صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2424 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

سب سے زیادہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکو غلبہ دین کے کام کے سبب ڈرایاگیا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,385

سوال (Question):

سب سے زیادہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکو غلبہ دین کے کام کے سبب ڈرایاگیا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

انبیاء کرام علیہم السلام کوپہنچنے والی تکالیف وشدائد اورگستاخوں کی گستاخیاں ان کے درجات کے لئے ترقی کاسبب ہوتی ہیں نہ کہ ان کی شان میں نقص کی وجہ بنتی ہیں

سب سے زیادہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکو غلبہ دین کے کام کے سبب ڈرایاگیا عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ أُخِفْتُ فِی اللہِ وَمَا یُخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُوذِیتُ فِی اللہِ وَمَا یُؤْذَی أَحَدٌ۔ ترجمہ :حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: تحقیق جتنامیں اللہ تعالی کے دین کے معاملے میں ڈرایاگیااتناکسی کوبھی نہیں ڈرایاگیااورجتنی مجھے اس راہ میں تکالیف دی گئیں اتنی کسی کوبھی نہیں دی گئیں ۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۴:۲۲۶) امام المناوی رحمہ اللہ تعالی اس کی شرح میں فرماتے ہیں (لقد أوذیت)ماض مجہول من الإیذاء (فی اللہ)أی فی إظہار دینہ وإعلاء کلمتہ (وما یؤذی)بالبناء للمفعول (أحد)من الناس فی ذلک الزمان بل کنت المخصوص بالإیذاء لنہی إیاہم عن عبادۃ الأوثان وأمری لہم بعبادۃ الرحمن (وأخفت)ماض مجہول من الإخافۃ (فی اللہ)أی ہددت وتوعدت بالتعذیب والقتل بسبب إظہار الدعاء إلی اللہ تعالی وإظہار دین الإسلام وقولہ (وما یخاف أحد) حال أی خوفت فی اللہ وحدی وکنت وحیدا فی ابتداء إظہاری للدین فآذانی الکفار بالتہدید والوعید الشدید فکنت المخصوص بینہم بذلک فی ذلک الزمان ولم یکن معی أحد یساعدنی فی تحمل أذیتہم۔ ترجمہ :امام زین الدین محمد المدعو بعبد الرؤوف المناوی المتوفی :۱۰۳۱) لکھتے ہیں کہ (لقد أوذیت) ماضی مجہول الایذاء مصدر سے (فی اللہ)یعنی اللہ تعالی کے دین کے معاملے میں اوراعلائے کلمۃ اللہ تعالی کے بارے میں (وما یؤذی)مبنی للمفعول ہے یعنی لوگوں میں سے کسی کوبھی اتنی تکالیف نہیں دی گئیں جتنی مجھے دی گئیں ۔ کیونکہ میں ہی ان کافروں کو بتوں کی عبادت سے روکتاتھااوررحمن عزوجل کی عبادت کی دعوت دیتاتھااور(وأخفت)ماضی مجہول ہے یعنی مجھے دھمکایاگیااورڈرایاگیاکبھی سختی کرنے اورکبھی قتل کرنے کے ساتھ یہ صرف اورصرف اللہ تعالی کی طرف دعوت دینے کی وجہ سے ہوااوراللہ تعالی کے دین کو ظاہرکرنے کی وجہ سے ہوااورمجھے ڈرایاگیاتواس وقت میں تنہاتھاجب میں نے دین کے غلبہ کے لئے کام شروع کیاتوکفارمجھے ایذائیں دیتے اورشدیددھمکیاں دیتے تھے اورکوئی بھی شخص ایسانہیں تھاجو اس وقت میری مددکرتااورگستاخوں کو گستاخیوں سے روکتا۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر:زین الدین محمد المدعو بعبد الرؤوف المناوی (۵:۲۷۸) اس حدیث شریف کامعنی واعلم ان کل نبی أوذی بما لا یحیط بہ نطاق البیان وکان النبی علیہ السلام أشدہم فی ذلک کما قال (ما أوذی نبی مثل ما أوذیت) ولما کانت الاذیۃ سبب التصفیۃ کان المعنی ما صفی نبی مثل ما صفیت ۔ ترجمہ:امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی:۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے ہرہرنبی علیہ السلام کو ستایاگیالیکن کفارنے ہمارے حضورتاجدارختم نبوتﷺکو زیادہ ستایا۔ چنانچہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے خود فرمایا: {وَلَقَدْ أُوذِیتُ فِی اللہِ وَمَا یُؤْذَی أَحَدٌ}(جتنی مجھے اذیتیں دی گئیں اتنی اذیت کسی بھی نبی علیہ السلام کو نہیں دی گئی) اس کی وجہ یہ ہے کہ ایذاسے تصفیہ قلب ہوتاہے ، اسلئے انبیاء کرام علیہم السلام کو اذیت کاپہنچنالازمی امر ہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۴۵۷)

