الجامعۃالاشرفیہ کا چھبیسواں فقہی سیمینارسوالات مع جوابات
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
الجامعۃالاشرفیہ کا چھبیسواں فقہی سیمینار سوالات مع جوابات
چھبیسویں فقہی سیمینار میں پانچ موضو عات زیرِ غور تھے، چار موضوعات کے فیصلے باتفاقِ راے ہو گئے جو اس شمار ےمیں شا ئع ہور ہےہیں ۔پانچو یں موضو ع’’آفا قی کے لیےعمر ہ کے بعد حج قرا ن کاحکم‘‘ کا فیصلہ مع تفصیلا ت کسی قر یبی شمار ے میں ا ن شا ءا للہ تعا لیٰ شائع ہوگا ۔
زائد العرض بلاد میں نماز عشاکا حکم
پہلی نشست:
۱۲؍صفرالمظفر۱۴۴۱ھ/مطابق۱۲؍اکتوبر ۲۰۱۹ء ۔ شنبہ ۔صبح
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حَامِدًا و مُصَلِّـيًا و مُسَلِّمًـا
عرض البلد ساڑھے اڑتالیس درجے سے آگے دنیا میں ایسے ممالک بھی ہیں جہاں سال کے کچھ دنوں میں عشا کا وقت نہیں ہوتا۔ مزید آگے ایسے بھی مقامات ہیں جہاں مغرب و عشا اور فجر کا وقت بھی نہیں ہوتا۔
عرض البلد شمالی پچاس درجے سے انسٹھ درجے تک کے مقامات میں مسلمان بکثرت آباد ہیں۔ ان بلاد میں بعض ایام میں عشا کا وقت نہیں آتا، چند ایام ایسے ہیں جن میں وقت آتا ہے مگر بہت دیر میں آتا ہے۔ ایسے ہی مقامات سے متعلق عشا کا مسئلہ زیر بحث آیا اور مفتیان کرام سے سوالات کیے گئے، ان کے جوابات موصول ہوئے، پھر سیمینار میں بحثیں ہوئیں اور سوالات حل اور فیصلے کی منزل سے ہم کنار ہوئے۔
واضح رہے کہ ایسے مقامات کے موسم گرما میں چالیس دن یا تقریباً دو ماہ تک رات عمومًا چھ، سات گھنٹے کم و بیش ہوتی ہے۔ دس بجے کے قریب سورج غروب ہوتا ہے اور ساڑھے چار بجے کے قریب طلوع ہوتا ہے۔ مذہب امام اعظم پر اگر وقت عشا ہوتا ہے تو بارہ بجے کے قریب اور مذہب صاحبین پر سوا گیارہ بجے یا اس کے بعد۔ یہ ایک اجمالی حال بتایا گیا ہے، اس میں ایام اور مقامات کے لحاظ سے کمی بیشی ہوتی ہے، ہر جگہ کا نقشۂ اوقاتِ نماز دیکھنے سے پوری تفصیل معلوم ہو سکتی ہے۔
سوالات اجمالاً ہیں اور جوابات میں بھی ایام اور مقامات کی تعیین نہیں کی گئی ہے، ہر عرض البلد اور اس کے احوال کو دیکھتے ہوئے جوابات کو ان پر منطبق کر سکتے ہیں۔
یہ بھی معلوم رہنا چاہیے کہ عشا کے بارے میں امام اعظم کا راجح، اَحوط ، اور اقویٰ مذہب یہ ہے کہ مغرب کی سمت میں جب شفقِ ابیض (سرخی کے بعد کی سفیدی) غائب ہو جائے تو عشا کا وقت شروع ہوتا ہے۔
صاحبین اور امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا مذہب یہ ہے کہ جب شفق احمر (غروب کے بعد کی سرخی) غائب ہو جائے تو عشا کا وقت شروع ہو جاتا ہے، یہ امام اعظم سے بھی ایک روایت ہے اور بہت سے فقہا نے اس پر بھی فتویٰ دیا ہے اور اسےأوسع بتایا ہے۔
فقہ اورہیأت کے ماہرین نے یہ بتایا ہے کہ سورج جب افقِ غربی سے اٹھارہ درجے نیچے چلا جائے تو شفقِ ابیض غائب ہو جاتی ہے اور مذہب امام اعظم پر عشا کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور جب سورج اُفقِ شرقی سے اٹھارہ درجے نیچے آ جائے تو صبح صادق طلوع ہو جاتی ہے اور فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ وقتِ فجر میں صاحبین یا دیگر ائمہ کا کوئی اختلاف نہیں۔
بعض ماہرین نے یہ بھی بتایا ہے کہ سورج جب افقِ غربی سے بارہ درجے نیچے چلا جائے تو شفق احمر غائب ہو جاتی ہے اور صاحبین و ائمۂ ثلاثہ کے مذہب پر عشا کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔
اب بحث و مذاکرہ میں آنے والے سوالات اور فیصلے ملاحظہ ہوں ۔
سوال (۱):جہاں بعض ایام میں مذہب حنفی پر عشا کا وقت آتا ہے مگر بہت تاخیر سے آتا ہے، اس وقت تک لوگوں کا جاگنا حرج و مشقت کا سبب ہوتا ہے، وہاں کے لوگوں کے لیے نماز عشا کے بارے میں حکم شرعی کیا ہے؟ جواب (۱):ایسے ایام میں جو لوگ مشقت برداشت کرکے مذہب حنفی پر عمل کرتے ہیں ان سے تعرض نہ کیا جائے اس لیے کہ وہ اصل مذہب اور عزیمت پر کاربند ہیں۔ جو لوگ یہ مشقت اٹھانا نہیں چاہتے وہ مذہبِ صاحبین پر عمل کرکے فرضِ عشا سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں، یہ مذہب بھی قوی اور مفتیٰ بہ ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم سوال (۲):جن ایام اور مقامات میں مذہبِ امام اعظم پر وقتِ عشا نہیں آتا لیکن مذہب صاحبین پر عشا کا وقت ہوتا ہے مگر یہ بھی دیر میں ہوتا ہے، وہاں کے لیے کیا حکم ہے؟ جواب (۲):(الف)ان کے لیے مناسب ہے کہ مذہب صاحبین پر عمل کریں کیوں کہ ائمۂ ثلاثہ: امام مالک، امام شافعی، امام احمد -رحمہم اللہ-کا مذہب مختار بھی وہی ہے جو صاحبین کا ہے۔ یہ مذہب بھی قوی ہے جس پر بہت سے مشایخ حنفیہ نے فتویٰ دیا ہے۔ اس سے عدول نہ صرف مذہب صاحبین بلکہ بقیہ تین ائمہ کے مذہب مختار سے بھی عدول ہے۔ (ب)ہالینڈ(نیدرلینڈ) سے آنے والے دو مندوبین سے یہ معلوم ہوا کہ جن ایام میں مذہب امام اعظم پر وقت عشا نہیں آتا اور مذہب صاحبین پر بہت دیر میں آتا ہے اُس وقت کچھ لوگوں کا معمول یہ ہے کہ مغرب سے تقریباً ایک گھنٹہ بیس منٹ بعد نماز پڑھ لیتے ہیں۔ سوال ہوا کہ ایسا کس مذہب کے تحت کرتے ہیں؟ تو بتایا گیا ہم حنفی ہیں اور مذہب امام ابو حنیفہ پر ان ایام میں عشا کا وقت نہیں آتا، اور جن ایام و مقامات میں وقت عشا نہیں ہوتا وہاں کے لیے مشایخ حنفیہ کا ایک قولِ مصحّح یہ بھی ہے کہ فقدانِ سبب کی بنا پر وہاں فرضیتِ عشا کا حکم نہیں۔ اس قول کے تحت وہاں فرضیتِ عشا تو ہے نہیں اور عوام کا عمل درآمد بنام عشا کسی وقت نماز پڑھنے کا ہے تو انھیں اس سے روکا نہ جائے گا اور فتنہ و انتشار بپا ہونے سے دوری اختیار کی جائے گی۔ امید ہے کہ اس دینی مصلحت اور تاویل کے باعث مذکورہ عمل در آمد والوں سے مواخذہ نہ ہوگا۔ ان بلاد کے علما کو چاہیے کہ یکجا ہو کر کسی ایک جائز و مناسب صورت پر اتفاق کر لیں پھر سربرآوردہ عوامی نمائندوں سے مشاورت کریں اور طے شدہ صورت کی تنفیذ کریں تاکہ افتراق و انتشار نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم سوال (۳):جن ایام و مقامات میں مذہب صاحبین پر بھی عشا کا وقت نہیں ہوتا، مغرب کا قلیل وقت ملتا ہے پھر صبح صادق طلوع ہو جاتی ہے۔ وہاں کے لیے کیا حکم ہے؟ جواب (۳):ایسے ایام و مقامات میں لوگ مغرب اور فجر کی نمازیں ادا کریں اور عشا و وتر کی قضا کریں۔ لیکن کچھ لوگ اگر کسی طرح وقتِ مغرب ہی میں عشا و وتر بھی پڑھ لیتے ہیں تو انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے، فتنہ و انتشار نہ ہونے دیا جائے۔ لأنّ هنا قولاً آخر مصحَّحًا لمشايخنا، وهو عدم وجوب العشاء في تلك الأيّام، فعلى ذلك القول لا يجب عليهم الأداء و لا القضاء، و ما صلَّوْا يكون صلاة و عبادة غير واجبة عليهم، ولا ينبغي منعُهم عنها.(۱)واللہ تعالیٰ اعلم سوال (۴):جہاں مغرب، عشااور فجر کا وقت داخل نہیں ہوتا وہاں کے مسلمانوں کے لیے ان نمازوں کے بارے میں کیا حکم شرعی ہے؟ جواب (۴):عرض البلدچھیاسٹھ درجہ چونتیس دقیقہ یا اس سے زائد ہو تو وہاں بعض ایام میں ایسا ہوگا۔ بعض حضرات نے اس کا جواب تفصیل سے لکھا ہے۔ مختصر جواب یہ ہے کہ جن نمازوںکا وقت میسّر نہ ہو ان کی قضا لازم ہے اس لیے کہ نماز کا موجبِ اصلی اور سببِ حقیقی حکمِ الٰہی ہے اور وہ یہاں موجود ہے۔ کسی بھی نص سے کسی مقام کا استثنا ثابت نہیں۔واللہ تعالیٰ اعلم سوال (۵):علم ہیأت کی کئی کتابوں میں لکھا ہے کہ پندرہ ڈگری پر شفق ابیض غائب ہوتی ہے اس بارے میں آپ کی کیا راے ہے؟ جواب (۵):یہ تجربات و مشاہدات کی روشنی میں بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدّس سرّہ نے اس کا ردبہت تفصیل سے کیا ہے۔(۲)واللہ تعالیٰ اعلم سوال (۶):اڑتالیس درجہ، تیس دقیقہ یا زائد عرض البلد میں شفقِ ابیض اور صبح کاذب کا اتصال ہوتا ہے، اس بارے میں آپ کی کیا راے ہے؟ جواب (۶):ان مقامات پر شفقِ ابیض اور صبح کاذب کے اتصال کا قول درست نہیں۔ وہاں شفقِ ابیض اور صبح صادق کا اتصال ہوتا ہے۔ اسی لیے ان مقامات کے مخصوص ایام میں عشا کا وقت نہیں آتا ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم سوال (۷):آپ کے نزدیک طلوعِ صبح ِ صادق اور غروبِ شفقِ ابیض و شفقِ احمر کے وقت سورج کتنے درجہ زیرِ افق ہوتا ہے؟ جواب (۷):جانبِ مغرب میں جب آفتاب بارہ درجہ زیرِ افق چلا جاتا ہے تو شفقِ احمر غائب ہو جاتی ہے۔ اور جب آفتاب اٹھارہ درجہ زیر افق جاتا ہے تو شفق ابیض غائب ہو جاتی ہے۔ یوں ہی جانب مشرق میں جب آفتاب اٹھارہ درجہ تحتِ افق رہتا ہے تو صبح صادق نمودار ہو جاتی ہے۔(۳)واللہ تعالیٰ اعلم ٭٭٭
زائد العرض بلاد میں صوم اور سحری کا حکم
دوسری نشست ۱۲؍صفرالمظفر ۱۴۴۱ھ/مطابق ۱۲؍ اکتوبر ۲۰۱۹ء ــشنبہ ، بعد مغرب سوال(۱) : زائدالعرض بلاد میں صوم کا آغاز کس وقت سے ہوتا ہے؟ جواب (۱) :زائد العرض بلاد ہوں یا غیر زائد العرض ، سب کے لیے شریعت نے آغازِ صوم کا صرف ایک وقت مقرر کیا ہے، اور وہ ہے ’’ تبيُّنِ فجر ‘‘۔ (صبح صادق کا ظہور) صبح صادق طلوع ہونے کے ساتھ ہی روزے کا آغاز ہو جاتا ہے اور اسی سے وقت فجر بھی شروع ہو جاتا ہے، یہی قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور یہی صحابہ ، تابعین ، تبع تابعین اور ائمۂ اربعہ کا مذہب ہے۔ ●ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَکُلُوۡاوَاشْرَبُوۡاحَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیۡطُ الۡاَبْیَضُ مِنَ الْخَیۡطِ الۡاَسْوَدِمِنَ الْفَجْرِ.(۴) ●المجموع شرح المہذب میں ہے: الذي ذكرناہ من الدخول فی الصوم بطلوع الفجروتحريم الطعام والشراب والـجمـاع بہ ،ھومذہبنا ومذہب أبي حنيفۃومالك وأحمدو جماہير العلماء من الصحابۃوالتابعين فمَن بعدھم.(۵) ●المغنی للعلامۃابن قدامہ ميں ہے:إن السَحُور لا يكون إلا قبلَ الفجر وہٰذاإجماع.اھ۔(۶) واللہ تعالیٰ اعلم سوال (۲) :جب مغرب کی جانب شفقِ ابیض اور کبھی شفق احمر بھی غائب نہیں ہوتی اور مشرق کی سمت اجالا پھیل جاتا ہے، ایسے اوقات میں طلوع فجر کا آغاز کب سے ہوگا؟ جواب(۲):غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک کا جو درمیانی وقت ہے اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ نصفِ اول میں کھانے پینے اور نماز مغرب وغیرہ ادا کرنے کی اجازت ہوگی اور نصفِ دوم سے صوم اور وقت فجر کا آغاز ہوگا۔ ●امام قطب الدين شيرازی شافعی فرماتے ہیں: وحیث العرض ثمانیۃٌوأربعون ونصفٌ إذاکانت الشمس في المنقلب الذي في جہۃالعرض يتصل الشفقُ بالصبح؛ لان قوس انحطاطہامن دائرۃ نصف النہار حینئذ یکون ثمانیۃعشر َجزءً ، والآن الذي ھو آخِر غروب الشفَق يكون أولَ طلوع الصبح … و ھذا الصبح و الشفق متصل لاحدھمابالآخر؛لانہ من حساب الصبح مادام في الطرف الشرقي ومن حساب الشفق مادام فی الغربي . (۷) ●امام عبد العلی برجندی حنفی رقم طراز ہیں: ثم إذا جاوزہٰذاالعرض ثمانيۃ وأربعين ونصفايتداخل الصبح والشفق كما ھوالمذكورفي الكتاب ، لكن الظاہر أن الشمس إذاکانت فی النصف الغربی کان من حساب الشفق وإذاكانت في النصف الشرقي كان من حساب الصبح . (۸) واللہ تعالیٰ اعلم سوال(۳) : جو حضرات سُبع اللیل، تقدیر بأقرب البلاد، یا بأقرب الایام، یا بارہ درجہ آفتاب زیر افق آنے تک،یا طلوع آفتاب سے ایک گھنٹہ بیس منٹ یا چالیس منٹ قبل تک ان بلاد میں سحری کرتے ہیں جہاں کھانے پینے کے لیے رات کا کافی وقت میسّر ہے ان کے روزے کا کیا حکم ہوگا؟ جواب(۳):ان بلاد میں جس وقت آغازِ فجر کا حکم ہو جاتا ہے (جس کی تفصیل بیان ہو چکی) اس وقت یا اس کے بعد کھانے پینے سے روزہ فاسد ہوگا جس کی قضا فرض ہوگی۔ آغازِ فجر سے پہلے پہلےکھانے پینے سے فارغ ہو جائیں جبھی روزہ صحیح ہو سکتا ہے۔ ظنی، تخمینی تقدیرات ایسی جگہ باطل محض ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم سوال (۴):جن ایام و مقامات میں سورج ڈوبتے ہی فجرطلوع کر آئے یا سورج زیر افق جائے ہی نہیں، وہاں کے لیے صیامِ رمضان کا کیا حکم دیتے ہیں؟ جواب (۴) :ایسے ایام و مقامات میں نہ تو سقوطِ صوم کا حکم ہو سکتا ہے اس لیے کہ فرضیتِ صوم کا سببِ ظاہر ماہ رمضان کے جز کا وجود ثابت ہے اور نہ ہی صومِ وصال فرض کرکے سامان ہلاکت فراہم کرنے کا حکم ہو سکتا ہے۔ نہ ہی تخمین و تقدیر کا۔ بلکہ روزہ فرض ہوگا اور ادائیگی پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے دیگر ایام میں قضا لازم ہوگی۔ قرآن کریم میں ہے: ’’فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ‘‘. ●رد المحتا میں ہے: لَمْ أَرَمَنْ تَعَرَّضَ عِنْدَنَالِحُكْمِ صَوْمِہمْ فِيمَا إذَا كَانَ يَطْلُعُ الْفَجْرُعندہم کماتغیب الشَّمْسُ أَوْبَعْدَہ بِزَمَانٍ لَايَقْدِرُ فِيہالصَّائِمُ عَلَی أَكْلِ مَايُقِيمُ بِنْيَتَہ ، وَلَايُمْكِنُ أَنْ يُقَالَ بِوُجُوبِ مُوَالَاۃالصَّوْمِ عَلَيہِمْ؛لِأَنَّہ يُؤَدِّي إلَی الْہلَاكِ.فان قلنابوجوب الصوم یلزم القول التقدیر،وھل یقدرلیلھم باقرب البلاد الیھم کماقالہ الشَّافِعِيَّۃ ہنَا أَيْضًا، أَمْ يُقَدَّرُلَہمْ بِمَايَسَعُ الْأَكْلَ وَالشُّرْبَ،أَمْ يَجِبُ عَلَيْہم الْقَضَاءُفَقَطْ دُونَ الْأَدَاءِ؟كُلٌّ مُحْتَمَلٌ،فَلْيُتَأَمَّلْ.ولایمکن القول ھنابعدم الوجوب کالعشاء ِعِنْدَالْقَائِلِ بِہ فِيہا؛لِأَنّ َعِلَّۃعَدَمِ الْوُجُوبِ فِيہا عِنْدَ الْقَائِلِ بِہ عَدَمُ السَّبَبِ، وَفِي الصَّوْمِ قَدْ وُجِدَ السَّبَبُ وَھوَ شُہودُجُزْءٍمِنْ الشَّہرِوَطُلُوعُ فَجْرِكُلّ ِيَوْمٍ، ہذَا مَا ظَہرَ لِي ، وَاللہ تَعَالیٰ أَعْلَمُ.(۹) ●امام احمد رضا قدس سرہ نے فرمایاکہ قضاکا حکم دیا جانا ہی فقہ کے مناسب ہے ۔ وہ رقم طرا زہیں: أقول: القضاء ھوالفقہ إذ إباحۃ الأکل للصائم بعد طلوع الفجر قصداً غیرمعہود فی الشرع ثم فیہ جمع شیء مع المنافي۔(۱۰) (میں کہتا ہوں : ایسے ایام میں روزوں کی قضا کا حکم ہی شایانِ فقہ ہے، اس لیے کہ طلوع فجر کے بعد روزہ رکھنے کے ساتھ قصداً کھانے پینے کا جواز شریعت میں کہیں بھی معہود نہیں۔ دوسرے یہ کہ روزہ اور کھانا پینا دونوں کو یکجا کرنے کا حکم دینا ایک شَے کو اس کے منافی کے ساتھ جمع کرنا ہے۔ (جو بداہۃً و عقلاً باطل ہے)۔واللہ تعالیٰ اعلم ٭٭٭
حج کے مسائل (۱) حالتِ احرام میں فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے ماسک پہننے کا حکم
تیسری نشست : ۱۳؍صفر ۱۴۴۱ھ/مطابق ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۱۹ء۔یک شنبہ ۔صبح سوال (۱) : دھول ، دھواں اور مضر فضائی آلودگیوں سے بچنے کے لیے کیا حالتِ احرام میں ایک محرم کو چہرے پر ماسک لگانے کی شرعًا اجازت ہے؟ خصوصًا جب کہ وہ الرجی کا مریض ہو؟ جواب(۱): صحت مند ، غیر معذور محرم کے لیے اس کی اجازت نہیں، معذور (الرجی وغیرہ کے مریض) کے لیے اس کی اجازت ہے یعنی وہ ماسک پہننے سے گنہگار نہ ہوگا، لیکن کفارہ بہر حال لازم ہوگا۔ معذور کے لیے کفارے کی تفصیل یہ ہے: ماسک جو کم از کم ایک چوتھائی چہرے کو چھپا لیتا ہے اگر معذور نے اسے ایک دن یا ایک رات یعنی چار پہر یا زائد تک پہناتو وہ دم دے یا دم کے بدلے چھ مسکینوں کو تین صاع گیہوں یا اس کی قیمت دے، ہر مسکین کو نصف صاع ، یا تین روزے رکھ لے۔ دم کے لیے حرم متعین ہے، صدقہ اور روزہ حرم، غیر حرم کہیں بھی ہو سکتا ہے۔ پورے اوقاتِ احرام میں ایک عذر کی وجہ سے بار بار پہننے کی صورت میں ایک ہی کفارہ ہوگا۔ لیکن اگر اتارنے کے وقت یہ عزم ہو کہ پھر نہ پہنے گا مگر پہن لیا تو جتنی بار ایسا کرے گا اتنے کفارے لازم ہوں گے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے : في کل موضع إذا فعل مختارا یلزمہ الدم کاللبس والحلق والتطیب والقلم، إذا فعل ذلک بعلۃأوضرورۃ فعليہ أيُّ الکفارات شاء کذافي شرح الطحاوي، وذلک إماالنُّسُک أوالصدقۃأوالصوم، فإن اختارالنُّسُک ذبح في الحرم کذافي المحیط، و إن ذبح في غیرالحرم لایجوز عن الذبح إلّا إذا تصدّق بلحمہ علی ستّۃ مساکین علی کل واحد منھم قیمۃ نصف صاع من الحنطۃ کذافي شرح الطحاوي، وإن اختار الصوم صام ثلاثۃأیام فيأي مکان شاء کذافي الـمحیط إن شاء تابع وإن شاء فرّق کذافي شرح الطحاوي وإن اختار الصدقۃ تصدق بثلاثۃأصوع حنطۃ علی ستّۃ مساکین لکل مسکین نصف صاع، والأفضل أن یتصدّق علی فقراء مکۃ ولو تصدّق علی غیر فقراء مکۃ جاز. کذافي الـمحیط۔اہـ ۔(۱۱)واللہ تعالیٰ اعلم
(۲) حالتِ احرام میں خوشبودار اشیا کے استعمال کا حکم
چوتھی نشست : ۱۳؍صفرالمظفر ۱۴۴۱ھ/مطابق ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۱۹ء ــ یک شنبہ ــ بعد مغرب سوال (۱) : کیا محرم کے لیے شرعًا اس بات کی اجازت ہے کہ وہ نظافت و طہارت کے لیے خوشبو دار صابن ، شیمپو، پاؤڈراستعمال کرے ؟ جواب(۱):محرم کے لیے مذکورہ خوشبو دار چیزوں کا استعمال ناجائز ہے۔ ان چیزوں کو اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ ان کے اجزا کو پہلے پکایا جاتا ہے اس کے بعد جب ان کی حرارت کم ہو کر ۴۰؍ڈگری تک آ جاتی ہے تب ان میں خوشبو ڈالی جاتی ہے اور اس طرح کرنے سے خوشبو کومستہلک قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ چیزیں اُن اشیا کے حکم میں ہوں گی جن کے کثیر اجزا میں قلیل خوشبو ملا دی جائے۔ بحالت احرام ایسی چیزوں کے استعمال پر صدقہ ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم سوال (۲) : خوشبودار ٹوتھ پیسٹ کا کیا حکم ہے؟ جواب (۲): خوشبو دار چیزوں کو بدن پر لگانے اور منہ سے گزارنے کے درمیان فرق ہے۔ مثال کے طور پر : ظاہر بدن پر استعمال ہونے والی خوشبو دار چیزوں میں خوشبو خواہ غالب ہو یا مغلوب ہر صورت میں کفارہ واجب ہے۔ اگر خوشبو غالب ہے تو دم، ورنہ صدقہ۔ اس کے برخلاف کھانے اور پینے کی چیزوں میں خوشبو کے غلبہ کا اعتبار ہے۔ اگر خوشبو غالب ہے تو کفارہ، اور مغلوب ہے تو کوئی کفارہ نہیں لہٰذا ٹوتھ پیسٹ اور دوسرے خوشبودار منجن کا وہی حکم ہوگا جوپان کے ساتھ خوشبودار تمباکو استعمال کرنے کا ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ولو ادّهن بدهن فإن كان الدهن مطيبا كدهن البنفسج وسائر الأدهان التي فيها الطيب فعليه دم إذا بلغ عضوا كاملا ، وإن كان غير مطيب بأن ادّهن بزيت وشيرج فعليه دم في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى كذا في البدائع.(۱۲) اسی میں ہے: ولو غسل المحرم بأشنان فيه طيب فإن كان من رآه سماه أشنانا كان عليه الصدقة ، وإن كان سماه طيبا كان عليه الدم ، كذا في فتاوى قاضي خان في فصل ما يجب بلبس المخيط.(۱۳) بدائع الصنائع میں ہے: قالوا : في الملح یجعل فیہ الزعفران، إن کان الزعفران غالبا فعلیہ الکفارۃ، لأنّ الملح یصیر تبعالہ فلا یخرجہ عن حکم الطیب، وإن کان الملحغالبا فلا کفارۃ علیہ لأنہ لیس فیہ معنی الطیب۔اھ(۱۴) فتاویٰ رضویہ میں ہے : تمباکو کے قوام میں خوشبو ڈال کر پکائی گئی جب تو اس کا کھانا مطلقاً جائز ہے۔ اگرچہ خوشبو دیتی ہو، ہاں خوشبو ہی کے قصدسے اختیار کرنا کراہت سے خالی نہیں اور نظر جانب خوشبو نہ ہو بلکہ حسب عادت دیگر منافعِ تمباکو کی طرف ہو تو کچھ حرج نہیں اور اگربے پکائے خوشبو وغیرہ اس میں شامل ہو اور خوشبو دے رہا ہو جب بھی کفارہ کچھ نہیں البتہ کراہت ضرور ہے۔(۱۵) لباب وشرح لباب میں ہے : الطیب إذا خلطہ بطعام قدطبخ فلا شيء علیہ اتفاقا سواء یوجد ریحہأولا، لأنہ بالخلط و الطبخ یصیر مستہلکًا فلا یعتبر وجودہ أصلاً . و إن خالطہ بما یوکل بلا طبخ کالزعفران بالملح، فالعبرۃ بالغلبۃ فإن کان الغالب الملح أی أجزاؤہ، لاطعمہ ولونہ فلاشيء علیہ من الجزاء غیرأنہإذا کان رائحتہ موجودۃ کرہ أکلہ ۔اہـ(۱۶) سوال (۳) : محرم کے لیے ٹشو پیپر استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟ جواب (۳): ٹشو پیپر خشک اور تر ، دو طرح کا ہوتا ہے، خشک میں خوشبو نہیں ہوتی اور عادۃً اس سے چہرہ یا منہ بھی نہیں چھپایا جاتا اس لیے حالت احرام میں اس کا استعمال مباح ہے۔ اور اگر تر ہو تو ہرگز اسے استعمال نہ کیا جائے کہ ایک تو اس میں الکحل یا ایسی کسی چیز کی آمیزش ہوتی ہے جس کی وجہ سے کاغذ بھیگ تو جاتا ہے مگر سکڑ کر بیکار نہیں ہوتا۔ دوسرے اس میں خوشبو کی آمیزش بھی ہوتی ہے، پورے چہرے پر اس کے استعمال سے وجوبِ دم کا حکم ہوگا اور چہرے کے کچھ حصے پر ہو تو صدقہ کا حکم ہوگا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: ولو مس طيبا فلزق به مقدار عضو كامل وجب الدم سواء قصد التطيب أو لم يقصد. وإن كان أقل من ذلك فصدقة.(۱۷)والله تعالى أعلم.
(۳) حالتِ احرام میں مختلف مقامات پر بسی ہوئی خوشبو ؤں سے بچنے یا نہ بچنے کا حکم
چوتھی نشست : ۱۳؍صفرالمظفر ۱۴۴۱ھ/مطابق ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۱۹ء ــ یک شنبہ ــ بعد عشا سوال (۱) : احرام باندھنے کے بعد طیارہ ، ائیرپورٹ ، بس اور مسجد حرام کی خوشبووں سے بچنے کے لیے محرم کیا کرے، اگر ان مقامات کی خوشبووں سے اس کے کپڑے یا بدن کا کوئی حصہ قصدًا یا بلا قصد خوشبودار ہو گیا تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ جواب (۱): اگر صرف معطر فضا کی وجہ سے مُحرِم کا بدن یا کپڑا خوشبودار ہو جائے اور اس کا مقصد بدن یا کپڑے کو معطر کرنا نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور اگر قصداً معطر کرے گا تو مکروہ ہوگا۔ اور اگر خوشبو کا جِرم لگ جائے تو حکم کی وہ تفصیل ہوگی جو خوشبو لگنے میں ہوتی ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: لو دخل بيتا قد أجمر فعلق بثوبه رائحة فلا شيء عليه لأنه غير منتفع بعينه بخلاف ما لو استجمر ثوبه فعلق بثوبه فإن كان كثيرا فعليه دم ، وإن كانقليلا فعليه صدقة لأنه منتفع بعينه ، وإن لم يعلق به شيء منه فلا شيء عليه كذا في محيط السرخسي.(۱۸) فتح القدیر میں ہے: ولا بأس أن يجلس في حانوت عطار و لو دخل بيتا قد أجمر فيه فعلق بثوبه رائحة فلا شيء عليه.(۱۹) واللہ تعالیٰ اعلم مراجع ومصادر: (۱)فیصلہ شعبان ۱۴۲۵ھ – سیمینار فقہی بورڈ دہلی، بمقام دَھرول ، گجرات (۲) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں: ●ثصدہاسال کے تکرّر مشاہدہ نے ثابت کیا کہ آفتاب ان دونوں وقت تقریباً اٹھارہ درجے نیچے ہوتا ہے،یہ وہ علم ہے جو اکثر ہیئت دانوں پر مخفی رہا،رجماًبالغیب باتیں اڑا یا کیے، صبح کاذب کے وقت انحطاطِ شمس میں مختلف ہوئے، کسی نے سترہ درجہ کہا، کسی نے اٹھارہ، کسی نے انیس بتائے،اور مشہور اٹھارہ ہے، اور اسی پر شرح چغمینی نے مشی کی، اور صبح صادق کے لیے بعض نے پندرہ درجے بتائے ہیں۔ اسے علامہ برجندی نے حاشیہ چغمینی میں بلفظِ قد قیل نقل کیا اورمقرر رکھا، اور اسی نے علامہ خلیل کاملی کو دھوکا دیاکہ دونوں صبحوں میں صرف تین درجے کا فاصلہ بتایا جسے ردالمحتار میں نقل کیا اور معتمدرکھا، حالانکہ یہ سب ہو سات بے معنی ہیں۔ شرع مطہر نے اس باب میں کچھ ارشاد فرمایا ہی نہیں ، اس نے تو صبح کی صورتیں تعلیم فرمائی ہیں کہ صبح کاذب شرقاً غرباً مستطیل ہوتی ہے اور صبح صادق جنوباً شمالاًمستطیر، اورہم اُوپر کہہ آئے کہ مقدارِ انحطاط جاننے کی طرف کسی برہان عقلی کو راہ نہیں ،صرف مدارِ رویت پر ہے، اور رویت شاہد عدل ہے کہ صبح کاذب کے وقت سترہ یا اٹھارہ یا انیس درجے اور صادق کے وقت پندرہ درجے انحطاط ہونا اور صادق وکاذب میں صرف تین درجے کا تفاوت ہونا سب محض باطل ہے،بلکہ اٹھارہ درجہ انحطاط پر صبح صادق ہوجاتی ہے اور اس سے بہت درجے پہلے صبح کاذب۔ فقیر نے بچشم خود مشاہدہ کیاکہ محاسبات علمِ ہیأت سے آفتاب ہنوز تینتیس در جے افق سے نیچا تھا اور صبح کاذب خوب روشن تھی، صبح صادق کےلیے سالہا سال سے فقیر کا ذاتی تجربہ ہے کہ اس کی ابتدا کے وقت ہمیشہ، ہر موسم میں آفتاب اٹھارہ ہی درجہ زیر افق پایا ہے، اور صبح کاذب کے لیے جس سے کوئی حکم شرعی متعلق نہ تھا ،اب تک اہتمام کا موقع نہ ملا، ہاں اتنا اپنے مشاہدہ سے یقیناً معلوم ہوا کہ اس میں اور صبح صادق میںپندرہ درجے سے بھی زائد فاصلہ ہے نہ کہ تین درجہ۔‘‘ (رسالہ درء القبح عن درک وقت الصبح، مشمولہ فتاویٰ رضویہ ،ج:۴،ص:۶۴۵، ۶۴۶، کتاب الصوم، رضا اکیڈمی، ممبئی) ●ثبعض کتب ہیئت اور ان کے اتباع سے بعض کتب فقہ مثل ردالمحتار میں لکھ دیا کہ جب آفتاب افق سے پندرہ درجے نیچے رہتا ہے اس وقت صبح صادق ہوتی ہے اور صبح کاذب اس سے صرف تین درجے پہلے یعنی اٹھارہ درجے کے انحطاط پر ہوتی ہے، مگر ہزاروں بار کا مشاہدہ شاہد ہے کہ یہ بھی محض غلط ہے، بلکہ جب آفتاب کا انحطاط قریباٹھارہ درجے کے رَہ جاتا ہے اس وقت یقینا صبح صادق ہوجاتی ہے، صبح کاذب اس سے بہت درجوں پہلے ہوچکتی ہے، میں نے آج ہی رات کہ شب ہشتم ماہ مبارک ہے بچشمِ خود معاینہ کیا کہ آفتاب ہنوز تینتیس درجے سے زیادہ افق سے نیچا تھا کہ صبح کاذب اپنی جھلک دکھارہی تھی ، صبح صادق ہونے کو ایک گھنٹے کامل سے بھی زیادہ وقت باقی تھا۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ مترجم،ج:۱۰،ص:۵۷۰، کتاب الصوم، سحر و افطار کا بیان، برکات رضا، گجرات) ●ث صبح صادق اور شفق کے وقت آفتاب کا انحطاط صحیح ومعتمد مذہب کے مطابق اٹھارہ درجہ زیر افق ہوتاہے۔یہ تجربہ اور قوی مشاہد ہ سے ثابت ہے،جمہور متاخرین اہل ہیئت قدیمہ وجدیدہ کا اس پر اجماع ہے۔‘‘(تاج التوقیت قلمی،ص:۱۱) (۳) جد الممتار میں ہے: قد عرفتُ بالتجربۃأن أول الصبح و آخر الشفق إنما يكون إذا كان انحطاط الشمس ثمانيۃعشرجزء.اھ.شرح چغمنی۔ھذافی ابتداء الصبح الکاذب،وامافی ابتداء الصبح الصادق فقدقیل:ان انحطاط الشمس حینئذخمسۃ عشرجزء۔واللہ تعالیٰ اعلم . اھ ۔ برجندي . (أقول) : ھذاعجب كل العجب من مثل العلامۃ وكأنہ لم يتفق لہ التجربۃوالمشاہدۃ۔والحق أن ابتداء الصبح الصادق وانتہاءالشفق الأبيض علی انحطاط ثمانيۃ عشر، بہ شہدت المشاہداتُ المتكررۃوالتجاربُ المتقررۃ۔وأماالصبح الكاذب فقبل ذٰلك بكثيرولم يتفق لي تجربۃبدأہ (جد الممتار، ج:۲، ص: ۱۱، ۱۲، کتاب الصلاۃ، باب الأوقات، مطلب فی تعبدہ ــ علیہ الصلاۃ و السلام قبل البعثۃ، دار أہل السنۃ لتحقیق الکتب و الطباعۃ و النشر، کراتشی، باکستان) (۴)القرآن الحکیم، سورۃ البقرۃ:۲،آیت :۱۸۷ (۵)المجموع شرح المہذب للإمام النووی الشافعی ، ج: ۶ ، ص: ۳۱۰، کتاب الصوم، دار الفکر، بیروت، لبنان (۶)المغني للإمام ابن قدامۃ ، ج:۳، ص: ۴، کتاب الصیام، فصل : و الصوم المشروع ہو الإمساک عن المفطرات … ، دار الکتب العلمیۃ ، بیروت، لبنان (۷)التحفۃالشاھيۃقلمي،ص: ۴۳۴ (۸)حاشيہ شرح چغمیني،ص:۱۷۷ (۹)رد المحتار علی الدر المختار ج: ۲، ص: ۲۲، ۲۳، کتاب الصلاۃ، مطلب فی طلوع الشمس من مغربہا، دار إحیاء التراث العربی، بیروت ، لبنان . (۱۰)جد الممتار، ج: ۲، ص:۱۹، کتاب الصلاۃ، باب الأوقات، مطلب فی طلوع الشمس من مغربہا، دار أہل السنۃ للطباعۃ و النشر و التوزیع، کراتشی، باکستان (۱۱)الفتاوی الہندیۃ، ج: ۱، ص: ۲۶۹، کتاب المناسک، الباب الثامن فی الجنایات، مسائل تتعلق بالفصول السابقۃ [الأول، والثاني، و الثالث]، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان (۱۲)الفتاوى الهندية، ج: 1، ص: 266، كتاب المناسك، الباب الثامن في الجنايات، الفصل الأول فيما يجب بالتطيب والتدهن، دار الكتب العلمية، بيروت ، لبنان (۱۳)الفتاوى الهندية، ج:1، ص: 266، كتاب المناسك، الباب الثامن في الجنايات، الفصل الأول فيما يجب بالتطيب والتدهن، دار الكتب العلمية، بيروت ، لبنان (۱۴)بدائع الصنائع ج: 2، ص: 286، كتاب الحج، فصل: و أما الذي يرجع إلی الطیب، بركات رضا، پوربندر، گجرات (۱۵)فتاوی رضویہ ج: ۴، ص: ۶۸۹، باب الجنایات فی الحج، رضا اکیڈمی، ممبئی (۱۶)فتاویٰ رضویہ ج :۴، ص: ۶۸۹، کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج، رضا اکیڈمی ممبئی (۱۷)الفتاوى الهندية ، ج: 1، ص: 266، كتاب المناسك، الباب الثامن في الجنايات، الفصل الأول فيما يجب بالتطيب والتدهن، دار الكتب العلمية، بيروت ، لبنان (۱۸)الفتاوى الهندية، ج:1، ص: 266، كتاب المناسك، الباب الثامن في الجنايات، الفصل الأول فيما يجب بالتطيب و التدهن، دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان (۱۹)فتح القدير ج: 2، ص: 438، كتاب الحج، باب الجنايات، دار إحياء التراث العربي، بيروت، لبنان