Fatwa #2408
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیرسورۃالتوبہ آیت ۴۰۔ اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,583
سوال (Question):
تفسیرسورۃالتوبہ آیت ۴۰۔ اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مجاہدین کے لئے اللہ تعالی نے حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ناموس رسالت پرپہرہ کو بطورمثال بیان فرمایا
اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصٰحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا فَاَنْزَلَ اللہُ سَکِیْنَتَہ عَلَیْہِ وَاَیَّدَہ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْہَا وَجَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰی وَکَلِمَۃُ اللہِ ہِیَ الْعُلْیَا وَاللہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ }(۴۰) ترجمہ کنزالایمان:اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بیشک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکینہ اتارا اور ان فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں اور کافروں کی بات نیچے ڈالی اللہ ہی کا بول بالا ہے ور اللہ غالب حکمت والا ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اگر تم میرے حبیب کریم ﷺکی مدد نہیں کرو گے تو اللہ تعالی ان کی مدد فرماچکا ہے جب کافروں نے انہیں ان کے وطن سے نکال دیا تھا جبکہ یہ دو میں سے دوسرے تھے، جب دونوں غار میں تھے، جب یہ اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے غم نہ کرو، بیشک اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے تو اللہ تعالی نے اُس پر اپنی تسکین نازل فرمائی اور اُن لشکروں کے ساتھ اُس کی مدد فرمائی جو تم نے نہ دیکھے اور اُس نے کافروں کی بات کو نیچے کردیا اور اللہ تعالی کی بات ہی بلندو بالا ہے اور اللہ تعالی غلبے والا حکمت والا ہے۔ہجرت کی رات حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت وناموس پرپہرہ
قَوْلُہُ تَعَالَی:(إِلَّا تَنْصُرُوہُ)یَقُولُ:تُعِینُوہُ بِالنَّفْرِ مَعَہُ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ عَاتَبَہُمُ اللَّہُ بَعْدَ انْصِرَافِ نَبِیِّہِ عَلَیْہِ السَّلَامُ مِنْ تَبُوکَ قَالَ النَّقَّاشُ:ہَذِہِ أَوَّلُ آیَۃٍ نَزَلَتْ مِنْ سُورَۃِ (بَرَاء َۃٌ)وَالْمَعْنَی:إِنْ تَرَکْتُمْ نَصْرَہُ فَاللَّہُ یَتَکَفَّلُ بِہِ، إِذْ قَدْ نَصَرَہُ اللَّہُ فِی مَوَاطِنِ الْقِلَّۃِ وَأَظْہَرَہُ عَلَی عَدُوِّہِ بِالْغَلَبَۃِ وَالْعِزَّۃِوَقِیلَ:فَقَدْ نَصَرَہُ اللَّہُ بِصَاحِبِہِ فِی الْغَارِ بِتَأْنِیسِہِ لَہُ وَحَمْلِہِ عَلَی عُنُقِہِ، وَبِوَفَائِہِ وَوِقَایَتِہِ لَہُ بِنَفْسِہِ وَمُوَاسَاتِہِ لَہُ بِمَالِہِ قَالَ اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ:مَا صَحِبَ الْأَنْبِیَاء َ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ مِثْلُ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ وَقَالَ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ بِہَذِہِ الْآیَۃِ مِنَ الْمُعَاتَبَۃِ الَّتِی فِی قَوْلِہِ:’’إِلَّا تَنْصُرُوہُ‘‘۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی :۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ {إِلَّا تَنْصُرُوہُ}میں اللہ تعالی فرمارہاہے اگرتم غزوہ تبوک میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی معیت میں نکل کرآپ ﷺکی مددنہیں کروگے ۔اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے غزوہ تبوک سے واپس آنے کے بعد ان کو عتاب کیا، امام نقاش رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ اس کامعنی یہ ہے کہ اگرتم نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی مددکرناچھوڑدی تواللہ تعالی آپﷺکاضامن اورکفیل ہے ، جبکہ اللہ تعالی نے قلت کے موقع پر آپﷺکی مددونصرت فرمائی اورآپﷺکو آپ ﷺکے دشمنوں پر عزت وغلبہ کے ساتھ واضح غلبہ عطافرمایااوریہ بھی کہاگیاہے کہ تحقیق اللہ تعالی نے غار میں آپ ﷺکے صاحب اوررفیق کے ساتھ آپ ﷺکی مددفرمائی ، اس طرح کہ وہ آپ ﷺکے ساتھ مانوس تھے ، انہوںنے آپﷺکوکندھوں پراٹھایااورآپ ﷺکے ساتھ وفاکی اوراپنی جان کی پرواہ کئے بغیرآپ ﷺکے ساتھ وفاکی اوراپنے مال کے ساتھ آپ ﷺکے ساتھ اظہارہمدردی کیا۔ حضرت سیدنالیث بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہاہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی مثل تھے ۔ اورحضرت سیدناسفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہ نے فرمایاہے کہ حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ کے ساتھ اس عتاب سے نکل گئے ۔ (تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۴۱)جب دین کو خطرہ ہوتوہجرت کرنا
وَفِیہِ:دَلِیلٌ عَلَی جَوَازِ الْفِرَارِ بِالدِّینِ خَوْفًا مِنَ الْعَدُوِّ، وَالِاسْتِخْفَاء ِ فِی الْغِیرَانِ وغیر ہا أَلَّا یُلْقِیَ الْإِنْسَانُ بِیَدِہِ إِلَی الْعَدُوِّ تَوَکُّلًا عَلَی اللَّہِ وَاسْتِسْلَامًا لَہُ وَلَوْ شَاء َ رَبُّکُمْ لَعَصَمَہُ مَعَ کَوْنِہِ مَعَہُمْ وَلَکِنَّہَا سُنَّۃُ اللَّہِ فی الأنبیاء وغیر ہم۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی :۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ دشمن کے خوف سے دین کے ساتھ ہجرت کرناجائز ہے اورغیرت وغیرہ کے معاملے میں حقیرجاننے کے خوف سے فراراختیارکرنابھی جائز ہے کہ انسان اللہ تعالی کی ذات پرتوکل کرتے ہوئے اوراس کے لئے صلح وسلامتی چاہتے ہوئے بذات خود دشمن کے حوالے نہ ہوجائے اوراگرتمھارے رب تعالی نے چاہاتواسے ان کے ساتھ ہونے کے باوجوداس سے محفوظ رکھے گا۔ یہ انبیاء کرام علیہم السلام اوردیگرلوگوں کے لئے اللہ تعالی کاطریقہ ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۴۱)حضرت سیدناابوبکررضی اللہ عنہ کی صحابیت کامنکرکافرہے
(إِذْ یَقُولُ لِصاحِبِہِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّہَ مَعَنا)ہَذِہِ الْآیَۃُ تَضَمَّنَتْ فَضَائِلَ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَوَی أَصْبَغُ وَأَبُو زَیْدٍ عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مَالِکٍ ثانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُما فِی الْغارِ إِذْ یَقُولُ لِصاحِبِہِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّہَ مَعَناہُوَ الصِّدِّیقُ فَحَقَّقَ اللَّہُ تَعَالَی قَوْلَہُ لَہُ بِکَلَامِہِ وَوَصَفَ الصُّحْبَۃَ فِی کِتَابِہِ قَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاء ِ:مَنْ أَنْکَرَ أَنْ یَکُونَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ أَوْ أَحَدٌ مِنَ الصَّحَابَۃِ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَہُوَ کَذَّابٌ مُبْتَدِعٌوَمَنْ أَنْکَرَ أَنْ یَکُونَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَہُوَ کَافِرٌ، لِأَنَّہُ رَدَّ نَصَّ الْقُرْآنِ. ترجمہ :اللہ تعالی کا فرمان شریف{اِذْ یَقُولُ لِصاحِبِہِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّہَ مَعَنا}حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل کو متضمن ہے ، اصبغ اورابوزیدنے حضرت سیدناامام مالک رضی اللہ عنہم سے روایت کیاہے کہ اس سے مراد حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ پس اللہ تعالی نے حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے لئے آپ ﷺکے فرمان شریف کو اپنے کلام میں ثابت کردیاہے اوراپنی کتاب میں آپ رضی اللہ عنہ کے وصف صحابیت کو بیان کیاہے ۔ بعض علماء کرام نے فرمایاکہ جو شخص حضرت سیدناعمروعثمان رضی اللہ عنہمایاکسی بھی صحابی رضی اللہ عنہ کی صحابیت کاانکارکرے وہ کذاب اوربدمذہب ہوگااورجو شخص حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابی ہونے کاانکارکردیاتووہ کافرہے ۔ کیونکہ اس نے قرآن کریم کی نص کارد کیاہے۔ (تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۴۱) امام النسفی رحمہ اللہ تعالی کاکلام وقالوا من أنکر صحبۃ أبی بکر فقد کفر لإنکارہ کلام اللہ ولیس ذلک لسائر الصحابۃ۔ ترجمہ :امام أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی المتوفی : ۷۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جوشخص حضرت سیدناابوبکررضی اللہ عنہ کی صحابیت کاانکارکرے وہ شخص کافرہے کیونکہ وہ قرآن کریم کاانکارکررہاہے اوریہ حکم باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی صحابیت کے انکارکرنے پر نہیں لگے گا۔ (تفسیر النسفی :أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی (۱:۶۸۱) اس مقام پر حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت پرامام فخرالدین الرازی رحمہ اللہ تعالی نے بہت زبردست کلام کیاہے جو کہ پڑھنے کے لائق ہے ۔ اوراہل ذوق کے لئے انتہائی مفید کلام ہے ۔خلیفہ بلافصل کامنکرکون؟
قُلْتُ وَقَدْ جَاء َ فِی السُّنَّۃِ أَحَادِیثُ صَحِیحَۃٌ، یَدُلُّ ظَاہِرُہَا عَلَی أَنَّہُ الْخَلِیفَۃُ بَعْدَہُ، وَقَدِ انْعَقَدَ الْإِجْمَاعُ عَلَی ذَلِکَ وَلَمْ یَبْقَ مِنْہُمْ مُخَالِفٌ وَالْقَادِحُ فِی خِلَافَتِہِ مَقْطُوعٌ بِخَطَئِہِ وَتَفْسِیقِہِ وَہَلْ یَکْفُرُ أَمْ لَا، یُخْتَلَفُ فِیہِ، وَالْأَظْہَرُ تَکْفِیرُہُ. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی :۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ میں کہتاہوں کہ احادیث صحیحہ موجودہیں ، جن کاظاہراس پردلالت کرتاہے کہ حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے بعد خلیفہ ہیں ۔ اوراس پر اجماع منعقدہوچکاہے اورکوئی مخالف باقی نہیں رہا، اورآپ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں شک وقدح کرنے والابالیقین خطاکاراورفاسق وفاجرہے ۔ اورکیاوہ کافرہے یانہیں؟اس میں اختلاف ہے ، اظہرقول یہی ہے کہ ایساشخص کافرہے ۔ (تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۴۱)حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی ہجرت میں خدمت
حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ فَأَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَیَّ قَطُّ إِلَّا وَہُمَا یَدِینَانِ الدِّینَ وَقَالَ أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ عَنْ یُونُسَ عَنْ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَیَّ قَطُّ إِلَّا وَہُمَا یَدِینَانِ الدِّینَ وَلَمْ یَمُرَّ عَلَیْنَا یَوْمٌ إِلَّا یَأْتِینَا فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَرَفَیْ النَّہَارِ بُکْرَۃً وَعَشِیَّۃً فَلَمَّا ابْتُلِیَ الْمُسْلِمُونَ خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ مُہَاجِرًا قِبَلَ الْحَبَشَۃِ حَتَّی إِذَا بَلَغَ بَرْکَ الْغِمَادِ لَقِیَہُ ابْنُ الدَّغِنَۃِ وَہُوَ سَیِّدُ الْقَارَۃِ فَقَالَ أَیْنَ تُرِیدُ یَا أَبَا بَکْرٍ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَخْرَجَنِی قَوْمِی فَأَنَا أُرِیدُ أَنْ أَسِیحَ فِی الْأَرْضِ فَأَعْبُدَ رَبِّی قَالَ ابْنُ الدَّغِنَۃِ إِنَّ مِثْلَکَ لَا یَخْرُجُ وَلَا یُخْرَجُ فَإِنَّکَ تَکْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِینُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ وَأَنَا لَکَ جَارٌ فَارْجِعْ فَاعْبُدْ رَبَّکَ بِبِلَادِکَ فَارْتَحَلَ ابْنُ الدَّغِنَۃِ فَرَجَعَ مَعَ أَبِی بَکْرٍ فَطَافَ فِی أَشْرَافِ کُفَّارِ قُرَیْشٍ فَقَالَ لَہُمْ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ لَا یَخْرُجُ مِثْلُہُ وَلَا یُخْرَجُ أَتُخْرِجُونَ رَجُلًا یُکْسِبُ الْمَعْدُومَ وَیَصِلُ الرَّحِمَ وَیَحْمِلُ الْکَلَّ وَیَقْرِی الضَّیْفَ وَیُعِینُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ فَأَنْفَذَتْ قُرَیْشٌ جِوَارَ ابْنِ الدَّغِنَۃِ وَآمَنُوا أَبَا بَکْرٍ وَقَالُوا لِابْنِ الدَّغِنَۃِ مُرْ أَبَا بَکْرٍ فَلْیَعْبُدْ رَبَّہُ فِی دَارِہِ فَلْیُصَلِّ وَلْیَقْرَأْ مَا شَاء َ وَلَا یُؤْذِینَا بِذَلِکَ وَلَا یَسْتَعْلِنْ بِہِ فَإِنَّا قَدْ خَشِینَا أَنْ یَفْتِنَ أَبْنَاء َنَا وَنِسَاء َنَا قَالَ ذَلِکَ ابْنُ الدَّغِنَۃِ لِأَبِی بَکْرٍ فَطَفِقَ أَبُو بَکْرٍ یَعْبُدُ رَبَّہُ فِی دَارِہِ وَلَا یَسْتَعْلِنُ بِالصَّلَاۃِ وَلَا الْقِرَاء َۃِ فِی غَیْرِ دَارِہِ ثُمَّ بَدَا لِأَبِی بَکْرٍ فَابْتَنَی مَسْجِدًا بِفِنَاء ِ دَارِہِ وَبَرَزَ فَکَانَ یُصَلِّی فِیہِ وَیَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَیَتَقَصَّفُ عَلَیْہِ نِسَاء ُ الْمُشْرِکِینَ وَأَبْنَاؤُہُمْ یَعْجَبُونَ وَیَنْظُرُونَ إِلَیْہِ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ رَجُلًا بَکَّاء ً لَا یَمْلِکُ دَمْعَہُ حِینَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَأَفْزَعَ ذَلِکَ أَشْرَافَ قُرَیْشٍ مِنْ الْمُشْرِکِینَ فَأَرْسَلُوا إِلَی ابْنِ الدَّغِنَۃِ فَقَدِمَ عَلَیْہِمْ فَقَالُوا لَہُ إِنَّا کُنَّا أَجَرْنَا أَبَا بَکْرٍ عَلَی أَنْ یَعْبُدَ رَبَّہُ فِی دَارِہِ وَإِنَّہُ جَاوَزَ ذَلِکَ فَابْتَنَی مَسْجِدًا بِفِنَاء ِ دَارِہِ وَأَعْلَنَ الصَّلَاۃَ وَالْقِرَاء َۃَ وَقَدْ خَشِینَا أَنْ یَفْتِنَ أَبْنَاء َنَا وَنِسَاء َنَا فَأْتِہِ فَإِنْ أَحَبَّ أَنْ یَقْتَصِرَ عَلَی أَنْ یَعْبُدَ رَبَّہُ فِی دَارِہِ فَعَلَ وَإِنْ أَبَی إِلَّا أَنْ یُعْلِنَ ذَلِکَ فَسَلْہُ أَنْ یَرُدَّ إِلَیْکَ ذِمَّتَکَ فَإِنَّا کَرِہْنَا أَنْ نُخْفِرَکَ وَلَسْنَا مُقِرِّینَ لِأَبِی بَکْرٍ الِاسْتِعْلَانَ قَالَتْ عَائِشَۃُ فَأَتَی ابْنُ الدَّغِنَۃِ أَبَا بَکْرٍ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتَ الَّذِی عَقَدْتُ لَکَ عَلَیْہِ فَإِمَّا أَنْ تَقْتَصِرَ عَلَی ذَلِکَ وَإِمَّا أَنْ تَرُدَّ إِلَیَّ ذِمَّتِی فَإِنِّی لَا أُحِبُّ أَنْ تَسْمَعَ الْعَرَبُ أَنِّی أُخْفِرْتُ فِی رَجُلٍ عَقَدْتُ لَہُ قَالَ أَبُو بَکْرٍ إِنِّی أَرُدُّ إِلَیْکَ جِوَارَکَ وَأَرْضَی بِجِوَارِ اللَّہِ وَرَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَئِذٍ بِمَکَّۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أُرِیتُ دَارَ ہِجْرَتِکُمْ رَأَیْتُ سَبْخَۃً ذَاتَ نَخْلٍ بَیْنَ لَابَتَیْنِ وَہُمَا الْحَرَّتَانِ فَہَاجَرَ مَنْ ہَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِینَۃِ حِینَ ذَکَرَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَجَعَ إِلَی الْمَدِینَۃِ بَعْضُ مَنْ کَانَ ہَاجَرَ إِلَی أَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَتَجَہَّزَ أَبُو بَکْرٍ مُہَاجِرًا فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی رِسْلِکَ فَإِنِّی أَرْجُو أَنْ یُؤْذَنَ لِی قَالَ أَبُو بَکْرٍ ہَلْ تَرْجُو ذَلِکَ بِأَبِی أَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَحَبَسَ أَبُو بَکْرٍ نَفْسَہُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیَصْحَبَہُ وَعَلَفَ رَاحِلَتَیْنِ کَانَتَا عِنْدَہُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ۔ ترجمہ :حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی زوجہ محترمہ (اُم المومنین )حضرت سیدتناعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالااپنے والدین کو اسی دین اسلام پر پایا اور ہم پر کوئی دن نہیں گزرتا تھا مگرحضورتاجدارختم نبوت ﷺصبح و شام دونوں وقت ہمارے ہاں تشریف لاتے تھے۔ جب مسلمانوں کا ابتلا بہت شدید ہو گیا تو حضرت سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے نکلے یہاں تک کہ جب وہ’’برک غماد‘‘پہنچے تو انھیں ابن دغنہ ملا جو قارہ قبیلے کا سردار تھا۔ اس نے پوچھا: اے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ !کہاں کا ارادہ ہے؟ حضرت سیدناابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالی کی زمین میں گھوم پھر کر اس کی عبادت کرتا رہوں۔ ابن دغنہ نے کہا:تم جیسا کوئی شخص نہ نکلتا ہے اور نہ ہی نکالا جا تا ہے کیونکہ تم غریبوں کی اعانت کرتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، لوگوں کا بار(بوجھ)اٹھاتے ہو، مہمانوں کو کھانا کھلاتے ہواور حق پر ثابت رہنے کی وجہ سے کسی پر آنے والے مسائل اور مشکلات میں ان کی مدد کرتے ہو۔ آؤ میں تمھیں پناہ دیتا ہوں۔ گھرواپس چلے آؤاور اپنے شہر میں اپنے رب کی عبادت کرو، چنانچہ ابن دغنہ وہاں سے روانہ ہوا اور حضرت سیدناابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ واپس آگیا۔ اس کے بعد ابن دغنہ گھوم پھر کر کفار قریش کے سرداروں سے ملااور ان سے کہنے لگا کہ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا انسان نہ خود نکل سکتا ہے اور نہ ہی اسے نکالا جا سکتا ہے۔ کیا تم ایسے شخص کو یہاں سے نکلنے پر مجبور کرتے ہو جو بے بس لوگوں کے لیے کمائی کرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے، عاجز اور مجبور لوگوں کا بوجھ اٹھاتا ہے، مہمانوں کو کھانا کھلاتا ہے اور حق پر ثابت قدم رہنے والے پر آنے والی مشکلات میں اس کی مددکرتا ہے؟چنانچہ قریش نے ابن دغنہ کی پناہ کو مان لیا اورحضرت سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امان دے دی لیکن ابن دغنہ سے انھوں نے کہا کہ آپ انھیں خبردار کردیں کہ وہ اپنے گھر میں اپنے رب تعالی کی عبادت کریں، نماز پڑھیں اور جو چاہیں قرآء ت کریں مگر ہمیں اذیت نہ دیں اور نہ اس کا اعلان ہی کریں کیونکہ ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہمارے بچوں اور عورتوں کو فتنہ میں مبتلا کردیں گے۔ ابن دغنہ نے یہ سب کچھ حضرت سیدناابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہہ دیا۔ اس کے بعد حضرت سیدناابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر میں عبادت کرنے لگے اور علانیہ اپنے گھرکے سواکسی دوسری جگہ نماز اور قرآن پڑھنا چھوڑدیا۔ پھر انھیں خیال آیا تو انھوں نے اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنا لی اور باہر نکل کروہاں نماز پڑھنا شروع کردی۔ وہ جب وہاں قرآن پڑھتے تو ان کے پاس مشرکین کے بچوں اور عورتوں کا ہجوم ہوجاتا۔ وہ تعجب کرتے اور انھیں غور سے دیکھتے۔ حضرت سیدناابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت رونے والے انسان تھے۔ وہ جب قرآن پڑھتے تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکتے تھے، اس چیز نے مشرکین کے سرداروں کو گھبراہٹ میں ڈال دیا تو انھوں نے ابن دغنہ کو پیغام بھیجا۔ وہ آیا تو انھوں نے اس سے کہا:ہم نے ابو بکر کو اس شرط پر امان دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کریں۔ لیکن انھوں نے اس سے آگے ایک اور قدم بڑھا لیا ہے۔ اور اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنا لی ہے، اس میں علانیہ طور پر نماز پڑھنے اور قرآن کی تلاوت کرنے لگے ہیں۔ ہمیں خطرہ ہے کہ وہ اس طرح ہمارے بچوں اور عورتوں کو فتنے میں مبتلا کردیں گے۔ تو ان کے پاس جاؤ اگر وہ اپنے گھر میں اپنے رب تعالی کی عبادت کرنے پر قناعت کریں تو ٹھیک ہے اور اگر وہ اس پر راضی نہیں اور علانیہ عبادت کرنا چاہتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ وہ تمھیں تمھارا عہد(اور ذمہ) واپس کردیں کیونکہ ہمیں تمھاری امان توڑنا اچھا معلوم نہیں ہوتا اور نہ ہمیں ابو بکر(رضی اللہ عنہ) کا اس طرح علانیہ عبادت کرنا ہی گواراہے۔ حضرت سیدتناعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ابن دغنہ حضرت سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ جانتے ہیں کہ جس شرط پر میں نے آپ کا ذمہ لیا تھا یا تو آپ اسی شرط پر قائم رہیں بصورت دیگر میرا ذمہ میرے حوالے کردیں، کیونکہ یہ بات مجھے قطعاًگوارانہیں کہ اہل عرب کے ہاں اس بات کا چرچا ہو کہ میں نے ایک شخص کا ذمہ لیا تھا جس کو توڑدیا گیا۔ حضرت سیدناابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:میں تیرا ذمہ تیرے حوالے کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی پناہ پر راضی ہوں۔حضورتاجدارختم نبوت ﷺ اس وقت مکہ ہی میں تھے، آپ ﷺنے فرمایا:مجھے تمھاری ہجرت کا مقام دکھایا گیا ہے۔ میں نے دو پتھریلے میدانوں کے درمیان کھجور کے درختوں پر مشتمل کلر والی زمین دیکھی ہے۔ جب مسلمانوں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی یہ بات سنی تو جن لوگوں (مسلمانوں )نے ہجرت کرنی چاہی وہ مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کر گئے اور بعض لوگ (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین )جو ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تھے وہ بھی مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ہجرت کی تیاری شروع کردی توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے انھیں فرمایا:ابھی ذراٹھہرو۔ (جلدی نہ کرو)کیونکہ امید ہے کہ مجھے بھی ہجرت کی اجازت مل جائے گی۔ حضرت سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا:میرے ماں باپ آپ ﷺپر قربان ہوں!کیا آپﷺ بھی ہجرت کے امیدوار ہیں؟آپﷺ نے فرمایا:ہاں۔ تو حضرت سیدناابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺکے ساتھ ہجرت کرنے کے لیے رک گئے۔ چنانچہ انھوں نے دو اونٹنیاں اس سفر کے لیے خاص طور پر رکھیں اور چار مہینے تک انھیں کیکر کے پتے بطور چارہ کھلاتے رہے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۵:۵۸)یورپی ممالک سے اہل اسلام کے لئے ہجرت کرناضروری ہے
اہل اسلام کے لیے مشرکوں اوریہودونصاری کے درمیان رہنا جائز نہیں، اس حکم پر بہت سی قرآنی آیات کریمہ اور احادیث شریفہ بھی دلالت کرتی ہیں، اور عقل صحیح بھی اسی کی غماز ہے: {اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰیہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ قَالُوْٓا اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللہِ وٰسِعَۃً فَتُہَاجِرُوْا فِیْہَا فَاُولٰٓئِکَ مَاْوٰیہُمْ جَہَنَّمُ وَسَآء َتْ مَصِیْرًا}(۹۷) ترجمہ کنزالایمان:وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے اُن سے فرشتے کہتے ہیں تم کا ہے میں تھے کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے ،کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے تو ایسوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور بہت بری جگہ پلٹنے کی۔ حضرت سیدناصدرالافاضل سید نعیم الدین مرادآبادی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے کلمہِ اسلام تو زبان سے ادا کیا مگر جس زمانہ میں ہجرت فرض تھی اس وقت ہجرت نہ کی اور جب مشرکین جنگ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے گئے تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوئے اور کفار کے ساتھ ہی مارے بھی گئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ کفار کے ساتھ ہونا اور فرض ہجرت ترک کرنا اپنی جا ن پر ظلم کرنا ہے۔ مسئلہ :یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ جو شخص کسی شہر میں اپنے دین پر قائم نہ رہ سکتا ہو اور یہ جانے کہ دوسری جگہ جانے سے اپنے فرائضِ دینی ادا کرسکے گا اس پر ہجرت واجب ہوجاتی ہے۔حدیث میں ہے جو شخص اپنے دین کی حفاظت کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوا اگرچہ ایک بالشت ہی کیوں نہ ہو اس کے لئے جنت واجب ہوئی اور اس کو حضرت ابراہیم اورسیّدِ عالم ﷺ کی رفاقت میسر ہوگی۔تفسیرخزائن العرفان ( سورۃ النساء :۹۷)مشرکین کے علاقہ میں رہنے والے مسلمان کے لئے وعیدشدید
عَنْ قَیْسٍ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَرِیَّۃً إِلَی خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ مِنْہُمْ بِالسُّجُودِ، فَأَسْرَعَ فِیہِمُ الْقَتْلَ قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَہُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ:أَنَا بَرِیء ٌ مِنْ کُلِّ مُسْلِمٍ یُقِیمُ بَیْنَ أَظْہُرِ الْمُشْرِکِینَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناجریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے خثعم قبیلے کی طرف ایک دستہ بھیجا، تو ان لوگوں نے سجدوں میں پناہ لی، تو وہ جلدی سے قتل کردیئے گئے، تو جب یہ خبر نبی کریمﷺ تک پہنچی، تو آپ ﷺنے اُن کے لیئے آدھی دیت ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا:میں ہر اُس مسلمان سے بری ہوں کہ جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: کیوں یا رسول اللہﷺ! آپ ﷺنے فرمایا:کیونکہ انہیں اتنے فاصلے پر ہونا چاہیے تھا کہ انہیں ایک دوسرے کی آگ نظر نہ آتی۔ (سنن أبی داود:أبو داود سلیمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشیر (۳:۴۵) مذکورۃ الصدرحدیث شریف کامعنی وَہَذَا مَحْمُولٌ عَلَی مَنْ لَمْ یَأْمَنْ عَلَی دِینِہِ۔ ترجمہ :امام أحمد بن علی بن حجر أبو الفضل العسقلانی الشافعی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث شریف محمول ہے اس بات پر کہ جب کسی بندہ مومن کو کافروں اورمشرکین کے علاقہ میں اپنے دین کے جانے کاخوف ہو۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری:أحمد بن علی بن حجر أبو الفضل العسقلانی الشافعی(۶:۳۹) مشرکین کے ساتھ رہنے والابھی مشرک ہے وَرَوَی سَمُرَۃُ بْنُ جُنْدَبٍ،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:لاَ تُسَاکِنُوا الْمُشْرِکِینَ، وَلاَ تُجَامِعُوہُمْ، فَمَنْ سَاکَنَہُمْ أَوْ جَامَعَہُمْ فَہُوَ مِثْلُہُمْ. ترجمہ :حضرت سیدناسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:مشرکوں کے ساتھ رہائش اختیار نہ کرو اور نہ اُنکے ساتھ اکھٹے ہو۔ سو جو کوئی اُنکے ساتھ رہتا ہے یا اُن کے ساتھ اختلاط کرتا ہے، تو وہ اُنہی کی مانند ہے۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۳:۳۰۸)مشرکوں میں رہنے والابھی عذاب میں گرفتارہوگا
عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَخْبَرَنِی حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَقُولُ: إِذَا أَرَادَ اللہُ بِقَوْمٍ عَذَابًا، أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ کَانَ فِیہِمْ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَی أَعْمَالِہِمْ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ میں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوفرماتے ہوئے سناکہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتاہے تو عذاب ان سب لوگوں پر آتا ہے جو ا س قوم میں شامل ہوتے ہیں۔پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق اٹھایاجائے گا ۔(اگر کوئی ان میں نیک ہوگا تو ثواب کاحقدار ٹھہرے گاجو باقی ہوں گے وہ عذاب میں مبتلاکیے جائیں گے)۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۴:۲۲۰۶) اور صحیح نظر اور غور کرنے سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشرکوں اور کافروں کے ملک میںرہنے والا مسلمان شخص بہت سے اسلامی شعائر اور ظاہری عبادات پر عمل پیرا نہیں ہو سکتا، اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنے آپ کو فتنہ و فساد کے سامنے بھی پیش کرنا پڑے گا، کیونکہ ان ممالک میں جو فحاشی اور بے حیائی و بے پردگی ظاہر ہے اور ان ممالک کا قانون اس فحاشی اور بدکاری کا محافظ بھی ہے، تو مسلمان کو کوئی حق نہیں اور نہ ہی اس کے شایان شان ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح کے فتنوں اور آزمائشوں میں ڈالے.یہ تو اس وقت ہے جب ہم قرآن کریم اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنت کریمہ کے دلائل کی طرف نظر دوڑائیں اور اسلامی اور کفار ممالک کی جانب نظر نہ دوڑائیں، لیکن اگر ہم اسلامی ممالک کی طرف فی الواقع نظر دوڑائیں تو ہم ایسے لوگوں کی بات سے اتفاق نہیں کرسکتے جو کہتے ہیں کہ اسلامی ممالک سے زیادہ کافروں کے ملک میں اہل ایمان اسلام پرکاربندہیں کیونکہ یہ عمومی طور پر کہنا صحیح نہیں، کیونکہ ساری اسلامی حکومتیں شریعت اسلامیہ کے احکام لاگو کرنے اور اس کا التزام کرنے میں ایک جیسی نہیں، بلکہ ان میں فرق ہے، بلکہ ایک ہی ملک کے اندر علاقوں اور شہروں کے اعتبار سے اختلاف پایا جاتا ہے۔دارالکفرسے ہجرت کرنافرض ہے
تَجِبُ الْہِجْرَۃُمِنْ دَارِ الْکُفْرِ إلَی دَارِ الْإِسْلَامِ عَلَی مُسْتَطِیعٍ) لَہَا إنْ عَجَزَ عَنْ إظْہَارِ دِینِہِ۔ ترجمہ :امام زکریا بن محمد بن زکریا الأنصاری، زین الدین أبو یحیی السنیکی المتوفی :۹۲۶ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ اگر دین کا اظہار کرنے سے عاجز ہو تو استطاعت رکھنے والے پر دار الکفر سے دار السلام کی طرف ہجرت کرنی واجب ہے۔ (أسنی المطالب فی شرح روض الطالب:زکریا بن محمد بن زکریا الأنصاری(۴:۲۰۴) امام أبو بکر بن العربی المتوفی :۵۴۳ھ) رحمہ اللہ تعالی کاقول الْخُرُوجُ مِنْ دَارِ الْحَرْبِ إلَی دَارِ الْإِسْلَامِ؛ وَکَانَتْ فَرْضًا فِی أَیَّامِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَ غَیْرِہَا مِنْ أَنْوَاعِہَا بَیَّنَّاہَا فِی شَرْحِ الْحَدِیثِ، وَہَذِہِ الْہِجْرَۃُ بَاقِیَۃٌ مَفْرُوضَۃٌ إلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَاَلَّتِی انْقَطَعَتْ بِالْفَتْحِ ہِیَ الْقَصْدُ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیْثُ کَانَ، فَمَنْ أَسْلَمَ فِی دَارِ الْحَرْبِ وَجَبَ عَلَیْہِ الْخُرُوجُ إلَی دَارِ الْإِسْلَامِ، فَإِنْ بَقِیَ فَقَدْ عَصَی۔ ترجمہ :الامام القاضی محمد بن عبد اللہ أبو بکر بن العربی المعافری الاشبیلی المالکی المتوفی :۵۴۳ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ دار الحرب سے نکل کر دار الاسلام جانے کو ہجرت کہا جاتا ہے، اور یہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دورمبارک میں فرض تھی، آپﷺکے بعد بھی ہر اس شخص کے لیے جاری ہے جو اپنے نفس کا خطرہ محسوس کرے۔اوراگرکسی شخص نے دارالکفرمیں اسلام قبول کیاتوا س پربھی لازم ہے کہ وہاں سے ہجرت کرے اگروہیں رہااوراس نے ہجرت نہیں کی توگناہ گارہوگا۔ (أحکام القرآن:القاضی محمد بن عبد اللہ أبو بکر بن العربی المعافری الاشبیلی المالکی (۱:۶۱۱)گستاخوں کے علاقہ سے ہجرت کرناضروری ہے
الْخُرُوجُ مِنْ أَرْضِ الْبِدْعَۃِقَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ:سَمِعْت مَالِکًا یَقُولُ:لَا یَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ یُقِیمَ بِبَلَدٍ سُبَّ فِیہَا السَّلَفُ وَہَذَا صَحِیحٌ؛ فَإِنَّ الْمُنْکَرَ إذَا لَمْ یُقْدَرْ عَلَی تَغْیِیرِہِ ۔ ترجمہ :ایسی جگہ سے ہجرت کرنابھی ضروری ہے جہاں بدمذہب لوگ رہتے ہیں ، امام ابن القاسم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ میں نے حضرت سیدناامام مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سناکہ کسی بھی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ ایسی جگہ رہے جہاں حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اوربزرگوں کو گالیاں دی جائیں ۔اوریہی صحیح ہے کیونکہ جب کوئی شخص اس گناہ کو روک نہیں سکتاتوخود وہاں سے نکل جائے ۔ (أحکام القرآن:القاضی محمد بن عبد اللہ أبو بکر بن العربی المعافری الاشبیلی المالکی (۱:۶۱۱) اس سے معلوم ہواکہ جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخی ہووہاں رہنامنع ہے توجہاں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی گستاخی ہوبلکہ گستاخی کے مقابلے ہوں وہاں رہناکیسے درست ہوسکتاہے ؟ اورجہاں پرقرآن کریم کوجلانے کے مقابلے ہوں وہاں جاناکیسے جائز ہوسکتاہے ؟ مگرہمارے پاکستانی مولوی حضرات تووہاں ’’ملغ یورپ ‘‘کاتمغہ پانے کے لئے جاتے ہیں اورہمیں سمجھ نہیں آتی کہ وہاں کفرکے خلاف توبول نہیں سکتے ، یہودونصاری کے خلاف زبان کھولنے کی اجازت نہیں ہے توپھریہ کس اسلام کی تبلیغ کرنے جاتے ہیں ؟اوروہاں ملکہ وکٹوریہ کے وفادارہونے کاعہدکرتے ہیں کہ اس سے غداری نہیں کریں گے اوراگراس کوکہیں ضرورت ہوئی تواس کے دفاع میں لڑائی کریں گے ۔جہاں سگاباپ اپنی بیٹی کو فحاشی سے منع نہیں کرسکتا، وہاں مبلغ یورپ کس دین کے تبلیغ کرنے جاتے ہیں یہ بات سمجھ سے ماوراء ہے ۔ اس فقیرکی ناقص سمجھ کے مطابق یہ سب حضرات جتنے بھی مسالک سے تعلق رکھنے والے ہیں ایک دوسرے کے خلاف تقریریں کرتے ہیں اورایک دوسرے کو کافراورمشرک بنانے میں لگے رہتے ہیں اورایک دوسرے پر رات دین کیچڑاچھالنے میں مصروف رہتے ہیں ، جس سے یورپی کافروں کو کوئی نقصان نہیں بلکہ اس میں ان کافائدہ ہے ، اس طرح حضرت ’’مبلغ یورپ‘‘بھی بن جاتے ہیں اوراچھاخاصامال بھی ہاتھ آجاتاہے ۔جہاں بدعقیدگی ہووہاں سے نکلنافرض ہے
وَقَدْ کُنْت قُلْت لِشَیْخِنَا الْإِمَامِ الزَّاہِدِ أَبِی بَکْرٍ الْفِہْرِیِّ:ارْحَلْ عَنْ أَرْضِ مِصْرَ إلَی بِلَادِک فَیَقُولُ:لَا أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ بِلَادًا غَلَبَ عَلَیْہَا کَثْرَۃُ الْجَہْلِ، وَقِلَّۃُ الْعَقْلِ، فَأَقُولُ لَہُ: فَارْتَحِلْ إلَی مَکَّۃَ أَقِمْ فِی جُوَارِ اللَّہِ وَجُوَارِ رَسُولِہِ؛ فَقَدْ عَلِمْت أَنَّ الْخُرُوجَ عَنْ ہَذِہِ الْأَرْضِ فَرْضٌ لِمَا فِیہَا مِنْ الْبِدْعَۃِ وَالْحَرَامِ۔ ترجمہ :الامام القاضی محمد بن عبد اللہ أبو بکر بن العربی المعافری الاشبیلی المالکی المتوفی :۵۴۳ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ میں نے اپنے شیخ مکرم حضرت سیدناالامام الزاہدابوبکرالفہری رحمہ اللہ تعالی کی خدمت اقدس میں عرض کی: حضور!مصرسے اب اپنے علاقہ میں چلناچاہئے توآپ رحمہ اللہ تعالی فرمانے لگے کہ میں ایسے علاقہ میں جاناناپسندکرتاہوں جہاں جہالت اورپاگل پن کادوردورہ ہو۔ میںنے انکی خدمت میں پھرعرض کی کہ پھرآپ مکہ مکرمہ یامدینہ منورہ چلیں تاکہ اللہ اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے پڑوس میں چل کررہیںتوانہوںنے فرمایاکہ ہاں وہاں چلتے ہیں ۔تومیں جان گیاکہ ایساملک جہاں بدعقیدگی اورحرام امورسرعام جاری ہوں وہاں سے ہجرت کرنافرض ہوجاتاہے جیساکہ آپ رحمہ اللہ تعالی نے اپنے علاقہ میں جاناپسندنہ فرمایا۔ (أحکام القرآن:القاضی محمد بن عبد اللہ أبو بکر بن العربی المعافری الاشبیلی المالکی (۱:۶۱۱)ترک وطن کی تین صورتیں
دَارُ الْحَرْبِ :ہِیَ کُلُّ بُقْعَۃٍ تَکُونُ أَحْکَامُ الْکُفْرِ فِیہَا ظَاہِرَۃً (من)الأَحْکَامُ الْمُتَعَلِّقَۃُ بِدَارِ الْحَرْبِ :الْہِجْرَۃُ قَسَّمَ الْفُقَہَاء ُ النَّاسَ فِی شَأْنِ الْہِجْرَۃِ مِنْ دَارِ الْحَرْبِ إلَی ثَلاثَۃِ أَضْرُبٍ :مَنْ تَجِبُ عَلَیْہِ الْہِجْرَۃُ وَہُوَ مَنْ یَقْدِرُ عَلَیْہَا وَلا یُمْکِنُہُ إظْہَارُ دِینِہِ مَعَ الْمُقَامِ فِی دَارِ الْحَرْبِ وَإِنْ کَانَتْ أُنْثَی لا تَجِدُ مَحْرَمًا إنْ کَانَتْ تَأْمَنُ عَلَی نَفْسِہَا فِی الطَّرِیقِ َٔوْ کَانَ خَوْفُ الطَّرِیقِ أَقَلَّ مِنْ خَوْفِ الْمُقَامِ فِی دَارِ الْحَرْبِ مَنْ لا ہِجْرَۃَ عَلَیْہِ :وَہُوَ مَنْ یَعْجِزُ عَنْہَا إمَّا لِمَرَضٍ أَوْ إکْرَاہٍ عَلَی الإِقَامَۃِ فِی دَارِ الْکُفْرِ أَوْ ضَعْفٍ کَالنِّسَاء ِ وَالْوِلْدَانِ لقولہ تعالی : ( إلا الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء ِ وَالْوِلْدَانِ لا یَسْتَطِیعُونَ حِیلَۃً وَلا یَہْتَدُونَ سَبِیلا )مَنْ تُسْتَحَبُّ لَہُ الْہِجْرَۃُ وَلا تَجِبُ عَلَیْہِ وَہُوَ :مَنْ یَقْدِرُ عَلَی الْہِجْرَۃِ وَیَتَمَکَّنُ مِنْ إظْہَارِ دِینِہِ فِی دَارِ الْحَرْبِ فَہَذَا یُسْتَحَبُّ لَہُ الْہِجْرَۃُ لِیَتَمَکَّنَ مِنْ الْجِہَادِ وَتَکْثِیرِ الْمُسْلِمِینَ ۔باختصار۔ ترجمہ :دار الحرب ہر وہ جگہ اور ٹکڑا ہے جس میں کفریہ احکام ظاہر ہوںدارالحرب کے متعلقہ احکام میں ہجرت بھی شامل ہے:فقھاء کرام نے دارالحرب سے ہجرت کے معاملہ میں لوگوں کو تین اقسام میں تقسیم کیا ہے: (پہلی قسم)…جس پر ہجرت واجب ہے:یہ وہ شخص ہے جو ہجرت کرنے پر قادر ہو، اور دارالحرب میں رہتے ہوئے اپنے دین کو ظاہر نہ کر سکتا ہو، اور اگر یہ عورت ہو اور اس کا کوئی محرم نہ ہو تو اگر وہ راستہ کو اپنے لیے پرامن سمجھے اور خطرہ نہ محسوس کرتی ہو، یا راستے میں دارالحرب میں رہنے سے کم خطرہ ہو۔ (دوسری قسم)…جس پر ہجرت نہیں ہے:وہ شخص جو ہجرت کرنے سے عاجز ہو، یا تو بیماری کی بنا پر یا پھر دار الکفر میں رہائش رکھنے پر مجبور کیا گیا ہو، یا کمزور ہو مثلا عورتوں اور بچوں کی طرح، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے: مگر کمزور مرد اور عورتیں اور بچے جو حیلہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اور نہ ہی وہ کوئی راہ پاتے ہیں. (تیسری قسم)…جس کے لیے ہجرت کرنی جائز ہے واجب نہیں:یہ وہ شخص ہے جو ہجرت کرنے پر قادر ہے اور دارالحرب میں دینی شعائر کا اظہار بھی کرسکتا ہے، تو ایسے شخص کے لیے ہجرت کرنی جائز اور مستحب ہے تا کہ وہ جہاد کر سکے، اور مسلمانوں کی تعداد میں کثرت کا باعث بنے۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ(۲۰:۲۰۶)یورپی ممالک میں کس مسلمان کورہناجائز ہے ؟
جو مسلمان اس ملک میں دینی شعائر پر عمل کرنے اور ان کا اظہار کرنے کی استطاعت رکھتے ہوں، اور حکمران اور ذمہ داران پر حجت قائم کر سکتے ہوں، اور ان کے معاملات کی اصلاح کرنے کی استطاعت رکھیں، اور ان کی سیرت کو راہ راست پر لا سکتے ہوں، تو ان کے لیے ان کے درمیان رہنا مشروع اور جائز ہے؛ کیونکہ امید ہے کہ وہاں رہنے میں ان کی اصلاح اور انہیں دعوت و تبلیغ ہو گی، لیکن اس کے ساتھ اسے ان فتنوں سے محفوظ رہنا ہوگا.لبرل وسیکولریورپی ممالک کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟
دارالکفربے حیائی کے طوفان میں گھرا ہوا ہو،اور کوئی شخص کسی نیک یا دینی مقصد کے لیے نہیں، بلکہ معیارِ زندگی بلند کرنے اور خوش حالی و عیش وعشرت کی زندگی گزارنے کی غرض سے وہاں جاتا ہے ، یہ ترک وطن کراہت سے خالی نہیں، بلکہ خود کو منکرات و فواحش کے طوفان میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔بے حیائی اور فحاشی اور دیگر منکرات کی موجودگی میں مسلمان کافروں کے ساتھ گھل مل جاتا ہے اور دین سے دور نکل جاتاہے۔مسلمانوں پر بڑائی کے اظہار کے لیے دارالکفر کو دارا لا سلام پر ترجیح دینا ،گویا کفار کے طرز ِزندگی میں ان جیسا بننے کے لیے ایسا کرنا ہے جو کہ شرعاً حرام ہے ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9