Fatwa #2404
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیرسورۃالتوبہ آیت ۳۶۔ اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِیْ کِتٰبِ اللہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,159
سوال (Question):
تفسیرسورۃالتوبہ آیت ۳۶۔ اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِیْ کِتٰبِ اللہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اسلامی تقویم کے جواز اورشمسی تقویم کے عدم جواز پرکلام
{اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِیْ کِتٰبِ اللہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْہَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْہِنَّ اَنْفُسَکُمْ وَقٰتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقٰتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ }(۳۶) ترجمہ کنزالایمان:بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان و زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں یہ سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک اللہ تعالی کی کتاب میں بارہ مہینے ہیں جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے، ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ یہ سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہروقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ تعالی پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ قمری سال کاحساب رکھناواجب ہے قَالَ أَہْلُ الْعِلْمِ:الْوَاجِبُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ بِحُکْمِ ہَذِہِ الْآیَۃِ أَنْ یَعْتَبِرُوا فِی بُیُوعِہِمْ وَمُدَدِ دُیُونِہِمْ وَأَحْوَالِ زَکَوَاتِہِمْ وَسَائِرِ أَحْکَامِہِمُ السَّنَۃَ الْعَرَبِیَّۃَ بِالْأَہِلَّۃِ، وَلَا یَجُوزُ لَہُمُ اعْتِبَارُ السَّنَۃِ الْعَجَمِیَّۃِ وَالرُّومِیَّۃِ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ)رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اہل علم فرماتے ہیں کہ اہل اسلام پراس آیت کریمہ کی وجہ سے واجب ہے کہ وہ اپنی خریدوفروخت قرض کی مدت معاملات ، زکوۃ اوردیگرعبادات عربی سال چاند کے اعتبارسے کریں ، یہ جائز نہیں ہے کہ وہ عجمی اوررومی سال کااعتبارکریں۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۶:۴۲) اسلامی تقویم پرعمل واجب ہے ہَذِہِ الْآیَۃُ تَدُلُّ عَلَی أَنَّ الْوَاجِبَ تَعْلِیقُ الْأَحْکَامِ مِنَ الْعِبَادَاتِ وَغَیْرِہَا إِنَّمَا یَکُونُ بِالشُّہُورِ وَالسِّنِینَ الَّتِی تَعْرِفُہَا الْعَرَبُ، دون الشہور التی تعتبر ہا الْعَجَمُ وَالرُّومُ وَالْقِبْطُ وَإِنْ لَمْ تَزِدْ عَلَی اثْنَیْ عَشَرَ شَہْرًا۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی :۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اس بات پردلالت کرتی ہے کہ عبادات وغیرہ میں سے احکام کو معلق کرناواجب ہے ، بلاشبہ وہ ان مہینوں اورسالوں کے ساتھ اداہوتے ہیں جنہیں عرب جانتے ہیں ، نہ کہ ان مہینوں کے ساتھ جوعجم ،روم اورقبطی کے ہاں معتبرہیں ، اگرچہ یہ بارہ مہینوں سے زائد نہیں ہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۳۲) عرب میں بھی یہ رسم پائی جاتی تھی کہ وہ مہینوں اور تاریخوں میں از خود اپنے مفادات مثلاً ؔؔآسان موسم میں حج کے لئے کمی بیشی کردیا کرتے تھے، عرب میں قَلْمَس نامی ایک شخص ہرسال حج کے اجتماع میں آئندہ حج کی تاریخوں کا اعلان کیا کرتا تھا، بعد میں اس کی اولاد یہی کام کرتی رہی جو قلامسہ کہلائے، اس سے ایک مستقل کیلنڈر وجود میں آیا جو مکی کیلنڈر کہلاتا تھا کیونکہ وہ مکہ مکرمہ سے باہر رواج نہ پاسکا۔چنانچہ نبی کریم ﷺ نے بذاتِ خود اس رسم بد کا خاتمہ کرتے ہوئے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر ایک تاریخ کا تعین فرماتے ہوئے قرار دیا :’’آج زمانہ اپنی اس اصل ہیئت پر لوٹ آیا ہے جس پر اللہ تعالی نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا تھا۔سال کے بارہ مہینے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں : ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب‘‘ تاریخوں اور مہینوں کی یہ غیرمعمولی اہمیت کیوں ہے کہ ان میں تبدیلی کرنا انتہائی ناپسندیدہ بلکہ ممنوع ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے بعض مخصوص برکات کو بعض مخصوص تاریخوں کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ جو فضیلت روزِ جمعہ یا یومِ عرفہ کی ہے، وہ دیگر ایام کو حاصل نہیں ۔ ایسے ہی رمضان کے مہینے کو جو تقدس اللہ نے عطا کیا ہے، وہ تقدس اس کے سوا دیگر ایام کو نہیں مل سکتا۔ شب ِقدر کی شریعت ِاسلامیہ میں جو غیرمعمولی اہمیت اور فضیلت بیان ہوئی ہے، اگر رمضان کی ایک تاریخ کو بھی اپنی مرضی سے تبدیل کردیا جائے تو اس سے آخری تمام عشرہ کی طاق راتیں اپنے اصل مقام سے ہٹ جائیں گی۔ اور طاق راتوں میں عبادت نہ کرنے کا نتیجہ اس رات کی فضیلت سے محرومی کے سوا اور کیا ہوگا؟ اس لئے مختلف ایام سے منسوب مختلف فضائل وبرکات کو پانے کے لئے عین انہی ایام کو اُن کے اصل وقت پر حاصل کرنا اور انہیں تلاش کرنا ہی ضروری ٹھہرتا ہے۔ایسے ہی اسلام میں دنوں کی تعداد کو بھی قمری مہینوں پر ہی منحصر کیا گیا ہے چنانچہ عدت کے ایام، زکوٰۃکا سال اور ایامِ رضاعت وغیرہ میں ہجری مہینوں کو ہی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ عیسوی تقویم دراصل مغربی استعمار کا شاخسانہ ہے۔ ۱۹۲۶ء میں مصطفی کمال اتاترک (ملحد)نے استبدادی حکم کے ذریعے عین اس طرح ہجری تقویم کو کالعدم قرار دیا تھا، جس طرح اس نے ترکی کو عربی رسم الخط میں لکھنے، ہیٹ کو لازمی کرنے اور عربی میں اذان کو ممنوع ٹھہرایا تھا، تاکہ مسلمانوں کا اپنے سنہرے ماضی اور روایات و اَسلاف سے تعلق منقطع ہوجائے۔ آج عالم اسلام کا اکثر وبیشتر حصہ مغربی معاشرت کے اُصولوں پر قائم ہے۔ ان حالات میں صرف حجازمقدس میں ہجری تقویم زیرعمل ہے۔حجازمقدس میں ہجری تقویم نے کوئی عملی مسئلہ پیدا نہیں کیا اور اس سے ان کے روزمرہ معمولات میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔روئیت ہلال کے متعلق لبرل وسیکولر بھی یہود ونصاری کی پیروی میں مصروف ہیں
ذرائع ابلاغ کی فراوانی اورخبررسانی میں سہولت اورآسانی آنے کی وجہ سے عام لوگوں میں خصوصاً لبرل طبقہ میں یہ سوچ پیداہوگئی ہے کہ تمام دنیاکے مسلمان ایک ہی دن رمضان المبارک کی ابتداء کریں اورایک ہی دن عید منائیں ،ایک ہی دن سے رمضان المبارک سب مقامات پر شروع ہوجائے اورایک ہی دن اختتام پذیر ہوتاکہ ایک ہی دن میں لوگ عید منائیں ۔ اب ہم اس نظریہ کاقرآن وحدیث اورعلماء اہل اسلام کے کلام سے رد کریں گے ، اللہ تعالی کی بارگاہ میں التجاہے کہ مولاتعالی صحیح اسلامی نظریات کو اپنانے کی توفیق عطافرمائے ۔ رئویت ِ ہلال کاحکم حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِیَادٍ، قَال:سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، یَقُول:قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:أَوْ قَالَ: قَالَ أَبُو القَاسِمِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ، فَإِنْ غُبِّیَ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا عِدَّۃَ شَعْبَانَ ثَلاَثِینَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: چاند دیکھ کر روزہ رکھواورچاند دیکھ کر افطارکرو، پس اگرچاند تم پر پوشیدہ ہوجائے توشعبان کے تیس دن پورے کرو۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۳:۲۷) امام ابن بطال المتوفی ۴۴۹ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں نص فی أنہ علیہ السلام لم یرد اعتبار ذلک بالنجوم والمنازل، لأنہ لو کلف ذلک أمتہ لشق علیہ، لأنہ لا یعرف النجوم والمنازل إلا قلیل من الناس، ولم یجعل اللہ تعالی فی الدین من حرج، وإنما أحال علیہ السلام علی إکمال ثلاثین یومًا، وہو شیء یستوی فی معرفتہ الکل۔ ترجمہ:امام ابن بطال رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ہم کونجوم اورچاند کی منازل کااعتبارکرنے کاحکم نہیں دیا، اگرامت کو اس بات کامکلف بنایاجاتاتو امت مشقت میں مبتلاء ہوجاتی ، کیونکہ علم النجوم اورچاند کی منازل کو توبہت تھوڑے لوگ ہی جانتے ہیں ،اللہ تعالی نے دین میں تنگی نہیں رکھی اوراسی لئے رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ اگربادل ہوںاورتم کو چاند نظرنہ آئے تو تم تیس دن شعبان کے پورے کرکے رمضان المبارک شروع کرلواوریہ جو رئویت ہلال کاہمیں حکم دیاگیاہے یہ ایسی چیز ہے جس کو ہر بندہ آسانی کے ساتھ اپناسکتاہے اوراس کی معرفت میں تمام لوگ مساوی ہیں ۔ (شرح صحیح البخاری لابن بطال: ابن بطال أبو الحسن علی بن خلف بن عبد الملک (۴:۲۷) اس عبارت سے معلوم ہوگیاکہ ہم میں سے کوئی بھی اس بات کامکلف نہیں بنایاگیاکہ وہ رمضان المبارک کاچاند یاعید کاچاند دیکھنے کے لئے پہاڑوں پر چڑھ جائے یاہوائی جہاز پر چڑھ کر وہ زمین سے بہت زیادہ اونچاجاکر چاند کو تلاش کرے ۔بس ہم کو یہی حکم ہے کہ ہم چاند کو زمین پر ہی کھڑے ہوکر دیکھیں اگرنظرآجائے تو روزہ رکھ لیں اوراگرنظرنہ آئے تو تیس دن پورے کرلیں، یہی آسانی ہمارے لئے اللہ تعالی نے رکھی ہے کہ اگرچاند کی پیدائش ہوگئی ہوتوبھی بادل کی وجہ سے اگرہم کو نظرنہ آئے تو ہم روزہ نہ رکھنے کی صورت میں گناہگارنہیں ہوں گے ۔ جب تک یقین نہ ہوجائے ۔۔۔۔ وَعَلَی ہَذَا الْمَذْہَبِ جُمْہُورُ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَا یُصَامَ رَمَضَانُ إِلَّا بِیَقِینٍ مِنْ خُرُوجِ شَعْبَانَ وَالْیَقِینُ فِی ذَلِکَ رُؤْیَۃُ الْہِلَالِ أَوْ بِإِکْمَالِ شَعْبَانَ ثَلَاثِینَ یَوْمًا۔ ترجمہ :امام القرطبی المتوفی :۴۶۳ھ)رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ جمہوراہل علم کایہی مذہب ہے کہ رمضان المبارک کاروزہ تب تک نہیں رکھاجائے گاجب تک ہمیں یقین نہ ہوجائے کہ شعبان المعظم ختم ہوگیا،اورشعبان المعظم کے ختم ہونے کایقین صرف دوہی صورتوں میں ہوسکتاہے وہ یہ کہ چاند نظرآجائے یاپھرشعبان المعظم کے تیس دن پورے ہوجائیں ۔ (التمہید:أبو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمری القرطبی (۱۴:۳۳۹) سبحان اللہ عزوجل ! کتناآسان دین ہے ہمارا، اس کے متعلق خواہ مخواہ لوگوں نے مسائل کھڑے کرکے لوگوں کو تشویش میں مبتلاء کردیاہے ۔ اللہ تعالی ان کو سمجھ عطافرمائے ۔ رمضان کاثبوت کلینڈرسے ماننے والوں کارد أَنَّہُ لَا یَصِحُّ اعْتِقَادُ رَمَضَانَ إِلَّا بِرُؤْیَۃٍ أَوْ شَہَادَۃٍ عَادِلَۃٍ لِقَوْلِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ثَلَاثِینَ یَوْمًا ۔ ترجمہ:امام القرطبی المتوفی :۴۶۳ھ)رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ رمضان المبارک کااعتقاد صرف دوچیزوں کی وجہ سے ہی رکھناجائز ہے ، ایک یہ کہ رئویت ہلال اوردوسری گواہان ِ عادل کی گواہیاں کیونکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم رمضان المبارک کاچاند دیکھ کر روزہ رکھواورچانددیکھ کر ہی افطارکرویعنی عید کرو۔ (التمہید :أبو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمری القرطبی (۱۴:۳۳۹) امام ابن رجب الحنبلی المتوفی :۷۹۵ھ) فرماتے ہیں فتبین أن دیننا لا یحتاج إلی حساب ولا کتاب، کما یفعلہ أہل الکتاب من ضبط عباداتہم بمسیر الشمس وحسباناتہا، وأن دیننا فی میقات الصیام معلق بما یری بالبصر وہو رؤیۃ الہلال، فإن غم أکملنا عدۃ الشہر ولم نحتج إلی حساب. ترجمہ :اس حدیث پاک سے واضح ہوگیاکہ ہمارادین حساب وکتاب کامحتاج نہیں ہے جیساکہ اہل کتاب کرتے تھے کہ انہوںنے اپنی عبادات کو سورج کی چال اوراس کے حساب کے ساتھ جوڑ رکھاتھا، ہمارے روزوں کا دارومدار آنکھ سے دیکھنے پر ہے اوروہ رئویت ہلال ہے ، اگرمطلع صاف نہ ہواورہر طرف ابرہی ابرہو تو ہم مہینہ پوراکریں گے یعنی شعبان المعظم کے تیس دن پورے کریں گے اورہم حساب وکتاب کے محتاج نہیں ہیں ۔ (فتح الباری :زین الدین عبد الرحمن ، السَلامی، البغدادی، ثم الدمشقی، الحنبلی (۲:۹۵)اہل کتاب کی مخالفت کرنے کاحکم
وَقَالَ الْعلمَاء :معنی الحَدِیث:لَا تستقبلوا رَمَضَان بصیام علی نِیَّۃ الِاخْتِلَاط لرمضان، تحذیرا مِمَّا صنعت النَّصَارَی فِی الزِّیَادَۃ علی مَا افْترض عَلَیْہِم برأیہم الْفَاسِد، فَکَانَ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم یَأْمر بمخالفۃ أہل الْکتاب۔ ترجمہ :امام بدرالدین العینی الحنفی المتوفی ۸۵۵ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے رمضان المبارک سے ایک دن پہلے کاروزہ رمضان المبارک کے روزوں کے ساتھ ملانے کی نیت سے رکھنے سے منع فرمایا، اس کی وجہ صرف اورصرف نصاری کی مخالفت کی تھی،کیونکہ نصاری اپنی فاسدرائے کی وجہ سے ہر فرض عبادت پر کچھ اپنی طرف سے ( فرض ) کی نیت سے اضافہ کرلیتے ہیں ۔رسول اللہ ﷺان کی مخالفت کرنے کا حکم دیاکرتے تھے ۔ (عمدۃ القاری :أبو محمد محمود بن أحمد بن موسی بن أحمد بن حسین الغیتابی الحنفی بدر الدین العینی(۱۰: ۲۸۸) امام ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ تعالی کے قول سے معلوم ہواکہ اپنی عبادات کی بناء سورج کے حساب پر رکھنااہل کتاب ( یہود ونصاری ) کاطریقہ ہے اورامام بدرالدین العینی الحنفی رحمہ اللہ تعالی کے فرمان شریف سے واضح ہواکہ رسول اللہ ﷺنے یہود ونصاری کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایاہے ۔ اب جو لوگ اسی بات پرزوردیتے ہیں کہ رمضان المبارک کے لئے کیلنڈر وغیرہ سے نفع حاصل کیاجائے اوررئویت ہلال کے شرعی تقاضے پورے کرنے ترک کردیئے جائیں ، وہ خود غورکریں کہ وہ امت کو کس طرف لے کرجاناچاہتے ہیں ؟۔ اہل کتاب کی مشابہت سے ممانعت أن ینوی صوم رمضان وہو مکروہ لما روینا ولأنہ تشبہ بأہل الکتاب لأنہم زادوا فی مدۃ صومہم ۔ ترجمہ :امام المرغینانی الحنفی المتوفی ( ۵۹۳ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ کوئی شخص رمضان المبارک سے ایک دن پہلے ہی رمضان کی نیت سے روزہ رکھ لے یہ مکروہ ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اہل کتاب کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے کیونکہ وہ اس طرح روزے کی مدت میں زیادتی کرلیتے تھے ۔ (الہدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی:علی بن أبی بکر المرغینانی، أبو الحسن برہان الدین( ۱: ۱۱۷)کیلنڈر والوں سے پوچھنے کاحکم ہی نہیں
إِذْ لَو کَانَ الحکم یعلم من ذَلِک لقَالَ: فاسألوا أہل الْحساب، وَقد رَجَعَ قوم إِلَی أہل التسییر فِی ذَلِک، وہم الروافضوَنقل عَن بعض الْفُقَہَاء موافقتہم، قَالَ القَاضِی:وَإِجْمَاع السّلف الصَّالح حجَّۃ عَلَیْہِم، وَقَالَ ابْن بزیزۃ، ہُوَ مَذْہَب بَاطِل، فقد نہت الشَّرِیعَۃ عَن الْخَوْض فِی علم النُّجُوم لِأَنَّہَا حدس وتخمین لَیْسَ فِیہَا قطع وَلَا ظن غَالب، مَعَ أَنہ لَو ارْتبط الْأَمر بہَا لضاق الْأَمر، إِذْ لَا یعرفہَا إِلَّا الْقَلِیل۔ ترجمہ:امام بدرالدین العینی الحنفی المتوفی ۸۵۵ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ اگر رمضان المبارک کاروزہ رکھنے کے لئے چانددیکھنے کی بجائے حساب وکتاب کو دیکھ کر عمل کاحکم ہوتاتو رسول اللہ ﷺضرورفرماتے کہ تم اہل حساب ( کیلنڈر بنانے والوں ) سے پوچھ کر رمضان المبارک کے روزے رکھ لو ۔ ہاں اس بات کی طرف بھی ایک قوم گئی ہے اوروہ روافض ہیں جو کہتے ہیں کہ حساب وکتاب دیکھ کر روزہ رکھ لیاجائے ۔ اوریہ جو بعض فقہاء سے منقول ہے وہ کہتے ہیں کہ حساب وکتاب سے رمضان المبارک کے روزوں کی ابتداء کرلی جائے تو یاد رہے کہ ان کے بارے میںامام قاضی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ اجماع سلف صالح ان کے مذہب کے خلاف ہے اورابن بزیزہ رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا: یہ مذہب ہی باطل ہے کیونکہ شریعت مبارک نے ہم کو علم النجوم میں غوروفکرکرنے سے منع کیاہے ، اس لئے کہ یہ تو اندازہ اوراٹکل پچوہے ، اس میں نہ توقطعیت ہے اورنہ ہی ظن غالب کافائدہ ہوتاہے ، باوجود اس کے کہ اس میں دقت بہت زیادہ ہے کیونکہ اس علم سے بہت کم لوگ ہی واقفیت رکھتے ہیں ۔ ( عمدۃ القاری :أبو محمد محمود بن أحمد بن موسی بن أحمد بن حسین الغیتابی الحنفی بدر الدین العینی(۱۰: ۲۸۶)روٓیت ہلال کے بغیرروزہ رکھنے والے فاسق ہیں
وَإِنْ صَامَ أَہْلُ الْمِصْرِ مِنْ غَیْرِ رُؤْیَۃِ الْہِلَالِ وَلَمْ یَصُمْ رَجُلٌ مِنْہُمْ حَتَّی أَبْصَرَ الْہِلَالَ مِنْ الْغَدِ فَصَامَ أَہْلُ الْمِصْرِ ثَلَاثِینَ یَوْمًا وَالرَّجُلُ تِسْعَۃً وَعِشْرِینَ یَوْمًا فَلَیْسَ عَلَی الرَّجُلِ قَضَاء ُ شَیْء ٍ وَقَدْ أَخْطَأَ أَہْلُ الْمِصْرِ حِینَ صَامُوا بِغَیْرِ رُؤْیَۃِ الْہِلَالِ لِقَوْلِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا شَعْبَانَ ثَلَاثِینَ یَوْمًا فَأَہْلُ الْمِصْرِ خَالَفُوا أَمْرَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَانُوا مُخْطِئِینَ. ترجمہ:امام شمس الائمہ سرخسی المتوفی : ۴۸۳ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگرکسی شہر والوں نے رئویت ہلال کے بغیرروزہ رکھ لیااورانہیں میں سے ایک شخص نے رئویت ہلال کے بعد روزہ رکھا،تمام اہل شہر نے تیس دن روزہ رکھااوراس ایک شخص جس نے رئویت ہلال کے بعد روزہ رکھااس نے انتیس روزے رکھے تواس پر کسی طرح کی کوئی قضانہیں ہے ، رہے اہل شہر تو وہ تمام کے تمام خطاکارہیں کیونکہ انہوںنے رسول اللہ ﷺکے فرمان عالی شان کی مخالفت کی ہے،کیونکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھواورچاند دیکھ کر افطارکرو اگربادل کی وجہ سے چاند چھپ جائے تو شعبان المعظم کے تیس دن پورے کرو۔ اہل شہر رسول اللہ ﷺکے اس فرمان شریف کی نافرمانی کرکے خطاکارٹھہرے ہیں ۔ (المبسوط:محمد بن أحمد بن أبی سہل شمس الأئمۃ السرخسی (۳: ۷۸) روٓیت ہلال کے بغیرروزہ رکھنے والے فاسق ہیں وَلَوْ أَنَّ أَہْلَ مِصْرٍ لَمْ یَرَوْا الْہِلَالَ فَأَکْمَلُوا شَعْبَانَ ثَلَاثِینَ یَوْمًا ثُمَّ صَامُوا وَفِیہِمْ رَجُلٌ صَامَ یَوْمَ الشَّکِّ بِنِیَّۃِ رَمَضَانَ ثُمَّ رَأَوْا ہِلَالَ شَوَّالٍ عَشِیَّۃَ التَّاسِعِ، وَالْعِشْرِینَ مِنْ رَمَضَانَ فَصَامَ أَہْلُ الْمِصْرِ تِسْعَۃً وَعِشْرِینَ یَوْمًا وَصَامَ ذَلِکَ الرَّجُلُ ثَلَاثِینَ یَوْمًا فَأَہْلُ الْمِصْرِ قَدْ أَصَابُوا وَأَحْسَنُوا وَأَسَاء َ ذَلِکَ الرَّجُلُ وَأَخْطَأَ لِأَنَّہُ خَالَفَ السُّنَّۃَ إذْ السُّنَّۃُ أَنْ یُصَامَ رَمَضَانُ لِرُؤْیَۃِ الْہِلَالِ إذَا کَانَتْ السَّمَاء ُ مُصْحِیَۃً، أَوْ بَعْدَ شَعْبَانَ ثَلَاثِینَ یَوْمًا کَمَا نَطَقَ بِہِ الْحَدِیثُ.وَقَدْ عَمِلَ أَہْلُ الْمِصْرِ بِذَلِکَ وَخَالَفَ الرَّجُلُ فَقَدْ أَصَابَ أَہْلُ الْمِصْرِ وَأَخْطَأَ الرَّجُلُ وَلَا قَضَاء َ عَلَی أَہْلِ الْمِصْرِ لِأَنَّ الشَّہْرَ قَدْ یَکُونُ ثَلَاثِینَ یَوْمًا وَقَدْ یَکُونُ تِسْعَۃً وَعِشْرِینَ یَوْمًا۔ ترجمہ:امام علاء الدین الکاسانی الحنفی المتوفی ( ۵۸۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اہل شہر کے تمام لوگوںنے چاند نہیں دیکھااورانہوںنے شعبان المعظم کے تیس دن پورے کئے پھرروزہ رکھااورانہیں میںسے ایک شخص ایسابھی تھاجس نے شک کے دن بھی رمضان المبارک کی نیت کے ساتھ روزہ رکھ لیا۔پھرایساہواکہ رمضان المبارک کے اختتام پر شوال المکرم کاچاند انتیس کو ہی نظرآگیا، بس تمام اہل شہر نے انتیس روزے رکھے اوراس ایک شخص نے تیس دن روزے رکھے ،یہ اہل شہر جنہوںنے انتیس روزے رکھے انہوںنے درست کیااوربہت اچھاکیااوروہ شخص جس نے روزے تو تیس رکھے مگروہ رئویت کے حکم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے نافرمان ہوگیاہے کیونکہ اس نے رسول اللہ ﷺکے فرمان شریف کی نافرمانی کی ہے ۔ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع: علاء الدین، أبو بکر بن مسعود بن أحمد الکاسانی الحنفی (۲:۸۲)روٓیت ہلال کے سب سے پہلے منکرکون ؟
إن أہل الکتاب أمروا بالرؤیۃ لکنہم بدلوا۔ ترجمہ:امام زین الدین المناوی المتوفی ( ۱۰۳۱ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ اہل کتاب ( یہود ونصاری ) کو بھی یہی حکم تھاکہ وہ بھی اپنی عبادات کو رئویت ہلال کے ساتھ اداکیاکریں لیکن انہوںنے اس حکم ربانی کو بدل دیایعنی اس پر عمل نہیں کیا، رئویت ہلال کے حکم کو ترک کرکے انہوںنے اپنے تمام احکامات کو اپنے حساب وکتاب کے ساتھ جوڑ لیاتھا۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر:زین الدین محمد المدعو بعبد الرؤوف الحدادی ثم المناوی القاہری (۴:۲۱۵)روٓیت سے بھاگنے والے کون ؟
أجمع المسلمون إلا من شذ من المتأخرین المخالفین المسبوقین بالإجماع علی أن مواقیت الصوم والفطر والنسک إنما تقام الرؤیۃ عند إمکانہا لا بالکتاب والحساب الذی یسلکہ الأعاجم من روم وفرس وہند وقبط وأہل کتاب۔ ترجمہ:امام زین الدین المناوی المتوفی ( ۱۰۳۱ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ تمام اہل اسلام کااس بات پر اجماع ہے( سوائے چندایک متاخرین جو کہ مخالفین ہیں )روزے وافطاراورقربانی کو رئویت ہلال کے ساتھ اداکیاجائے گاجب ممکن ہو،حساب وکتاب کے ساتھ نہیں (کیلنڈر کے ساتھ نہیں ) جس طرح عجمی لوگوں میں رومی ، ہندی ، قبطی اوراہل کتاب ( یہود ونصاری) کرتے ہیں ۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر: زین الدین محمد المدعو بعبد الرؤوف زین العابدین الحدادی ثم المناوی (۴:۲۱۵)سائنس دانوں کے قول کے غیرمعتبرہونے کابیان
امام شمس الائمہ سرخسی المتوفی : ۴۸۳ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں مَنْ قَالَ یُرْجَعُ إلَی قَوْلِ أَہْلِ الْحِسَابِ عِنْدَ الِاشْتِبَاہِ، وَہَذَا بَعِیدٌ فَإِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَتَی کَاہِنًا، أَوْ عَرَّافًا وَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُولُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَی مُحَمَّدٍ(ﷺ) ترجمہ :جو شخص یہ کہے جب چاند دیکھنے میں اشتباہ و۱قع ہوجائے تو اہل حساب (سائنسدانوں ) کے قول پر اعتبارکیاجائے ۔ یہ بات بہت بعید ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو شخص کاہن کے پاس یاعراف کے پاس آیااوراس کی تصدیق کی تواس نے جو کچھ رسول اللہ ﷺپر نازل ہواہے اس کاکافرہوگیاہے ۔ (المبسوط: محمد بن أحمد بن أبی سہل شمس الأئمۃ السرخسی (۳: ۷۸) حضرت ملاعلی قاری حنفی المتوفی ( ۱۰۱۴ھ) فرماتے ہیں إِنَّا أُمَّۃٌ أُمِّیَّۃٌ لَا نَکْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ ،فَإِنَّہُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّ مَعْرِفَۃَ الشَّہْرِ لَیْسَتْ إِلَی الْکِتَابِ وَالْحِسَابِ کَمَا یَزْعُمُہُ أَہْلُ النُّجُومِ، وَلِلْإِجْمَاعِ عَلَی عَدَمِ الِاعْتِدَادِ بِقَوْلِ الْمُنَجِّمِینَ وَلَوِ اتَّفَقُوا عَلَی أَنَّہُ یَرَی۔ ترجمہ:حضرت سیدی ملاعلی قاری حنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکایہ فرمان شریف کہ{ إِنَّا أُمَّۃٌ أُمِّیَّۃٌ لَا نَکْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ }دلالت کرتاہے اس بات پر کہ مہینے کی پہچان لکھنے اورحساب وکتاب سے نہیں جیساکہ نجومیوں(ستاروں کاعلم رکھنے والوں ) نے گمان کیاہے اوراس بات پر اجماع ہے کہ ان سائنسدانوں کی گنتی کاکوئی اعتبارنہیں ہے اگرچہ وہ سب متفق ہوجائیں کہ انہوںنے چانددیکھ لیاہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح: علی بن احمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری ( ۴: ۱۳۷۲) امام الصنعانی المتوفی ۱۱۸۲ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں وَقَدْ قَالَ الْبَاجِیُّ فِی الرَّدِّ عَلَی مَنْ قَال:إنَّہُ یَجُوزُ لِلْحَاسِبِ وَالْمُنَجِّمِ وَغَیْرِہِمَا الصَّوْمُ وَالْإِفْطَارُ اعْتِمَادًا عَلَی النُّجُومِ:إنَّ إجْمَاعَ السَّلَفِ حُجَّۃٌ عَلَیْہِمْ۔ ترجمہ:امام الصنعانی المتوفی ۱۱۸۲ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام الباجی رحمہ اللہ تعالی نے ایسے لوگوں کارد فرمایاہے جو یہ کہتے ہیںکہ حساب لگانے والے اورسائنسدانوں کے بتانے پر روزہ رکھنااورافطارکرناجائز ہوتاہے ، آپ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ ہمارے تمام ائمہ کااجماع ان کے خلاف ہے ۔ (سبل السلام: محمد بن إسماعیل الصنعانی، أبو إبراہیم، عز الدین، المعروف کأسلافہ بالأمیر ( ۱: ۵۵۹)اہل النجاسۃ کون لوگ ؟
قَالَ الطِّیبِیُّ :إِنَّا کِنَایَۃٌ عَنْ جِیلِ الْعَرَبِ، وَقَوْلُہُ لَا نَکْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ بَیَانٌ لِقَوْلِہِ أُمِّیَّۃٌ، وَہَذَا الْبَیَانُ ثُمَّ الْإِشَارَۃُ بِالْیَدِ ثُمَّ الْقَوْلُ بِاللِّسَانِ یُنْہِیکَ عَلَی أَنَّ الِاسْتِقْصَاء َ فِی مَعْرِفَۃِ الشَّہْرِ لَا إِلَی الْکِتَابِ وَالْحِسَابِ کَمَا عَلَیْہِ أَہْلُ النَّجَاسَۃِ فَالْمَعْنَی أَنَّ الْعَمَلَ عَلَی مَا یَعْتَادُہُ الْمُنَجِّمُونَ لَیْسَ مِنْ ہَدْیِنَا وَسُنَّتِنَا، بَلْ عِلْمُنَا یَتَعَلَّقُ بِرُؤْیَۃِ الْہِلَالِ فَإِنَّا نَرَاہُ مَرَّۃً تِسْعًا وَعِشْرِینَ وَمَرَّۃً ثَلَاثِینَ ۔ ترجمہـ:امام طیبی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اناجیل العرب سے کنایہ ہے اورآپ ﷺکافرمان شریف لانکتب ولانحسب اس کے قول ’’امیہ‘‘ کے بیان کے لئے ہے ، یہ بیان ہے اورپھرہاتھ مبارک کے ساتھ اشارہ ہے ، پھرزبان مبارک کے ساتھ قول ہے ، یہ بات پر دلالت ہے کہ مہینہ کی پہچا ن میں ہم کم ہیں ، ناکہ کتابت اورحساب کی طرف اشارہ ہے جیساکہ اہل النجوم کاموقف ہے ، معنی یہ ہے کہ وہ عملِ نجس جو اہل نجوم کی عادت ہے وہ ہماراطریقہ اورسنت نہیں ہے بلکہ ہماراطریقہ یہ ہے جس کاتعلق رئویت ہلال سے ہے ، بعض دفعہ ہم انتیس کو دیکھتے ہیں اوربعض دفعہ تیس کو دیکھتے ہیں جیساکہ آپ ﷺنے فرمایا۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح: علی بن محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری ( ۴: ۱۳۷۲)اگرنجومی کے قول پر عمل کیاتو۔۔۔
بَلْ أَقُولُ:لَوْ صَامَ الْمُنَجِّمُ عَنْ رَمَضَانَ قَبْلَ رُؤْیَتِہِ بِنَاء ً عَلَی مَعْرِفَتِہِ یَکُونُ عَاصِیًا فِی صَوْمِہِ، إِلَّا إِذَا ثَبَتَ الْہِلَالُ عَلَی خِلَافٍ فِیہِ، وَلَوْ جَعَلَ عِیدَ الْفِطْرِ بِنَاء ً عَلَی زَعْمِہِ الْفَاسِدِ یَکُونُ فَاسِقًا، وَتَجِبُ عَلَیْہِ الْکَفَّارَۃُ فِی قَوْلٍ وَہُوَ الصَّحِیحُ، وَإِنِ اسْتَحَلَّ إِفْطَارَہُ فَرْضًا عَنْ عَدِّہِ وَاجِبًا صَارَ کَافِرًا۔ ترجمہ :حضرت ملاعلی قاری حنفی المتوفی ( ۱۰۱۴ھ) فرماتے ہیں:ـبلکہ میں کہتاہوں اگرکوئی نجومی رئویت سے قبل رمضان المبارک کاروزہ رکھ لیتاہے اس بنیاد پر کہ وہ اس کی معرفت میں ماہر ہے تووہ اس روزہ رکھنے کی وجہ سے نافرمان ہوگا، اس کے روزے کاکوئی اعتبارنہیں جب تک چاند کی رئویت کاثبوت نہ مل جائے ، اگراسی طرح اس کے فاسد دعوے کے مطابق عید الفطرکو اداکیاجائے تو وہ فاسق ہوگااوراس کے قول کی بناء پر کفارہ واجب ہوگااوریہی بات صحیح ہے ، اگراس کے افطار کو فرض سے واجب شمار کرتے ہوئے حلال سمجھاجائے تو کافرہوجائے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح:علی بن محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری ( ۴: ۱۳۷۲)سائنسدانوں کے قول کااعتبار کرنے والامخالف شریعت ہے
ولا یعتبر قول المنجمین بالإجماع، ومن رجع إلی قولہم فقد خالف الشرع، وقد قال صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ من أتی کاہناً أو منجماً وصدقہ فیما قال فقد کفر بما أنزل علی محمدﷺ۔ ترجمہ:امام بدرالدین العینی الحنفی المتوفی ( ۸۵۵ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس بات پر اجماع ہے کہ سائنس دانوں کے قول پر اعتبارنہیں کیاجائے گا، جس شخص نے اپنے قول پر اعتماد کیااس نے شریعت مبارک کی مخالفت کی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو شخص کاہن یاعلم نجوم کے ماہر کے پاس آیااوراس کی بات کی تصدیق کی تو اس نے اس کاانکارکیاجو کچھ اللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺپر نازل فرمایاہے ۔ (البنایۃ شرح الہدایۃ: أبو محمد محمود بن أحمد بن موسی الغیتابی الحنفی بدر الدین العینی (۴:۱۷) اس موضوع پرمزیدپڑھنے کے لئے ہماری کتاب ’’رمضان المبارک کے فضائل وجدیدمسائل ‘‘کامطالعہ فرمائیں۔معارف ومسائل
(۱)یادرہے کہ شرعی احکام و معاملات میں سورج اور چاند دونوں کی گردش کا لحاظ رکھا گیا ہے مگر اس فرق کے ساتھ کہ دِنوں کی تعیین چاند کے ساتھ جبکہ اوقات کی تعیین سورج کے ساتھ ہوگی چنانچہ ہماری تمام عبادات و احکام اس حساب سے چلتے ہیں۔ اس فرق میں کیا حکمت ہے، اس کے بارے میں بھی کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ مثلاً رمضان کا تعین اگر سورج کی گردش کے حساب سے طے کیا جائے تو جو مہینہ بھی طے پائے گا وہ ایک ہی موسم میں ہمیشہ آئے گا اور مختلف موسموں کے روزوں کا لطف نصیب نہیں ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر اکتوبر کا مہینہ روزوں کے لیے مخصوص ہوتا تو وہ ہر سال اسی موسم میں آتا۔ جبکہ قمری حساب سے رمضان المبارک کے تعین سے یہ تنوع حاصل ہوتا ہے کہ مختلف موسموں کے روزے مل جاتے ہیں اور ایک مسلمان بالغ ہونے کے بعد پچاس برس کی عمر تک سال کے ہر موسم کے روزے رکھ لیتا ہے، ٹھنڈے بھی، درمیانے بھی اور گرم بھی اور اس طرح تنوع قائم رہتا ہے۔ (۲)اس سلسلہ میں ایک دلچسپ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جن دنوں ہمارے ہاں جولائی اور اگست کے روزے تھے، قومی اخبارات میں ایک صاحب کی طرف سے تجویز چھپی کہ جون جولائی کے روزے بھٹی پر کام کرنے والے مزدور اور کھیتی میں محنت کرنے والے کاشتکار کے لیے بہت مشکل ہیں اس لیے علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ اجتہاد کر کے رمضان المبارک کو کسی مناسب موسم کے ساتھ مخصوص کر دیں۔ ان صاحب کی تجویز یہ تھی کہ فروری کے مہینہ کو رمضان المبارک قرار دے دیا جائے اور یکم مارچ کو عید الفطر کے لیے مقرر کر دیا جائے اس طرح نہ صرف روزے مناسب موسم میں مخصوص ہو جائیں گے بلکہ عید کا جھگڑا بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ علماء کرام نے اس زمانے میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس غریب کو اپنی تجویز کا تیسرا فائدہ یاد نہیں رہا کہ تیسویں روزے سے ہمیشہ کے لیے چھٹی مل جائے گی اور انتیسواں روزہ بھی چار سال کے بعد آئے گا۔ (۳)ہمارے ہاں اس بات کو لوگوں نے اجتہاد سمجھ رکھا ہے کہ دین کے جس مسئلہ پر عمل میں کچھ مشکل محسوس ہو اس میں اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق ردوبدل کر لیا جائے۔ حالانکہ یہ اجتہاد نہیں، خالص الحاد ہے۔ اور پہلی امتوں نے اسی طرح آسمانی مذاہب کا حلیہ بگاڑا تھا۔ جیسا کہ حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ تعالی نے تفسیرِ مظہری میں روایات نقل کی ہیں کہ بنی اسرائیل میں رمضان المبارک ہی کے روزے فرض تھے جو قمری سن کا مہینہ ہے اور موسم کے حساب سے مختلف موسموں میں گردش کرتا رہتا ہے۔ اس زمانے میں بھی جون اور جولائی کے روزے لوگوں کو گراں گزرے تھے اور انہوں نے اپنے علمائے کرام سے گزارش کی تھی کہ وہ انہیں شدید گرمی کے روزوں سے نجات دلائیں۔ بنی اسرائیل کے علمائے کرام ہماری طرح کے ضدی اور ہٹ دھرم نہیں تھے بلکہ عوام دوست اور روشن خیال تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنی عوام کی بات مان لی اور رمضان المبارک کے روزوں کو سردی کے موسم میں مخصوص کر دیا۔ البتہ تھوڑی سی شرم و حیا موجود تھی اس لیے تیس روزوں کے اٹھائیس نہیں کیے بلکہ یہ طے کیا کہ تیس روزے تو پورے رکھیں گے اور یہ جو گڑبڑ ہم کر رہے ہیں اس کے کفارے کے طور پر دس روزے مزید بھی رکھا کریں گے۔ چنانچہ مذہبی عیسائیوں کو دیکھ لیں کہ وہ مارچ اپریل کے دوران چالیس روزے رکھتے ہیں۔ (۴)قمری سال شعائرِ اسلام میں سے ہے، لیکن آج آپ دیکھتے ہیں کہ ہم لوگوں کو اسلامی مہینوں کے نام بھی پوری طرح معلوم نہیں ہوتے چہ جائیکہ روزانہ کی اسلامی تاریخ ہمیں یاد ہو۔ اسلامی تاریخ اور مہینوں کے ساتھ یہ بے توجہی ایک شرعی مسئلے کے علاوہ ہماری قومی اور ملی غیرت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ (۵)چونکہ اسلامی احکام کا دارومدار قمری حساب پر ہے اس لئے فقہاء نے قمری حساب کو باقی اور یاد رکھنا مسلمانوں کے ذمے فرضِ کفایہ قرار دیا ہے تاکہ مسلمانوں کو معلوم رہے کہ رمضان کے روزے کب شروع ہوں گے اور حج کے ایام کب آئیں گے وغیرہ۔ اگر ہم اپنے معاملات میں اسلامی تاریخ کو زندہ کرنا چاہیں تو کوئی مشکل نہیں وہ اس طرح کہ آپ اپنے کاغذات و دستاویزات میں دونوں تاریخیں لکھنے کا اہتمام کریں، اوپر اسلامی ہجری تاریخ لکھ دیں اور اس کے نیچے شمسی تاریخ لکھ دیں۔ اس طرح آپ کی شمسی تاریخ کی ضرورت بھی پوری ہوجائے گی اور اسلامی تاریخ لکھنے سے آپ کو فرضِ کفایہ کی ادائیگی کا ثواب بھی ہوگا اور ساتھ ساتھ اپنا قومی شعار بھی محفوظ رہے گا۔ (۶)شریعتِ اسلامی میں قمری حساب کو اختیار کرنے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ چاند کو ہر آنکھوں والا افق پر دیکھ کر تاریخ کا اندازہ لگا سکتا ہے، پڑھا لکھا، اَن پڑھ، شہری، دیہاتی، جزیروں اور پہاڑوں میں رہنے والے، غرض سب ہی کو یہ بات نظر آتی ہے کہ ۳۰یا ۲۹ دنوں کے بعد چاند بہت باریک سا دکھائی دیتا ہے، اس کے بعد روز بروز بڑھتا رہتا ہے اور پورا چاند روشن ہو جاتا ہے، پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے اور چھوٹا ہوتے ہوتے گم ہو جاتا ہے، پھر دو تین راتوں کے بعد باریک سا نمودار ہوتا ہے۔ جب ۱۲مرتبہ اسی طرح چاند کا عروج و زوال ہو جاتا ہے تو یہ نظر آتا ہے کہ تقریباًوہی پچھلا موسم آجاتا ہے۔ اس حقیقت کی شناخت کے لئے نہ کسی فلکیاتی حساب کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی رصد گاہ کی۔ (۷)مسلمانوں کا ہجری سال حضورتاجدارختم نبوتﷺ اور آپ ﷺکے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے اس عظیم واقعے سے شروع ہوتا ہے جو اسلام کی ابتدائی کمزوری اور قوّت وغلبہ کے دور کے درمیان حدِ فاصل اور خطِ امتیاز کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب بھی نیا اسلامی سال شروع ہوتا ہے تو وہ ہمیں ہجرت کے اس عظیم واقعے سے سبق لینے کی دعوت دیتا ہے کہ ہر طرح کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے، کس قدر اذیتوں اور تکالیف سے دوچار نہ کیا جائے، اپنی عزیز از جان پیاری اولاد اور قیمتی مال ومتاع سے ہاتھ کیوں نہ دھونا پڑے، اپنے عزیز وطن، مانوس ماحول، محبوب دوستوں، بچپن کی ہم جولیوں اور وطن سے وابستہ اپنی قیمتی یادوں کو کیوں نہ ترک کرنا پڑے، بہرصورت اپنے ایمان و عقیدے، اپنے بنیادی نظریات اور اصول و قواعد سے وابستہ رہنا ہے، کسی حال میں بھی کمزور نہیں پڑنا۔ آج اس عظیم واقعے کو چودہ سو اکتالیس۱۴۴۱سال گزر چکے ہیں، لیکن حضورتاجدارختم نبوتﷺ اور آپ ﷺکے پاکیزہ اصحاب رضی اللہ عنہم کی اپنے مذہب اور عقیدے پر زبردست جماؤ کی یہ داستانِ عشق و وَفا آج بھی زندہ ہے۔ (۸)حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میںحضرت سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ عراق و کوفہ کے گورنر تھے،ایک دفعہ انہوں نے حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے پاس خط لکھا کہ آپ کی طرف سے ہمیں جو احکامات اور ہدایتیں ملتی ہیں ان میں تاریخ نہیں ہوتی، اس لیے معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کس تاریخ کا حکم نامہ ہے ؟جس کی بنا پر بعض دفعہ ان پر عمل کرنے میں دشواری پیش آتی ہے ۔اس پر غور کرنے کے لیے حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے مجلس شوری منعقد کی اور اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوجمع کیا ،جن میں حضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا مولاعلی رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔یہ بحث شروع ہوئی کہ سن کی ابتدا کب سے قرار دی جائے؟حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی رائے دی اور اس پر سب کا اتفاق ہوگیا۔ (۹)ہجرت کے بعد مدینہ میں ایمان والوں کو ایک مضبوط قلعہ اور مستحکم مرکز مل گیا ۔مسلمانوں کو آزادی سے عبادت کرنے اور حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کے پاس آنے جانے کے مواقع مل گئے ۔اہل اسلام نسبتاً چین سے زندگی گزار نے لگے ۔اسلامی طرز معاشرت کے خدو خال نمایاں ہوئے،اسلام کے اقتصادی و معاشی معاملات کے لیے عملی راہ ہموار ہو گئی ،تعلیمات اسلام کی نشرو اشاعت کے لیے پاکیزہ ماحول مہیا ہوا ،ایک اسلامی حکومت قائم ہوئی، جس کے سربراہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺتھے ۔اسلام کی اسی ظاہری او ر باطی شان وشوکت کے پیش نظر ہجرت کی تاریخ سے اسلامی تقویم کا آغاز کیا گیا۔ ((!)اس آیت میں مسلمانوں کو کافروں کے خلاف متحد ہو کر جنگ کرنے اور اس میں ایک دوسرے سے مدد و تعاون کرنے کا حکم دیا گیا اور تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں کا اتحاد اور اتفاق ان کے عروج کا سبب اور ان کی بہت بڑی قوت تھی اور اسی اتحاد کی برکت سے ان کی قلیل تعداد کافروں کی کثیر تعداد پر ہر میدان میں غالب رہی اور مسلمان ہر طرف اپنی فتح کے جھنڈے لہراتے رہے، روم اور ایران جیسی اپنے وقت کی سپر پاورز کو اپنے قدموں تلے روند کر رکھ دیا، مصر، عراق، اسپین اور افریقی ممالک میں اسلام کا پرچم بلند کر دیا ،الغرض کفار اپنے اتحاد، عددی برتری اور جنگی ساز و سامان کی فراوانی کے باوجود مسلمانوں پر کسی طرح غالب نہ آ سکے اور یہ سب مسلمانوں کے ایک مرکز پر جمع ہونے اور باہمی اتحاد واتفاق کا نتیجہ تھا۔ جب کفار کسی طرح مسلمانوں کو شکست نہ دے سکے تو انہوں نے مسلمانوں کے اتحاد کو ختم کرنے اور ان میں اِفتراق و اِنتشار پیدا کرنے کی کوششیں شروع کر دیں اور ا س کے لئے انہوں نے بے تحاشا مال و زر، سونا چاندی اور ہیرے جواہرات خرچ کر کے مسلمانوں میں دین فروش گمراہ علماء اور غدار پیدا کئے ،مسلم وزراء ،مسلم حکمرانوں اورفوج کے سالاروں کو خریدا، یہاں تک کہ انہوں نے اس کام کے لئے اپنی عورتوں کے حسن و جمال اور ان کی عزت و آبرو کا استعمال کرنے سے بھی دریغ نہ کیا، جب وہ مسلمانوں میں مال و زر کی خواہش، سلطنت و حکومت کی ہوس ، شراب، رَباب اور شباب کی طلب اور ایک دوسرے سے حسد ،بغض اور عداوت پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اس کا نتیجہ مسلمانوں کے زوال کی صورت میں ظاہر ہوا، مسلمانوں کا باہمی اتحاد ختم ہو گیا اور وہ لا مرکزیت کا شکار ہو کر ٹکڑوں میں بٹ گئے اور مسلمانوں کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر کفار رفتہ رفتہ ان پر غالب آتے گئے اور پھر مسلمانوں نے اندلس، قرطبہ، غرناطہ، ترکستان، ایران ، بغداد ،فلسطین اور دیگر ملکوں میں عیسائیوں اور تاتاریوں سے ایسی عبرتناک تباہی کا سامناکیا کہ اسے سن کر ہی کلیجہ کانپ جاتا ہے۔ مسلمانوں کے گھر اور مال و اَسباب جلا دئیے گئے ،ان کی مَساجد میں کفار نے اپنے اپنے گھوڑے باندھے اور اذان و نماز پر پابندیاں لگا دیں ، ان کے اہلِ حق علماء اور اسلام کے وفاداروں کو چن چن کر قتل کردیا گیا، ان کے علمی و روحانی مراکز تباہ و برباد کر دئیے گئے، بغداد میں مسلمانوں کے علمی ورثے کو جب دریائے نیل میں غرق کیا گیا تو اس کی سیاہی سے دریا کا پانی سیاہ ہو گیا، باپوں کے سامنے بیٹیوں ، شوہروں کے سامنے بیویوں ،بھائیوں کے سامنے بہنوں اور بیٹوں کے سامنے ان کی مائوں کی عزتوں کو تار تار کیا گیا اور مسلمان حسرت کے آنسو بہانے کے سوا کچھ نہ کر سکے۔ آج کے مسلمانوں کا حال دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ اپنی تاریخی اور عبرتناک غلطیوں سے سبق حاصل کرنے کی بجائے انہی غلطیوں کو از سرِنو دُہرا رہے ہیں اور ایک مرکز پر جمع ہو کر متحد ہونے کی بجائے مختلف ٹکڑوں میں بٹ کر اور کفار کا دست نگر ہو کر زندگی گزارنے کو اپنی عظیم سعادت سمجھے بیٹھے ہیں ،اپنی حکومت اور سلطنت بچانے کی خاطر کفار کے آگے ایڑیاں رگڑتے اور ان کی ناراضی کو اپنی محتاجی کا پروانہ سمجھتے ہیں ، مسلمانوں کی اخلاقی اور ملی تباہی کے لئے کفار کی طرف سے بُنے گئے جالوں میں بری طرح پھنسنے کو اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں ، دین فروش علماء اور غداروں نے مسلمانوں کی ملی وحدت کو پار ہ پارہ کر کے کفار کے عَزائم کامیاب بنا دئیے ہیں ، کسی مسلم ملک پر کفار حملہ کریں تویہ اپنے مسلمان بھائیوں کے جان و مال اورعزت وآبرو کی حفاظت کرنے کی بجائے کفار سے ان کے سودے کرتے ہیں ، مسلمانوں کو تباہ وبرباد کرنے کے لئے ہر طرح سے کفار کا ساتھ دیتے ہیں اور کفار سے پٹنے والے مسلمانوں کا حال و انجام دیکھ کر یہ تَصَوُّر تک کرنا گوارا نہیں کرتے کہ کفار نے اپنے منظورِ نظر مسلمانوں کا جو حال کیا کل کو وہ یہی حال ان کا بھی کر سکتے ہیں۔اے کاش! درسِ قرآن ہم نے نہ بھلایا ہوتا یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا (تفسیرصراط الجنان ( ۴:۱۱۹)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9