صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2381 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃالانفال آیت ۴۹۔ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ غَرَّ ہٰٓؤُلَآء ِ دِیْنُہُمْ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,615

سوال (Question):

تفسیر سورۃالانفال آیت ۴۹۔ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ غَرَّ ہٰٓؤُلَآء ِ دِیْنُہُمْ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مجاہدین اسلام پراعتراض کرنے میں منافقین اورپاکستانی لبرل وسیکولرطبقہ کی فکرمیں مماثلت

{اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ غَرَّ ہٰٓؤُلَآء ِ دِیْنُہُمْ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَاِنَّ اللہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ }(۴۹) ترجمہ کنزالایمان:جب کہتے تھے منافق اور وہ جن کے دلوں میں ا ٓزار ہے کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہیں اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے کہنے لگے کہ ان مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈالا ہوا ہے اور جو اللہ تعالی پر توکل کرے تو بیشک اللہ تعالی غالب حکمت والا ہے۔

دین کے معاملے میں جن کو شک ہووہ اعتراضات کرتے ہیں

قِیلَ:الْمُنَافِقُونَ: الَّذِینَ أَظْہَرُوا الْإِیمَانَ وَأَبْطَنُوا الْکُفْرَوَالَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ:الشَّاکُّونَ، وَہُمْ دُونَ الْمُنَافِقِینَ، لِأَنَّہُمْ حَدِیثُو عَہْدٍ بِالْإِسْلَامِ، وَفِیہِمْ بَعْضُ ضَعْفِ نِیَّۃٍقَالُوا عِنْدَ الْخُرُوجِ إِلَی الْقِتَالِ وَعِنْدَ الْتِقَاء ِ الصَّفَّیْنِ:غَرَّ ہَؤُلَاء ِ دِینُہُمْ وَقِیلَ:ہُمَا وَاحِدٌ، وَہُوَ أَوْلَی. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بیان کیاگیاہے کہ منافق وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان ظاہرکیااورکفرکوچھپائے رکھااور{وَالَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ مَرَض}سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو دین متین کی حقانیت کے بارے میں شک تھااوریہ لوگ منافقین کے علاوہ ہیں ۔ کیونکہ ابھی وہ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اوران میں بعض ایسے بھی تھے جن کی نیتیں کمزوراورضعیف تھیں ۔ انہوںنے بدرکی طرف نکلتے وقت اورمقابلے کے لئے صفیں باندھتے وقت کہا: {غَرَّ ہَؤُلَاء ِ دِینُہُمْ}اہل اسلام کو ان کے دین نے مغرورکردیاہے ۔ اوریہ بھی کہاگیاہے دونوں سے مراد ایک ہی قسم ہے اوریہی اولی ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۲۵)

وہ منافقین کون تھے؟

أَمَّا الْمُنَافِقُونَ فَہُمْ قَوْمٌ مِنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، وَأَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ فَہُمْ قَوْمٌ مِنْ قُرَیْشٍ أَسْلَمُوا وَمَا قَوِیَ إِسْلَامُہُمْ فِی قُلُوبِہِمْ وَلَمْ یُہَاجِرُواثُمَّ إِنَّ قُرَیْشًا لَمَّا خَرَجُوا لِحَرْبِ رَسُولِ اللَّہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أُولَئِکَ نَخْرُجُ مَعَ قَوْمِنَا فَإِنْ کَانَ مُحَمَّدٌ فِی کَثْرَۃٍ خَرَجْنَا إِلَیْہِ، وَإِنْ کَانَ فِی قِلَّۃٍ أَقَمْنَا فِی قَوْمِنَاقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ:ثُمَّ قُتِلَ ہَؤُلَاء ِ جَمِیعًا مَعَ الْمُشْرِکِینَ یَوْمَ بَدْرٍوَقَوْلُہُ: غَرَّ ہؤُلاء ِ دِینُہُمْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:مَعْنَاہُ أَنَّہُ خَرَجَ بِثَلَاثِمِائَۃٍ وَثَلَاثَۃَ عَشَرَ یُقَاتِلُونَ أَلْفَ رَجُلٍ، وَمَا ذَاکَ إِلَّا أَنَّہُمُ اعْتَمَدُوا عَلَی دِینِہِمْ وَقِیلَ الْمُرَادُ: إِنَّ ہَؤُلَاء ِ یَسْعَوْنَ فِی قَتْلِ أَنْفُسِہِمْ، رَجَاء َ أَنْ یُجْعَلُوا أَحْیَاء ً بَعْدَ الْمَوْتِ وَیُثَابُونَ عَلَی ہَذَا الْقَتْلِ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ منافقین اوس وخزرج تھے جن کے دلوں میں مرض تھا ، اس سے مراد قریش کے لوگ ہیں جواسلام لائے تھے لیکن ان کے دلوں میں اسلام قوی نہ ہوااورانہوںنے ہجرت نہیں کی ، جب قریش حضورتاجدارختم نبوتﷺکے خلاف جنگ کے لئے نکلے توانہوںنے کہاکہ ہم اپنی قوم کے ساتھ نکلتے ہیں ، اگرمحمد(ﷺ) کی جماعت بڑی ہوئی توہم ان کے ساتھ شریک ہوجائیں گے وگرنہ اپنی قوم کے ساتھ ہی رہیں گے ۔ امام محمدبن اسحا ق رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ پھران لوگوں کوبدرکے دن مشرکین کے ساتھ ہی قتل کردیاگیااورارشاد{غَرَّ ہؤُلاء ِ دِینُہُمْ }کے بارے میں حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ آپ ﷺتین سوتیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ نکلے جنہوںنے ایک ہزارمشرکین کے ساتھ جنگ کی اوریہ صر ف اس وجہ سے تھاکہ ان کو اپنے دین پراعتمادتھا۔اوربعض مفسرین نے یہ بھی بیان کیاکہ ان لوگوں کی بات کامطلب یہ تھاکہ یہ مسلمان خود کو قتل کروانے کی کوشش کرتے ہیں اس امیدپرکہ وہ مرنے کے بعد زندہ کردیئے جائیں گے اورانہیں اس قتل ہونے پراجروثواب ملے گا۔(یہی بات منافقین کے نزدیک نعوذ باللہ من ذلک دھوکہ تھا) (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی؟(۱۵:۴۹۳)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازیبابات کرنے والے مرتدہوگئے

وَالَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ من قریش کانوا قد اسلموا ولم یہاجروا لعدم قوۃ إسلامہم ولمنع اقربائہم إیاہم من الہجرۃ فلما خرجت قریش الی بدر أخرجوہم معہم کرہا ولما رأوا قلۃ عدد المسلمین ارتابوا وارتدوا وقالوا لاہل مکۃ غَرَّ ہؤُلاء ِ یعنون المؤمنین دِینُہُمْ إذ خرجوا مع قلۃ عددہم وعددہم لحرب قریش مع کثرتہم وشوکتہم ولم یشکوا بل قطعوا بان قریشا تغلبہم لانہم زہاء الالف والمؤمنون ثلاثمائۃ وبضعۃ عشر فقال اللہ تعالی جوابا لہم وَمَنْ (ہر کہ) یَتَوَکَّلْ عَلَی اللَّہِ ای ومن یسلم امرہ الی اللہ تعالی ویثق بہ وبقضائہ فَإِنَّ اللَّہَ عَزِیزٌ غالب لا یذل من توکل علیہ واستجار بہ وان قل حَکِیمٌ یفعل بحکمتہ البالغۃ ما تستبعدہ العقول وتحار فی فہمہ الباب الفحول۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اوروہ لوگ جن کے دلوں میں مرض تھا، ان سے وہ قریش مراد ہیں ، جو مکہ مکرمہ میں مسلمان توہوچکے تھے لیکن قوت کے فقدان اوراپنے اقرباء کی ممانعت کی وجہ سے ہجرت نہ کی ۔ جب کفارمکہ جنگ بدرکے لئے آئے توانہیں جبرواکراہ کے ساتھ لائے ۔ ایسے لوگوں نے جب دیکھاکہ اہل اسلام توبہت کم ہیں توشک میں پڑکرمرتدہوگئے اوراہل مکہ یعنی کفارسے کہا{غَرَّ ہؤُلاء ِ دِینُہُمْ }ان مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکہ میں مبتلاء کردیاہے ۔ قلت کے باوجود جنگ کے لئے قریش مکہ کے مقابلے میں نکل کھڑے ہیں حالانکہ ان کی کثرت بھی ہے اورشان وشوکت بھی ۔ اورانہوںنے نہ صرف شک کیابلکہ انہیں یقین تھاکہ قریش (کفار) اہل اسلام پرغالب آجائیں گے کیونکہ وہ کفارایک ہزارکے لگ بھگ تھے اوریہ اہل اسلام صرف تین سوتیرہ تھے ۔ اللہ تعالی نے ان مرتدین کو جواب دیتے ہوئے فرمایا{وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہ}اورجولوگ اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ کریں یعنی اپنے جملہ امورکو اسی کے سپردکردیں اوراسی کواپناسہاراجانے اوراسی کی تقدیرکے سامنے اپناسرجھکائے تو{ ِ فَاِنَّ اللہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ }بے شک اللہ تعالی غالب ہے کہ جو اس پر بھروسہ کرے اسے ذلیل وخوارنہیں کرتابلکہ اسے پناہ دیتاہے اگرچہ وہ کتناہی کمزورہو۔اوروہ حکمت والاہے اپنی حکمت سے وہ کام کرتاہے جس کاعقول وفہوم ادراک نہیں کرسکتے بلکہ اس کے امورکودیکھ کربہت بڑے عقل والے حیران رہ جاتے ہیں۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۳۵۸)

معارف ومسائل

(۱)منافقین کہتے تھے کہ اہل اسلام اس وہم میں مبتلاء ہیں کہ یہ اپنے دین کی برکت سے سب پر فاتح ہوجائیں گے ، ان منافقین کے خیال میں گویایہ کامیابی ناممکن ہے ، ان کو یہ معلوم نہیں کہ جوشخص اللہ تعالی کی ذات پراعتمادکرے اوراس کاہوجائے تواللہ تعالی کی مددسے وہ یقیناغالب ہوگا۔ اوریہی بات آجکل کے لبرل وسیکولرکہتے ہیں کہ کفارکے ساتھ کیسے لڑاجائے کیونکہ وہ زورمیں ہیں حالانکہ ان منافقین کو یہ معلوم نہیں کہ اہل اسلام لشکروں اوراسلحہ کے زورپرنہیں بلکہ اللہ تعالی کی مددونصرت سے فتح یاب ہوتے ہیں۔اوراسی کی مددسے ہی قتال کرتے ہیں ۔ (۲)جب مسلمانوں نے بے سروسامانی کی حالت میں اتنے بڑے لشکرسے ٹکر لے لی تو منافقین نے کہا تھا کہ یہ اپنے دین کے گھمنڈ میں بڑا دھوکہ کھا رہے ہیں، ان میں کفار مکہ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ (۳) اہل اسلام کو چاہئے کہ کفارکے طعنے اوران کی باتیں اوران کی بدگویاں یادرکھیں تاکہ ان کے شرسے محفوظ رہیں ۔کافروں کو نہ اپنے مذہب پراعتماد ہوتاہے اورنہ ہی رب تعالی پر، الحمدللہ اہل ایمان کو یہ دونوں اعتمادکامل طورپرحاصل ہیں۔ دین کے بارے میں شبہ اوروسوسہ دل کی بیماریاں ہیںکیونکہ قرآن کریم نے ان کے شک کو مرض فرمایاہے ۔ اللہ تعالی کی ذات پرتوکل کرنے والے مجاہدین اسلام کو بے وقوف کہناکافروں اورمنافقین کاطریقہ ہے ۔ مومن تواپناتن من دھن اسلام پرقربان کرنے میں اپنی سعادت جانتاہے موجودہ دورکے لبرل وسیکولرجو دعوی اسلام کاکرتے ہیں مگریہ بھی اسی بیماری میں گرفتارہیں۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh