِ یَبِیتُ بِاللَّیْلِ، فَإِذَا أَصْبَحَ أَتَاہُمْ فَوَعَظَہُمْ وَذَکَّرَہُمْ، وَإِذَا أَمْسَی خَرَجَ فِیہِ یَبِیتُ بِاللَّیْلِ فَبَاتَ فِیہِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:وَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ یَمْکُرُوا بِصَالِحٍ مَشَوْا حَتَّی أَتَوْا عَلَی شِرْبٍ عَلَی طَرِیقِ صَالِحٍ، فَاخْتَبَأَ فِیہِ ثَمَانِیَۃٌ:وَقَالُوا إِذَا خَرَجَ عَلَیْنَا قَتَلْنَاہُ وَأَتَیْنَا أَہْلَہُ فَبَیَّتْنَاہُمْ فَأَمَرَ اللَّہُ الْأَرْضَ فَاسْتَوَتْ عَلَیْہِمْ فَاجْتَمَعُوا وَمَشَوْا إِلَی النَّاقَۃِ وَہِیَ عَلَی حَوْضِہَا قَائِمَۃٌ فَقَالَ الشَّقِیُّ لِأَحَدِہِمْ: ائْتِہَا فَاعْقِرْہَا فَأَتَاہَا فَتَعَاظَمَہُ ذَلِکَ فَأَضْرَبَ عَنْ ذَلِکَ، فَبَعَثَ آخَرَ فَأَعْظَمَ ذَلِکَ فَجَعَلَ لَا یَبْعَثُ رَجُلًا إِلَّا یُعَاظِمُہُ ذَلِکَ مِنْ أَمْرِہَا حَتَّی مَشَی إِلَیْہَا وَتَطَاوَلَ فَضَرَبَ عُرْقُوبَہَا، فَوَقَعَتْ تَرْکُضُ فَأَتَی رَجُلٌ مِنْہُمْ صَالِحًا فَقَالَ: أَدْرِکِ النَّاقَۃَ فَقَدْ عُقِرَتْ فَأَقْبَلَ وَخَرَجُوا یَتَلَقَّوْنَہُ، یَا نَبِیَّ اللَّہِ: إِنَّمَا عَقَرَہَا فُلَانٌ لَا ذَنْبَ لَنَا قَالَ: انْظُرُوا ہَلْ تُدْرِکُونَ فَصِیلَہَا، فَإِنْ أَدْرَکْتُمُوہُ فَعَسَی اللَّہُ أَنْ یَرْفَعَ عَنْکُمُ الْعَذَابَ فَخَرَجُوا یَطْلُبُونَہُ وَلَمَّا رَأَی الْفَصِیلُ أُمَّہُ تَضْطَرِبُ أَتَی جَبَلًا یُقَالَ لَہُ الْغَارَۃُ قَصِیرًا، فَصَعِدَ وَذَہَبُوا یَأْخُذُوہُ، فَأَوْحَی اللَّہُ إِلَی الْجَبَلِ فَطَارَ فِی السَّمَاء ِ حَتَّی مَا یَنَالُہُ الطَّیْرُ، قَالَ:وَدَخَلَ صَالِحٌ الْقَرْیَۃَ، فَلَمَّا رَآہُ الْفَصِیلُ بَکَی حَتَّی سَالَتْ دُمُوعُہُ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ صَالِحًا فَرَغَا رَغْوَۃً، ثُمَّ رَغَا أُخْرَی، ثُمَّ رَغَا أُخْرَی، فَقَالَ صَالِحٌ لِکُلِّ رَغْوَۃٍ أَجَلُ یَوْمٍ تَمَتَّعُوا فِی دَارِکُمْ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، ذَلِکَ وَعْدٌ غَیْرُ مَکْذُوبٍ إِلَّا أَنَّ آیَۃَ الْعَذَابِ أَنَّ الْیَوْمَ الْأَوَّلَ تُصْبِحُ وُجُوہُہُمْ مُصْفَرَّۃٌ، وَالْیَوْمَ الثَّانِی مُحْمَرَّۃٌ، وَالْیَوْمَ الثَّالِثَ مُسْوَدَّۃً، فَلَمَّا أَصْبَحُوا إِذَا وُجُوہُہُمْ کَأَنَّمَا طُلِیَتْ بِالْخَلُوقِ صَغِیرَہُمْ وَکَبِیرَہُمْ ذَکَرَہُمْ وَإِنَاثَہُمْ، فَلَمَّا أَمْسَوْا صَاحُوا بِأَجْمَعِہِمْ أَلَا قَدْ مَضَی یَوْمٌ مِنَ الْأَجَلِ وَحَضَرَکُمُ الْعَذَابُ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا یَوْمَ الثَّانِی إِذَا وُجُوہُہُمْ مُحْمَرَّۃٌ کَأَنَّمَا خُضِبَتْ بِالدِّمَاء ِ فَصَاحُوا وَضَجُّوا وَبَکَوْا وَعَرَفُوا أَنَّہُ الْعَذَابُ، فَلَمَّا أَمْسَوْا صَاحُوا بِأَجْمَعِہِمْ أَلَا قَدْ مَضَی یَوْمَانِ مِنَ الْأَجَلِ وَحَضَرَکُمُ الْعَذَابُ فَلَمَّا أَصْبَحُوا الْیَوْمَ الثَّالِثَ، إِذَا وُجُوہُہُمْ مُسْوَدَّۃٌ کَأَنَّمَا طُلِیَتْ بِالْقَارِ فَصَاحُوا جَمِیعًا أَلَا قَدْ حَضَرَکُمُ الْعَذَابُ فَتَکَفَّنُوا وَتَحَنَّطُوا وَکَانَ حَنُوطَہُمُ الصَّبْرُ وَالْمُرُّ، وَکَانَتْ أَکْفَانُہُمُ الْأَنْطَاعَ، ثُمَّ أَلْقَوْا أَنْفُسَہُمْ بِالْأَرْضِ فَجَعَلُوا یُقَلِّبُونَ أَبْصَارَہُمْ إِلَی السَّمَاء ِ مَرَّۃً وَإِلَی الْأَرْضِ مَرَّۃً لَا یَدْرُونَ مِنْ حَیْثُ یَأْتِیہُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِہِمْ مِنَ السَّمَاء ِ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِہِمْ مِنَ الْأَرْضِ خُشَّعًا وَفُرُقًا، فَلَمَّا أَصْبَحُوا الْیَوْمَ الرَّابِعَ أَتَتْہُمْ صَیْحَۃٌ مِنَ السَّمَاء ِ فِیہَا صَوْتُ کُلِّ صَاعِقَۃٍ وَصَوْتُ کُلِّ شَیْء ٍ لَہُ صَوْتٌ فِی الْأَرْضِ فَتَقَطَّعَتْ قُلُوبُہُمْ فِی صُدُورِہِمْ، فَأَصْبَحُوا فِی دِیَارِہِمْ جَاثِمِینَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناشہربن حوشب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت سیدناعمر و بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں قوم ثمودکاواقعہ سنائیں !توانہوںنے فرمایاکہ میں تم کو حضورتاجدارختم نبوت ﷺکابیان کردہ قوم ثمود کاقصہ بیان کرتاہوں ۔ ثمود حضر ت سیدناصالح علیہ السلام کی قوم تھی ، اللہ تعالی نے ان کو دنیامیں بہت لمبی لمبی عمریں عطافرمائی تھیں ، حتی کہ کوئی مٹی کامکان بنالیتاتووہ اپنی عمرپوری کرکے مغموم ہوجاتالیکن ان بنانے والوں میں ابھی بھی کوئی نہ کوئی زندہ ہوتاتھا، اسی وجہ سے وہ پہاڑوں میں مکانات بناکرخوش ہوتے تھے ، انہوں نے پہاڑوں کو بناکرہموارکیااورتراش تراش کرگہراکرلیا، یہ لوگ بہت خوش تھے ، انہوںنے حضرت سیدناصالح علیہ السلام کو کہاکہ آپ ہمارے لئے اپنے رب تعالی سے دعاکریں کہ وہ ہمارے لئے کوئی نشانی ظاہرکردے جس سے ہم جان جائیں کہ آپ علیہ السلام واقعی اللہ تعالی کے رسول ہیں ۔ چنانچہ حضرت سیدناصالح علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعامانگی تواللہ تعالی نے ان کے لئے ایک اونٹنی نکال دی ، گھاٹ سے پانی پینے کے لئے ایک دن اونٹنی کااورایک دن لوگوں کامقررتھا، جو دن اونٹنی کاہوتااس دن لوگ اونٹنی سے اورپانی سے دورہوجاتے ، ا س کادودھ دوہتے اوروہ اتناہوتاکہ وہ لوگ اپنے تمام برتن اورمشکیزے وغیرہ بھرلیتے تھے تواللہ تعالی نے حضرت سیدناصالح علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ تمھاری قوم عنقریب اس کو قتل کردے گی ۔ حضرت سیدناصالح علیہ السلام نے ان کو اس بات سے خبردارکیا، تووہ لوگ بولے کہ ہم ایسانہیں کریں گے ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایاکہ اگرتم نے نہ کیاتوہوسکتاہے کہ تمھاری اولادوں میں سے کوئی یہ کام کردے۔ انہوں نے کہاکہ آپ علیہ السلام اس بچے کی نشانی بتائیں ہم اس کو پیداہوتے ہی مارڈالیں گے ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایاکہ وہ لڑکاسرخ ، زرداورنیلگوں ہوگا، جس کے رنگ میں سرخی مائل سفید ی ہوگی ۔ آپ فرماتے ہیں کہ شہر میں دوعمررسیدہ طاقتورآدمی رہتے تھے ، ان میں سے ایک کابیٹاتھاجو شادی کروانے سے گریزاں تھا، اوردوسرے کی ایک بیٹی تھی جس کاکوئی کفویعنی اس کے برابرکوئی بھی رشتہ نہ تھا، ایک دفعہ دونوں ایک مجلس میں جمع ہوئے توان میں سے ایک نے دوسرے سے کہاکہ آپ اپنے بیٹے کی شادی کیوں نہیں کرتے ؟ تواس نے کہاکہ مجھے اس کاکوئی کفونہیں مل رہا، اس نے کہاکہ میری بیٹی اس کاکفوہے ، میں اس کانکاح تیرے بیٹے کے ساتھ کرنے کوتیارہوں ۔ چنانچہ انہوںنے دونوں کی شادی کردی توان کے ہاں وہ بچہ پیداہوا، اس شہر میں آٹھ افراد فسادی تھے جو کسی طرح اصلاح کی طرف نہ آتے ، حضرت سیدناصالح علیہ السلام نے فرمایاکہ جو شخص اس اونٹنی کو مارے گاوہ تم میںپیداہوچکاہے ، توانہوںنے اس بستی میں سے آٹھ دائیاں منتخب کیں اوران کے ہمراہ سپاہی بھی مقررکردیئے ، یہ بستی میں گشت کرتے رہتے تھے اورجس کسی عورت کو دردزہ میں مبتلاء پاتے تونظررکھتے کہ ان کے ہاں لڑکاپیداہواہے یالڑکی ، اگرلڑکاہوتاتواس کو زیرنظررکھتے اوراگرلڑکی ہوتی تواس کو چھوڑدیتے تھے ۔جب ان کووہ مولود مل گیاتوعورتیں چیخ چیخ کربولنے لگیں ، یہی ہے وہ مولود جو حضرت سیدناصالح علیہ السلام کو مطلوب ہے ، سپاہیوںنے اس بچے کو اپنے ساتھ لے جاناچاہاتواس بچے کے دادادادی بیچ میں آگئے اوروہ کہنے لگے کہ اگرصالح علیہ السلام کامطلوب یہی بچہ ہے توہم خود اس کو قتل کردیں گے کیونکہ اس صورت میں یہ بچہ نقصان دہ ہوگا، وہ لڑکاایک دن میں اتنابڑاہوتاجتنادوسرے بچے ایک ہفتے میں بڑے ہوتے تھے اوریہ ایک ہفتہ میںاتنابڑاہوتاجتنادوسرے بچے پورے مہینے میں بڑے ہوتے تھے اوریہ ایک مہینے میں اتنابڑاہوتاتھاجتنادوسرے بچے پورے ایک سال میں بڑے ہوتے تھے تووہ آٹھوں افراد جمع ہوگئے جو فسادی تھے اوراصلاح نہ کرتے تھے اوردونوںبوڑھے جمع ہوگئے اورکہنے لگے کہ ہم اس بچے کو اس کے مقام اوراس کے باپ داداکے مرتبے کی وجہ سے کام پررکھتے ہیں تویہ لوگ نوافراد تھے اورحضرت سیدناصالح علیہ السلام ان کی وجہ سے بستی میں آرام نہیں کرتے تھے بلکہ دورپہاڑ پرمسجد شریف میں جس کانام ’’مسجد صالح علیہ السلام ‘‘ تھا وہاں رات گزاراکرتے تھے ، صبح ہوتی توآپ علیہ السلام ان کے پاس آتے اوران کو وعظ ونصیحت کرتے اورجب شام ہوجاتی توآپ علیہ السلام اسی مسجد شریف میں واپس چلے جاتے اوروہیں پرہی رات گزارتے تھے ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: جب ان لوگوںنے حضرت سیدناصالح علیہ السلام کے خلاف سازش کاارادہ کیاتووہ آٹھ آدمی حضرت سیدناصالح علیہ السلام کی گزرگاہ میں گھات لگاکربیٹھ گئے اورانہوں نے یہ طے کرلیاکہ جب آپ علیہ السلام یہاںسے گزریں گے توہم ان کو قتل کردیں گے اورپھران کے گھروالوں کو بھی قتل کردیںگے ۔ اللہ تعالی نے زمین کو حکم دیاتووہ سمٹ گئی اوریہ سب لوگ جمع ہوئے اوراونٹنی کی جانب چل پڑے ، یہ اونٹنی اس وقت حوض پر تھی ، ان میں سے ایک بدبخت نے کہاکہ اس کے پاس جائواوراس کی کونچیں کاٹ ڈالو!،وہ اس کے پاس آیالیکن اس کو قتل کرنے کی جسارت نہ کرسکااورواپس چلاگیا۔ پھردوسرے کو بھیجالیکن وہ بھی گھبراگیا،وہ جس کو بھی بھیجتاوہ گھبراجاتاحتی کہ وہ بدبخت خودچل پڑاوردورسے گردن اٹھاکراس کو دیکھااوراس کی کونچیں کاٹ ڈالیں ، وہ گرکرتڑپنے لگی ، ان میں سے ایک آدمی حضر ت سیدناصالح علیہ السلام کے پاس آیااوربولا، اونٹنی کے پاس پہنچیں کیونکہ اس کی کونچیں کاٹ دی گئی ہیں۔ آپ علیہ السلام فوراًنکلے اوریہ لوگ آپ علیہ السلام سے ملکرکہنے لگے کہ اے اللہ تعالی کے نبی !اس کو فلاں شخص نے قتل کیاہے ، اس میں ہماراکوئی قصورنہیں ہے ، آپ علیہ السلام نے فرمایاکہ کوشش کرکے اس کے بچے کو حاصل کرلو!اگرتم اس کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے توہوسکتاہے کہ اللہ تعالی کے عذاب سے بچنے کی کوئی صورت نکل آئے ، یہ لوگ اس اونٹنی کے بچے کی تلاش میں نکل پڑے، ادھرجب بچے نے اپنی ماں کو تڑپتے دیکھاتووہ پہاڑ پر دوڑگیا، اس کو غارۃ قیصرکہتے تھے ، یہ لوگ اس کو پکڑنے کے لے پہاڑ پرآئے تواللہ تعالی نے پہاڑ کو حکم دیاتووہ آسمان کی طرف اٹھ گیااورپرندوں کی رسائی سے بھی اونچاہوگیا۔ حضرت سیدناصالح علیہ السلام بستی میں داخل ہوئے ، جب آپ علیہ السلام کو اونٹنی کے بچے نے دیکھاتووہ رونے لگ گیا، حتی کہ اس کے آنسوں بہہ نکلے ، پھروہ حضر ت سیدناصالح علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوااوربلبلایا، پھروہ دوبارہ بلبلایااورپھرتیسری باربلبلایا۔ حضرت سیدناصا لح علیہ السلام نے فرمایاکہ اس کی ہربلبلاہٹ ایک دن کی مہلت ہے ، چنانچہ تم لوگ تین دن تک اپنے گھروں میں فائدہ اٹھالو، یہ وعدہ ہے جوسچاہی سچاہے اورعذاب کی علامت یہ ہے کہ پہلے دن تمہارے منہ زردہوجائیں گے اوردوسرے دن سرخ اورتیسرے دن کالے ہوجائیں گے ۔ جب اگلادن ہواتوواقعی ان کے چہرے ایسے زردہوگئے یوں لگتاتھاکہ گویاان پرزعفران کارنگ چڑھادیاگیاہو، ان کے بڑے چھوٹے اورمردوعورت سب کایہی حال تھا، جب شام ہوئی توسب ایک ہی بارچلانے لگے کہ خبردارکہ مہلت کاایک دن گزرچکاہے اورعنقریب تم پر عذا ب آنے والاہے ، جب اگلادن ہواتوان کے چہرے سرخ ہوچکے تھے گویاکہ خون مل دیاگیاہو، یہ پھرزورزورسے چیخ وپکارکرنے لگے اوریہ سمجھ گئے کہ یہ واقعی عذاب ہی ہے ۔ جب شام ہوئی توسب چلانے لگے خبردار!مہلت کے دودن بیت گئے اورعذاب اب آنے ہی والاہے ، جب تیسرادن آیاتوان کے چہرے سیاہ ہوچکے تھے ،گویاکہ ان کے چہروں پر تارکول مل دیاگیاہو، یہ پھرسب چلائے ، خبردار!تم پرعذاب آرہاہے ۔ انہوںنے خود اپنے کفن پہن لئے اورخود ہی اپنے آپ کو مردوں والی خوشبولگائی ، ان کی مردوں والی خوشبو میںایلوااورکڑواہٹ تھی اوران کے کفن ’’انطاع ‘‘ وہ چمڑے کافرش جس پر مجرم کوقتل کیاجاتاہے کاتھا۔ پھریہ زمین کے اوپرلیٹ گئے کیونکہ ان کو کچھ اندازہ نہ تھاکہ عذاب آسمان کی طرف سے آئے گایازمین کی طرف سے ، اسی لئے گھبراہٹ اورخوف کی وجہ سے وہ کبھی آسمان کی طرف دیکھتے اورکبھی زمین کی طرف دیکھتے ۔ جب چوتھادن آیاتوآسمان سے ایک چیخ کی آواز آئی اس میں ہرکڑک کی آواز موجود تھی اورہراس شئی کی آواز بھی موجود تھی جس کی روئے زمین میں آواز ہوتی ہے ۔ اس کی وجہ سے ان کے سینوںمیں ان کے دل پھٹ گئے تووہ صبح اپنے گھروںمیں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے ۔ (المستدرک علی الصحیحین:أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم (۲:۴۳۹)

دنیاپرست اورولدالزناہی گستاخیاں کرتے ہیں

قال الحدادی کان فی ثمود امرأۃ یقال لہا صدوق کانت جمیلۃ الخلق غنیۃ ذات ابل وبقر وغنم وکانت من أشد الناس عداوۃ لصالح وکانت تحب عقر الناقۃ لاجل انہا أضرت بمواشیہا فطلبت ابن عم لہا یقال لہ مصدع بن دہر وجعلت لہ نفسہا ان عقر الناقۃ فاجابہا الی ذلک ثم طلبت قدار بن سالف وکان رجلا احمر ازرق قصیرا یزعمون انہ ولد زنی ولکنہ ولد علی فراش سالف فقالت یا قدار أزوجک أی بناتی شئت علی ان تعقر الناقۃ وکان منیعا فی قومہ فاجابہا ایضا فانطلق قدار ومصدع فاستعووا عواۃ ثمود فاتاہم تسعۃ رہط فاجتمعوا علی عقر الناقۃ ۔ ترجمہ :الامام الحدادی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ قوم ثمود میں ایک عورت صدوق نامی بڑی حسینہ وجمیلہ تھی اورمالداربھی ، اونٹ گائے ، بکریاں بھی اس کے پاس بہت زیادہ تھیں ، اسے حضرت سیدناصالح علیہ السلام سے بھی سخت دشمنی تھی ، وہ چاہتی تھی کہ کسی طرح ناقہ کو قتل کردیاجائے ، اس لئے اس نے اپنے چچازادکوبلایا، جس کانام مصدع بن دہرتھا، اسے کہاکہ اگراس اونٹنی کوقتل کردوتومیں تیرے ساتھ نکاح کرلوں گی ، اس نے کہاکہ میں قتل کردوں گا، اس کے بعد اس عورت نے قداربن سالف کوبلایا، وہ سرخ رنگ کاتھااس کاقدپست تھا، مشہورتھاکہ وہ ولدالزناہے اگرچہ وہ سالف سے نکاح کے بعد پیداہوا، اس عورت نے قدارکوکہاکہ اگرتم اونٹنی کوقتل کردو!تومیری لڑکیوں میں سے جس کے ساتھ تم چاہوگے نکاح کردوںگی ، وہ بھی قوم ثمود میں بہادرشخص تھا، اس نے بھی یہ کا م کرنے کاوعدہ کرلیا، دونوں چل پڑے ، قوم ثمودمیں سے نوآدمی اپنے ساتھ ملالئے اوراونٹنی کوقتل کرنے کے لئے روانہ ہوئے۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی ,المولی أبو الفداء (۳:۱۹۲) اس سے معلوم ہواکہ وہ شخص جوشہوت پرست ہواوردنیاکاطالب ہووہ انبیاء کرام علیہم السلام کاگستاخ بنتاہے یاپھروہ شخص جوحرامی ہواورجس کے باپ کاعلم نہ ہووہ اس طرح کاکام کرتاہے ۔ انبیاء کرام علیہم السلام سے معجزات طلب کرنے کے بعد انکارکرنے والوں کاحال عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ الْحِجْرَ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ، وَقَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ، لَا تَسْأَلُوا نَبِیَّکُمْ عَنِ الآیَاتِ ہَؤُلَاء ِ قَوْمُ صَالِحٍ، سَأَلُوا نَبِیَّہُمْ أَنْ یَبْعَثَ لَہُمْ نَاقَۃً فَفَعَلَ، فَکَانَتْ تُرْوَی مِنْ ہَذَا الْفَجِّ، فَتَشْرَبُ مَاء َہُمْ یَوْمَ وِرْدِہَا، وَیَحْلِبُونَ مِنْ لَبَنِہَا مِثْلَ الَّذِی کَانُوا یُصِیبُونَ مِنْ یَوْمِ غِبِّہَا، ثُمَّ تَصْدُرُ مِنْ ہَذَا الْفَجِّ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّہِمْ فَعَقَرُوہَا، فَأَجَّلَہُمْ اللَّہُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، وَکَانَ وَعْدُ اللَّہِ غَیْرَ مَکْذُوبٍ، ثُمَّ جَاء َتْہُمْ الصَّیْحَۃُ، فَأَہْلَکَ اللَّہُ مَنْ کَانَ مِنْہُمْ بَیْنَ السَّمَاء ِ وَالْأَرْضِ إِلَّا رَجُلًا کَانَ فِی حَرَمِ اللَّہِ، فَمَنَعَہُ حَرَمُ اللَّہِ مِنْ عَذَابِ اللَّہِ قِیلَ:یَا رَسُولَ اللَّہِ مَنْ ہُوَ؟قَالَ: أَبُو رِغَالٍ۔ ترجمہ:حضرت سیدناجابربن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺ تبوک کی طرف جاتے ہوئے مقام حجرپررکے توآپ ﷺنے کھڑے ہوکرلوگوںکو خطبہ ارشادفرمایا: اے لوگو!تم اپنے نبی (ﷺ) سے علامات اورمعجزات کامطالبہ نہ کرو!کیونکہ حضرت سیدناصالح علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام سے یہ مطالبہ کیاتھاکہ اللہ تعالی ان کی طرف کوئی نشانی بھیج دے ، چنانچہ اللہ تعالی نے ان کی طرف اونٹنی کو بھیج دیا، وہ اس درے سے آئی تھی اوراپنی باری کے دن ان کاساراپانی پی جاتی تھی ، اورجس دن ان کی باری نہیں ہوتی تھی وہ اس کادودھ دوہتے تھے جیسے کہ وہ اس سے پانی لے رہے ہیں اوراسی طرح درے سے واپس چلی جاتی تھی ، پھرانہوںنے اپنے رب تعالی کے امرسے سرکشی اختیارکرلی اوراس کی کونچیں کاٹ دیں تواللہ تعالی نے تین دن کے بعد ان پرعذاب لانے کاوعدہ فرمایا، اوریہ وعدہ اللہ تعالی کی جانب سے تھاجسے جھٹلایانہیں جاسکتا،پھران کے اوپرایک کرخت قسم کی چیخ آئی ، تواللہ تعالی نے جوان کے لوگ زمین کے مشارق ومغارب میں تھے سب کو ہلاک کردیامگرایک آدمی اللہ تعالی کے حرم میں تھا، اوراللہ تعالی کے حرم نے اس کو اللہ تعالی کے عذاب سے بچالیاتوعرض کی گئی : یارسول اللہ ﷺ!وہ کون تھا؟ توآپ ﷺنے فرمایا: ابورغال ۔ توجب وہ بھی حرم سے باہرنکلاتواس پر بھی وہ عذاب پہنچاجواس کی قوم پرآیاتھا۔ (المعجم الأوسط:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۹:۳۷)

اونٹنی کے بچہ کی دعاپرعذاب نازل ہوا

عَنْ قَتَادَۃَ، أَنَّ ثَمُودَ، لَمَّا عَقَرُوا النَّاقَۃَ تَغَامَزُوا وَقَالُوا:عَلَیْکُمُ الْفَصِیلُ، فَصَعِدَ الْفَصِیلُ الْقَارَۃَ جَبَلًا حَتَّی إِذَا کَانَ یَوْمًا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ، وَقَالَ:یَا رَبِّ أُمِّی، یَا رَبِّ أُمِّی یَا رَبِّ أُمِّی، فَأُرْسِلَتْ عَلَیْہِمُ الصَّیْحَۃُ عِنْدَ ذَلِکَ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ثمود نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں توآنکھوں سے ایک دوسرے کو اشارے کرنے لگے اورکہنے لگے کہ تم پر لازم ہے کہ اس کے بچے کو پکڑلو!لیکن اونٹنی کابچہ توقارہ پہاڑ پر چڑھ گیا، یہاں تک کہ جب دن ہواتواس نے اپنامنہ قبلہ کی جانب کیااورکہا: یارب !میری ماں ، یارب !میری ماں ، یارب !میری ماں۔ تواس وقت ان پر کرخت چیخ بھیج دی گئی ۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس بن المنذر (۵:۱۵۱۴)

اونٹنی کوقتل کرنے والاتوایک شخص تھامگرقتل کی نسبت سب کی طرف کی گئی ؟

أسند العقر الی الکل مع ان المباشر بعضہم للملابسۃ أو لأن ذلک کان برضاہم فکأنہ فعلہ کلہم۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہاں ایک سوال پیداہوتاہے کہ اس اونٹنی کی کونچیں توایک شخص نے کاٹی تھیں مگرفعل کی نسبت بھی سب کی طرف کی گئی اوراورعذاب بھی سب پرآیا، اس کی کیاوجہ ہے ؟ توآپ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس کے دوجواب ہیں کہ ایک تویہ بوجہ ملابست کے اوردوسرایہ کہ وہ اس قتل سے راضی تھے ، اس لئے کہ جوشخص کسی کے غلط فعل سے راضی ہووہ بھی اس حکم میں شامل ہوتاہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی ,المولی أبو الفداء (۳:۱۹۲) اس سے معلوم ہواکہ اگرچہ گستاخی کرنے والاایک ہومگرجو بھی لوگ اس کے حق میں ہوں وہ بھی گستاخ ہی شمارہوں گے جس طرح پاکستان میں آسیہ ملعونہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخہ تھی ، اسکو مختلف کورٹوںنے سزادی ، مگرامریکی دبائواورپاکستانی حکمرانوں کے خفیہ کفرکی وجہ سے پاکستانی ججوںنے اس کو آزادکردیاتوسارے کے سارے لوگ اس کو بے گناہ قراردینے لگے یاگستاخ تومانتے تھے مگراس گستاخی پر وہ مائنڈ نہیں کرتے تھے اس لئے جتنے بھی لوگ اس گستاخ عورت کو آزاد کروانے میں اس کے حق میں بیانات دیتے رہے وہ سب کے سب اس جرم میں برابرکے شریک ہیں۔

حضرت سیدناصالح علیہ السلام کے نوگستاخوں کاانجام

عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ:قَالَ التِّسْعَۃُ الَّذِینَ عَقَرُوا النَّاقَۃَ:ہَلُمَّ فَلْنَقْتُلْ صَالِحًا، فَإِنْ کَانَ صَادِقًا، یَعْنِی فِیمَا وَعَدَہُمْ مِنَ الْعَذَابِ بَعْدَ الثَّلَاثِ، عَجَّلْنَاہُ قَبْلَہُ، وَإِنْ کَانَ کَاذِبًا نَکُونُ قَدْ أَلْحَقْنَاہُ بِنَاقَتِہِ فَأَتَوْہُ لَیْلًا لِیُبَیِّتُوہُ فِی أَہْلِہِ، فَدَمَغَتْہُمُ الْمَلَائِکَۃُ بِالْحِجَارَۃِ؛ فَلَمَّا أَبْطَئُوا عَلَی أَصْحَابِہِمْ أَتَوْا مَنْزِلَ صَالِحٍ، فَوَجَدُوہُمْ مَشْدُوخِینَ قَدْ رُضِخُوا بِالْحِجَارَۃِ ۔ ترجمہ :امام ابن اسحاق رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ان نو گستاخوں نے آپس میں مشورہ کیاکہ حضرت سیدناصالح علیہ السلام کوبھی قتل کردیناچاہئے ، انکے گھرچلیں اگروہ سچے نبی ہیں توہمیں ان کے قتل کرنے پرکوئی قدرت نہیں ہوگی ورنہ انہیں اونٹنی کے ساتھ ہی قتل کردیں گے ۔یہ طے کرکے حضرت سیدناصالح علیہ السلام پررات کو حملہ کرنے کااردہ کیا، آپ علیہ السلام کے گھرمیں پہنچے توفرشتوں نے انہیں پتھرمارمارکرہلاک کردیا۔ملخصاً۔ (تفسیر الطبری :محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۱۸:۹۲)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh