صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2380 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃالانفال آیت ۴۷۔ وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیٰرِہِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآء َ النَّاسِ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,509

سوال (Question):

تفسیر سورۃالانفال آیت ۴۷۔ وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیٰرِہِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآء َ النَّاسِ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اللہ تعالی تم سے کوئی دینی خدمت لے تواس پراترانانہیں ہے

{وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیٰرِہِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآء َ النَّاسِ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ وَاللہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ }(۴۷) ترجمہ کنزالایمان:اور ان جیسے نہ ہونا جو اپنے گھر سے نکلے اتراتے اور لوگوں کے دکھانے کو اور اللہ کی راہ سے روکتے ا ور ان کے سب کام اللہ کے قابو میں ہیں۔ ترجمہ ضیاء الایما ن:اور ان لوگوں جیسا نہ ہونا جو اپنے گھروں سے اکڑتے ہوئے اور لوگوں کو دکھاوا کرتے ہوئے نکلے اور وہ اللہ تعالی کے راستے سے روک رہے تھے(دین سے روک رہے تھے) اور اللہ تعالی ان کے تمام اعمال کااحاطہ کیئے ہوئے ہے۔ شان نزول قَالَ الْمُفَسِّرُونَ:الْمُرَادُ قُرَیْشٌ حِینَ خَرَجُوا مِنْ مَکَّۃَ لحفظ العیر، فلما وردوا الجحفۃ بعث الخفاف الْکِنَانِیُّ وَکَانَ صَدِیقًا لِأَبِی جَہْلٍ إِلَیْہِ بِہَدَایَا مَعَ ابْنٍ لَہُ، فَلَمَّا أَتَاہُ قَالَ:إِنَّ أَبِی یُنْعِمُکَ صَبَاحًا وَیَقُولُ لَکَ إِنْ شِئْتَ أَنْ أَمُدَّکَ بِالرِّجَالِ أَمْدَدْتُکَ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أَزْحَفَ إِلَیْکَ بِمَنْ مَعِی مِنْ قَرَابَتِی فَعَلْتُ، فَقَالَ أَبُو جَہْلٍ: قُلْ لِأَبِیکَ جَزَاکَ اللَّہ وَالرَّحِمَ خَیْرًا، إِنْ کُنَّا نُقَاتِلُ اللَّہ کَمَا یزعم محمد فو اللَّہ مَا لَنَا باللَّہ مِنْ طَاقَۃٍ، وَإِنْ کُنَّا نقاتل الناس، فو اللَّہ إِنَّ بِنَا عَلَی النَّاسِ لَقُوَّۃً، واللَّہ مَا نَرْجِعُ عَنْ قِتَالِ مُحَمَّدٍ حَتَّی نَرِدَ بَدْرًا فَنَشْرَبَ فِیہَا الْخُمُورَ وَتَعْزِفَ عَلَیْنَا فِیہَا الْقِیَانُ، فَإِنَّ بَدْرًا مَوْسِمٌ مِنْ مَوَاسِمِ الْعَرَبِ، وَسُوقٌ مِنْ أَسْوَاقِہِمْ حَتَّی تَسْمَعَ الْعَرَبُ بِہَذِہِ الْوَاقِعَۃِقال المفسرون:فوردوا بدراً وشربوا کؤوس الْمَنَایَا مَکَانَ الْخَمْرِ، وَنَاحَتْ عَلَیْہِمُ النَّوَائِحُ مَکَانَ الْقِیَانِ. ترجمہ :مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں مراد قریش ہیں جو مکہ مکرمہ سے قافلہ کی حفاظت کے لئے نکلے تھے، جب یہ حجفہ پہنچے توخفاف کنانی نے جوابوجہل کادوست تھا، تحائف دے کر اس کی طرف بیٹے کو بھیجا، وہاں پہنچ کراس سے کہاکہ میرے والد نے صبح کے وقت مجھے تیرے پاس بھیجاہے ، وہ تجھ سے پوچھتے ہیں اگرتوچاہے کہ مردوں کے ساتھ تیری مددکروں تومیں مددکروں گااوراگرتوچاہے کہ میں اپنے رشتہ داروں کوتیرے مقابل آنے سے بازرکھوں تومیں وہ کروں گا۔ ابوجہل نے کہا: اپنے با پ سے کہوکہ اللہ تعالی تجھے جزادے اورصلہ رحمی خیرہے ۔ اگرہم اللہ تعالی سے قتال کررہے ہیں ، جیسے محمد(ﷺ) کاخیال ہے تواللہ تعالی کی قسم !اللہ تعالی کے مقابلے میں ہماری طاقت نہیں اوراگرہم لوگوں سے قتال کررہے ہیں تواللہ تعالی کی قسم !ہمیں لوگوں پرقوت حاصل ہے ۔ اللہ تعالی کی قسم !ہم محمد(ﷺ)سے جنگ سے واپس نہیں لوٹیں گے حتی کہ ہم بدرجائیں گے اوروہاں ہم شراب پئیں گے اورہماری باندیاں وہاں ناچیں گی کیونکہ مقام بدرعرب کاایک میلہ اوران کاایک بازارتھا۔ حتی کہ عربوں نے اس واقعہ کانام وہی رکھ دیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جب مشرکین مکہ بدرپہنچے توانہوںنے شراب کی جگہ موت کے پیالوں کو پیااورگانے والی لونڈیوں کی جگہ ان پر نوحہ کرنے والیوں نے نوحہ کیا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۵:۴۹۰)

بطرکے معنی کی تحقیق

الْبَطَرُ قَالَ الزَّجَّاجُ: الْبَطَرُ الطُّغْیَانُ فِی النِّعْمَۃِ وَالتَّحْقِیقُ أَنَّ النِّعَمَ إِذَا کَثُرَتْ مِنَ اللَّہ عَلَی الْعَبْدِ فَإِنْ صَرَفَہَا إِلَی مَرْضَاتِہِ وَعَرَفَ أَنَّہَا مِنَ اللَّہ تَعَالَی فَذَاکَ ہُوَ الشُّکْرُوَأَمَّا إِنْ تَوَسَّلَ بِہَا إِلَی الْمُفَاخَرَۃِ عَلَی الْأَقْرَانِ وَالْمُکَاثَرَۃِ عَلَی أَہْلِ الزَّمَانِ فَذَاکَ ہُوَ الْبَطَرُ. ترجمہ :الامام الزجاج رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ ’’البطر‘‘کامعنی نعمتوںمیں سرکشی کرنا، اس میں تحقیقی بات یہ ہے کہ جب بندوں پر اللہ تعالی کی طرف سے نعمتیں زیادہ ہوں اگروہ ان کو اللہ تعالی کی رضاکے لئے خرچ کریں اوریہ جان رکھیں کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے تویہ شکرہے اوراگراس کے ذریعے اپنے مخالفین پرفخراوراپنے دورکے لوگوں پرکثرت جتانے کاذریعہ بنالے تویہی بطرہے۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۵:۴۹۰)

کفارمکہ کے خلاف حضورتاجدارختم نبوتﷺکی دعائے جلال

رُوِیَ أَنَّہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَآہُمْ فِی مَوْقِفِ بَدْرٍ قَالَ:اللَّہُمَّ إِنَّ قُرَیْشًا أَقْبَلَتْ بِفَخْرِہَا وَخُیَلَائِہَا لِمُعَارَضَۃِ دِینِکَ وَمُحَارَبَۃِ رَسُولِکَ۔ ترجمہ :مروی ہے کہ جب حضورتاجدارختم نبوتﷺنے مکہ کے کافروں کو بدرکے مقام پردیکھاتویوں دعاکی : اے اللہ !یہ قریش اپنے تکبروفخرکے ساتھ تیرے دین سے ٹکراورتیرے رسول کریمﷺسے جنگ کرنے کے لئے آگئے ہیں۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۵:۴۹۰)

اللہ تعالی کے دین کی راہ کوروکنے والے

وَالْبَطَرُ فِی اللُّغَۃِالتَّقْوِیَۃُ بِنِعَمِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا أَلْبَسَہُ مِنَ الْعَافِیَۃِ عَلَی الْمَعَاصِی وَہُوَ مَصْدَرٌ فی موضع الحال أی خرجوا بطرین مراء ین صادین وصدہم إضلال الناس. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ’’البطر‘‘کالغوی معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی کی نعمتوں کے ساتھ اورجو اللہ تعالی نے اس کو عافیت دی ہے اس سے معاصی اورگناہوں پرقربت حاصل کرناہے ، یہ مصدرہے اورحال کے محل میں ہے ۔یعنی وہ نکلے اس حال میںکہ تکبرکرتے ہوئے ، ریاکاری کرتے ہوئے ، اللہ تعالی کے دین سے لوگوں کو روکنے والے تھے اوران کے روکنے سے مراد لوگوں کو گمراہ کرناہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۲۵)

معارف ومسائل

ہالینڈ کے گستاخ نے جب حضورتاجدارختم نبوتﷺکے خلاف خاکے شائع کرنے کااعلان کیاتوپاکستان میں حضورامیرالمجاہدین حضرت اقدس شیخ الحدیث مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی نے ہالینڈ کے سفارت خانے کے محاصرے کااعلان کیااورلاہور سے روانہ ہوئے ،آپ کے ساتھ ہزاروں لوگ نہایت ہی جوش وجذبہ کے ساتھ کوئی گاڑیوں پرتوکوئی موٹر سا ئیکلوں پر چل رہے تھے اورلبیک یارسول اللہ ﷺکی دلنواز صدائوں کے ساتھ فضائوں کوبھی معطرکرتے جارہے تھے ۔ جب یہ قافلہ جہلم پہنچاتو ہالینڈ کے گستاخ کو اس کے سفارت خانے نے اطلاع دی کہ ابھی ہم پرحملہ ہونے والاہے ، لھذاتم ابھی اس گستاخی کے سلسلے کوبندکرو۔ تواسی وقت اس گستاخ کو اس کی حکومت نے مجبورکیاتواس نے بھی اعلان کردیا۔ بحمداللہ یہ معاملہ ان کے سفارت خانے پہنچنے سے بھی پہلے حل ہوگیاجوکہ اہل اسلام کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی تھی جس سے رب تعالی نے ان کو ہمکنارکیاتو اسی وقت امیرالمجاہدین حفظہ اللہ تعالی نے اہل قافلہ کو خطاب فرمایاکہ آپ میں سے کسی کے دل میں یہ بات نہیں آنی چاہئے کہ یہ ہماری وجہ سے سلسلہ موقوف ہواہے ، بلکہ یہ محض فضل ربی ہے اورتم میں سے کسی کے دل میں ذرہ برابربھی تکبروریانہیں آناچاہئے ۔ اورآپ سب لوگ یہاں سے سروں کوجھکائے ہوئے اوراللہ تعالی کاشکرکرتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو چلے جائو۔سبحان اللہ !یہ ہوتی ہیں امیرکی صفات جوکسی بھی لمحے اپنے پیروکاروں کوراہ سے نہ ہٹنے دے ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh