صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2411 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۴۳تا ۴۵ ۔ عَفَا اللہُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,007

سوال (Question):

تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۴۳تا ۴۵ ۔ عَفَا اللہُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے مقام عصمت کی عظمت وشان کابیان اورجہاد کے وقت مومن ومنافق کی عادات میں فرق

{عَفَا اللہُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْکٰذِبِیْنَ}(۴۳){لَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجٰہِدُوْا بِاَمْوٰلِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ وَاللہُ عَلِیْمٌ بِالْمُتَّقِیْنَ }(۴۴){اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوْبُہُمْ فَہُمْ فِیْ رَیْبِہِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ }(۴۵) ترجمہ کنزالایمان:اللہ تمہیں معاف کرے تم نے انہیں کیوں اِذن دے دیا جب تک نہ کھلے تھے تم پر سچے اور ظاہر نہ ہوئے تھے جھوٹے ۔اور وہ جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم سے چھٹی نہ مانگیں گے اس سے کہ اپنے مال اور جان سے جہاد کریں اور اللہ خوب جا نتا ہے پرہیزگا روں کو۔تم سے چھٹی وہی مانگتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہیں تو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے حبیب کریمﷺاللہ تعالی آپﷺکو معاف کرے ،آپ ﷺنے انہیں اجازت کیوں دیدی؟ جب تک آپ ﷺکے سامنے سچے لوگ ظاہر نہ ہوجاتے اور آپ ﷺجھوٹوں کو نہ جان لیتے۔اور جو لوگ اللہ تعالی اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں وہ آپﷺ سے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے سے بچنے کی اجاز ت نہیں مانگیں گے اور اللہ تعالی پرہیزگا روں کوخوب جا نتا ہے ۔ آپ ﷺسے جہاد سے اجازت وہی لوگ مانگتے ہیں جو اللہ تعالی اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں تو وہ اپنے شک میں حیران وششدر ہیں۔ شان نزول وَقَالَ مُجَاہِدٌ: نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ فِی أُنَاسٍ قَالُوا:اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِنِ أَذِنَ لَکُمْ فَاقْعُدُوا وَإِنْ لَمْ یَأْذَنْ لَکُمْ فاقعدوا۔ ترجمہ :حضرت سیدنامجاہد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺسے گھربیٹھنے کی اجازت مانگی ، اگراجازت مل گئی تب بھی جہاد پرنہیں جائیں گے اوراگراجازت نہ ملی توتب بھی جہاد پرنہیں جائیں گے ۔ (تفسیر ابن کثیر: أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۴:۱۳۹)  

معارف ومسائل

ان تین آیات کریمہ میں تین اہم مسئلے بیان کئے گئے : پہلامسئلہ : اس آیت کریمہ میں حضورتاجدارختم نبوتﷺپرلطف خداوندی کابیان دوسرامسئلہ : جب بھی جہاد کاحکم ہواتوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہمت وبہادری کے ساتھ اس میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ تیسرامسئلہ :آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے منافقین کی جہاد سے روگردانی کو بیان کیا۔

حضورتاجدارختم نبوتﷺپرلطف خداوندی کابیان

یہ لطف بھراعتاب ہے ثُمَّ قِیلَ:فِی الْإِذْنِ قَوْلَانِ:(الْأَوَّلُ (لِمَ أَذِنْتَ لَہُمْ فِی الْخُرُوجِ مَعَکَ، وَفِی خُرُوجِہِمْ بِلَا عِدَّۃٍ وَنِیَّۃٍ صَادِقَۃٍ فَسَادٌ(الثَّانِی (لِمَ أَذِنْتَ لَہُمْ فِی الْقُعُودِ لَمَّا اعْتَلُّوا بِأَعْذَارٍ، ذکرہما الْقُشَیْرِیُّ قَالَ:وَہَذَا عِتَابُ تَلَطُّفٍ إِذْ قَالَ:عَفَا اللَّہُ عَنْکَ وَکَانَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَذِنَ مِنْ غَیْرِ وَحْیٍ نَزَلَ فِیہِ۔ ترجمہ :امام القشیری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس اذن کے بارے میں دوقول ہیں : پہلاقول: اے حبیب کریم ﷺ!آپ ﷺنے انہیں اپنے ساتھ نکلنے کی کیوں اجازت دے دی تھی حالانکہ بغیرتیاری اورسچی نیت کے ان کے نکلنے میں فساد ہے ۔ دوسراقول : اے حبیب کریم ﷺ! آپ ﷺنے ان کو اجازت کیوں دی جب انہوںنے طرح طرح کے عذرپیش کئے ۔ اس کے بعد امام القشیری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ لطف بھراعتاب ہے کیونکہ پہلے اللہ تعالی نے فرمایا:{عَفَا اللَّہُ عَنْک}اورحضورتاجدارختم نبوتﷺنے اس با رے میں وحی نازل ہوئے بغیرہی منافقین کو اجازت عطافرمادی تھی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۵۴)

حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ کاقول

قَالَ قَتَادَۃُ وَعَمْرُو بْنُ مَیْمُونٍ:ثِنْتَانِ فَعَلَہُمَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)و( لم یؤمربِہِمَا: إِذْنُہُ لِطَائِفَۃٍ مِنَ الْمُنَافِقِینَ فِی التَّخَلُّفِ عَنْہُ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ أَنْ یُمْضِیَ شَیْئًا إِلَّا بِوَحْیٍ وَأَخْذُہُ مِنَ الْأُسَارَی الْفِدْیَۃَ فَعَاتَبَہُ اللَّہُ کَمَا تَسْمَعُونَ قَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاء ِ:إِنَّمَا بدر منہ ترک الاولی فقدم اللہ لہ الْعَفْوَ عَلَی الْخِطَابِ الَّذِی ہُوَ فِی صُورَۃِ الْعِتَابِ. ترجمہ :حضرت سیدناقتادہ اورعمروبن میمون رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ دوکام ہیں جو حضورتاجدارختم نبوتﷺنے کئے حالانکہ آپ ﷺکوان کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیاگیاتھا: ایک آپ ﷺکامنافقین کی جماعت کو اپنے سے پیچھے رہنے کے بارے میں اجازت دیناحالانکہ اس کے بارے میں وحی کے ذریعے کوئی فیصلہ نہیں ہواتھا۔ اوردوسراآپﷺکاقیدیوں کافدیہ لینا۔ تواللہ تعالی نے آپﷺکومحبت بھراعتاب فرمایاجیساکہ تم سن رہے ہو، بعض علماء کرام نے کہاکہ آپﷺسے ترک اولی کاصدورہواتواللہ تعالی نے آپ ﷺکے لئے عفودرگزرکاذکراس خطاب سے مقدم کیاجوعتاب کی صورت میں فرمایا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۵۴)

سب سے بہترین اورخوبصورت انداز عتاب فرمانے کا

حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَوْنٍ قَالَ:ہَلْ سَمِعْتُمْ بمعاتبۃ أحسن من ہذا؟ نداء بِالْعَفْوِ قَبْلَ الْمُعَاتَبَۃِ فَقَالَ عَفَا اللَّہُ عَنْکَ لِمَ أَذِنْتَ لَہُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعون رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ کیاتم نے اس سے بہتراورخوبصورت اندازعتاب کرنے کا کہیں دیکھاہے یاسناہے کہ معافی کااعلان پہلے اورعتاب بعدمیںہو، چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ اے حبیب کریم ﷺ!اللہ تعالی نے آپ ﷺکومعاف فرمادیاہے ۔ آپ ﷺنے ان منافقین کو اجازت کیوں دی ؟۔ (تفسیر ابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۴:۱۳۹)

امام رازی رحمہ اللہ تعالی کازبردست کلام

احْتَجَّ بَعْضُہُمْ بِہَذِہِ الْآیَۃِ عَلَی صُدُورِ الذَّنْبِ عَنِ الرَّسُولِ :أَنَّہُ تَعَالَی قَالَ:عَفَا اللَّہُ عَنْکَ وَالْعَفْوُ یَسْتَدْعِی سَابِقَۃَ الذَّنْبِ.وَالْجَوَابُ: لَا نُسَلِّمُ أَنَّ قَوْلَہُ: عَفَا اللَّہُ عَنْکَ یُوجِبُ الذَّنْبَ، وَلِمَ لَا یَجُوزُ أَنْ یُقَالَ:إِنَّ ذَلِکَ یَدُلُّ عَلَی مُبَالَغَۃِ اللَّہِ فِی تَعْظِیمِہِ وَتَوْقِیرِہِ، کَمَا یَقُولُ الرَّجُلُ لِغَیْرِہِ إِذَا کَانَ مُعَظَّمًا عِنْدَہُ، عَفَا اللَّہُ عَنْکَ مَا صَنَعْتَ فِی أَمْرِی وَرَضِیَ اللَّہُ عَنْکَ، مَا جَوَابُکَ عَنْ کَلَامِی؟ وَعَافَاکَ اللَّہُ مَا عَرَفْتَ حَقِّی فَلَا یَکُونُ غَرَضُہُ مِنْ ہَذَا الْکَلَامِ، إِلَّا مَزِیدَ التَّبْجِیلِ وَالتَّعْظِیمِ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بعض نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیاہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺسے ذنب کاحصول ہوسکتاہے ۔کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا{عَفَا اللَّہُ عَنْک}اورمعافی دیناپہلے گناہ کاتقاضاکرتاہے ۔امام الرازی رحمہ اللہ تعالی اس کاجواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم نہیں مانتے کہ اللہ تعالی کایہ فرمان شریف {عَفَا اللَّہُ عَنْک}ذنب کاتقاضاکرتاہے ، یہ کہناکیوں جائز نہیں ہے کہ یہ چیز آپ ﷺکی تعظیم وتوقیرمیں خوب مبالغہ ہے جیساایک آدمی دوسرے سے کہتاہے جبکہ وہ اس کے ہاں معظم ہو{عَفَا اللَّہُ عَنْکَ مَا صَنَعْتَ فِی أَمْرِی}تونے میرے معاملات میں کیاکیا؟{وَرَضِیَ اللَّہُ عَنْکَ، مَا جَوَابُکَ عَنْ کَلَامِی }اللہ تعالی تجھ سے راضی ہومیرے کلام کاتیرے پاس کیاجواب ہے ؟۔ { وَعَافَاکَ اللَّہُ مَا عَرَفْتَ حَقِّی}اللہ تعالی تجھے معاف فرمائے تونے میراحق نہیں پہچانا۔ اوراس کلام سے غرض صرف اور صرف حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی تعظیم وتوقیرمیں اضافہ کرناہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۶:۵۷)

امام اسماعیل حقی رحمہ اللہ تعالی کاکلام

وقولہ عَفَا اللَّہُ عَنْکَ لِمَ أَذِنْتَ لَہُمْ دل علی ان ذلک التخلف کان بإذن رسول اللہ والعفو یستدعی سبق الخطأ وہذا الخطأ لیس من قبیل الذنب بل من ترک الاولی والأفضل الذی ہو التأنی والتوقف الی انجلاء الأمر وانکشاف الحال۔ ترجمہ:امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکامنافقین کو جنگ پرجانے کی اجازت بخشنااز قبیل خطانہیں ہے اوراس کوخطاکہناخود خطامیں مبتلاہوناہے ، یااسے گناہ سے تعبیرکرناخود بہت بڑاگناہ اورگستاخی ہے ، زیادہ سے زیادہ اسے ترک اولی کہہ سکتے ہیں اورخلاف اولی شرعاًگناہ یاخطانہیں ہے ۔ وہ اس طرح کے منافقین کو اجازت بخشنے کے بجائے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوتاخیروتوقف کرناچاہئے تھاتاکہ منافقین کامعاملہ زیادہ منکشف اورواضح ہوجاتا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۴۴۰)

رب کریم نے اپنے حبیب کریم ﷺپرکمال کرم فرمایا

وقولہ لم أذنت لہم بیان لما أشیر الیہ بالعفو من ترک الاولی وانما قدم اللہ العفو علی العتاب تصدیقا وتحقیقا لقولہ تعالی لِیَغْفِرَ لَکَ اللَّہُ ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَما تَأَخَّرَ وقولہ لم أذنت لہم ما کان علی وجہ العتاب حقیقۃ بل کان علی اظہار لطفہ بہ وکمال رأفتہ فی حقہ۔ ترجمہ :اللہ تعالی کایہ فرمان شریف { لِمَ أَذِنْتَ لَہُمْ}عفوکابیان ہے جس کا{عَفَا اللَّہُ عَنْک}میں اشارہ ہے ۔ {عَفَا اللَّہُ عَنْک}کی تقدیم میں لطیف اشارہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکو { لِیَغْفِرَ لَکَ اللَّہُ ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَما تَأَخَّر}کی خوشخبری سنائی تو{عَفَا اللَّہُ عَنْک}میں اس کی تصدیق وتوثیق فرمائی ، اب مطلب واضح ہوگیاکہ اے حبیب کریم ﷺ!اگرآپ ﷺنے منافقین کو اجازت بخش کر خلاف اولی کاارتکاب فرمایاہے جسے عوام عتاب یاغلطی کہتے ہیں توکیاہواآپﷺ!تسلی رکھیں کہ جب میں نے آپ ﷺسے پہلے وعدہ فرمارکھاہے آپﷺکے گزشتہ اورآئندہ اموراگرچہ خلاف اولی ہوں تما م کے تمام بخش دیئے ہیں۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۴۴۰) امام سفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہ کاکلام قال سفیان ابن عیینۃ انظروا الی ہذا اللطف بدا بالعفو قبل ذکر المعفو ولقد اخطأ وأساء الأدب وبئسما فعل فیما قالوکتب من زعم ان الکلام کنایۃ عن الجنایۃ وان معناہ اخطأت وبئسما فعلت کما فی الإرشاد۔ ترجمہ :آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے اہل اسلام !دیکھواللہ تعالی نے اپنے حبیب کریمﷺکے ساتھ لطف وکرم فرمایاجوکام خلاف اولی صادرہوااس کاذکرکئے بغیرعفوکااظہارفرمایااوراس شخص سے بہت بڑی غلطی ہوئی جولکھتاہے کہ اس میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکو جھڑکاگیاہے ۔ (تفسیر أبی السعود :أبو السعود العمادی محمد بن محمد بن مصطفی (۴:۶۹)

ملامعین کاشفی رحمہ اللہ تعالی کاکلام

ویجوز ان یکون إنشاء کما قال الکاشفی فی تفسیرہ عَفَا اللَّہُ عَنْکَ (دعاء لہ است حق سبحانہ وتعالی پیغمبر خود را میفرماید کہ عفو کناد از تو خدای وعادت مردم می باشد کہ دعا کند کسی را بعفو ورحمت ومغفرت بی وقوع خطایی از وی چنانچہـ مثلا یکی تشنہ را آب دہد او در جواب میگوید غفر اللہ لک یا در جواب عاطس میگوید یرحمک اللہ) ترجمہ :حضرت ملامعین کاشفی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ کلام {عَفَا اللَّہُ عَنْک}انشائیہ ہواورآپ رحمہ اللہ تعالی اپنی تفسیرمیں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنے کلام {عَفَا اللَّہُ عَنْک}میںاپنے حبیب کریم ﷺکومشفقانہ طورپردعادی ہے ۔ لوگوں کی عام عادت ہے کہ جرم وقصورکے صدورکے بغیردعائیں دیتے ہیں مثلاًکسی کوکوئی پانی پلائے تووہ اسے کہتاہے کہ { غفر اللہ لک}اللہ تعالی تجھے بخش دے اوراسی طرح چھینکنے والے کوکہاجاتاہے کہ {یرحمک اللہ}اللہ تعالی تجھ پررحم فرمائے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۴۴۱) فقیہ ابواللیث رحمہ اللہ تعالی کاکلام قال الفقیہ:سمعت من یذکر، عن أبی سعید الفاریابی أنہ قال: معناہ عافاک اللہ با سَلِیمَ الْقَلْبِ لِمَ أَذِنْتَ لَہُمْ، قَالَ وَلَوْ بَدَأَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِہِ: لِمَ أذنت لہم، لَخِیفَ عَلَیْہِ أنْ یَنْشَقَّ قَلْبُہُ مِنْ ہَیْبَۃِ ہَذَا الْکَلَامِ، لَکِنَّ اللَّہَ تَعَالَی بِرَحْمَتِہِ أَخْبَرَہُ بِالْعَفْوِ حَتَّی سَکَنَ قَلْبُہُ، ثُمَّ قَالَ لَہُ: لِمَ أَذِنْتَ لَہُمْ بِالتَّخَلُّفِ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکَ الصَّادِقُ فِی عُذْرِہِ مِنَ الْکَاذِبِ؟ وفِی ہَذَا مِنْ عَظِیمِ مَنْزِلَتِہِ عِنْدَ اللَّہِ مَا لَا یَخْفَی عَلَی ذِی لُبٍّ۔ ترجمہ :امام أبو اللیث نصر بن محمد بن أحمد بن إبراہیم السمرقندی المتوفی : ۳۷۳ھ) رحمہ اللہ تعالی بعض علماء سے نقل کرتے ہیں کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپﷺکو عافیت سے رکھے آپ ﷺنے انہیں اجازت کیوں دی اور اگر حضورتاجدارختم نبوتﷺسے کلام اس طرح شروع ہوتا کہ آپ ﷺنے ان کو اجازت کیوں دی ؟تو اس کا اندیشہ تھا کہ اس کلام کی ہیبت سے آپ ﷺکا دل شَق ہو جاتا لیکن اللہ تعالیٰ نے ا پنی رحمت سے حضورتاجدارختم نبوتﷺکو پہلے ہی عَفْو کی خبر دے دی تاکہ آپ ﷺکا دل مطمئن اور پُرسکون رہے۔ اس کے بعد فرمایا آپ ﷺنے انہیں جہاد میں شامل نہ ہونے کی اجازت کیوں دی حتّٰی کہ آپﷺکو پتا چل جاتا کہ اپنے عذر میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔ اورفرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عجب شان بیان کی گئی ہے جو اہل عقل پرمخفی نہیں ہے ۔ (بحر العلوم:أبو اللیث نصر بن محمد بن أحمد بن إبراہیم السمرقندی (۲:۶۲) اس مسئلہ میں فیصلہ کن کلام أقول ولقد أصاب فی تفسیرہ وأجاد فی تقریرہ فان خطأ النبی علیہ السلام وسہوہ ونسیانہ لیس من قبیل خطأ الامۃ وسہوہم ونسیانہم فالاولی للتأدب ان یسکت عما یشین بحالہ او لا یلیق بکمالہ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں کہتاہوں کہ بہترین قول یہ ہے کہ جس نے لکھاہے کہ نبوت کے خطاء ونسیان کوامت کے خطاء ونسیان سے دورکابھی واسطہ نہیں ہے ، اسی لئے ہمیں ایسے مقامات پر خاموش رہنابہترہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۴۴۱) قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالی کاایمان افروز کلام وَأَمَّا قَوْلہ (عَفَا اللَّہُ عَنْکَ لِمَ أَذِنْتَ لہم)فَأمْر لَم یَتَقَدَّم للنبی صَلَّی اللَّہ عَلَیْہ وَسَلَّم فِیہ مِن اللَّہ تَعَالَی نَہْی فَیُعَدّ معصیۃ وَلَا عَدَّہ اللَّہ تَعَالَی عَلَیْہ مَعْصِیَۃ بَل لَم یَعُدَّہ أَہْل الْعِلْم مُعَاتَبَۃ، وَغَلَّطُوا من ذَہَب إلی ذَلِک، قَال نِفْطَویْہ وَقَد حَاشاہ اللَّہ تَعَالَی من ذَلِک بَل کَان مُخیَّرًا فِی أَمْرَیْن قَالُوا وَقَد کَان لَہ أن یَفْعَل مَا شَاء فِیمَا لَم یُنْزَل عَلَیْہ فِیہ وَحْی فَکَیْف ۔ ترجمہ :امام أبو الفضل القاضی عیاض بن موسی المتوفی : ۵۴۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس جگہ عفوکامعنی مغفرت نہیں ہے ، مزیدفرماتے ہیں گناہ معاف کردینے کاقائل وہی ہوسکتاہے جوعربی کلام سے ناواقف ہو، آیت کریمہ میںمراد تویہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺکے لئے اس فعل کوگناہ قرارنہیں دیااوربات بھی یہی ہے ۔ اللہ تعالی کی طرف سے عذرقبول کرنے کی کوئی ممانعت بھی نہیں آئی تھی تواس کے خلاف کرنے کوگناہ کیسے قراردیاجائے گا، نہ اللہ تعالی نے اسے گناہ قراردیابلکہ اہل علم تواس کو عتاب بھی نہیں مانتے ، جس شخص نے اس کو عتاب یاغلطی کہاتواس نے غلطی کی ۔ الشیخ الامام نفطویہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکوعذرقبول کرنے یانہ کرنے میں سے ہربات کااللہ تعالی کی طرف سے اختیارتھا، اللہ تعالی نے آپ ﷺکومخالفت اورگناہ سے پاک رکھا۔ (الشفاء:أبو الفضل القاضی عیاض بن موسی الیحصبی(۲:۱۵۸)دار الفکر الطباعۃ والنشر والتوزیع

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh