صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2376 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃالانفال آیت ۳۶ تا ۳۸۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوٰلَہُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہِ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,085

سوال (Question):

تفسیر سورۃالانفال آیت ۳۶ تا ۳۸۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوٰلَہُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہِ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

غلبہ دین کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے دنیاوآخرت میں ذلیل ہوجائیں گے

{اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوٰلَہُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہِ فَسَیُنْفِقُوْنَہَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْہِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی جَہَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ}(۳۶){لِیَمِیْزَ اللہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَیَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَہ عَلٰی بَعْضٍ فَیَرْکُمَہ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَہ فِیْ جَہَنَّمَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ }(۳۷)قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّنْتَہُوْا یُغْفَرْلَہُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ }(۳۸) ترجمہ کنزالایمان:بیشک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں تو اب انہیں خرچ کریں گے پھر وہ ان پر پچھتاوا ہوں گے پھر مغلوب کردیے جائیں گے اور کافروں کا حشر جہنم کی طرف ہوگا ۔اس لیے کہ اللہ گندے کو ستھرے سے جدا فرمادے اور نجاستوں کو تلے اوپر رکھ کر سب ایک ڈھیر بنا کر جہنم میں ڈال دے وہی نقصان پانے والے ہیں۔تم کافروں سے فرماؤ اگر وہ باز رہے تو جو ہو گزرا وہ انہیں معاف فرمادیا جائے گا اور اگر پھر وہی کریں تو اگلوں کا دستور گزر چکا ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:بیشک کافر اپنے مال اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کے دین سے روکیں تو اب مال خرچ کریں گے پھر وہی مال ان پر حسرت و ندامت ہو جائیں گے پھر یہ مغلوب کردیئے جائیں گے اور کافروں کو جہنم کی طرف چلایا جائے گا۔تاکہ اللہ تعالی ناپاک کو پاک سے جدا کردے اور خبیثوں کو ایک دوسرے کے اوپر کر کے سب کو ڈھیر بناکر جہنم میں ڈال دے،وہی نقصان پانے والے ہیں۔اے حبیب کریم ﷺ!آپ! کافروں سے فرمادیںکہ اگر وہ بازآگئے تو جو پہلے گزرچکا وہ انہیں معاف کردیا جائے گا اور اگر وہ دوبارہ لڑا ئی کریں گے تو پہلے لوگوں کادستور گزرچکاہے۔ شان نزول کے متعلق پہلاقول قَالَ مُقَاتِلٌ وَالْکَلْبِیُّ:نَزَلَتْ فِی الْمُطْعِمِینَ یَوْمَ بَدْرٍ، وَکَانُوا اثْنَیْ عَشَرَ رَجُلًا مِنْ کِبَارِ قُرَیْشٍ. ترجمہ :امام مقاتل والکلبی رحمہمااللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ بدرمیں مشرکین کے لشکرکوکھاناکھلانے والے قریش کے بارہ سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۵:۴۸۱) شان نزول کے متعلق دوسراقول وَقَالَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ وَمُجَاہِدٌ:نَزَلَتْ فِی أَبِی سُفْیَانَ وَإِنْفَاقِہِ الْمَالَ عَلَی حَرْبِ مُحَمَّدٍ یَوْمَ أُحُدٍ، وَکَانَ قَدِ اسْتَأْجَرَ أَلْفَیْنِ مِنَ الْأَحَابِیشِ سِوَی مَنِ اسْتَجَاشَ مِنَ الْعَرَبِ، وَأَنْفَقَ عَلَیْہِمْ أَرْبَعِینَ أُوقِیَّۃً وَالْأُوقِیَّۃُ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ مِثْقَالًا۔ ترجمہ :حضرت سیدناسعیدبن جبیراورمجاہدرضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ابوسفیان کے بارے میں نازل ہوئی ، انہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے خلاف جنگ کرنے کے لئے حبشہ کے دوہزارجنگجو عربوں کے علاوہ بھرتی کئے تھے اوران پر چالیس اوقیہ خرچ کئے تھے اورایک ایک اوقیہ بتالیس مثقال کاہوتاہے ۔ (اللباب فی علوم الکتاب:أبو حفص سراج الدین عمر بن علی بن عادل الحنبلی الدمشقی النعمانی (۹:۵۱۳) شان نزول کے متعلق تیسراقول وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ رِجَالِہِ لَمَّا رَجَعَ فُلُّ قُرَیْشٍ إِلَی مَکَّۃَ مِنْ بَدْرٍ وَرَجَعَ أَبُو سُفْیَانَ بِعِیرِہِ کَلَّمَ أَبْنَاء ُ مَنْ أُصِیبَ بِبَدْرٍ وَغَیْرُہُمْ أَبَا سُفْیَانَ وَتُجَّارُ الْعِیرِ فِی الْإِعَانَۃِ بِالْمَالِ الَّذِی سُلِّمَ لَعَلَّنَا نُدْرِکُ ثَأْرًا لِمَنْ أُصِیبَ فَفَعَلُوا فَنَزَلَتْ۔ ترجمہ :امام محمدبن اسحاق رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بدرکاشکست خوردہ لشکرجب واپس مکہ مکرمہ پہنچااورابوسفیان کاقافلہ بھی مکہ مکرمہ پہنچاتوانہوںنے طے کیاکہ تجارتی قافلے تمام مال مسلمانوں سے انتقام لینے کے لئے صرف کریں گے تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی (۵:۳۱۶) شان نزول کے متعلق چوتھا قول وَقَالَ الضَّحَّاکُ وَغَیْرُہُ:نَزَلَتْ فِی نَفَقَۃِ الْمُشْرِکِینَ الْخَارِجِینَ إِلَی بَدْرٍ کَانُوا یَنْحَرُونَ یَوْمًا عَشْرًا مِنَ الْإِبِلِ وَیَوْمًا تِسْعًا ۔ ترجمہ :امام الضحاک رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی جوبدرمیں غلبہ اسلام روکنے کے لئے کافروں کو روزانہ کبھی نوتوکبھی دس دس اونٹ ذبح کرکے کھلاتے تھے ۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی (۵:۳۱۶)

