صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2388 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۱۲۔ وَ اِنْ نَّکَثُوْٓا اَیْمٰنَہُمْ مِّنْ بَعْدِ عَہْدِہِمْ وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,304

سوال (Question):

تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۱۲۔ وَ اِنْ نَّکَثُوْٓا اَیْمٰنَہُمْ مِّنْ بَعْدِ عَہْدِہِمْ وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضورتاجدارختم نبوتﷺاوردین کے گستاخ کاشرعی حکم

{وَ اِنْ نَّکَثُوْٓا اَیْمٰنَہُمْ مِّنْ بَعْدِ عَہْدِہِمْ وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ فَقٰتِلُوْٓا اَئِمَّۃَ الْکُفْرِ اِنَّہُمْ لَآ اَیْمٰنَ لَہُمْ لَعَلَّہُمْ یَنْتَہُوْنَ }(۱۲) ترجمہ کنزالایمان:اور اگر عہد کرکے اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر منہ آئیں تو کفر کے سرغنوں سے لڑو بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں اس امید پر کہ شاید وہ باز آئیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور اگرعہد کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین اسلام میں طعنہ زنی کریں تو کفرکے سرغنوں سے لڑو، بیشک ان کی قسموں کی کوئی حیثیت نہیں ان سے لڑوتا کہ یہ باز آئیں۔

دین میں طعن کرنے والاواجب القتل ہے

اسْتَدَلَّ بَعْضُ الْعُلَمَاء ِ بِہَذِہِ الْآیَۃِ عَلَی وُجُوبِ قَتْلِ کُلِّ مَنْ طَعَنَ فِی الدِّینِ، إِذْ ہُوَ کَافِرٌوَالطَّعْنُ أَنْ یَنْسُبَ إِلَیْہِ مَا لَا یَلِیقُ بِہِ، أَوْ یَعْتَرِضُ بِالِاسْتِخْفَافِ عَلَی مَا ہُوَ مِنَ الدِّینِ، لِمَا ثَبَتَ مِنَ الدَّلِیلِ الْقَطْعِیِّ عَلَی صِحَّۃِ أُصُولِہِ وَاسْتِقَامَۃِ فُرُوعِہِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بعض علماء کرام نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیاہے کہ دین میں طعن کرنے والے ہر آدمی کو قتل کرناواجب ہے کیونکہ وہ کافرہے اورطعن کامعنی یہ ہے کہ دین کی طرف ایسی چیز کی نسبت کرناجو اس کے لائق اورمناسب نہ ہویاکسی دینی حکم کو حقیرجانتے ہوئے اس پراعتراض کرناجبکہ اس کے اصول کاصحیح ہونااوراس کے فروع کادرست ہونادلیل قطعی سے ثابت ہو۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۸۱) حضورتاجدارختم نبوت ﷺکاگستاخ واجب القتل ہے وَقَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ:أَجْمَعَ عَامَّۃُ أَہْلِ الْعِلْمِ عَلَی أَنَّ مَنْ سَبَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْہِ الْقَتْلُ. وَمِمَّنْ قَالَ ذَلِکَ مَالِکٌ وَاللَّیْثُ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ، وَہُوَ مَذْہَبُ الشَّافِعِیِّ. ترجمہ :امام ابن المنذررحمہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ تمام اہل علم نے اس پراجماع کیاہے کہ جس نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کی اس کی سزاقتل ہے اورجنہوںنے یہ کہاہے ان میں سے امام مالک رضی اللہ عنہ ، امام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہ اورامام اسحا ق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اوریہی امام شافعی رضی اللہ عنہ کامذہب ہے ۔ (التفسیر الوسیط للقرآن الکریم:محمد سید طنطاوی(۶:۲۲۰) گستاخوں اوران کے سرپرستوں کوقتل کرنے کاحکم فَقاتِلُوا أَئِمَّۃَ الْکُفْرِأَیْ مَنْ أَقْدَمَ عَلَی نَکْثِ الْعَہْدِ وَالطَّعْنِ فِی الدِّینِ یَکُونُ أَصْلًا وَرَأْسًا فِی الْکُفْرِ، فَہُوَ مِنْ أَئِمَّۃِ الْکُفْرِ عَلَی ہَذَاوَیَحْتَمِلُ أَنْ یُعْنَی بِہِ الْمُتَقَدِّمُونَ وَالرُّؤَسَاء ُ مِنْہُمْ، وَأَنَّ قِتَالَہُمْ قِتَالٌ لِأَتْبَاعِہِمْ وَأَنَّہُمْ لَا حُرْمَۃَ لَہُمْ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ {فَقاتِلُوا أَئِمَّۃَ الْکُفْر}کے تحت فرماتے ہیں کہ جومعاہدہ توڑنے اوردین میں طعن کرنے کااقدام کرے وہی کفرمیں اصل اورسردارہوگااوراس بناء پروہ کفرکے ائمہ میں سے ہوگااوریہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد ان کے متقدمین اورگستاخوں کے وڈیرے ہوں اوریہ کہ ان کے متبعین کوقتل کرناہے اوریہ کہ ان کے لئے کوئی حرمت وعزت نہیں ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۸۱)

دشمنان اسلام کارد بلیغ

لَعَلَّہُمْ یَنْتَہُونَ متعلق بقولہ فقاتلوا ای قاتلوہم ارادۃ ان ینتہوا ای لیکن غرضکم من القتال انتہاء ہم عما ہم علیہ من الکفر وسائر العظائم التی یرتکبونہا لا إیصال الاذیۃ کما ہو دیدن المؤذین والاذیۃ ہو المکروہ الیسیر۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ {لَعَلَّہُمْ یَنْتَہُونَ}سے نصرانیوں اوردشمنان اسلام کارد ہوگیاجوکہتے ہیں کہ اسلام تلوارکے زورپرپھیلاہے ، ہم کہتے ہیں کہ ان سے تلوارکی لڑائی توصرف دفاع کے لئے تھی ، اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ قرآن کریم میں فرمایاکہ اے اہل اسلام !تمھاراان کے ساتھ جنگ کرناایذاکے لئے نہ ہوبلکہ انہیں ان کی غلط کاریوں سے روکنے کے لئے ہو، جب وہ غلط کاریوں سے باز آجائیں توتم ان سے نہ لڑو، اسی لئے کفرسے باز آنے والے کواسلام معمولی ایذادینے کابھی روادارنہیں ہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۳۹۲)

گستاخ اگرتوبہ کرلے توقتل پھربھی کیاجائے گا

وقیل لا یسقط اسلام الذمی الساب قتلہ لانہ حق النبی علیہ السلام وجب علیہ لہتکہ حرمتہ وقصدہ لحاق النقیصۃ والمعرۃ بہ علیہ السلام فلم یکن رجوعہ الی الإسلام مسقطالہ کما لم یسقط سائر حقوق المسلمین من قبل إسلامہ من قتل او قذف وإذا کنا لا نقبل توبۃ المسلم فلان لا نقبل توبۃ الکافر اولی کما فی الاسرار والحاوی فالمختار ان من صدر منہ ما یدل علی تخفیفہ علیہ السلام بعمد وقصد من عامۃ المسلمین یجب قتلہ ولا تقبل توبتہ بمعنی الخلاص من القتل وان اتی بکلمتی الشہادۃ والرجوع والتوبۃ لکن لو مات بعد التوبۃ او قتل حدّا مات میتہ الإسلام فی غسلہ وصلاتہ ودفنہ ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ علماء کرام نے بیان کیاکہ اگرکوئی شخص جس نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کی اوربعد میں وہ مسلمان بھی ہوجائے توتب بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺکے اعزازواکرام کی وجہ سے اسے لازمی طورپرقتل کیاجائے گا، اسلئے کہ یہ ہمارے حبیب کریم ﷺکے حقوق میں سے ہے اورہم کون ہوتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت وناموس کم کرنے والے کو معاف کردیں ، جب اسلام لانے سے اس سے عام مسلمانوں کے حقوق معاف نہیں ہوتے تومسلمانوں کے حبیب کریم ﷺکے حقوق کیسے معاف ہوسکتے ہیں ۔ مثلاًاسلام لانے سے پہلے کسی کو قتل کیاتھایاکسی پربہتان تراشاتھاتواسلام لانے پرنہ تواس سے قتل معاف ہے اورنہ ہی بہتان تراشی کی غلطی ، جبکہ ایک عام انسان کاحق اسلام لانے سے معاف نہیں ہوسکتاتوحضورتاجدارختم نبوتﷺکے حقوق کس طرح معاف ہوجائیں گے ؟ اگرچہ مذکورہ غلطیوں اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی توہین سے توبہ کرے توبھی اس کی توبہ قبول نہیں ہے ۔ اس کامطلب یہ ہے کہ اس کو ضرورقتل کیاجائے گااگرچہ اس نے کلمہ شہادت بھی پڑھاہے ۔ لیکن ایسے شخص کی اسلامی حیثیت برقراررہے گی یعنی سابقہ جرائم یعنی حضورتاجدارختم نبوتﷺکی توہین یاعام مسلمان کے حقوق سے تائب ہوکرمرے یااسے قتل کردیاجائے تواس کی موت اسلام پرسمجھی جائے گی، یہاں تک کہ اس کو مسلمانوں کی طرح غسل دیاجائے گااوراس پرنماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی اوراس کو مسلمانوںکے قبرستان میں دفن کیاجائے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخ کو قتل کرناضروری ہے اوراگروہ اس گستاخی سے توبہ کرے توقتل معاف نہیں ہوگااورنہ ہی اس بارے میں اس کی توبہ قابل قبول ہے ۔ البتہ اس کااسلام لاناصحیح ہوگاکہ مسلمان ہوجانے کے بعد بھی اسے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کی وجہ سے قتل کیاجائے گالیکن اسے مسلمان سمجھاجائے گا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۳۹۲)

لبرل جومدعی اسلام بھی ہواورگستاخی بھی ترک نہ کرے تو۔۔

ولو أصر علی السب وتمادی علیہ وابی التوبۃ منہ فقتل علی ذلک کان کافرا ومیراثہ للمسلمین ولا یغسل ولا یصلی علیہ ولا یکفن بل تستر عورتہ ویواری کما یفعل بالکفار. ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگرکوئی شخص حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی گستاخی سے باز نہ آئے اوراسی پراکڑارہے اوروہ اپنی اس غلطی سے توبہ نہیں کرتاتواسے قتل کرناضروری ہے اگرچہ وہ اسلام کادم بھرتاہو۔تب بھی اس کااسلام قابل قبول نہیں ہے ، اس کے قتل ہوجانے پراس کوکافرجاناجائے گا، اس کی وراثت کامال مسلمانوں کو دیاجائے ، اسے نہ غسل دیاجائے اورنہ ہی اس کی نمازجنازہ پڑھی جائے ، نہ ہی اس کو کفن دیاجائے گابلکہ اس کو کافروں کی طرح کپڑے میں لپیٹ کرایک گڑھے میں دبادیاجائے گا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۳۹۲)

اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخ کی سزامیں فرق؟

والفرق بین من سب الرسول وبین من سب اللہ علی مشہور القول باستتابتہ ان النبی علیہ السلام بشر والبشر من جنس تلحقہم المعرۃ إلا من أکرمہ اللہ تعالی بنبوتہ والباری منزہ عن جمیع المعائب قطعا ولیس من جنس تلحقہم المعرۃ بجنسہ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس سے بعض کمزورذہن یہ سمجھیں گے کہ اس طرح توحضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان معاذ اللہ اللہ تعالی کی شان سے بڑھ گئی لیکن اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخ کے لئے سخت سزامقررہوئی کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺانسانوں کی جنس سے ہیں ، اللہ تعالی نے آپﷺکونبوت کے بڑے عہدے سے نوازاہے ، اس لئے انسان کواگرعیب لگایاجائے یااس کی تنقیص کی جائے توفطرتاًاس کادل دکھتاہے ، اس قاعدہ پرکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکادل دکھاناکفرہے اورکافرکی سزاقتل ہے اوراللہ تعالی منزہ از نقائص ہے اوراس کاکوئی بھی ہم جنس نہیں ہے کہ اس کے عیب لگانے سے اس کی شان میں نقص کاامکان ہواورنہ ہی اس کے لئے دل آزاری کاشائبہ ہے ، انہیں وجوہ سے اس گستاخ پرسخت سزایعنی قتل نہیں ہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۳۹۲) گستاخی کے وہ کلمات جن کی وجہ سے انسان واجب القتل ہوجاتاہے واعلم انہ قد اجتمعت الامۃ علی ان الاستخفاف بنبینا وبأی نبی کان من الأنبیاء کفر سواء فعلہ فاعل ذلک استحلالا أم فعلہ معتقدا بحرمتہ لیس بین العلماء خلاف فی ذلک والقصد للسب وعدم القصد سواء إذ لا یعذر أحد فی الکفر بالجہالۃ ولا بدعوی زلل اللسان إذا کان عقلہ فی فطرتہ سلیما. فمن قال ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان اسود او یتیم ابی طالب او زعم ان زہدہ لم یکن قصدا بل لکمال فقرہ ولو قدر علی الطیبات أکلہا ونحو ذلک یکفر وکذا من عیرہ برعایۃ الغنم او السہو او النسیان او السحر او بالمیل الی نسائہ او قال لشعرہ شعیر بطریق الاہانۃ وان أراد بالتصغیر التعظیم لا یکفر ومن قال جن النبی ساعۃ یکفر ۔ ترجمہ :تمام علماء امت کااجماع ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺہوں یاکوئی اورنبی علیہ السلام ان کی ہرقسم کی تنقیص وتحقیراورگستاخی کفرہے ، اس کاقائل اسے جائز جان کرگستاخی کرے یااس کاوہی عقیدہ ہویانہ ہو، قصداًگستاخی کرے یابلاقصد خطاًگستاخی ہویاسہواًہرطرح اس پرکفرکافتوی ہے ۔ نبوت کی شان میں گستاخی میں لاعلمی اورجہالت کاعذر قابل قبول نہیں ہے ، اسی طرح سبقت لسانی کاعذربھی غیرقابل قبول ہے ۔ اسی لئے کہ عقل سلیم کو ایسی غلطی سے بچنالازمی اورضروری ہے ۔ جوشخص کہے حضورتاجدارختم نبوتﷺکارنگ کالایاابوطالب کی پرورش کے محتاج تھے یایہ عقیدہ رکھے کہ ان کافقروفاقہ اختیاری نہیں تھابلکہ وہ اس فقروفاقہ میں مجبورمحض تھے اس لئے کہ اگران کے اختیارمیں کچھ ہوتاتولذیذغذائیں اورپیٹ بھرکرکھاناکھاتے ۔ اسی طرح کے اورنقائص بیان کرے تووہ کافرہے ۔ جوشخص حضورتاجدارختم نبوتﷺکے لئے کہے کہ وہ بکریوں کے چرواہے تھے ،یاان سے بھول چوک ہوجاتی تھی یاان پرنسیان یاسہوطاری ہوجاتاتھایاوہ جادومیں مبتلاء ہوجاتے تھے یاانہیں عورتوں سے شہوانی طورمحبت تھی یاآپﷺکے موئے مبارک کو حقارت کے طورپربیان کرے تووہ کافرہے ۔ اگرکوئی کہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺایک لمحہ کے لئے مجنون ہوگئے تھے ایساشخص بھی کافرہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۳۹۵)

دین میں طعن کی مختلف صورتیں اوران کے احکام

ولو قال رجل ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا أکل یلحس أصابعہ الثلاث فقال الآخر (این بی ادبیست) فہذا کفر والحاصل انہ إذا استخف سنۃ او حدیثا من أحادیثہ علیہ السلام یکفر ولو قال لو کانت الصلاۃ زائدۃ علی الأوقات الخمسۃ او الزکاۃ علی خمسۃ دراہم والصوم علی شہر لا افعل منہا شیأ یکفر ولو قال لآخر صل فقال الآخر ان الصلاۃ عمل شدید الثقل یکفر ولو صلی رجل فی رمضان لا فی غیرہ فقال (این خود بسیارست)یکفر ولو ترک الصلاۃ متعمدا ولم ینو القضاء ولم یخف عقاب اللہ فانہ یکفر ولو قال عند مجییء شہر رمضان (آمد آن ماہ کران) او جاء الضیف الثقیل یکفر۔ ترجمہ :(۱)…اگرکوئی شخص کہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عادت کریمہ تھی کہ آپﷺکھاناتناول فرمانے کے بعد مبارک انگلیاں چاٹ لیاکرتے تھے تودوسراکہے کہ یہ توبے ادبی ہے ۔ ایساشخص واجب القتل ہے ۔ (۲)…حضورتاجدارختم نبوتﷺکی کسی سنت کریمہ یاکسی حدیث شریف کی تحقیراورگستاخی کفرہے ۔ (۳)…کوئی شخص کہے کہ اگرپانچ نمازوں سے ایک نماز یاچالیسویں حصہ پرزکوۃ کاوجوب اگرایک درہم یاایک ماہ کے روزوںسے ایک روزہ زائد فرض ہوتاتومیں ہرگزعمل نہ کرتاتوایساقائل کافرہے۔ (۴)…کوئی شخص کسی کو کہے کہ تونماز پڑھ تووہ جواب دے کہ نماز ایک بوجھ اورسخت عمل ہے ایساشخص کافرہے ۔ ( اس سے معلوم ہواکہ جو شخص صرف نماز کے متعلق کہے کہ نماز پڑھناسخت عمل ہے تووہ کافرہے جوشخص یہ کہے کہ دین پرچلناہی ممکن نہیں ہے تواس کاکیاحکم ہوگا) (۵)…کوئی شخص صرف رمضان المبارک میں نمازیں پڑھتاہے ، اسے دوسرے ماہ میں نماز اداکرنے کاکہاجائے توکہتاہے کہ مجھے رمضان شریف والی نمازیں کافی ہیں توایساشخص بھی کافرہے۔ (۶)…جوشخص نمازیں عمداًقضاکرتاہے اوراس کاان کی قضاکاارادہ بھی نہیں اورنہ ہی اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتاہے توایساشخص بھی کافرہے ۔ (۷)…کوئی شخص رمضان المبارک کی آمد پرکہے کہ آگیاسخت مہینہ یاآگیاتکلیف دہ مہمان توایساشخص بھی کافرہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۳۹۵)

معارف ومسائل

(۱)جوذمی کافرحضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان اقدس میں گستاخی کرے یاکسی بھی اسلامی حکم پر طعن کرے اس کاعہد ٹوٹ جائے گااوراس کو قتل کیاجائے گا۔ جب ہم مسلمان کسی دوسرے دین پرطعن نہیں کرتے تودوسرے لوگ ہمارے دین متین پرحملے کیوں کریں۔؟ہرقسم کے کفارکی توبہ قبول ہے مگرحضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ قبول نہیں اگرچہ اس کے توبہ کرنے سے اسے مسلمان مان لیاجائے گامگرقصاص کے طورپراسے قتل ضرورکیاجائے گا۔ جیسے قاتل کافرمسلمان ہوجائے تواسے قصاص میں ضرورقتل کیاجائے گا۔ مذہب امام مالک رضی اللہ عنہ یہی ہے اوراسی پرحنفی فقہاء کرام فتوی دیتے ہیں ۔ جوشخص حضورتاجدارختم نبوتﷺکی کسی بھی چیز کی اہانت کرے وہ کافرہے حتی کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے نعلین شریف کی گستاخی کرنے والابھی کافرہے اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے موئے مبارک ( بال مبارک) کی توہین کرنابھی کفرہے ۔ (۲)اس آیت کریمہ سے معلوم ہواکہ جہاد میں یہ کوشش کی جائے کہ کافروں کے وڈیروں کو پہلے قتل کیاجائے ، اس سے فوج کی ہمت ٹوٹے گی اوربغیرخون ریزی فتح نصیب ہوگی ان شاء اللہ تعالی ۔ غزوہ بدرمیں پہلے ہی ہلے میں ابوجہل قتل ہوگیاتورب تعالی نے فرمایاکہ ہم نے مسلمانوں کو بہت شاندارفتح دی ، یہی حکم باغی ، خوارج اورفسادیوں کاہے کہ سرغنوں کو پہلے ہی ختم کروتاکہ فتنہ ختم ہوجائے ۔ آجکل فسادکی جڑوں کی خوشامد کی جاتی ہے اوران کے پیروکاروں پرگولیاں برسائی جاتی ہیں ، انجام دیکھ رہے ہو۔ (۳) جہاد کامقصدکفارکوہلاک کرنانہیں ہے ، نہ مال غنیمت حاصل کرنا، نہ محض ملک گیری بلکہ اس کامقصدصرف اورصرف کفرکازورتوڑناہے جس سے وہ اسلام کی ترقی میں رکاوٹ نہ بنیں۔ مسلمانوں کو نہ ستائیں ، دین کی خدمت کی نیت سے جہاد کرو، ملک اورغنیمت خود بخود حاصل ہوجائیں گے بلکہ جہاد میں کسی کو جبراًمسلمان بنانابھی درست نہیں ہے ۔ (تفسیرنعیمی ( ۱۰: ۱۸۱) (۴)دین میں طعنہ زنی سے مراد یہ ہے کہ دینِ اسلام کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کرنا جو دینِ اسلام کے شایانِ شان نہیں یا ضروریات ِدین میں سے کسی چیز کو ہلکا جان کر اس پر اعتراض کرنا۔اسی طرح نماز اور حج پر طعنہ زنی کرنا، قرآن اور ذکرِ رسول پر طعنہ زنی کرنا یاحضورتاجدارختم نبوتﷺ کی شانِ پاک میں گستاخی کرنا سب اس میں داخل ہے۔(تفسیرصراط الجنان ( ۴:۷۱) (۵)علماء کرام فرماتے ہیں کہ ملحد وزندیق ، غیرمسلم ، یہودونصاری وغیرہ اگراسلامی شعائر کی توہین کریں ،حضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان میں گستاخی کریںیاقرآن کریم کی توہین کریں جیساکہ آجکل قصداًعمداًیہ سب کچھ ہورہاہے توپھرایسے لوگ واجب القتل ہیں ، جولوگ ایسے گستاخوں کوقتل کریں گے وہ اللہ تعالی کے نزدیک مقبول بندے شمارہوں گے اوریہ بھی جہادہی شمارہوگااگراس سلسلے میں مجاہد کی موت واقع ہوجائے تواس کاشمار اعلی شہیدوں میں ہوگا۔ حضرات علماء کرام نے اورخصوصاً!علامہ اقبال رحمہ اللہ تعالی نے غازی علم الدین شہیدرحمہ اللہ تعالی اورغازی عبدالقیوم شہیدرحمہ اللہ تعالی کے عمل کو سراہااوران کو اعلی مرتبہ کاشہیدقراردیا۔جب انہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخوں کو قتل کرکے بڑاکارنامہ انجام دیاتھا۔ اوراسی طرح حضرت غازی ملک ممتاز حسین قادری شہیدرحمہ اللہ تعالی نے کفرکے سرغنہ گستاخ ملعون سلیمان تاثیرکو واصل بالنارکیاتو اس وقت امیرالمجاہدین حضرت اقدس حافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی نے ببانگ دہل غازی صاحب کاساتھ دیااورپاکستان میں کونے کونے میں جاکران کے حق میں آوازبلندکی اوران کی شہادت کے بعد بھی کئی مرتبہ جیل میں قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کیں اورایک غازی اسلام کے لئے تن من دھن کی بازی لگادی ۔ (۶) اسلام کی بنیاد توالحمدللہ ایک واضح اورفطری نظریہ پرہے ، اس لئے اسے اپنے لوگوں کو مضبوط رکھنے کے لئے کسی کو گالی دینے کی ضرورت نہیں پڑتی مگرکفروشرک کی توکوئی بنیادنہیں ہے ، اس لئے کافروں کے سرغنے ہمیشہ اس فکرمیں رہتے ہیںکہ اپنے لوگوں کو کس طرح سے اپنے باطل مذہب پرپکاکریں ، تب ان کو گستاخی ، بدزبانی کاراستہ نظرآتاہے ، وہ اسلام کے خلاف بدزبانی کرتے ہیں اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان میں توہین کرتے ہیں اوراہل اسلام کو برابھلاکہتے ہیں ، اس طرح وہ اپنے لوگوں کو باطل مذہب پرپختگی فراہم کرتے ہیں چنانچہ گستاخی ، بدزبانی اورطعنہ زنی کے ماہرخطباء ، شعراء اورمصنفین بھی ائمۃ الکفرمیں شامل ہیں ، فتح مکہ کے موقع پر حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اس طرح کے آٹھ افراد کے بارے میں یہ حکم جاری فرمایاکہ اگروہ کعبۃ اللہ کے پردوں کے ساتھ بھی لٹکے ہوئے ہوں توتب بھی ان کو قتل کردو۔ چنانچہ ابن خطل نامی ایک بدزبان ، گستاخ اورمشرک سرغنہ کو اسی حالت میں قتل کیاگیا۔ مسلمانوں کے ممالک میں رہنے والے ذمیوں کی حفاظت اہل اسلام پرلازم ہے اوراسلام میں اس کی بہت سخت تاکیدہے لیکن اگرکوئی ذمی اسلام پرطعنہ زنی یابدزبانی کرے تووہ ذمی نہیں رہے گابلکہ اسے قتل کیاجائے گا۔ (۷) جولوگ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان میں یادین متین میں کوئی بے ادبی وگستاخی کرتے ہیں وہ شیطان کے خاص کارندے ہیں ، ان لوگوں کو اگرنہ ماراجائے اورنفرت کانشانہ نہ بنایاجائے توشیطان ان کو اورہمت دلاتاہے اوروہ خود کودانشوراوردینی پیشواقراردینے لگتے ہیں اوراپنی خرافات کو مذہب میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، آپ یہودیت ونصرانیت اوردیگرمذاہب عالم میں غورکریں ، آپ کو بے شمارخرافات اورگستاخیاں ان کے مذہب کاحصہ نظرآئیں گی ، اس لئے اسلام کی حفاظت کے لئے اس طرح کے مردودلوگوںکو ’’ائمۃ الکفر‘‘ قراردے کران کو مارنے کاحکم دیاگیااورمسلمانوں نے ہرزمانے میں اس حکم پرعمل کرنے کی مکمل جذبے کے ساتھ کوشش کی ، جس کافائدہ الحمدللہ ساری دنیاکے سامنے ہے ۔ (۸)ہر قسم کے کافر کی توبہ دنیا و آخرت میں مقبول ہے، مگر ایسے کفار جنہوں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺیا شیخین کریمین رضی اللہ عنہمامیں سے کسی کو گالی دی تو اُس کی توبہ قبول نہیں۔ ایسے ہی نشہ کی حالت میں ارتداد کو صحیح نہ مانا جائے گا مگرحضورتاجدارختم نبوتﷺکی اہانت حالتِ نشہ میں بھی کی جائے تو اُسے معافی نہیں دی جائے گی۔ جب وہ شخص مرجائے تو اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنے کی اجازت نہیں، نہ ہی اہل ملت (یہودی نصرانی) کے گورستان میں بلکہ اسے کتے کی طرح کسی گڑھے میں پھینک دیا جائے گا۔ (۹)یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ جو بد باطن حضورتاجدارختم نبوتﷺکو گالی دے یا اسلام پرطعن کرے یا اس میں نقص نکالے تو وہ نام نہاد مسلمان ہو یا کافر ، مرد ہو یا عورت ،مغربی ہو یا مشرقی ، جنوبی ہو شمالی ، لیڈرہو یا حکمران ڈونلڈٹرنپ ہو یا ہالینڈ کاخنزیریاپاکستان کاگورنرہویااس کے چیلے چانٹے واجب القتل مباح الدم اور اس کا قتل ہدر اور رائیگاں ہے ۔ (۱۰)اس آیت شریفہ کا مطلب یہ ہے کہ ان مشرکوں سے صرف میدان جنگ میں لڑنا ہی کافی نہیں بلکہ جس طریقہ سے تم ان پر قابو پاکر انہیں قتل کر سکتے ہو قتل کرو۔ قرآن مجید کی پہلی آیت سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اگر کوئی ذمی شخص دین اسلام میں طعنہ زنی کا مرتکب ہو گا تو اس کا عہدذمہ کالعدم ہو جاتا ہے اور اس سے جنگ لڑنے کا ہمیں حکم ہے اور یہ امر ہر قسم کے شک وشبہ سے کہیں بالاتر ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکو گالی دینے سے بڑھ کر دین اسلام میں کوئی طعن نہیں ۔ کیونکہ اس سے شریعت کی توہین اور اسلام کی ہتک ہوتی ہے ۔ (۱۱)ذمی وہ ہے جو شخص کافر ہو اور اسلامی سلطنت میں رہتا ہو، ٹیکس کی ادائیگی کے بعد اسے حکومت تحفظ فراہم کرتی ہے، مگر جب وہ اہانت ِرسول کا مرتکب ہو تو اس کا عہد ختم ہوجاتا ہے اور اس کی سزا بھی قتل ہے۔ (۱۲)امریکہ میں توہین قرآن کے دلدوز واقعات اور ڈینمارک اور دوسرے مغربی ممالک کی طرف سے بے لگام صحافت اور آزادی اور اظہار رائے کے بہانے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی توہین پر مبنی روح فرسا خاکے کوئی اتفاقی حادثہ نہیں۔ بلکہ امت مسلمہ کی اسلامی حمیت دینی عصبیت قومی غیرت اور حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ محبت اور عقیدت شیفتگی وابستگی اور قرآن مجید کی صداقت اس کی تلاوت اور اس کے جہادی احکام کے ساتھ گرویدگی اور وارفتگی کی بنیادوں کی مضبوطی اور گہرائی کا جائزہ لینا مقصود ہے اگر یہ بنیادیں کھوکھلی اور ناپائیدار ثابت ہوں تو مناسب وقت پر اپنی حربی قوتوں کو یکجا کر کے مسلمانوں پر کاری ضرب لگا کر اسلام اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے اوجھل اور نابود کر دیا جائے یا پھرعلی الاقل اسلام کے دونوں مرکزوں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ حفظہما اللہ پر قبضہ کر کے عالم اسلام اور دوسرے مسلم ملکوں کو اپنی نو آبادیات بنا لیا جائے فری میسن اور صہیونی تحریکیں مسلمانوں کی بیخ کنی جیسے غیر انسانی اور ناپاک مقاصد کے حصول کیلیے انڈر گرانڈ سازشوں کا تانا بانا تیار کرنے میں شب و روز مصروف چلی آ رہی ہیں اس تناظر میں یہ ہڑتالیں ، دھرنے اور مظاہرے اپنی تمام تر افادیت کے باوجود اس ملی شرعی اور قومی مسئلے کے مستقل اور پائیدار حل نہیں اس لیے ہمارے نزدیک مستقل اور پائیدار حل کیلیے یکے بعد دیگر مضبوط اقدامات اٹھانے لازمی اور ناگزیر ہیں ۔ کیونکہ اسلام کا فروغ استحکام ناموس رسالت کے تحفظ کاکامیاب حل صرف جہاد فی سبیل اللہ میں مضمر ہے اور جہاد فی سبیل اللہ کیلیے اتحاد اور اسلامی بلاک کا قیام بعجلت تام از بس ضروری اور ناگزیر ہے۔ لہٰذا اسلامی بلاک بنا کراپنے تمام مالی ، سیاسی ، ایٹمی وسائل جمع کر کے جہاد فی سبیل اللہ کا اعلان کر دینا چاہیے۔ پھر دیکھیے اللہ کی نصرتیں اور مدد کس طرح سے غازیان فی سبیل اللہ کا استقبال اور قدم بوسی کرتی ہیں۔{إِن تَنصُرُوا اللَّـہَ یَنصُرکُم وَیُثَبِّت أَقدامَکُم} علامہ اقبال رحمہ اللہ تعالی بھی مسلمانان عالم سے یہی مطالبہ کرتے کرتے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلیے کشمیر کے ساحل سے لیکر تابخاک کا شغر ذمی گستاخ کاقتل کے بارے میں احناف کانظریہ آج کل تجدد پسنددانشوروں کی طرف سے شتم رسول کے مسئلہ پر امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور حنفی فقہا کے اقوال کا بہ کثرت تذکرہ کیا جا رہا ہے، حالانکہ یہ دعویٰ کرنے والے لوگ وہ ہیں جو اجماعِ اُمت تو کجا، قرآنی آیت واحادیثِ مبارکہ کو بھی کوئی وزن دینے کو تیار نہیں ۔ عصر حاضر میں اُٹھنے والے فتنوں میں سے سب سے عظیم فتنہ جو دنیا کواپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، وہ شعائر اللہ کی توہین ہے اور حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت و ناموس پر رکیک حملے کیے جارہے ہیں، یہود و نصاری نت نئے طریقوں سے اُمت ِمسلمہ کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی سعی میں مصروف ہیں، نوبت بایں جارسید کہ اسلام کی دعویدار حکومتوں کی ریاست میں سرعام حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی حرمت و ناموس کے حوالے سے عوام کے اَذہان و قلوب کو منتشر کیا جارہا ہے، انگریز کے زرِ خرید غلام مسلمانوں کو محبت ِمصطفیﷺسے تہی دامن کرنا چاہتے ہیں۔ فتنہ و فساد کی اس شورش میں یہود و ہنود کے کچھ گماشتے ملک پاکستان کی بنیادوں میں لادینیت اور سیکولر ازم کا زہر گھولنا چاہتے ہیں، کوئی کہتا ہے: اسلام سیکولرہے اورکوئی کہتاہے کہ نعوذباللہ من ذلک کہ اللہ تعالی لبرل ہے ، تو کوئی یہ راگ الاپتا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دین کے لئے نہیں بنا۔ انہی حالات میں جب آسیہ ملعونہ نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت و ناموس پرحملہ کیا اور عدالت نے اسے موت کی سزا سنادی تو ایک طوفانِ بدتمیزی بپا ہوگیا۔ قانون ناموس رسالت کو ختم کروانے کے لئے انگریز کے وفادار نام نہاد مسلمان میدان عمل میں آگئے۔اسی طرح ایک نام نہاد سکالر جاوید غامدی نے یہ شوشہ پھیلانے کی کوشش کی کہ فقہائے احناف کے نزدیک گستاخِ رسول کی سزا موت نہیں، لہٰذاقانون ناموس رسالت کو ختم کردیا جائے، اس شخص کا مقصد اُمتِ مسلمہ میں افتراق و انتشار کی فضا پیدا کرنا ہے۔اُمت ِمسلمہ کو ایسے اشخاص کے گھناؤنے کردار سے خبردار رہنا چاہئے۔ گستاخِ رسول کی سزا کے حوالے سے احناف کے جلیل القدر علما کی آرا ملاحظہ فرمائیے: امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کانظریہ وفی الفتاوی من مذہب أبی حنیفۃ ان من سب النبی صلی اللّہ علیہ وسلم یقتل ولا یقبل توبتہ سواء کان مؤمنا أو کافرا۔ ترجمہ :فتاوی میں امام اعظم رضی اللہ عنہ کامسلک یہ منقول ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکو گالیاں دینے والاشخص مومن ہویاکافربہرحال اس کوقتل کردیاجائے گااوراس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی ۔ (التفسیر المظہری:محمد ثناء اللہ العثمانی المظہری(۱:۱۱۱۶)

امام اعظم رضی اللہ عنہ کے مذہب شریف کی وضاحت

وبہذا یظہر انہ ینتقض عہدہ۔ ترجمہ :قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ المتوفی ( ۱۲۲۵ھ) امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے مسلک کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ کے مسلک سے ظاہرہوگیاکہ آپ کے نزدیک اس ذمی کاذمہ ٹوٹ جاتاہے جو حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کرے ۔ (التفسیر المظہری:محمد ثناء اللہ العثمانی المظہری(۱:۱۱۱۶) امام ابویوسف رضی اللہ عنہ المتوفی (۱۸۲ھ)کانظریہ فقد روی أَبُو یُوسُف عَن حُصَیْن بن عبد اللہ، عَن ابْن عمر (أَن رجلا) قَالَ لَہُ: إِنِّی سَمِعت رَاہِبًا سبّ النَّبِی (صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم)فَقَالَ:لَو سمعتہ لقتلتہ إِنَّا لم نعطہم الْعَہْد علی ہَذَا ۔ ترجمہ :امام ابویوسف رضی اللہ عنہ حضرت حصین بن عبداللہ سے وہ حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں عرض کی : فلاں راہب نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کی ہے توآپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگرمیں سن لیتاتو اس کو قتل کردیتاکیونکہ ہم نے ان کو اس لئے عہدنہیں دیاکہ وہ ہمارے نبی کریم ﷺکی گستاخیاں کرتے رہیں ۔ (اللباب فی الجمع بین السنۃ والکتاب:جمال الدین أبو محمد علی لأنصاری الخزرجی المنبجی (۲:۷۶۵) اس سے معلوم ہواکہ امام ابویوسف رضی اللہ عنہ کے نزدیک ذمی اگرحضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان میں گستاخی کرے تو اس کاذمہ ٹوٹ جاتاہے ۔ امام محمدبن حسن الشیبانی المتوفی ( ۱۸۹ھ) کانظریہ وَاسْتَدَلَّ مُحَمَّدٌ لِبَیَانِ قَتْلِ الْمَرْأَۃِ إذَا أَعْلَنَتْ بِشَتْمِ الرَّسُولِ بِمَا رُوِیَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَدِیٍّ لَمَّا سَمِعَ عَصْمَاء َ بِنْتَ مَرْوَانَ تُؤْذِی الرَّسُولَ فَقَتَلَہَا لَیْلًا مَدَحَہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی ذَلِکَ انْتَہَی فَلْیُحْفَظْ۔ ترجمہ :امام محمدبن حسن رضی اللہ عنہ نے عورت کے قتل کرنے پر اس حدیث شریف سے استدلال کیاہے جب وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کرے ، حضرت سیدناعمیربن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب انہوںنے سناکہ عصماء بنت مروا ن حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کررہی ہے توآپ رضی اللہ عنہ نے اس کوقتل کردیاجب یہ بات حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ تک پہنچی تو آپ ﷺنے ان کی مدح فرمائی ۔ (رد المحتار علی الدر المختار: ابن عابدین، محمد أمین بن عمر بن عبد العزیز عابدین الحنفی (۴:۲۱۶) پس امام اعظم امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے یہ صاحبین (قاضی ابو یوسف و امام محمد شیبانی)یعنی دونوں ہی شاگرد خاص شاتم رسول کو قتل کرنے کی روایت بیان فرماتے ہیں، جس سے خود امام اعظم رحمہ اللہ تعالی کا مؤقف بھی واضح ہو جاتا ہے کہ حلقہ تلامذہ خود مؤقف شیخ کے آثار میں سے ہے، جیسے کے تصریح ہے ((ہذہ آثارنا تدلُّ علینا فانظروا من بعدنا إلی الآثارِ)(نیز امام اعظم رحمہ اللہ تعالی کی خود اپنی یہ اصولی تصریحات کہ ((اذا صح الحدیث فھو مذھبی)بلکہ ((الخبر الضعیف عن رسول اللہ اولیٰ من القیاس ولایحل القیاس مع وجودہ)بھی آپ کے موقف کی اصولی جہتوں کو متعین کرتی ہیں۔ اس کہ بعد فقہاء ملت سے آپ کے اقوال و مؤقف کی مزید صراحت ملاحظہ ہو۔ امام عبد المعالی بخاری الحنفی توہین رسالت کی سزا کو حد قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ھذا مذھب ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ و الامام الأعظم۔ یہ مذہب و مؤقف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا اور امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کا ہے۔ (فتاوی حسب المفتین مخطوط:۳۳۷) علامہ محی الدین محمد بن قاسم الحنفی بھی تصریح فرماتے ہیں وھذا مذھب الامام الاعظم و مذھب ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ۔ یہ مذہب و مؤقف (یعنی قتل شاتم کا)امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا ہے۔ (السیف المشھور المسلول علی الزندیق و ساب الرسول :۲۷) شیخ الاسلام علامہ تقی الدین سبکی اپنی مشہور زمانہ کتاب’’السیف المسلول‘‘میں حضرت الامام کے مؤقف کی تصریح فرماتے ہیں: واجمع اھل العلم علی ان حد من سب النبیﷺالقتل۔ وممن قال ذلک مالک، واللیث، واحمد، واسحاق، وہو مذہب الشافعی…وبمثلہ قال ابؤ حنیفۃ و اصحابہ، والثوری، و اہل الکوفۃ۔ اور اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص نبیﷺ کی گستاخی کرے اسے قتل کیا جائے گا اور یہ بات امام مالک، امام لیث، امام احمد، امام اسحاق نے کہی ہے اور یہی امام شافعی کا مذہب ہے اور اسی کی مثل امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی اور ان کے اصحاب نے کہا ہے۔ (السیف المسلول علی من سب الرسول:۱۱۹) علامہ شیخ دمشقی الشافعی فرماتے ہیں فقال ابو حنیفۃ لا تجب استتابتہ ویقتل۔ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ شاتم کی توبہ قبول نہ کی جائے گی بلکہ اسے قتل کیا جائے گا۔ (رحمۃ الامۃ(۲:۱۳۴) علامہ قاضی عیاض المالکی تصریح فرماتے ہیں وقد ذکرنا مذھب العراقیین بقتلہ۔ اور ہم نے عراقیوں کا (امام اعظم کی طرف اشارہ)مشہور مذہب و مؤقف یہی بیان کیا ہے کہ گستاخ رسول کو قتل کیا جائے گا۔(الشفاء بتعریف حقوق المصطفی(۲:۱۹۰) قاضی عیاض المالکی ہی ایک اور مقام پر ناقل ہیں من سبّ النبی یقتل وممن قال ذلک مالک، واللیث، واحمد، واسحاق، وہو مذہب الشافعی…وبمثلہ قال ابؤ حنیفۃ و اصحابہ، والثوری، و اہل الکوفۃ۔ جو شخص نبیﷺ کی گستاخی کرے اسے قتل کیا جائے گا اور یہ بات امام مالک، امام لیث، امام احمد، امام اسحاق نے کہی ہے اور یہی امام شافعی کا مذہب ہے اور اسی کی مثل امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی اور ان کے اصحاب نے کہا ہے۔ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفی (۲:۴۷۵) مفتی مکہ ملا علی قاری الہروی الحنفی شفاء شریف کی مذکورہ بالا عبارت کی تائید و شرح میں فرماتے ہیں: وقول الثوری وابی حنیفۃ والکوفیین ای سائرہم۔ اور یہ امام سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ اور اہل کوفہ یعنی سب کا مؤقف ہے۔”(شرح الشفا للقاضی عیاض (۲:۴۱۰) علامہ عالم بن علاء الدین الانصاری الھندی الحنفی شاتم رسول کی سزا کو بطور حد قتل ثابت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ھذا مذھب ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ و الامام الأعظم والثوری واہل الکوفۃ والمشہور من مذہب مالک وأصحابہ۔ یہ مذہب و موقف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی، امام سفیان ثوری رحمہ اللہ تعالی، اہل کوفہ اور مشہور روایت کے مطابق امام مدینہ امام مالک رحمہ اللہ تعالی اور ان کے اصحاب کا بھی ہے۔ (السیف الجلی علی ساب النبی:۱۱۹) علامہ محدث محمد ہاشم ٹھٹوی الحنفی ناقل ہیں اجمع عامۃ اہل العلم علی ان من سب النبی یجب علیہ القتل۔ وممن قال بذلک مالک، واللیث و الشافعی وبمثلہ قال ابؤ حنیفۃ و اصحابہ، والثوری، و اتباعہ اہل الکوفۃ۔ اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص نبی کریمﷺ کی گستاخی کرے اس کا قتل واجب قرار پائے گا اور یہ بات امام مالک، امام لیث، امام شافعی نے کہی ہے اور یہی بات امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی اور ان کے اصحاب، اور امام سفیان ثوری اور ان کے متبعین اور اھل کوفہ نے کہی ہے۔ (السیف الجلی علی ساب النبی:۱۱۴) علامہ محمد بن فراموز ملا خسرو الحنفی فرماتے ہیں قلنا إذا شتمہ سکران لا یعفی ویقتل أیضا حدا، وہذا مذہب أبی بکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ و الامام الأعظم والثوری واہل الکوفۃ والمشہور من مذہب مالک وأصحابہ۔ ہم کہتے ہیں اگر کوئی فرد رسالت مآب ﷺکی شان میں گستاخی کرے تو اسے معافی نہیں دی جائے گی بلکہ اسے حدا قتل کیا جائے گا اور یہی مذہب و مؤقف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی، امام سفیان ثوری رحمہ اللہ تعالی، اہل کوفہ اور مشہور روایت کے مطابق امام مدینہ امام مالک رحمہ اللہ تعالی اور ان کے اصحاب کا بھی ہے۔(دررالحکام شرح غرر الاحکام، کتاب الجھاد(۳:۴۰۰) علامہ شاہ ابو الخیر عبد اللہ محی الدین فاروقی مجددی الحنفی لکھتے ہیں ویقتل حدا ھذا مذھب ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ و الامام الأعظم۔ شاتم رسول بطور حد قتل ہوگا، یہ مذھب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کا ہے۔ ( الفتاوی الخیریہ:۱۵۵) امام ابن ہمام الحنفی المتوفی (۸۶۱ھ) کاقول وقال ابن ہمام والذی عندی ان سبہ علیہ السلام أو نسبتہ إلی ما ینبغی إلی اللّہ تعالی ان کان مما لا یعتقدونہ کنسبۃ الولد إلی اللّہ تعالی الذی یعتقدہ النصاری والیہود إذا أظہروا یقتل بہ وینتقض عہدہ ۔ ترجمہ :امام ابن الہمام رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیںکہ میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ اگرذمی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان میں گستاخی کی یاغیرمناسب چیز اللہ تعالی کی طرف منسوب کی اگرچہ وہ ان کے معتقدات سے خارج ہوجیسے اللہ تعالی کی طرف ولد کی نسبت کرناجب ایسی چیزوں کو ظاہرکرے گا تو اس کو قتل کیاجائے گااوراس کاذمہ ٹوٹ جائے گا۔ (فتح القدیرلامام کمال الدین ابن ہمام (۶: ۵۸) امام محمدعبدالہادی السندھی الحنفی المتوفی ( ۱۱۳۸ھ) کاقول وَفِیہِ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ الذِّمِّیَّ إِذَا لَمْ یَکُفَّ لِسَانَہُ عَنِ اللَّہِ وَرَسُولِہِ فَلَا ذِمَّۃَ لَہُ فَیَحِلُّ قَتْلُہُ و اللہ اعلم ۔ ترجمہ :اوراس میں دلیل ہے کہ ذمی جب حضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان میں یااللہ تعالی کی شان میں گستاخی کرے تواس کاکوئی ذمہ باقی نہ رہے گااوراس کوقتل کرناواجب ہوجائے گا۔ (حاشیۃ السندی علی سنن النسائی:محمد بن عبد الہادی التتوی، نور الدین السندی(۷:۱۰۹) امام شہاب الدین خفاجی المتوفی ( ۱۰۶۹ھ) کاقول قال من الفقہاء إنّ من أظہر شتم النبیء من أہل الذمۃ فقد نقض عہدہ ووجب قتلہ۔ ترجمہ :فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ بات ظاہرہے کہ جو شخص ذمی ہواورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کرے تواس کاعقدذمہ ٹوٹ جائے گااوراس کاقتل واجب ہوجائے گا۔ (عِنَایۃُ القَاضِی وکِفَایۃُ الرَّاضِی :شہاب الدین أحمد بن محمد بن عمر الخفاجی المصری الحنفی (۴:۳۰۴) امام عثمان فخرالدین الزیلعی الحنفی المتوفی ( ۷۴۳ھ) کاقول وَاَلَّذِی عِنْدِی أَنَّ سَبَّہُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ أَوْ نِسْبَۃُ مَا لَا یَنْبَغِی إلَی اللَّہِ تَعَالَی إنْ کَانَ مِمَّا لَا یَعْتَقِدُونَہُ کَنِسْبَۃِ الْوَلَدِ إلَی اللَّہِ تَعَالَی وَتَقَدَّسَ عَنْ ذَلِکَ إذَا أَظْہَرَہُ یُقْتَلُ بِہِ وَیُنْتَقَضُ عَہْدُہُ۔ ترجمہ:میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ اگرذمی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان میں گستاخی کی یاغیرمناسب چیز اللہ تعالی کی طرف منسوب کی اگرچہ وہ ان کے معتقدات سے خارج ہوجیسے اللہ تعالی کی طرف ولد کی نسبت کرناجب ایسی چیزوں کو ظاہرکرے گا تو اس کو قتل کیاجائے گااوراس کاذمہ ٹوٹ جائے گا۔ (تبیین الحقائق:عثمان بن علی بن محجن البارعی، فخر الدین الزیلعی الحنفی (۳:۲۸۱) امام زین الدین ابن نجیم المتوفی ( ۹۷۰ھ) کاقول وَاَلَّذِی عِنْدِی أَنَّ سَبَّہُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ أَوْ نِسْبَۃُ مَا لَا یَنْبَغِی إلَی اللَّہِ تَعَالَی إنْ کَانَ مِمَّا لَا یَعْتَقِدُونَہُ کَنِسْبَۃِ الْوَلَدِ إلَی اللَّہِ تَعَالَی وَتَقَدَّسَ عَنْ ذَلِکَ إذَا أَظْہَرَہُ یُقْتَلُ بِہِ وَیُنْتَقَضُ عَہْدُہُ۔ ترجمہ:میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ اگرذمی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان میں گستاخی کی یاغیرمناسب چیز اللہ تعالی کی طرف منسوب کی اگرچہ وہ ان کے معتقدات سے خارج ہوجیسے اللہ تعالی کی طرف ولد کی نسبت کرناجب ایسی چیزوں کو ظاہرکرے گا تو اس کو قتل کیاجائے گااوراس کاذمہ ٹوٹ جائے گا۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق:زین الدین بن إبراہیم بن محمد، المعروف بابن نجیم المصری (۵:۱۲۵) امام ابن عابدین الشامی المتوفی (۱۲۵۲ھ) کاقول فَقَدْ أَفَادَ أَنَّہُ یَجُوزُ عِنْدَنَا قَتْلُہُ إذَا تَکَرَّرَ مِنْہُ ذَلِکَ وَأَظْہَرَہُ ۔ ترجمہ :اوریہ فائدہ حاصل ہواکہ ہمارے نزدیک ذمی گستاخ کاقتل کرناواجب ہے ، جب وہ گستاخی کاتکرارکرے اوریہی اظہرہے ۔ (رد المحتار علی الدر المختار: ابن عابدین، محمد أمین بن عمر بن عبد العزیز عابدین الدمشقی الحنفی (۴:۲۱۵) دوسرے مقام پرفرماتے ہیں وَاَلَّذِی عِنْدِی أَنَّ سَبَّہُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ أَوْ نِسْبَۃُ مَا لَا یَنْبَغِی إلَی اللَّہِ تَعَالَی إنْ کَانَ مِمَّا لَا یَعْتَقِدُونَہُ کَنِسْبَۃِ الْوَلَدِ إلَی اللَّہِ تَعَالَی وَتَقَدَّسَ عَنْ ذَلِکَ إذَا أَظْہَرَہُ یُقْتَلُ بِہِ وَیُنْتَقَضُ عَہْدُہُ۔ ترجمہ:میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ اگرذمی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان میں گستاخی کی یاغیرمناسب چیز اللہ تعالی کی طرف منسوب کی اگرچہ وہ ان کے معتقدات سے خارج ہوجیسے اللہ تعالی کی طرف ولد کی نسبت کرناجب ایسی چیزوں کو ظاہرکرے گا تو اس کو قتل کیاجائے گااوراس کاذمہ ٹوٹ جائے گا۔ (رد المحتار علی الدر المختار: ابن عابدین، محمد أمین بن عمر بن عبد العزیز عابدین الدمشقی الحنفی (۴:۲۱۵) قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ المتوفی ( ۱۲۲۵ھ) کاقول وَاَلَّذِی عِنْدِی أَنَّ سَبَّہُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ أَوْ نِسْبَۃُ مَا لَا یَنْبَغِی إلَی اللَّہِ تَعَالَی إنْ کَانَ مِمَّا لَا یَعْتَقِدُونَہُ کَنِسْبَۃِ الْوَلَدِ إلَی اللَّہِ تَعَالَی وَتَقَدَّسَ عَنْ ذَلِکَ إذَا أَظْہَرَہُ یُقْتَلُ بِہِ وَیُنْتَقَضُ عَہْدُہُ۔ ترجمہ:میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ اگرذمی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان میں گستاخی کی یاغیرمناسب چیز اللہ تعالی کی طرف منسوب کی اگرچہ وہ ان کے معتقدات سے خارج ہوجیسے اللہ تعالی کی طرف ولد کی نسبت کرناجب ایسی چیزوں کو ظاہرکرے گا تو اس کو قتل کیاجائے گااوراس کاذمہ ٹوٹ جائے گا۔ (التفسیر المظہری:محمد ثناء اللہ العثمانی المظہری(۱:۱۱۱۶) امام خیرالدین الرملی الحنفی المتوفی ( ۱۰۸۱ھ) کاقول وَرَدَّہُ الْخَیْرُ الرَّمْلِیُّ، بِأَنَّہُ لَا یَلْزَمُ مِنْ عَدَمِ النَّقْضِ عَدَمُ الْقَتْلِ، وَقَدْ صَرَّحُوا قَاطِبَۃً بِأَنَّہُ یُعَزَّرُ عَلَی ذَلِکَ، وَیُؤَدَّبُ وَہُوَ یَدُلُّ عَلَی جَوَازِ قَتْلِہِ زَجْرًا لِغَیْرِہِ إذْ یَجُوزُ التَّرَقِّی فِی التَّعْزِیرِ إلَی الْقَتْلِ، إذَا عَظُمَ مُوجِبُہُ وَمَذْہَبُ الشَّافِعِیِّ کَمَذْہَبِنَا عَلَی الْأَصَحِّ ۔ ترجمہ :امام خیرالدین الرملی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ بعض ائمہ احناف کے نزدیک ذمی گستاخ کے عہدکے نہ ٹوٹنے سے یہ لازم نہیں آتاکہ اس کوقتل بھی نہیں کیاجائے گا، حالانکہ ہمارے ائمہ نے بڑے وثوق کے ساتھ اس بات کی وضاحت کی ہے کہ گستاخ ذمی کو تعزیرکی جائے گی اوراس کی خوب چھترول کی جائے گی اوریہی بات دلالت کرتی ہے کہ اس کو قتل کرنابھی جائز ہے تاکہ دوسروں کو تنبیہ ہو۔ کیونکہ تعزیرمیں ترقی جائز ہے کہ گستاخ کو قتل کردیاجائے جب کہ اس تعزیزکاموجب بڑاہواوراصح قول کے مطابق امام شافعی رضی اللہ عنہ کامذہب بھی یہی ہے جوہم نے بیان کیاہے ۔ (رد المحتار علی الدر المختار: ابن عابدین، محمد أمین بن عمر بن عبد العزیز عابدین الدمشقی الحنفی (۴:۲۱۵) امام ابن بزار الحنفی رحمہ اللہ تعالی کاقول إذا سبّ الرسول ﷺأو واحد من الأنبیاء فإنہ یقتل حدًا فلا توبۃ لہ أصلًا سواء ً بعد القدرۃ علیہ والشہادۃ أو جاء تائبًا من قبل نفسہ کالزندیق لأنہ حد واجب فلا یسقط بالتوبۃ ولا یتصور فیہ خلاف لأحد لأنہ حق تتعلق بہ حق العبد فلا یسقط بالتوبۃ کسائر حقوق الآدمیین وکحد القذف لا یزول بالتوبۃ۔ ترجمہ :جو شخص حضورتاجدارختم نبوتﷺکی اہانت کرے یا انبیا ء کرام علیہم السلام میں سے کسی نبی کی گستاخی کرے تو اسے بطورِ حد قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں، خواہ وہ تائب ہوکر آئے یا گرفتار ہونے کے بعد تائب ہو اور اس پر شہادت مل جائے تو وہ زندیق کی طرح ہے۔اس لیے کہ اس پر حد واجب ہے اور وہ توبہ سے ساقط نہیں ہوگی۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں، اس لیے کہ یہ ایسا حق ہے جو حق عبد کیساتھ متعلق ہے، جو بقیہ حقوق کی طرح توبہ سے ساقط نہیں ہوتا جیسے حد ِقذف بھی توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ (رسائل ابن عابدین لامام ابن عابدین الشامی الحنفی ( ۲: ۳۲۷) امام سراج الدین ابن نجیم الحنفی المتوفی ( ۱۰۰۵ھ) کاقول وَاَلَّذِی عِنْدِی أَنَّ سَبَّہُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ أَوْ نِسْبَۃُ مَا لَا یَنْبَغِی إلَی اللَّہِ تَعَالَی إنْ کَانَ مِمَّا لَا یَعْتَقِدُونَہُ کَنِسْبَۃِ الْوَلَدِ إلَی اللَّہِ تَعَالَی وَتَقَدَّسَ عَنْ ذَلِکَ إذَا أَظْہَرَہُ یُقْتَلُ بِہِ وَیُنْتَقَضُ عَہْدُہُ۔ ترجمہ:میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ اگرذمی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان میں گستاخی کی یاغیرمناسب چیز اللہ تعالی کی طرف منسوب کی اگرچہ وہ ان کے معتقدات سے خارج ہوجیسے اللہ تعالی کی طرف ولد کی نسبت کرناجب ایسی چیزوں کو ظاہرکرے گا تو اس کو قتل کیاجائے گااوراس کاذمہ ٹوٹ جائے گا۔ (النہر الفائق شرح کنز الدقائق: سراج الدین عمر بن إبراہیم بن نجیم الحنفی (۳:۲۴۸) امام ابوبکرالجصاص الحنفی المتوفی (۳۷۰ھ) کاقول إن من أظہر شتم النبیﷺمن أہل الذمۃ فقد نقض عہدہ ووجب قتلہ۔ ترجمہ :بے شک یہ بات اظہرہے کہ اہل ذمہ میں سے کسی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کرے تواس کاعقد ذمہ ٹوٹ جائے گااوراس کاقتل واجب ہوجائے گا۔ (أحکام القرآن : أحمد بن علی الرازی الجصاص أبو بکر(۴:۲۷۵) امام ابومحمدبن احمدبدرالدین العینی الحنفی المتوفی ( ۸۵۵ھ) کاقول وَلَکِن أَنا مَعَہ فِی جَوَاز قتل الساب مُطلقًا. ترجمہ :امام العینی الحنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیںکہ میرے نزدیک گستاخ کو قتل کیاجائے گاچاہے وہ کوئی ہوذمی ہویاغیرذمی ۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری: أبو محمد محمود دالعینی( ۳:۴۲۳) صاحب ھدایہ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh