صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2370 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃالانفال آیت ۹۔۱۰۔ اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,396

سوال (Question):

تفسیر سورۃالانفال آیت ۹۔۱۰۔ اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مجاہدین کواپنی نظراللہ تعالی کی طرف رکھنی چاہئے

{اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ }(۹)وَمَا جَعَلَہُ اللہُ اِلَّا بُشْرٰی وَلِتَطْمَئِنَّ بِہٖ قُلُوْبُکُمْ وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ اِنَّ اللہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ }(۱۰) ترجمہ کنزالایمان:جب تم اپنے رب سے فریا د کرتے تھے تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزار فرشتوں کی قطار سے۔اور یہ تو اللہ نے کیا مگر تمہاری خوشی کو اور اس لیے کہ تمہارے دل چین پائیں اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے حبیب کریمﷺ!یاد کریں جب آپ اپنے رب تعالی سے فریا د کرتے تھے تو اس نے آپ کی دعاقبول فرمالی کہ میں ایک ہزار لگاتار آنے والے فرشتوں کے ساتھ آپ ﷺ کی مدد کرنے والا ہوں۔ اور اللہ تعالی نے اس کوخوشخبری کیلئے ہی بنایا اور اس لیے کہ تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اور مدد صرف اللہ تعالی ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔بیشک اللہ تعالی غالب حکمت والا ہے۔

مجاہدین اسلام اپنی نظرصرف اورصرف اللہ تعالی پررکھیں

(وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّہِ)نَبَّہَ عَلَی أَنَّ النَّصْرَ مِنْ عِنْدِہِ جَلَّ وَعَزَّ لَا مِنَ الْمَلَائِکَۃِ، أَیْ لَوْلَا نَصْرُہُ لَمَا انْتُفِعَ بِکَثْرَۃِ الْعَدَدِ بِالْمَلَائِکَۃِوَالنَّصْرُ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ یَکُونُ بِالسَّیْفِ وَیَکُونُ بالحجۃ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ {وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّہِ}کے تحت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے تنبیہ فرمائی ہے کہ مددونصرت اللہ تعالی کی طرف سے تھی نہ کہ ملائکہ کرام کی طرف سے یعنی اگراللہ تعالی آپ ﷺکی مددنہ کرتاتوفرشتوں کی کثیرتعدادکے ساتھ بھی نفع حاصل نہ ہوتا، اللہ تعالی کی جانب سے مددونصرت تلوارکے ساتھ بھی ہوتی ہے اورکبھی حجت ودلیل کے ساتھ بھی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۷:۳۶۹)

مجاہدین کوصر ف اورصرف اللہ تعالی کی ذات پربھروسہ کرناچاہئے

ثُمَّ قَالَ تَعَالَی:وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّہِ وَالْمَقْصُودُ التَّنْبِیہُ عَلَی أَنَّ الْمَلَائِکَۃَ وَإِنْ کَانُوا قَدْ نَزَلُوا فِی مُوَافَقَۃِ الْمُؤْمِنِینَ، إِلَّا أَنَّ الْوَاجِبَ عَلَی الْمُؤْمِنِ أَنْ لَا یَعْتَمِدَ عَلَی ذَلِکَ بَلْ یَجِبُ أَنْ یَکُونَ اعْتِمَادُہُ عَلَی إِغَاثَۃِ اللَّہ وَنَصْرِہِ وَہِدَایَتِہِ وَکِفَایَتِہِ لِأَجْلِ أَنَّ اللَّہ ہُوَ الْعَزِیزُ الْغَالِبُ الَّذِی لَا یُغْلَبُ، وَالْقَاہِرُ الَّذِی لَا یُقْہَرُ، وَالْحَکِیمُ فِیمَا یُنْزِلُ مِنَ من النصرۃ فیضعہا فی موضعہا. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی: ۶۹۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ {وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّہِ}اس سے مقصود تنبیہ کرناہے کہ فرشتے اگرچہ اہل ایمان کی موافقت میں اترے مگراہل ایمان پرلازم ہے کہ وہ ان پربھروسہ نہ کریں بلکہ ان پریہ لاز م ہے کہ ان کابھروسہ اللہ تعالی کی مددونصرت ، ہدایت وکفایت پرہواس لئے کہ اللہ تعالی ایساعزیزوغالب ہے کہ وہ مغلوب نہیں ہوسکتا، وہ قاہرہے جس پرکسی کاغلبہ نہیں ہوسکتااوروہ مددنازل فرمانے میں ایساحکیم ہے کہ اسے اسی کی جگہ عطافرماتاہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۵:۴۵۹)

بدرمیں حضورتاجدارختم نبوتﷺکااللہ تعالی کی بارگاہ میں دعاکرنا

حَدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ:لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمُشْرِکِینَ وَہُمْ أَلْفٌ، وَأَصْحَابُہُ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَتِسْعَۃَ عَشَرَ رَجُلًا،فَاسْتَقْبَلَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَۃَ، ثُمَّ مَدَّ یَدَیْہِ، فَجَعَلَ یَہْتِفُ بِرَبِّہِ:اللہُمَّ أَنْجِزْ لِی مَا وَعَدْتَنِی، اللہُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِی،اللہُمَّ إِنْ تُہْلِکْ ہَذِہِ الْعِصَابَۃَ مِنْ أَہْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِی الْأَرْضِ، فَمَا زَالَ یَہْتِفُ بِرَبِّہِ، مَادًّا یَدَیْہِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ، حَتَّی سَقَطَ رِدَاؤُہُ عَنْ مَنْکِبَیْہِ، فَأَتَاہُ أَبُو بَکْرٍ فَأَخَذَ رِدَاء َہُ، فَأَلْقَاہُ عَلَی مَنْکِبَیْہِ، ثُمَّ الْتَزَمَہُ مِنْ وَرَائِہِ، وَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللہِ، کَفَاکَ مُنَاشَدَتُکَ رَبَّکَ، فَإِنَّہُ سَیُنْجِزُ لَکَ مَا وَعَدَکَ، فَأَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ:(إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِینَ)(الأنفال:۹)فَأَمَدَّہُ اللہُ بِالْمَلَائِکَۃِ، قَالَ أَبُو زُمَیْلٍ:فَحَدَّثَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ،قَالَ:بَیْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یَوْمَئِذٍ یَشْتَدُّ فِی أَثَرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ أَمَامَہُ، إِذْ سَمِعَ ضَرْبَۃً بِالسَّوْطِ فَوْقَہُ وَصَوْتَ الْفَارِسِ یَقُولُ:أَقْدِمْ حَیْزُومُ، فَنَظَرَ إِلَی الْمُشْرِکِ أَمَامَہُ فَخَرَّ مُسْتَلْقِیًا، فَنَظَرَ إِلَیْہِ فَإِذَا ہُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُہُ، وَشُقَّ وَجْہُہُ، کَضَرْبَۃِ السَّوْطِ فَاخْضَرَّ ذَلِکَ أَجْمَعُ، فَجَاء َ الْأَنْصَارِیُّ، فَحَدَّثَ بِذَلِکَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:صَدَقْتَ، ذَلِکَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاء ِ الثَّالِثَۃِ، فَقَتَلُوا یَوْمَئِذٍ سَبْعِینَ، وَأَسَرُوا سَبْعِینَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے مشرکین کی طرف دیکھا، وہ ایک ہزار تھے، اور آپﷺ کے ساتھ تین سو انیس آدمی تھے، تو حضورتاجدارختم نبوتﷺقبلہ رخ ہوئے، پھر اپنے ہاتھ پھیلائے اور بلند آواز سے اپنے رب تعالی کو پکارنے لگے:اے اللہ!تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا اسے میرے لیے پورا فرما۔ اے اللہ!تو نے جو مجھ سے وعدہ کیا مجھے عطا فرما۔ اے اللہ! اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین میں تیری بندگی نہیں ہو گی۔آپ قبلہ رو ہو کر اپنے ہاتھوں کو پھیلائے مسلسل اپنے رب تعالی کو پکارتے رہے حتی کہ آپﷺ کی چادر آپﷺ کے کندھوں سے گر گئی۔ اس پر حضرت سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ آپﷺ کے پاس آئے، چادر اٹھائی اور اسے آپ ﷺکے کندھوں پر ڈالا، پھر پیچھے سے آپ ﷺکے ساتھ چمٹ گئے اور عرض کرنے لگے:یارسول اللہ وﷺ!اپنے رب تعالی سے آپﷺ کا مانگنا اور پکارنا کافی ہو گیا۔ وہ جلد ہی آپﷺ سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:جب تم لوگ اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی کہ میں ایک دوسرے کے پیچھے اترنے والے ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا۔پھر اللہ تعالی نے فرشتوں کے ذریعے سے آپ ﷺکی مدد فرمائی۔ ابوزمیل نے کہا: مجھے سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: اس دوران میں، اس دن مسلمانوں میں سے ایک شخص اپنے سامنے بھاگتے ہوئے مشرکوں میں سے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اچانک اس نے اپنے اوپر سے کوڑا مارنے اور اس کے اوپر سے گھڑ سوار کی آواز سنی، جو کہہ رہا تھا:حیزوم! آگے بڑھ۔ اس نے اپنے سامنے مشرک کی طرف دیکھا تو وہ چت پڑا ہوا تھا، اس نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ اس کی ناک پر نشان پڑا ہوا تھا، کوڑے کی ضرب کی طرح اس کا چہرہ پھٹا ہوا تھا اور وہ پورے کا پورا سبز ہو چکا تھا، وہ انصاری آیا اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکو یہ بات بتائی تو آپﷺ نے فرمایا:تم نے سچ کہا، یہ تیسرے آسمان سے (آئی ہوئی)مدد تھی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس دن ستر آدمی قتل کیے اور ستر قیدی بنائے۔ ابوزمیل نے کہا:حضرت سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:جب انہوں نے قیدیوں کو گرفتار کر لیا۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۳۸۳)

معارف ومسائل

(۱) اس آیت کریمہ سے یہ معلوم ہواکہ گھربیٹھ کردعاکرنے سے فتح نہیں ملتی ، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے میدان بدرمیں اترکردعاکی ، تب فرشتے نازل ہوئے ، ہم آج کہتے ہیں کہ ہم کو ایک تنکابھی نہ ہلاناپڑے اورگھربیٹھے ہوئے ہم کو فتح مل جائے اورہم کفارپرغالب آجائیں ، یہ ذہن میں رہے کہ ایساکبھی بھی نہیں ہوگا،بلکہ پہلے میدان میں اترواوراس کے بعد پھردعاکروکیونکہ یہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنت کریمہ ہے ، اگرحضورتاجدارختم نبوتﷺچاہتے تومدینہ منورہ میں ہی دعاکرتے اوراللہ تعالی کافروں کو ہلاک فرمادیتامگرآپﷺنے اپنی امت کو یہ سنت عطافرمائی ہے کہ پہلے جذبہ شہادت پیداکرواورولولہ جہاد کے ساتھ میدان جنگ میں اترو، پھراللہ تعالی کی بارگاہ اقدس میں روروکرفتح کی دعاکرو، تب اللہ تعالی فتح عطافرمائے گااورتمھاری مددکے لئے فرشتے بھی اتارے گا۔ (۲) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ بندہ مومن ہمہ وقت اللہ تعالی کی بارگاہ میں دست بدعارہے اوربالخصوص جب معرکہ میں موجود ہو۔ (۳) اس سے معلوم ہواکہ جب مجاہدین اسلام کو فرشتوں پربھروسہ کرنادرست نہیں توپھرکسی اورچیز یعنی ہتھیاروں پریاشخصیت یعنی فوج وغیرہ پربھروسہ کرناکیسے درست ہوسکتاہے ، مسلمان اللہ تعالی کی رضاکے لئے جہادکرتاہے اوراللہ تعالی ہی اسے غلبہ وفتح عطافرماتاہے ۔ اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ یہی عقیدہ اپنائیں کیونکہ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے حضرت سیدناخالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کو معزول فرمادیاتھاتاکہ کسی مسلمان کایہ عقیدہ نہ بنے کہ فتوحات ان کی وجہ سے ہورہی ہیں ، اسباب وشخصیات سے فائدہ ضرورپہنچتاہے مگران سے فائدہ پہنچنابھی اللہ تعالی کی مرضی ومنشاپرمنحصرہے ، اس لئے مجاہدین اسلام اللہ تعالی کے علاوہ کسی بھی چیز پرنظرنہ رکھیںاورنہ ہی اپنے جہاد کی اللہ تعالی کی ذات کے علاوہ کوئی اوربنیادبنائے ۔ آج بھی ہمارے پاکستانی مسلمان اللہ تعالی کی ذات کے علاوہ اپنے لشکروں اوراپنے ہتھیاروں پر توکل کرتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ یہ رسواہورہے ہیں اورآج بھی بہت سے مسلمان حضرت سیدناامام مہدی رضی اللہ عنہ کے انتظارمیں جہادکوچھوڑے بیٹھے ہیں کہ وہ آئیں گے توجہاد ہوگا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh