Fatwa #2377
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃالانفال آیت ۴۳۔۴۴۔ اِذْ یُرِیْکَہُمُ اللہُ فِیْ مَنَامِکَ قَلِیْلًا وَلَوْ اَرٰیکَہُمْ کَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنٰزَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,191
سوال (Question):
تفسیر سورۃالانفال آیت ۴۳۔۴۴۔ اِذْ یُرِیْکَہُمُ اللہُ فِیْ مَنَامِکَ قَلِیْلًا وَلَوْ اَرٰیکَہُمْ کَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنٰزَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اللہ تعالی کاغزوہ بدرمیں حضورتاجدارختم نبوتﷺاورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مددکرنے کاعجب انداز
{اِذْ یُرِیْکَہُمُ اللہُ فِیْ مَنَامِکَ قَلِیْلًا وَلَوْ اَرٰیکَہُمْ کَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنٰزَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَلٰکِنَّ اللہَ سَلَّمَ اِنَّہ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ}(۴۳){وَ اِذْ یُرِیْکُمُوْہُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْٓ اَعْیُنِکُمْ قَلِیْلًا وَّیُقَلِّلُکُمْ فِیْٓ اَعْیُنِہِمْ لِیَقْضِیَ اللہُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلًاوَ اِلَی اللہ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ}(۴۴) ترجمہ کنزالایمان:جب کہ اے محبوب اللہ تمہیں کافروں کو تمہاری خواب میں تھو ڑا دکھاتا تھا اور اے مسلمانو اگر وہ تمہیں بہت کرکے دکھاتا تو ضرور تم بزدلی کرتے اور معاملہ میں جھگڑا ڈالتے مگراللہ نے بچا لیا بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے۔او ر جب لڑتے وقت تمہیں کا فر تھو ڑے کرکے دکھائے اور تمہیں ان کی نگاہوں میں تھو ڑا کیا کہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے اور اللہ کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے حبیب کریم ﷺ!جب اللہ تعالی نے یہ کافر آپ ﷺکے خواب میں آپ کو تھوڑے کر کے دکھائے اور اگر وہ ان کو زیادہ کرکے آپ کو دکھاتا تو اے مسلمانو!تم ضرور بزدل ہوجاتے اور تم ضرور اس معاملے میں اختلاف کرتے لیکن اللہ تعالی نے سلامت رکھا، بیشک وہ دلوں کی باتیں جانتا ہے۔اور اے اہل اسلام! یاد کروجب لڑتے وقت اللہ تعالی تمہیں وہ کافر تمہاری نگاہوں میں تھوڑے کرکے دکھا رہا تھا اور تمہیں ان کی نگاہوں میں تھوڑا کردیا تاکہ اللہ تعالی اس کام کوپورا کرے جسے ہوکر ہی رہنا ہے اور اللہ تعالی ہی کی طرف تمام کاموں کولوٹنا ہے۔اگرکوئی اعتراض کرے تو؟
فَإِنْ قِیلَ: رُؤْیَۃُ الْکَثِیرِ قَلِیلًا غَلَطٌ، فَکَیْفَ یَجُوزُ مِنَ اللَّہ تَعَالَی أَنْ یَفْعَلَ ذَلِکَ؟قُلْنَا:مَذْہَبُنَا أَنَّہُ تَعَالَی یَفْعَلُ مَا یَشَاء ُ وَیُحْکِمُ مَا یُرِیدُ، وَأَیْضًا لَعَلَّہُ تَعَالَی أَرَاہُ الْبَعْضَ دُونَ الْبَعْضِ فَحَکَمَ الرَّسُولُ عَلَی أُولَئِکَ الَّذِینَ رَآہُمْ بِأَنَّہُمْ قَلِیلُونَ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگرکوئی یہ اعتراض کرے کہ کثیرتعدادکاقلیل دکھاناغلط ہے ، اللہ تعالی کی طرف ایساکرناکیسے جائز ہوسکتاہے ؟ اس کاجواب یہ ہے کہ ہمارامذہب یہ ہے کہ اللہ تعالی جوچاہے کرے اورجوارادہ کرے فیصلہ کرے ، اوریہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالی نے کچھ دکھائے ہوں اورکچھ نہ دکھائے ہوں۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۵:۴۸۸)کافروں کااہل اسلام کو تھوڑانظرآنے کامطلب ؟
وَتَظَاہَرَتِ الرِّوَایَاتُ أَنَّہَا رُؤْیَا مَنَامٍ رَأَی الرَّسُولُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہَا الْکُفَّارَ قَلِیلًا فَأَخْبَرَ بِہَا أَصْحَابَہُ فَقَوِیَتْ نُفُوسُہُمْ وَشَجُعَتْ عَلَی أَعْدَائِہِمْ، وَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِہِ حِینَ انْتَبَہَ:أَبْشِرُوا لَقَدْ نَظَرْتُ إِلَی مَصَارِعِ الْقَوْمِ وَالْمُرَادُ بِالْقِلَّۃِ ہُنَا قِلَّۃُ الْقَدْرِ وَالْیَأْسُ وَالنَّجْدَۃُ وَأَنَّہُمْ مَہْزُومُونَ مَصْرُوعُونَ وَلَا یُحْمَلُ عَلَی قِلَّۃِ الْعَدَدِ لِأَنَّہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وسلم رُؤْیَاہُ حَقٌّ وَقَدْ کَانَ عَلِمَ أَنَّہُمْ مَا بَیْنَ تِسْعِمِائَۃٍ إِلَی أَلْفٍ فَلَا یُمْکِنُ حَمْلُ ذَلِکَ عَلَی قِلَّۃِ الْعَدَدِ۔ ترجمہ :امام ابو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی المتوفی : ۷۴۵ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اکثرروایات سے یہی ثابت ہوتاہے کہ یہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکو دکھایاجاناخواب میں تھا، آپ ﷺنے خواب میں کفارکی تعداد کو کم دیکھاتوآپ ْﷺنے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوفرمایا۔ جس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اپنے دشمنوں کے خلاف قوت اوربہادری بڑھ گئی اورآپ ﷺنے بیدارہوکرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: خوشخبری سنوکہ میں نے مشرکین کے قتل ہوکرگرنے کی جگہوں کو بھی دیکھ لیاہے ، خواب میں کم دیکھنے سے مراد ان کی مضبوطی ، بہادری اورہمت کوکم دیکھناہے اوریہ کہ وہ شکست کھائیں گے اوربچھاڑے جائیں گے۔ اس سے مراد تعداد کی کمی نہیں ہے کیونکہ آپ ﷺکاخواب سچاہوتاہے اورآپ ﷺکومعلوم تھاکہ مشرکین کی تعدادنوسوسے ایک ہزارکے درمیان ہے ۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی(۵:۳۳۰)اہل اسلام کو مشرکین اورمشرکین کو کم دکھانے کی حکمت
وَاعْلَمْ أَنَّہُ تَعَالَی قَلَّلَ عَدَدَ الْمُشْرِکِینَ فِی أَعْیُنِ الْمُؤْمِنِینَ، وَقَلَّلَ أَیْضًا عَدَدَ الْمُؤْمِنِینَ فِی أَعْیُنِ الْمُشْرِکِین وَالْحِکْمَۃُ فِی التَّقْلِیلِ الْأَوَّلِ، تَصْدِیقَ رُؤْیَا الرَّسُولِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَیْضًا لِتَقْوَی قُلُوبُہُمْ وَتَزْدَادَ جَرَاء َتُہُمْ عَلَیْہِمْ، وَالْحِکْمَۃُ فِی التَّقْلِیلِ الثَّانِی:أَنَّ الْمُشْرِکِینَ لَمَّا اسْتَقَلُّوا عَدَدَ الْمُسْلِمِینَ لَمْ یُبَالِغُوا فِی الِاسْتِعْدَادِ وَالتَّأَہُّبِ وَالْحَذَرِ، فَصَارَ ذَلِکَ سَبَبًا لِاسْتِیلَاء ِ الْمُؤْمِنِینَ عَلَیْہِمْ.فَإِنْ قِیلَ:کَیْفَ یَجُوزُ أَنْ یُرِیَہُمُ الْکَثِیرَ قَلِیلًا؟قُلْنَا: أَمَّا عَلَی مَا قُلْنَا فَذَاکَ جَائِزٌ، لِأَنَّ اللَّہ تَعَالَی خَلَقَ الْإِدْرَاکَ فِی حَقِّ الْبَعْضِ دُونَ الْبَعْضِ وَأَمَّا الْمُعْتَزِلَۃُ فَقَالُوالَعَلَّ الْعَیْنَ مُنِعَتْ مِنْ إِدْرَاکِ الْکُلِّ، أَوْ لَعَلَّ الْکَثِیرَ مِنْہُمْ کَانُوا فِی غَایَۃِ الْبُعْدِ فَمَا حَصَلَتْ رُؤْیَتُہُمْ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ توجان لے کہ اللہ تعالی نے مشرکین کی تعداد اہل ایمان کو قلیل دکھائی اوراہل ایمان کی تعدادبھی مشرکین کو قلیل دکھائی ، پہلی تقلیل میں حکمت حضورتاجدارختم نبوتﷺکے خواب کی تصدیق ہے ، پھریہ بھی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں کوتقویت ملے ۔ دوسری تقلیل میں حکمت یہ تھی کہ جب مشرکین اہل اسلام کی تعداد کو قلیل محسوس کریں گے تووہ تیاری ، جدوجہد اوربچائومیں مبالغہ نہیں کریں گے تویہ ان پر ان کے اہل ایمان کے غلبہ کاسبب بن جائے گا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۵:۴۸۸) ایک سوال اوراس کاجواب فَإِنْ قِیلَ:ذَکَرَ ہَذَا الْکَلَامَ فِی الْآیَۃِ الْمُتَقَدِّمَۃِ، فَکَانَ ذکرہ ہاہنا مَحْضَ التَّکْرَارِ.قُلْنَا: الْمَقْصُودُ مِنْ ذِکْرِہِ فِی الْآیَۃِ الْمُتَقَدِّمَۃِ ہُوَ أَنَّہُ تَعَالَی فَعَلَ تِلْکَ الْأَفْعَالَ لِیَحْصُلَ اسْتِیلَاء ُ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی الْمُشْرِکِینَ عَلَی وَجْہٍ یَکُونُ مُعْجِزَۃً دَالَّۃً عَلَی صِدْقِ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْمَقْصُودُ مِنْ ذِکْرِہِ ہاہنا، لَیْسَ ہُوَ ذَلِکَ الْمَعْنَی، بَلِ الْمَقْصُودُ أَنَّہُ تعالی ذکر ہاہنا أَنَّہُ قَلَّلَ عَدَدَ الْمُؤْمِنِینَ فِی أَعْیُنِ الْمُشْرِکِینَ، فبین ہاہنا أَنَّہُ إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِکَ لِیَصِیرَ ذَلِکَ سَبَبًا لِئَلَّا یُبَالِغَ الْکُفَّارُ فِی تَحْصِیلِ الِاسْتِعْدَادِ وَالْحَذَرِ، فَیَصِیرُ ذَلِکَ سَبَبًا لِانْکِسَارِہِمْ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگرکوئی یہ اعتراض کرے کہ اس گفتگوکاذکرسابقہ آیات کریمہ میں آچکاہے تویہاں اس کاتذکرہ محض تکرارٹھہرے گا؟ تواس کاجواب یہ ہے کہ سابقہ آیت میں اس کے ذکرسے مقصودیہ تھاکہ اللہ تعالی نے یہ افعال اس لئے کئے تاکہ اہل ایمان کو مشرکین پر اس طریقے سے غلبہ حاصل ہوکہ وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صدق پر بطوردلیل معجزہ بن جائے اوریہاں اس کے تذکرہ سے مقصدیہ جائز نہیں بلکہ مقصود یہاں اللہ تعالی نے مشرکین کی آنکھوں میں اہل ایمان کی تعدادقلیل دکھانے کاذکرکیاتواللہ تعالی نے واضح فرمایاکہ اس نے یہ اس لئے کیاکہ یہ چیز ان کاسبب بنے کہ کفاراپنی تیاری اوربچائو میں مبالغہ نہ کریںاوریوں یہ ان کی شکست کاسبب بن جائے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۵:۴۸۸)اہل اسلام کی تعداد زیادہ نظرآنے کی وجہ ؟
فَلَمَّا الْتَحَمَ الْقِتَالُ وَأَیَّدَ اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدَفِینَ، بَقِیَ حِزْبُ الْکُفَّارِ یَرَی حِزْبَ الْإِیمَانِ ضِعْفَیْہِ، کَمَا قَالَ تَعَالَی: قَدْ کانَ لَکُمْ آیَۃٌ ۔ ترجمہ :حافظ ابن کثیرالمتوفی : ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ پھرجب غزوہ بدرمیں قتال شروع ہوگیاتواللہ تعالی نے ایک ہزارفرشتوں سے اہل اسلام کی مددبھیجی توکفارکالشکرمسلمانوں کو اپنے سے دوگنادیکھ رہاتھا، جیساکہ اس آیت کریمہ میں ہے ۔ (تفسیرابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۴:۶۱)تعدادکی کثرت وقلت کے متعلق ایک اہم نکتہ
قیل قد قللہم فی أعینہم قبل اللققاء ثم کثرہم فیہا بعدہ لیجترئوا علیہم قلۃ مبالاۃ بہم ثم تفجأہم الکثرۃ فیبہتوا وبہا بوا۔ ترجمہ :امام أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی المتوفی : ۷۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بدرمیں جنگ سے پہلے اہل اسلام کو کافروں کی آنکھوں میں تھوڑادکھایا، پھربعد میں زیادہ دکھایاتاکہ کفاربے پروائی کے ساتھ ان پر چڑھ دوڑیں ، پھراچانک انہیں زیادہ تعدادنظرآئی توحیران وششدررہ گئے ۔ (تفسیر النسفی:أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی(۱:۵۴۷)کریم کے کرم کی حدہوگئی
قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: لَقَدْ قَلَّلُوا فِی أَعْیُنِنَا حَتَّی قُلْتُ لِرَجُلٍ إِلَی جَنْبِی: أَتَرَاہُمْ سَبْعِینَ؟ قَالَ: أَرَاہُمْ مِائَۃً، فَأَسَرْنَا رَجُلًا فَقُلْنَا: کَمْ کُنْتُمْ؟ قَالَ: أَلْفًا. وَیُقَلِّلُکُمْ، یَا مَعْشَرَ الْمُؤْمِنِینَ فِی أَعْیُنِہِمْ، ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدرکے دن میں نے اپنے پہلومیں کھڑے ہوئے ایک شخص سے پوچھاکہ کیاخیال ہے کہ یہ مشرکین سترآدمی ہوں گے؟ توانہوںنے بتایاکہ تقریباًایک سوہوں گے ، پھرہم نے ایک مشرک کو قیدکرلیااوراس سے تعدادپوچھی تواس نے کہاکہ ہم ایک ہزارتھے ۔ (تفسیرابن عطیہ:أبو محمد عبد الحق بن غالب بن عبد الرحمن بن تمام بن عطیۃ (۱:۴۰۷)ایک پولیس والاامام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہ کاحال بیان کرتاہے
عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِبْرَاہِیْمَ بنِ مُصْعَبٍ، وَہُوَ یَوْمَئِذٍ صَاحِبُ شُرطَۃِ المُعْتَصِمِ خِلاَفَۃً لأَخِیہِ إِسْحَاقَ بنِ إِبْرَاہِیْمَ، قَالَ:مَا رَأَیْتُ أَحَداً لَمْ یُدَاخِلِ السُّلْطَانَ، وَلاَ خَالَطَ المُلُوْکَ، کَانَ أَثبتَ قَلْباً مِنْ أَحْمَدَ یَوْمَئِذٍ، مَا نَحْنُ فِی عَیْنِہِ إِلاَّ کَأَمثَالِ الذُّبَابِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرکے طرسوس لایا گیا ان پر ابراہیم بن مصعب نامی کوتوال مقرر تھا اس نے چند دن امام صاحب کو دیکھا تو کہنے لگا:میں نے کسی انسان کو بادشاہوں کے آگے امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر بے خوف نہیں پایا۔ ( یَوْمَئِذٍ، مَا نَحْنُ فِی عَیْنِہِ إِلاَّ کَأَمثَالِ الذُّبَابِ) یعنی ہم حکومت کے افسر ان کی نظر میں مکھیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ (سیر أعلام النبلاء :شمس الدین أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن عثمان بن قَایْماز الذہبی (ا۱:۲۴۰) اس سے معلوم ہواکہ اہل حق لشکروں کونہیں دیکھتے بلکہ وہ اللہ تعالی کی ذات پرتوکل کرتے ہیں اس لئے اللہ تعالی ان کی مددبھی فرماتاہے ۔معارف ومسائل
(۱)جنگِ بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی کئی اعتبار سے مدد فرمائی ایک تو فرشتے نازل فرمائے ، دوسرا یہ ہوا کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی نظروں میں کافروں کو اور کافروں کی نظروں میں مسلمانوں کو کم کرکے دکھایا تاکہ مسلمانوں کا حوصلہ بڑھے اور کافر مسلمانوں کو قلیل دیکھ کر لڑائی کے لئے آگے بڑھیں اور مسلمانوں سے جنگ شروع کرنے میں بزدلی کا مظاہرہ نہ کریںاور لڑائی شروع ہو ’’کہ انہوں نے ان کو دگنا دیکھا‘‘اِ س جملے کے کئی معنیٰ کئے گئے ہیں۔ کفار نے مسلمانوں کو خود سے دگنا دیکھا یعنی مسلمانوں کی تعداد کفار کودو ہزار نظر آئی۔کفار نے مسلمانوں کو مسلمانوں کی تعداد سے دگنا دیکھا یعنی مسلمانوں کی تعداد انہیں ۶۲۶نظر آئی حالانکہ وہ ۳۱۳تھے ۔مسلمانوں نے کفار کو خود سے دگنا دیکھا یعنی مسلمانوں کو کفارکی تعداد ۶۲۶نظر آئی حالانکہ وہ ایک ہزار تھے۔ بہر صورت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی تائید تھی۔ اسی پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مدد سے جس کی چاہتا ہے تائید فرماتا ہے خواہ اس کی تعداد قلیل ہی ہو اور سروسامان کی کتنی ہی کمی ہو۔( تفسیرصراط الجنان( ۱: ۴۴۳) (۲)چودہ سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے جب بھی فتح حاصل کی بدر کی ترتیب پر حاصل کی،قوت کے توازن پر نہیں، مسلمان جب بھی دل سے مسلمان ہوئے تو اللہ پاک نے ان پر اپنے راستے کھول دئیے،قرآن کریم بتاتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو غزوہ بدر میں دشمنان اسلام کا لشکرکم تعداد میں نظر آتا تھاگویا اللہ تعالی نے آنکھوں کا نظام بھی ان دل والوں کیلئے بدل دیا ،آنکھ ایک کو ایک اور دو کو دو دیکھتی ہے،مگر جہادکی برکت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایک ہزار مشرک ستر یا سو نظر آرہے تھے۔بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ جس مسلمان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت ہو اسے اسلام کے دشمن کمزور اور حقیر وذلیل نظر آتے ہیں۔ جہاد کیلئے جنگی قوت ضرور بنانی چاہئے یہ قرآن پاک کا حکم ہے مگر غزوہ بدر کو یاد رکھنا چاہئے اور گھر بیٹھ کر قوت نہ ہونے کو جہاد کے راستے کی رکاوٹ قرار نہیں دینا چاہئے۔ (۳)کافروں کے کم ہونے کامطلب ان کی شکست تھی ،چنانچہ ان کو جنگ میں عبرتناک شکست ہوئی ۔ (۴) کافروں کے کم ہونے کامطلب جنگ میں ان کی کمزوری تھی ، چنانچہ ایساہی ہوااوروہ باوجوود مسلح اوربہادرہونے کے ہمت کے ساتھ نہ لڑسکے ۔ان کے دلوں پررعب طاری ہوگیا،ان کی صفیں تتربترہوگئیں ، ان کاحوصلہ ٹوٹ گیااوراہل اسلام نے ان کو ایسے مارااورپکڑاجس طرح وہ مسلح لشکربکریوں اوربھیڑوں کاریوڑ ہے ۔ (۵) کافروں کے کم ہونے کامطلب یہ تھاکہ ان میں سے اکثربعد میں مسلمان ہوگئے ، توخواب میں صرف وہی کافردکھائے گئے جو حالت کفرپرمرے ۔ (۶) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ بزدل جتنے بھی ہوں وہ کم ہی ہوتے ہیں اوربہادرجتنے کم ہوں وہ زیادہ ہوتے ہیں ۔ خواب میں ان کی’’ تعدادکم دکھانے کامطلب ‘‘ان کی بزدلی تھی کہ یہ میدان جنگ میں بزدلی دکھائیں گے چنانچہ ایساہی ہوا۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9