حضورتاجدارختم نبوتﷺکامصیبت پہنچنے پرشکرکرنا

فَإِنَّ الْبَلِیَّۃَ إِذَا عَمَّتْ طَابَتْ، وَخُلَاصَۃُ الْمَعْنَی أَنَّہُ حِکَایَۃُ حَالٍ لَا شِکَایَۃُ بَالٍ بَلْ تَحَدُّثٌ بِالنِّعْمَۃِ وَتَوْفِیقٍ بِالصَّبْرِ عَلَی الْمِحْنَۃِ إِلَی أَنْ تَنْتَہِیَ إِلَی الْمِنْحَۃِ عَلَی مَا تَقْتَضِیہِ الْمَحَبَّۃُ وَتَسْلِیَۃٌ لِلْأَمَۃِ لِإِزَالَۃِ مَا قَدْ یُصِیبُہُمْ مِنَ الْغُمَّۃِ ۔ ترجمہ :الامام علی بن (سلطان)محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری المتوفی : ۱۰۱۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مصیبت جب عام ہوتی ہے توآسان ہوجاتی ہے ، خلاصہ یہ ہے حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اپنی حالت کی حکایت بیان کی ہے نہ کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے شکایت کی ہے ، بلکہ اظہارِ نعمت اورمشقت پرصبرکی توفیق کابیان ہے اورامت کے لئے تسلی ہے تاکہ امت کی پریشانی زائل ہوجائے جوان کو لاحق ہوئی ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح:علی بن (سلطان)محمد، أبو الحسن الملا الہروی القاری (۸:۳۲۸۷) ایک سوال اورا س کاجواب عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ لَمَّا قَسَمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قِسْمَۃَ حُنَیْنٍ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مَا أَرَادَ بِہَا وَجْہَ اللَّہِ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُہُ فَتَغَیَّرَ وَجْہُہُ ثُمَّ قَالَ رَحْمَۃُ اللَّہِ عَلَی مُوسَی لَقَدْ أُوذِیَ بِأَکْثَرَ مِنْ ہَذَا فَصَبَرَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:حضورتاجدارختم نبوتﷺحنین سے ملنے والے مال غنیمت کی تقسیم کر رہے تھے تو انصار کے ایک شخص نے کہا:اس تقسیم میں رضائے الہٰی کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ میں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کی اطلاع دی تو آپﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہو گیا۔ پھر آپ ﷺنے فرمایا:اللہ تعالٰی حضرت موسٰی علیہ السلام پر رحم فرمائے، انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی، لیکن انہوں نے صبر سے کام لیا۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۵:۱۵۹)

مذکورۃ الصدرحدیث شریف کے متعلق سوال کاجواب

واما قولہ علیہ السلام حین قسم غنائم الطائف فقال بعض المنافقین بعدم العدل (من یعدل إذا لم یعدل اللہ ورسولہ رحمۃ اللہ علی أخی موسی لقد أوذی بأکثر من ہذا فصبر)فیحتمل ان یکون بالنسبۃ الی ذلک الوقت وقد زاد أذاہ الی آخر العمر کمیۃ واشتد کیفیۃ ہذا ہو اللائح بالبال ترجمہ:امام اسماعیل حقی المتوفی ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺطائف کے موقع پر مال غنیمت تقسیم فرمارہے تھے توآپ ﷺپرایک منافق نے بے انصافی کاالزام لگایاتوآپﷺنے فرمایا: اللہ تعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺسے بڑھ کرکون انصاف کرسکتاہے ؟اس کے بعد فرمایاکہ اللہ تعالی حضرت موسی علیہ السلام پررحم فرمائے وہ میرے سے زیادہ ایذادیئے گئے لیکن انہوںنے صبرسے کام لیا۔ اس حدیث شریف سے ثابت ہواکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺسے ایسی ایذائوں کے صبرمیں حضرت سیدنا موسی علیہ السلام کو فوقیت حاصل تھی اوراوپرکی حدیث شریف میں حضورتاجدارختم نبوتﷺاپنی فوقیت ظاہرفرمارہے ہیں۔(جوحدیث شریف ہم سنن الترمذی سے نقل کرآئے ہیںـ)اس کاجواب یہ ہے کہ حضر ت سیدناموسی علیہ السلام کو ایک واقعہ کے بعد فوقیت کااظہارفرمایاہے اورقاعدہ ہے کہ ایک واقعہ کی فوقیت کلی فوقیت سے ترجیح نہیں پاتی اورحدیث اول میں اس طرف اشارہ ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺپرکفارکی ایذیتیں مجموعی طورپرتمام انبیا ء کرام علیہم السلام کی اذیتوں سے زیادہ تھیں ۔ اس سے یہ بھی احتمال ہے کہ یہ بات تب تک ہوجب حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اس منافق کے متعلق ارشادفرمایایعنی جب منافق نے بات کی ہوتب تک حضرت سیدناموسی علیہ السلام کو پہنچنے والی اذیتیں زیادہ ہوں مگرجب حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عمرمبارک کاآخری حصہ ہوتب ان سے اذیتیں بڑھ گئی ہوں۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۴۵۷)

انبیاء کرام علیہم السلام کومصیبتیں آنے کی وجہ ؟

فاذا کان الأنبیاء علیہم السلام مبتلین بالاذیۃ والنفی من البلد والقتل فما ظنک بالأولیاء الکرام وہم أحوج منہم الی التصفیۃ لان قدس الأنبیاء اغلب وبواطنہم أنور وسرائرہم أصفی۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی: ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب انبیاء کرام علیہم السلام کوپہنچنے والی اذیتیں تصفیہ قلوب کاسبب ہیں تواولیاء کرام علیہم الرحمہ کے لئے بطریق اولی تصفیہ قلوب ہو، کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام کے قلوب انور، اطہراوراصفی ہوتے ہیں ، انہیں اتنی ضرورت نہیں ہوتی ، جس قدرحضرات اولیاء کرام علیہم الرحمہ کو تصفیہ کی حاجت ہوتی ہے ۔کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام پرتقدس اغلب اوران کے بواطن واسراراصفی ہوتے ہیں ۔ بخلاف اولیاء کرام کے کہ ان میں انبیاء کرام علیہم السلام کے درجات کہاں۔ اس وجہ سے انہیں کبھی شہادت سے ، کبھی شہرسے نکال کر، کبھی کسی مصیبت سے تکلیف میں مبتلاء کیاجاتاہے۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۴۵۷)

امام حسن وحسین رضی اللہ عنہماکی شہادت میں راز

قال حضرۃ الشیخ الشہیر بافتادہ افندی قدس سرہ وانما کان الحسن مسموما والحسین مذبوحا رضی اللہ عنہما بسبب ان کمال تعینہما کان بالشہادۃ وکان النبی علیہ السلام قادرا علی تخلیصہما بالشفاعۃ من اللہ تعالی ولکنہ رأی کما لہما فی مرتبتہما راجحا علی الخلاص حتی انہ علیہ السلام دفع قارورتین لواحدۃ من الأزواج المطہرۃ وقال (إذا أصفر ما فی إحداہما یکون الحسن شہیدا بالسم وإذا احمر ما فی الاخری یکون الحسین شہیدا بالذبح) ترجمہ :الشیخ الامام افتادہ آفندی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناامام حسن رضی اللہ عنہ کوزہردیاجانااورحضرت سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ کاشہیدکیاجاناشہادت میں کمال تھااورحضورتاجدارختم نبوتﷺان کے معاملات کو جانتے تھے اورقدرت رکھتے تھے کہ وہ ان کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں شفاعت کرکے بچالیتے لیکن چونکہ ان کاکمال اسی میں تھا، اس لئے آپ ﷺنے شفاعت نہ کی ۔ یہاں تک کہ آپ ﷺنے اپنی بعض ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو دوشیشیاں عطافرمائیں اورفرمایا: جب ان میں ایک زردہوجائے توسمجھناکہ حسن کو زہردے دی گئی اورجب دوسری سرخ ہوجائے تویقین کرلیناکہ حسین رضی اللہ عنہ کو شہیدکردیاگیا۔ اوران کی گردن اتارلی گئی ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۴۵۷)