جوبھی دین حق کاراہ روکنے کی کوشش کرے گاذلیل ورسواہوجائے گا

وَإِنْ کَانَ سَبَبُ نُزُولِہَا خَاصًّا فَقَدْ أَخْبَرَ تَعَالَی أَنَّ الْکُفَّارَ یُنْفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ لِیَصُدُّوا عَنِ اتِّبَاعِ طَرِیقِ الْحَقِّ فَسَیَفْعَلُونَ ذَلِکَ ثُمَّ تَذْہَبُ أَمْوَالُہُمْ ثُمَّ تَکُونُ عَلَیْہِمْ حَسْرَۃً أَیْ نَدَامَۃً حَیْثُ لَمْ تُجْدِ شَیْئًا لِأَنَّہُمْ أَرَادُوا إِطْفَاء َ نُورِ اللَّہِ وَظُہُورَ کَلِمَتِہِمْ عَلَی کَلِمَۃِ الْحَقِّ وَاللَّہُ مُتِمٌّ نُورَہُ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ وَنَاصِرٌ دِینَہُ وَمُعْلِنٌ کَلِمَتَہُ وَمُظْہِرٌ دِینَہُ عَلَی کُلِّ دِینٍ فَہَذَا الْخِزْیُ لَہُمْ فِی الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِی الْآخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ فَمَنْ عَاشَ مِنْہُمْ رَأَی بِعَیْنِہِ وَسَمِعَ بِأُذُنِہِ مَا یَسُوء ُہُ، وَمَنْ قُتِلَ مِنْہُمْ أَوْ مَاتَ فَإِلَی الْخِزْیِ الْأَبَدِی وَالْعَذَابِ السَّرْمَدِی۔ ترجمہ :حافظ ابن کثیرالمتوفی : ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کاسبب نزول اگرچہ خاص ہے مگرمضمون عام ہے ، جب کبھی کوئی شخص اپنامال حق کو روکنے کے لئے خرچ کرے وہ آخرت میں ندامت کے ساتھ رہ جائے گا، دین کاچراغ انسانی پھونکوں سے بجھ نہیں سکتا، اس خواہش کاانجام ذلت ورسوائی ہی ہے ، خود اللہ تعالی اپنے دین متین کاحافظ ومددگارہے ، اس کاکلمہ بلندہوگا، اس کابول بالاہوگا، اس کادین غالب ہوگا، کفارذلیل ورسواہوجائیں گے ، دنیامیں الگ رسوائی اورذلت ہوگی اورآخرت میں الگ بربادی اورخواری ہوگی ۔ اپنی زندگی میں ہی یاتواپنے سامنے اپنی ذلت ، پستی ،سزااورخواری دیکھ لیں گے یامرنے پردوزخ کاعذاب دیکھ لیں گے ۔ پستی وغلامی کی ماراورشکست ان کے ماتھے پرلکھ دی گئی ہے ۔ ان کاآخری ٹھکانہ دوزخ ہے ۔ (تفسیرابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۴:۴۷) غزوہ بدرمیں اللہ تعالی نے اسلامی لشکرکارخ ابوسفیان کے قافلے سے ابوجہل کے قافلے کی طرف موڑدیاگیاکیونکہ اس وقت شرک کے سرداروں کاخاتمہ وقت کی اہم ترین ضرور ت تھی اورچونکہ غلبہ اسلام کی بنیادغزوہ بدرمیں رکھی گئی جیساکہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ، اس لئے مسلمانوں کوطاقتوردشمن سے لڑاکرانہیں جہاد کی حقیقت سمجھادی گئی اورجہاد کاہرپہلوان پرواضح کردیاگیا۔

حضورتاجدارختم نبوتﷺکی دشمنی میں مال خرچ کرنے والا

لِیَمِیزَ اللَّہ الْفَرِیقَ الْخَبِیثَ مِنَ الْکُفَّارِ مِنَ الْفَرِیقِ الطَّیِّبِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ فَیَجْعَلَ الْفَرِیقَ الْخَبِیثَ بَعْضَہُ عَلَی بَعْضٍ فَیَرْکُمَہُ جَمِیعًا وَہُوَ عِبَارَۃٌ عَنِ الْجَمْعِ وَالضَّمِّ حَتَّی یَتَرَاکَمُوا کَقَوْلِہِ تَعَالَی:کادُوا یَکُونُونَ عَلَیْہِ لِبَداً (الْجِنِّ:۱۹)یَعْنِی لِفَرْطِ ازْدِحَامِہِمْ فَقَوْلُہُ: أُولئِکَ إِشَارَۃٌ إِلَی الْفَرِیقِ الْخَبِیثِ وَالْقَوْلُ الثَّانِی:الْمُرَادُ بِالْخَبِیثِ نَفَقَۃُ الْکَافِرِ عَلَی عَدَاوَۃِ مُحَمَّدٍ، وَبِالطَّیِّبِ نَفَقَۃُ الْمُؤْمِنِ فِی جِہَادِ الْکُفَّارِ، کَإِنْفَاقِ أَبِی بَکْرٍ وَعُثْمَانَ فِی نُصْرَۃِ الرَّسُولِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ فَیَضُمُّ تَعَالَی تِلْکَ الْأُمُورَ الْخَبِیثَۃَ بَعْضَہَا إِلَی بَعْضٍ فَیُلْقِیہَا فِی جَہَنَّمَ وَیُعَذِّبُہُمْ بِہَا کَقَوْلِہِ تَعَالَی:فَتُکْوی بِہا جِباہُہُمْ وَجُنُوبُہُمْ وَظُہُورُہُمْ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی:۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کامطلب یہ ہے کہ تاکہ اللہ تعالی کفارکے خبیث گروہ کو اہل ایمان کے پاک گروہ سے ممتاز کردے توخبیث فریق کوایک دوسرے کے ساتھ ملاکران تمام کو اکٹھاکیاجوآپس میں اجتماع اورمتصل ہونے کانام ہے ۔ خبیث سے مراد کافروں کاحضورتاجدارختم نبوتﷺکی دشمنی پرمال خرچ کرنااورطیب سے مراد اہل ایما ن کاکافروں کے خلاف جہادمیں مال خرچ کرناہے جیساحضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ کاحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی مددمیں مال خرچ کرناتواللہ تعالی نے ان خبیث امورکوایک دوسرے ساتھ ملایااورانہیں جہنم میں ڈالااوران کو عذاب دیا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۵:۴۸۲) اگرکافرحضورتاجدارختم نبوتﷺکی دشمنی سے بازآجائیں تو۔۔ ’’قُلْ لِلَّذِینَ کَفَرُوا‘‘ الْمَعْنَی: أَنَّ ہَؤُلَاء ِ الْکُفَّارَ إِنِ انْتَہَوْا عَنِ الْکُفْرِ وَعَدَاوَۃِ الرَّسُولِ، وَدَخَلُوا الْإِسْلَامَ وَالْتَزَمُوا شَرَائِعَہُ غَفَرَ اللَّہ لَہُمْ مَا قَدْ سَلَفَ مِنْ کُفْرِہِمْ وَعَدَاوَتِہِمْ لِلرَّسُولِ وَإِنْ عَادُوا إِلَیْہِ وَأَصَرُّوا عَلَیْہِ فَقَدْ مَضَتْ سُنَّۃُ الْأَوَّلِینَ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی:۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ{قُلْ لِلَّذِینَ کَفَرُوا} کامطلب یہ ہے کہ یہ کافرجو حضورتاجدارختم نبوتﷺسے دشمنی رکھتے ہیں ، یہ میرے حبیب کریم ﷺ کی دشمنی سے باز آجائیں اوراسلام میں داخل ہوجائیں اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی تعلیمات کواپنالیں تواللہ تعالی ان کے سابقہ کفراوران کی سابقہ دشمنی کو معاف کردے گااوراگریہ پھراعادہ کریں توہم ان پربھی وہی عذاب بھیجیں گے جو ان سے پہلوں پرآچکاہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۵:۴۸۲)

معارف ومسائل

(۱) اس سے معلوم ہواکہ اسلام دشمن کافروں کامال مسلمانوں کے خلاف خطرناک جنگی ہتھیارہے ، چنانچہ اس ہتھیارکوتوڑناچاہئے ۔ (۲) جہاد کے خلاف خرچ کیاجانے والامال ناپاک ہے ۔ اورخرچ کرنے والاخبیث ہے ۔ (۳) جہاد میں خرچ کیاجانے والامال پاک ہے اورجہاد میں خرچ کرنے والاشخص طیب ہے ، مسلمانوں کوجہاد میں مال خرچ کرکے اپنی آخرت کے لئے پاک ذخیرہ کرناچاہئے ۔ (۴) کافرمال کے زورپرمسلمانوں کے خلاف اتحاد کرتاہے ، مسلمانوں کو بھی چاہئے ان کے خلاف متحد ہوں مگرہمارے نام نہاد مسلمان حکمران کافروں کے ساتھ اہل اسلام کے خلاف اتحاد کرچکے ہیں ۔ (۵) جہاد کرنے والے مسلمان پاک وطیب ہیں اورجوجہاد سے روگردانی کرتے ہیں وہ ناپاک اورخبیث ہیں چاہے وہ بڑے بڑے لشکروں کے رئیس اوروڈیرے ہی کیوں نہ ہوں۔ بحمداللہ تعالی پارہ نواں کااختتام ۲۴شوال المکرم ۱۴۴۱ھ/۱۶مئی ۲۰۲۰ء) بروز منگل ۱۲بج کر۴۰ منٹ دوپہرکوہوا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh