صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2363 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃالاعراف آیت ۱۳۶ ۔ وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشٰرِقَ الْاَرْضِ وَ مَغٰرِبَہَا الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,601

سوال (Question):

تفسیر سورۃالاعراف آیت ۱۳۶ ۔ وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشٰرِقَ الْاَرْضِ وَ مَغٰرِبَہَا الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے گستاخوں پر فیصلہ کن عذاب

{فَانْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰہُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّہُمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَکَانُوْا عَنْہَا غٰفِلِیْنَ }(۱۳۵)وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشٰرِقَ الْاَرْضِ وَ مَغٰرِبَہَا الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا وَ تَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرٰٓء ِیْلَ بِمَا صَبَرُوْا وَ دَمَّرْنَا مَا کَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُہ وَمَا کَانُوْا یَعْرِشُوْنَ }(۱۳۶) ترجمہ کنزالایمان: تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بے خبر تھے۔اور ہم نے اس قوم کو جو دبا لی گئی تھی اس زمین کے پورب پچھم کا وارث کیا جس میں ہم نے برکت رکھی اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا بدلہ ان کے صبر کا اور ہم نے برباد کردیا جو کچھ فرعون اور اس کی قوم بناتی اور جو چنائیاں اٹھاتے تھے۔ ترجمہ ضیاء الایمان: تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا کیونکہ انہوں نے ہماری آیتوں کوجھٹلایا اور ان سے بالکل غافل رہے۔اور ہم نے اس قوم کو جن پرظلم کیاگیا تھا اُس زمین کے مشرقوں اور مغربوں پرتسلط دے دیا جس میں ہم نے برکت رکھی تھی اور بنی اسرائیل پر ان کے صبر کے بدلے میں تیرے رب کا اچھا وعدہ پورا ہوگیا اور ہم نے وہ سب تعمیرات برباد کردیں جو فرعون اور اس کی قوم بناتی تھی اور وہ مکانات جنہیں وہ بلند کرتے تھے۔

حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے گستاخ کے غرق ہونے کامختصرقصہ

آج سے تین ہزار سال قبل جب مصر میں فرعون نے بنی اسرائیل پر ظلم وستم ڈھائے اور انہیں اپنا غلام بنالیا تب حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اب وقت آگیاہے کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر باپ دادا کی زمین کی طرف لے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی حضرت سیدناہارون علیہ السلام ہزاروں بنی اسرائیلیوں کو لے کر راتوں رات مصر سے نکلے اور بحر احمر (قلزم )کے شمالی طرف میں پہنچ گئے۔ فرعون کو جب یہ خبر ملی تو وہ اپنا بھاری لشکر لے کر ان کے پیچھے نکلاحضرت سیدناموسی علیہ السلام اورآپ علیہ السلام کے ماننے والے دریاکوعبورکرگئے تو فرعون کا لشکر بھی یہ دیکھ کر ان کے پیچھے چلنے لگا مگر جیسے ہی تمام لشکر دریا کے درمیان میں پہنچا دریا کا پانی آپس میں مل گیا اورتمام لشکر غرق ہوگیا ۔جب فرعون غرق ہونے لگا اور ملائکہ کرام علیہم السلام سامنے نظرآنے لگے توکہنے لگا میں ا سی ایک وحدہ لاشریک لہ پہ ایمان لاتا ہوںلیکن اب اسے ایمان لانے کانفع نہ ہوا۔ گزشتہ واقعات کے نتائج کابیان

گزشتہ واقعات سے مختصراًنتائج کو بیان کرتے ہیں :

(۱)حق کوقبول کرنے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اپنے بڑوں کی تقلید ہے اگرچہ وہ گمراہ ، بے د ین اوردین کے دشمن ہی کیوں نہ ہوں۔ (۲) انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت اپنی قوم ، اپنی برادری ، اپنی بستی میں ہواکرتی ہے ۔ (۳) انبیاء کرام علیہم السلام منصب نبوت کے حامل ہوتے ہیں، ان میں کوئی بھی بادشاہ ،امیریاسردارنہیں ہوتے۔ (۴) اصولی پیغام سب کاایک ہی ہوتاہے ، فروعی مسائل ہرایک کے الگ الگ ہوتے ہیں ۔ (۵) انبیاء کرام علیہم السلام کبھی بھی ایک دوسرے سے اختلاف نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں ۔ (۶) حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کاانتخاب کبھی کسی قوم کے ہاتھ میںنہیں ہوتابلکہ براہ راست اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہوتاہے ۔ (جیساکہ مرزاقادیانی ملعون کونبی بنانے والے فرنگی ہیں ) (۷) انبیاء کرام علیہم السلام مالدارنہیں ہوتے اورنہ ہی دنیاوی سازوسامان کے طلبگارہوتے ہیں۔ (۸) حضرات انبیاء کرام علیہم السلام مخلص ، محنتی جفاکش ہوتے ہیں اورسب کچھ برداشت کرتے ہیں ۔ (۹) سارے انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ یہی ہواکہ غریبوں میں ان کی مقبولیت ہوئی ، وہ بھی جزوی طورپر، اورامیروسردارہرمحاذپران کی مخالفت اوران کی دشمنی پرکمربستہ رہے ۔ (۱۰) سارے انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ مجموعی طورپرقوموں ، امتوں کارویہ معاندانہ رہاہے اورقوم ان کی دشمن اوران کی گستاخ رہی ہے ۔ (۱۱) کسی بھی نبی علیہ السلام نے اس وقت تک قوم پرعذاب آنے کی دعانہیں کی جب تک ان کے ایمان لانے سے مکمل طورپرمایوس نہیں ہوگئے۔ (۱۲) آخری نتیجہ ہمیشہ ان کے حق میں رہااورنافرمان اورگستاخ قوم ،انبیاء کرام علیہم السلام کے دشمن اوران پرجبروتشددکرنے والے ، ان کوپریشان کرنے والے اوران کی تکذیب کرنے والے ، ان کے راستے روکنے والے ، ان پرتہمت لگانے والے ، اوران کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرظلم وستم کے پہاڑتوڑنے والے حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے ہمیشہ کے لئے مٹ گئے اورطرح طرح کے عذابوں کے ذریعے ہلاک وبربادہوگئے ، دنیاکی کوئی طاقت ان کو اللہ تعالی کے عذاب سے نہیں بچاسکی ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh