Fatwa #2383
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃالانفال آیت ۶۰۔ وَ اَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللہِ وَعَدُوَّکُمْ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,827
سوال (Question):
تفسیر سورۃالانفال آیت ۶۰۔ وَ اَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللہِ وَعَدُوَّکُمْ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حضورتاجدارختم نبوت ﷺکادشمنوں کودہشت زدہ کرنے کے حوالے سے طریقہ مبارکہ
{وَ اَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللہِ وَعَدُوَّکُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِہِمْ لَاتَعْلَمُوْنَہُمْ اَللہُ یَعْلَمُہُمْ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْء ٍ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَ اَنْتُمْ لَاتُظْلَمُوْنَ }(۶۰) ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے لیے تیار رکھو جو قوت تمہیں بن پڑے اور جتنے گھوڑے باندھ سکو کہ ان سے ان کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ جواللہ کے دشمن اور تمہارے دشمن ہیں اور ان کے سوا کچھ اوروں کے دلوں میں جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو گے تمہیں پورا دیا جائے گا اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہو گے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور ان کے لیے جتنا ہوسکے قوت تیار رکھو اور جتنے گھوڑے رکھ سکو تاکہ اس تیاری کے ذریعے تم اللہ تعالی کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو اور جو اُن کے علاوہ ہیں انہیں دھمکائو، تم ان کو نہیں جانتے اوراللہ تعالی انہیں جانتا ہے اور تم جو کچھ اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا بدلہ دیا جائے گااور تم پر کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ مجاہد ین کاناخن بڑھاکرکفارپردہشت طاری کرنا عَنْ الْحَکَمِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہ صَلَّی اللَّہ عَلَیْہِ وآلہ وسلم أن لا نخفی الْأَظْفَارَ فِی الْجِہَادِ وَقَالَ إنَّ الْقُوَّۃَ فِی الْأَظْفَارِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناحکم بن عمیررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضورتاجدارختم نبوتﷺنے حکم دیاکہ ہم جہاد کے دوران اپنے ناخن بڑھائیں اورآپ ﷺنے فرمایاکہ قوت ناخنوں میں ہے ۔ (أحکام القرآن:أحمد بن علی أبو بکر الرازی الجصاص الحنفی (۴:۲۵۳)عیدگاہ میں خواتین کی کثرت سے کفارپررعب طاری کرنا
عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ بِہَذَا الْخَبَرِ قَالَ وَیَعْتَزِلُ الْحُیَّضُ مُصَلَّی المسلمین۔قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِیُّ یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُونَ ذَلِکَ وَالْمُسْلِمُونَ یَوْمَئِذٍ قَلِیلٌ فَأُرِیدَ التَّکْثِیرُ بِحُضُورِہِنَّ إِرْہَابًا لِلْعَدُوِّ وَالْیَوْمَ فَلَا یُحْتَاجُ إِلَی ذَلِکَ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامحمد حضرت سیدتناام عطیہ رضی اللہ عنہاسے روایت کرتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے زمانہ اقدس میں حیض والی خواتین کو بھی عیدگاہ کی طرف آنے کاحکم تھا۔لیکن وہ جماعت سے الگ بیٹھاکرتی تھیں ۔ امام ابوجعفرالطحاوی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ چونکہ اس وقت اہل اسلام تعداد میں کم تھے تواہل اسلام کی تعداد بڑھاکردشمنوں پرخوف طاری کرنے کے لئے فرمایاگیااورآج چونکہ اہل اسلام کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے اس لئے اس کی ضرورت نہیں رہی۔ (التمہید:أبو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر القرطبی (۲۳:۴۰۴)ایک ہی رات میں دشمنوں کو ڈرانے کے لئے دس ہزارمقامات پر آگ روشن کرنا
أن الرسول صلی اللہ علیہ وسلم لما خرج لفتح مکۃ أمر بإیقاد النیران فأوقدوا عشرۃ آلاف نار فی لیلۃ واحدۃ حتی ملأت الأفق، فکان لمعسرکہم منظر مہیب کادت تنخلع قلوب قریش من شدۃ ہولہ، وقد قصد النبی صلی اللہ علیہ وسلم من ذلک إظہار قوۃ المسلمین وتحطیم نفسیات العدو حتی لا یفکروا فی المقاومۃ ویستسلموا وقد تحقق ذلک فإظہار القوۃ أمام الأعداء وإعداد العدۃ لملاقاتہم وسیلۃ عظیمۃ من وسائل حرب العدو نفسیا وبث الخوف والرعب بین مقاتلیہم، وہذا باب من أبواب النصر علی العدو. ترجمہ :الشیخ مرعی بن عبد اللہ بن مرعی الجبیہی الشہری لکھتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺجب مکہ مکرمہ کوفتح کرنے کے لئے روانہ ہوئے توصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آگ روشن کرنے کاحکم ارشادفرمایاتوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک ہی رات میں دس ہزارمقامات پر آگ روشن کردی یہاں تک کہ افق بھی آگ سے بھرگیاتوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کالشکرایک ہیبت ناک منظرپیش کرنے لگاجس کو دیکھ کرقریش کے کافروں کے دل کٹے جارہے تھے اوراس سے حضورتاجدارختم نبوتﷺکاارادہ اہل اسلام کی قوت وطاقت کوظاہرکرنا اوران پردہشت طاری کرنے کاتھااوردشمنوں کونفسیاتی مریض بنانے کاتھااوریہ اس لئے کیاکہ وہ اہل اسلام کے مقابلے کاسوچیں بھی نہ اورسرتسلیم خم کرلیں ۔ اس سے ثابت ہواکہ دشمنوں کے سامنے قوت کااظہارکرنااوران سے ملاقات کے وقت اپنی تعداد کاظاہرکرناجنگ میں کامیابی کے وسائل میں سے ہے اوراس سے دشمنوں کے دلوں میں خوف اوررعب اوردہشت طاری کرنابھی دشمن پرفتح پانے کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے ۔ (أحکام المجاہد بالنفس فی سبیل اللہ عز وجل فی الفقہ الإسلامی:مرعی بن عبد اللہ بن مرعی الجبیہی الشہری(۱:۲۵۳)حضورتاجدارختم نبوتﷺکادشمن پردہشت طاری کرنے کے لئے درخت کٹوانا
أن أول عمل حربی قام بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعد إنذار الیہود ہو الشروع فی الاستیلاء علی مزارعہم: ونخیلہم، کما قام المسلمون بقطع النخیل إرہابا للعدو وکان جملۃ ما قام المسلمون بقطعہ من النخیل أربعمائۃ نخلۃ، ثم نہی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن القطع فتوقف المسلمون۔ ترجمہ :الشیخ محمد بن أحمد باشمیل لکھتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے یہودیوں کو ڈرسنانے کے بعد سب سے پہلاحربی کام جوکیاوہ ان کی کھیتوں کواجاڑنااوران کے کھجورکے درختوں کو کاٹناتھاکیونکہ اس میں دشمنوں کو خوف زدہ کیاگیااورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکاحکم ملتے ہی ان یہودیوںکے چارسوکھجورکے درخت کاٹ دیئے پھرحضورتاجدارختم نبوتﷺنے منع فرمادیاتوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی رک گئے۔ (من معارک الإسلام الفاصلۃ:محمد بن أحمد باشمیل(۶:۱۰۲)حضورتاجدارختم نبوتﷺ کے ایک فرمان شریف کامطلب
وَمَعْنَی قَوْلِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:أَلَا إنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ أَنَّہُ مِنْ مُعْظَمِ مَا یَجِبُ إعْدَادُہُ مِنْ الْقُوَّۃِ عَلَی قِتَالِ الْعَدُوِّ، وَلَمْ یَنْفِ بِہِ أَنْ یَکُونَ غَیْرَہُ مِنْ الْقُوَّۃِ، بَلْ عُمُومُ اللَّفْظِ شَامِلٌ لِجَمِیعِ مَا یُسْتَعَانُ بِہِ عَلَی الْعَدُوِّ مِنْ سَائِرِ أَنْوَاعِ السِّلَاحِ وَآلَاتِ الْحَرْبِ۔ ترجمہ :امام أحمد بن علی أبو بکر الرازی الجصاص الحنفی المتوفی: ۳۷۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایاکہ قوت رمی(تیراندازی میں ہے ) تواس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ تیراندازی کے علاوہ اورکوئی قوت نہیں ہے ۔ بلکہ اس میں ہرطرح کااسلحہ اورآلات حرب آجاتے ہیں ۔ (أحکام القرآن:أحمد بن علی أبو بکر الرازی الجصاص الحنفی (۳:۸۹)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاعمل شریف
حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کامونچھوں کوتائودینا عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ إِذَا غَضِبَ فَتَلَ شَارِبَہُ، وَنَفَخَ۔ ترجمہ حضرت سیدناعامربن عبداللہ بن الزبیررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ جلال میں ہوتے تواپنی مونچھوں کو تائودیتے اوراوپرکی جانب پھونک ماراکرتے تھے۔ (المعجم الکبیر:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (ا:۶۶)حضرت سیدناابودجانہ رضی اللہ عنہ کی فاخرانہ چال سے دشمن کاڈرنا
وَکَانَ أبو دجانۃ رجلا شجاعا خیالا عند الحرب إذا کانت، وَکَانَ إذا أعلم بعصابۃ حمراء عصبہا عَلَی رأسہ علم الناس أَنَّہُ سیقاتل، فلما أخذ السیف من ید رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أخرج عصابتہ تِلْکَ فعصبہا برأسہ، فجعل یتبختر بین الصفین.عن معاویۃ بن معبد بن کعب بن مالک:أن رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ حین رأی أبا دجانۃ یتبختر:إنہا لمشیۃ یبغضہا اللہ إلا فِی مثل ہَذِہ الموطن۔ ترجمہ: امام ابن الاثیرالمتوفیء : ۶۳۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناابودجانہ رضی اللہ عنہ بڑے بہادراورہرایک کاڈٹ کرمقابلے کرنے والے تھے ، جب آپ رضی اللہ عنہ سرخ رنگ کی پٹی باندھ لیتے تولوگ جان لیتے تھے کہ یہ اب قتال کریں گے ۔جب انہوں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺسے تلوارلی اورانہوںنے وہ پٹی نکال کراپنے سرپرباندھ لی،پھروہ دونوں صفوں کو چیرناشروع ہوگئے ۔حضرت سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضورتاجدارختم نبوتﷺنے حضرت سیدناابودجانہ رضی اللہ عنہ کو دیکھاکہ وہ صفوں کو چیرتے ہوئے اورفاخرانہ چال چلتے ہوئے جارہے ہیں توحضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایاکہ بے شک یہ چال اللہ تعالی کو انتہائی ناپسندہے مگرجب اللہ تعالی کے دشمن کے سامنے اس طرح چلاجائے توپھراللہ تعالی یہ چال بھی پسندفرماتاہے۔ (أسد الغابۃ :أبو الحسن علی بن أبی الکرم محمد بن محمد بن عبد الکریم عز الدین ابن الأثیر (۶:۹۲) ہتھیاروں پر ریشم ودیباج چڑھانااوردشمن کو خوف زدہ کرنا وروی وکیع بإسنادہ قال قال ناس من المہاجرین لعمر بن الخطاب إنا إذا لقینا العدو وأریناہم قد کفروا علی سلاحہم بالحریر والدیباج فرأینا لذلک ہیبۃ فقال عمر وانتم أن شئتم فکفروا علی سلاحکم بالحریر والدیباج ولأن فی ذلک إرہابا للعدو وکسرا لقلوبہم وإظہارا لأبہۃ جیش الإسلام ۔ ترجمہ :حضرت سیدناوکیع رضی اللہ عنہ نے اپنی اسناد سے بیان کیاہے کہ حضرات مہاجرین رضی اللہ عنہم نے حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کی :جب میدان کارزار میں دشمن کے سامنے جاتے ہیں توان کی تلواروں پر ریشم ودیباج چڑھے ہوتے ہیں تواس سے ہیبت طاری ہوتی ہے ۔حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ اگرتم چاہوتوتم بھی اپنے ہتھیاروں پر ریشم اوردیباج چڑھالوکیونکہ اس سے دشمن کوڈرایاجاتاہے اوران کے دل ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جاتے ہیں اوراس سے لشکراسلام کی دھاک ان کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے ۔ (شرح عمدۃ الفقہ :تقی الدین أبو العباس أحمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام (۱:۳۰۵) کفارپردہشت طاری کرنے کے مزیدطریقے لمبی مونچھیں رکھ کرکفارپررعب طاری کرنا وَحکی بن دَقِیقِ الْعِیدِ عَنْ بَعْضِ الْحَنَفِیَّۃِ أَنَّہُ قَالَ لَا بَأْسَ بِإِبْقَاء ِ الشَّوَارِبِ فِی الْحَرْبِ إِرْہَابًا لِلْعَدُوِّ ۔ ترجمہ :امام احمد بن علی بن حجر أبو الفضل العسقلانی الشافعی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ امام ابن دقیق العید رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں ائمہ حنفیہ فرماتے ہیں کہ مجاہد جنگ کی حالت میں لمبی مونچھیں رکھے تاکہ دشمن پررعب طاری ہوتویہ اس کے لئے جائز ہے ۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری:احمد بن علی بن حجر أبو الفضل العسقلانی الشافعی(۱۰:۳۴۸) اہل علم کامسلک وذکر بعض أہل العلم أیضا أنہ لا بأس بإبقاء الشارب علی حالہ فی زمن الحرب إرہابا للعدو۔ ترجمہ :اوربعض اہل علم فرماتے ہیں کہ جنگ کے زمانے میں مجاہدکامونچھیں لمبی رکھنابالکل جائز ہے ۔ (فتاوی الشبکۃ الإسلامیۃ:لجنۃ الفتوی بالشبکۃ الإسلامیۃ(۱۱:۱۲۷)دشمن کو ڈرانے کے لئے مبارزت کی دعوت دینا
أَنَّہُ لَا بَأْسَ بِذَلِکَ إِرْہَابًا لِلْعَدُوِّ، وَطَلَبًا لِلشَّہَادَۃِ وَتَحْرِیضًا عَلَی الْقِتَالِ. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ دعوت مبارزت دینے کے لئے صف سے نکلنے میں ایک قول یہ ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس میں دشمن اسلام کو ڈرایاجاتاہے اوراس کے ذریعے سے شہادت طلب کی جاتی ہے اورقتال پربرانگیختہ کیاجاتاہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۱۸:۲۲)دشمنوں کو ڈرانے میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکاعمل شریف
فخرج رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم إرہابا للعدو حتی انتہی إلی حمراء الأسد علی ثمانیۃ أمیال من المدینۃ فأقام بہا یوم الإثنین والثلاثاء والأربعاء ثم رجع إلی المدینۃ ۔ ترجمہ:امام محمود الألوسی أبو الفضل رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺدشمنوں کو ڈرانے کے لئے مدینہ منورہ سے بھی آٹھ میل دور مقام حمراء الاسدتک تشریف لے آئے اوروہاں پیر، منگل اوربدھ تین دن قیام فرمایااوراس کے بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لائے۔ (روح المعانی : محمود الألوسی أبو الفضل(۳:۳۴۵)جنگ سے پہلے اسلحہ تیارکرکے دشمن پررعب طاری رکھیں
أمر اللہ تعالی المؤمنین فی ہذہ الآیۃ بإعداد السلاح والکراع قبل وقت القتال إرہابا للعدو۔ ترجمہ :امام أحمد بن علی الرازی الجصاص أبو بکرالحنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ اللہ تعالی نے اہل ایمان کو حکم دیاہے کہ وہ جنگ کے وقت پہلے اسلحہ اورجنگی سواریاں تیاررکھیں تاکہ دشمن پردہشت طاری ہو۔ (أحکام القرآن:أحمد بن علی أبو بکر الرازی الجصاص الحنفی (۴:۲۵۳)گھوڑے کے ہنہنانے سے دشمن پررعب طاری کرنا
وکانت الصحابۃ یستحبون ذکور الخیل عند الصفوف لکونہا أَقوی علی الکر والفر ، ولکون صہیلہا إِرہابا للعدووإِناثہا عند البیات والغارات لقلۃ صہیلہا ۔ ترجمہ :الشیخ اطیفش اباضی لکھتے ہیںکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنگ کی صفوںمیں گھوڑا(نر)رکھناپسندفرماتے تھے کیونکہ یہ ہنہناتاہے اوراس کے ہنہنانے سے کافروں پررعب طاری ہوتاہے اورمونث جوگھوڑی ہوتی ہے وہ جنگ کے وقت کم ہنہناتی ہے ۔ (تفسیر اطفیش :أطفیش إباضی(۳:۳۰۷)دشمن کوڈرانے کے لئے ایک ہی مجاہدکاحملہ کردینا
ذکر الإمام محمد بن الحسن فی کتابہ السیر الکبیر أنہ لو حمل رجل واحد علی ألف رجل من المشرکین وہو وحدہ لم یکن بذلک بأس إذا کان یطمع فی نجاۃ أو نکایۃ فی العدو، فإن لم یکن کذلک فہو مکروہ؛ لأنہ عرض نفسہ للتلف فی غیر منفعۃ للمسلمین. فإن قصد تجرئۃ للمسلمین علیہم حتی یصنعوا مثل صنعہ فلا یبعد جوازہ، لأن فیہ منفعۃ للمسلمین علی بعض الوجوہ، وإن قصد إرہابا للعدو، ولیعلم صلابۃالمسلمین فی الدین فلا یبعد جوازہ. ترجمہ :الشیخ ابوزہرہ المصری رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ امام محمدبن حسن الشیبانی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب ’’السیرالکبیر‘‘ میں لکھاہے کہ اگرکوئی مسلمان مشرکین کے ایک ہزارکے لشکرپرتلواراٹھالے تواس میں کوئی حرج نہیں ہے ، جب کے اس کو امیدہوکہ یہ خود بھی ان سے نجات پالے گااوردشمنوں کو ڈرالے گا، اگرایسانہ ہوتوپھراس کے لئے مکروہ ہے ، اس لئے کہ اس میں اپنے آپ کو ہلاکت پرپیش کرناہے جس میں اہل اسلام کاکوئی نفع نہیں ہے ۔ہاں اگراس کاارادہ ہوکہ اس کے فعل سے اہل اسلام کاحوصلہ بڑھ جائے اوراہل اسلام ان کے ساتھ لڑنے پرجری ہوجائیں توپھریہ جائز ہے اس لئے کہ اس میں اہل اسلام کے لئے بہت سی وجوہ سے نفع ہے اوراگراس کاارادہ ہوکہ دشمن پررعب اوراہل اسلام کودین میں پختگی حاصل ہوتوپھراس کاایساکرنابالکل جائز ہے ۔ (زہرۃ التفاسیر :الإمام الجلیل محمد أبو زہرۃ(۱:۵۹۶)جہاد میں ریشمی لباس پہن کرکافروں کوڈرانا
ونقل ابن حبیب عن ابن الماجشون استحباب لبس الحریر فی الجہاد والصلاۃ بہ حینئذ إرہابًا للعدوّ ولقذف الرعب والخشیۃ فی قلوبہم، ولذا رخص فی الاختیال فی الحرب ۔ ترجمہ :امام ابن حبیب رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ امام ابن ماجشون رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جہاد میں دشمن کے سامنے ریشمی لباس پہننااوراس میں نماز اداکرنابالکل جائز ہے کیونکہ اس سے رعب طاری ہوتاہے اورکافروں کے دل ڈرجاتے ہیں جیساکہ حالت جنگ میں اکڑکرچلنے کی اجازت ہے ۔ (إرشاد الساری لشرح صحیح البخاری:أحمد بن محمد بن أبی بکر بن عبد الملک القسطلانی (۵:۱۰۳)تلوارکو چاندی کے ساتھ مزین کرکے دشمن پررعب طاری کرنا
وَأَمَّا تَحْلِیَۃُ السَّیْفِ بِالْفِضَّۃِ فَحَکَی بَعْضُہُمْ الِاتِّفَاقَ عَلَی جَوَازِ ذَلِکَ؛ لِأَنَّ فِیہِ إرْہَابًا لِلْعَدُوِّ۔ ترجمہ :امام علی بن احمدبن مکرم العدوی المتوفی : ۱۱۸۹ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ مجاہدکااپنی تلوارکو چاندی کے ساتھ محلی کرناجائز ہے ، کیونکہ اس کے جواز پرائمہ کااتفاق ہے کیونکہ اس سے دشمن پرخوف طاری ہوتاہے ۔ (حاشیۃ العدوی علی شرح کفایۃ الطالب الربانی:أبو الحسن علی بن أحمد بن مکرم الصعیدی العدوی (۲:۴۵۰)سیاہ خضاب لگاکرکافروں پردہشت طاری کرنا
خِضَابُ الشَّیْبِ بِالسَّوَادِ حَرَامٌإلَّا لِلْمُجَاہِدِ)فِی الْکُفَّارِ فَلَا بَأْسَ بِہِ إرْہَابًا لِلْعَدُوِّ بِإِظْہَارِ الشَّبَابِ وَالْقُوَّۃِ. ترجمہ :امام زکریا بن محمد بن زکریا الأنصاری، زین الدین أبو یحیی السنیکی المتوفی : ۹۲۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ سیاہ خضاب لگاناحرام ہے سوائے مجاہدکے ، اس کے لئے کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس میں جوانی اورقوت ظاہرکرکے دشمن کوڈرایاجاتاہے ۔ (أسنی المطالب فی شرح روض الطالب:زکریا بن محمد بن زکریا، زین الدین أبو یحیی السنیکی (۱:۵۵۱)عیدگاہ کی طرف مجاہدکاسوارہوکرجانادشمن پررعب طاری کردے گا
نَعَمْ یُنْدَبُ الرُّکُوبُ لِلْغُزَاۃِ إرْہَابًا لِلْعَدُوِّ۔ ترجمہ :الشیخ الامام أحمد سلامۃ القلیوبی وأحمد البرلسی عمیرۃ رحمہمااللہ تعالی فرماتے ہیں کہ عیدکے دن مجاہدین کو سوارہوکرعیدگاہ کی طرف جانامستحب ہے کیونکہ اس میں دشمن پرخوف طاری کرناپایاجاتاہے ۔ (حاشیتا قلیوبی وعمیرۃ:أحمد سلامۃ القلیوبی وأحمد البرلسی عمیرۃ(۱:۳۵۶)حاکم اسلام اچھالباس پہن کرکفارپردہشت طاری کرے
إذا قدموا علیک)فیہ استحباب التجمل بأحسن ما یجد من ثیابہ إذا قدم علی الإمام رسول من ملوک الکفار أو بعض نوابہ، فإن فیہ إرہابًا للعدو، وفیہ إظہار نعم اللہ تعالی. ترجمہ :امام شہاب الدین أبو العباس أحمد المقدسی الرملی الشافعی المتوفی : ۸۴۴ھ) رحمہ اللہ تعالی حاکم اسلام کو فرماتے ہیں کہ جب تیرے پاس کافرحکمرانوں کاقاصدیاان کاکوئی نائب حاکم آئے توتیرے لئے مستحب ہے کہ تووہ لباس زیب تن کرجو تیرے پاس سب سے خوبصورت ہوکیونکہ اس میں ایک تودشمن پردہشت طاری ہوگی اوردوسرااللہ تعالی کی نعمت کااظہارہوگا۔ (شرح سنن أبی داود:شہاب الدین أبو العباس أحمد المقدسی الرملی الشافعی (۵:۴۳۵)جہاد والے گھوڑے سے بھی شیاطین بھاگتے ہیں
ویقال ان الجن لا تدخل بیتا فیہ فرس ولا سلاح ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی :۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ شیطان اس گھرمیں داخل نہیں ہوتا جس گھرمیں جہادوالاگھوڑاہویاجہاد میں استعمال ہونے والاہتھیارہو۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۳۶۵)جہاد والے گھوڑے کاہنہناناشیطان کو خوف زدہ کردیتاہے
وَقِیلَ: إِنَّ صَہِیلَ الْخَیْلِ یُرْہِبُ الْجِنَّ، وَإِنَّ الْجِنَّ لَا تَقْرَبُ دَارًا فِیہَا فَرَسٌ۔ ترجمہ:امام محمدبن جریرالطبری المتوفی :۳۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بے شک جہاد والے گھوڑے کاہنہناناجنوں کو خوف زدہ کردیتاہے اوربے شک جن اس گھرکے قریب ہی نہیں آتے جس گھرمیں جہاد پرجانے والاگھوڑاہو۔ (تفسیر الطبری:محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۱۱:۳۵۰) مفسرشہیرمفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ تیاری جہاد سے کافرجن بھی ڈرتے ہیں اورایسے گھرمیں بھی وہ نہیں جاتے جہاں جہاد کے ہتھیارپڑے ہوئے ہوں۔(تفسیرنعیمی ( ۱۰:۷۸)کفارکے سامنے اکڑکرچلناجائز ہے
التَّکَبُّرَ إِمَّا أَنْ یُحْتَاجَ إِلَیْہِ، أَوْ لاَ یُحْتَاجَ إِلَیْہِ.فَإِنِ احْتِیجَ إِلَیْہِ کَانَ مَحْمُودًا، کَالتَّکَبُّرِ عَلَی الظَّلَمَۃِ، وَعَلَی أَعْدَاء ِ اللَّہِ مِنَ الْکُفَّارِ الْمُحَارِبِینَ، وَنَحْوِہِمْ، وَلِذَلِکَ جَازَ الاِخْتِیَال فِی الْحَرْبِ إِرْہَابًا لِلْعَدُوِّ۔ ترجمہ :اگرتکبرکی ضرورت ہوتوپھرتکبرکرنامحمود اورپسندیدہ ہے جیساکہ ظالموں کے سامنے تکبرکرنااوراللہ تعالی کے دشمنوں کے سامنے اکڑناجواہل اسلام کے خلاف برسرپیکارہوں اورجتنے بھی ان جیسے لوگ ہوں اسی وجہ سے جنگ کی حالت میں کافروں کے سامنے اکڑکرچلناجائز ہے تاکہ دشمنوں پردہشت طاری ہو۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:(۴:۱۶۷)معارف ومسائل
(۱) اس جنگی قوت کافائدہ دشمنوں کو خوف دلاناہے کیونکہ دشمن نہ کسی علم سے ڈرتے ہیں اورنہ ہی کسی معاہدے سے ، نہ کسی صنعت وحرفت سے ، نہ لبرل وسیکولرکے لباس وعادات سے ، وہ توصرف اورصرف قوت جنگ سے ڈرتے ہیں، جس میں یہ قوت وطاقت موجود ہے اسی کی عزت ہے اوراسی کے معاہدے کااحترام کیاجاتاہے ۔ (۲) دنیاکی سرکش طاقتوں اورشیطانی حکومتوںنے ہمیشہ صرف قوت وطاقت کے آگے سرجھکایاہے ، اخلاقیات کاوعظ نوع انسانی کی ہمدردی اورعلوم ومعارف کی نشرواشاعت ان لوگوںکے نزدیک دلفریب الفاظ ہیں مگرکبھی شرمندہ معنی نہ ہوئے۔ امن وسلامتی نے جب کبھی پناہ لی ہے توتلوارکے سایہ میں اورعہدکی پابندی بھی ہوئی ہے تواسی وقت جب دیکھاکہ دشمن زیادہ طاقتورہے ورنہ ان عہدناموں کی کاغذکے پرزوں سے زیادہ وقعت نہ کی گئی اوربعض لوگ توطاقت کے غرورمیںیہاں تک پکاراٹھے کہ عہدنامے صرف اورصرف توڑنے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ (۳) اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہواکہ اہل اسلام ہرطرح کے جدیدہتھیارتیارکریں اورخود بنائیں ، ضرورت پڑے تودوسروںسے بھی خریدے جاسکتے ہیں، لیکن صرف خریداری پرہی موقوف نہ رکھیں آجکل توجدیداسلحہ بنانے والے اہل کفرہی ہیں اورکفرملت واحدہ ہے ، وہ کافروں کو پہلے دیں گے اورزیادہ دیں گے اورمسلمانوں کواگرچاہیں گے توتھوڑے ہتھیاردیں گے اورقیمت بہت زیادہ لیں گے ۔ مسلمانوں کی یہ کتنی بڑی غفلت ہے کہ اہل کفرسے ہتھیارخریدتے ہیں اورخود نہیں بناتے اوراہل کفرکواپنے اوپرمسلط کررکھاہے ، وہ مجبورکرتے ہیں کہ تم کیابنارہے ہو، جوبھی بنائوہمیں بھی دکھائو، اس کامطلب یہ ہواکہ ہماری اپنی کوئی بھی حیثیت نہیں ہے ، یہی ہماری بہت بڑی بھول ہے ، اسلام نے ہمیں برترہوکرزندہ رہنے کاحکم دیاہے ، کافروں کے سامنے جھکنے سے منع کیاہے اوران کو اپنارازداربنانے سے سخت ممانعت کی ہے ۔ (۴)تیاری جہاد ہرزمانہ کے لحاظ سے مختلف ہے ، جس نوعیت کاجہاد اسی نوعیت کی تیاری ۔ اس زمانہ میں جہاد کے گھوڑے دوڑانااورنیزہ بازی سیکھناضروری تھاکہ جہاد انہیں چیزوں سے ہوتاتھا، مگربندوق کی نشانہ بازی ، توپ چلانا، ہوابازی ، راکٹ اندازی اوربم برسانے وغیرہ کی مشق جہاد کی تیاری ہے کیونکہ اب جہاد انہیں چیزوں سے ہوتاہے ، اللہ تعالی کایہ فرمان شریف ان سب کو شامل ہے۔ حربی کافروں کو ڈرانا، دھمکانا، انہیں اپنی فضیلتیں دکھانا، ان سے ہمت وبہادری کی باتیں کرناسب کچھ جائز بلکہ عبادت ہے ،حتی کہ مجاہد وغازی کابحالت جہاد خضاب لگاناجائز ہے تاکہ دشمن اس کو بوڑھانہ جانے ، اس کے دل میں اس کارعب بیٹھ جائے ، ویسے ہرحال میں خضاب ممنوع ہے ۔ دشمن کے سامنے اکڑکرچلنابہادری کی باتیں کرنابھی ثواب ہے کیونکہ اس سے اس کافرکے دل میں رعب طاری ہوگا۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے عمرۃ القضاء میں طواف کے تین چکروں میں رمل کرنے کاحکم دیایعنی اکڑکرپہلوانوں کی طرح چلناجواب تک قائم ہے ۔ اس کے برعکس اہل اسلام کوڈرانادھمکانا، بلاوجہ اس پررعب جماناممنوع ہے ، مسلمانوں سے میل محبت رکھنا، ان کی دل جوئی کرناثواب ہے کیونکہ اہل ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں دشمن نہیں ۔ اللہ تعالی کے مقبول بندوں کادشمن اللہ تعالی کادشمن ہے کیونکہ کفارعرب تواللہ تعالی کے دشمن نہیں تھے ، اس کی تووہ عبادت کرتے تھے ۔ وہ توحضورتاجدارختم نبوتﷺکے اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمن تھے ، ان کو رب تعالی نے اپنادشمن قراردیا۔(تفسیرنعیمی ( ۱۰:۷۷) (۵)مذکورہ بالا آیت ِ کریمہ فتح و نصرت اور غلبہ و عظمت کی عظیم تدبیر پر مشتمل ہے اور اس آیت کی حقانیت سورج کی طرح روشن ہے جیسے آج کے دور میں دیکھ لیں کہ جس ملک کے پاس طاقت و قوت اور اسلحہ و جنگی سازوسامان کی کثرت ہے اس کا بدترین دشمن بھی اس پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرتا جبکہ کمزور ملک پر سب مل کر چڑھ دوڑنے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں ، جیسے ایک بڑی طاقت اپنا سب سے بڑا دشمن دوسری بڑی طاقتوں کو سمجھتی ہے لیکن آج تک اس پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کی کیونکہ اُن کے پاس دماغ ٹھیک کرنے کے نسخے موجود ہیں لیکن وہی بڑی طاقتیں اور عالمی امن کے جھوٹے دعویدار کمزور ممالک کو طاقت دکھانے میں شیرہیں اور ان ممالک میں ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ اِسی آیت پر کچھ عمل کی برکت ہے کہ پاکستان پر کھلم کھلا حملہ کرنے کی جسارت کسی کو نہیں ہورہی کیونکہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے ۔ اگر مسلمان مل کر اِس آیت پر عمل کریں تو کیا مجال کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت مسلمانوں کو تنگ کرسکے۔ (تفسیرصراط الجنان(۴:۳۵) (۶)اس سے معلوم ہواکہ جہاد کے لئے گھوڑے تیارکرناانتہائی اہمیت کاحامل ہے کیونکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اس کے متعلق بہت زیادہ ترغیب دلائی ہے اورخود حضورتاجدارختم نبوتﷺنے بھی جہاد کے لئے مختلف مواقع پر گھوڑوں کااستعمال فرمایاہے جیساکہ اسلام کی ابتدائی جنگوں میں توصحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیدل جہاد کے لئے جایاکرتے تھے ، انہیں گھوڑے کی سہولت حاصل نہیں تھی ، احدکی لڑائی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس صرف دوگھوڑے تھے ، بنی قریظہ کے محاصرے کے وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس کل چھے گھوڑے تھے ، جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بنی قریظہ سے بہت زیادہ مقدارمیں غنیمت ملی توحضورتاجدارختم نبوتﷺنے ان کے قیدی اوردیگرسامان نجد کی طرف بھیجاجہاں اہل اسلام نے ان کے بدلے گھوڑے اوراسلحہ خریدا۔چنانچہ غزوہ خیبرمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس دوسوگھوڑے تھے ، اسی طرح اہل اسلام جنگی سامان خصوصاًگھوڑوں میں ترقی کرتے رہے یہاں تک کہ تبوک کے موقع پراسلامی لشکرکی تعداد تیس ہزارتھی جن میں دس ہزارگھڑسوارتھے ۔ بحمداللہ تعالی سورۃ الانفال ۳۰ شوال المکرم ۱۴۴۱ھ/۲۲جون ۲۰۲۰ء)بروزپیرشریف نوبج کر۱۲ منٹ پرختم ہوئی )
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9