بڑااجربڑی آزمائش سے ہی ممکن ہے

عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:إِنَّ عِظَمَ الجَزَاء ِ مَعَ عِظَمِ البَلاَء ِ، وَإِنَّ اللَّہَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلاَہُمْ، فَمَنْ رَضِیَ فَلَہُ الرِّضَا، وَمَنْ سَخِطَ فَلَہُ السَّخَطُ. ترجمہ :حضرت سیدناانس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:بڑا ثواب، بڑی آزمائش کے ساتھ ہے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کو کسی آزمائش میں ڈال دیتا ہے، جو اس آزمائش پر راضی ہوا (اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط گمان نہ رکھا)تو اس کے لیے رضا ہے اور جو آزمائش پر ناراض ہو (صبر کی بجائے غلط شکوے اور گمان کیے)تو اس کے لیے ناراضگی ہے۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۴:۱۷۹)

حضورتاجدارختم نبوتﷺکے بخارکی شدت اجرمیں اضافے کاسبب

عَنْ عَبْدِ اللہِ، قَالَ:دَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُوعَکُ، فَمَسِسْتُہُ بِیَدِی، فَقُلْتُ:یَا رَسُولَ اللہِ إِنَّکَ لَتُوعَکُ وَعْکًا شَدِیدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:أَجَلْ إِنِّی أُوعَکُ کَمَا یُوعَکُ رَجُلَانِ مِنْکُمْ قَالَ:فَقُلْتُ:ذَلِکَ أَنَّ لَکَ أَجْرَیْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَجَلْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُصِیبُہُ أَذًی مِنْ مَرَضٍ، فَمَا سِوَاہُ إِلَّا حَطَّ اللہُ بِہِ سَیِّئَاتِہِ، کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَۃُ وَرَقَہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکے پاس بخار کی حالت میں گیا (بیمار پرسی کے لیے) آپﷺ کو شدید بخار تھا۔ میں نے عرض کیا:بے شک آپ ﷺتو شدید بخار میں مبتلا ہیں۔ اورمیں نے کہا اگر ایسی حالت ہے تو پھر آپ ﷺکے لیے اجر بھی دوہرا ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:کیوں نہیں۔جس مسلمان کو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو جیسے درخت کے پتے جھڑتے ہیں ایسے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ جھاڑتا ہے۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۴:۱۹۹۱)

انبیاء کرام علیہم السلام پردوسرے لوگوں کی بانسبت سختیاں زیادہ آتی ہیں

عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللہِ، أَیُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاَء ً؟ قَالَ: الأَنْبِیَاء ُ ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ، فَیُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلَی حَسَبِ دِینِہِ، فَإِنْ کَانَ دِینُہُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلاَؤُہُ، وَإِنْ کَانَ فِی دِینِہِ رِقَّۃٌ ابْتُلِیَ عَلَی حَسَبِ دِینِہِ، فَمَا یَبْرَحُ البَلاَء ُ بِالعَبْدِ حَتَّی یَتْرُکَہُ یَمْشِی عَلَی الأَرْضِ مَا عَلَیْہِ خَطِیئَۃٌ. ترجمہ :حضرت سیدناسعد رضی اللہ عنہ نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ اقدس میں عرض کی:یارسول اللہ ﷺ!کون سے لوگ سخت تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں؟ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:انبیاء کرام علیہم السلام، پھر درجہ بدرجہ آدمی اپنے دین کے مطابق آزمائش میں ڈالا جاتا ہے، اگر دین پر سختی سے کار بند ہے تو پھر آزمائش بھی سخت ہے، اگر دین میں نرمی ہے تو آزمائش بھی دین کے موافق ہے۔ آزمائش بندے کا ساتھ نہیں چھوڑتی، حتیٰ کہ بندہ زمین پر چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۴:۱۷۹) آزمائش کا راز یہ ہے کہ آزمائش نعمت کے مدمقابل ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی نعمت زیادہ ہوگی اس کی آزمائش بھی بڑی ہوگی اور جس کی آزمائش بڑی ہوگی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور عاجزی بھی زیادہ کرے گا۔ امام ابن جوزی رحمہ اللہ کا قول ہے:اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قوی جس کے اٹھانے کی طاقت رکھتا ہے اسے اٹھاتا ہے اور ضعیف پر نرمی کی جاتی ہے مگر جب بھی مبتلا ہونے والے کو اللہ تعالی کی معرفت قوی ہوگی تو آزمائش آسان و نرم ہوجائے گی اور بعض ابتلاء کے اجر پر نظر رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان پر آزمائش نرم و آسان ہوجاتی ہے۔ ان میں سب سے بڑا درجہ اس بندے کا ہے جو آزمائش کو مالک کا اپنی بادشاہی میں تصرف خیال کرکے تسلیم کرلے اور اعتراض نہ کرے اور اس سے بھی بڑا درجہ اس کا ہے جسے محبت آزمائش کے خاتمہ کی دعا سے لا پروا کردے اور انتہائی درجہ کا اعلیٰ انسان وہ ہے جو آزمائش سے لذت محسوس کرے کیونکہ یہ اختیار سے پیدا ہوتی ہے۔

انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی آزمائش کے بعدغلبہ ملا

وَسُئِلَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ:أَیُّمَا أَفْضَلُ لِلرَّجُلِ، أَنْ یُمَکَّنَ أَوْ یُبْتَلَی؟ فَقَالَ: لا یمکن حتی یبتلی. واللہ عز وجل ابتلی أولی العزم من رسلہ، فَلَمَّا صَبَرُوا مَکَّنَہُمْ۔فَلَا یَظُنُّ أَحَدٌ أَنَّہُ یَخْلُصُ مِنَ الْأَلَمِ الْبَتَّۃَ، وَإِنَّمَا یَتَفَاوَتُ أَہْلُ الْآلَامِ فِی الْعُقُولِ، فَأَعْقَلُہُمْ مَنْ بَاعَ أَلَمًا عظیما مستمرا بألم منقطع یسیر، وأسفہہم من باع الألم المنقطع الیسیر بالألم المستمر العظیم. ترجمہ :حضرت سیدناامام الشافعی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیاگیاکہ جس کو ابتداًہی بغیرکسی آزمائش کے غلبہ مل جائے وہ افضل ہے یاوہ جس کو پہلے مصیبتوں کاسامناکرناپڑے پھراسے غلبہ ملے ان دونوں میں کون افضل واعلی ہوگا؟ امام الشافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ افضل وہی ہے جس کو آزمائش میں مبتلاء کیاجائے ، پھرطاقت وغلبہ حاصل ہو، اللہ تعالی نے اولوالعزم انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی آزمائشوںمیں مبتلاء کیا، جب انہوںنے ثابت قدمی کامظاہرہ کیاتوانہیں غلبہ وقوت عطاہوئی ۔ اورکوئی بھی شخص یہ خیال نہ کرے کہ وہ یقینی طورپرتکالیف سے چھٹکاراپانے والاہے ، تکالیف کاسامناکرنے والے عقول میں متفاوت ہیں ، ان میں عقل مندترین وہ شخص ہے جس نے تھوڑی اورختم ہونے والی تکالیف کے عوض ایک بڑی اورہمیشہ رہنے والی تکلیف بیچ دی ، بدبخت ترین وہ شخص ہے جس نے بہت بڑی اورہمیشہ رہنے والی مصیبت کے بدلے چھوٹی اورختم ہونے والی تکلیف بیچ دی ۔ (زاد المعاد فی ہدی خیر العباد:محمد بن أبی بکر بن أیوب بن سعد شمس الدین ابن قیم الجوزیۃ (۳:۱۳)

انبیا کرام علیہم السلام کی تکالیف بلندی درجات کاباعث ہوتی ہیں

لأنہ لو کان یمس الذہب ہوان من إدخالہ النار لما اختیر لہ العرض علی النار، فالأنبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کالذہب والشدائد التی تصیبہم کالنار التی یعرض علیہا الذہب، فإن ذلک لا یزید الذہب إلا حسنا، فکذلک الشدائد لا تزید الأنبیاء إلا رفعۃ. ترجمہ :امام علی بن إبراہیم بن أحمد الحلبی، أبو الفرج المتوفی : ۱۰۴۴ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ اس لئے کہ اگرسونے کو آگ میں ڈالنے سے اس پر کوئی برااثرپڑناہوتاتوکبھی بھی آگ میںنہ ڈالاجاتا۔ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام بھی سونے کی طرح ہیں اوران کوپہنچنے والی تکالیف اس آگ کی طرح ہیں جس میں سوناڈالاجاتاہے ، بس جس طرح آگ سونے کے حسن میں اضافہ ہی کرتی ہے یعنی اس کو کندن بنادیتی ہے اسی طرح انبیاء کرام علیہم السلام کو پہنچنے والی تکالیف بھی ان کے لئے بلندی درجات ہی کاباعث ہوتی ہیں ۔ (السیرۃ الحلبیۃ :علی بن إبراہیم بن أحمد الحلبی، أبو الفرج(۱:۴۱۸)

حضورتاجدارختم نبوتﷺکے بارے میں یہ گمان نہ کر!

أی لا تظن أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم حصل لہ الضیم وقت مستہ الأذیات حالۃ کونہا صادرۃ منہم، لأن کل أمر من الأمور العظیمۃ التی أصابت النبیین فالشدۃ التی تحصل لہم منہ محمودۃ، لأنہا لرفع الدرجات، والضیقۃ التی تحصل لہم أیضا محمودۃ۔ ترجمہ :صاحب الہمزیہ کے اشعارکاخلاصہ یہ ہے کہ توحضورتاجدارختم نبوتﷺکے بارے میں یہ خیا ل مت کرکہ جس وقت حضورتاجدارختم نبوتﷺکو تکالیف پہنچیں تواس سے آپﷺ کی شان وعظمت میں کوئی کمی آئی ، اس لئے کہ بڑے بڑے امورمیں سے جوامربھی انبیاء کرام علیہم السلام کو پیش آیاتواس سے ان کو جوبھی تکلیف پہنچی وہ محمود ہے کیونکہ درجات کی بلندی کاباعث ہے اوراسی طرح جو بھی تنگی اورسختی آئی وہ بھی محمود ہے ۔ (السیرۃ الحلبیۃ :علی بن إبراہیم بن أحمد الحلبی، أبو الفرج(۱:۴۱۸)

تکالیف پہنچنے پر صبرکرناحضورتاجدارختم نبوتﷺکے لئے ترقی درجات کاسبب

وأشار صاحب الہمزیۃ إلی أن ہذہ الأذیۃ لہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یظن ظانّ أنہا منقصۃ لہ صلی اللہ علیہ وسلم، بل ہی رفعۃ لہ، ودلیل علی فخامۃ قدرہ وعلو مرتبتہ وعظیم رفعتہ ومکانتہ عند ربہ، لکثرۃ صبرہ وحلمہ واحتمالہ مع علمہ باستجابۃ دعائہ ونفوذ کلمتہ عند اللہ تعالی وقد قال صلی اللہ علیہ وسلم: أشد الناس بلاء الأنبیاء وذلک سنۃ من سنن النبیین السابقین علیہم الصلاۃ والسلام ۔ ترجمہ :صاحب الہمزیہ رحمہ اللہ تعالی نے اس بات کی طرف اشارہ کیاہے کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی جوکفارکی طرف سے گستاخی کی جاتی تھی اس سے آپ ﷺکی عظمت وشان میں کمی ہوئی بلکہ یہ توآپ ﷺکی رفعت ِ شان کاسبب بنی اورآپ ﷺکی قدرومنزلت اوراپنے رب تعالی کے ہاں آپﷺکے عظیم الشان مقام ومرتبے کی دلیل ہے ، کیونکہ آپﷺنے ان گستاخیوں پر انتہائی صبروتحمل کامظاہرہ کیاحالانکہ آپﷺمستجاب الدعوات ہیں اورآپ ﷺکی دعابارگاہ ایزدی میں قبول کی جاتی ہے ، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ تکالیف انبیاء کرام علیہم السلام کوپہنچتی ہیں اوریہ توانبیاء کرام علیہم السلام کی سنتوں میں سے ایک عظیم سنت ہے ۔ (السیرۃ الحلبیۃ :علی بن إبراہیم بن أحمد الحلبی، أبو الفرج(۱:۴۱۸)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh